Ayah 19:67اَوَلَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ۔۔ : تو کیا جس ذات پاک نے اس وقت اسے پیدا فرمایا جب یہ کچھ بھی نہ تھا، اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندگی دے سکے ؟ دوبارہ زندہ کرنے کی یہ سب سے قوی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة دہر (1، 2) ، واقعہ (43 تا 62) ، روم (27) ، حج (5) ، بنی اسرائیل (51) اور انبیاء (104) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ تَعَالٰی کَذَّبَنِيْ ابْنُ آدَمَ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ ذٰلکَ ، وَشَتَمَنِيْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ ذٰلِکَ ، فَأَمّا تَکْذِیْبُہُ إِیَّايَ فَقَوْلُہُ : لَنْ یُعِیْدَنِيْ کَمَا بَدأَنِيْ ، وَ لَیْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَھْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِہِ ، وَ أَمَّا شَتْمُہُ إِیَّايَ فَقَوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا، وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُوْلَدْ ، وَلَمْ یَکُنْ لِّيْ کُفُوًا أَحَدٌ) [ بخاري، التفسیر، باب تفسیر سورة (قل ھو اللّٰہ أحد) : 4974، عن أبي ہریرہ ؓ ]”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا اور ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ یہ اس کا حق نہ تھا، اس کا مجھے جھٹلانا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح اس نے مجھے پہلے پیدا کیا دوبارہ پیدا نہیں کرے گا، حالانکہ مجھے پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں اور رہا اس کا مجھے گالی دینا، تو اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے، حالانکہ میں ایک ہوں، بےنیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ کسی نے مجھے جنا اور نہ ہی کبھی میرا کوئی ہمسر ہے۔“
Ayah 19:68فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ۔۔ :”جِثِيًّا“ ”جَثَا یَجْثُوْ جُثُوًّا“ اور ”جَثَی یَجْثِیْ جَثِیًّا“ (ن، ض) سے اسم فاعل ”جَاثٍ“ (اَلْجَاثِیْ) کی جمع ہے، گھٹنوں کے بل گرنے والے۔ قیامت کے منکروں کو اس کا یقین دلانے کے لیے قسم اٹھا کر فرمایا کہ تیرے رب کی قسم ہے کہ ہم انھیں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے۔ شیطانوں میں قرین بھی شامل ہیں (دیکھیے سورة ق : 23) اور ابلیس کی اولاد اور انسانوں میں سے گمراہ کرنے والے شیطان بھی۔ دیکھیے سورة انعام (112) جہنم کے گرد ان کی حاضری کی تصویر دکھانے کے لیے فرمایا کہ وہ جہنم کے گرد نہایت ذلیل و خوار اور خوف زدہ ہو کر گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے اور ان میں کھڑا ہونے کی طاقت نہیں ہوگی۔ دیکھیے سورة جاثیہ (28)۔
”تیرے رب کی قسم“ اس میں دو فائدے حاصل ہو رہے ہیں، ایک تو قسم کی وجہ سے بات کی تاکید، دوسرا رسول اللہ ﷺ کی شان کی رفعت، جیسا کہ سورة ذاریات کی آیت (23) : (فَوَرَبِّ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ) سے آسمان و زمین کی عظمت ظاہر ہو رہی ہے۔ (طنطاوی)
Ayah 19:69ۚثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ۔۔ : ”عِتِيًّا“ ”عَتَا یَعْتُوْ“ سے ”عُتُوًّا“ کی طرح مصدر ہے، تکبر، سرکشی، حد سے گزرنا۔ ”شِيْعَةٍ“ وہ گروہ جو ایک ہی قسم کا ہو، یعنی پھر ہم ہر باغی گروہ میں سے اس کے سب سے بڑے سرکش اور پیشوا کو، جس نے انھیں کفر و شرک میں پھنسایا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی کی راہ دکھائی، نکال کر الگ کھڑا کریں گے اور ایسے لوگوں کو سب سے پہلے جہنم میں جھونکیں گے، کیونکہ انھوں نے دو جرم کیے، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، پھر درجہ بدرجہ ان کے پیروکاروں کی باری آئے گی۔ دیکھیے سورة اعراف (38، 39) ، نحل (25) اور عنکبوت (13)۔
Ayah 19:70ۚثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بالَّذِيْنَ هُمْ۔۔ : ”صِلِيًّا“ ”صَلِیَ یَصْلٰی“ بروزن ”رَضِیَ یَرْضَی“ کا مصدر ہے، آگ میں داخل ہو کر اس کی تپش کی تکلیف اٹھانا، یعنی پھر ہمیں خوب معلوم ہے کہ اس جہنم میں جھونکے جانے کے زیادہ لائق کون ہے اور وہ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے دونوں ہیں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : (قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ) [ الأعراف : 38 ] ”اللہ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا (عذاب) ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“ کیونکہ گمراہ ہونے والوں نے بھی کئی لوگوں کو گمراہ کیا۔
Ayah 19:71وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا۔۔ : لغت کے اعتبار سے ”وارد ہونے“ کے معنی ”داخل ہونا“ اور ”اوپر سے گزرنا“ دونوں ہوسکتے ہیں، اس لیے ترجمہ ”وارد ہونے والا“ ہی کردیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ”وارد ہونے“ سے مراد جسر (پل) سے گزرنا ہے، جسے بعض احادیث میں ”صراط“ بھی کہا گیا ہے۔ عام لوگوں نے فارسی اور عربی کو جمع کرکے اس کا نام ”پل صراط“ رکھ لیا ہے۔ یہ پل چونکہ جہنم کے اوپر رکھا جائے گا، اس لیے یہ جہنم پر سے گزرنا ہی ہے۔ متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ہر نیک و بد اور ہر کافر و مومن کو اس پل پر سے گزرنا پڑے گا۔ جن مفسرین نے اس کے معنی ”داخل ہونا“ کیے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حدیث کے مطابق ”تَحِلَّۃَ الْقَسْمِ“ یعنی قسم پوری کرنے کے لیے ہر مومن و کافر ایک مرتبہ جہنم میں داخل ہوگا، مگر مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور باعث رحمت بنادی جائے گی۔ مگر پہلا معنی راجح ہے، اگر کسی حدیث میں لفظ ”دخول“ (داخل ہونا) آیا ہے تو صراط والی حدیث کے مطابق اس سے مراد بھی گزرنا ہے۔ اس معنی سے کتاب و سنت کے دلائل کے درمیان تطبیق ہوجاتی ہے۔
Ayah 19:72ۚثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا۔۔ : یعنی پھر ہم پرہیزگاروں کو جہنم سے بچا لیں گے (صراط سے سلامت گزار کر یا صراط سے جہنم میں گرنے کے بعد) اور کافروں کو ہمیشہ کے لیے اسی میں گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین اور عام مسلمان جہنم کے اوپر صراط سے اپنے اعمال کے مطابق تیزی سے یا گرتے پڑتے گزر جائیں گے اور کافر اور زیادہ گناہ گار مسلمان پل پر سے جہنم میں گرپڑیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو سزا پوری ہونے کے بعد یا شفاعت سے یا محض اپنے فضل سے جہنم سے نکال لے گا اور صرف کافر و مشرک ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ اس کی دلیل ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے آخرت میں رب تعالیٰ کو دیکھنے کا ذکر فرمایا، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (ثُمَّ یُؤْتی بالْجَسْرِ فَیُجْعَلُ بَیْنَ ظَھْرَيْ جَھَنَّمَ ، قُلْنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَمَا الْجَسْرُ ؟ قالَ مَدْحَضَۃٌ مَزِلَّۃٌ عَلَیْہِ خَطَاطِیْفُ وَکَلاَلِیْبُ ، وَحَسَکَۃٌ مُفَلْطَحَۃٌ لَھَا شَوْکَۃٌ عَقِیْفَۃٌ تَکُوْنُ بِنَجْدٍ ، یُقَالُ لَھَا السَّعْدَانُ ، الْمُؤْمِنُ عَلَیْھَا کَالطَّرْفِ وَکَالْبَرْقِ وَکَالرِّیْحِ وَکَأَجَاوِیْدِ الْخَیْلِ وَالرِّکَابِ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَنَاجٍ مَخْدُوْشٌ، وَمَکْدُوْسٌ فِيْ نَارِ جَھَنَّمَ ، حَتّٰی یَمُرَّ آخِرُھُمْ یُسْحَبُ سَحْبًا، فَمَا أَنْتُمْ بِأَشَدَّ لِيْ مُنَاشَدَۃً فِي الْحَقِّ ، قَدْ تَبَیَّنَ لَکُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِ یَوْمَءِذٍ لِلْجَبَّارِ ، وَ إِذَا رَأَوْا أَنَّھُمْ قَدْ نَجَوْا فِيْ إِخْوَانِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَیَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَیَعْمَلُوْنَ مَعَنَا، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالَی : اذْھَبُوْا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِيْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ دِیْنَارٍ مِنْ إِیْمَانٍ فَأَخْرِجُوْہُ۔۔ فَیَشْفَعُ النَّبِیُّوْنَ وَالْمَلَاءِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ بَقِیَتْ شَفَاعَتِيْ ، فَیَقْبِضُ قَبْضَۃً مِنَ النَّارِ فَیُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوْا) [ بخاری، التوحید، باب : (وجوہ یومئذ ناضرۃ۔۔) : 7439، عن أبي سعید الخدري ؓ] ”پھر حسر (پل) کو لایا جائے گا اور اسے جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا۔“ ہم نے کہا : ”یا رسول اللہ ! اور وہ حسر (پل) کیا چیز ہے ؟“ آپ نے فرمایا : ”وہ بہت پھسلانے والا ہے، اس پر کنڈے اور آنکڑے ہیں اور بہت چوڑے گوگھرو (ایک کانٹا جو سہ گوشہ ہوتا ہے) ، جن میں مڑے ہوئے کانٹے ہیں، جو نجد میں ہوتے ہیں، انھیں سعدان کہتے ہیں، مومن اس پر سے نگاہ کی طرح اور بجلی کی طرح اور آندھی کی طرح اور بہترین گھڑ سواروں اور اونٹ کے سواروں کی طرح گزر جائیں گے، پھر کوئی صحیح سلامت بچ کر نکلنے والا ہوگا، کوئی زخمی ہو کر بچ نکلنے والا، کوئی جہنم کی آگ میں گرا دیا جانے والا، یہاں تک کہ ان کا آخری شخص گھسٹتا ہوا گزر جائے گا۔ تو تم مجھ سے اس حق کا، جو بالکل واضح ہوچکا ہو، اس سے زیادہ مطالبہ کرنے والے نہیں جس قدر مومن اپنے بھائیوں کے بارے میں اس دن جبار (اللہ تعالیٰ) سے مطالبہ کرے گا اور اس وقت جب وہ دیکھیں گے کہ وہ بچ نکلے ہیں، کہیں گے، اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا، جاؤ اور جسے پاؤ کہ اس کے دل میں دینار کے برابر ایمان ہے اسے نکال لو۔۔ (لمبی حدیث ہے جس میں نصف دینار کے برابر ایمان والوں کو، پھر ذرہ برابر ایمان والوں کو آگ سے نکالنے کا ذکر ہے) چناچہ انبیاء، فرشتے اور مومن شفاعت کریں گے، پھر جبار فرمائے گا، میری شفاعت باقی رہ گئی تو وہ آگ میں سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہوچکے ہوں گے۔“
Ayah 19:73وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ۔۔ : ”مَّقَامًا“ جائے قیام، یعنی رہنے کی جگہ، گھر وغیرہ۔ ”نَدِيًّا“ ”نَدَوْتُ الْقَوْمَ أَنْدُوْھُمْ“ (میں نے قوم کو جمع کیا) سے ہے۔ ”اَلنَّادِیْ“ ”اَلنَّدِیُّ“ اور ”اَلْمُنْتَدَی“ کا معنی لوگوں کی مجلس، اکٹھے ہونے کی جگہ۔ کفار جب اللہ تعالیٰ کی واضح آیات سنتے اور ان کا حق ہونا اس قدر واضح ہوتا کہ وہ کسی صورت نہ ان کا جواب دے پاتے اور نہ غلط کہہ سکتے، تو اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے اور اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے دنیوی لحاظ سے کمزور ایمان والوں سے کہتے کہ اپنی حالت اور ہماری حالت دیکھو ! کس کے رہنے کے مکانات بہتر اور کس کی مجلس زیادہ شان و شوکت والی اور سجی ہوئی ہے ؟ گویا انھوں نے دنیوی سازو سامان اور شان و شوکت کو اپنے حق پر ہونے اور اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے کی دلیل قرار دیا۔ قرآن مجید میں تمام انبیاء کے زمانے کے کفار کی یہی سوچ بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة احقاف (11) ، انعام (53) ، سبا (35) ، مومنون (55، 56) ، مریم (77) ، کہف (35، 36) اور حم السجدہ (50)۔
Ayah 19:74وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ۔۔ : ”اَثَاثًا“ گھر کا سازو سامان جس میں اونٹ، گھوڑے، بھیڑ بکریاں اور غلام وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ”رِءْیاً“ ”رَأَیَ یَرَی“ (ف) کا مصدر ہے، بمعنی مفعول یعنی دیکھنے کی چیزیں۔ مصدری معنی بھی ہوسکتا ہے، جیسا کہ ترجمہ میں کیا گیا ہے۔ یعنی جب نافرمانی کے بعد ان سے کہیں بڑھ کر سازو سامان اور شان و شوکت والوں کو ان کی دنیوی خوش حالی ہمارے عذاب سے نہ بچا سکی تو یہ بےچارے کس شمار و قطار میں ہیں ؟ حقیقت میں دنیا کے ٹھاٹھ باٹ اور جاہ و جلال پر پھولنا اور نادار مسلمانوں کو حقیر جاننا پرلے درجے کی حماقت ہے۔
Ayah 19:75قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ۔۔ : اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار سے کیا کہیں ؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو، آؤ ! مباہلہ کرلیں اور ہم تم دونوں مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہم دونوں میں سے جو فریق گمراہی پر ہے اسے اللہ تعالیٰ ایک مدت تک مہلت دے اور اسے اس کی اسی حالت میں رکھے، تاکہ کفار جب اس استدراج اور مہلت کی وجہ سے کفر کی حالت میں فوت ہوں تو انھیں پتا چل جائے کہ کس کے رہنے کی جگہ بد ترین اور کس کا لشکر اور جتھا کمزور ترین ہے۔ اس تفسیر میں ”فَلْيَمْدُدْ“ کو اصل معنی ”امر“ پر رکھا گیا ہے۔ ابن کثیر اور ابن جریر نے صرف یہی تفسیر فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال سورة آل عمران کی آیت (61) اور سورة بقرہ کی آیت (94) ہے۔ (شنقیطی)
3 دوسری تفسیر اس آیت کی یہ ہے کہ اس سوال کے جواب میں کہ ہم کفار کی اس دلیل کا کیا جواب دیں ؟ حکم ہوا کہ ان سے کہو کہ جو لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ نے طے کر رکھا ہے کہ انھیں کچھ نہ کچھ مہلت دے، تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے۔ یہ نہ کہیں کہ ہمیں سوچنے کا وقت نہیں ملا۔ پھر جب دنیا ہی میں مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوں گے، یا موت کے وقت اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے، تو خود ہی اچھی طرح جائزہ لے لیں گے کہ کس کی رہنے کی جگہ زیادہ بری اور کس کا جتھا اور لشکر زیادہ کمزور ہے۔ آیت میں لفظ ”الرَّحْمٰنُ“ کی حکمت یہ ہے کہ گمراہوں کو مہلت دینا اللہ تعالیٰ کی بےانتہا رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر کفر سے توبہ کرلیں۔ قرآن مجید میں کئی آیات میں یہ بات مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (178) ، انعام (44) ، سبا (17) اور قلم (44، 45) اس تفسیر کی صورت میں ”فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ“ میں امر بمعنی خبر ہے۔ یہ معنی زیادہ قوی ہے، کیونکہ اس کے بعد والی آیت : (وَيَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى) میں فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کی گمراہی میں مہلت دیتا ہے، اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔
Ayah 19:76وَيَزِيْدُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى : یعنی جس طرح گمراہوں کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ بدی کے راستے میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اسی طرح ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی مزید نیک کام کرنے کی توفیق دیتا جاتا ہے، جس سے وہ اس کی خوشنودی کے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پھر ایمان کے بعد اخلاص کی دولت سے نوازنا بھی ”زَادَھُمْ ھُدًی“ (انھیں ہدایت کی مزید توفیق دینا) میں داخل ہے۔ (کبیر)
وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة کہف کی آیت (46)۔
Ayah 19:77اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا۔۔ : اوپر کی آیات میں حشر کے یقینی ہونے کے دلائل بیان فرمائے اور کفار کے شبہات کا جواب دیا تھا، اب ان لوگوں کا قول نقل فرمایا جو حشر میں طعن کرتے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ صحیحین میں ہے، خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں : (کُنْتُ قَیْنًا فِي الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ لِيْ عَلَی الْعَاصِ بْنِ وَاءِلٍ دَیْنٌ فَأَتَیْتُہُ أَتَقَاضَاہٗ ، قَالَ : لاَ أُعْطِیْکَ حَتّٰی تَکْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لاَ أَکْفُرُ حتّٰی یُمِیْتَکَ اللّٰہُ ثُمَّ تُبْعَثَ ، قَالَ دَعْنِيْ حتّٰی أَمُوْتَ وَ أُبْعَثَ فَسَأُوْتِیْ مَالًا وَوَلدًا فَأَقْضِیْکَ فَنَزَلَتْ : (اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ كَفَرَ بِاٰيٰتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا 77ۭاَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا) [ بخاری، البیوع، باب ذکر الفین والحداد : 2091۔ مسلم، : 35، 36؍ 2795 ] ”میں زمانۂ جاہلیت میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا اور میرا عاص بن وائل (ایک مال دار کافر) پر کچھ قرض تھا۔ میں (ایک دن) تقاضے کے لیے اس کے پاس گیا، وہ کہنے لگا : ”میں تمہارا قرض اس وقت تک ادا نہیں کروں گا جب تک تم محمد ﷺ کی رسالت سے انکار نہ کرو۔“ خباب ؓ نے کہا : ”اللہ کی قسم ! میں (محمد ﷺ کی رسالت سے) ہرگز انکار نہیں کروں گا، یہاں تک کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہوجائے۔“ کافر کہنے لگا : ”جب میں مر کر دوبارہ زندہ ہوں گا تو تم میرے پاس آنا، اس وقت میرے پاس خوب مال بھی ہوگا اور اولاد بھی، میں تمہارا قرض ادا کروں گا۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ (چار آیات ”فَرْداً“ تک) نازل فرمائیں۔“ اس واقعہ میں کفار کا قیامت سے مذاق کی صورت میں انکار کرنا بھی ہے اور اس کے خیال میں بالفرض قائم ہونے کی صورت میں دنیا پر قیاس کرتے ہوئے وہاں بھی مال و اولاد ملنے کے یقین کا اظہار بھی ہے۔ ایک ہی سانس میں اللہ تعالیٰ کے قیامت قائم کرنے پر قادر ہونے سے انکار ہے اور اسی سانس میں قیامت کے دن اسے مال و اولاد دینے پر قادر ہونے کا اظہار ہے۔ مشرک ایسے ہی جاہل ہوتے ہیں۔ یہاں چونکہ زیادہ نمایاں قیامت کے دن دنیا کی طرح مال و اولاد ملنے کے یقین کا اظہار ہے، اس لیے اس سے پہلے آیات (73، 74) میں اس کا رد کیا ہے، اب مزید تین آیات میں اس کا رد فرمایا ہے۔
Ayah 19:78اَطَّلَعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ۔۔ : یعنی یہ بات تو ”کہ وہ جنت میں جائے گا اور خوب مال و دولت پائے گا“ وہی کرسکتا ہے جس نے غیب پر اطلاع پائی ہو، یا اس بیحد رحم والی ذات پاک سے کوئی عہد لے رکھا ہو جس نے اپنی بیحد رحمت کی بنا پر اپنے فرماں بردار بندوں سے انعام کا عہد کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ علم غیب جب پوری مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں تو اسے کیسے حاصل ہوگیا ؟ رہا قیامت کے دن نعمتوں کا عہد، تو وہ رحمت کے حق داروں ہی سے ہے، جو ایمان دار ہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ (218) اس کافر سے وہ عہد کب اور کیسے ہوا ؟
Ayah 19:79”كَلَّا“ یہ لفظ انکار اور ڈانٹ کے لیے آتا ہے، یعنی یہ دونوں باتیں ہرگز نہیں ہیں، تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ اس نے اپنے پاس سے ایک جھوٹی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دی ہے۔ یہاں سورة مریم میں اس تیسری بات کا ذکر نہیں، کیونکہ اس سے پہلے سورة بقرہ میں یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے یہ بات گزر چکی ہے اور قرآن کی آیات ایک دوسری کی تفسیر کرتی ہیں، فرمایا : ( وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ۭ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ) [ البقرۃ : 80 ] ”اور انھوں نے کہا ہمیں آگ ہرگز نہیں چھوئے گی مگر گنے ہوئے چند دن۔ کہہ دے کیا تم نے اللہ کے پاس کوئی عہد لے رکھا ہے ؟ تو اللہ کبھی اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔“ (شنقیطی)
وَنَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا : یعنی ہم اسے کئی گنا زیادہ عذاب دیں گے، ایک عذاب کفر کا، ایک استہزا اور مذاق اڑانے کا، ایک اللہ کی راہ سے روکنے کا، ایک دوسروں کو کفر کی راہ پر لگانے کا، ایک فساد پھیلانے کا۔ مزید دیکھیے سورة نحل (88) ، اعراف (38) اور عنکبوت (13) اسی طرح دنیا میں بھی مال و اولاد اور ہر قسم کی زیب و زینت کے ذریعے سے اسے عذاب دیں گے، پھر موت اور آخرت میں مزید عذاب دیں گے، فرمایا : (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا) [ التوبۃ : 85 ] ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان (اموال و اولاد) کے ذریعے سے دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔“
Ayah 19:80ۙوَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ : یعنی جس مال و اولاد پر یہ فخر کر رہا ہے اس کے ہلاک ہونے کے بعد ان سب کے وارث ہم بنیں گے، جیسا کہ اسی سورت میں ارشاد فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ) [ مریم : 40 ] ”بیشک ہم، ہم ہی اس زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔“
وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا : یعنی قیامت کے دن جب ہمارے پاس آئے گا تو اس کے ساتھ نہ اولاد ہوگی، نہ مال اور نہ کوئی جتھا۔ دیکھیے سورة انعام (94)۔
Ayah 19:81وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً۔۔ : حشر و نشر کے بیان کے بعد اب ان کے بنائے ہوئے معبودوں کی نفی ہے، خواہ انسان ہوں یا فرشتے یا جن یا بت یا آستانے یا قبریں۔ یعنی اللہ کے سوا انھوں نے اس لیے معبود بنا رکھے ہیں کہ ضرورت اور حاجت کے وقت اللہ تعالیٰ سے سفارش کرکے کام کروا سکیں، مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے کہہ کر اسے ٹال دیں، یا وہ موت اور قیامت کے وقت ان کو عذاب سے بچا لیں اور اس طرح وہ ان کے لیے قوت و عزت کا باعث بن جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة یونس (18) اور سورة زمر (3) میں مشرکین کا یہی عقیدہ بیان فرمایا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا اور نہ کرسکے گا، آیت الکرسی میں ہے : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ) [ البقرۃ : 255 ] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟“
Ayah 19:82كَلَّا ۭ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ : انکار اس معنی میں کریں گے کہ وہ کہیں گے، ہم نے کبھی ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو، یا ہمیں مصیبت کے وقت پکارو اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ وہ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (28، 29) ، نحل (86) ، قصص (63) ، فاطر (13، 14) اور احقاف (5، 6) اسی طرح کفار بھی اپنے معبودوں کی عبادت سے مکر جائیں گے اور ان کے خلاف ہوجائیں گے، بلکہ قسم کھا کر کہیں گے کہ اللہ کی قسم ! ہم مشرک نہیں تھے۔ دیکھیے سورة انعام (23) بلکہ وہ اور ان کے معبود ایک دوسرے کو لعنت کریں گے۔ دیکھیے عنکبوت (25) اور سورة بقرہ (166، 167)۔
وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا : یعنی بجائے اس کے کہ وہ ان کے لیے بچاؤ یا عزت کا سبب بنیں، الٹا ان کی پکڑ کا سبب بنیں گے اور قیامت کے دن ان کے شدید مخالف اور ان کے لیے باعث حسرت ہوں گے۔ بیشمار معبودوں کے لیے ”ضِدًّا“ واحد کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ ”ضِدًّا“ کا لفظ مصدر ہے، جو واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان پوجنے والوں کے خلاف ان کے معبودوں کے اتحاد و اتفاق کی وجہ سے ان کو ”شَیْءٌ وَاحِدٌ“ (ایک ہی چیز) فرض کرکے واحد کا صیغہ لایا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام مسلمانوں کے متعلق فرمایا : (وَ ھُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاھُمْ) [ أبوداوٗد، الدیات، باب أیُقاد المسلم من الکافر ؟ : 4530۔ نسائی : 4738۔ صحیح الجامع : 6666 ] ”وہ اپنے سوا سب کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہوتے ہیں۔“
Ayah 19:83ۧاَلَمْ تَرَ اَنَّآ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ۔۔ :”اَزَّا“ قاموس میں ہے : ”أَزَّ یَءِزُّ“ اور ”اَزَّ یَؤُزُّ اَزًّا“ (ض، ن) ”أَزَّ الشَّیْءَ“ اس نے کسی چیز کو سخت حرکت دی۔ ”اَزَّ النَّارَ“ اس نے آگ کو بھڑکایا۔ ”اَزَّتِ الْقِدْرُ“ ہانڈی سخت ابلنے لگی۔ ”أَزِیْزٌ کَأَزِیْزِ الْمِرْجَلِ“ ہانڈی ابلنے جیسی آواز۔ یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کافر لوگ، جنھوں نے طے کر رکھا ہے کہ انھوں نے کسی صورت حق کو تسلیم نہیں کرنا، ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کردیا ہے، جو انھیں برائی پر شدت سے ابھارتے رہتے ہیں اور انھیں گناہوں کی آگ میں اس طرح مسلسل جھونکے رکھتے ہیں کہ وہ اسی پیچ و تاب میں ہانڈی کی طرح ابلتے اور شعلوں کی طرح بھڑکتے رہتے ہیں۔ (بقاعی) اس آیت کی ہم معنی اور وضاحت کرنے والی آیات کے لیے دیکھیے سورة زخرف (36، 37) ، حم السجدہ (25) ، اعراف (202) اور بنی اسرائیل (64)۔
Ayah 19:84ۙفَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ : یعنی ایسا نہ کریں کہ جس طرح وہ شیاطین کے ابھارنے سے برائیوں میں جلدی کرتے ہیں کہ آپ بھی ان پر جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے لگیں، بلکہ صبر اور حوصلے سے انتظار کریں اور ان پر حجت پوری ہونے دیں۔ دیکھیے سورة احقاف (35) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلتَّأَنِّيْ مِنَ اللّٰہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ) [ مسند أبی یعلٰی : 4256۔ السنن الکبرٰی للبیہقی : 20767۔ سلسلۃ الأحادیث صحیحۃ : 4؍294، ح : 1795، عن أنس ] ”اناۃ (بردباری، وقار، آہستہ روی) اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔“ rnۭ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا : آدمی کے اطمینان، صبر و ثبات اور خوشی کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوسکتی کہ اس کا سب سے زیادہ قوت والا مددگار مسلسل اس کے دشمن کی نگرانی کر رہا ہو اور نہ دشمن کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز پریشان کن ہوسکتی ہے۔ فرمایا، ہم تو بس ان کو دی ہوئی مہلت کا ایک ایک سانس گن رہے ہیں اور گنی ہوئی چیز نے آخر ختم ہونا ہے، پھر یہ کسی صورت بچ نہیں سکیں گے، تو پھر جلدی کیسی ؟ دیکھیے سورة ہود (8) روزوں کے جلدی گزرنے کی وجہ بھی ”اَیَّاماً مَّعْدُوْدَاتٍ“ فرمائی۔ بعض سلف یہ آیت پڑھتے تو روتے اور کہتے کہ گنتی ختم ہونے کا نتیجہ تیری جان کا نکلنا ہے، تیرا قبر میں داخل ہونا اور تیرا اہل و عیال سے جدا ہونا ہے۔ ایک اور بزرگ نے فرمایا، ہر سانس جو تجھے زندگی بخش رہا ہے تیری زندگی کے سانسوں کی گنتی کم کرتا جا رہا ہے، پھر اس شخص کی زندگی کا کیا حال ہے جسے زندہ رکھنے والی چیز ہی اس کی زندگی کے زوال کا باعث ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے
إِِنَّ الْحَبِیْبَ مِنَ الْأَحْبَابِ مُخْتَلَسٌ
لاَ یَمْنَعُ الْمَوْتَ بَوَّابٌ وَلَا حَرَسُ
وَکَیْفَ یَفْرَحُ بالدُّنْیَا وَلَذَّتِھَا
فَتًی یُعَدُّ عَلَیْہِ اللَّفْظُ وَالنَّفَسُ
”ہر دوست اپنے دوستوں سے اچانک چھین لیا جانے والا ہے۔ موت کو کوئی دربان روک سکتا ہے، نہ کوئی پہرے دار۔ دنیا اور اس کی لذت کے ساتھ کیسے خوش ہوسکتا ہے وہ جوان جس کا ایک ایک لفظ اور سانس گنا جا رہا ہو۔“ (روح المعانی)
Ayahs 19:85–86ۚيَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ۔۔ : ”وَفْدًا“ ”وَافِدٌ“ کی جمع ہے۔ ”وَفَدَ یَفِدُ وَفْدًا وَ وُفُوْدًا“ بروزن ”وَعَدَ یَعِدُ“ کسی کے پاس جانا۔ وفد چند آدمیوں کی جماعت کو کہتے ہیں جو کسی اہم کام کے لیے یا کوئی عطیہ حاصل کرنے کے لیے کسی بادشاہ یا بڑی شخصیت کے پاس جائے۔ ”نَسُوْقُ“ ”سَاقَ یَسُوْقُ سَوْقًا“ بروزن ”قَالَ یَقُوْلُ“ جانوروں کو ہانکنا۔ بعض اوقات کسی کو بھی چلانے کے معنی میں آجاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا) [ الزمر : 73 ] ”اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔“ ”الْمُجْرِمِيْنَ“ جرم وہ گناہ جسے کرنے والا سزا کا حق دار ہو۔ ”وِرْدًا“ ”وَارِدٌ“ کی جمع ہے۔ ”وَرَدَ یَرِدُ وُرُوْدًا“ پانی پینے کے لیے جانا، چونکہ اس مقصد کے لیے پیاسا ہی جاتا ہے، اس لیے ”وِرْدًا“ کا معنی ”پیاسے“ ہے۔ ان آیات میں متقین اور مجرمین کا انجام بیان ہوا ہے۔ پہلی آیت میں رحمٰن کی طرف جانے کا ذکر فرمایا، جنت وغیرہ کا ذکر نہیں فرمایا، یعنی متقی لوگ رحمٰن کے معزز مہمان بن کر جائیں گے۔ دنیا میں شاہی مہمانوں کے قدم زمین پر نہیں ٹکتے، اس دن بیحد و بےانتہا رحم والے، شاہوں کے شاہ کے معزز مہمانوں کے اعزازو اکرام کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟ دوسری آیت میں جہنم کا ذکر ہے، رحمٰن کا ذکر نہیں۔ کیونکہ آخر دم تک جرم سے باز نہ آنے والے مجرم اس رحمٰن کے کسی رحم کے مستحق نہیں جو زمین و آسمان سے بھی زیادہ گناہوں کو سچے دل سے معافی کی ایک درخواست پر معاف کردیتا ہے۔ سورة زمر (71 تا 73) میں متقین اور کفار کے اس مرحلے کا تفصیل سے ذکر آیا ہے۔
Ayah 19:87ۘلَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ۔۔ : یعنی شفاعت کا حق دار وہ ہوگا جسے رحمٰن کے ہاں عہد نجات حاصل ہو۔ اس عہد سے مراد کلمۂ شہادت کا اقرار ہے۔ یہ تفسیر ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے ثابت ہے۔ (ابن کثیر مع حاشیہ حکمت بن بشیر) ایک حدیث میں پنجگانہ نماز کی پابندی کو بھی عہد قرار دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْعَھْدُ الَّذِيْ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمُ الصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ) [ مسند أحمد : 5؍346، ح : 23001۔ ترمذي : 2621۔ ابن ماجہ : 1079، عن بریدۃ ؓ و صححہ الألباني ] ”وہ عہد جو ہمارے اور ان (مشرکین) کے درمیان ہے نماز ہے، جس نے اسے ترک کردیا تو وہ بلاشبہ کافر ہوگیا۔“ معلوم ہوا کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ایمان والوں کی تو شفاعت ہوگی مگر کافر کی کوئی شفاعت نہیں کرسکے گا۔ پس ”ۘلَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ“ کے معنی یہ ہیں کہ شفاعت کے مستحق صرف وہی لوگ ہوں گے جنھوں نے رحمٰن کے ہاں عہد حاصل کر رکھا ہے، کفار نہیں۔ اس معنی کی شاہد کئی آیات ہیں۔ دیکھیے سورة مدثر (48) ، شعراء (100، 101) ، مومن (18) ، انبیاء (28) اور دوسری آیات۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب مجرمین کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کرسکے گا تو وہ خود دوسروں کے حق میں شفاعت کا اختیار بالاولیٰ نہیں رکھیں گے۔ دوسرا مطلب آیت کا یہ ہے کہ شفاعت کا اختیار صرف اسی کو ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا، کوئی نبی یا فرشتہ اپنی مرضی سے کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا، فرمایا : (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ) [ البقرۃ : 255 ] ”کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔“ اس آیت میں تمام مشرکین کو خبردار کردیا گیا ہے کہ مشرک بت پرست ہوں یا قبر پرست، زندہ پرست ہوں یا مردہ پرست، ہر قسم کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔ گویا یہ ”لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّا“ کا جواب ہے۔ (کبیر، شوکانی، شنقیطی)
Ayahs 19:88–95پہلی آیات سے مناسبت یہ ہے کہ جب شفاعت کی نفی فرمائی اور سب سے بڑھ کر شفاعت کی حق دار اولاد ہوتی ہے، اس لیے ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رکھی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی نفی فرمائی، تاکہ خاص و عام ہر سفارشی کی نفی ہوجائے اور ہر اس عزت کی نفی ہوجائے جس کے حصول کا باعث وہ اپنے معبودوں کو سمجھتے تھے۔ (بقاعی)
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا : اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے باطل ہونے کی دلیل بھی ذکر فرما دی کہ وہ کہتے ہیں کہ اس رحمٰن نے اولاد بنا رکھی ہے جس کی بےپناہ رحمت سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے اور ہر چیز اپنی بقا کے لیے اسی کی محتاج ہے، جبکہ وہ کسی کا محتاج نہیں، سب اس کے محتاج ہیں، فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ) [ فاطر : 15 ] ”اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ بیٹا باپ کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ باپ اپنی کمزوری کی وجہ سے اولاد کا محتاج ہوتا ہے اور جس عقیدے، یعنی مسیح کو کفارہ بنانے کے لیے اسے اللہ کا بیٹا قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ کو رحمٰن ماننے کے بعد اس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
3 یہود عزیر ؑ کو اور نصاریٰ مسیح ؑ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، جبکہ امت مسلمہ کے کئی نادان رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کا جزو قرار دیتے ہیں۔ rnۭلَقَدْ جِئْتُمْ شَـيْــــــًٔـا اِدًّا۔۔ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد قرار دینے والوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شدت غضب میں ان ظالموں کو مخاطب فرما کر بات کی اور تاکید کے دو لفظوں ”لام“ اور ”قَدْ“ کے ساتھ، جن کے جمع ہونے سے قسم کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے، فرمایا قسم ہے کہ تم ایک بہت ہی بھاری بات تک آپہنچے ہو، جو اس قدر خوفناک اور بھاری ہے کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے تصور اور اس بات کے بوجھ سے ”سَبْعٌ شِدَادٌ“ یعنی ساتوں نہایت مضبوط آسمان پھٹ پڑیں، یہ وسیع اور محکم زمین شق ہوجائے اور انتہائی ٹھوس اور سخت پہاڑ مٹی کی بوسیدہ دیوار کی طرح ڈھے کر گرپڑیں کہ ان لوگوں نے (یہاں پھر نفرت سے مشرکوں کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا ہے) رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کردیا، حالانکہ رحمٰن کے لائق ہی نہیں کہ وہ (کسی کو بھی، خواہ پیغمبر ہو یا فرشتہ) اولاد بنائے۔ قوسین کے الفاظ مفعول اول ہیں جو محذوف ہیں، ”وَلَداً“ مفعول ثانی ہے، یعنی اس کی اولاد ہونا ناممکن اور محال ہے، اس لیے کہ اولاد ہم جنس ہوتی ہے اور اللہ کا کوئی ہم جنس نہیں۔ پھر اولاد کمزوری میں سہارے کے لیے ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر کمزوری سے پاک اور اپنی ذات وصفات میں ہر ایک سے بےنیاز ہے۔ وہ ہمیشہ سے عزیز و غالب ہے اور ہمیشہ عزیز و غالب رہے گا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کی تفسیر۔ اس کے علاوہ اولاد بیوی سے ہوتی ہے اور خاوند بیوی کا محتاج ہوتا ہے، جب اللہ کی بیوی ہی نہیں اور وہ کسی کا محتاج ہی نہیں تو اولاد کیسی ؟ فرمایا : (اَنّٰى يَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ) [ الأنعام : 101 ] ”اس کی اولاد کیسے ہوگی، جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔“
اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا : آسمان و زمین میں جو بھی ہے اس کا غلام بن کر حاضر ہونے والا ہے۔ اگر کوئی اولاد ہوتی تو غلام کیسے ہوتی ؟
لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا : اللہ تعالیٰ نے سب کا احاطہ کر رکھا ہے، ایک ایک اس کے شمار میں ہے اور سب اکیلے اکیلے اس کے پاس آنے والے ہیں، اگر زمین و آسمان میں کوئی بھی اس کی اولاد ہوتا تو یقیناً اسے معلوم ہوتا۔ کیا تم اللہ سے بھی زیادہ باخبر ہو، فرمایا : (قُلْ اَتُنَبِّـــــُٔوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ) [ یونس : 18 ] ”کہہ دے کیا تم اللہ کو اس چیز کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے اور نہ زمین میں ؟“ نیز دیکھیے سورة یونس (68) ، بنی اسرائیل (40) اور نجم (19 تا 22) ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَیْسَ أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلٰی أَذًی سَمِعَہٗ مِنَ اللّٰہِ إِنَّھُمْ لَیَدْعُوْنَ لَہٗ وَلَدًا وَ إِنَّہٗ لَیُعَافِیْھِمْ وَیَرْزُقُھُمْ) [ بخاری، الأدب، باب الصبر في الأذی : 6099 ] ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ تکلیف دہ بات پر صبر کرنے والا، جسے وہ سن رہا ہو اور کوئی نہیں۔ لوگ اس کے لیے اولاد بتاتے ہیں اور وہ (اس کے باوجود) انھیں عافیت دیتا ہے اور رزق دیتا ہے۔“
Ayah 19:96سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا : ”وُدٌّ“ اور ”حُبٌّ“ ہم معنی ہیں۔ ”وُدًّا“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ کافروں کے برے عقائد و اعمال اور ان کے انجام بد کا ذکر کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں پر اپنے انعامات کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کے تین معنی ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، جن کی قرآن و حدیث سے تائید ہوتی ہے۔ اللہ کے کلام سے بڑھ کر جامع کلام کوئی نہیں کہ جس کے تھوڑے سے کلمات میں بہت سے معانی جمع ہیں۔ پہلا معنی یہ ہے کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے اور انھوں نے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کتاب و سنت کے مطابق اخلاص کے ساتھ عمل کیے (کیونکہ عمل صالح کے تین اجزا ہیں : ایمان، اخلاص اور اتباع کتاب و سنت) تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایمان والوں کے دلوں میں ان کے لیے عظیم محبت رکھ دے گا، جب کہ دشمنوں کے دلوں میں ان کی ہیبت اور رعب ڈال دے گا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا رعب ایک مہینے کی مسافت پر دور دشمن پر پڑجاتا تھا۔ اصبہانی نے فرمایا کہ یہ محبت انھیں لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کسی کوشش یا لوگوں کی دوستی کے اسباب میں سے کسی سبب، مثلاً قرابت، کسی پر احسان، مروت یا خوش اخلاقی وغیرہ کے بغیر محض رحمٰن کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے (جن لوگوں سے وہ ملا بھی نہیں ہوتا وہ بھی اس سے محبت رکھتے ہیں)۔ (بقاعی) صفت رحمٰن اور دلوں میں محبت پیدا کرنے کے درمیان مناسبت بالکل واضح ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال موسیٰ ؑ کو محبوب خلائق بنانا ہے، فرمایا : (وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ) [ طٰہٰ : 39 ] ”اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے عظیم محبت ڈال دی۔“ اسی طرح ”رَبُّنَا اللّٰه“ (ہمارا رب اللہ ہی ہے) کہہ کر استقامت اختیار کرنے والوں کو فرشتے بشارت دیتے ہیں : (نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ) [ حٰمٓ السجدۃ : 31 ] ”ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔“ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ الْعَبْدَ نَادَی جِبْرِیْلَ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْہُ فَیُحِبُّہٗ جِبْرِیْلُ فَیُنَادِیْ جِبْرِیْلُ فِیْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوْہٗ فَیُحِبُّہٗ أَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ یُوْضَعُ لَہٗ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ صلوات اللہ علیہم : 3259، 7485 ] ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے (اور کہتا ہے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو جبریل بھی اس سے محبت کرتا ہے اور آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، اس لیے تم سب اس سے محبت کرو، تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔“
صحیح مسلم میں مزید یہ الفاظ ہیں : (وَإِذَا أَبْغَضَ اللّٰہُ عَبْدًا دَعَا جِبْرَءِیْلَ فَیَقُوْلُ إِنِّيْ أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْہُ ، قَالَ : فَیُبْغِضُہُ جِبْرَءِیْلُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ فِيْ أَھْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللّٰہَ یُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوْہُ ، قَالَ فَیُبْغِضُوْنَہُ ، ثُمَّ تُوْضَعُ لَہُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ) ”اور جب وہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبریل کو بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں، تم بھی اس سے بغض رکھو۔“ فرمایا : ”تو جبریل اس سے بغض رکھتا ہے، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کردیتا ہے کہ اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے، اس لیے تم بھی اس سے بغض رکھو۔“ فرمایا : ”تو وہ اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں دلی دشمنی رکھ دی جاتی ہے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب إذا أحب اللہ عبدا، أمر جبرئیل۔۔ : 2637 ] واضح رہے کہ یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جہاں مسلمان انتہائی مظلومیت و کس مپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے، گویا اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ عنقریب حالات بدلیں گے (لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گے) اور تم ذلیل و رسوا ہونے کے بجائے محبوب خلائق بن کر زندگی گزارو گے۔ چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام ؓ کی وہ محبت پیدا ہوئی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
دوسرا معنی اس آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے آپس میں محبت پیدا فرما دے گا، جو پہلے جانی دشمن تھے ایمان کے بعد دلی دوست بن جائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۭاِنَّهٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) [ الأنفال : 62، 63 ] ”وہی ہے جس نے تجھے اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ قوت بخشی اور ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی۔ اگر تو زمین میں جو کچھ ہے، سب خرچ کردیتا ان کے دلوں میں الفت نہ ڈالتا اور لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی، بیشک وہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔“ یہ رحمٰن کی اس رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ مدتوں لڑنے والے اوس و خزرج بھائی بھائی بن گئے، حبش کے بلال، روم کے صہیب، ایران کے سلمان، مدینہ کے انصار اور مکہ کے قریش آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور ”اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ“ کا عملی نقشہ دنیا کے سامنے آگیا۔ اگر ان کی کوئی باہمی رنجش رہ بھی گئی تو اللہ تعالیٰ نے جنت میں جانے سے پہلے اسے دور کرنے کا وعدہ فرمایا۔ دیکھیے سورة حجر (47) جیسا کہ اوپر گزرا، یہ محبت ایمان داروں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے، کفار کے دلوں میں نہیں، اس کی مثال ثمامہ بن اثال اور ہند بنت عتبہ ؓ ہیں جنھوں نے شہادت دی کہ اسلام لانے سے پہلے ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مبغوض کوئی نہ تھا، لیکن پھر ایمان لانے کے بعد آپ سے بڑھ کر محبوب کوئی نہ تھا۔
تیسرا معنی یہ ہے کہ ”وُدًّا“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، محبوب چیز، یعنی ایمان اور عمل صالح والے جو چیز محبوب رکھیں گے، پسند کریں گے رحمٰن جنت میں انھیں وہی عطا فرمائے گا، جیسا کہ فرمایا : (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 31 ] ”اور تمہارے لیے اس (جنت) میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔“ یہ معنی ابومسلم نے بیان فرمایا ہے۔ (قاسمی)
Ayah 19:97 فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ۔۔ : یہ ساری سورت بلکہ پورا قرآن متقین کو خوش خبری اور منکرین کو ڈرانے کے لیے ہے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والوں کی تردید اور ان کا انجام بد مذکور ہے اور ایمان اور عمل صالح والوں کو حصول محبت کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے قرآن مجید میں تین خوبیاں رکھنے کا ذکر فرمایا، تاکہ بشارت و نذارت بہترین طریقے سے ہو سکے۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آسان کردیا ہے اور اللہ کی آسان کی ہوئی چیز سے زیادہ آسان کیا چیز ہوگی۔ دیکھیے سورة قمر (17) دوسری یہ کہ اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان ”عربی“ میں اتارا جس سے زیادہ بات واضح کرنے کی خوبی کسی زبان میں نہیں اور جس کے اولین مخاطب یہ زبان بولنے والے تھے، جو اس زبان کے باریک سے باریک اشاروں کو بھی سمجھتے تھے۔ دیکھیے سورة شعراء (192 تا 195) ، یوسف (1، 2) ، زخرف (1 تا 3) اور نحل (103)۔
تیسری یہ کہ اس کے ساتھ خوش خبری دینے اور ڈرانے کے لیے نبی کریم ﷺ کو یہ دے کر بھیجا گیا، جو خود اہل عرب سے تھے، تاکہ وہ اسے پڑھ کر سنائیں اور عمل کر کے دکھائیں۔ دیکھیے سورة نحل (44) پہلی خوبی لفظ ”يَسَّرْنٰهُ“ میں، دوسری ”بِلِسَانِكَ“ میں اور تیسری ”لِتُبَشِّرَ بِهِ“ اور ”تُنْذِرَ بِهٖ“ کے صیغہ خطاب میں بیان ہوئی ہے۔
”لُّدًّا“”أَلَدُّ“ کی جمع ہے، سخت جھگڑالو اور ضدی شخص، جو کسی طرح حق بات کو نہ مانے۔ اس سے مراد قریش اور دوسرے معاند کفار ہیں۔ دیکھیے سورة زخرف (57، 58)۔
Ayah 19:98وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ۔۔ : یہاں گزشتہ آیت میں مذکور سخت جھگڑالو قوم کو ان سے پہلی سخت جھگڑالو قوموں کی ہلاکت کا ذکر کرکے ڈرایا گیا ہے کہ ہم نے ان سے پہلے ایسی کتنی ہی سخت ضدی قوموں کو ہلاک کردیا۔ غور سے دیکھو ! ان میں سے کوئی تمہیں کہیں کھٹکتا ہے، یا اس کی بھنک ہی کان میں پڑتی ہے ؟ یہی حال اس زمانے کے کافروں کا ہونے والا ہے۔