Ayah 17:33وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ۔۔ : انسانی جان اور عزت کی حفاظت کے لیے قتل اولاد اور زنا کے قریب جانے سے منع کرنے کے بعد اب کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنے سے منع فرمایا۔ قتل مسلم کب ناحق ہے اور کب حق ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلاَّ بِإِحْدٰی ثَلاَثٍ النَّفْسُ بالنَّفْسِ ، وَالثَّیِّبُ الزَّانِيْ ، وَالْمُفَارِقُ لِدِیْنِہِ التَّارِکُ لِلْجَمَاعَۃِ) [ بخاری، الدیات، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (إن النفس بالنفس۔۔) : 6878، عن عبد اللّٰہ بن مسعود ؓ ] ”کسی مسلمان کو، جو کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھتا ہو، قتل کرنا حلال نہیں، مگر تین چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ، جان کے بدلے جان، غیر کنوارا زانی اور اپنے دین کو ترک کرنے والا، جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔“ مگر یہ حصر حقیقی نہیں ہے، کیونکہ بعض دوسرے جرائم میں بھی قتل کا جواز ثابت ہے، مثلاً رسول اللہ ﷺ کو گالی دینا اور محرم کے ساتھ نکاح کرنا وغیرہ۔ (بخاری : 1846۔ ابوداؤد : 4456) اس قتل میں خودکشی بھی داخل ہے، یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ (دیکھیے نساء : 29) قتل عمد کی قباحت کے لیے ملاحظہ فرمائیں سورة نساء (93)۔
وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا : اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو ناحق قتل کردے تو مقتول کے ولی کو اللہ تعالیٰ نے پورا اختیار دیا ہے کہ چاہے تو قصاص لے لے، چاہے دیت لے لے، یا دیت کے بغیر معاف کر دے۔ ”سلطٰنا“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلم حکمران پر لازم ہے کہ وہ اسے ان تینوں باتوں کا اختیار دے، پھر اگر وہ قصاص لینا چاہے تو اسے قصاص دلوائے، اگر قاتل یا اس کے ساتھی مزاحمت کریں تو شریعت کی بغاوت پر ان سے جنگ کرے۔ یہ قصاص معاشرے میں سے قتل ناحق کو ختم کرنے کا واحد طریقہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (178، 179) کفار کے معاشروں میں بدامنی اور بیشمار قتل قصاص نہ ہونے ہی کی وجہ سے ہیں۔ اب مسلم حکمرانوں نے بھی ایک آدھ کے علاوہ قصاص کے حکم اور اس کے شرعی طریقے کو چھوڑ کر کفار کا قانون اپنایا تو اس کے نتیجے میں وہ بھی امن کے بجائے خوف اور بدامنی کا شکار ہوگئے۔ کفار کے ملکوں کی طرح نہ وہاں کسی کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ عزت وآبرو اور اسے ترقی قرار دیا جا رہا ہے۔
فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ : قصاص لیتے وقت قتل میں زیادتی یہ ہے کہ قاتل کے بجائے کسی اور کو قتل کر دے، یا قاتل کے ساتھ انھیں بھی قتل کرے جو قتل میں شریک نہیں ہیں، یا قتل سے پہلے مثلہ کرے، یعنی اس کے اعضا کاٹے یا مختلف طریقوں سے تکلیف دے دے کر مار دے۔ اس میں صرف یہ استثنا ہے کہ قاتل نے جس طریقے سے قتل کیا ہے اس طریقے سے اسے قتل کرسکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (194) ، سورة نحل (126) اور سورة بقرہ کی آیات قصاص (178، 179)۔
اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا : یعنی مسلم حکومت اور تمام مسلمان اس کی مدد کریں گے، ان سب پر اس کی مدد لازم ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ بھی دنیا اور آخرت میں اس کی نصرت فرمائے گا۔
Ayah 17:34 وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ۔۔ : احسن یہ کہ ہر طرح اس کی حفاظت کرو، اسے کسی کاروبار میں لگا کر بڑھانے کی کوشش کرو، جب جوان ہوجائے تو اس کا مال اس کے سپرد کر دو ، یا اس سے اجازت لے کر کاروبار کرو۔ اس مضمون کی تفصیل سورة نساء (2 تا 14) میں ملاحظہ فرمائیں۔
۠وَاَوْفُوْا بالْعَهْدِ۔۔ : اس میں وہ عہد شامل ہے جو اللہ تعالیٰ سے یا بندوں سے کیا جائے، کیونکہ عہد کے متعلق سوال ہوگا اور جو عہد و اقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔
Ayah 17:35وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ۔۔ : ”الْكَيْلَ“ سے مراد کسی برتن وغیرہ کو پیمانہ بنا کر غلہ وغیرہ کو ماپنا، مثلاً صاع (ٹوپا) اور مد (پڑوپی) وغیرہ۔ وزن کا معنی تولنا، مثلاً کلو وغیرہ۔ ”اَلْقِسْطَاسُ“ ترازو۔ مجاہد نے فرمایا، رومی میں قسطاس عدل کو کہتے ہیں۔ ”تَاوِیْلاً“ (انجام) یہ ”أَوْلٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی رجوع ہے، یعنی کوئی کام جس نتیجہ کی طرف پلٹتا ہے، تعبیر کو بھی تاویل کہتے ہیں اور کسی چیز کے اصل مفہوم و مطلب کو بھی۔ انجام کے لحاظ سے بہتر اس لیے کہ پورے ماپ اور تول کی وجہ سے سب لوگوں کا اس پر اعتماد قائم ہوجائے گا، اس کے کاروبار میں برکت اور ترقی ہوگی اور یہ شخص قیامت کے دن کی رسوائی اور لوگوں کے حقوق کے مطالبہ سے محفوظ رہے گا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مطففین کی ابتدائی آیات۔
Ayah 17:36وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ :”وَلَا تَــقْفُ“ ”قَفَا یَقْفُوْ“ (ن) سے نہی کا صیغہ ہے، جس کا معنی پیچھے چلنا ہے۔ ”قَفَوْتُ أَثَرَ فُلاَنٍ“ ”میں فلاں کے نقش قدم پر چلا۔“ ”قَفَا“ گردن کے پچھلے حصے (گدی) کو کہتے ہیں، قافیہ ہر شعر کے آخر میں آنے والا لفظ۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک مبارک نام ”اَلْمُقَفِّيْ“ بھی ہے، یعنی سب سے پیچھے آنے والا۔ (مستدرک حاکم : 4185) یعنی جس قول یا فعل کے درست ہونے کا علم یعنی یقین نہ ہو اس کا پیچھا مت کرو، مطلب یہ کہ نہ خود اس پر عمل کرو نہ آگے کسی کو بتاؤ۔ علم وہ ہے جس کا یقین ہو، صرف گمان کے پیچھے چلنا منع ہے، کیونکہ گمان علم نہیں ہوتا، فرمایا : (وَمَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ) [ النجم : 28 ] ”حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں۔“ ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیْثِ) [ بخاری، الأدب، باب : (یأیھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن۔۔) : 6066 ] ”گمان سے بچو، یقیناً گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔“ اسی طرح سنی سنائی بات بلا تحقیق بیان کرنا بھی منع ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَفَی بالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ) [ مسلم، المقدمۃ، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع : 5، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”آدمی کو جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر وہ بات آگے بیان کر دے جو اس نے سنی ہو۔“ علاوہ ازیں جھوٹی گواہی، کوئی بھی تہمت، جھوٹا خواب بیان کرنا، رسول اللہ ﷺ کی حدیث اس کے صحیح ہونے کا علم ہونے کے بغیر بیان کرنا، قرآن و حدیث کی موجودگی میں کسی کی شخصی رائے یا قیاس پر عمل کرنا (تقلید کرنا) یہ سب چیزیں اس میں شامل ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب سے منع فرمایا ہے۔ rnۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ۔۔ : یہاں ”كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا“ سے مراد وہ شخص بھی ہوسکتا ہے جس کے کان، آنکھیں اور دل ہیں، یعنی آدمی سے ان تینوں چیزوں میں سے ہر ایک کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے کہ تونے ان اعضا کو کہاں استعمال کیا ہے ؟ جس چیز کا علم نہیں تھا اس کا پیچھا کرنے میں اللہ کے عطا کردہ اعضا کیوں استعمال کیے ؟ (دیکھیے حجر : 92، 93) اور ”كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا“ کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کان، آنکھیں اور دل میں سے ہر ایک سے خود اس کے متعلق سوال ہونے والا ہے کہ بتاؤ تمہیں اس شخص نے کہاں اور کیسے استعمال کیا۔ دیکھیے سورة یس (65) اور حم السجدہ (19 تا 23) بہرحال قرآن کی آیات میں یہ دونوں مفہوم موجود ہیں، دونوں صورتوں میں قیامت کے دن کی اس ہولناک پیشی سے ڈرایا گیا ہے۔ اس آیت کی ہم معنی یہ آیات بھی ملاحظہ فرمائیں سورة اعراف (33) اور سورة بقرہ (168، 169)۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ چند الفاظ اسلام کے مکمل منہج کی ترجمانی کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان پر لازم ہے کہ اس بات کی اپنی حد تک پوری تحقیق کرلے کہ میری زبان جو بات کہہ رہی ہے، یا واقعہ بیان کر رہی ہے، یا روایت نقل کر رہی ہے، یا میری عقل جو فیصلہ کر رہی ہے، یا جو کچھ میں نے قطعی طے کیا، یا جو کام میں کرنے جا رہا ہوں اس کا مجھے پورا علم ہے اور میں اس کے نتائج کو پوری طرح جانتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن نے بات کا رخ تکبر سے ممانعت کی طرف موڑ دیا، کیونکہ یہ انسان کے اپنی حقیقت سے حد سے زیادہ لا علم ہونے کی دلیل ہے۔
Ayah 17:37وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا : ”مَرَحًا“ اصل میں حد سے بڑھی ہوئی خوشی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ تکبر اور لوگوں سے اونچا ہونے کا اظہار ہو۔ ”فِي الْاَرْضِ“ سے اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ تو اسی زمین سے پیدا ہوا اور اسی کی آغوش میں سمٹ جائے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ : 5۔ مرسلات : 25 تا 27) پھر اس پر یہ تکبر کیسا ؟ اسلام کے سکھائے ہوئے ادب کے مطابق اپنی چال میں تواضع اور میانہ روی اختیار کر۔ دیکھیے سورة لقمان (18، 19) اور فرقان (63)۔
اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ۔۔ : اس میں انسان کو مذاق کے انداز میں اس کی حیثیت یاد دلائی گئی ہے۔ نبی ﷺ نے تکبر کا برا انجام بہت سی احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ ، قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ أَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہُ حَسَنًا، وَنَعْلُہُ حَسَنَۃً ، قَالَ إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ) [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر وبیانہ : 91 ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر کبر ہوگا۔“ ایک آدمی نے کہا : ”آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا خوبصورت ہو ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے، کبر تو حق کا انکار اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔“ اور ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ جَرَّ ثَوْبَہُ خُیَلاَءَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ بخاری، اللباس، باب من جر إزارہ۔۔ : 5784۔ مسلم : 2085 ] ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو اپنی چادر تکبر سے کھینچے۔“
افسوس کہ مسلمان مردوں نے کفار کی تقلید میں اپنی شلواریں، پتلونیں ٹخنوں سے نیچے رکھنے کو عادت بنا لیا ہے اور عذر یہ کرتے ہیں کہ ہم تکبر سے ایسا نہیں کرتے، حالانکہ اگر بےدھیانی میں بےاختیار کپڑا لٹک جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے تکبر سے ایسا نہیں کیا، لیکن جان بوجھ کر لمبی شلوار سلوانا اور اسے جان بوجھ کر ٹخنوں سے نیچے رکھنا صاف رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور واضح تکبر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے از خود چادر لٹکانے ہی کو تکبر میں شمار کیا ہے، چناچہ جابر بن سلیم ؓ سے ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَارْفَعْ إِزَارَکَ إِلٰی نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَیْتَ فَإِلَی الْکَعْبَیْنِ وَإِِیَّاکَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِِنَّھَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ وَإِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ) [ أبوداوٗد، اللباس، باب ما جاء في إسبال الإزار : 4084 ] ”اور اپنی چادر نصف پنڈلی تک اٹھاؤ، پھر اگر تم نہیں مانتے تو ٹخنوں تک اور (ٹخنوں سے نیچے) چادر لٹکانے سے بچو، کیونکہ یقیناً یہ تکبر سے ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔“ شیخ البانی ؓ نے اسے صحیح کہا ہے۔ بےدین لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ہے، آج کل بہت سے لوگ بلکہ کئی جماعتیں جو پاکستان میں، بلکہ دنیا بھر میں اقامت دین کا علم اٹھائے ہوئے ہیں، ان کے مرد دھڑلے سے کپڑا ٹخنے سے نیچے رکھتے ہیں، بلکہ کپڑا اٹھانے والوں کو طنز و مزاح کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس مسلم عورتوں کی اکثریت جنھیں اپنے پاؤں تک چھپانے تھے وہ کپڑا اٹھا کر اپنے حسن کی نمائش کرکے اللہ تعالیٰ کی لعنت کا نشانہ بن رہی ہے۔
Ayah 17:38كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ۔۔ : ”لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ“ سے لے کر ”وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا“ تک پچیس چیزیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے بعض کا حکم دیا گیا ہے اور بعض سے منع کیا گیا ہے۔ ان میں ”سَیِّئٌ“ (بری) وہ ہیں جن سے منع کیا گیا ہے اور وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم ہے انھیں بجا نہ لانا بھی ”سَیِّئٌ“ (برا) ہے۔ ان تمام چیزوں میں سے جو بری ہیں وہ ہمیشہ سے اللہ کے ہاں مکروہ (ناپسندیدہ) ہیں۔ ہمیشگی کا مفہوم ”کَانَ“ اد اکر رہا ہے۔
مَكْرُوْهًا : مکروہ کا لفظ فقہاء کی اصطلاح میں حرام سے کم تر درجے کا ہے، یعنی جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہو مگر قرآن و سنت کی اصطلاح میں مکروہ کا لفظ اکثر حرام کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ ان آیات میں منع کردہ تمام چیزیں حرام ہیں، فقہی اصطلاح والی مکروہ نہیں ہیں۔ اس لیے صحیح بخاری اور ترمذی وغیرہ میں باب قائم کرتے وقت لفظ کراہیت لکھا جاتا ہے مگر مراد اس سے حرمت ہی ہوتی ہے۔ بعض اوقات کتاب و سنت میں مکروہ کا لفظ فقہاء والے مکروہ کے معنی میں آتا ہے، مگر اکثر مقامات پر مکروہ کا لفظ حرام ہی کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ زیر تفسیر تمام آیات میں ہے۔
Ayah 17:39ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ۔۔ : نصیحت کی ابتدا ”لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ“ سے ہوئی تھی اور اسی کے ساتھ بات ختم فرمائی۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (22) کی تفسیر۔
Ayah 17:40اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ۔۔ : اس آیت میں مشرکین عرب کی جہالت پر طنز ہے، جو یہ کہہ کر فرشتوں کی عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ دیکھیے سورة نجم (21، 22، 27، 28) ، زخرف (19) اور نحل (57، 58) فرمایا کتنی بڑی بات کہہ رہے ہو کہ وہ جو ہر شے کا خالق ومالک ہے، اس نے تمہیں اولاد میں سے بیٹوں کے لیے خاص کرلیا جو افضل ہیں اور اپنے لیے بیٹیاں بنالیں جنھیں تم نہایت ردی اور باعث عار سمجھتے ہو اور بعض اوقات زندہ دفن کرنے سے بھی باز نہیں آتے، یقیناً یہ بہت بڑی گستاخی کی بات ہے۔ اگر اس نے اولاد بنانی ہی تھی تو وہ جس طرح کی چاہتا بنا لیتا، پھر وہ محض بیٹیاں ہی کیوں رکھتا ؟ (دیکھیے زمر : 4) وہ تو بیٹے بیٹیوں سے ہے ہی پاک، کیونکہ یہ محتاجی کی دلیل ہے۔ دیکھیے سورة اخلاص کی تفسیر، سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت اور مریم کی آیات (88 تا 95)۔
Ayah 17:41ۧوَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : ”نُفُوْرًا“ کا معنی نفرت، بدکنا، دور بھاگنا ہے۔ اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ضروری بات کو تکرار کے ساتھ مختلف طریقوں سے بار بار بیان کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو نصیحت ہو، مگر نصیحت تو سننے سے ہوتی ہے، جب کہ یہ لوگ جس قدر سنانے کی کوشش کی جائے اسی قدر دور بھاگتے ہیں، سننا ہی نہیں چاہتے، پھر مانیں گے کیسے ؟
Ayah 17:42قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ۔۔ : یعنی اس سے لڑنے اور اس کا تخت الٹ دینے کے لیے جاتے، کیونکہ وہ بھی اپنے کو معبود سمجھتے ہوتے اور جب ایسا نہیں ہوا اور تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا نظام خالص اپنی مرضی سے چلا رہا ہے اور یہ نظام اپنی پوری ہم آہنگی اور تناسب سے چل رہا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کے مقابلے میں تم نے جتنی زندہ یا مردہ ہستیوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، وہ سب باطل و بےحقیقت چیزیں ہیں۔ اس آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مومنون (91، 92) اور انبیاء (22)۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ عرش پر ہونا صرف رب تعالیٰ کی صفت ہے، کوئی بھی مخلوق عرش پر نہیں جاسکتی، جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ معراج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ عرش پر گئے ان کی بات درست نہیں، کیونکہ یہ آیت اس کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی شخصیت کے عرش پر جانے کی کوئی دلیل ثابت نہیں۔ رہی یہ بات کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یا نہیں ؟ اس کی بحث سورة نجم کے شروع میں آئے گی۔ (ان شاء اللہ)
Ayah 17:43سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا : یعنی مشرکین جو اللہ کے ساتھ کوئی معبود بناتے ہیں، یا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے ہر طرح پاک اور بیحد بلند ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی کی کوئی مجال نہیں، وہی اس کائنات کا بلاشرکت غیر خود مختار مالک و حاکم ہے۔
Ayah 17:44تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ۔۔ : زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ ”سَبَحَ یَسْبَحُ“ (ف) کا معنی پانی یا ہوا میں تیزی سے چلنا ہے۔ ”سَبَحَ سَبْحًا وَسِبَاحَۃً“ ستاروں کا افلاک میں تیز چلنا، جیسا کہ فرمایا : (وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ) [ یٰسٓ : 40 ] ”اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ گھوڑے کا تیز چلنا، فرمایا : (ۙوَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا) [ النازعات : 3 ] البتہ باب تفعیل ”اَلتَّسْبِیْحُ“ کا معنی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، یعنی اسے ہر عیب اور کمی سے پاک قرار دینا ہے۔ اصل اس کا بھی اطاعت، عبادت اور پاکیزگی بیان کرنے میں مستعدی و تیزی دکھانا ہے۔ (ملخص از راغب) بعض مفسرین نے کہا، مراد یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہیں، یعنی ان کی حالت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں بنانے والا ہر قسم کے عیب سے یا عاجز ہونے سے پاک ہے۔ مگر اس تاویل کی ضرورت تب ہے کہ یہ تمام چیزیں اپنی زبان سے تسبیح نہ کرسکتی ہوں، حالانکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ ہر چیز میں ادراک اور سمجھ موجود ہے اور اسے اپنی عبادت اور تسبیح کا طریقہ بھی معلوم ہے، لیکن ان کی اپنی زبان ہے جسے ہم نہیں سمجھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں موجود ہر شخص اور پر پھیلاتے ہوئے پرندوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں اور اس کے بعد فرمایا : (كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ) [ النور : 41 ] ”ہر ایک نے یقیناً اپنی نماز اور اپنی تسبیح جان لی ہے۔“ اور فرمایا : (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙوَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً ۭ كُلٌّ لَّهٗٓ اَوَّابٌ) [ ص : 18، 19] ”بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کردیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔“ داؤد اور سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی بھی سکھا دی تھی۔ (دیکھیے نمل : 16) بلکہ چیونٹیوں اور پرندوں کے ساتھ ان کی گفتگو بھی سورة نمل (17 تا 28) میں ذکر فرمائی۔ اس مقام پر بھی فرمایا : ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ معلوم ہوا کہ مراد زبان حال سے تسبیح نہیں، کیونکہ یہ زبان تو ہر شخص سمجھتا ہے اور فی الواقع کائنات کے ہر ذرے کی حالت اپنے پیدا کرنے والے کی لا محدود قدرت کی اور اس کے ہر کمزوری اور ہر عیب سے پاک ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس لیے یہاں ہر چیز کا صرف اپنی زبان حال ہی سے نہیں بلکہ اپنی زبان قال سے بھی تسبیح کرنا مراد ہے اور یہ کچھ بعید نہیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : (وَلَقَدْ کُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِیْحَ الطَّعَامِ وَھُوَ یُؤْکَلُ) [ بخاري، المناقب، باب علامات النبوۃ في الإسلام : 3579 ] ”ہم (رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں) کھانے کی تسبیح سنتے تھے، جب کہ وہ کھایا جا رہا ہوتا تھا۔“ جمادات و نباتات کے سمجھ رکھنے، محبت اور بغض رکھنے اور تسبیح کے مزید واقعات کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (74)۔
اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا : اسی لیے وہ تمہاری سب گستاخیاں اور نافرمانیاں دیکھتا ہے، مگر قدرت رکھنے کے باوجود تم سے درگزر فرماتا ہے اور تم پر کوئی عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ نہ تمہارا رزق بند کرتا ہے اور نہ تمہیں اپنی نعمتوں سے محروم کرتا ہے، اگر اس کا حد سے بڑھا ہوا یہ حلم اور پردہ پوشی نہ ہوتی تو تمہارا کام کب کا تمام ہوچکا ہوتا۔ دیکھیے سورة نحل (61) اور سورة فاطر (45)۔
Ayahs 17:45–46وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا۔۔ : ”اَكِنَّةً“ ”کِنَانٌ“ کی جمع ہے، چھپانے والی چیز، پردہ۔”وَقْرًا“ بوجھ، مراد بہرا پن ہے۔ ”نُفُوْرًا“ ”نَافِرٌ“ کی جمع ہے، بدکتے ہوئے۔ مصدر بھی ہوسکتا ہے، نفرت کی وجہ سے، یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان ایک گہرا پردہ حائل ہوگیا، ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے، مگر ایسے جو کسی کو نظر نہیں آتے، نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور ان کے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہوگئے، مگر وہ بدبخت ان پردوں کے حائل ہونے اور قرآن کی تاثیر سے محروم ہونے پر فکر کے بجائے فخر ہی کرتے رہے اور مذاق اڑاتے رہے۔ یہود کا بھی یہی حال تھا۔ دیکھیے سورة بقرہ (88) مشرکین کا حال اللہ تعالیٰ نے سورة حم السجدہ (5) میں بیان فرمایا ہے۔ اگرچہ اس پردے کا باعث ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی تھی مگر چونکہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے فرمایا کہ آپ کے قرآن پڑھتے وقت ہم یہ پردہ بنا دیتے ہیں۔
ایک معنی اس آیت کا یہ بھی ہے کہ آپ جب قرآن پڑھتے ہیں اور بعض کفار آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے آتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک ایسا پردہ حائل کردیتے ہیں جو نظر نہیں آتا، اس پردے کی وجہ سے وہ آپ کو دیکھ نہیں سکتے اور نہ آپ کو کوئی نقصان یا تکلیف ہی پہنچا سکتے ہیں۔ اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب سورة لہب اتری تو عوراء ام جمیل (ابولہب کی بیوی) بڑے جوش سے ہاتھ میں پتھر پکڑے ہوئے آئی اور وہ یہ کہہ رہی تھی : ”مُذَمَّمًا أَبَیْنَا، وَأَمْرَہُ عَصَیْنَا وَ دِیْنَہُ قَلَیْنَا“ (ہم مذمم کو نہیں مانتے اور اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے اور اس کے دین سے دشمنی رکھتے ہیں) رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں بیٹھے ہوئے تھے، ابوبکر ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے، ابوبکر ؓ نے عرض کیا : ”یا رسول اللہ ! یہ عورت آرہی ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ آپ کو دیکھ لے گی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ مجھے ہرگز نہیں دیکھے گی“ اور آپ نے اس سے بچنے کے لیے قرآن کی چند آیات پڑھیں، ان میں سے ایک آیت یہ بھی تھی : (وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا) غرض وہ آئی اور ابوبکر ؓ کے پاس کھڑی ہوگئی، مگر اس نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا۔ مختصر یہ کہ ابوبکر ؓ سے چند باتوں کے بعد وہ چلی گئی۔ [ مسند أبی یعلٰی : 25۔ مستدرک حاکم : 2؍361، ح : 3376 ] حاکم نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی، اس کے کئی شواہد ہیں، ارنؤوط کی ابن حبان (651) پر تعلیق ملاحظہ فرمائیں۔
بہرحال پہلا معنی اور دوسرا دونوں درست ہیں کہ آپ کے قرآن پڑھتے وقت اگر وہ پاس ہوتے ہیں تو قرآن سننے کے باوجود اس پردے کی وجہ سے جس طرح قرآن سننے کا حق ہے نہ اسے سن سکتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں اور نہ اثر قبول کرتے ہیں اور اگر وہ ایذا رسانی کی نیت سے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس پردے کے ذریعے سے ان کی نگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
وَاِذَا ذَكَرْتَ۔۔ : اس آیت کی بہترین تفسیر سورة زمر کی آیت (45) ہے، اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 17:47نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ۔۔ : اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہمیں خوب علم ہے جس نیت سے یہ اکیلے اکیلے کان لگا کر آپ کی باتیں سنتے ہیں کہ آپ پر اعتراض کریں یا مذاق اڑائیں، پھر جب وہ آپس کی مجلس میں ان پر تبصرے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے آپ کو جادو زدہ قرار دیتے ہیں۔ اپنے علم کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا ہے کہ ہم ان کی حرکتوں سے بیخبر نہیں کہ یہ ہماری گرفت سے بچ جائیں گے۔
Ayah 17:48اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا۔۔ : یعنی ایک بات نہیں جو آپ کے بارے میں کہتے ہوں، بلکہ مختلف اوقات میں مختلف باتیں کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ جادوگر ہیں، کبھی کہتے ہیں کسی دوسرے نے آپ پر جادو کردیا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں، کبھی کاہن اور کبھی مجنون (دیوانہ) کہتے ہیں۔ ان کی متضاد باتیں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ انھیں حقیقت کا کچھ پتا نہیں، اس حال میں کیسے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ انھیں ہدایت کا صحیح راستہ مل سکے، یا مطلب یہ ہے کہ ان باتوں سے دوسروں کو ہدایت سے روکنے کے لیے کوئی راستہ نہیں پاتے۔ (قرطبی)
Ayah 17:49وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا۔۔ : ”وَّرُفَاتًا“ ”رَفَتَ یَرْفُتُ“ (ن، ض) سے ”فُتَاتًا“ کی طرح ہے، وہ چیز جو ریزہ ریزہ کرکے مٹی کی طرح کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بعد قیامت پر کفار کے اعتراض کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا۔
Ayahs 17:50–51قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً۔۔ : مطلب یہ کہ مٹی میں تو پھر بھی نباتات کی صورت میں زندگی کے آثار نظر آجاتے ہیں، تم کوئی ایسی چیز بن کر دیکھ لو جو کسی طرح بھی زندگی قبول نہ کرسکتی ہو، مثلاً پتھر، لوہا یا کوئی بھی مخلوق جس کا زندہ ہونا تمہارے دلوں میں ان سے بھی بڑی بات ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے اٹھا لے گا۔
قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ : یعنی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، کیونکہ پہلی بار کسی چیز کا پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ آسان ہوتا ہے، تو پھر اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ (دیکھیے روم : 19) جبکہ اس کے لیے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں یکساں آسان ہیں۔ rnۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ۔۔ : ”أَنْغَضَ یُنْغِضُ“ (افعال) کا معنی تعجب یا مذاق کے طور پر سر ہلانا ہے، یعنی لاجواب ہو کر پوچھیں گے، اچھا تو وہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ ان سے کہہ دیں کہ جب اس کا آنا یقینی ہے تو تمہارا یہ سوال بےکار ہے، جب اس نے آ کر ہی رہنا ہے تو چاہے وہ کتنی دور ہو اسے قریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو۔ اس کی مثال اس نالائق طالب علم کی ہے جسے معلوم ہو کہ امتحان لازماً ہونا ہے، مگر وہ اس کا ہونا اس لیے تسلیم نہ کرے یا اس کے لیے تیاری نہ کرے کہ اس کے منعقد ہونے کی تاریخ معلوم نہیں، یا اس لیے کہ وہ ابھی فوراً کیوں منعقد نہیں ہو رہا۔ ظاہر ہے یہ سراسر حماقت ہے۔
Ayah 17:52يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ : یعنی اس کے بلانے پر تم اس کے مطیع و فرماں بردار بن کر اور اس کی حمد کرتے ہوئے قبروں سے اٹھ آؤ گے۔ دنیا کی طرح کسی قسم کی سرکشی اور انکار کے بجائے اللہ کی حمد کرو گے اور اس کے سامنے مکمل اطاعت کا اظہار کرو گے۔ (دیکھیے نحل : 87) یا یہ مطلب ہے کہ تم اس کے بلانے پر حاضر ہوجاؤ گے۔ ”بِحَمْدِهٖ“ کا معنی ”وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ“ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے بلانے پر تمہارا قبروں سے اٹھ کر حاضر ہوجانا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی خوبی ہے، جس پر صرف وہی مستحق حمد و ثنا ہے۔
يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس کی آیت (45) کی تفسیر۔
Ayah 17:53ۧوَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ۔۔ : ”نَزَغَ یَنْزَغُ“ (ف) کا معنی چوکا مارنا، فساد اور بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے جو عہد لینے کا ذکر فرمایا اس میں یہ حکم تھا : (وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْـنًا) [ البقرۃ : 83 ] ”اور لوگوں کے لیے اچھی بات کہو۔“ یہاں ہماری امت کو احسن یعنی سب سے اچھی بات کہنے کا حکم دیا۔ ”میرے بندوں“ سے مراد امت مسلمہ ہے، کیونکہ وہی اس کی غلامی اور بندگی کرنے والے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس سے احسن بات کہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلم ہو یا کافر، دوست ہو یا دشمن، ہر ایک سے ایسی بات کرنا لازم ہے جس سے بہتر بات آدمی نہ کہہ سکتا ہو۔ اس کے لیے لازماً اسے بولنے سے پہلے سوچنا ہوگا۔ ایک عالم نے کہا کہ میں نے جب بھی اپنی طرف سے اچھی سے اچھی بات کہی، پھر اس پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس سے بھی بہتر بات کہی جاسکتی تھی۔ یہاں احسن بات نہ کہنے کا نقصان بیان فرمایا کہ زبان سے ناہموار بات نکلنے پر شیطان آپس میں جھگڑا اور دشمنی ڈال دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کا ایک دوسرے سے دلی بغض یا قطع تعلق سخت ناپسند ہے۔ بہت سی احادیث میں اس کی وعید موجود ہے۔ اسی طرح کافر سے احسن بات نہ کہنے کا نتیجہ اس کا اسلام سے مزید دوری ہوگا۔ اس لیے اس کی طرف سے برائی کا جواب بھی احسن طریقے سے دینا لازم ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (96 تا 98) جب کافر کی طرف سے برائی کا جواب احسن طریقے سے دینا لازم ہے تو پھر مسلمان کی طرف سے ہونے والی برائی کا دفاع احسن طریقے سے کرنا تو بالاولیٰ لازم ہوگا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ احسن بات اور احسن رویے سے جواب کا فائدہ یہ ہوگا کہ دشمن بھی دلی دوست بن جائے گا۔ مگر یہ نعمت اسی کو ملتی ہے جو صبر کرے اور بڑا صاحب نصیب ہو، جس کی علامت یہ ہے کہ وہ شیطان کی ہر اکساہٹ اور غصہ دلانے پر اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے گا اور غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے گا۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (34 تا 36) شیطان کی انسان سے کھلی عداوت کے ذکر کے لیے دیکھیے سورة فاطر (6) ، اعراف (11 تا 27) اور سورة بقرہ میں قصۂ آدم و ابلیس۔ ہمیشہ سے دشمنی کا مفہوم ”کَانَ“ سے ظاہر ہے اور آدم کو سجدہ نہ کرنے کے وقت سے لے کر قیامت تک اس کی دشمنی کا دوام اس کا شاہد ہے۔
Ayah 17:54رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے متعلق علم اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جتنا خود تمہیں اپنے متعلق ہے، اب اگر وہ چاہے تو تمہاری نامناسب باتوں اور کاموں کے باوجود اپنے فضل سے تم پر رحم فرمائے، چاہے تو تمہارے گناہوں کی پاداش میں اپنے عدل کی بنا پر عذاب دے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے، اپنی ملکیت کے ساتھ جو چاہے کرے، نہ اس میں کوئی ظلم ہے اور نہ کسی کو اس سے پوچھنے کی جرأت ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (23)۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا : ”وَكِيْلًا“ بمعنی ”اَلْمَوْکُوْلُ إِلَیْہِ“ ہے، یعنی جس کے سپرد کیا جائے، ذمہ دار بنایا جائے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آپ سے کوئی باز پرس نہیں، نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں، آپ کا کام پیغام پہنچانا ہے۔
Ayah 17:55وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : لوگوں کے احوال کا ان سے بڑھ کر علم رکھنے کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ زمین و آسمان میں موجود ہر شخص (انسان ہو یا جن یا فرشتہ) سے زیادہ اس کا علم رکھنے والا ہے۔ اس لیے وہ بہتر جانتا ہے کہ کس کو نبوت و رسالت کا شرف عطا کرنا ہے، فرمایا : (3 اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ [ الحج : 75 ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ : اس لیے اس کے کمال علم کا تقاضا ہے کہ وہ انبیاء و رسل میں سے جسے چاہتا ہے بعض پر فضیلت بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سب پر فضیلت عطا فرما کر آخری نبی بنا دیتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (253) اس کے نزدیک انتخاب کا معیار دنیا کی دولت یا حکومت نہیں۔ داؤد ؑ بکریاں چرانے والے تھے، اللہ تعالیٰ نے نبی اور بادشاہ بنادیا، پھر مزید فضیلت بخشی تو بطور فضیلت بادشاہی کے بجائے زبور عطا فرمانے کا ذکر کیا، کیونکہ اللہ کے ہاں فضیلت کا معیار دنیا کی کوئی چیز نہیں، بلکہ آخرت کا علم اور اس کے مطابق عمل ہے۔ دراصل یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے جو وہ عموماً رسول اللہ ﷺ پر کیا کرتے تھے کہ انھی کو رسالت کے لیے کیوں چنا گیا ؟ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زخرف (31 تا 35)۔
وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا : زبور کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا کہ آپ ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے اور اس امت کے سب سے افضل ہونے پر زبور کے مضامین شہادت دے رہے ہیں۔ (دیکھیے انبیاء : 105) ہوسکتا ہے کہ کفار سے جہاد میں مشابہت کی وجہ سے داؤد ؑ کا تذکرہ کردیا ہو۔
3 حافظ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : (وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا) اور سورة بقرہ (253) میں یہ فرمان : (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ) صحیح بخاری (3415) اور مسلم (2373) کی ان صحیح روایات کے منافی نہیں جن میں آپ ﷺ نے فرمایا : ”انبیاء کو آپس میں ایک دوسرے پر برتری (فضیلت) مت دو۔“ کیونکہ اس سے مراد محض اپنی خواہش یا تعصب کی بنا پر فضیلت دینا ہے، دلیل کی بنا پر فضیلت دینا نہیں، کیونکہ جب دلیل سے کوئی بات ثابت ہوجائے تو اسے ماننا ضروری ہوتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ رسول انبیاء سے افضل ہیں۔
Ayah 17:56قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ۔۔ : آلوسی نے فرمایا، زعم ظن (یعنی گمان) کے قریب ہے، کبھی جس بات میں شک ہو اس پر بھی ”زعم“ بولا جاتا ہے۔ بعض اوقات کذب (غلط بیانی) کے معنی میں بھی ہوتا ہے اور کبھی ثابت شدہ سچی بات پر بھی بول لیا جاتا ہے جس میں کوئی شک نہ ہو، جیسا کہ کئی احادیث میں ہے، ایسے تمام مقامات میں زعم کا معنی ”قَالَ“ ہوگا۔ زعم ان افعال میں سے ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتے ہیں۔ یہاں دونوں مفعول محذوف ہیں، یعنی ”زَعَمْتُمُوْھُمْ آلِھَۃً“ کہ ان لوگوں کو بلاؤ جنھیں تم نے معبود گمان کر رکھا ہے، یعنی فرشتے، جن، بزرگ، بت، غرض تمام وہ لوگ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور مشکلات میں انھیں پکارتے ہو اور انھیں اپنے معبود گمان کرتے اور حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو، انھیں پکارو۔
فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا : پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ تم سے ہٹا کر کسی اور کی طرف منتقل کردینے کے مالک ہیں، پھر کیوں انھیں سجدہ کرتے اور مدد کے لیے پکارتے ہو ؟ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے، دیکھیے سورة انعام (17، 40، 41) ، یونس (107) اور سورة نمل (62)۔
Ayah 17:57اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ۔۔ : ”الْوَسِـيْلَةَ“ ”قُرْبٌ“ (قریب ہونا) وسیلہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (35) یعنی وہ تمام لوگ جنھیں یہ مشرک پکارتے ہیں، مثلاً فرشتے، انبیاء اور صلحاء وغیرہ وہ خود اپنے رب کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں، یعنی ان میں سے وہ جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ قرب رکھنے والے ہیں (وہ اس کا قرب مزید چاہتے ہیں) اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، تو جب وہ سب لوگ جنھیں مشرکین مدد کے لیے پکارتے ہیں، وہ خود اللہ کے زیادہ سے زیادہ قرب کے متلاشی ہیں اور اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، تو پھر انھیں پکارنے کا اور ان سے مدد مانگنے کا کیا فائدہ۔ وہ جس کا قرب چاہتے اور جس کی رحمت کے امیدوار اور جس کے عذاب سے ڈرتے ہیں تم بھی اسی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرو، اسی کی رحمت کی امید رکھو اور اسی کے عذاب سے ڈرو۔ افسوس کہ آج کل کے مسلمان بھی اولیاء و صلحائے امت، پیروں، بزرگوں اور شہیدوں کے متعلق وہی عقیدہ رکھتے اور اسی طرح ان کو مدد کے لیے پکارتے ہیں جو عقیدہ مشرکین اپنے بتوں کے متعلق رکھتے تھے اور جس طرح وہ اپنے بتوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے، یا یہ سمجھ کر انھیں پکارتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مشکل حل کروا سکتے ہیں۔ دیکھیے سورة یونس (18) اور سورة زمر (3) اور نام اس کا وسیلہ رکھتے ہیں، جب کہ حقیقی وسیلہ سے ان اعمال کا کوئی تعلق نہیں، یہ اعمال تو صریح شرک ہیں۔ قرآن و سنت میں مذکور وسیلہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنا ہے۔
Ayah 17:58وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا۔۔ : ابن کثیر ؓ اور کئی مفسرین نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں شروع سے لکھ دیا ہے کہ ہر بستی جو ظلم پر اتر آئے، قیامت سے پہلے یا تو ہم اسے ہلاک کردینے والے ہیں کہ اس کے تمام رہنے والوں کو تباہ و برباد کردیں، یا انھیں سخت عذاب دینے والے ہیں، باہمی قتل و غارت کے ساتھ، یا دشمن کے حملے سے، یا جس مصیبت سے ہم چاہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام کا ذکر فرمایا، سورة طلاق میں ہے : (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِيْدًا ۙ وَّعَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا) [ الطلاق : 8، 9 ] ”اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں ایسی سزا دی جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔ تو انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام خسارہ تھا۔“ سورة ہود میں ہے : (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) [ ھود : 102 ] ”اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو اس حال میں پکڑتا ہے کہ وہ ظالم ہوتی ہیں، بلاشبہ اس کی پکڑ بڑی دردناک، نہایت سخت ہے۔“
دوسرے مفسرین نے اس کی تفسیر اور طرح سے کی ہے، ان میں صاحب روح المعانی بھی ہیں، وہ فرماتے ہیں ”وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ“ (جو بھی بستی ہے) سے مراد ظاہر ہے کہ عام ہے، کیونکہ ”اِنْ“ نافیہ ہے اور ”مِنْ“ تمام بستیوں کو شامل کرنے کے لیے ہے، خواہ مومنوں کی ہوں یا کفار کی اور مطلب یہ ہے کہ بستیوں میں سے جو بھی بستی ہے ہم قیامت سے پہلے اسے یا تو اس کے رہنے والوں کی طبعی موت کے ساتھ ویران کردینے والے ہیں، یا اسے قتل اور مختلف مصائب کے ساتھ سخت عذاب دینے والے ہیں، نیکوں کے لیے ہلاکت اور بروں کے لیے عذاب۔
پہلی تفسیر زیادہ درست معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد کفار اور ظالموں کی بستیاں ہیں، کیونکہ بہت سی آیات اس کی تائید کرتی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا كُنَّا مُهْلِــكِي الْقُرٰٓى اِلَّا وَاَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ) [ القصص : 59 ] ”اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر اس صورت میں کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں۔“ اور فرمایا : (ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ) [ الأنعام : 131 ] ”یہ اس لیے کہ بیشک تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں، جبکہ اس کے رہنے والے بیخبر ہوں۔“ اور فرمایا : (وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ) [ ھود : 117 ] ”اور تیرا رب ایسا نہ تھا کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کر دے، اس حال میں کہ اس کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں۔“ آیت سے مقصود کفار اور ظالموں کو ان کے انجام بد سے ڈرانا ہے کہ خواہ تم کتنے ہی امن سے رہتے ہو مگر ایک نہ ایک دن تم پر ہماری گرفت ضرور آنے والی ہے۔ آیت میں ان نشانیوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو قیامت سے پہلے رونما ہونے والی ہیں۔
Ayah 17:59وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر، جو آخری امت ہے، اپنے خاص فضل اور رحمت کا ذکر فرمایا ہے۔ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے بہت سی چیزیں نشانی کے طور پر دکھانے کا مطالبہ کیا (دیکھیے بنی اسرائیل : 90 تا 93) مگر اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سنت رہی ہے کہ نشانی دکھانے کے بعد اگر کوئی قوم ایمان نہ لائے تو اسے عذاب کے ساتھ نیست و نابود کردیا جاتا ہے، جیسا کہ قوم ثمود کے مطالبے پر بطور نشانی اونٹنی دی گئی، انھوں نے اس پر ظلم کیا تو ”صَیْحَۃٌ“ (چیخ) اور ”رَجْفَۃٌ“ (زلزلے) سے تمام کفار ہلاک کردیے گئے۔ ہمارے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی نشانی نہیں دی، تاکہ اس امت کے لیے ایمان لانے کی مہلت باقی رہے۔ اگر موجودہ کفار ایمان نہ لائیں تو ان کی اولاد میں سے لوگ ایمان لاسکیں۔ ہماری امت کو عطا ہونے والی نشانی میں دو وصف ہیں، جو پہلے کسی نبی کی نشانی میں نہیں تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (50، 51)۔
وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا : یعنی عذاب سے ڈرانے کے لیے، کیونکہ اگر وہ نہیں ڈریں گے تو ان پر عذاب نازل ہوجائے گا۔
Ayah 17:60وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ : لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بےخوف و خطر اپنی دعوت پیش کرتے رہیے، ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے، یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ سب پوری طرح ہماری گرفت میں ہیں۔ rnۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ : ”اَلرُّویَا“ ”رَأَی یَرَی“ (ف) کا مصدر ہے، آیت میں مذکور ”لاتی ارینک“ سے مراد زمین اور آسمانوں کی وہ عجیب و غریب چیزیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے اسراء و معراج کی رات اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے اسراء و معراج کی رات جو کچھ دیکھا ہم نے اسے لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمائش ہی بنایا، تاکہ آزمائش ہوجائے کہ کون قوی ایمان والا اور سلیم القلب ہے اور کون ضعیف ایمان والا اور مریض القلب۔ سو مضبوط ایمان والوں کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوا، چناچہ وہ امتحان میں کامیاب ہوگئے اور کمزور ایمان والے اور ایمان سے محروم لوگ کہنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس اور ساتوں آسمانوں کے عجائبات دیکھ کر واپس بھی آجائیں ؟ یہ ناممکن ہے۔ سو وہ امتحان میں ناکام ہوگئے۔
”اَلرُّویَا“ کا لفظ اکثر خواب میں دیکھنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ یہاں بیداری میں آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے اور اس کی دلیل خود یہ آیت ہے۔ کیونکہ اگر آپ ﷺ کہتے کہ میں نے یہ سب کچھ خواب میں دیکھا ہے تو نہ کسی کو تعجب ہوتا اور نہ کوئی فتنہ و امتحان ہوتا، کیونکہ خواب میں ہر شخص کو ناممکن و محال چیزیں دکھائی دے سکتی ہیں۔ امتحان یہی تھا کہ صرف مضبوط اہل ایمان تسلیم کرسکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ سب کچھ رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں دکھانے پر قادر ہے۔ ابن عباس ؓ نے تصریح فرمائی : (ھِيَ رُؤْیَا عَیْنٍ أُرِیَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ أُسْرِيَ بِہِ إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدِسِ) [ بخاری، المناقب، باب المعراج۔۔ : 3888 ] ”یہ آنکھوں سے دیکھا ہوا منظر تھا جو رسول اللہ ﷺ کو اس رات دکھایا گیا جب آپ کو راتوں رات بیت المقدس لے جایا گیا۔“
وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ : ابن عباس ؓ کی روایت جو اس سے پہلے فائدے میں بیان ہوئی اس میں انھوں نے اس کی تفسیر زقوم کے درخت سے کی ہے۔ قرآن مجید میں ”شَجَرَتَ الزَّقُّوْم“ کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے، سورة صافات (62 تا 66) اور سورة دخان (43 تا 46) میں۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر لوگوں کے لیے آزمائش کے طور پر کیا گیا، کیونکہ ایمان سے محروم لوگ مان ہی نہیں سکتے کہ بھڑکتی ہوئی آگ کی تہ میں کوئی درخت اگ سکتا ہے، اس کے برعکس اہل ایمان کو اسے ماننے میں کوئی تردد نہیں ہوتا، کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ، جبریل امین اور رب العالمین کبھی غلط بیانی نہیں کرتے اور آگ میں درخت پیدا کرنا، یا ابراہیم ؑ کے لیے آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی بنادینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ یہاں زقوم کو شجرۂ ملعونہ کہا گیا ہے، اس کا معنی شجرۂ مذمومہ ہے، یعنی قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔
وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ۔۔ : یعنی ہم کفار کو مختلف طریقوں سے ڈراتے ہیں، مگر اس سے انھیں بہت بڑی سرکشی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
Ayah 17:61ۧوَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ۔۔ : مہائمی ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ ہے کہ گزشتہ آیت میں مذکور کفار کی سرکشی کی اصل وجہ شیطان کی پیروی ہے، کیونکہ وہ بھی تکبر اور سرکشی ہی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا تھا، اس لیے آگے اس کے آدم ؑ کو بہکانے کا ذکر فرمایا۔
فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ۔۔ : اس سجدے کی حقیقت اور ابلیس کے بہتر ہونے کے دعوے کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ (34) ، سورة اعراف (11) اور اس کے بعد کی آیات۔ ”طِیْنَاً“ اصل میں ”مِنْ طِیْنٍ“ تھا، ”مِنْ“ حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگیا۔
Ayah 17:62ۚقَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ۔۔ : ”اَرَءَيْتَكَ“ اصل ”أَرَأَیْتَ“ ہی ہے، کاف حرف خطاب ہے، جو مخاطب کے مطابق بدلتا رہتا ہے، مثلاً مخاطب واحد مذکر ہو تو ”أَرَأَیْتَکَ“ ، تثنیہ مذکر ہو تو ”أَرَأَیْتَکُمَا“ اور جمع مذکر ہو تو ”أَرَأَیْتَکُمْ“ ، معنی سب کا یہی ہے کہ ”کیا تو نے دیکھا“ مگر مراد ہوتی ہے ”أَخْبِرْنِیْ“ یعنی ”مجھے بتا۔“ ”لَاَحْتَنِكَنَّ“ یہ اصل میں ”حَنَکٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی جبڑا ہے۔ عرب کہتے ہیں ”حَنَکْتُ الْفَرَسَ أَحْنُکُہُ“ (باب ضرب و نصر) ”وَاحْتَنَکْتُہُ“ میں نے گھوڑے کے (نچلے) جبڑے میں رسی باندھی اور اسے اپنے پیچھے چلایا۔ مراد یہ ہے کہ میں اس کی اولاد کو لگام کی طرح جبڑے میں رسی باندھ کر اپنے پیچھے چلاؤں گا۔ مگر یہ لفظ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، جیسے : ”لَأَسْتَوْلِیَنَّ“ ”میں ضرور ان پر غالب ہوں گا“ اور ”لَأَسْتَأْصِلَنَّ“ جو ”اِسْتَأْصَلَتِ السَّنَۃُ أَمْوَالَھُمْ“ سے اخذ کیا گیا ہے، یعنی قحط نے ان کے اموال کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا، ہلاک کردیا۔
3 یعنی نہایت جرأت و تکبر سے اللہ تعالیٰ سے کہنے لگا کہ مجھے بتا کہ یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یعنی جب بہتر میں ہوں تو تو نے اسے مجھ پر عزت کیوں بخشی ؟ ! اس میں آدم ؑ پر حسد کا اظہار بھی ہے، اللہ کے فرمان کے مقابلے میں اپنے عقلی ڈھکوسلے قیاس سے تعمیل حکم کا انکار بھی اور تکبر و سرکشی کا اظہار بھی اور ان میں سے کوئی بات بھی اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں۔
لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ۔۔ : اس کی تفصیل سورة اعراف کی آیات (14 تا 17) میں دیکھیں۔ ”اِلَّا قَلِيْلًا“ سے مراد اللہ کے مخلص بندے ہیں۔
Ayah 17:63قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ۔۔ : شیطان کی درخواست قبول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نافرمان کی دعا بھی قبول کرلیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت نہیں، بلکہ بعض اوقات وہ ناراضگی کی وجہ سے دعا قبول کرلیتا ہے، مثلاً حرام کمائی اور عشق و بدکاری میں کامیابی کی دعا قبول ہونا رضائے الٰہی کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے عذاب کا پیش خیمہ ہے۔
Ayah 17:64وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ۔۔ : ”اسْتَفْزِزْ“ ”فَزٌّ“ سے مشتق ہے جس کا معنی ہلکا و خفیف ہے۔ ”رَجُلٌ فَزٌّ أَیْ خَفِیْفٌ“ ہلکا آدمی، یعنی تو جسے اپنی آواز سے ہلکا اور بےوقعت بنا سکے بنا لے۔ شاہ رفیع الدین ؒ نے ترجمہ کیا ہے ”اور بہکا جس کو بہکا سکے“ کیونکہ آدمی ہلکا اور بےقدر و قیمت ہو کر ہی بہکتا ہے۔
بِصَوْتِكَ : شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ آواز ہے جو اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے، اس میں گانا بجانا، بدکاری اور ہر برے کام کی دعوت اور ترغیب شامل ہے۔
وَاَجْلِبْ عَلَيْهِم۔۔ : جلب کھینچ کر لانے کو کہتے ہیں اور اس شور کو بھی جس سے گھوڑے کو تیز دوڑانا مقصود ہو۔ ”خَیْلٌ“ گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں اور گھڑ سواروں کی جماعت کو بھی۔ ”رَجِلٌ“ ”رَاجِلٌ“ کی جمع ہے، پیادے۔
وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ : اموال میں شیطان کی شراکت یہ ہے کہ حرام طریقے سے کمایا جائے، یا حرام کاموں میں خرچ کیا جائے، مثلاً سود، رشوت، چوری ڈاکے اور دھوکے وغیرہ سے مال کمایا جائے اور اسے غیر اللہ کے نام پر یا بدکاری و بےحیائی اور نافرمانی کے کاموں میں خرچ کیا جائے۔ اولاد میں شراکت یہ ہے کہ شیطان انھیں دین حنیف کی تعلیمات کے خلاف پرورش دلانے میں کامیاب ہوجائے، ان کے لیے زنا اور اللہ کی نافرمانی کے مواقع میسر کر دے، انھیں اپنے سلف صالحین سے متنفر کر دے، میاں بیوی کی صحبت کے وقت دونوں کو شیطان سے بچانے کی دعا مانگنا فراموش کروا دے، تاکہ پیدا ہونے والی اولاد میں اس کا حصہ ہوجائے، یا ان کے نام ایسے رکھوا دے جن سے ظاہر ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور نے عطا کیے ہیں۔ مشرکین عرب اپنی اولاد کے نام عبد العزیٰ ، عبد شمس اور عبد وَدّ وغیرہ رکھتے تھے۔ ہمارے زمانے میں رسول بخش، حسین بخش، پیر بخش، غلام جیلانی اور پیراں دتہ وغیرہ مشرکانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ مزید وہ آیات جن میں مذکور اشیاء میں شیطان کی مشارکت کا ذکر ہے وہ یہ ہیں سورة انعام (136، 138) اور سورة یونس (54)۔
وَعِدْهُمْ : یعنی انھیں جھوٹے وعدے دلا، مثلاً یہ کہ اگر شرک کرو گے تو یہ فائدہ ہوگا، سودی کاروبار سے یہ نفع ہوگا اور یہ کہ دنیا میں تمہیں مال و دولت ملی ہے، آخرت میں بھی ملے گی اور یہ کہ ابھی بہت وقت ہے عیش کرلو، پھر توبہ کرلینا وغیرہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کو پانچ حکم دیے ہیں : ”اذْهَبْ“ ”اسْتَفْزِزْ“ ”اَجْلِبْ“ ”شَارِكْهُمْ“ اور ”عِدْهُمْ“ یہ تمام احکام تہدید، یعنی ڈانٹنے کے لیے ہیں، جیسے فرمایا : (اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ) [ حٰآ السجدۃ : 40 ] ”جو چاہو کرو۔“ یہ احکام تعمیل کے لیے نہیں ہیں، کیونکہ یہ سب گناہ ہیں اور اللہ تعالیٰ گناہ کا حکم نہیں دیتا۔
وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا : یعنی شیطان کے سب وعدے محض دھوکا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مفہوم کئی اور مقامات پر بھی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة نساء (120) ، حدید (14) اور ابراہیم (22) اس سے پہلے شیطان کو مخاطب کر کے بات ہو رہی تھی، یہاں شیطان کو غائب کے صیغے سے ذکر کیا، یہ التفات شیطان کی تحقیر کے لیے ہے۔