Ayah 19:40اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ۔۔ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ذکر تین دفعہ جمع متکلم کی ضمیر سے کیا ہے۔ دنیا کے بادشاہ بھی حکم دیتے وقت یا اپنی شان و شوکت کے اظہار کے وقت کہا کرتے ہیں کہ ”ہم حکم دیتے ہیں“ ”ہم یہ کریں گے“ وغیرہ، حالانکہ وہ اکیلے حکم دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جس کی عظمت کی کوئی حد نہیں، اکیلا ہونے کے باوجود اپنی عظمت کے اظہار کے لیے کیوں نہ فرمائے گا کہ بیشک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اردو ترجمے میں ”ہی“ کا لفظ تیسرے ”ہم“ کی جگہ لگایا گیا ہے، جو لفظ ”نَرِثُ“ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہوجائیں گے اور ہمارے سوا ان کا وارث (پیچھے رہنے والا) کوئی نہ ہوگا۔
Ayah 19:41ۧوَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ : اس سورت کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ توحید کے منکر دو قسم کے لوگ تھے، ایک یہود و نصاریٰ جنھوں نے عیسیٰ اور عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے، چناچہ پچھلی آیات میں مریم اور مسیح ؑ کا قصہ بیان کرکے ان کے غلط عقائد کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب، جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور اس غلط عقیدے کے باوجود ابراہیم ؑ کے دین پر قائم ہونے کے دعوے دار تھے۔ یہاں سے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کرکے ان کی تردید مقصود ہے، تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور بالآخر وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں ہجرت کی، مگر تم ہو کہ ایک طرف تو ان کی اولاد میں سے ہو اور ان کے دین پر ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہو، لیکن دوسری طرف بت پرستی کی لعنت میں گرفتار ہو اور توحید کی آواز اٹھانے والوں کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر واقعی تم ابراہیم ؑ کے دین کے پیرو ہو تو اس شرک پر عمل پیرا ہونے اور توحید پرستوں سے دشمنی کا کیا مطلب ؟
اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا : ”صِدِّيْقًا“ ”صِدْقٌ“ سے مبالغہ ہے۔ ابراہیم ؑ کو صدیق اس لیے فرمایا کہ وہ بات میں بہت سچے تھے اور اپنے رب کے ساتھ معاملے میں بھی سچے تھے۔ اللہ کی خاطر گھر سے بےگھر ہونا، آگ میں جلنے کو گوارا کرنا، وطن سے بےوطن ہونا، پردیس میں اپنی عزت و ناموس کے خطرے میں ہونے کو برداشت کرنا، بیوی بچے کو بےآباد سنگلاخ وادی میں چھوڑنا، اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے کے حکم کی تعمیل، اسّی (80) برس کی عمر میں ختنے کا حکم ہونے پر فوراً عمل کرنا، یہ ان کے ہر معاملہ میں صدق کی چند مثالیں ہیں۔ ”صِدِّيْقًا“ کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء (69) اور یوسف (46)۔
Ayah 19:42يٰٓاَبَتِ ’ کے معنی کے لیے دیکھیے سورة یوسف (4)۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ ابراہیم ؑ کا والد بت پرست تھا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (74) ابراہیم ؑ نے اسے نہایت ادب، نرمی، حسن اخلاق اور بہترین دلائل کے ساتھ بت پرستی ترک کرنے کی نصیحت کی کہ کہیں وہ بڑے پن اور ضد میں آکر حق سے انکار نہ کر دے۔ چناچہ سب سے پہلے انھوں نے اس سے ان بتوں کو پوجنے کی وجہ پوچھی کہ جن کی کسی عقل مند کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، کجا یہ کہ ان کی عبادت کی جائے، جو تعظیم، محبت اور عاجزی کا انتہائی مرتبہ ہے۔ کیونکہ عبادت تو اس کی ہونی چاہیے جو ہر طرح سے دوسروں سے غنی ہو، کسی کا محتاج نہ ہو، سب نعمتوں کا مالک ہو، سب کو پیدا کرنے والا، رزق دینے والا ہو، زندگی، موت، ثواب اور عذاب کا مالک ہو۔ ابراہیم ؑ نے اسے توجہ دلائی کہ صاحب عقل کو لازم ہے کہ جو بھی کرے کسی صحیح مقصد کے لیے کرے۔ کوئی بھی چیز یا شخص جو زندہ ہو، صاحب عقل ہو، سنتا دیکھتا ہو، کوئی فائدہ یا نقصان بھی پہنچا سکتا ہو مگر عدم سے وجود میں آیا ہو اور اس کا اختیار کسی اور کا عطا کردہ ہو تو عقل سلیم اس کی عبادت میں عار محسوس کرے گی، خواہ وہ کتنی اونچی مخلوق مثلاً انسان ہو یا فرشتہ، کیونکہ وہ خود اپنی ضروریات کے لیے اس ہستی کا محتاج ہے جو نہ اپنے وجود میں کسی کی محتاج ہے اور نہ اپنی بقا میں۔ پھر پتھر، لکڑی یا دھات کے بنے ہوئے بت یا مٹی اور اینٹوں سے بنی ہوئی قبریں کہ جن میں زندہ لوگوں والی کوئی خوبی ہے ہی نہیں، جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں، نہ کسی کے کام آسکیں، ان کی عبادت کیوں ؟
Ayah 19:43يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ قَدْ جَاۗءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ۔۔ : ”مِنَ الْعِلْمِ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ علم۔ دوسری بات میں بھی ان کی نرمی، دانائی اور حسن ادب دیکھیے۔ ”ابا جی“ کے لقب کے ساتھ مخاطب کیا، یہ نہیں کہا کہ آپ حد درجہ کے جاہل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے صدیقیت اور نبوت کا عظیم مرتبہ عطا کیا ہے، بلکہ یہ کہا کہ میرے پاس کچھ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا اور وہ ہے سیدھے راستے کا علم، اس لیے اس میں میرے پیچھے چلنے میں عار محسوس نہ کریں۔ بیشک آپ باپ ہیں مگر یوں سمجھیں کہ میں اور آپ ایک سفر پر ہیں، مجھے راستے کا علم ہے اور آپ کو نہیں، تو آپ کو باپ ہونے کے باوجود میرے پیچھے چلنا ہوگا، تاکہ میں آپ کو صحیح منزل تک پہنچا دوں اور آپ غلط راستے پر چل کر بھٹکتے نہ پھریں۔ (زمحشری)
اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا : ”سَوِيًّا“ ”سَوِیَ یَسْوٰی“ (ع) سے ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے، سیدھا برابر راستہ جس میں نہ زیادتی ہے کہ اس کی عبادت ہو جو اس کا حق دار نہیں اور نہ کمی کہ حق دار کی عبادت بھی نہ کی جائے۔ (قاسمی)
Ayah 19:44يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ۔۔ : تیسری بات کی ابتدا بھی محبت اور ادب میں ڈوبے ہوئے الفاظ ”ابا جان“ سے کی اور اسے بت پرستی سے منع کرنے اور ہٹانے کے لیے اس کی حقیقی تصویر ایسی کھینچی کہ ہر عقلمند کو اس سے نفرت ہوجائے، یعنی یہی نہیں کہ بت پرستی کسی بھی نفع سے خالی ہے، بلکہ اس میں بیحد نقصان ہے، کیونکہ یہ درحقیقت شیطان کی عبادت ہے۔ دیکھیے سورة نساء (117) کیونکہ وہی اس پر آمادہ کرتا اور اسے خوش نما بنا کر دکھاتا ہے، خود شیطان کی عبادت تو کوئی نہیں کرتا۔ ”ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَان للرَّحْمٰنِ عَصِيًّا“ میں ”اِنَّ“ کے ساتھ شیطان کی عبادت سے منع کرنے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ سے تمہارے اس رب کا سخت نافرمان ہے جس کی رحمت کی کوئی حد نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے ناشکرے اور سخت نافرمان کی بات ماننے والا بھی سخت نافرمان ہوگا۔ ہمیشہ کا معنی ’ کَانَ“ سے واضح ہو رہا ہے۔
Ayah 19:45يٰٓاَبَتِ اِنِّىْٓ اَخَافُ۔۔ : چوتھی بات یہ کہ اسے بت پرستی کے برے انجام اور اس کے وبال اور عذاب سے ڈرایا اور اس میں بھی حسن ادب کو ملحوظ رکھا۔ صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ تم پر عذاب آپڑے گا، بلکہ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمٰن کی طرف سے کوئی عذاب آ لگے اور پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔ یہاں ”میں ڈرتا ہوں“ اور ”کوئی عذاب آ لگے“ کے الفاظ قابل غور ہیں کہ وہ کتنی سخت بات کو کس قدر نرمی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ پھر یہ بات کہ عذاب کا نتیجہ شیطان کا دوست اور ساتھی بننا ہوگا۔ معلوم ہوا کہ شیطان کا ساتھی بننا عذاب سے بھی بدتر ہے۔ یہ آخری نصیحت بھی ”يٰٓاَبَتِ“ کے پیارے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ (زمخشری)
Ayah 19:46قَالَ اَ رَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِــهَـتِيْ يٰٓاِبْرٰهِيْمُ : ”رَغِبَ فِیْہِ“ کا معنی رغبت کرنا اور ”رَغِبَ عَنْہُ“ کا معنی بےرغبتی کرنا ہوتا ہے۔ والد نے جواب میں بیٹے کی بات کا انکار کرتے ہوئے ہمزہ استفہام سے بات شروع کی کہ ”کیا بےرغبتی کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم ! ؟“ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک بتوں سے بےرغبتی زیادہ قابل گرفت تھی، اس لیے ”رَاغِبٌ“ کا ذکر خبر ہونے کے باوجود پہلے کیا، رہا بیٹا تو شرک سے منع کرنے کی وجہ سے اسے ”اَنْتَ“ کے ساتھ مبتدا ہونے کے باوجود بعد میں مخاطب کیا اور ابراہیم کا نام ایسا قابل نفرت ٹھہرا کہ اسے سب سے آخر میں لیا۔ ابراہیم ؑ کو دیکھیے کہ وہ ہر بات ”يٰٓاَبَتِ“ سے شروع کرتے ہیں، ادھر مشرک باپ کی خصوصی مہربانی دیکھیے کہ اس نے مخاطب کیا بھی تو آخر میں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقیدے کی بنا پر پیدا ہونے والی دوستی اور دشمنی نسب کی وجہ سے پیدا ہونے والی دوستی اور دشمنی سے زیادہ قوی ہوتی ہے۔
لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَـــنَّكَ۔۔ :”تَنْتَهِ“ اصل میں ”تَنْتَھِیْ“ تھا، ”لَمْ“ کی وجہ سے یاء گرگئی۔ ”مَلِيًّا“ کا معنی ہے صحیح سالم اور ایک دوسرا معنی ہے لمبی مدت۔ اگر تو بتوں کی تردید اور نفرت سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا، یعنی پتھر مار مار کر ختم کر دوں گا۔ تو مجھے چھوڑ کر صحیح سلامت نکل جا، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ لمبی مدت تک مجھے چھوڑ کر نکل جا کہ میں تمہاری شکل نہ دیکھوں۔
3 اس واقعہ میں ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی کا سامان موجود ہے، کیونکہ آپ کو بھی اپنے اقارب کی طرف سے ایسے ہی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح حق کے ہر داعی کے لیے بھی تسلی ہے کہ اعلان حق پر اسے اپنے قریب ترین عزیزوں کی طرف سے شدید مخالفت کے سامنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ خصوصاً جب کفار دلیل کے سامنے لاجواب ہوجاتے ہیں تو پھر ان کا غیظ و غضب حد سے گزر جاتا ہے، جیسے یہاں ابراہیم ؑ سے لاجواب ہو کر باپ نے سنگسار کرنے کی دھمکی دے کر گھر سے نکال دیا۔ بتوں کو توڑنے کے بعد ان کے پروہت لاجواب ہوئے تو انھوں نے کہا : (حَرِّقُـوْهُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِهَتَكُمْ) [ الأنبیاء : 68 ] ”اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔“ لوط ؑ کی قوم لاجواب ہوئی تو کہا : (اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ) [ الأعراف : 82 ] ”انھیں اپنی بستی سے نکال دو۔“ نوح ؑ کی قوم نے لاجواب ہو کر کہا : (لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ) [ الشعراء : 116 ] ”اے نوح ! یقیناً اگر تو باز نہ آیا تو ہر صورت سنگسار کیے گئے لوگوں میں سے ہوجائے گا۔“ فرعون نے موسیٰ ؑ کے دلائل کے سامنے بےبس ہونے پر کہا تھا : (لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰــهًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ) [ الشعراء : 29 ] ”یقیناً اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔“ کفار کی ان تمام دھمکیوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ؑ کے دلائل ذکر فرمائے ہیں جو قابل دید ہیں اور ان کے جواب میں کفار کی بےبسی بالکل واضح ہے۔ ہمارے پیارے پیغمبر کے سامنے بھی جب کفار کی کوئی پیش نہ گئی تو انھوں نے آپ کو قتل، قید یا جلا وطن کرنے کی سازش کی، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : (وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ) [ الأنفال : 30 ] ”اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تیرے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، تاکہ تجھے قید کردیں، یا تجھے قتل کردیں، یا تجھے نکال دیں۔“
Ayah 19:47قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ : ابراہیم ؑ نے اپنے جاہل باپ کے اس سنگ دلانہ جواب کے مقابلے میں پھر انتہائی نرمی کا مظاہرہ کیا اور اسے ”سَلٰمٌ عَلَيْكَ“ کہا کہ آپ سلامت رہیں۔ جاہلوں کے جواب میں ہمیں بھی یہی کہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (63) اور قصص (55) جب کوئی ضد اور عناد پر تل جائے تو یہ رخصت ہونے اور ترک تعلق کا سلام ہے اور یہ جائز ہے، البتہ عام حالات میں کفار کو سلام میں پہل جائز نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَبْدَءُ وا الْیَھُوْدَ وَلا النَّصَارٰی بالسَّلَامِ) [ مسلم، السلام، باب النھي عن ابتداء أھل الکتاب۔۔ : 2167، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل مت کرو۔“
سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ : ابراہیم ؑ نے اس وعدے کو نبھایا، دیکھیے سورة شعراء (86) اور ابراہیم (41) مگر اب فوت شدہ مشرک دوستوں یا رشتہ داروں کے لیے استغفار جائز نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (113) اور سورة ممتحنہ (4)۔rnۭاِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا : ”حَفِيًّا“ ”حَفِیَ حِفَاوَۃً“ (رَضِیَ) سے ہے، کسی پر بہت مہربان ہونا، اس کے معاملات کی فکر رکھنا، اس کے متعلق کثرت سے پوچھتے رہنا۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (187) ”کَانَ“ سے ہمیشہ کا معنی واضح ہوتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان رہا ہے اور اس نے مجھے دعا قبول ہونے کی عادت ڈال دی ہے۔
Ayah 19:48وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی تم سے اور تمہارے معبودوں سے تعلق توڑ کر جب میں اپنے اکیلے رب کو پکاروں گا تو مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بےنصیب نہیں رہوں گا اور وہ کسی بھی مرحلے پر مجھے بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اشارے سے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا رب تمہارے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ انھیں کتنا ہی پکارتے رہو، وہ خاک نفع نہیں پہنچا سکتے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار بھی کہ اس پر میرا یا کسی کا زور نہیں، محض اس کے فضل سے امید ہے، کیونکہ اس اکیلے کو پکارنے والا کبھی بےنصیب نہیں رہتا۔
ابراہیم ؑ کی کفار سے اور ان کے بتوں سے علیحدگی اور ایمان لانے تک واضح دشمنی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (51 تا 67) ، سورة شعراء (75 تا 77) اور سورة ممتحنہ (4)۔
Ayah 19:49فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ۔۔ : وطن سے ہجرت اور مشرکین سے کنارہ کشی کے عوض اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بیشمار نعمتیں عطا کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھیں بڑی شان والا بیٹا اور پوتا یعنی اسحاق اور یعقوب ؑ عطا کیے، تاکہ ان کا دل لگ جائے اور بےوطنی سے وحشت نہ ہو۔
وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا : یہ آیت دلیل ہے کہ اسحاق اور یعقوب ؑ ان کی زندگی ہی میں نبی بن چکے تھے، کیونکہ اگر بعد میں نبی بننا مراد ہوتا تو یوسف ؑ کا بھی ذکر ہوتا، کیونکہ وہ بھی نبی تھے۔ بیٹے اور پوتے کی خوشی ہی کچھ کم نہیں ہوتی، کجا یہ کہ ان کی پہلے ہی خوش خبری بھی مل جائے (ہود : 71) اور اپنی آنکھوں سے انھیں نبوت کے عالی مقام پر فائز بھی دیکھ لیا جائے۔ یہاں اسماعیل ؑ کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ ان کے پاس نہیں رہے۔ ان کا ذکر الگ آگے آ رہا ہے۔
3 یہ آیت اس حقیقت کی بھی ایک مثال ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بہتر چیز اسے عطا فرماتا ہے۔
Ayah 19:50وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا : ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”حصہ“ کیا ہے۔ اس رحمت سے مراد نبوت اور دینی و دنیوی بیشمار برکتیں ہیں، مثلاً اموال و اولاد کی کثرت، ارض مقدس کی خلافت، نسل در نسل نبوت و امامت وغیرہ۔
وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا : ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر ”ثَنَاءٌ حَسَنٌ“ (اچھی شہرت) فرمائی۔ [ طبری بسند ثابت ] ”لِسَانَ“ بول کر وہ چیز مراد لی ہے جو زبان کے ساتھ ہوتی ہے، یعنی شہرت و ناموری، جیسا کہ ”یَدٌ“ بول کر احسان مراد لیتے ہیں، کیونکہ وہ ہاتھ کے ساتھ ہوتا ہے۔ ”لِسَانَ صِدْقٍ“ سچی ناموری کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعی اس ناموری اور شہرت کے حق دار تھے اور ان کا عمل اس شہرت کو سچا ثابت کرتا تھا، اس لیے ان کا ذکر خیر ہمیشہ کے لیے لوگوں کی زبان پر جاری کردیا۔ چناچہ یہودی، عیسائی اور مسلمان سب ان کی تعظیم کرتے ہیں اور نماز میں درود ابراہیمی بھی ابراہیم ؑ کی دعا کی مقبولیت ہی کا ثمر ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (84)۔
Ayah 19:51ۧوَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى ۡ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا : ”مُخْلَصًا“ کا معنی ہے ”خالص کیا ہوا، چنا ہوا۔“ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ) [ طٰہٰ : 41 ] (اور میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لیے بنایا ہے) ، طٰہٰ کی آیت (13) اور اعراف کی آیت (144) سے ہوتی ہے۔
وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا : ”رَسُوْلًا“ کا لفظی معنی بھیجا ہوا ہے اور ”نَّبِيًّا“ ، ”نَبَأٌ“ سے ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے جو فاعل اور مفعول دونوں معنوں میں آتا ہے۔ مفعول ہو تو وہ جسے اللہ کی طرف سے خبر دی جائے اور اگر فاعل ہو تو وہ جو اللہ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ ”نَبَأٌ“ عام خبر کو نہیں بلکہ اس خبر کو کہتے ہیں جو بڑی عجیب یا اہم ہو۔ قرآن مجید میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں، تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے کافی فرق پایا جاتا ہے۔ دیکھیے سورة حج (52) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جس کو اللہ تعالیٰ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں سے جو خاص ہیں اور امت رکھتے ہیں یا کتاب، وہ رسول ہیں۔“ (موضح)
یہاں ”رَسُوْلًا“ کے بعد ”نَّبِيًّا“ لانے کی ایک حکمت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پیغام پہنچانے کے لیے کوئی بھی بھیجا جائے اسے رسول کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھیجے تو اس کا رسول، کوئی اور بھیجے تو اس کا رسول۔ جیسا کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق سورة یس میں مذکور مرسلین کسی نبی کی طرف سے بھیجے ہوئے داعی تھے اور جیسا کہ یزید بن شیبان ؓ فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ وقوف کیے ہوئے تھے (ان کے شاگرد عمرو بن عبداللہ وہ جگہ امام کی جگہ سے دور بیان کرتے تھے) تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور انھوں نے کہا : (إِنِّيْ رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْکُمْ) [ أبوداوٗد، المناسک، باب موضع الوقوف بعرفۃ : 1919۔ ابن ماجہ : 3011 و صححہ الألباني ] ”میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا رسول یعنی پیغام لانے والا ہوں۔“ اس آیت میں ”رسول“ کی تاکید ”نبیا“ کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ موسیٰ ؑ کو کسی کی طرف سے بھیجا ہوا محض ایک داعی نہ سمجھا جائے، بلکہ وہ نبی بھی تھے جو وحی الٰہی سے سرفراز تھے۔
Ayah 19:52وَنَادَيْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ۔۔ : طور کا معنی پہاڑ ہے، بعض خاص پہاڑوں کا نام بھی طور ہے، جیسے ایلہ کے قریب صحرائے سینا کے ایک پہاڑ کو طور سینا یا طور سینین کہتے ہیں۔ صاحب قاموس نے چند اور مقامات پر واقع پہاڑوں کا بھی ذکر کیا ہے جنھیں طور کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ موسیٰ ؑ کے مدین سے واپس مصر جاتے ہوئے پیش آیا۔ اس کی تفصیل سورة طٰہٰ (9 تا 36) ، نمل (7 تا 14) اور قصص (29 تا 35) میں موجود ہے۔ ابن کثیر نے سورة قصص کی آیت (30) (نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ) کی تفسیر میں فرمایا : ”یعنی وادی کی اس جانب سے جو موسیٰ ؑ کے دائیں طرف پہاڑ کے مغربی کنارے سے ملتی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَآ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ) [ القصص : 44 ] ”اور اس وقت تو مغربی جانب نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ نے آگ کی طرف رخ قبلہ کی جانب کیا تھا اور انھوں نے پہاڑ کے مغربی حصے کو اپنی دائیں طرف کیا ہوا تھا۔“ آلوسی نے فرمایا : ”مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ“ سے مراد پہاڑ کی وہ جانب ہے جو موسیٰ ؑ کی دائیں جانب تھی، کیوں کہ خود پہاڑ کا کوئی دایاں ہوتا ہے نہ بایاں۔ ”الْاَيْمَنِ“ ”یُمْنٌ“ سے بھی ہوسکتا ہے جس کا معنی برکت ہے، یعنی اس کی مبارک جانب سے، اس معنی کے لحاظ سے پہاڑ کی مبارک جانب بھی مراد ہوسکتی ہے، مگر پہلا معنی بہتر ہے۔ ”نَادَيْنٰهُ“ (ہم نے اسے آواز دی) آواز دینے سے مراد اس جانب سے اللہ کا کلام ظاہر ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کا کلام الفاظ کی صورت میں سنا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ موسیٰ ؑ نے جو سنا تھا اس میں نہ حرف تھے، نہ آواز تھی۔ انھوں نے صرف کانوں سے نہیں بلکہ تمام اعضاء کے ساتھ سنا تھا، جس سے انھیں یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے، اسی لیے کہا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہم نے اسے طور کی مبارک جانب سے آتے ہوئے آواز دی، مگر یہ بات عقل کی دسترس سے باہر ہے اور احادیث کے دلائل اس کے صاف خلاف ہیں۔
اس آیت سے اللہ تعالیٰ کا آواز دینا اور کلام کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر اس کے کلام کے بھی منکر ہیں، اس لیے وہ نہ اس میں حروف مانتے ہیں، نہ آواز اور نہ اس کا کانوں سے سنا جانا۔ مگر الفاظ اور آواز سے خالی چیز کو کلام کہنا جس طرح عقل سے بعید ہے اسی طرح قرآن و حدیث کے بھی صریح خلاف ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (143) ، کہف (109) اور توبہ (6)۔
وَقَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا : ”نَجِيًّا“ ”فَعِیْلٌ“ بمعنی ”مُفَاعِلٌ“ ہے، جیسے ”جَلِیْسٌ“ بمعنی ”مُجَالِسٌ“ اور ”نَدِیْمٌ“ بمعنی ”مُنَادِمٌ“ ہے۔ ”مَنَاجَاۃٌ“ ایک دوسرے سے چھپی آواز میں بات کرنا، سرگوشی کرنا، یعنی ہم نے اسے سرگوشی کرتے ہوئے قریب کرلیا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”ان سے کلام ہوا، بیچ میں فرشتہ نہ تھا۔“ (موضح) اللہ تعالیٰ نے جس طرح واضح الفاظ میں موسیٰ ؑ سے خود کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے کسی اور کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔
Ayah 19:53هٰرُوْنَ نَبِيًّا : موسیٰ ؑ کو نبوت عطا ہوئی تو انھوں نے اپنی مدد کے لیے اپنے بھائی ہارون ؑ کو بھی نبوت عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا اور اپنی خاص رحمت سے ان کے بھائی کو نبی بنا کر انھیں ہبہ فرما دیا۔ آج تک موسیٰ ؑ کے سوا کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے اتنے اونچے مرتبے کی دعا نہیں کی اور نہ ہارون ؑ کے سوا کسی کو سفارش سے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔ موسیٰ ؑ کی اس درخواست کا ذکر سورة طہ (29 تا 35) ، شعراء (12، 13) اور قصص (34، 35) میں ہے۔
Ayah 19:54وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ۔۔ : یہ پانچواں قصہ اسماعیل ؑ کا ہے جو ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے اور تمام حجاز کے باپ۔ (ابن کثیر) گو تمام انبیاء وعدے کے سچے ہوتے ہیں مگر اسماعیل ؑ میں یہ صفت خاص طور پر پائی جاتی تھی۔ سب سے پہلے تو ان میں یہ وصف تھا کہ وہ وعدے کے ساتھ ”ان شاء اللہ“ کہہ لیا کرتے تھے، جیسا کہ انھوں نے والد سے وعدہ کرتے وقت کہا تھا : (سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ) [ الصافات : 102 ] ”اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔“ پھر یہ وعدے کی سچائی ہی تھی کہ انھوں نے اپنے والد سے وعدہ کیا کہ ذبح ہوتے وقت صبر کروں گا، پھر بےدھڑک چھری کے نیچے لیٹ گئے اور اف تک نہ کیا۔ اس سے بڑھ کر وعدہ وفائی کیا ہوگی ؟ وعدہ پورا کرنا ایمان ہے اور وعدہ خلافی نفاق۔ ابوسفیان نے ہرقل کے پاس اقرار کیا تھا : (یَأْمُرُنَا بالصَّلَاۃِ وَالصَّدَقَۃِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاء بالْعَھْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَۃِ) [ بخاري، الجھاد، والیسر، باب دعاء النبي ﷺ إلی الإسلام۔۔ : 2941 ] کہ نبی ﷺ ہمیں نماز، سچ، پاک دامنی، وعدہ پورا کرنے اور امانت ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے وعدہ خلافی کو منافق کی تین نشانیوں میں سے ایک قرار دیا۔ [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق : 33، عن أبي ہریرہ ؓ ]
3 یہاں طبری اور ابن کثیر نے سہل بن عقیل سے نقل کیا ہے کہ اسماعیل ؑ نے ایک آدمی سے اس کے آنے تک ایک جگہ میں رہنے کا وعدہ کیا، وہ بھول گیا تو ایک دن رات اس کے آنے تک وہیں ٹھہرے رہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۡ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ) اور سفیان ثوری سے نقل کیا ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ایک سال وہیں ٹھہرے رہے۔ مگر یہ دونوں روایات بعض علماء کے اقوال ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ہرگز بیان نہیں فرمائیں۔ ظاہر ہے ان دونوں بزرگوں نے یہ روایات بنی اسرائیل سے لی ہیں اور ہم اہل کتاب کی کسی بات کو سچا کہہ سکتے ہیں نہ جھوٹا۔
3 سنن ابی داؤد وغیرہ میں اسی طرح کا واقعہ ہمارے نبی ﷺ کے متعلق بھی مروی ہے کہ نبوت سے پہلے ایک آدمی کے آنے تک ٹھہرنے کے وعدے کی وجہ سے آپ ﷺ تین دن رات وہیں ٹھہرے رہے، مگر شیخ البانی ؓ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا : اللہ تعالیٰ نے اسحاق اور یعقوب ؑ کو صرف نبی (مریم : 49) اور اسماعیل ؑ کو ”وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا“ فرمایا، اس سے ان کے بلند مرتبے کا اظہار ہوتا ہے۔ اسماعیل ؑ بنو جرہم کی طرف رسول تھے، جن کے وہ داماد بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنْ وَلَدِ إِبْرَاھِیْمَ إِسْمَاعِیْلَ) [ ترمذي، المناقب عن رسول اللّٰہ ﷺ ، باب ما جاء في فضل النبي ﷺ : 3605 ]”اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے اسماعیل ؑ کو منتخب فرمایا۔“
Ayah 19:55وَكَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ : اسماعیل ؑ کے اس عمل کی پابندی کا حکم ہمارے نبی ﷺ کو اور ان کے ذریعے سے ہمیں بھی دیا گیا، چناچہ فرمایا : (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۭ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى) [ طٰہٰ : 132 ] ”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچانے کا حکم دیا۔ دیکھیے سورة تحریم (6)۔
وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا : رب تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہونے کا باعث سب سے پہلے تو خود اس ذات پاک کا کسی کو منتخب فرما لینا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ) [ الحج : 75 ] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اور فرمایا : (اَللّٰهُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ) [ الشورٰی : 13 ] ”اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔“ پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ (مَرْضِيًّا) ہونے کا ذریعہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق کسی بندے کا فرائض کی ادائیگی اور نوافل کی کثرت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ [ دیکھیے بخاري، الرقاق، باب التواضع : 6502، عن أبي ہریرہ ؓ ] اور ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِیْلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْہُ فَیُحِبُّہُ جِبْرِیْلُ فَیُنَادِيْ جِبْرِیْلُ فِيْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوْہُ فَیُحِبُّہُ أَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہٗ الْقَبُوْلُ فِي الْاَرْضِ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللّٰہ علیھم : 3209 ] ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل ؑ کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے سو تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل اس سے محبت کرتا ہے، پھر جبریل آسمان والوں میں اعلان کردیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“ ”مَرْضِيًّا“ کا حقیقی مصداق ایسا شخص ہوتا ہے۔
Ayah 19:56وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ۔۔ : یہ چھٹا قصہ ادریس ؑ کا ہے، بعض مفسرین نے ادریس ؑ کو بنی اسرائیل کے انبیاء میں شمار کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ معراج کے موقع پر جب نبی ﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے نبی ﷺ کو ”مَرْحَبًا بالنَّبِیِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ“ (صالح نبی اور صالح بھائی کو مرحبا) کہہ کر خطاب کیا اور آدم اور ابراہیم ؑ کی طرح ”مَرْحَبًا بالْوَلَدِ الصَّالِحِ“ (صالح بیٹے کو مرحبا) نہیں کہا۔ حافظ ابن حجر ؓ کے مطابق امام بخاری ؓ کی یہی رائے ہے، کیونکہ ”بَابُ ذِکْرِ إِدْرِیْسَ عَلَیْہِ السَّلاَم“ میں وہ حدیث معراج لائے ہیں۔ دیکھیے فتح الباری ”بَابُ ذِکْرِ اِدْرِیْسَ عَلَیْہِ السَّلاَم“ اس سے پہلے باب میں امام بخاری نے فرمایا : ”ابن مسعود اور ابن عباس ؓ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ الیاس ہی ادریس ہیں۔“ حافظ ابن حجر ؓ نے اس قول کے لانے کو بھی امام بخاری کی اس رائے کا اظہار کہا ہے کہ ادریس ؑ نوح ؑ سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں ہوئے ہیں، کیونکہ قرآن مجید میں الیاس ؑ کو نوح یا ابراہیم ؑ کی اولاد میں شمار فرمایا گیا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (84، 85) لیکن اکثر مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان کا زمانہ نوح ؑ سے بھی پہلے کا ہے، چناچہ بخاری نے ”بَابُ ذِکْرِ إِدْرِیْسَ عَلَیْہِ السَّلاَم“ کے ترجمۃ الباب میں فرمایا : ”وَ ھُوَ جَدُّ أَبِيْ نُوْحٍ وَ یُقَالُ جَدُّ نُوْحٍ عَلَیْہُمَا السَّلاَمُ“ یعنی وہ نوح ؑ کے والد کے دادا ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نوح ؑ کے دادا ہیں۔ ابن جریر، قرطبی اور ابن کثیر کی رائے بھی یہی ہے، دلیل اسی سورت کی آیت (58) کی تفسیر میں آرہی ہے۔
Ayah 19:57وَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا : حدیث معراج میں رسول اللہ ﷺ کی چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات مذکور ہے۔ حافظ ابن حجر ؓ نے فرمایا کہ اس مقام کے ”مَكَانًا عَلِيًّا“ (بہت اونچا مقام) ہونے میں کوئی شک نہیں۔ بعض لوگوں نے جو کہا ہے کہ انھیں زندہ آسمان پر اٹھایا گیا، تو یہ رسول اللہ ﷺ سے کسی قوی سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ صرف کعب کا قول ہے جو اسرائیلی روایات بیان کرتے ہیں۔
Ayah 19:58اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ۔۔ : مراد وہ انبیاء ہیں جن کا اس سورت میں ذکر ہے۔ یہ دس ہیں جن میں پہلے زکریا اور آخری ادریس ؑ ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا، سدی اور ابن جریر اور قرطبی (s) نے فرمایا : ”یہاں آدم کی اولاد سے مراد ادریس ہیں اور نوح کے ساتھ سوار ہونے والوں کی اولاد سے مراد ابراہیم ہیں اور ابراہیم کی اولاد سے مراد اسحاق، یعقوب اور اسماعیل ہیں اور اسرائیل کی اولاد سے مراد موسیٰ ، ہارون، زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ ابن مریم ہیں۔“ ابن جریر فرماتے ہیں : ”اسی لیے ان کے نسب الگ الگ ذکر فرمائے ہیں، ورنہ آدم کی اولاد تو سب ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ان لوگوں کی اولاد میں سے نہیں جو نوح ؑ کے ساتھ کشتی میں تھے اور وہ ادریس ہیں جو نوح ؑ کے دادا ہیں۔“ ابن کثیر نے فرمایا : ”یہی بات زیادہ ظاہر ہے کہ ادریس ؑ نوح ؑ کے آبائی نسب میں شامل ہیں۔“
رہا ادریس ؑ کا ہمارے نبی ﷺ کو بیٹے کے بجائے بھائی کہنا، تو یہ تواضع سے بھی ہوسکتا ہے اور امام بخاری کا حدیث معراج کو لانا ”ڎوَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا“ کی تفسیر کے طور پر بھی ہوسکتا ہے اور جو ادریس اور الیاس ؑ کو ایک قرار دینا ہے تو صحابہ کرام اگر رسول اللہ ﷺ سے بیان کریں تو وہ بات یقینی ہے، ورنہ وحی الٰہی کے بغیر ہزاروں سال پہلے کے متعلق ان کی بات یقینی کیسے ہوسکتی ہے ؟ خصوصاً جب یہ بھی امکان ہو کہ وہ بات اہل کتاب میں سے کسی سے سن کر بیان ہوئی ہے۔ اس لیے امام بخاری کا ادریس ؑ کو جزم کے ساتھ نوح ؑ کے والد کا دادا قرار دینا ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا۔۔ : چند انبیاء ؑ کے نام ذکر کرنے کے بعد ان الفاظ کے ساتھ تمام انبیاء کو بھی شامل فرما دیا، جیسا کہ سورة انعام کی آیت (87) میں ہے۔ اس آیت میں جو فرمایا : (ۭاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا) اس میں صراحت فرمائی کہ ان انبیاء کے سامنے جب رحمٰن کی آیات پڑھی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے۔ ”ّبُكِيًّا“ ”بَکَی یَبْکِیْ بُکَاءً“ (ض) سے اسم فاعل ”بَاکٍ“ کی جمع ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ اہل علم کا اجماع ہے کہ انبیاء کی اقتدا میں یہاں سجدہ کرنا مشروع ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ذکر فرمایا : (قَرَأَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سُوْرَۃَ مَرْیَمَ فَسَجَدَ وَقَالَ ھٰذَا السُّجُوْدُ فَأَیْنَ الْبُکِیُّ ؟) ”عمر بن خطاب ؓ نے سورة مریم پڑھی تو سجدہ کیا اور فرمایا : ”یہ تو سجدہ ہوا مگر رونے والے کہاں ہیں ؟“ حکمت بن بشیر نے اسے صحیح کہا ہے۔ آیات الٰہی سن کر رونا، دل کا ڈر جانا، رونگٹے کھڑے ہونا اور روتے ہوئے سجدے میں گر جانا، یہ صفات اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی اور نیک بندوں کی بیان کی ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (107 تا 109) ، مائدہ (83) ، انفال (2) اور زمر (23) وغیرہ۔
Ayah 19:59فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ : لفظ ”خَلْفٌ“ لام کے سکون کے ساتھ ”اولاد“ ، واحد و جمع دونوں کے لیے ایک ہی لفظ آتا ہے اور اکثر بری اولاد اور مذمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ ”خَلَفٌ“ ”جانشین“ کے معنی میں آتا ہے، وہ چاہے اولاد ہو یا کوئی اور۔ اس کا استعمال اکثر مدح و تعریف کے لیے ہوتا ہے اور دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ : نماز ضائع کرنے میں سب سے پہلے اس عقیدے کی ایجاد ہے کہ ایمان صرف دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے اور ان دونوں چیزوں سے ایمان مکمل ہوجاتا ہے۔ عمل کرے تو اچھا ہے، درجہ بڑھ جائے گا، ورنہ ایمان میں نہ کمی ہوتی ہے نہ اضافہ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان قرار دیا ہے، فرمایا : (وَمَا كَان اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ) [ البقرۃ : 143] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کر دے۔“ مگر ان لوگوں نے نماز کو ایمان ماننے سے انکار کردیا، پڑھنے والا بھی مومن، نہ پڑھنے والا بھی، جو انکار نہ کرے پکا مومن۔ پھر اس عقیدے کی ایجاد کہ نماز تو دل کی ہوتی ہے، قیام، سجدے اور رکوع کی کیا ضرورت ہے اور اسے طریقت اور معرفت قرار دینا نماز ضائع کرنے کا عام بہانہ ہے۔
اس کے علاوہ نماز کو صحیح وقت پر نہ پڑھنا، یا اسے رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ پڑھنا، کبھی پڑھنا، کبھی نہ پڑھنا، یا سرے سے اسے ترک کردینا، سب نماز ضائع کرنے کی صورتیں ہیں۔ نماز ترک کردینے سے انسان کے پاس اسلام کی آخری عملی شہادت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے امام احمد کے قول اور امام شافعی کے ایک قول کے مطابق نماز کا تارک کافر ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، دیکھیے سورة توبہ کی آیات (5) اور (11) کی تفسیر۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث اس بحث کے لیے فیصلہ کن نظر آتی ہے، ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَتُنْتَقَضَنَّ عُرَی الإِْسْلَامِ عُرْوَۃً عُرْوَۃً فَکُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَۃٌ تَشَبَّثَ النَّاس بالَّتِيْ تَلِیْھَا فَأَوَّلُھُنَّ نَقْضًا الْحُکْمُ وَ آخِرُھُنَّ الصَّلَاۃُ) [ صحیح ابن حبان، التاریخ، باب ذکر الأخبار بأن أول ما یظھر۔۔ : 6715۔ مسند أحمد : 5؍251، ح : 22222 ] ”اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی، جب بھی کوئی کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کو مضبوطی سے پکڑ لیں گے، چناچہ سب سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی ”حکم“ ہوگی (یعنی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلے کرنا) اور سب سے آخری کڑی نماز ہوگی۔“
وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ : انسان میں کئی شہوات و خواہشات پائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر خواہش کی تکمیل کے لیے جائز طریقے بتائے ہیں، مثلاً عبادت کی جبلی خواہش پوری کرنے کے لیے اپنے ایک ہی رب اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کے رسول ﷺ کے طریقے کے مطابق کرنا، جنسی خواہش کے لیے نکاح کرنا اور لونڈیاں رکھنا۔ مالی حرص کے لیے جائز طریقے سے مال کمانا، خرچ کرنا اور اس کی زکاۃ دینا، غصے کی جبلت کا رخ کفار اور دشمنان اسلام کے ساتھ جہاد کی طرف موڑنا، غرض ہر فطری جذبے کو پورا کرنے کا سامان بھی فرمایا اور اللہ کے حکم سے تجاوز پر حد بھی نافذ فرمائی۔ شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا، زنا پر حد رکھی، قوم لوط کے عمل کو حرام قرار دیا، سود کو حرام قرار دیا، ڈاکے اور چوری کی حد مقرر کی، قتل یا زخمی کرنے والوں پر قصاص یا دیت لازم فرمائی۔ پہلے انبیاء کے نالائق جانشینوں نے جس طرح اللہ کے احکام کی پیروی کے بجائے اپنی خسیس خواہشات کی پیروی کی، رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق ہماری امت کے خواہش پرستوں نے بھی وہی کام کیا، بلکہ انھوں نے اپنے پاس سے ایسے فقہی ضابطے بنائے اور انھیں اللہ کا حکم باور کروایا کہ جن سے اللہ کی حدود سرے سے باطل ہوگئیں۔ ساتھ ہی ہر حرام کام کی سزا سے بچنے کے لیے اس کا نام بدل دیا، یا اس کی حد سے بچنے کا حیلہ ایجاد کردیا۔ وحدت الوجود اور تصور شیخ کے شرکیہ عقیدے اور عمل کو طریقت اور معرفت کا خوش نما نام دے لیا۔ زنا کی سزا سے بچنے کے لیے کہہ دیا کہ اجرت پر لا کر عورت سے زنا کرنے پر حد نہیں۔ زنا کا نام حلالہ اور متعہ رکھ دیا۔ ماں، بہن، بیٹی اور دوسری محرمات سے، یہ جانتے ہوئے کہ حرام ہیں، نکاح کرکے زنا کرے تو حد معاف قرار دی۔ کانوں اور آنکھوں کے زنا کو سماع، روح کی غذا یا آرٹ اور فنون لطیفہ کہہ دیا۔ سود حلال کرلیا مگر نام اس کا منافع رکھ دیا۔ دار الحرب میں سود کو بالکل ہی جائز قرار دے لیا۔ جان بوجھ کر زکوٰۃ سے بچنے کے لیے کوئی بھی حیلہ کرنا جائز کردیا اور کہہ دیا کہ یہ مکروہ بھی نہیں۔ کوئی خوبصورت لڑکی پسند آجائے اور جھوٹے گواہ بھگتا کر قاضی سے اپنے حق میں فیصلہ کروا کر اس سے زنا کرلے تو اسے اللہ کے ہاں بھی گرفت سے بری قرار دیا۔ زنا پر پکڑا جائے، چار گواہ بھی بھگت جائیں مگر زانی کے صرف یہ کہہ دینے سے کہ یہ میری بیوی ہے، حد ختم کردی، خواہ وہ بیوی ہونے کا کوئی ثبوت بھی پیش نہ کرسکے اور خواہ وہ عورت چیختی چلاتی رہے کہ میں اس کی بیوی نہیں بلکہ فلاں کی بیوی ہوں۔ انگور اور کھجور کے سوا کسی بھی چیز سے بنی ہوئی شراب حلال قرار دی اور نشہ آنے کے باوجود بھی اس سے حد ساقط کردی اور نام بدل کر نبیذ، طلا یا کوئی اور رکھ لیا۔ قتل جان بوجھ کر کرے مگر تیز دھار آلے سے نہ کرے، یا آگ اور فائر سے نہ کرے تو قصاص ختم کردیا، خواہ جان بوجھ کر اس سے بدفعلی کرکے مار دے، یا پتھروں سے مار دے، یا برف کے بلاک میں رکھ کر یا ڈبو کر مار دے، یا اسے قید کرکے بھوکا مار دے، یا دیوار میں چن کر مار دے، قصاص ختم کردیا، صرف دیت لی جاسکتی ہے۔ چوری شہادتوں
سے ثابت ہوجائے مگر صرف چور کے دعویٰ کردینے سے کہ میں اس کا مالک ہوں، خواہ وہ مالک ہونے کی کوئی دلیل بھی نہ دے، حد موقوف کردی گئی۔ غرض یہود و نصاریٰ اور مشرکین کے ہاں جان، مال اور عزت و آبرو اس قدر برباد نہیں تھی جس قدر مسلمانوں نے خواہش پرستی میں آ کر اسے برباد کیا اور نام اس کا قوانین اسلام رکھ دیا۔ ان لوگوں نے تو یہ سب کچھ حیلے ایجاد کرکے کیا مگر موجودہ اکثر مسلم حکمرانوں نے حیلے کا تکلف بھی چھوڑ دیا اور صاف الفاظ میں حکم الٰہی کو وحشیانہ کہہ کر اسلام کی آخری کڑی نماز سے بھی فارغ ہوگئے۔ غرض رسول اللہ ﷺ کی وہ بات سچی ہوگئی : (لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتّٰی لَوْ سَلَکُوْا حُجْرَ ضَبٍّ لَسَلَکْتُمُوْہُ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم ؑ : 3456، عن أبي سعید ؓ ]”تم اپنے سے پہلوں کے طریقوں پر چل نکلو گے (جس طرح) بالشت بالشت کے ساتھ اور ہاتھ ہاتھ کے ساتھ (برابر ہوتا ہے) حتیٰ کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اس میں ضرور داخل ہو گے۔“ نتیجہ مسلمانوں کی غلامی اور اللہ کے دشمنوں کے ان پر مسلط ہونے کی صورت میں سب کے سامنے ہے، جسے اللہ نے ”غَیًّا“ (گمراہی) فرمایا ہے۔ علاج اس کا بھی وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں بیان فرمایا ہے۔
فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا : ”گمراہی کو ملیں گے“ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا و آخرت دونوں میں جنت کی راہ نہیں پاسکیں گے اور اس سے بھٹکے ہی رہیں گے۔ ابن عباس ؓ نے ”غَيًّا“ کی تفسیر خسارا فرمائی ہے۔ [ طبري بسند ثابت ] ”غَيًّا“ کی تفسیر جہنم کی ایک وادی یا کنواں صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے یا ابن مسعود ؓ سے ثابت نہیں۔ ہاں، یہ درست ہے کہ ساری کی ساری جہنم ہی گمراہی کا انجام بد ہے، جسے مجرم جا ملیں گے۔
Ayah 19:60اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ۔۔ : نماز ضائع کرنے اور خواہشات کی پیروی جیسی بیماریوں کے لیے نسخۂ شفا توبہ، ایمان اور عمل صالح ہے۔ توبہ، ایمان اور عمل صالح، یعنی نماز کی پابندی اور اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے والا شخص جنت میں داخل ہوگا اور اس کا کوئی اجر مارا نہ جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ) [ ابن ماجہ، الزھد، باب ذکر الذنوب : 4250، عن أبي عبداللہ بن مسعود ؓ و حسنہ الألباني ] ”گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس کا کوئی گناہ نہ ہو۔“
Ayah 19:61جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ۔۔ : ہمیشگی کی جنتوں کا وعدہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے اپنے رحمٰن ہونے اور بندوں کو اپنا بندہ کہنے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی رحمت کس قدر بےحساب و بےکنار ہے اور فرماں بردار بندوں سے اس کا تعلق کتنا گہرا اور پیارا ہے۔ ”بن دیکھے“ کا مطلب یہ ہے کہ بندوں سے اس رحمٰن نے وعدہ کیا ہے جس رحمٰن کو انھوں نے نہیں دیکھا، یعنی بن دیکھے اس پر ایمان لائے ہیں۔ دوسرا معنی ہے کہ رحمٰن نے ان سے ایسی جنتوں کا وعدہ کیا ہے جو انھوں نے دیکھی نہیں مگر انھیں دیکھے بغیر ہی ان کے ملنے کا یقین ہے، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ رحمٰن کا وعدہ ہمیشہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔ ”اِنَّ“ تعلیل کے لیے ہے۔ ”مَاْتِيًّا“ ”أَتَی یَأْتِيْ“ سے اسم مفعول ہے۔ اللہ کا وعدہ جنت ہے اور اس کے بندے یقیناً اس میں آنے والے ہیں، یہ بات اس لیے فرمائی کہ عموماً لوگ ان دیکھی چیزوں کے کیے ہوئے وعدے پورے نہیں کرتے۔ (بقاعی) اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہنے پر مشتمل آیات کے لیے دیکھیے سورة رعد (31) ، آل عمران (194، 195) ، بنی اسرائیل (108) ، مزمل (17، 18) اور فرقان (15، 16)۔
Ayah 19:62لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا : اہل ایمان کے لیے دنیا میں ایک شدید تکلیف لغو کلام سننا ہے، جسے وہ سننا نہیں چاہتے۔ اس تکلیف کا اندازہ اور اس سے بچے رہنے کی نعمت کی قدر صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنھیں اس سے سابقہ پڑا ہو۔ جنت میں انھیں ایسی باتوں کے بجائے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے یا ایک دوسرے کی طرف سے سلام کی آواز آئے گی۔ دیکھیے سورة یس (58) اور سورة رعد (23، 24) یا ایسی بات سنائی دے گی جو ہر طرح کی تکلیف سے پاک اور سراسر سلامتی والی ہوگی، یعنی کوئی لغو یا تکلیف دہ بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔
بُكْرَةً وَّعَشِيًّا : بظاہر معنی یہ ہے کہ اتنی دیر کے بعد جتنی دیر کے بعد دنیا میں صبح سے شام ہوتی ہے مگر یہ معنی راجح نہیں، کیونکہ اتنی دیر تو دنیا میں کھانے پینے سے صبر کرنا مشکل ہے، تو وہ جنت ہی کیا ہوئی جس میں صرف صبح و شام راشن ملے۔ اس لیے اس کا معنی ہر وقت اور ہمیشہ ہے، یعنی ہر وقت جب بھی انھیں کھانے کی یا لذت کی کسی بھی چیز کی خواہش ہوگی، کیونکہ جنت میں دنیا کی طرح کا نہ دن ہوگا اور نہ رات۔ صبح شام بول کر ہمیشگی مراد لینا صرف عربی ہی نہیں ہر زبان کا عام محاورہ ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ جنتیوں کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی انھیں خواہش ہوگی، خواہ کسی وقت خواہش ہو۔ دیکھیے سورة زخرف (71)۔
Ayah 19:63تِلْكَ الْجَــــنَّةُ الَّتِيْ نُوْرِثُ۔۔ : یعنی جنت کا وارث وہ ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کفر و شرک اور گناہوں سے بہت بچنے والا ہو۔ اس آیت میں متقی لوگوں کو جنت کا وارث بنانے کا ذکر ہے۔ یہی بات سورة مومنون (1 تا 10) اور اعراف (42، 43) میں بیان کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل جنت کس کے وارث بنیں گے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ان کے باپ آدم کو جنت ملی تھی اور اولاد اپنے باپ کی جائداد کی وارث ہوتی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم دونوں میں بنی آدم کی جگہ بنائی ہے۔ اہل جہنم اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جنت میں اپنی جگہ سے محروم ہوجائیں گے تو اس کے وارث جنتی ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ فَیَقُوْلُ لَوْلاَ أَنَّ اللّٰہَ ہَدَانِیْ فَیَکُوْنُ لَہُ شُکْرٌ، وَ کُلُّ أَہْلِ النَّارِ یَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ لَوْلاَ أَنَّ اللّٰہَ ہَدَانِیْ فَیَکُوْنُ عَلَیْہِ حَسْرَۃٌ) [ صحیح الجامع : 4514۔ مسند أحمد : 2؍512، ح : 10663۔ مستدرک حاکم : 2؍436، ح : 3629، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”تمام اہل جنت آگ میں اپنا ٹھکانا دیکھیں گے تو کہیں گے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے مجھے ہدایت دی (تو میں یہاں ہوتا) ، تو وہ بہت شکر کرے گا اور تمام اہل نار جنت میں اپنی جگہ دیکھیں گے تو کہیں گے، اگر ایسا ہوتا کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہدایت دے دیتا (تو میں یہاں ہوتا) ، تو اس کے لیے بہت حسرت ہوگی۔“ مگر اس جواب میں یہ خیال گزرتا ہے کہ جنتیوں کو صرف جہنمیوں والی جگہ بطور میراث ملے گی، حالانکہ جنت میں ان کا اپنا حصہ بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ) [ آل عمران : 133 ] ”(یہ جنت) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“ لہٰذا یہ معنی مرجوح ہے۔ اس لیے اکثر مفسرین نے ”نُوْرِثُ“ کا معنی یہ کیا ہے کہ ہم متقی لوگوں کو ہر طرح سے اس کا مالک بنادیں گے، وہ کبھی ان سے واپس نہ لی جائے گی، بلکہ وہ میراث کی طرح انھی کی ہوجائے گی، کیونکہ کسی چیز کی ملکیت حاصل ہونے کی سب سے پکی صورت میراث ہے، اس لیے کہ ملکیت حاصل ہونے کی دوسری تمام صورتوں میں ملکیت چھننے کی گنجائش ہوتی ہے، بیع ہو یا ہبہ یا غصب، اس کا مالک اسے واپس لے سکتا ہے، یا بدل سکتا ہے، مگر وارث کو یہ فکر نہیں ہوتی۔ یہ معنی بھی مضبوط ہے۔
Ayahs 19:64–65وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ : ”نَنْزِلُ“ کے بجائے ”نَتَنَزَّلُ“ اس لیے فرمایا کہ باب تفعّل میں ٹھہر ٹھہر کر کام کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم وقفے وقفے سے، ٹھہر ٹھہر کر تیرے رب ہی کے حکم سے اترتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : (قَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِیْلَ : مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَزُوْرَنَا أَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرَنَا فَنَزَلَتْ : (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۚ لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا وَمَا خَلْفَنَا) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (وما نتنزل إلا بأمر ربک۔۔) : 4731 ]”ایک مرتبہ نبی ﷺ نے جبریل ؑ سے کہا : ”آپ ہماری ملاقات کے لیے جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟“ تو یہ آیت اتری : (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ) شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ نے یہ کلام سکھایا جبریل ؑ کو کہ جواب میں یوں کہو۔ سو یہ کلام ہے اللہ کا جبریل کی طرف سے، جیسا کہ ”اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ“ ہم کو سکھایا۔
لَهٗ مَا بَيْنَ اَيْدِيْــنَا۔۔ : یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم اپنی مرضی سے اترنے کا اختیار نہیں رکھتے، بلکہ ہم اپنی مرضی سے کسی کام کا اختیار بھی نہیں رکھتے، کیونکہ جو کچھ ہمارے آگے ہے، یا ہمارے پیچھے ہے، یا اس کے درمیان ہے، یعنی دائیں اور بائیں ہے، چاروں جہتوں کی ہر چیز کا مالک صرف اللہ ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان کے مابین اشیاء کا رب بھی وہی ہے۔ اس میں اوپر نیچے کی جہتیں اور ان کے درمیان کی ہر چیز بھی آگئی، اس کے علاوہ جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانے بھی آگئے، یعنی جس ہستی کا قبضہ، ملکیت اور ربوبیت اتنی مستحکم اور وسیع ہے کہ زمان و مکان میں سے کوئی چیز اس سے باہر نہیں، تو اس کی مرضی کے بغیر زمین پر اترنا تو کجا ہم کوئی حرکت بھی نہیں کرسکتے۔rnۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا : ”نَسِـيًّا“ ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر مبالغہ ہے، بہت بھولنے والا۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ وہ بہت بھولنے والا تو نہیں مگر کم بھولتا ہے، بلکہ اس طرح مبالغے کا لفظ آئے تو مبالغے کی نفی مراد نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے، اس لیے معنی یہ ہوگا کہ تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔ کبھی کا مفہوم ”کَانَ“ سے واضح ہو رہا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْد) دیکھیے سورة آل عمران (182) اور انفال (51) کی تفسیر۔ یہاں رب تعالیٰ سے بھولنے کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ جبریل ؑ اگر دیر سے اتریں تو یہ مطلب نہیں کہ آپ کے رب نے آپ کو بھلا دیا ہے، جیسا کہ یہ مشرکین باتیں بنا رہے ہیں، وہاں بھولنے کا تو کسی طرح سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کی حکمت کا تقاضا جبریل ؑ کا اجازت کے ساتھ وقفے سے آنا ہی ہے۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورة ضحی کی تفسیر۔ ابودرداء ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَا أَحَلَّ اللّٰہُ فِيْ کِتَابِہِ فَھُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ وَمَا سَکَتَ عَنْہُ فَہُوَ عَافِیَۃٌ فَاقْبَلُوٓا مِنَ اللّٰہِ الْعَافِیَۃَ فَإِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُنْ نَسِیًّا، ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ : (ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا) [ مستدرک حاکم : 2؍375، ح : 3419 و سندہ حسن (حکمت بن بشیر) ]”اللہ نے جو کچھ اپنی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی وہ معاف ہے، کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کوئی چیز بھول جائے۔“ پھر یہ آیت پڑھی : (ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِـيًّا)۔“
”وَاصْطَبِرْ“ ”صَبَرَ یَصْبُرُ“ سے باب افتعال کا فعل امر ہے۔ ”تاء“ کو ”طاء“ کردیا اور حرف زیادہ ہونے سے معنی زیادہ ہوگیا، خوب صابر رہ، یعنی اس کی بندگی کرتے رہیے اور اس راہ میں جو مصائب و مشکلات پیش آئیں ان کا پورے صبر کے ساتھ مقابلہ کیجیے، اگر ہماری طرف سے کبھی یاد فرمائی یا مدد یا تسلی دینے میں کچھ تاخیر ہوجائے تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا : وہ دو شخص جن کا نام ایک ہو، ایک دوسرے کے ”سَمِيٌّ“ (ہم نام) کہلاتے ہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ فرماتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں سب اس کی صفت ہیں، یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا ؟“ (موضح) یہاں ”سمیا“ کا معنی ”نظیر“ اور ”مثیل“ ہے۔ گویا اس آیت اور دوسری آیت : (لَیْسَ کَمِثْلِهٖ شَیْءٌ) [ الشوریٰ : 11 ] کا معنی ایک ہی ہے، یعنی جب اس جیسا آپ کسی کو نہیں سمجھتے تو پھر اس کے سوا چارہ کیا ہے کہ اس کے راستے پر چلتے رہیے۔
”وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ“ کے ربط کے لیے دیکھیے سورة قیامہ کی آیت (16) : (لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ) کی تفسیر۔
Ayah 19:66ۧوَيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَ اِذَا مَا مِتُّ۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یس (77 تا 79)۔