Ayah 20:108ۭيَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ۔۔ : یعنی قیامت کے دن سب لوگ حشر کے لیے قبروں سے نکل کر پکارنے والے کی آواز کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے جائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ) [ إبراہیم : 43 ] ”اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے۔“ اس کی طرف جانے میں کوئی کجی نہ ہوگی، یعنی تیر کی طرح سیدھے جائیں گے اور ذرہ بھر ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ اس حالت کا نقشہ سورة ابراہیم (42، 43) ، سورة قمر (6 تا 8) اور سورة قٓ (41، 42) میں دیکھیے۔ ”لَا عِوَجَ لَهٗ“ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ پکارنے والے کی پکار میں کوئی کجی نہ ہوگی کہ کسی تک پہنچے اور کسی تک نہ پہنچے، ہر شخص تک سیدھی پہنچے گی۔ rnۚ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ۔۔ : یعنی اتنی بیشمار مخلوق کے دوڑنے اور اکٹھے ہونے پر کوئی شور و غل نہ ہوگا۔ سب آوازیں رحمٰن کے لیے پست ہوجائیں گی۔ ”رحمان“ کے لیے پست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس بیحد رحم والے رب کی رحمت اور اس کے کرم کی طلب میں سب عاجزی سے خاموش ہوں گے۔ ”هَمْسًا“ ہلکی سے ہلکی آواز یا قدموں کی ہلکی سے ہلکی آہٹ، کھسکھساہٹ۔
Ayah 20:109يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ۔۔ : اس آیت میں اس دن کی مزید ہیبت اور عظمت بیان ہوئی ہے کہ مشرکین کا کہنا کہ ہمارے معبود ہماری سفارش کرکے ہمیں بچا لیں گے، بالکل غلط ہے۔ وہاں کوئی سفارش نفع نہ دے گی۔
اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ۔۔ : اس کے دو مطلب ہیں، دونوں مراد ہیں اور دونوں کی تائید آیات قرآن سے ہوتی ہے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ نہایت مختصر لفظوں میں بہت زیادہ معانی ہوتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر اس کی جس کو رحمٰن سفارش کرنے کی اجازت دے اور جس کے بات کرنے کو پسند فرمائے۔ دوسرا یہ کہ اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر اس کو جس کے حق میں رحمٰن سفارش کی اجازت دے اور جس کے حق میں بات کرنے کو پسند فرمائے۔ دیکھیے سورة مریم (87) ، سبا (23) ، زخرف (86) ، نجم (26) اور نبا (38)۔
Ayah 20:110يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ : دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ : 255) کی تفسیر۔
وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا : ”بِهٖ“ کی ضمیر کے مرجع کے لحاظ سے اس کے تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ ”بِهٖ“ میں ”ہٖ“ ضمیر اللہ تعالیٰ کے لیے قرار دی جائے۔ معنی یہ ہوگا کہ کسی کا علم اتنا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا احاطہ کرسکے، مخلوق کا محدود علم خالق کا احاطہ کیسے کرسکتا ہے ؟ دوسرا یہ کہ یہ ضمیر ”يَعْلَمُ“ کے مصدر ”عِلْمٌ“ کے لیے قرار دی جائے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ کوئی شخص اللہ کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتا اور اس صورت میں یہ آیت الکرسی کے جملہ ”وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ“ کا ہم معنی ہوگا۔ تیسرا یہ ہے کہ ”ہٖ“ ضمیر ”مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ“ میں موجود ”مَا“ کی طرف لوٹ رہی ہو۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان میں سے کسی کا علم بھی اس کا احاطہ نہیں کرسکتا، جو لوگوں کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو (چاہے وہ فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا کوئی اور) لوگوں کے اگلے پچھلے حال کا پورا علم نہیں ہے کہ جان سکیں کہ کس کے حق میں شفاعت کرنی چاہیے اور کس کے حق میں نہیں کرنی چاہیے، اس لیے شفاعت کو اللہ تعالیٰ کے اذن (اجازت) پر موقوف رکھا گیا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو فرشتوں یا انبیاء و اولیاء اور بزرگوں کی پرستش اس امید پر کرتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ہماری سفارش کریں گے۔
Ayah 20:111وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ : ”عَنَتِ“ ”عَنَا یَعْنُوْ عُنُوًّا“ (ن) سے واحد مؤنث غائب، ماضی معلوم ہے، اصل میں ”عَنَوَتْ“ تھا، ذلیل اور عاجز ہو کر جھک جانا۔ اس میں سے اسم فاعل ”عَانٍ“ یا ”اَلْعَانِیْ“ آتا ہے، جس کا معنی قیدی ہے، کیونکہ قیدی بیحد عاجز، بےبس اور ذلیل ہوتا ہے۔ یعنی اس دن صرف تمام آوازیں ہی رحمٰن کے لیے پست نہیں ہوں گی بلکہ تمام چہرے، حتیٰ کہ ان سرکش متکبر لوگوں کے چہرے بھی اس حی و قیوم کے سامنے ذلیل قیدیوں کی طرح جھکے ہوں گے جن کی پیشانی دنیا میں کبھی اللہ کے سامنے جھکی نہ تھی۔ کیونکہ وہ سب فانی و محتاج ہیں اور انھیں حی و قیوم کے سامنے جھکے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ ”لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ“ کی تفسیر آیت الکرسی (بقرہ : 255) میں دیکھیے۔
وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا : یہاں ”ظُلْمًا“ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا“ کیا ہے۔ بڑے ظلم سے مراد مشرک ہونا اور مسلمان نہ ہونا ہے۔ (طبری) اس کا ترجمہ ”کسی ظلم کا بوجھ اٹھایا“ درست نہیں، کیونکہ گناہ گار مومن و موحد سزا پا کر یا سزا کے بغیر اللہ کے اذن سے جنت میں چلے جائیں گے اور جنت میں پہنچ جانے والا ناکام نہیں۔ دلیل اور تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (82) ، بقرہ (254) اور یونس (106) کی تفسیر۔
Ayah 20:112وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ : ”مِنَ الصّٰلِحٰتِ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ نیک اعمال“ کیا ہے۔ انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے تمام اعمال صالحہ تو کر ہی نہیں سکتا، جیسا کہ فرمایا : (ۭكَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ) [ عبس : 23 ] ”ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔“ اس لیے وہ اتنے عمل ہی کا مکلف ہے جتنی اس میں طاقت ہے، فرمایا : (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) [ البقرۃ : 286 ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔“ اور فرمایا : (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ) [ التغابن : 16 ] ”سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔“ مفسرین نے اس سے مراد فرائض لیے ہیں۔
3 عمل کی قبولیت کے لیے دو شرطیں بیان فرمائیں۔ عمل کا صالح ہونا یعنی کتاب و سنت کے مطابق ہونا اور عمل کرنے والے کا صاحب ایمان ہونا۔ نہ کافر کا کوئی عمل قبول ہے اور نہ وہ عمل جو کتاب و سنت سے ثابت نہ ہو۔ دیکھیے سورة کہف کی آخری آیت۔
فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا : بےانصافی یہ ہے کہ کسی کو ان گناہوں پر سزا دی جائے جو اس نے نہیں کیے اور حق تلفی یہ ہے کہ کی ہوئی نیکیوں پر پانی پھیر دیا جائے۔ اسی کو سورة جن (13) میں ”بَخْساً“ اور ”رَھَقًا“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن نے متعدد آیات میں جزا و سزا میں عدل و انصاف کا اعلان کیا ہے، مگر گناہ گار مومنوں کو معاف کردینا فضل ہے جو عدل کے منافی نہیں۔
Ayah 20:113وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : ”اسی طرح“ کا اشارہ اس سورت میں مذکور آیات کی طرف ہے کہ ہم نے پورا قرآن ہی ان آیات کی طرح نازل کیا ہے۔ ”قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا“ کی تفسیر سورة یوسف (2) میں دیکھیے۔
وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ : یعنی بار بار اور مختلف طریقوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اپنی گرفت اور عذاب سے ڈرایا ہے۔
لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ۔۔ : تاکہ وہ ڈر جائیں، یا کم از کم یہ ان کے دل میں کسی طرح کی عبرت و نصیحت پیدا کر دے اور وہ سوچیں کہ پچھلی امتوں کا کیا انجام ہوا ؟ اگر ہم بھی گناہ کریں گے تو انھی کی طرح تباہ و برباد ہوں گے۔ (ابن کثیر) ”ذِكْرًا“ کی تنوین تنکیر کی وجہ سے ”کسی طرح کی نصیحت“ ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 20:114فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ۔۔ :”فَتَعٰلَى“ ”عَلاَ یَعْلُوْ عُلُوًّا“ بلند ہونا۔ باب تفاعل میں تاء اور الف کے اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ”پس بہت بلند ہے۔“ ”الْمَلِكُ الْحَقُّ“ ”حَقَّ یَحِقُّ“ ثابت ہونا۔ لفظ حق باطل کے مقابلے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی حقیقی، سچی اور پائدار ہے۔ دوسرے تمام بادشاہ دنیا میں نہایت محدود اختیارات کے مالک ہیں اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے، وہ نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں کرسکتے اور آخرت میں ان کے وہ اختیار بھی ختم ہوجائیں گے۔ پھر اس میں کیا شک ہے کہ حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور باقی سب باطل ہیں
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمران ہے اک وہی باقی بتان آزری
صحیح بخاری (1120) میں تہجد کے لیے اٹھتے وقت رسول اللہ ﷺ کی ایک لمبی دعا مذکور ہے، اس دعا میں ہے : (وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ ، وَلِقَاءُ کَ حَقٌّ) دعاؤں کی کسی کتاب یا اصل صحیح بخاری سے یہ مکمل دعا یاد کرلیں، یہ دعا تہجد کے وقت پڑھنا مسنون اور بیحد برکت کا باعث ہے۔
وَلَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ۔۔ : یہ وہی مضمون ہے جو سورة قیامہ (16 تا 19) میں بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک دفعہ جلدی کرنے اور جبریل ؑ کے ساتھ ساتھ پڑھنے سے منع فرما دیا، تو دوبارہ اس حکم کی کیا ضرورت تھی ؟ شاہ عبد القادر ؓ نے اسے یوں حل فرمایا ہے : ”جبرئیل جب قرآن لاتے آپ ﷺ ان کے پڑھنے کے ساتھ پڑھنے لگتے کہ بھول نہ جاویں۔ اس کو پہلے منع فرمایا تھا سورة قیامہ میں اور تسلی کردی تھی کہ اس کا یاد رکھوانا اور لوگوں تک پہنچوانا ذمہ ہمارا ہے، لیکن بندہ بشر ہے، شاید بھول گئے ہوں، پھر تقید کیا اور بھولنے پر مثل فرمائی آدم ؑ کی۔“ (موضح)
وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا : رسول اللہ ﷺ کے جبرئیل ؑ کے ساتھ ساتھ جلدی پڑھنے کے پیچھے اصل جذبہ زیادہ سے زیادہ علم کے حصول اور حفظ کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف جلدی کرنے سے منع فرمایا، مگر اصل جذبے کی تعریف کی اور اس کی تکمیل کے لیے دعا سکھائی، جیسا کہ ابوبکرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھاتے ہوئے رکوع کی حالت میں پایا تو صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے اور پھر اسی حالت میں رکوع میں مل گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ) [ بخاري، الأذان، باب إذا رکع دون الصف : 783 ]”اللہ تمہاری حرص زیادہ کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ دوبارہ ایسی جلدی سے منع کرنے کے ساتھ نیکی میں حرص کی تعریف فرمائی۔ ”رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا“ میں ”عِلْمًا“ عام ہے اور اس سے مراد علم نافع ہے۔ دین یعنی قرآن و حدیث کا علم ہو یا دنیا کا ایسا علم جو دنیا و آخرت دونوں میں نافع ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ انْفَعْنِيْ بِمَا عَلَّمْتَنِيْ وَ عَلِّمْنِيْ مَا یَنْفَعُنِیْ وَ زِدْنِيْ عِلْمًا) [ ترمذي، الدعوات، باب سبق المفردون۔۔ : 3599، عن أبي ہریرہ ؓ و صححہ الألباني ] ”اے اللہ ! مجھے اس کے ساتھ نفع دے جس کا تو نے مجھے علم دیا اور مجھے اس کا علم دے جو مجھے نفع دے اور مجھے علم میں زیادہ کر۔“ انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی اکثر دعا یہ تھی : (اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِي الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ) [ بخاري، الدعوات، باب قول النبی ﷺ : ربنا آتنا۔۔ : 6389 ] ”اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ سے بچا۔“ مسلمانوں پر دنیا کی ہر ضرورت کا علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے، تاکہ انھیں غیر مسلموں کا محتاج نہ ہونا پڑے اور وہ دنیا میں اسلام کو غالب رکھ سکیں، مثلاً طب، زراعت، ہیئت، جغرافیہ، ہندسہ، سائنس، اسلحہ سازی وغیرہ۔ رسول اللہ ﷺ کو جو بھی نئی چیز معلوم ہوتی اس سے جہاد میں فائدہ اٹھایا کرتے تھے، جیسا کہ جنگ احزاب میں خندق تیار فرمائی اور صحابہ اور تابعین مجاہدین نے جنگوں میں منجنیق کا استعمال فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے بحری جہاد کی خوشخبری دی اور امیر معاویہ ؓ نے بحری بیڑا تیار کیا، جس کے نتیجے میں بحر روم پر مسلمانوں کا غلبہ ہوگیا اور جدید سے جدید ایجادات اور تدابیر کے نتیجے میں سلطان محمد الفاتح ؒ نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ ظاہر ہے کہ تیس فیصد خشکی پر بھی اسی کی حکومت ہوگی جو ستر فیصد سمندر پر اپنا تسلط منوا سکے۔ داؤد ؑ کو اللہ تعالیٰ نے زرہ سازی کا فن سکھایا اور اسے بطور احسان قرآن مجید میں ذکر فرمایا۔ قرآن مجید میں احکام کی آیات اتنی نہیں جتنی زمین و آسمان، سورج، چاند، بحر و بر، نباتات و جمادات و حیوانات اور اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور کرنے کی تاکید والی آیات ہیں۔ مسلمانوں نے اس میں غفلت کی اور کفار نے ان پر محنت کرکے جدید سے جدید ایجادات، مثلاً مشین، موٹر، ریل، ہوائی جہاز، بجلی، بارود، بم، میزائل، ایٹم، کمپیوٹر وغیرہ تیار کرکے مسلمانوں کو اپنا محتاج بلکہ غلام بنا لیا۔ اب مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان تمام علوم میں مہارت حاصل کریں جو کفار کے ساتھ جہاد کے لیے ضروری ہیں اور اس طرح یہ سب کچھ علم دنیا ہونے کے باوجود علم آخرت بن جائے گا، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم ”وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ“ کی تعمیل ہوگی۔ البتہ اس بات کا اہتمام نہایت ضروری ہے کہ یہ علوم سیکھنے والے قرآن و حدیث کے علم سے آراستہ اور یقین و ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ہوں، تاکہ وہ سائنس پڑھتے پڑھتے کفار سے متاثر ہو کر محض دنیا پرست اور ملحد نہ بن جائیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ اس وقت مذموم ہوجائے گا جب اس سے مقصود صرف دنیا ہو اور آخرت سے غفلت اختیار کی جائے۔ ایسی صورت میں یہ تمام علوم رکھنے والا اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بےعلم ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ښ وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ) [ الروم : 6، 7 ] ”اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (علم نہیں رکھتے)۔ وہ دنیا کی زندگی کے ظاہر کا علم رکھتے ہیں اور وہ آخرت سے وہی غافل ہیں۔“ اور فرمایا : (فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ) [ البقرۃ : 200 ] ”پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے، اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔“ ان لوگوں کا علم، علم نافع نہیں، اس لیے اس سے پناہ مانگنی چاہیے، جیسا کہ زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَّا یَنْفَعُ وَ مِنْ قَلْبٍ لَّا یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَۃٍ لَّا یُسْتَجَابُ لَھَا) [ مسلم، الذکر و الدعاء، باب في الأدعیۃ : 2722 ] ”اے اللہ ! بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے اور ایسے دل سے جو خشوع نہ رکھے اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔“
Ayah 20:115وَلَقَدْ عَهِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ۔۔ : ”عَھِدَ إِلَیْہِ“ کا معنی ”أَوْصَاہُ“ ہے کہ اس نے اسے تاکید کی۔ تاکید سے مراد مخصوص درخت کے قریب نہ جانے کا حکم ہے۔ ”نَسِیَ“ کا معنی عام طور پر ”وہ بھول گیا“ آتا ہے، مگر یہاں مراد جان بوجھ کر عمل ترک کرنا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ابلیس نے آدم و حوا ؑ کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا اور ان دونوں کے لیے اپنے خیر خواہ ہونے کی قسم اٹھائی تھی : (مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَيْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِيْنَ) [ الأعراف : 20 ] ”تم دونوں کے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہوجاؤ۔“ معلوم ہوا کہ آدم ؑ کو وہ درخت کھاتے وقت اللہ تعالیٰ کا حکم یاد تھا، مگر شیطان کے وسوسے سے لالچ میں آ کر حکم عدولی کر بیٹھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے فعل کو عصیان (نافرمانی) قرار دیا، فرمایا : (وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى) [ طٰہٰ : 121 ] ”اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا۔“ بھول کر کیے ہوئے عمل کو نافرمانی نہیں کہا جاتا۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ کا قول نقل فرمایا ہے کہ ”فَنَسِيَ یَقُوْلُ فَتَرَکَ“ یعنی ”فَنَسِيَ“ کا معنی ”اس نے عمل ترک کردیا“ ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
قرآن میں آدم ؑ کا یہ قصہ چھٹی بار بیان ہو رہا ہے، اول سورة بقرہ، دوم اعراف، سوم حجر، چہارم بنی اسرائیل، پنجم کہف اور ششم یہاں اور ہر جگہ ایک خاص مقصد کے تحت مختلف انداز سے اس قصے کو دہرایا گیا ہے۔ یہاں ماقبل سے اس کی مناسبت کے سلسلہ میں چند وجوہ بیان کی گئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کا تعلق آیت : (كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ) [ طٰہٰ : 99 ] (اسی طرح ہم تجھ سے ان چیزوں کی کچھ خبریں بیان کرتے ہیں جو پہلے گزر چکیں) سے ہے، یعنی اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے کہ ہم قصے بیان فرمائیں گے، چناچہ اس کے تحت آدم ؑ کا قصہ بیان فرما دیا۔ ایک مناسبت یہ ہے کہ ”رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا“ کہنے کا حکم دینے کے بعد آپ ﷺ کے علم میں اضافے کے لیے آدم ؑ کا قصہ بیان فرمایا اور ایک مناسبت وہ ہے جو اوپر شاہ عبد القادر ؓ کی توضیح میں گزر چکی ہے۔
Ayah 20:116وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (34 تا 36) اور اعراف (11، 12)۔
Ayah 20:117فَقُلْنَا يٰٓاٰدَمُ اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ۔۔ : عداوت کا اظہار سجدے سے انکار کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (22) ”فَتَشْقٰي“ تو مصیبت میں پڑجائے گا، یعنی روزی کے لیے محنت مشقت کرنا پڑے گی اور جنت کی تمام آسائشیں اور نعمتیں چھین لی جائیں گی۔ آدم ؑ کی طرف خاص شقاوت کی نسبت اس لیے ہے کہ مرد کو عورت کا منتظم اور اس کے اخراجات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس لیے اصل آدم ؑ ہی ہیں اور حوا [ ان کے تابع۔
Ayahs 20:118–119اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ۔۔ : گویا آدم اور حوا ؑ کو بتادیا گیا کہ تمہاری تمام بنیادی ضروریات کا یہاں انتظام کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتیں یہی چار چیزیں ہیں : بھوک دور کرنے کے لیے کھانا، پیاس بجھانے کے لیے پانی، ستر ڈھانپنے کے لیے لباس اور سردی گرمی سے بچنے کے لیے مکان۔ یہ دراصل شقاوت کی تفسیر ہے اور اس شقاوت سے مراد دنیوی شقاوت ہے نہ کہ اخروی۔ شقاوت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (2)۔
3 ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بھوک کے بعد پیاس کے بجائے ننگا ہونے کا ذکر کیا اور پیاس کے بعد دھوپ میں جلنے کا ذکر فرمایا۔ اس میں ایک تو آیات کے آخری الفاظ کی مناسبت مقصود ہے اور ایک یہ کہ اگر بھوک، پیاس اور ننگے ہونے اور دھوپ میں جلنے کو اکٹھا ذکر کیا جاتا تو پہلی دونوں اور دوسری دونوں کا مجموعہ ہم شکل ہونے کی وجہ سے ایک ایک نعمت نظر آتا، الگ الگ ذکر کرنے سے چار نعمتیں نمایاں ہوگئیں۔ (قاسمی)
Ayahs 20:120–121فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطٰنُ۔۔ : قرآن میں شیطان کے وسوسہ انداز ہونے اور پھسلانے کی نسبت بعض آیات میں صرف آدم ؑ کی طرف کی گئی ہے اور بعض میں آدم و حوا دونوں کی طرف۔ معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں تو شیطان آدم ؑ ہی کے دل میں وسوسہ انداز ہوا ہے، حوا [ کا ذکر ان کے تابع ہونے کی حیثیت سے ہے، لہٰذا عوام میں جو یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ شیطان نے پہلے حوا [ کو پھسلایا اور پھر ان کے ذریعے سے آدم ؑ کو قابو کیا، وہ قطعی غلط اور لغو ہے اور اسرائیلیات سے ماخوذ ہے۔ دونوں آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (20، 21)۔
وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۔۔ : آدم ؑ کا واقعہ نہایت عجیب ہے کہ اتنا عظیم شخص، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، فرشتوں سے اس کو سجدہ کروایا، کمال عقل بخشی، اپنی جنت میں ہر نعمت عطا فرمائی، اسے صاف لفظوں میں شیطان کی دشمنی سے آگاہ کردیا اور دشمن کی بات ماننے پر جنت سے نکلنے کی تنبیہ بھی فرما دی، اتنے عظیم شخص کو اس کے اتنے مہربان پروردگار نے صرف ایک چیز سے منع فرمایا، مگر وہ اپنے رب کی اتنی عنایتوں اور شیطان کی واضح دشمنی کے علم کے باوجود اس کے ورغلانے سے اپنے رب کی حکم عدولی کیسے کر گزرا ؟ جو شخص بھی اس واقعہ میں غور و فکر کرے گا اس کا تعجب بڑھتا ہی جائے گا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اللہ کی تقدیر کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہٹا سکتا ہے اور یہ کہ دلیل جتنی بھی واضح اور مضبوط ہو اس سے تبھی فائدہ حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرمایا ہو اور اسے مقدر فرمایا ہو۔ (رازی) صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں موسیٰ ؑ کے آدم ؑ سے سوال اور ان کے جواب سے بھی یہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ اس حدیث سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ گناہ جب اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں لکھ دیا ہے تو ہمارا کیا قصور ہے اور ہمیں ملامت کیوں کی جاتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آدم ؑ نے توبہ قبول ہونے اور گناہ معاف ہونے کے بعد یہ جواب دیا ہے، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جب ان سے پوچھا : (اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ) [ الأعراف : 22 ] کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا تو انھوں نے نہ تقدیر کا بہانہ بنایا اور نہ اپنا قصور اللہ تعالیٰ کے ذمے لگایا، بلکہ صاف تسلیم کیا : (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الأعراف : 23 ] ”اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے۔“ اس کے برعکس ابلیس نے اپنا گناہ ماننے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کے ذمے لگا دیا : (قَالَ فَبِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ) [ الأعراف : 16 ] ”اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔“ گناہ کی معافی کے بغیر تقدیر کا عذر غلط ہے۔ ایک اور جواب جو اس سے بھی قوی ہے، یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے آدم ؑ سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ نے نافرمانی کیوں کی تھی ؟ بلکہ انھوں نے انھیں اپنی اولاد کو جنت سے نکالنے اور مصیبت میں ڈالنے پر ملامت کی تھی، حالانکہ مصیبت پر ملامت نہیں کی جاتی، خواہ وہ کسی غلطی کی وجہ سے آئی ہو، بلکہ تسلی دی جاتی ہے، مثلاً اگر کسی کی غلطی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہوجائے تو اسے غلطی پر ملامت کے بجائے مصیبت میں تعزیت کی جاتی ہے کہ اللہ کی تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا، اس لیے غم مت کرو۔ چناچہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (اِحْتَجَّ آدَمُ وَ مُوْسٰی، فَقَالَ مُوْسَی یَا آدَمُ ! أَنْتَ أَبُوْنَا، أَنْتَ خَیَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّۃِ ، فَقَالَ لَہُ آدَمُ أَنْتَ مُوْسَیٰ ، اصْطَفَاک اللّٰہُ بِکَلَامِہِ ، وَخَطَّ لَکَ بِیَدِہِ ، أَتَلُوْمُنِيْ عَلٰی أَمْرٍ قَدَّرَہُ اللّٰہُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ یَخْلُقَنِيْ بِأَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ؟ فَقَال النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی، فَحَجَّ آدَمُ مُوْسَی) ”آدم اور موسیٰ ؑ کی بحث ہوگئی تو موسیٰ ؑ نے کہا، تم ہمارے باپ ہو، تم نے ہمیں نامراد کردیا اور ہمیں جنت سے نکال دیا۔“ تو آدم ؑ نے ان سے کہا : ”اے موسیٰ ! اللہ عز وجل نے تمہیں اپنے کلام کے لیے چنا اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے (کتاب) لکھی۔ اے موسیٰ ! کیا تم مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے مجھ پر طے کردیا تھا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آگئے، تو آدم، موسیٰ پر دلیل میں غالب آگئے۔“ [ مسلم، القدر، باب حجاج آدم و موسیٰ صلی اللہ علیہما وسلم : 2652 ]
Ayah 20:122ثُمَّ اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ : ”جَبَی یَجْبِیْ“ (ض) کا معنی کھینچ کر لانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْــبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ) [ القصص : 57 ] ”اور کیا ہم نے انھیں ایک باامن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ ”اِجْتَبَی“ (افتعال) کا معنی کسی چیز کو اپنے لیے لے لینا، چن لینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آدم ؑ کو اپنے لیے کھینچ لینے اور چن لینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں توبہ کا خیال ڈالا، انھیں توبہ کی توفیق دی اور توبہ کے کلمات کی تعلیم دی، جیسا کہ فرمایا : (فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ) [ البقرۃ : 37 ] ”پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے تو اس نے اس کی توبہ قبول فرما لی۔“ قرآن کے مطابق وہ کلمات یہ تھے : (رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا ۫وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ) [ الأعراف : 23 ] ”اجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ“ میں لفظ ”رَبُّهٗ“ اس چننے کے سبب کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى : یعنی اس کی توبہ قبول فرمائی اور ہدایت دی، یعنی صراط مستقیم پر گامزن کردیا اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائی۔ ابن عاشور نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں ”اِجْتَبَا“ اور ”ہدایت“ کے الفاظ اکٹھے آئیں وہاں نبوت عطا کرنا مراد ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاجْتَبَيْنٰهُمْ وَهَدَيْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ) [ الأنعام : 87 ] اور فرمایا : (اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ) [ النحل : 121 ] اور تیسری آیت یہ ہے۔
3 آدم ؑ کا گناہ توبہ و استغفار کی وجہ سے ان کے لیے پہلے سے بھی زیادہ بلند مقام کا ذریعہ بن گیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی حکمت ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے انبیاء سے غلطی کا صادر ہونا ناممکن کیوں نہیں بنادیا اور وہ ہے رسول کا غلطی سرزد ہونے کے بعد توبہ و استغفار میں اپنی امت کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا۔ کیونکہ غلطی کے بعد والی ندامت، آہ وزاری، آئندہ نہ کرنے کا عزم اور پچھلی غلطی پر دن رات استغفار اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ اگر انسان سے غلطی نہ ہو، جس کے بعد وہ توبہ و استغفار کرے، تو اللہ تعالیٰ بنی آدم کی صف لپیٹ کر گناہ کرنے والی کوئی اور قوم لے آئے، جو گناہ کرے، پھر استغفار کرے اور اللہ تعالیٰ انھیں معاف فرمائے۔ [ مسلم، التوبۃ، باب سقوط الذنوب بالاستغفار والتوبۃ : 2749، عن أبي ہریرہ ؓ ] پھر اس مہربان رب کی رحمت اور لطف و کرم کی کیا حد ہے جو توبہ کے بعد پہلے گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (70) اللہ تعالیٰ ہم گناہ گاروں کو بھی ایسی ہی توبہ کرنے والوں میں شامل فرما لے۔ (آمین)
3 درخت میں سے کھانے کے بعد یہاں توبہ قبول کرنے کا ذکر پہلے ہے اور زمین پر اترنے کا حکم بعد میں، حالانکہ اصل ترتیب یہ تھی کہ درخت میں سے کھاتے ہی انھیں جنت سے نکال دیا گیا، مگر یہاں آدم ؑ کی توبہ کا قبول ہونا اور نبوت عطا ہونا پہلے اس لیے ذکر فرمایا کہ سننے والوں کو آدم ؑ کا انجام معلوم ہوجائے کہ وہ کس قدر اچھا ہوا۔
Ayah 20:123قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ : اس کی تفسیر سورة بقرہ کی آیت (36) میں دیکھیے، یعنی توبہ قبول ہونے کے باوجود زمین پر رہنے کا فیصلہ قائم رہا، کیونکہ انھیں پیدا ہی زمین کی خلافت کے لیے کیا گیا تھا۔
ڏ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ۔۔ : سورة بقرہ (38) میں ”فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ“ ہے، یعنی جس نے میری ہدایت کی پیروی کی اور یہاں ”اتَّبَعَ“ (افتعال) ہے، اس میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے تکلف اور مبالغہ ہے، یعنی جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو وہ نہ دنیا میں جنت کے راستے سے بھٹکے گا اور نہ آخرت میں جنت سے محروم رہ کر بدنصیب ہوگا، بلکہ سیدھا چلتا ہوا اپنے گھر جنت میں پہنچ جائے گا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : (ضَمِنَ اللّٰہُ لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَلاَّ یَضِلَّ فِی الدُّنْیَا وَلاَ یَشْقٰی فِی الْآخِرَۃِ ثُمَّ تَلاَ : (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي) [ مصنف ابن أبي شیبۃ : 10؍467، ح : 30575۔ مستدرک حاکم : 2؍381، ح : 3438 و صححہ ووافقہ الذھبی ]”جو شخص قرآن کی پیروی کرے اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہے کہ وہ نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بدنصیب۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ”تو جو میری ہدایت کے پیچھے چلا تو وہ نہ گمرا ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔“ معلوم ہوا ہدایت وہی ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، اللہ تعالیٰ نے ہدایت خود بھیجنے کا وعدہ کیا اور اسے پورا فرمایا ہے۔ اللہ کے سوا کسی کی رہنمائی منزل پر نہیں پہنچا سکتی، خواہ کوئی عالم ہو یا درویش، انسان ہو یا جن یا کوئی اور اللہ کی کتاب کے مطابق زندگی گزارنا دنیا وآخرت دونوں میں کامیاب زندگی کا ضامن ہے، فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقیناً ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقیناً ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کرتے تھے۔“
Ayahs 20:124–125وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ : ذکر سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) [ الحجر : 9 ] ”بیشک ہم، ہم نے ہی یہ ذکر یعنی نصیحت نازل کی ہے اور بیشک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔“
فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا : ”مَعِيْشَةً“ زندگی، وہ چیزیں جن پر زندگی گزرتی ہے، مثلاً کھانا پینا اور دوسری ضروریات۔ (قاموس) ”ضَنْكًا“ ”ضَنُکَ یَضْنُکُ ضَنْکًا وَضُنَاکًا وَ ضَنَاکَۃً“ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، اس لیے ”مَعِيْشَةً“ کی صفت ہونے کے باوجود لفظ میں تبدیلی نہیں ہوئی، یہ واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی رہتا ہے، یعنی وہ تنگی والی زندگی گزارے گا۔ اس کی تفسیر رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، اس لیے وہ سب سے راجح ہے۔ صحیح ابن حبان میں ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ عزو جل کے اس قول ”فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا“ کے متعلق روایت کیا، آپ نے فرمایا : (عَذَابُ الْقَبْرِ) ”(مراد) عذاب قبر ہے۔“ ”اَلتَّفْسِیْرُ الصَّحِیْحُ الْمَسْبُوْرُ“ میں اسے الاحسان (3119) ، مستدرک حاکم (1؍381، ح : 1405) اور کئی کتابوں سے نقل کیا گیا ہے اور مختلف ائمہ سے اس کا حسن، جید یا صحیح ہونا بھی نقل کیا گیا ہے۔
امام طبری نے ابن عباس ؓ سے حسن سند کے ساتھ اس کی تفسیر ”الشقاء“ فرمائی ہے۔ ”الشقاء“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة طہ (2) ”مَعِيْشَةً ضَنْكًا“ کے الفاظ میں دنیا اور قبر دونوں کی تنگ زندگی شامل ہے۔ اللہ کی نصیحت سے منہ موڑنے والا شخص اللہ پر توکل اور اس کے عطا کردہ پر قناعت سے محرومی کی وجہ سے ہر وقت زیادہ سے زیادہ مال و جاہ کی ہوس میں مبتلا رہتا ہے۔ مال کی دو وادیاں ملنے پر تیسری کی تلاش میں چل نکلتا ہے۔ باؤلے کتے کی پیاس کی طرح اس کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ اربوں کھربوں کا مالک ہونے کے باوجود فقیر ہوتا ہے، حرص اور بخل کی کمینگی کی وجہ سے اسے کسی کی دلی محبت حاصل نہیں رہتی۔ اموال و اولاد اس کے لیے راحت بننے کے بجائے اللہ کی طرف سے عذاب بن جاتے ہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (55، 85) پھر وہ وقت آجاتا ہے کہ اسے گولیوں کے بغیر نیند نہیں آتی اور ہر آسائش حاصل ہوتے ہوئے بھی اسے اس رنج و الم سے بھری ہوئی زندگی سے چھٹکارے کی کوئی صورت خود کشی کے سوا نظر نہیں آتی۔ یقین نہ ہو تو جاپان، سویڈن، ناروے وغیرہ میں خود کشی کا تناسب دیکھ لیں۔
وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰی : دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیات سے کان اور آنکھیں بند کرلینے اور حق کو تسلیم نہ کرنے کی پاداش میں قیامت کے دن اسے اندھا، گونگا اور بہرا کرکے اٹھایا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : 97) قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہے۔ دیکھیے سورة معارج (4) اس کے مختلف اوقات میں لوگوں کے احوال مختلف ہوں گے۔ قبر سے اٹھتے وقت وہ اندھا ہوگا، پھر جہنم کی ہولناکی اور اہل ایمان کی عزت دکھانے کے لیے بینا کردیا جائے گا۔ دیکھیے سورة طور (14، 15) اور سورة مریم (38)۔
Ayah 20:126قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ۔۔ : ”كَذٰلِكَ“ (اسی طرح) سے مراد ”اندھا ہونا“ ہے، جس کا ذکر سوال میں ہے کہ پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ؟ جواب ملے گا : (كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا) کہ اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا۔ دونوں آیتوں کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ ایک لمبی بات کو اس طرح مختصر کیا گیا ہے کہ حذف شدہ الفاظ خود بخود سمجھ میں آ رہے ہیں۔ سوال میں اندھے ہونے کا ذکر ہے، جواب میں بھلانے کا ذکر ہے۔ یہ اختصار تین جگہوں پر ہے، پہلا اختصار ”وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ (وَ نَنْسَاہُ)“”ہم قیامت کے دن اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے (اور اسے بھلا دیں گے)“ دوسرا اور تیسرا اختصار ”قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا (وَ عَمِیْتَ عَنْھَا) وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ (وَ تُحْشَرُ أَعْمٰی)“ ”وہ فرمائے گا، اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو تو انھیں بھول گیا (اور ان سے اندھا بن گیا) اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا (اور اندھا کرکے اٹھایا جائے گا)۔“ اسے بلاغت کی اصطلاح میں ”اِحْتِبَاکٌ“ کہتے ہیں۔ (ابن عاشور)
واضح رہے کہ آیات کو بھلانے سے مراد یہاں ان پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے، حفظ کرنے کے بعد بھول جانا مراد نہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت ہے : (وَكَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْۢ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ) [ طٰہٰ : 127 ] ”اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے۔“ ایمان لانے والا شخص جو حفظ کے بعد کسی بیماری یا مصروفیت کی وجہ سے کچھ آیات بھول جائے، وہ اس میں داخل نہیں ہے۔
3 قرآن یاد کرنے کے بعد بھول جانے پر وعید کی کوئی حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں۔ چند ضعیف روایات درج ذیل ہیں : 1 مسند احمد (5؍285، ح : 22524) میں سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِیَہٗ إِلاَّ لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَ یَلْقَاہٗ وَھُوَ أَجْذَمُ) ”اور کوئی بھی شخص جو قرآن پڑھے پھر اسے بھول جائے، وہ اللہ تعالیٰ سے جس دن ملے گا تو اس حال میں ملے گا کہ کوڑھی ہوگا۔“ اس کی ایک سند میں عیسیٰ بن فائد مجہول راوی ہے، اس کا شیخ بھی مجہول ہے۔ دوسری سند میں بھی عیسیٰ بن فائد مجہول ہے۔ 2 سنن ابو داؤد (461) اور ترمذی (2916) میں انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عُرِضَتْ عَلَیَّ أَجُوْرُ أُمَّتِیْ حَتَّی الْقَذَاۃُ یُخْرِجُھَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَیَّ ذُنُوْبُ أُمَّتِیْ فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ أُوْتِیَھَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِیَھَا) ”میرے سامنے میری امت کے اجر پیش کیے گئے، یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالے اور میرے سامنے میری امت کے گناہ پیش کیے گئے، تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی پھر اس نے اسے بھلا دیا۔“ شیخ ناصر الدین البانی ؓ نے فرمایا کہ اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ ابن جریج اور مطلب بن عبداللہ دونوں مدلس ہیں اور اسے ”عن“ کے لفظ سے روایت کرتے ہیں اور بخاری اور ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ضعیف ابی داؤد (71)۔
3 ضعیف اور موضوع روایات نے امت کو کس قدر نقصان پہنچایا، اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ میں نے بہت سے مردوں اور عورتوں کو دیکھا کہ وہ ان روایات ہی کی وجہ سے قرآن حفظ کرنے سے محروم رہے، حالانکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ جسے کسی مصروفیت یا بیماری یا غفلت کی وجہ سے قرآن بھول جائے وہ اس شخص سے ہزار گنا بہتر ہے جس نے قرآن پڑھا ہی نہیں، یا یاد ہی نہیں کیا، کیونکہ وہ اس سے تو ہر حال میں قرآن کا علم زیادہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اسے سب سے بڑے گناہ شرک کے قائم مقام قرار دینا یا کوڑھی ہونے کا باعث قرار دینا راویوں کی جہالت اور تدلیس ہی کا کارنامہ ہے۔
Ayah 20:127وَكَذٰلِكَ نَجْزِيْ۔۔ : یعنی اسی طرح ہر ایک مجرم کو اس کے جرم کے موافق جزا دی جائے گی۔
مَنْ اَسْرَفَ۔۔ : حد سے گزرنے والا سب سے بڑھ کر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرائے، پھر وہ ہے جو عبودیت (بندگی) کے مقام سے بڑھ کر اتنا بڑا (متکبر) بنے کہ اپنی خواہش نفس کے پیچھے لگ کر اپنے خالق ومالک کی کوئی بات نہ مانے۔
وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ۔۔ : یعنی اگرچہ دنیا اور قبر کی تنگی والی زندگی اور محشر میں اندھا کرکے اٹھایا جانا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا فراموش کردینا، ان میں سے ہر ایک بہت بڑا عذاب ہے، مگر آخرت یعنی سب سے آخری مرحلے کا عذاب (جہنم) سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ سخت اتنا کہ اس کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا تیز اور باقی رہنے والا ایسا کہ جہنمی اس سے خلاصی کے لیے موت کی تمنا کریں گے، مگر موت ذبح کی جا چکی ہوگی، اسی لیے فرمایا : (لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي) [ طٰہٰ : 74 ] ”نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔“ جہنم سے ان کے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
Ayah 20:128اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ۔۔ :”ھَدٰی یَھْدِیْ“ راہنمائی کرنا۔ ”الْقُرُوْنِ“ ”قَرْنٌ“ کی جمع ہے۔ قرن کا معنی متعین کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سب سے زیادہ معتبر ہے، جو آپ نے عبداللہ بن بسر ؓ کے متعلق فرمایا، آپ نے فرمایا : (یَعِیْشُ ھٰذَا الْغُلَامُ قَرْنًا، فَعَاش ماءَۃَ سَنَۃٍ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍159، ح : 2660 ] ”یہ لڑکا ایک قرن زندہ رہے گا“ تو وہ سو سال زندہ رہے۔“ سلسلہ صحیحہ کی اس روایت میں ابن عساکر کے حوالے سے مزید یہ ہے کہ عبداللہ بن بسر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : ”یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ قربان ! قرن کتنا ہوتا ہے ؟“ فرمایا : ”سو سال۔“ عبداللہ بن بشر ؓ نے فرمایا کہ میں پچانوے برس جی چکا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی بات پوری ہونے میں پانچ برس رہ گئے ہیں۔ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ ہم نے بعد میں پانچ سال گنے، پھر وہ فوت ہوگئے۔
3 قرون سے مراد عاد وثمود ہیں، کیونکہ عرب لوگ یمن، نجران اور اس کے گرد و نواح کی طرف جاتے ہوئے قوم عاد کے رہنے کی جگہوں سے گزرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ تبوک کے سفر میں ثمود کے مکانات سے گزرے تھے۔ اسی طرح ان سفروں میں قوم لوط اور اہل مدین کی تباہ شدہ بستیاں سب سے بڑی شاہراہ پر واقع تھیں، جہاں سے وہ صبح و شام گزرتے تھے۔ دیکھیے سورة حجر (76 تا 79) اور صافات (33 تا 38)۔
3 اس سورت میں پیغمبروں کو جھٹلانے والے لوگوں کا اور ان کے بدترین انجام کا ذکر گزر چکا ہے۔ حق یہ تھا کہ اہل عرب تاریخ سے سبق حاصل کرتے اور کفر و شرک سے باز آجاتے، مگر وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے۔ اس لیے بطور تعجب فرمایا کہ کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر ڈالا، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں اور جنھیں دیکھنے سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ لوگ قد و قامت، صنعت و زراعت اور قوت و مہارت میں ان سے بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ مدائن صالح، اہرام مصر اور دوسرے آثار قدیمہ شاہد ہیں کہ اس قوت کے لوگ پھر پیدا نہیں ہوئے۔ دیکھیے سورة فجر (6 تا 14) اور سورة روم (9، 10) ان لوگوں کے آثار آنکھوں سے دیکھ کر اور اپنے آبا و اجداد سے تواتر کے ساتھ ان کی قوت وہیبت اور عذاب الٰہی سے بربادی کے واقعات سن کر بھی کیا ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ بھی ان کی روش پر اڑے رہے تو ان کا انجام کیا ہوگا ؟
اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى : ”النُّهٰى“ کی تفسیر اسی سورت کی آیت (54) میں دیکھیے۔ ”النُّهٰى“ جمع ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عقلوں والے“ کیا ہے اور ”لَاٰيٰتٍ“ پر تنوین تعظیم کی وجہ سے ترجمہ ”کئی عظیم نشانیاں“ کیا ہے۔
Ayah 20:129ۧوَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ۔۔ : اصل میں ”وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ وَأَجَلٌ مُّسَمًّی لَکَانَ (الْعَذَابُ) لِزَامًا“ ہے، فواصل (آیات کے آخری حروف) کی مطابقت کے لیے ”وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى“ کو مؤخر کردیا گیا۔
”3 لِزَامًا“ بروزن ”قِتَالٌ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے اور اسم فاعل کے معنی میں برائے مبالغہ ہے، لازم ہونے والا۔
”لَکَانَ“ میں ضمیر ”ھُوَ“ اس کا اسم ہے جو پچھلی آیات کے مضمون ”الْعَذَابُ“ (وہی عذاب) کی طرف لوٹ رہی ہے۔
3 جب پہلی قوموں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تو سوال پیدا ہوا کہ اب ان جھٹلانے والوں کو کیوں ہلاک نہیں کیا جا رہا ؟ فرمایا کہ اس کے دو سبب ہیں، ایک تو وہ بات جو رب تعالیٰ کی طرف سے پہلے طے ہوچکی اور دوسرا وہ وقت جو مقرر ہوچکا۔ پہلے طے شدہ بات سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونا ہے، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ کَتَبَ فِيْ کِتَابِہٖ وَ ھُوَ یَکْتُبُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَھُوَ وَضْعٌ عِنْدَہٗ عَلَی الْعَرْشِ اِنَّ رَحْمَتِيْ تَغْلِبُ غَضَبِيْ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ : (ویحذرکم اللہ نفسہ) : 7404 ] ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا فرمائی تو اپنے آپ پر یہ بات لکھ دی، اور وہ خود ہی اپنے آپ پر لکھتا ہے، اور اسے اپنے پاس عرش پر رکھ لیا کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔“ اور اس نے اپنی رحمت سے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ پیغام پہنچانے اور حجت پوری کرنے کے بغیر عذاب نہیں دیتا۔ دیکھیے بنی اسرائیل (15) اور نساء (165) اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کفار کی نسل سے بیشمار مسلمان پیدا ہوں گے، اس لیے اس نے فوراً عذاب نازل کرنے کے بجائے کفار کو مہلت دے رکھی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر ایک کا وقت مقرر شدہ ہے، جس سے پہلے کوئی قوم یا شخص جتنی بھی نافرمانی کرے، اسے مہلت دی جاتی ہے، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے وقت نہیں ملا، جیسا کہ فرمایا : (لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَجَلُهُمْ لَا يَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ) [ الأعراف : 34 ] ”اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔“ اگر یہ دو باتیں نہ ہوتیں تو وہی پہلی قوموں والا عذاب لازم ہوجاتا۔
Ayah 20:130فَاصْبِرْ عَلٰي مَا يَــقُوْلُوْنَ : یعنی جب اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دینا طے فرما دیا ہے تو اب خواہ وہ کتنی تکلیف دہ باتیں کہیں، ساحر کہیں یا شاعر، کاہن کہیں یا مجنون، مذاق اڑائیں یا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ باتیں کہیں، آپ کے پاس صبر اور اللہ سے فریاد کے سوا چارہ نہیں، کیونکہ ہر مصیبت میں دو ہی چیزیں مددگار ثابت ہوتی ہیں، ایک صبر اور دوسری اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید، جس کی جامع صورت نماز ہے، اس لیے دوسری جگہ فرمایا : (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ) [ البقرۃ : 15 ] ”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو۔“
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ : اس کا لفظی معنی اگرچہ یہ ہے کہ ”اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر“ مگر مراد نماز ہے، جیسا کہ جز بول کر کل مراد لیا جاتا ہے، رکعت یا سجدہ بول کر پوری نماز مراد لی جاتی ہے، اسی طرح تسبیح و حمد بول کر پوری نماز مراد لی ہے، کیونکہ رکوع اور سجدہ کی طرح تسبیح و حمد بھی نماز کا جز ہے۔ دلیل اس کی جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھ کر فرمایا : (إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ھٰذَا لَا تُضَامُوْنَ فِيْ رُؤْیَتِہٖ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلاَۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا فَافْعَلُوْا ثُمَّ قَرَأَ : (وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ) [ ق : 39 ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ (وسبح بحمد ربک۔۔): 4851 ]”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اسے دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی بھیڑ پیش نہیں آئے گی۔ تو اگر تم یہ کرسکو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز کی ادائیگی میں کوئی تم پر غالب نہ آئے (رکاوٹ نہ بنے) تو ایسا کرو۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : (وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ) سورة قٓ کی اس آیت اور زیر تفسیر آیت کے الفاظ ایک ہیں، اس لیے یہاں بھی ”وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ“ سے مراد نماز ہی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں، ان کے اوقات کے اول و آخر کی تعیین، ان کی رکعات، ان کے ادا کرنے کا طریقہ سب کچھ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، حدیث کے انکار کا مطلب درحقیقت قرآن کا انکار ہے۔ صرف قرآن مجید سے ان میں سے کسی بات پر عمل ممکن نہیں، بلکہ نماز کے علاوہ زکوٰۃ، صیام، حج غرض کسی بھی حکم پر پوری طرح عمل ممکن نہیں۔ اس لیے کسی بھی مسلمان کو یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ قرآن مجید نے بھی انھی پانچ نمازوں کو فرض قرار دیا ہے جنھیں رسول اللہ ﷺ نے دن رات میں فرض بتایا ہے اور اپنے قول و عمل سے ان کا نمونہ پیش فرمایا ہے۔ اس لیے سلف صالحین نے ایسی تمام آیات کی تفسیر، جن میں نماز کے اوقات کی طرف اشارہ ہے، حدیث کو مدنظر رکھ کر ہی کی ہے۔
اس آیت سے پانچ نمازوں کا حکم کس طرح ثابت ہوتا ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کا بیان مختلف ہے۔ مجھے بقاعی ؓ کی تفسیر بہتر معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ”قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ“ سے مراد فجر کی نماز ہے۔ ”وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا“ سے مراد ظہر اور عصر کی نماز ہے۔ ”ۚ وَمِنْ اٰنَاۗئِ الَّيْلِ“ سے مراد مغرب اور عشاء ہے اور ”وَاَطْرَاف النَّهَارِ“ (دن کے کناروں) سے مراد فجر اور عصر ہے، کیونکہ فجر دن کے پہلے کنارے میں ہے اور عصر دن کے آخری کنارے میں، رہی مغرب تو وہ رات میں شامل ہے۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دو نمازوں (فجر اور عصر) کا ذکر ”قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ“ میں ہوچکا ہے، اس تفسیر کے مطابق ان کا ذکر دوبارہ لازم آتا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کی مزید تاکید کے لیے ان کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ) [ البقرۃ : 238 ] (سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو) میں ”صلاۃ وسطیٰ“ کا ذکر اس کی فضیلت و اہمیت کے پیش نظر دوبارہ کیا گیا ہے۔ فجر اور عصر کے فضائل کے پیش نظر ان کی مزید تاکید کے لیے انھیں دوبارہ ذکر فرمایا، کیونکہ حدیث کے مطابق ان دونوں نمازوں میں رات اور دن کے فرشتے شامل ہوتے ہیں اور جیسا کہ اوپر گزرا کہ اللہ تعالیٰ کی زیارت کے حصول کے لیے ان دونوں نمازوں کا خاص دخل ہے۔ نمازوں کے اوقات کے لیے مزید دیکھیں سورة بنی اسرائیل (78)۔
لَعَلَّكَ تَرْضٰى : یہ اشارہ ہے اس طرف کہ صبر اور نماز کی برکت سے آپ کو مقام محمود حاصل ہوگا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (79) سورة ضحی میں فرمایا : (وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى) [ الضحٰی : 5 ]”اور یقیناً عنقریب تیرا رب تجھے عطا کرے گا، پس تو راضی ہوجائے گا۔“ حدیث میں ہے کہ اہل جنت کو بھی راضی کیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ لِأَھْلِ الْجَنَّۃِ یَا أَھْْلَ الْجَنَّۃِ ! فَیَقُوْلُوْنَ لَبَّیْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِيْ یَدَیْکَ ، فَیَقُوْلُ ھَلْ رَضِیْتُمْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ وَمَا لَنَا لاَ نَرْضَی یَا رَبِّ ! فَقَدْ أَعْطَیْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ ؟ فَیَقُوْلُ أَلاَ أُعْطِیْکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ یَا رَبِّ ! وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ ؟ فَیَقُوْلُ : أُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِيْ فَلاَ أَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہُ أَبَدًا) [ بخاري، التوحید، باب کلام الرب مع أہل الجنۃ : 7518، عن أبی سعید الخدری ]”اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا، اے اہل جنت ! وہ کہیں گے، بار بار تیری جناب میں حاضر ہیں اے ہمارے رب ! اور بار بار حاضر ہیں ! تو وہ فرمائے گا، کیا تم راضی (خوش) ہوگئے ؟ وہ کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم خوش نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا، کیا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز عطا کروں ؟ وہ کہیں گے، اے رب ! اور اس سے افضل کیا ہے ؟ وہ فرمائے گا، میں تمہیں اپنی رضا عطا کرتا ہوں، سو اس کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (إِذَا دَخَلَ أَھْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ ، قَالَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًا أَزِیْدُکُمْ ؟ فَیَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْھَنَا ؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ ، فَمَا أُعْطُوْا شَیْءًا أَحَبَّ إِلَیْھِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلٰی رَبِّھِمْ) [ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین۔۔ : 181، عن صہیب ؓ ] ”جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : ”تم کوئی چیز چاہتے ہو کہ میں تمہیں مزید دوں ؟“ تو وہ کہیں گے : ”کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کیے ؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ؟“ فرمایا : ”تو اس وقت اللہ حجاب اٹھا دے گا، تو انھیں کوئی چیز عطا نہیں کی گئی ہوگی جو انھیں اپنے رب عز وجل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔“