Ayah 17:65اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سلسلۂ کلام کو سچے ایمان والوں کے اطمینان کے لیے اس بات پر ختم کیا کہ میرے خاص بندوں پر تو غالب نہیں آسکے گا، کیونکہ انھوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے سپرد کردیا ہے اور رب تعالیٰ بہت کافی وکیل ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (42، 43) اور سورة نحل (98 تا 100)۔
Ayah 17:66رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ۔۔ : ”أَزْجٰی یُزْجِیْ إِزْجَاءً“ کا معنی آہستہ آہستہ چلانا ہے۔ ”أَزْجٰی فُلاَنٌ الإِْبِلَ“ فلاں نے اونٹوں کو آہستہ آہستہ ہانکا۔ بادلوں کو آہستہ آہستہ چلانے کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ (دیکھیے نور : 43) ”الْفُلْكَ“ واحد، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے، بہت بڑی کشتی یعنی بحری جہاز۔ ”مِنْ فَضْلِهٖ“ قرآن مجید میں روزی کو اکثر فضل فرمایا ہے، کیونکہ دنیا میں جو بھی نعمتیں انسان کو میسر ہیں، یا آخرت میں عطا ہوں گی، وہ محض اللہ کا فضل ہیں، کسی کا اللہ پر کوئی حق واجب نہیں اور اگر کہیں بندوں کا حق کہا گیا ہے تو وہ بھی اللہ ہی کا فضل ہے کہ اس نے اسے اپنے ذمے لازم فرما لیا۔
زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ سمندر ہے، اس میں انسان کے کھانے پینے اور استعمال کے لیے بےحساب رزق موجود ہے۔ سمندر کے پانی میں ہزاروں ٹن وزنی جہاز اٹھانے کی صلاحیت اور صرف ہوا کے ذریعے سے جہازوں کو سیکڑوں ہزاروں میل دھکیل کرلے جانا صرف اللہ تعالیٰ کے مسخر کرنے کی وجہ سے ہے۔ اب اس کا مزید فضل ہوا تو انجن ایجاد ہوگئے، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) [ النحل : 8 ] (اور وہ پیدا کرے گا جو تم نہیں جانتے) میں فرمایا ہے۔ اس میں مسلمانوں کو سمندر کے بیشمار منافع، مثلاً نہایت آسان اور کم خرچ ذریعے سے تعلیم، تجارت اور دوسرے مقاصد کے لیے سفر کی سہولت، گوشت، زینت کی اشیاء، معدنیات، گیس اور تیل وغیرہ حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے، جن سے کفار فائدہ اٹھا رہے ہیں، کیونکہ سمندروں پر ان کا غلبہ ہے اور ظاہر ہے تیس فیصد خشکی پر بھی وہی غالب ہوگا جو ستر فیصد سمندر پر غالب ہے اور امت مسلمہ بری و بحری جہاد چھوڑنے کی وجہ سے دین و دنیا دونوں میں پیچھے رہنے پر قانع ہوچکی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو نشانہ بازی، شہ سواری اور تیراکی سیکھنے کی بہت ترغیب دلائی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سلسلہ صحیحہ (1؍625، ح : 315) اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اسلام کو تمام دنیا کے ادیان پر غالب کرنا بیان فرمایا۔
اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا : سمندر میں جہازوں کو چلانے کی پہلی وجہ اللہ کے فضل کی تلاش بیان فرمائی، یہ دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ہمیشہ سے بیحد مہربان ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم ”کَانَ“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ طنطاوی کے الفاظ ہیں : ”وَلِأَنَّہُ سُبْحَانَہُ کَانَ أَزَلاً وَ أَبَدًا بِکُمْ دَاءِمُ الرَّحْمَۃِ وَالرَّأْفَۃِ“ ”کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے ساتھ نرمی و رحمت کرنے والا ہے۔“
Ayah 17:67وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ۔۔ : زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ نبوت کے کفار کی بت پرستی کے باوجود ان کی فطرت میں رکھی گئی توحید کا ذکر بطور دلیل ہو رہا ہے کہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو پہاڑوں جیسی موجوں میں جہاز گھر جاتا ہے اور موت صاف نظر آنے لگتی ہے تو تم اپنے تمام خداؤں، داتاؤں، مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کو بھول کر اپنی فطرت میں رکھی ہوئی توحید کی وجہ سے صرف ایک اللہ کو پکارتے ہو، پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو، جیسے اپنے رب سے تمہاری کوئی آشنائی ہی نہ تھی اور پھر اپنے خود ساختہ خداؤں کو پکارنے لگتے ہو اور انھی کا احسان ماننے لگتے ہو۔ کس قدر احسان ناشناسی اور ناشکری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مشرک انسان ہمیشہ سے بیحد ناشکرا رہا ہے۔ ”اَلْاِنْسَان“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس سے مراد کفار ہیں، کیونکہ مومن شکر گزار ہوتے ہیں، اگرچہ ان کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْر) [ سبا : 13 ] ”اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ کفار کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (22، 23) ، عنکبوت (65) ، لقمان (32) اور زمر (8) یہ تو زمانۂ جاہلیت کے ان لوگوں کا حال تھا جو مشرک تھے اور اللہ اور رسول نے انھیں مشرک قرار دیا، حالانکہ وہ سخت مصیبت میں صرف اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے بعض مسلمان کہلانے والوں کا کمال یہ ہے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت میں بھی اللہ کے ساتھ یا اللہ کے علاوہ دوسروں کو مدد کے لیے پکارنا نہیں بھولتے، پھر بھی نہ ان کی توحید میں کوئی خلل آتا ہے، نہ اسلام کا کچھ بگڑتا ہے۔
Ayahs 17:68–69اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ۔۔ : ”خَسْفٌ“ کا معنی زمین میں دھنسا دینا ہے۔ ”جَانِبَ الْبَرِّ“ خشکی کا کنارا، یہ اس لیے فرمایا کہ زمین میں پانی کا کنارا خشکی اور خشکی کا کنارا پانی ہے۔ ”حَاصِبًا“ سنگریزے اڑانے والی آندھی، یا وہ بادل جس سے اولے برسیں۔ ”قَاصِفًا“ ”ضَرَبَ“ سے اسم فاعل ہے، درختوں، کشتیوں اور ہر چیز کو توڑ دینے والی آندھی۔ ”تَبِيْعًا“ قرض یا انتقام کا مطالبہ کرنے والا جو پیچھا نہ چھوڑے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی نادانی اور کم عقلی بیان فرمائی ہے کہ تم جب خشکی پر پہنچ جاتے ہو تو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بےخوف ہو کر دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو، کیا تمہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں آ رہا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پانی میں ڈبو سکتا ہے تو خشک زمین میں بھی دھنسا سکتا ہے ؟ اس کا حکم ہو تو پانی کی طرح زمین تمہیں نگل لے، یا وہ پتھر اڑا کر لانے والی تند و تیز آندھی بھیج کر تمہیں ہلاک کر دے، پھر تمہیں کوئی مددگار نہیں ملے گا۔ یا تمہیں یہ بھی خوف نہیں رہا کہ تمہیں اللہ کی طرف سے پھر کبھی سمندری سفر پیش آجائے اور وہ تمہاری ناشکری کی سزا کے لیے ہر چیز کو توڑ دینے والی طوفانی ہوا کے ذریعے سے تمہیں غرق کر دے ؟ پھر تمہیں کوئی ایسی ہستی نہیں ملے گی جو اللہ تعالیٰ سے انتقام کا مطالبہ اور پیچھا کرے۔ معلوم ہوا کہ انسان کو کسی آزمائش سے نجات کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر اور دوبارہ گرفت سے بےپروا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سراسر خسارے کی بات ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ) [ الأعراف : 99 ] ”پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ ان آیات میں مذکور معنی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر واضح فرمایا ہے، دیکھیے سبا (9) ، انعام (65) اور سورة ملک (16، 17) ”ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا“ کی ہم معنی آیت سورة شمس (14، 15) میں دیکھیے۔
Ayah 17:70وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو بیشمار نعمتوں کے ساتھ عزت بخشی کہ ان کے جد امجد کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا فرمایا، جب کہ دوسری ساری مخلوق کو کلمۂ ”کُنْ“ سے پیدا فرمایا، پھر انھیں سیدھا قد عطا فرمایا، ہاتھوں سے کھانے کا طریقہ سکھایا، احسن تقویم (بہترین شکل و صورت) میں پیدا کیا، عقل و اختیار سے نوازا، لکھ کر اپنا علم اور تجربہ اگلی نسل کو منتقل کرنا سکھایا، ہر لمحہ نئی سے نئی ایجاد کی لیاقت بخشی۔ زمین کی ہر چیز اور ہر جانور کو اپنے کام میں لانے کا سلیقہ بخشا۔ سمندر میں جہازوں پر، زمین میں سواریوں پر اور فضا میں طیاروں پر (جن کا ذکر سورة نحل : 5 تا 8 میں ہے) سوار کیا۔
وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ : ”اَلرِّزْقُ مَا یُنْتَفَعُ بِہِ“ (قاموس) رزق کا معنی ہے وہ چیزیں جن سے فائدہ اٹھایا جائے، مثلاً کھانا پینا، میاں بیوی کا تعلق، لباس اور مکان وغیرہ۔ ”الطَّيِّبٰتِ“ ”اَلْحَلَالُ وَالْأَفْضَلُ مِنْ کُلِّ شَيْءٍ“ (قاموس) طیب کا معنی ہے ہر چیز میں سے جو حلال اور سب سے بہتر ہو۔ یعنی ان کے فائدے کی ہر حلال، لذیذ اور بہترین چیز عطا فرمائی۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی فطرت مسخ ہوجائے اور وہ طیب کے بجائے خبیث سے فائدہ اٹھانے لگیں، مثلاً مردار، خنزیر وغیرہ کھانے لگ جائیں، نکاح کے بجائے زنا یا قوم لوط کے عمل کا ارتکاب کرنے لگیں اور اپنے حق کے بجائے دوسروں کا حق استعمال کرنے لگیں، بہرحال اللہ تعالیٰ نے طیبات عطا کرنے میں کمی نہیں فرمائی۔
وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا : اوپر تکریم میں ذکر کردہ اشیاء اور بنی آدم کی اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی بہت سی مخلوق پر بہت بڑی برتری عطا فرمائی۔ اپنی بہت سی مخلوق پر برتری عطا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی ایسی مخلوق بھی ہے جس پر انسان کو برتری عطا نہیں ہوئی۔ بعض نے فرشتوں کو وہ مخلوق قرار دیا، بعض اہل علم نے بعض انسانوں کو بعض فرشتوں سے اور بعض فرشتوں کو بعض انسانوں سے افضل قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ) [ ترمذی، المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ : 3615 ] ”میں روز قیامت تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں۔“ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا علم بہت ہی تھوڑا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل : 85) اس لیے ایسے معاملات میں خاموشی ہی باعث عافیت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ساری مخلوق کا علم عطا نہیں فرمایا۔ موسیٰ ؑ کو کیا خبر تھی کہ کوئی خضر بھی ہے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کون کون سی ہے، فرمایا : (وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ) [ المدثر : 31 ] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اس لیے بات اپنی حیثیت کے مطابق سوچ سمجھ کر کرنا لازم ہے۔
Ayah 17:71يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ : امام کا معنی پیشوا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا) [ الفرقان : 74 ] ”اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔“ دوسرا معنی کتاب ہے، فرمایا : (وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ) [ یٰسٓ : 12 ] ”اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔“ پہلا معنی مراد ہو تو اہل ایمان کے امام انبیاء ؑ ہوں گے اور کفار و مشرکین کے امام ان کے باطل سردار ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ) [ القصص : 41 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے سردار بنایا جو آگ کی طرف دعوت دیتے تھے۔“ وہ لوگ جنھوں نے کتاب و سنت کے سوا کسی کی پیروی نہیں کی وہ اپنے امام محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بلائے جائیں گے اور ان سے بڑھ کر کون خوش نصیب ہوسکتا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہوں اور جنھوں نے کتاب و سنت کو چھوڑ کر کسی اور کی پیروی کی ہوگی، نیک ہو یا بد، وہ ان کے ساتھ بلائے جائیں گے، مگر وہ سب اپنے پیروکاروں سے صاف بری ہوجائیں گے، حتیٰ کہ شیطان بھی اپنے پیروکاروں سے بری ہونے کا اعلان کر دے گا۔ (دیکھیے ابراہیم : 22) وہ نیک ائمہ اور بزرگ جو زندگی میں اپنی تقلید سے منع کرتے رہے اور کتاب و سنت کی پیروی کی تاکید کرتے رہے، وہ بھی اپنے ان جھوٹے پیروکاروں سے بالکل بری ہوجائیں گے، جنھوں نے اپنے اماموں کی بات مانی نہ کتاب و سنت پر عمل کیا۔ دیکھیے سورة بقرہ (165 تا 167) اور احقاف (6) اور اگر دوسرا معنی مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اس دن ہر شخص کو اس کی کتاب اعمال کے ساتھ بلایا جائے گا۔ یہاں یہ معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے کتاب کو دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔
فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ : دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملنے ہی سے انھیں آنے والی خیر و سعادت کا پتا چل جائے گا، چناچہ وہ خوشی خوشی اسے پڑھیں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ دیکھیے سورة حاقہ (19)۔
وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا : کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں باریک دھاگے کو ”فَتِيْلًا“ کہتے ہیں، یعنی تھوڑا سا ظلم بھی نہیں ہوگا۔
Ayah 17:72وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى۔۔ : اس سے مراد دل کا اندھا ہونا ہے، کیونکہ دنیا میں تو آنکھیں مسلم و کافر دونوں کو دی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ) [ الحج : 46 ] ”پس بیشک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔“
وَاَضَلُّ سَبِيْلًا : زیادہ گمراہ اس لیے کہ دنیا میں گمراہ کے راہ راست پر آنے کی امید ہے، قیامت کو اس کا موقع نہیں ہوگا۔
یہاں اندھے اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور دوسرے مقامات پر ان کے دیکھنے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ) [ الکہف : 53 ] ”اور مجرم لوگ آگ کو دیکھیں گے۔“ دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ قیامت کے پچاس ہزار سال کے برابر دن میں مجرموں پر مختلف احوال گزریں گے، وہ قبروں سے اٹھتے وقت اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، بعد میں دیکھنے، سننے اور بولنے کے مراحل سے بھی گزریں گے۔ ترجمان القرآن ابن عباس ؓ کی تطبیق یہی ہے۔
Ayah 17:73وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ۔۔ :”وَاِنْ كَادُوْا“ اصل میں ”وَاِنَّھُمْ کَادُوْا“ تھا، دلیل وہ لام ہے جو بعد میں آ رہا ہے۔ ”فَتَنَ یَفْتِنُ“ (ض) سونے کو کھرا کھوٹا معلوم کرنے کے لیے آگ میں ڈالنا، آزمائش۔ ”فَتَنَہُ عَنْ رَأْیِہِ“ کسی کو کسی کی رائے سے ہٹانا۔ کفار مکہ خود تو راہ پر کیا آتے ان کی برابر یہ کوشش رہی کہ کسی طرح آپ ﷺ خالص توحید پیش کرنے سے باز آجائیں، یا ان احکام کا ایک حصہ چھوڑ دیں یا بدل دیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیے جا رہے ہیں، یا قرآن سے وہ حصہ حذف کردیں جس میں شرک اور بت پرستی کی مذمت ہے تو ہم ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔ آپ کو مقصد سے پھیرنے کے لیے کبھی فریب کاریوں سے، کبھی لالچ سے اور کبھی دھمکیوں سے انھوں نے بیشمار جتن کیے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ انھیں صاف کہہ دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ بات نہیں لگا سکتا جو اس نے میری طرف وحی نہ کی ہو۔ ان کے تقاضے اور آپ کے جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (15 تا 17)۔
وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا : کیونکہ توحید کی دعوت سے پہلے وہ آپ سے دلی محبت رکھتے تھے، آپ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ اب آپ ان کی طرف مائل ہونے کے تھوڑے سے بھی قریب ہوجائیں تو وہ آپ سے پھر وہی دلی دوستی رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ خلیل وہ دوست جس کی دوستی دل کے اندر ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا) [ النساء : 125 ] ”اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا۔“
Ayah 17:74وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ثابت رکھنے کی وجہ سے آپ ان کی طرف مائل ہونے کے تھوڑا سا قریب بھی نہیں ہوئے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کی فطرت اتنی سلیم تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص طور پر آپ کو ثابت رکھنا نہ ہوتا تو پھر بھی آپ زیادہ سے زیادہ ان کی طرف مائل ہونے کے تھوڑے سے قریب ہی ہوتے، پوری طرح مائل چھوڑ کر مائل ہونے کے پوری طرح قریب بھی نہ ہوتے۔ اس کے باوجود آپ کبھی اپنے آپ پر بھروسا نہیں کرتے تھے، انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے : (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِیْنِکَ) [ ترمذی، القدر، باب ما جاء أن القلوب بین أصبعي الرحمان : 2140، صححہ الألباني ] ”اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اہل ایمان کا کفار کی طرف مائل ہونے کے قریب ہونا بھی گوارا نہیں۔
Ayah 17:75ڎاِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ۔۔ : اس لیے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے، چناچہ آپ ﷺ کی بیویوں کے متعلق فرمایا : (يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ) [ الأحزاب : 30 ] ”اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کھلی برائی کا ارتکاب کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔“
Ayah 17:76وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ۔۔ :”اِسْتَفَزَّ“ کا معنی کسی کو گھبراہٹ میں ڈال کر پھسلا دینا ہے۔ ”اَلْاَرْضَ“ میں الف لام عہد کا ہے، مراد ارض مکہ ہے، یعنی جب قریش کی نبی ﷺ کو توحید سے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے آپ کو سخت تنگ اور پریشان کرنا شروع کردیا، تاکہ آپ گھبرا جائیں اور مکہ سے نکل جائیں۔
وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا : چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بعد میں جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تو ڈیڑھ سال کے بعد ان کے بڑے بڑے سردار بدر میں مارے گئے، آپ کی بددعا سے اہل مکہ قحط اور خوف کا شکار ہوگئے، حتیٰ کہ آٹھ (8) ہجری میں خود مکہ بھی فتح ہوگیا، جس سے ان کی شان و شوکت اور حکومت خاک میں مل گئی۔ ایک مغرور قوم کے لیے یہ عذاب ہی کیا کم ہے کہ وہی شخص جسے انھوں نے نکالا تھا، ان پر فتح پا کر شہر کا مالک بن جائے۔
Ayah 17:77سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ۔۔ : یعنی پہلے رسولوں کے زمانے میں بھی ہمارا یہ طریقہ رہا کہ جوں ہی ان کی قوم نے انھیں نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہوگئی، البتہ مکہ میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت کرنے کے بعد بھی کئی مسلمان موجود تھے جو استغفار کرتے تھے اور بعض کفار اور ان کی آئندہ اولاد کے مسلمان ہونے کی امید تھی، اس لیے مکہ کو پہلی قوموں کی بستیوں کی طرح تباہ نہیں کیا گیا۔ دیکھیے سورة فتح (25) اور انفال (33)۔
Ayah 17:78اَقِمِ الصَّلٰوةَ۔۔ : شروع سورت سے توحید و رسالت اور آخرت کے دلائل اور ان پر اعتراضات کے جوابات کے بعد اعمال کا ذکر فرمایا۔ (رازی) پچھلی آیات کے ساتھ ایک اور مناسبت یہ ہے کہ دشمنوں کے مقابلے کے لیے نماز قائم کیجیے، یہ آپ کے لیے ان سے مقابلے کی قوت کا ذریعہ بنے گی، اسی لیے آپ ﷺ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو نماز پڑھتے۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبي ﷺ من اللیل : 1316 ] اعمال میں سب سے افضل نماز ہے، کیونکہ کلمۂ اسلام کے بعد یہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط اور علامت ہے (دیکھیے توبہ : 5، 11) اور اس میں دوسرے ارکان اسلام کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ شامل ہے۔ زکوٰۃ اس طرح کہ مالی منفعت قربان کیے بغیر آدمی نماز کے لیے جاہی نہیں سکتا، روزہ اس طرح کہ دوران نماز میں روزے کی تمام پابندیاں عائد ہوتی ہیں، حج اس طرح کہ قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی ہے اور کلمۂ اسلام تشہد میں شامل ہے اور نماز کا مغز یہ ہے کہ پوری دنیا سے تعلق توڑ کر ایک اللہ سے پوری طرح تعلق جوڑ لے۔ ان آیات میں اقامت صلاۃ کے حکم کے ساتھ اس کے پانچ اوقات بھی بیان فرمائے، یہ اوقات قولاً و فعلاً رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں اور پوری امت مسلمہ چودہ صدیوں سے ان اوقات پر نماز پڑھتی آئی ہے۔ نمازوں کے اوقات کے لیے مزید دیکھیے سورة ہود (114) ، سورة روم (17، 18) اور سورة طٰہٰ (130) تین نمازوں کا صراحت سے ذکر سورة نور (58) میں ہے، لیکن نمازوں کے اوقات کے اول و آخر کی مکمل حد بندی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اور آپ کو جبریل ؑ نے دو دن نماز پڑھ کر سکھائی۔ [ دیکھیے بخاری، مواقیت الصلوٰۃ، باب مواقیت الصلوٰۃ و فضلھا : 521۔ مسلم : 613، 614 ]
لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ : قاموس میں ہے : ”دَلَکَتِ الشَّمْسُ اَیْ غَرَبَتْ أَوِ اصْفَرَّتْ أَوْ مَالَتْ أَوْ زَالَتْ عَنْ کَبِدِ السَّمَاءِ“ یعنی ”دَلَکَتِ الشَّمْسُ“ کا معنی ہے کہ سورج غروب ہوگیا، یا زرد ہوگیا، یا مائل ہوگیا، یا آسمان کے وسط سے ڈھل گیا۔“ اس میں تین نمازوں کا ذکر ہے، کیونکہ مشترک لفظ ایک سے زیادہ معنوں میں بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ سورج ڈھلنے کے وقت ظہر، زردی کی (غیر محسوس) ابتدا کے وقت عصر کی نماز ہے (پوری طرح زرد ہونے پر نماز مکروہ ہے) اور سورج غروب ہونے کے ساتھ مغرب کی نماز ہے۔ ”غَسَقِ الَّيْلِ“ کا معنی شروع رات کا اندھیرا ہے۔ شفق غائب ہونے کے ساتھ اندھیرا مکمل ہوتے ہی عشاء کا وقت ہوجاتا ہے۔ ”اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ“ (سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک) کا معنی تو یہ ہے کہ یہ تمام وقت مسلسل نماز قائم رکھو، مگر یہ اس لیے فرمایا کہ آدمی نماز پڑھ کر اگلی نماز کے انتظار میں ہو تو وہ نماز ہی میں مشغول شمار ہوتا ہے، گویا یہ تمام وقت نماز ہی میں گزرا۔ اس میں ہر وقت نماز کی طرف توجہ رکھنے کی ترغیب ہے۔ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّکُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلاَۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَۃَ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب وقت العشاء الآخرۃ : 422۔ ترمذي : 330 ] ”تم اس وقت تک نماز میں رہو گے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہو گے۔“ پھر رات کی نیند کے وقفے کے بعد صبح کی نماز کا وقت ہے، اس لیے اسے الگ ذکر فرمایا۔ (نظم الدرر للبقاعی)
وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ : ”أَیْ وَأَقِمْ قُرْآنَ الْفَجْرِ“ یعنی فجر کی نماز قائم کر۔ یہاں نماز کو قرآن فرمایا، کیونکہ قرآن نماز کا اہم جز ہے اور یہاں جز بول کر کل مراد لیا ہے، جیسا کہ قیام یا ”رَکْعَۃٌ“ یا ”سَجْدَۃٌ“ سے پوری نماز مراد ہوتی ہے۔ یہاں نماز کو قرآن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ صبح کی نماز میں قرآن زیادہ پڑھا جاتا ہے بہ نسبت دوسری نمازوں کے۔rnۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا : ”مَشْهُوْدًا“ جس میں حاضر ہوا جائے، یعنی اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ [ دیکھیے بخاری، الأذان، باب فضل صلاۃ الفجر في جماعۃ : 648 ] یہ معنی بھی ہے کہ رات بھر کے آرام کے بعد طبیعت قرآن پڑھنے اور سننے کے لیے حاضر ہوتی ہے۔
Ayah 17:79وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ۔۔ : ”مِنْ“ بعض کے معنی میں ہے۔ ”ھُجُوْدٌ“ نیند کو کہتے ہیں۔ تہجد ترک ہجود، یعنی نیند ترک کرنے کا نام ہے، خواہ رات سونے کے بعد اٹھ کر ہو یا عشاء کے فوراً بعد نیند کے بجائے قیام کیا جائے۔ تہجد کے لیے سو کر اٹھنا ضروری نہیں۔ سورة مزمل میں فرمایا، رات کا کچھ حصہ قرآن کی تلاوت پر مشتمل نماز کے ساتھ نیند کو ترک کیجیے۔ تفصیل سورة مزمل کی ابتدائی اور آخری آیات میں ملاحظہ فرمائیں۔
نَافِلَةً لَّكَ : ”نَافِلَةً“ جو فرض سے زائد ہو، جمع نوافل۔ بعض لوگ اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے لیے تہجد ایک زائد فرض ہے، باقی عوام کے لیے نفل ہے۔ مگر ”ۧاَقِمِ الصَّلٰوةَ“ سے لے کر آیات کے آخر تک کے اول مخاطب اگرچہ رسول اللہ ﷺ ہیں مگر ان تمام احکام کا مخاطب امت کا ہر فرد بھی ہے۔ اس لیے تحقیق یہی ہے کہ تہجد نبی ﷺ پر بھی فرض نہیں تھی۔
عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ۔۔ : ”عَسٰٓي“ کا معنی ”امید ہے“ ، ”قریب ہے“ ہوتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ یہ لفظ فرمائے تو وہ کام واقع ہونا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ”عَسٰٓي“ طمع اور امید دلانے کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے، جو ملک الملوک ہے، عار ہے کہ امید دلا کر اسے پورا نہ کرے۔ ”مَقَامًا مَّحْمُوْدًا“ کے لفظی معنی ہیں ”ایسا مقام جس کی تعریف کی جائے“ اور حقیقت یہ ہے کہ ہر مخلص تہجد پڑھنے والے کو اس کی صلاحیت کے مطابق دنیا اور آخرت میں یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ دنیا میں لوگ اس سے محبت رکھتے اور تعریف کرتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے یہ نعمت اس کی حیثیت کے مطابق حاصل ہوگی۔ دیکھیے سورة مریم (96) اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمت عطا فرمائے۔ سب سے اونچا ”مقام محمود“ جو صرف ایک ہی شخص کو ملے گا اور جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول کریم ﷺ سے کیا ہے، وہ مقام شفاعت ہے، جس پر سب پہلے اور پچھلے آپ کی تعریف کریں گے۔ ایک شفاعت میدان محشر کی تنگی سے خلاصی دلا کر حساب کتاب شروع کرنے کی عام شفاعت ہے کہ اس پر سب پہلے اور پچھلے آپ کی تعریف کریں گے اور ایک اپنی امت کے لیے خاص شفاعت ہے جس پر پوری امت آپ کی احسان مند ہوگی اور تعریف کرے گی۔ آپ کے نام ”احمد“ اور ”محمد“ کی شان اس وقت پوری طرح ظاہر ہوگی۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن لوگ گروہوں کی شکل میں ہوں گے، ہر امت اپنے نبی کا پیچھا کرے گی کہ اے فلاں ! آپ سفارش کیجیے، یہاں تک کہ آخر میں شفاعت (کی درخواست) نبی ﷺ تک آپہنچے گی تو یہ وہ دن ہے جب اللہ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ [ بخاری، التفسیر، سورة بني إسرائیل، باب قولہ : (عسی أن یبعثک ربک مقامًا محمودا) : 4718 ]
جابر بن عبداللہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جو شخص اذان سنے، پھر یہ دعا پڑھے : (اَللَّھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَاءِمَۃِ ، آتِ مُحَمَّدَنِا الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَنِا الَّذِيْ وَعَدْتَّہُ) تو اسے قیامت کے دن میری شفاعت نصیب ہوگی۔“ [ بخاری، الأذان، باب الدعاء عند النداء : 614 ] شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”نیند سے جاگ کر قرآن پڑھا کر، یہ حکم سب سے زیادہ تجھ کو دیا ہے کہ تجھ کو بڑا مرتبہ دینا ہے، وہ تعریف کا مقام ہے، شفاعت (کبریٰ) کا کہ جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے خلق کو چھڑوائیں گے تکلیف سے۔“ (موضح)
3 بعض لوگوں نے مقام محمود کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھائے گا۔ طبری نے مجاہد کا یہ قول نقل کیا ہے۔ بعض روایات رسول اللہ ﷺ سے بھی نقل کی جاتی ہیں۔ حافظ ذہبی ؓ نے اپنی کتاب ”اَلْعُلُوُّ لِلّٰہِ الْعَظِیْمِ“ میں محمد بن مصعب کے ترجمہ میں فرمایا : ”رہا ہمارے نبی ﷺ کے عرش پر بیٹھنے کا معاملہ تو اس کے متعلق کوئی نص (آیت یا حدیث) ثابت نہیں، بلکہ اس باب میں ایک ضعیف و کمزور روایت ہے اور مجاہد نے آیت کی جو تفسیر کی ہے بعض اہل کلام نے اس کا انکار کیا ہے۔“ (ملخص از تفسیر قاسمی) ظاہر ہے کہ تابعی کے قول سے دین خصوصاً عقیدہ سے متعلق کوئی بات ثابت نہیں ہوسکتی۔ مزید دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (42) امام ذہبی ؓ نے کیا خوب فرمایا : ”بدعت اور غلو کا نتیجہ دیکھیے کہ ایک طرف ایک منکر اثر کو لے کر نبی ﷺ کو عرش پر بٹھایا جا رہا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے عرش اور بلندی پر ہونے کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ کے صریح فرمان : (اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى) کو رد کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔“ (ملخص از قاسمی)
Ayah 17:80وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور آپ کے ہر امتی کو یہ دعا سکھائی کہ اے میرے رب ! تو مجھے دنیا و آخرت میں جس جگہ بھی داخل کرے باعزت اور آبرو مندانہ طریقے سے داخل کر اور جس جگہ سے بھی نکالے باعزت طریقے سے نکال اور میرے لیے دلیل وبرہان کے ساتھ قوت و سلطنت کا ایسا غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔ دلیل کے غلبے کے لیے دعوت اور سلطنت کے غلبے کے لیے جہاد ضروری ہے، جس کا پہلا قدم دار الکفر سے ہجرت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا، چناچہ یہ دعا قبول ہوئی اور آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے، انصار سے اور مہاجرین سے دین کی مدد بھی ہوئی۔
”سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا“ سے اس آیت میں مراد قوت و سلطنت کا غلبہ ہے، کیونکہ دلیل وبرہان میں تو آپ مکہ میں بھی ہر وقت غالب تھے۔ کوئی شخص سورة کوثر جیسی ایک سورت بھی نہ بنا سکا تھا، اب عناد اور ضد سے اکڑی ہوئی گردنوں کے لیے جہاد کی ضرورت تھی، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے ساتھ ساتھ لوہا بھی نازل فرمایا۔ دیکھیے سورة حدید (25) کی تفسیر۔ اہل حق کے لیے حق سے دشمنی رکھنے والوں پر غلبہ حاصل کرنا فرض ہے، تب ہی وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرسکتے ہیں اور اپنی سلطنت ہی میں وہ پورے اسلام پر عمل کرسکتے ہیں جو اب صرف مسجد، نکاح اور جنازے وغیرہ تک رہ گیا ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا : ”إِنَّ اللّٰہَ لَیَزَعُ بالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بالْقُرْآنِ“ ”اللہ تعالیٰ سلطان کے ذریعے سے ان فواحش اور گناہوں سے روک دیتا ہے جن کے ارتکاب سے بہت سے لوگ قرآن سننے کے باوجود باز نہیں آتے۔“
Ayah 17:81وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ بشارت سنا دینے کا حکم دیا جو تھوڑے ہی عرصے کے بعد پوری ہوگئی اور آپ ﷺ فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے، آپ ﷺ انھیں ایک لکڑی کے ساتھ کچو کے مارتے جاتے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور یہ کہتے جاتے تھے : (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا ہے۔“ (جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) [ سبا : 49 ] ”حق آگیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، سورة بني إسرائیل، باب : (و قل جاء الحق وزھق الباطل) : 4720 ]
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 3 : ”ہمیشہ سے“ کا مفہوم ”كَانَ“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ طنطاوی نے لکھا ہے : ”أَیْ کَانَ غَیْرَ مُسْتَقَرٍّ وَلَا ثَابِتٍ فِيْ کُلِّ وَقْتٍ“ کہ باطل ہر دور میں یعنی ہمیشہ سے نا پائیدار ہے۔
Ayah 17:82وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ۔۔ : یعنی قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا حصہ نازل کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اہل ایمان کے دل میں اگر شک و شبہ یا کفر و نفاق کی کوئی بیماری پیدا ہوجائے تو قرآنی آیات کے ساتھ وہ تمام بیماریاں دور ہو کر ان کے دل اور روح کو مکمل شفا و رحمت حاصل ہوجائے۔ (”سراسر شفا“ کا مفہوم مصدر اور تنوین سے ظاہر ہو رہا ہے) مگر ظالموں کو یعنی کفار و مشرکین کو اس سے خسارے ہی میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ پہلی آیات کے ساتھ ان آیات کے انکار سے ان کا کفر اور بڑھ جاتا ہے۔ یہاں شفا سے مراد روحانی شفا، یعنی ایمان و یقین کی دولت مراد ہے، جو کفار کو حاصل نہیں ہوتی۔ دیکھیے سورة یونس (57) ، حم السجدہ (44) اور توبہ (124، 125)۔
اگرچہ اس آیت میں شفا سے اولین مراد روحانی شفا یعنی کفر و نفاق، شکوک و شبہات اور جہل سے شفا ہے، مگر اس کے احکام پر عمل کرنے سے انسان جسمانی بیماریوں سے بھی شفا پاتا ہے اور ان سے محفوظ بھی رہتا ہے۔ اس کے علاوہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قرآن دم کے لیے پڑھا جائے تو اس سے مسلم و کافر دونوں کی جسمانی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔ ابوسعید خدری ؓ کی روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک قبیلہ جنھوں نے کچھ مسافر صحابہ ؓ کی مہمانی سے انکار کردیا تھا، اتفاق سے اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، وہ لوگ اپنی ساری کوشش کے بعد صحابہ کے پاس دم کی درخواست لے کر آئے، ابوسعید خدری ؓ نے تیس بکریوں کی شرط پر سورة فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ بالکل تندرست ہوگیا، رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ [ بخاری، الإجارۃ، باب ما یعطي في الرقیۃ۔۔ : 2276، 5007 ] اسی طرح خارجہ بن صلت ؓ کے چچا نے سفر کے دوران ایک قبیلے کے لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک پاگل کو سورة فاتحہ کے ساتھ دم کیا تو وہ تندرست ہوگیا اور ان لوگوں نے انھیں سو بکریاں دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (خُذْھَا فَلَعَمْرِيْ لَمَنْ أَکَلَ بِرُقْیَۃِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَکَلْتَ بِرُقْیَۃِ حَقٍّ) [ أبو داوٗد، الطب، باب کیف الرقٰی : 3896، صححہ الألباني ] ”(بکریاں) لے لو، مجھے اپنی عمر کی قسم ! جس نے باطل دم کے ساتھ کھایا (وہ کھاتا رہے) بلاشبہ یقیناً تو نے حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔“
Ayah 17:83 وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ۔۔ :”الْاِنْسَانِ“ سے مراد یہاں کافر یا فاسق انسان ہے، صحیح مومن ایسا نہیں ہوتا۔ صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ ، إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ ، إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ ، وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ ، فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ) [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999 ] ”مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، کیونکہ اس کا ہر معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سو اکسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، سو وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“ مزید دلیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورة ہود (9 تا 11) اور سورة معارج (19 تا 35) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر احسان کے باوجود بےوفائی اور ناشکری کرے تو محسن کو احسان چھوڑنا نہیں چاہیے۔ تمام کفار و فساق کی ناشکری کے باوجود اللہ تعالیٰ دنیا میں ان پر بھی بیشمار انعامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
Ayah 17:84قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ : ”شَاکِلَۃٌ“ وہ طریقہ جو کسی کا ہم شکل اور حسب حال ہو، یعنی ہر شخص اپنے اس طریقہ پر عمل کرتا ہے جو ہدایت یا گمراہی میں سے اس کے مطابق اور حسب حال ہوتا ہے، کوئی نیک ہے، کوئی بد اور کوئی بین بین، سب ایک طریقے پر نہیں، نہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہے، کیونکہ پھر امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ دیکھیے سورة ہود (118، 119)۔
فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا : یعنی ہر شخص اسی طریقے پر خوش ہے جس پر چل رہا ہے، جیسا کہ فرمایا : (كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ) [ المؤمنون : 53 ] ”ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔“ اور ہر شخص اپنے آپ کو سب سے زیادہ صحیح راستے پر سمجھتا ہے، مگر سب سے زیادہ صحیح راستے پر چلنے والوں کا علم صرف تیرے رب کو ہے جو قیامت کے درمیان اپنے بندوں کے تمام اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ دیکھیے سورة زمر (46)۔
Ayah 17:85ۧوَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ۔۔ : عبداللہ بن مسعود ؓ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بعض یہود کے روح سے متعلق سوال کرنے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [ دیکھیے بخاری، العلم، باب قول اللہ تعالیٰ : (وما أوتیتم من العلم إلا قلیلا) : 125۔ مسلم : 2794 ] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے، مگر یہ سورت مکی ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قریش نے یہود سے کہا : (أَعْطُوْنَا شَیْءًا نَسْأَلُ عَنْہُ ہٰذَا الرَّجُلَ ، فَقَالُوْا سَلُوْہُ عَنِ الرُّوْحِ ، فَسَأَلُوْہُ ، فَنَزَلَتْ : (ۧوَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا) [ الإسراء : 85] قَالُوْا أُوْتِیْنَا عِلْمًا کَثِیْرًا، أُوْتِیْنَا التَّوْرَاۃَ ، وَمَنْ أُوْتِيَ التَّوْرَاۃَ فَقَدْ أُوْتِيَ خَیْرًا کَثِیْرًا، قَالَ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ) [ الکھف : 109]) ”ہمیں کوئی چیز دو جس کے متعلق ہم اس آدمی سے سوال کریں ؟“ تو انھوں نے کہا : ”اس سے روح کے متعلق پوچھو۔“ چناچہ انھوں نے آپ سے پوچھا تو یہ آیت اتری : (ۧوَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا) انھوں نے کہا : ”ہمیں تو کثیر علم عطا کیا گیا ہے، کیونکہ ہمیں تورات دی گئی ہے اور جسے تورات دی گئی اسے خیر کثیر دی گئی۔“ ابن عباس نے فرمایا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : (قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّيْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ) [ مسند أحمد : 1؍255، ح : 2313، وصححہ الألبانی ] ابن کثیر ؓ نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ یہ آیت پہلے مکہ میں اتری ہو (کیونکہ یہ سورت مکی ہے) پھر دوبارہ مدینہ میں اتری ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ میں جب یہودیوں نے یہ سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی ہو کہ آپ یہ آیت پڑھ کر سنائیں۔
روح کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے، مثلاً وحی (مومن : 15) ، قوت و ثابت قدمی (مجادلہ : 22) جبریل ؑ (شعراء : 193) ، قرآن (شوریٰ : 52) اور مسیح ؑ (نساء : 171) زیر تفسیر آیت میں روح سے مراد وہ چیز ہے جس سے بدن کو زندگی حاصل ہوتی ہے، ہر شخص اس کا مشاہدہ کرتا ہے، کوئی اس سے انکار نہیں کرسکتا۔ فرمایا ان سے کہہ دیجیے روح میرے رب کے حکم سے ہے، یعنی اللہ کے حکم سے ایک چیز بدن میں آپڑی، وہ جی اٹھا جب نکل گئی وہ مرگیا۔ اس کے علاوہ روح کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔ اس میں نکتہ یہ بھی ہے کہ جب آدمی اللہ کے حکم سے پیدا ہونے والی اس مخلوق کی حقیقت نہیں جانتا، جو خود اس میں رہتی ہے تو وہ خالق کی حقیقت کیسے جان سکتا ہے ؟
وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا : اس مفہوم کی طرف سورة کہف (109) اور لقمان (27) میں بھی اشارہ ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو صرف وہ باتیں بتائی ہیں جن کی انھیں ضرورت ہے اور جو انسانی عقل و فکر میں آسکتی ہیں، اگرچہ انسانی فکر کے سوچنے پر کوئی پابندی نہیں، مگر اسے اپنی حدود میں رہنا لازم ہے۔ انسان نے ایسی ایسی ایجادات کیں جو بیان سے باہر ہیں مگر وہ اس راز (روح) کی حقیقت کو پانے سے عاجز رہا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک راز اور غیب کی چیز ہے، جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے ؟ کیسے آئی ؟ اور کس طرح جاتی ہے ؟ کہاں سے آئی اور کہاں جاتی ہے ؟ مخلوق کو صرف اتنا معلوم ہے جتنا اس علیم وخبیر نے بتایا ہے، اس سے آگے سب بےبس ہیں اور سب کا علم اللہ کے مقابلے میں اتنا ہے جتنا سمندر میں سے پرندے کی چونچ میں آنے والا پانی۔
Ayahs 17:86–87وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک اور قدرت کا بیان فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا ہے سب لے جائیں، نہ آپ کے سینے میں رہے، نہ آپ کے کسی صحابی یا امتی کے سینے میں، نہ کسی کاغذ یا دوسری چیز میں، پھر اسے حاصل کرنے کے لیے ہمارے مقابلے میں آپ کو کوئی حمایتی نہیں ملے گا۔ rnۙاِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ : لیکن یہ تیرے رب کی رحمت ہے کہ وہ اسے لے نہیں گیا، بلکہ اسے تیرے پاس ہی رہنے دیا ہے۔ یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ معلوم ہوا قرآن قیامت تک باقی رہے گا، کوئی شخص اس کے تمام اوراق ختم کرکے بھی اسے ختم نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کا اصل ٹھکانا اہل علم کے سینے ہیں (دیکھیے عنکبوت : 49) اور رب کا وعدہ بھی ہے کہ وہ اسے نہیں لے جائے گا، بلکہ اس کی حفاظت کرے گا، فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] ”بیشک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“
اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا : یہاں فضل کبیر اور دوسری جگہ فضل عظیم فرمایا : (وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا) [ النساء : 113 ] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا اور اللہ کا فضل تجھ پر ہمیشہ سے (عظیم) بہت بڑا ہے۔“ اس فضل کبیر و عظیم میں سے چند یہ ہیں کہ آپ پر کتاب و حکمت نازل فرمائی، اسے آپ کے اور آپ کی امت کے پاس قیامت تک کے لیے باقی رکھا، آپ کو اولاد آدم کا سردار بنایا، تمام لوگوں کے لیے رسول اور آخری نبی بنایا، تمام نبیوں کی امامت اور معراج کا شرف بخشا، شفاعت کبریٰ اور مقام محمود عطا فرمایا۔ جس فضل کو اللہ تعالیٰ عظیم و کبیر فرمائے اسے کوئی کیسے شمار کرسکتا ہے۔
Ayah 17:88قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ۔۔ : اس آیت میں پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج ہے، سورة ہود (13) میں دس سورتوں کا، بقرہ (23) اور یونس (38) میں ایک سورت کا اور سورة طور (34) میں اس کے بھی بعض حصے کا، مگر قرآن کا اعجاز یہ ہے کہ نہ اس زمانے میں کفار اس کا جواب دے سکے اور نہ آئندہ قیامت تک اس کا جواب ممکن ہے۔ یہاں انسانوں کے ساتھ جنات کو بھی شامل کردیا ہے، اس لیے کہ کفار یہ اتہام لگاتے تھے کہ کوئی جن اس (محمد ﷺ پر القا کرجاتا ہے اور پھر جنوں کو اپنے سے اعلیٰ اور عالم الغیب بھی سمجھتے تھے۔
Ayah 17:89وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا للنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے ہر طرح سے چیلنج کیا ہے اور یہ بھی کہ ہم نے توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے لیے ہر قسم کے دلائل پیش کیے ہیں، یا ہر معنی کو فصاحت و بلاغت کے ساتھ ایسے دلکش پیرائے میں بیان کیا ہے کہ وہ مثال کی طرح ذہن میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس حد تک بیان اور سمجھانے کا تعلق ہے ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (41) اور کہف (54)۔
فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا : یعنی کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں۔
Ayahs 17:90–91وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا۔۔ : ”يَنْۢبُوْعًا“ ”نَبَعَ یَنْبِعُ“ (ض، ن، ع) پھوٹ نکلنا، بروزن ”یَفْعُوْلٌ“ یاء مبالغہ کے لیے بڑھائی گئی ہے، وہ چشمہ جو ہمیشہ جاری رہے۔ ”اَلْاَرْضِ“ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی اس مکہ کی سنگلاخ زمین سے جہاں پانی کا نشان نہیں۔ ”ینبوعا“ کے مطالبے کا مقصد یہ ہے کہ انھیں صرف اتنا پانی کافی نہیں جو ان کی ضرورت پوری کرے، بلکہ بہت بڑا اور ہمیشہ جاری رہنے والا چشمہ جاری ہونا چاہیے۔
کفار جب قرآن کے معجزے کا جواب نہ دے سکے تو انھوں نے اپنے ایمان لانے کے لیے مزید معجزوں کا مطالبہ داغ دیا، جیسا کہ لاجواب ہونے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔ ان تمام مطالبات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کہنے کا حکم دیا وہ آگے آ رہا ہے۔
Ayah 17:92اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ۔۔ :”كِسَفًا“ ”کِسْفَۃٌ“ کی جمع ہے، ٹکڑے۔ ”قَبِيْلًا“ بمعنی ”مُقَابِلاً“ ، جیسا کہ ”عَشِیْرٌ“ بمعنی ”مُعَاشِرٌ“ ہوتا ہے، یعنی آنکھوں کے سامنے۔ اس آیت میں ان کے دو مطالبے ذکر ہوئے۔ پہلے مطالبے میں ان بدنصیبوں کا اشارہ اس آیت کی طرف ہے جس میں ارشاد ہے : (اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ) [ سبا : 9 ] ”اگر ہم چاہیں تو انھیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔“ اس وعید سے خوف زدہ ہونے کے بجائے وہ جلد از جلد عذاب لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جیسا کہ سورة انفال (32) میں مذکور ہے۔ دوسرے مطالبے یعنی اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے لانے کی تفصیل سورة فرقان (21، 22) میں دیکھیے۔
Ayah 17:93اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ۔۔ : ”زُخْرُفٍ“ اصل میں زینت کو کہتے ہیں، یہاں یہ لفظ سونے کے معنی میں ہے، کیونکہ جو چیزیں زینت کے لیے استعمال ہوتی ہیں ان میں سونا بہت قیمتی اور خوبصورت ہے۔ ”ترقی“ ”رَقٰی یَرْقِيْ رُقْیَۃً“ (ض) دم کرنا اور ”رَقِيَ یَرْقٰی رُقِیًّا“ (ع) چڑھنا۔
قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ۔۔ : یہاں قرآن نے کفار کے چھ مطالبوں کا ذکر کیا ہے، جن کے ضمن میں کئی اور مطالبے ہیں۔ فرمایا، میرا رب ہر عیب اور عجز سے پاک ہے، وہ یہ سب کچھ کرسکتا ہے مگر اپنی مرضی سے۔ رہا مجھ سے مطالبے کرنا تو میں تو محض ایک بشر ہوں جو پیغام پہنچانے والا ہے، کیا تم کسی بشر کے متعلق بتاسکتے ہو کہ وہ اس قسم کے تصرفات کی طاقت رکھتا ہو اور پھر میرا کوئی اختیار بھی نہیں، نہ کوئی بات میری اپنی ہے، میں تو محض اللہ کا رسول، یعنی اس کی طرف سے پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا ہوا ہوں اور اس کے حکم کا تابع ہوں، تو میں اس کے اذن کے بغیر یہ چیزیں کیسے لاسکتا ہوں۔ امام رازی کہتے ہیں کہ رسول کے سچا ہونے کے لیے تو ایک معجزہ ہی کافی ہوتا ہے اور آپ کو وہ معجزہ قرآن دیا گیا۔ اب اس کے بعد اگر متعدد معجزات کو معیار صدق قرار دیا جائے تو یہ سلسلہ ختم ہی نہ ہو سکے گا، اس لیے آپ ﷺ اور پہلے تمام رسولوں نے ایسے موقع پر معذرت کردی کہ یہ اللہ کا کام ہے، ہم تو محض بشر اور رسول ہیں۔
Ayah 17:94وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا۔۔ : یعنی یہ بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ ایک شخص بشر ہوتے ہوئے اللہ کا رسول کیسے ہوسکتا ہے، اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بشر ہونے کو جانتے تھے، آپ کے آبا و اجداد اور ازواج و اولاد، کھانے پینے، چلنے پھرنے اور دوسری تمام انسانی ضروریات کو دیکھتے تھے، اس لیے آپ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ اب بہت سے مسلمان کہلانے والے جو باپ دادا سے مسلمان چلے آ رہے ہیں، محمد ﷺ کو رسول مانتے ہیں، مگر آپ کو بشر ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں، کیونکہ مشرکین عرب اور ان لوگوں کا ذہن ایک ہے۔ انھوں نے کہا، بشر رسول نہیں ہوسکتا اور انھوں نے کہا، رسول بشر نہیں ہوسکتا۔ ”فَمَا أَشْبَہَ اللَّیْلَۃَ بالْبَارِحَۃِ“ (سو آج کی رات کل رات سے کس قدر ملتی جلتی ہے) اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ شبہ کئی آیات میں بیان فرمایا ہے، دیکھیے سورة یونس (2) ، تغابن (6) ، سورة ق (1، 2) اور انعام (8، 9) حقیقت یہ ہے کہ ان سب لوگوں نے اپنی بےبصیرتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں بشر کے مقام اور عزت و کرامت کو پہچانا ہی نہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (70)۔
Ayah 17:95قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ۔۔ : ”مُطْمَىِٕنِّيْنَ“ یعنی اگرچہ فرشتے اب بھی زمین پر آتے جاتے ہیں، لیکن اگر وہ انسانوں کی طرح اطمینان سے زمین پر رہ رہے ہوتے تو ہم ان کی طرف کسی فرشتے ہی کو رسول بھیجتے، مگر جب زمین پر ہم نے انسانوں کو بسایا ہے تو ان کی طرف ایک فرشتے کو رسول بنا کر بھیجنے سے کیا فائدہ ؟ رسول کا کام صرف اس پیغام کو پہنچا دینا ہی نہیں بلکہ وہ لوگوں کے لیے عملی نمونہ بھی ہوتا ہے، تاکہ وہ اس کی پیروی کرسکیں۔ یہ مفہوم کہ رسول کا اپنی امت کا ہم جنس ہونا ضروری ہے، کئی آیات میں بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (7) ، ابراہیم (4) اور سورة انعام (8، 9)۔
Ayah 17:96قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ۔۔ : ”كَفٰى باللّٰهِ“ کی ترکیب اور تفسیر کے لیے دیکھیے بنی اسرائیل (15) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو سارا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہوئے ان سے بحث اور جھگڑا ترک کرنے کا حکم دیا، یعنی آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے دعوائے نبوت میں جھوٹا ہوتا تو وہ میری سخت گرفت کرتا۔ (دیکھیے حاقہ : 44 تا 46) اور پھر اسے ہمیشہ سے خوب معلوم ہے کہ کون شخص انعام و احسان اور ہدایت پانے کے لائق ہے اور کون عقاب و عذاب اور گمراہی کے۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور کفار کے لیے وعید۔
Ayah 17:97وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ۔۔ : نبوت پر ان کے شبہات کا جواب دینے کے بعد اب انھیں وعید سنائی۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے بل بوتے پر یا اپنی عقل، علم یا کسی اور چیز کی بنیاد پر راہ حق نہیں پاسکتا اور نہ اس پر ثابت قدم رہ سکتا ہے، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری ہے جو کسی کو راہ حق دکھاتی ہے اور اگر انسان کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی توفیق انسان کے شامل حال نہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے راہ راست پر نہیں لاسکتی۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔ (رازی) ”وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ“ میں ہدایت یافتہ کو واحد کے صیغے سے اور ”ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۗءَ“ میں گمراہ کردہ لوگوں کو جمع کے صیغے سے بیان فرمایا، اس میں حکمت یہ ہے کہ ہدایت کا راستہ ایک ہے، اس پر چلنے والے ایک ہی جماعت ہیں، جبکہ ضلالت کے بیشمار راستے ہیں اور ان پر چلنے والے گروہ بیشمار ہیں۔ (واللہ اعلم)rnۭ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ۔۔ : یعنی منہ کے بل چلیں گے، جیسے دنیا میں پاؤں کے بل چلتے تھے۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : ”لوگ اپنے چہروں پر کس طرح اکٹھے کیے جائیں گے ؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (أَلَیْسَ الَّذِيْ أَمْشَاہُ عَلَی الرِّجْلَیْنِ فِي الدُّنْیَا قَادِرًا عَلٰی أَنْ یُمْشِیَہُ عَلٰی وَجْھِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ؟) ”جس نے انھیں ان کے پاؤں کے بل چلایا ہے وہ انھیں قیامت کے دن ان کے چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔“ [ بخاری، التفسیر، سورة الفرقان، باب قولہ : (الذین یحشرون علٰی وجوہہم إلٰی جہنم) : 4760۔ مسلم : 2806 ] ایک مطلب یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن انھیں منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا، جیسے فرمایا : (يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ) [ القمر : 48 ] ”جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں پر گھسیٹے جائیں گے، چکھو آگ کا چھونا۔“ دونوں صورتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں کہ حشر کے دن وہ منہ کے بل الٹے چلتے ہوئے آئیں گے، پھر فرشتے چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے انھیں جہنم میں پھینک دیں گے۔
عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا : اندھے، گونگے اور بہرے۔ بعض آیات میں ان کے قیامت کے دن دیکھنے، بولنے اور سننے کا ذکر آیا ہے، تو ایک تطبیق یہ ہے کہ قیامت کے پچاس ہزار سال کے برابر دن کے مختلف اوقات میں ان کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ دوسری یہ کہ وہ جمالِ الٰہی کے دیدار اور جنت کی نعمتوں کے دیکھنے سے محروم ہوں گے، کوئی خوش کن خبر نہیں سنیں گے اور نہ کوئی دلیل بیان کرنے کی طاقت ہوگی، ورنہ حواس خمسہ ظاہرہ کے اعتبار سے تو وہ بہت سننے اور دیکھنے والے ہوں گے۔ دیکھیے سورة مریم (38) اور سورة طور (14، 15)۔
كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا : ”خَبَتْ“ اصل میں ”خَبَوَتْ“ ہے، ”خَبَا یَخْبُوْ“ سے واحد مؤنث غائب ماضی معلوم ہے، مصدر ”خَبْوًا وَ خُبُوًّا“ ہے، آگ کی تیزی کا ہلکا ہونا یا بجھنا، یعنی عذاب کبھی ہلکا نہ ہوگا، جیسے فرمایا : (لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ) [ البقرۃ : 86 ] ”سو نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔“