Ayah 20:131وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖٓ۔۔ : ”مَدَّ یَمُدُّ“ (ن) پھیلانا، لمبا کرنا۔ آنکھیں پھیلانے سے مراد تعجب سے دیر تک دیکھتے رہنا ہے۔ ”مَدَّ یَمُدُّ“ عام طور پر پاؤں یا ہاتھ پھیلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”مَدَّ یَدَہُ“ یا ”مَدَّ رِجْلَہُ“ اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا یا اپنا پاؤں پھیلایا۔ یہاں آنکھیں پھیلانا استعارہ ہے، یعنی جس طرح پسندیدہ چیز کی طرف شوق اور حرص سے ہاتھ پھیلایا جاتا ہے آپ اپنی آنکھیں مت پھیلائیں۔ معلوم ہوا دیکھنے پر پابندی نہیں، دیکھتے چلے جانے پر پابندی ہے، کیونکہ اس سے دل میں اس چیز کی خواہش پیدا ہوسکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔ ”اَزْوَاجًا“ کی تنوین تقلیل کے لیے ہے، یعنی دنیا کی وہ زیب و زینت ہم نے ہر کافر کو نہیں دی، بلکہ ان کے چند قسم کے لوگوں ہی کو دی ہے، کیونکہ بہت سے کفار نہایت بدحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ”زَهْرَةَ“ ”زَھْرٌ“ کی واحد ہے، پھول، جیسے ”تَمْرَۃٌ“ ”تَمْرٌ“ کی واحد ہے۔ استعارے کے طور پر زیب و زینت کو بھی ”زَهْرَةَ“ کہتے ہیں، کیونکہ پھول کی طرح زینت بھی نگاہ و دل کو لے جاتی ہے۔ ”زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا“ دنیا کی زندگی کی زینت۔ دنیا کی زینت کے جامع بیان کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (14) اور سورة توبہ (24) بلکہ انسان کو ملنے والی ہر چیز ہی دنیا کی زندگی کی زینت ہے، چناچہ فرمایا : (وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَزِيْنَتُهَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ القصص : 60 ] ”اور تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے سو دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے۔“ معلوم ہوا کفار کو ملنے والی کسی بھی چیز کی طرف نگاہ پھیلانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ ان کے فتنہ و آزمائش کے لیے ہے اور حقیقت میں ان کی زندگی دشوار کرنے کا باعث ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا) [ طٰہٰ : 124 ] ”تو بیشک اس کے لیے تنگ گزران ہے۔“ اور دیکھیے سورة توبہ (55)۔
وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّاَبْقٰی : ”تیرے رب کا رزق“ سے مراد حلال رزق ہے، کیونکہ وہ رب کے حکم کے مطابق کمایا گیا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی شان کی بلندی کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف کی، ورنہ کافروں کو ملنے والا رزق بھی اللہ تعالیٰ ہی کا عطا کردہ ہے۔ یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی حلال روزی اور آخرت میں اس کا عطا کردہ اجر و ثواب کفار کو ملنے والی نعمتوں سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے، کیونکہ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے۔
Ayah 20:132وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ۔۔ : ”وَاصْطَبِرْ“ ”صَبَرَ یَصْبِرُ“ سے باب افتعال کا امر ہے، تاء کو طاء سے بدل دیا ہے اور حروف کے اضافے سے مبالغہ مقصود ہے، اس لیے ترجمہ ”خوب پابندرہ“ کیا گیا ہے۔ ان آیات میں بظاہر تمام اوامر کے مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، مگر امت کا ہر فرد نبی کریم ﷺ کے تابع ہونے کی وجہ سے ان کا مخاطب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بالصَّلَاۃِ وَھُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَھُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَفَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِيْ الْمَضَاجِعِ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب متٰی یؤمر الغلام بالصلاۃ : 495، عن عبداللہ بن عمرو ؓ ] ”اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور انھیں اس کی وجہ سے مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور آپس میں ان کے بستر الگ کر دو۔“ یعنی بجائے اس کے کہ آپ کے گھر والے دنیا داروں کے عیش و آرام کی طرف نگاہیں بڑھائیں، آپ انھیں نماز کی تاکید کریں اور خود بھی اس پر خوب پابندی کریں۔ کیونکہ یہ چیز ان کا اور آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑ دے گی اور تم میں حلال روزی پر، چاہے وہ مقدار میں کتنی ہی تھوڑی ہو، صبر و قناعت کا جذبہ پیدا کرے گی اور اصل غنا صبر و قناعت سے ہے، نہ کہ مال و دولت سے۔
لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا۔۔ : عام طور پر روزی کمانے کی وجہ سے آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز میں سستی کرتا ہے، اس لیے فرمایا، ہمارا مطالبہ آپ سے روزی کمانے کا نہیں عبادت اور نماز کا ہے، روزی تمہیں ہم دیں گے۔ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کا نام عبادت ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو روزی کمانے کے لیے پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اپنے احکام کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اگر وہ اللہ کا بندہ (غلام) بن کر اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اسے رزق کی کوئی کمی نہیں آئے گی، فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ 56 مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِيْدُ اَنْ يُّطْعِمُوْنِ 57 اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ) [ الذاریات : 56 تا 58 ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ میری عبادت کریں، نہ میں ان سے کوئی رزق چاہتا ہوں اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں، بیشک اللہ ہی بیحد رزق دینے والا، طاقت والا، نہایت مضبوط ہے۔“ انسان کی بےصبری اور بخل و حرص کا علاج نماز کی محافظت اور اس پر دوام ہے۔ دیکھیے سورة معارج (19 تا 35) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ یَا ابْنَ آدَمَ ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِيْ أَمْلَأُ صَدْرَکَ غِنًی وَأَسُدَّ فَقْرَکَ وَإِلاَّ تَفْعَلْ مَلَأْتُ یَدَیْکَ شُغْلاً وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَکَ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء۔۔ : 2466، عن أبي ہریرہ ؓ ]”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم ! میری عبادت کے لیے پوری طرح فارغ ہوجا، (تو) میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مشغولیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری دور نہیں کروں گا۔“
وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى : یعنی چاہے دنیا میں ان کے دن تکلیف سے گزریں مگر آخرت میں ہمیشہ رہنے والا عیش و آرام انھی کا حصہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ کَانَتِ الْآخِرَۃُ ھَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ غِنَاہُ فِيْ قَلْبِہٖ وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ وَأَتَتْہُ الدُّنْیَا وَھِیَ رَاغِمَۃٌ وَمَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ھَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ فَقْرَہُ بَیْنَ عَیْنَیْہٖ وَفَرَّقَ عَلَیْہِ شَمْلَہٗ وَلَمْ یَأْتِہٖ مِنَ الدُّنْیَا إِلاَّ مَا قُدِّرَ لَہٗ) [ ترمذي، صفۃ القیامۃ، باب أحادیث ابتلینا بالضراء۔۔ : 2465، عن أنس بن مالک ؓ ] ”جس شخص کی فکر صرف آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کی دولت مندی اس کے دل میں رکھ دیتا ہے اور اس کے لیے اس کے تمام معاملات جمع کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کی فکر صرف دنیا ہو اللہ تعالیٰ اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کے تمام معاملات کو بکھیر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا و آخرت دونوں میں اچھا انجام تقویٰ ہی کا ہے۔
Ayah 20:133وَقَالُوْا لَوْلَا يَاْتِيْنَا۔۔ : کفار کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ نبی ہیں تو گزشتہ انبیاء کی طرح اپنے سچا ہونے کی کوئی نشانی کیوں پیش نہیں کرتے ؟ فرمایا، اس سے زیادہ آپ کی سچائی کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ پہلی آسمانی کتابیں آپ کے آنے کی خبر دے رہی ہیں۔ یقیناً یہ خبر اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے واسطے سے کفار مکہ تک پہنچ چکی ہے۔ پہلی کتابوں میں آپ ﷺ کے ذکر خیر کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (157) ، فتح (29) اور صف (6)۔
Ayah 20:134وَلَوْ اَنَّآ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو عذاب دینے سے پہلے انبیاء کو مبعوث کرنے اور کفار کو مہلت دینے کی حکمت دوبارہ بیان فرمائی۔ اس سے مقصود ان کا عذر ختم کرنا اور ان پر حجت تمام کرنا ہے اور یہی ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کا دستور رہا ہے۔ دیکھیے سورة قصص (59) اور بنی اسرائیل (15)۔
Ayah 20:135قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا۔۔ : ”كُلٌّ“ کی تنوین اس کے محذوف مضاف الیہ کی جگہ آئی ہے، یعنی ”کُلُّ وَاحِدٍ“ ہر ایک، مطلب یہ ہے کہ اگر پہلی کتابوں میں موجود واضح دلائل تمہارے لیے نبی ﷺ پر ایمان لانے کے لیے کافی نہیں اور تمہیں اپنی مرضی کی نشانی دیکھنے پر اصرار ہے تو تم ایمان لانے کے لیے نشانی کا انتظار کرتے رہو، ہم تمہارے لیے دنیا میں اللہ کی گرفت اور آخرت میں اس کے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جلد ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور وہ کون ہے جس نے ہدایت پالی ہے ؟ اس سے رسول اللہ ﷺ کے اپنے راہ حق پر ہونے کے یقین کا اظہار ہوتا ہے، کیونکہ اتنے دعوے سے یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جسے اپنے حق پر ہونے کا مکمل یقین ہو۔
فَتَرَبَّصُوْا : امر کے ساتھ اگر قرینہ بھی ہو تو وہ دوام کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ یہ ہے کہ انتظار اس وقت تک جاری رہنا ہے جب تک وہ چیز وجود میں نہ آئے جس کا انتظار ہے۔ انتظار کا یہ حکم وعید اور خبردار کرنے کے لیے ہے۔ اسے متارکہ کہتے ہیں، یعنی ہم نے تمہیں تمہاری انتظار کی حالت پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ ہمیں تمہارے برے انجام کا یقین ہے۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة سجدہ (30) اور سورة توبہ (52) تاریخ شاہد ہے کہ بہت جلد کفار کو مسلمانوں کا راہ راست پر ہونا معلوم ہوگیا۔ بدر کے دن ان کو جو اسلام نہیں لائے، مثلاً ابوجہل اور کفر و شرک کے دوسرے ہلاک ہونے والے سردار اور ان کو بھی جو مسلمان ہوگئے، مثلاً ابوسفیان اور خالد بن ولید ؓ اور ان سب کو جنھوں نے جزیرۂ عرب، شام، عراق، ایران، مصر اور پھر زمین کے مشرق و مغرب پر اسلام کا غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوئی۔ ”جلد ہی جان لو گے“ میں یہ بھی شامل ہے کہ بہت جلد قیامت کے دن تمہیں اس بات کا علم الیقین اور عین الیقین حاصل ہوجائے گا۔ کیونکہ ”کُلُّ آتٍ قَرِیْبٌ“ کہ آنے والی ہر چیز قریب ہی ہے۔