Ayah 17:98ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ۔۔ : اس آیت میں ان کی سزا کا سبب بیان فرمایا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (49)۔
Ayah 17:99”اَوَلَمْ يَرَوْا“ کا معنی ”أَوَلَمْ یَعْلَمُوْا“ ہے، یعنی ”کیا انھیں معلوم نہیں ؟“ دیکھیے سورة فیل اور ابراہیم (24) مطلب یہ کہ انھیں معلوم ہے۔ ”لَمْ“ کے اوپر ہمزہ استفہام برائے توبیخ آیا تو اثبات کا مفہوم پیدا ہوگیا، کیونکہ نفی کی نفی اثبات ہوتا ہے۔
اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : یہ ان کے قیامت کے انکار کا عقلی جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، وہ ان جیسوں کو بھی پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، کیونکہ زمین و آسمان کی پیدائش ان کی پیدائش سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ دیکھیے سورة یس (81) ، احقاف (33) ، مومن (57) اور نازعات (27)۔
اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ : ”ان جیسوں“ سے مراد یہ ہے کہ وہ ان کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے۔ ”مِثْلَهُمْ“ کا لفظ تحقیر کے لیے ہے، جیسے کہا جاتا ہے، تیرے جیسے ذلیل ہی ہوتے ہیں، تیرے جیسوں کی کیا مجال ہے ؟ مطلب یہ کہ تمہاری کیا مجال ہے ؟ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کیے وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کی جگہ ان جیسے اور لوگ پیدا کر دے جو اسے ایک مانیں، اس قسم کے فاسد شبہات سے پاک ہوں اور قیامت برپا کرنے میں اس کی کمال حکمت کے قائل ہوں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ) [ محمد : 38 ] ”اور اگر تم پھر جاؤ تو وہ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔“ دونوں معنی ہی درست ہیں۔
وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا۔۔ : ”جَعَلَ“ کا عطف ”قَادِرٌ“ پر ہے جو ”قَدَرَ“ کی طرح ہے، یعنی وہ ان جیسے لوگ پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس نے ان سب کے مرنے اور دوبارہ اٹھائے جانے کا وقت مقرر کر رکھا ہے، جس کی آمد میں کوئی شبہ نہیں، لہٰذا محض تاخیر کو دیکھ کر دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار سراسر حماقت ہے۔ دیکھیے سورة ہود (103، 104)۔
Ayah 17:100قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ۔۔ : یعنی اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے، جن کے ختم ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں، تب بھی تم کسی کو پھوٹی کوڑی نہ دیتے۔ اس شدید بخل کا نتیجہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا بھی کسی کو نعمت عطا کرنا برداشت نہیں، نہ تمہیں یہ برداشت ہے کہ اللہ نے محمد ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا، اس لیے کہ تم محمد ﷺ کی نبوت و رسالت پر حسد و بخل کرتے ہو۔ یہ دونوں صفات بیحد قبیح ہیں۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة نساء (53 تا 55) روح المعانی میں ہے کہ ماقبل سے ربط میں مختلف اقوال ہیں مگر ان میں تکلف ہے۔
وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا :”قَتَرَ یَقْتُرُ قَتْرًا وَ قُتُوْرًا“ (ن، ض) خرچ میں تنگی کرنا، شدید بخل، حتیٰ کہ اپنی ذات پر خرچ کرنے میں بھی بخل کرے۔ اس میں انسان کی طبعی اور جبلی خصلت بیان فرمائی ہے، جو ہمیشہ سے اس میں پائی جاتی ہے اور جس سے چھٹکارا انھی اعمال کی بدولت ہوسکتا ہے جو ”مرد ہلوع“ (تھڑدلا مرد) کے علاج کے لیے سورة معارج کی آیات (19 تا 35) میں بیان ہوئے ہیں۔
Ayah 17:101وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ۔۔ : یعنی ہم موسیٰ ؑ کو ایسے نو (9) معجزے دے چکے ہیں جو ان کی نبوت پر کھلی نشانی تھے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے اور قریش کو اس مطالبے کا جواب دیا ہے جو انھوں نے نبی ﷺ سے کیا تھا کہ ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ یہ کام کرکے نہ دکھا دیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ سے تو چھ معجزوں کا مطالبہ کیا گیا ہے، ہم نے موسیٰ ؑ کو نو معجزے دیے، مگر نہ ماننے والوں نے پھر بھی نہ مانا۔ ان نو (9) معجزوں کا ذکر سورة اعراف کی آیات (107، 108، 130، 133) میں ہے۔ بعض نے ان سے شریعت کے نو (9) احکام مراد لیے ہیں، جو تمام شریعتوں میں ثابت تھے، مگر صحیح یہی ہے کہ یہاں نو (9) معجزات ہی مراد ہیں وہ نو احکام دراصل تورات میں مذکور نو وصیتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو دی گئیں، ان کا فرعون کے سامنے پیش کیے گئے معجزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی دلیل سورة نمل کی آیات (10 تا 12) ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے عصائے موسیٰ اور ید بیضا کا ذکر کرکے فرمایا : (فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖ) [ النمل : 12 ] یعنی یہ دونوں معجزے ان نو (9) معجزوں میں شامل تھے جو موسیٰ ؑ کو دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ موسیٰ ؑ کو اور معجزات بھی دیے گئے، مثلاً پتھر سے بارہ چشمے جاری ہونا، گائے کا حصہ مارنے سے مردہ زندہ ہونا، من وسلویٰ ، بادلوں کا سایہ، پہاڑ کا اکھڑ کر ان پر آکھڑا ہونا وغیرہ، مگر یہ بنی اسرائیل کے لیے تھے۔
اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا : یہ بالکل اسی قسم کا الزام ہے جو کفار مکہ آپ ﷺ کو دیتے تھے، جیسا کہ قرآن میں ہے : (اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا) [ بني إسرائیل : 47 ]”تم پیروی نہیں کرتے مگر ایسے آدمی کی جس پر جادو کیا گیا ہے۔“ ہر زمانے میں باطل پرست ناقابل تردید دلائل سن کر حق پرستوں کے بارے میں ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں۔
Ayah 17:102قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : یعنی مجھ پر تو کسی نے جادو نہیں کیا، مگر تو جو ان معجزات کو دیکھ لینے اور ان کے اللہ کی طرف سے ہونے کے یقین کے باوجود اپنی ضد پر قائم ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیری تباہی کے دن قریب آگئے ہیں۔ ”ثُبُوْرٌ“ کا معنی ہلاکت ہے۔ دیکھیے فرقان (14) اس مفہوم کی آیت سورة نمل کی آیت (13) ہے۔
Ayah 17:103فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۔۔ : ”الْاَرْضِ“ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی زمین مصر۔ یعنی فرعون کا ارادہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو بےدریغ قتل کرکے اتنا خوف زدہ کردے کہ وہ ایک ایک کرکے ملک سے نکل جائیں۔ وہ انھیں اطمینان سے اکھٹے ہجرت کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھا، مگر اس کے منصوبے دھرے رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے سارے بنی اسرائیل کو اکٹھے خیریت سے نکال لیا اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ ان کے غرق ہونے کا واقعہ سورة یونس (88 تا 92) میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اس آیت میں فتح مکہ کی طرف بھی اشارہ ہے، اگرچہ سورت مکی ہے۔ یہاں فرعون کا ارادہ ہے : (فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ) اور وہاں مکہ والوں کا : (وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا) [ بني إسرائیل : 76 ] ”اور بیشک وہ قریب تھے کہ تجھے ضرور ہی اس سرزمین سے پھسلا دیں، تاکہ تجھے اس سے نکال دیں۔“ فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا اور بنی اسرائیل وارث بنے، ادھر مشرکین مکہ مغلوب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ وارث بنے۔
Ayah 17:104وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ : ”الْاَرْضَ“ سے مراد ارض شام بیان کی جاتی ہے، مگر سورة شعراء کی آیت (59) سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار بنی اسرائیل کی حکومت فلسطین و شام کے بعد مصر پر بھی قائم ہوگئی تھی، فرمایا : (كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ الشعراء : 59 ] ”ایسا ہی ہوا اور ہم نے اس (مصر) کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔“ اگرچہ یہ سب فتوحات موسیٰ ؑ کی زندگی میں نہ ہو سکیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (20 تا 26)۔
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا :”لَفِيْفًا“ ”لَفُّ الشَّیْءِ بالشَّیْءِ أَیْ ضَمُّہُ اِلَیْہِ وَ وَصْلُہُ بِہِ۔“ ”جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا“ ”أَيْ مُجْتَمِعِیْنَ ، مُخْتَلِطِیْنَ مِنْ کُلِّ قَبِیْلَۃٍ“ (قاموس) یعنی ہم اچھے و برے، مومن و کافر سب کو حشر کے میدان میں جمع کریں گے، تاکہ ان کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کردیا جائے۔
Ayah 17:105ۭوَبِالْحَـقِّ اَنْزَلْنٰهُ : یعنی اس میں جو بات بھی ہے سراسر حق ہے۔ ”وَبِالْحَقِّ نَزَلَ“ اور جیسے ہم نے اتارا ویسے ہی وہ اترا ہے، درمیان میں کسی کا دخل نہیں ہوا کہ وہ کوئی کمی بیشی یا تبدیلی کرسکے۔ وحئ الٰہی کی حفاظت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة جن کی آیات (26 تا 28) اور اس مفہوم کے قریب سورة انعام کی آیت (115) موسیٰ ؑ کے معجزات کا ذکر کرکے جو قرآن کا ذکر فرمایا تو اس سے مقصود کفار قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ آپ ﷺ سے الٹی سیدھی فرمائشیں کرنے کے بجائے اسی قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے جو آپ ﷺ کی نبوت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ rnۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا : یعنی ہم نے آپ کو یہ قدرت دے کر نہیں بھیجا کہ لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کردیں، بلکہ آپ کا کام صرف دعوت دینا، قبول کرنے والے کو خوش خبری دینا اور انکار کرنے والے کو جہنم سے ڈرانا ہے۔ دیکھیے سورة غاشیہ (21، 22)۔
Ayah 17:106ۘوَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ ۘ۔۔ : ”قُرْاٰنًا“ پر تنوین تعظیم کی ہے اور یہ فعل محذوف ”ٰاتَیْنَا“ کا مفعول ہے۔ یعنی ہم نے آپ کو یہ عظیم قرآن دیا، ہم نے اسے جدا جدا کرکے نازل کیا، یعنی اس کی سورتیں اور آیتیں جدا جدا رکھیں اور تقریباً تیئیس برس میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا۔ اس میں کئی حکمتیں ہیں، مثلاً یہ کہ اس کے پڑھنے، یاد کرنے، سمجھنے اور عمل کرنے میں آسانی ہو، موقع محل کے اعتبار سے اس کے مطالب ذہن نشین ہوجائیں، تاکہ آئندہ کسی آیت کے بےموقع استعمال کی گنجائش نہ رہے۔ جب بھی کفار کے طرز عمل سے کوئی پریشانی یا گھبراہٹ ہو تو اس کی آیات کے ساتھ آپ کے دل کو قائم رکھا جائے اور مسلمانوں کو کوئی مسئلہ پیش آئے یا کفار کی طرف سے کوئی اعتراض ہو تو اس کا جواب موقع پر دیا جاسکے۔ مزید دیکھیے سورة فرقان کی آیت (32، 33)۔
Ayahs 17:107–109قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا : یعنی تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس کی عظمت نہ بڑھتی ہے اور نہ گھٹتی ہے۔ یہ تہدید و انکار کے طور پر ان لوگوں سے خطاب ہے جو قرآن کے واضح دلائل کی موجودگی میں معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ rnۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ : یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، تم سے اچھے اور نیک اہل علم جو پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات سے واقف ہیں اور وحی و نبوت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، جیسے ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن سلام، سلمان فارسی اور نجاشی، وہ آپ کو رسول مانتے اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی بشارت تورات و انجیل میں دی گئی ہے۔
يُتْلٰى عَلَيْهِمْ۔۔ : ”أَذْقَانٌ“ ”ذَقَنٌ“ کی جمع ہے، ٹھوڑیاں۔ ”اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا“ اصل میں ”إِنَّہُ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا“ تھا، یعنی حنفاء اور اہل کتاب علماء کے سامنے جب قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں کہ اس اللہ کا احسان ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پا لیا اور قرآن پر ایمان لے آئے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں کہ ہمارا رب وعدہ خلافی اور ہر عیب سے پاک ہے، یقیناً ہمارے رب کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے، اس لیے اس نے اپنے وعدے کے مطابق آپ ﷺ کو مبعوث فرما دیا۔
3 امام شافعی ؓ نے اس آیت سے استدلال کیا کہ ”سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا“ کو سجدۂ تلاوت میں پڑھنا مستحب ہے۔ (اکلیل)
يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔۔ : قرآن کریم میں مذکور نصیحت سن کر شدت تاثر سے ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور قرآن سننا ان کے خشوع اور عجز و انکسار میں اور اضافہ کردیتا ہے، ایسے اہل کتاب کی یہ کیفیت قرآن میں کئی جگہ بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے مائدہ (83، 84) اور قصص (52 تا 54)۔
ٹھوڑیوں کے بل گرنے کے تکرار سے مقصود دو مختلف حالتوں کو ظاہر کرنا ہے، یعنی سجدہ ریز ہو کر اللہ کی تسبیح کرنا اور سجدے میں گر کر رونا۔ یا یہ سجدے کے تکرار کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بار بار سجدہ کرتے ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”نماز میں سجدہ دو بار ہوتا ہے، اس واسطے دو بار فرمایا کہ پہلی بار قرآن کی اعجازی تاثیر کے نتیجے میں اور دوسری بار خشوع و خضوع کے لیے۔“ (موضح) واضح رہے کہ احادیث میں اللہ کے ذکر کے وقت (جس میں قرآن بھی شامل ہے) رونے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ چناچہ حدیث میں عرش کا سایہ حاصل کرنے والے سات خوش بختوں میں ایک وہ بندہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ) [ مسلم : 1031۔ بخاری، الزکاۃ، باب فضل إخفاء الصدقۃ : 6479 ]”جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“
Ayah 17:110قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ۔۔ : کفار مکہ ”رحمان“ نام سے نفرت کرتے تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس نام سے ان کی نفرت کا تذکرہ کئی آیات میں کیا ہے، چناچہ فرمایا : (وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا للرَّحْمٰنِ ۚ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ۤ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا) [ الفرقان : 60 ] ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں اور رحمٰن کیا چیز ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات بدکنے میں انھیں اور بڑھا دیتی ہے۔“ ان کی اس نفرت کا ذکر سورة انبیاء (36) میں بھی ہے۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے کاتب سے فرمایا : ”لکھو ”بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ“ تو (کفار کے نمائندے) سہیل بن عمرو نے کہا : ”رحمان ! اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا رحمٰن کیا ہے ؟ بلکہ لکھو ”بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ“ جیسا کہ (پہلے) لکھا کرتے تھے۔“ [ بخاری، الشروط، باب الشروط فی الجہاد۔۔ : 2731، 2732 ] اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو، اللہ تعالیٰ کو اس کے جس نام سے بھی پکارا جائے وہ سب ہی بہترین ہیں، جب سب ہی بہترین ہیں تو یہ دونوں کیوں بہترین نہ ہوں گے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (180) کی تفسیر۔ rnۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ۔۔ :”صَلَاۃٌ“ سے مراد نماز میں قرآن مجید کی قراءت ہے، چناچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ جب اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے تو قرآن پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند کرتے، جب مشرکین اسے سنتے تو قرآن کو اور اس کے اتارنے والے کو گالی دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا : (وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ) أَيْ بِقِرَاءَ تِکَ فَیَسْمَعَ الْمُشْرِکُوْنَ فَیَسُبُّوا الْقُرْآنَ (وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) عَنْ أَصْحَابِکَ فَلَا تُسْمِعُھُمْ (وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) [ بخاري، التفسیر، سورة بني إسرائیل باب : (ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بھا) : 4722 ] ”وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ“ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی قراءت کے ساتھ آواز بلند نہ کرو کہ مشرکین اسے سنیں گے تو اسے گالی دیں گے اور نہ اسے اپنے اصحاب سے چھپا کر پڑھو، کیونکہ آپ اسے ان کو سنا نہیں سکیں گے اور اس کے درمیان کا کوئی راستہ تلاش کرو۔“ ام المومنین عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت دعا کے متعلق نازل ہوئی۔ [ بخاري، التفسیر، سورة بني إسرائیل باب : (ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بھا) : 4723 ] ابوداؤد میں صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیام اللیل میں ابوبکر ؓ کو پست آواز اور عمر ؓ کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے سنا تو ابوبکر ؓ کو کچھ بلند اور عمر ؓ کو کچھ آہستہ پڑھنے کے لیے فرمایا۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلاۃ اللیل : 1329 ] آیت کے الفاظ قراءت اور دعا دونوں معنوں کی گنجائش رکھتے ہیں۔
Ayah 17:111وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا۔۔ : یعنی ہر خوبی جس کی تعریف ہوسکتی ہے، خواہ وہ صفت جمال ہو یا جلال یا کمال، صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس کے سوا کسی اور میں کوئی خوبی ہے تو اسی کی عطا کردہ ہے، اس لیے وہ بھی اسی کی خوبی ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے سوا کوئی خواہ کتنا ہی بڑا ہے یا تو اولاد کا محتاج ہے، کیونکہ اسے بوڑھا ہونا اور فوت ہونا ہے، اس لیے زندگی میں اسے مدد کے لیے اور مرنے کے بعد وارث کے طور پر اولاد کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی سب کا وارث ہے، وہ اولاد کی محتاجی سے پاک ہے۔ پھر والد اور اولاد ایک جنس سے ہوتے ہیں، اگر اس کی اولاد ہو تو اس کا ”وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ“ ہونا باقی نہیں رہتا۔ پھر ایک جیسے دو یا کئی الٰہ ماننا پڑیں گے، جس کا نتیجہ سورة انبیاء (22) میں مذکور ہے۔ ”لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا“ میں یہود و نصاریٰ کا رد ہوگیا جو عزیر یا مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا مانتے تھے اور مشرکین عرب کا بھی جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اسلام کے پردے میں چھپے ہوئے ان لوگوں کا بھی جو نبی کریم ﷺ کو یا علی، فاطمہ اور حسن و حسین ؓ کو اللہ کے ذاتی نور کا ٹکڑا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں
خدا کے نور سے پیدا ہوئے پانچوں تن
محمد است و علی، فاطمہ، حسن و حسین
یا پھر اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ اکیلا ہر کام سرانجام نہیں دے سکتا، اس لیے بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی اپنے ولی عہد یا وزیر و مشیر کو حکومت میں شریک کرنا پڑتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اکیلا ہی پوری کائنات کا ایسا بادشاہ ہے جسے کسی شریک کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اس کے سوا ہر ایک کی زندگی میں ایسا مرحلہ آتا ہے جب اسے اپنی کمزوری یا عاجزی کی وجہ سے کسی مددگار اور حمایتی کی ضرورت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ عزیز ہے، سب پر غالب ہے، نہ اسے کوئی کمزوری یا بےبسی لاحق ہوتی ہے، نہ کوئی ایسا ہے جو اس کی بےبسی اور عاجزی میں اس کا پشت پناہ بنے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نبی ! اور اے ہر مخاطب ! تو اللہ تعالیٰ کے ہر خوبی اور ہر تعریف کے مالک ہونے کا اعلان کر دے، کیونکہ اس میں یہ تینوں کمزوریاں نہیں ہیں اور اس کی بڑائی جتنی ہوسکتی ہے زیادہ سے زیادہ بیان کر۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت جامع آیت ہے، جس میں اللہ کی حمد، تسبیح، تہلیل اور تکبیر تمام چیزیں دلیل کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں۔