Ayah 21:1اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ : ”اِقْتَرَبَ“ ”قَرِبَ یَقْرَبُ“ (ع، ک) میں سے باب افتعال کا ماضی معلوم ہے۔ حروف میں اضافے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بہت قریب آگیا۔“ ”غَفْلَةٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بھاری غفلت“ کیا گیا ہے۔
”اَلنَّاسُ“ کا لفظ عام ہے، یعنی سب لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا، اس کے باوجود انھیں اس کی کچھ فکر نہیں، بلکہ وہ بھاری غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی دنیا کی دلچسپیوں میں محو ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ”فِيْ غَفْلَةٍ“ کی تفسیر ”غَفْلَۃُ أَھْلِ الدُّنْیَا“ (دنیا والوں کی غفلت) فرمائی ہے۔ [ بخاري : 4730 ] دیکھیے سورة مریم (39)۔
حِسَابُهُمْ : حساب کے لفظ میں دنیا و آخرت دونوں کا محاسبہ شامل ہے۔ دنیا میں محاسبہ جیسا کہ کفار قریش کو بدر اور فتح مکہ کی صورت میں پیش آیا اور ہر انسان کو سال میں ایک دو دفعہ پیش آتا رہتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَّھُمْ يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ يَذَّكَّرُوْنَ) [ التوبۃ : 126 ] ”اور کیا وہ نہیں دیکھتے کہ وہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں پھر بھی وہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔“ دنیا کے محاسبے کے فوراً بعد موت کی صورت میں محاسبہ پیش آئے گا، فرشتے کفار کی جانیں نکالتے ہوئے کہہ رہے ہوں گے : (اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ) [ الأنعام : 93 ] ”نکالو اپنی جانیں، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس کے بدلے جو تم اللہ پر ناحق (باتیں) کہتے تھے اور تم اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔“ موت کے بعد قبر کے سوال و جواب کی صورت میں محاسبہ اور آخر میں قیامت کے دن حساب ہوگا۔ حساب کے لفظ میں یہ تمام محاسبے شامل ہیں مگر یوم حساب کے طور پر قیامت کا دن مشہور ہے، اس لیے اکثر مفسرین نے یہاں صرف اسی کا ذکر کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حساب کے یہ تمام مرحلے بالکل قریب ہیں۔ حساب کی کچھ صورتیں تو زندگی ہی میں ہر روز پیش آتی رہتی ہیں، پھر موت کے قرب میں کسی کو شک نہیں، رہی قیامت تو اگرچہ وہ لوگوں کو دور دکھائی دیتی ہے مگر ہر آنے والی چیز قریب ہے، خواہ کتنے انتظار کے بعد آئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّهُمْ يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًا ۙوَّنَرٰىهُ قَرِيْبًا) [ المعارج : 6، 7 ] ”بیشک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔“ نیز دیکھیے سورة نحل (1) ، حج (47) اور قمر (1) اس لحاظ سے بھی یوم حساب بہت قریب آگیا ہے کہ دنیا کی مدت کا اکثر حصہ گزر چکا۔ اب آخری نبی ﷺ کے آنے کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا، بلکہ قیامت ہی آئے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ یَعْنِيْ إِصْبَعَیْنِ)”میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب) بھیجے گئے ہیں۔“ [ بخاري، الرقاق، باب قول النبي ﷺ : بعثت أنا والساعۃ کھاتین : 6505، عن أنس ؓ ]
مُّعْرِضُوْن : یعنی لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنا حساب نہایت قریب آنے کے باوجود ایسی بھاری غفلت میں پڑے ہیں کہ ہر نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ”اَلنَّاسُ“ کے لفظ سے تمام لوگوں کو حساب کے بہت قریب آنے سے ڈرایا مگر آئندہ آیات میں کفار و مشرکین کی غفلت اور اعراض کو زیادہ اجاگر فرمایا ہے۔ اس آدمی کی غفلت و اعراض میں کیا شک ہے جو یہ جانتے ہوئے بھی خبردار نہیں ہوتا کہ مجھے یقیناً مرنا ہے، صرف اس لیے کہ موت یا قیامت کا دن اسے متعین کرکے نہیں بتایا گیا۔ اس کی مثال اس نکمّے طالب علم کی سی ہے جسے معلوم ہے کہ امتحان یقیناً ہونا ہے مگر وہ اس لیے بےپروا ہے کہ ابھی امتحان کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ ابن کثیر نے یہاں ابوالعتاہیہ کا ایک شعر نقل فرمایا ہے
اَلنَّاسُ فِيْ غَفَلاَتِھِمْ
وَ رَحَی الْمَنِیَّۃِ تَطْحَنُ
”لوگ اپنی غفلتوں میں پڑے ہوئے ہیں، جب کہ موت کی چکی پیستی چلی جا رہی ہے۔“
Ayah 21:2مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ۔۔ :”اِلَّا اسْتَـمَعُوْهُ“ ”سَمِعَ یَسْمَعُ“ کا معنی سننا ہے، باب افتعال میں تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، جو موقع کی مناسبت سے خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے۔ عام طور پر ”اِسْتَمَعَ“ کا معنی کان لگا کر سننا آتا ہے، مگر ظاہر ہے کہ کفار کے لیے نصیحت کو کان لگا کر سننا مشکل ہے، خصوصاً جب وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہوں، اس لیے معنی کیا گیا ہے ”مگر وہ اسے مشکل سے سنتے ہیں۔“
پچھلی آیت میں لوگوں کے غفلت میں گرفتار ہونے اور منہ موڑنے کا ذکر تھا۔ اس آیت میں بتایا کہ انھیں اس غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ان کے رب کی طرف سے قرآن و سنت کی صورت میں نئی سے نئی نصیحت آتی رہتی ہے، مگر قبول کرنا تو دور کی بات، وہ اسے توجہ اور اطمینان سے سنتے بھی نہیں، بلکہ کھیلتے اور مذاق اڑاتے ہوئے بڑی مشکل اور گرانی سے سنتے ہیں۔
”ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ“ (ان کے رب کی طرف سے نصیحت) سے معلوم ہو رہا ہے کہ رب تعالیٰ صرف کھانے پینے اور دنیوی ضرورتیں پوری کرنے والا رب اور پروردگار ہی نہیں بلکہ انسان کی روحانی ضرورتیں اور آخرت کی نجات کی ضامن چیزوں کو مہیا کرنے والا رب بھی ہے۔
مُّحْدَثٍ کا معنی ”نیا“ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے لوگوں کی طرف قرآن اور حدیث کی صورت میں نئی سے نئی نصیحت آتی رہتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے اور جو چاہے کلام کرسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے سے انکار کردیا، بلکہ اسے مخلوق قرار دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا ناممکن ہے۔ اس بحث کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة اعراف (143) ، توبہ (6) اور کہف (109)۔
Ayah 21:3لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ ۭ وَاَسَرُّوا النَّجْوَي۔۔ : ”لَاهِيَةً“ ”لَہِیَ یَلْھٰی“ (ع) یا ”لَھَا یَلْھُوْ“ (ن) سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے۔ ”لَھْوٌ“ وہ چیز ہے جو انسان کو اس کے ضروری اور اہم کاموں سے کسی اور کام میں مشغول کر دے۔ (راغب) جیسا کہ مادہ پرست لوگ آخرت کی فکر چھوڑ کر صرف دنیا کی طلب میں مشغول ہیں۔ آج کل کے علوم و فنون سائنس، آرٹ وغیرہ میں کوئی چیز ایسی نہیں جو آخرت کی یاد دلانے والی ہو، بلکہ یہ سب روشن خیالیاں دن بدن موت اور آخرت کی فکر سے دور لے جا رہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورة روم (6، 7)۔
وَاَسَرُّوا النَّجْوَي : یہاں نحو کا ایک مشہور سوال ہے کہ جب فاعل ظاہر ہو تو خواہ وہ واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، فعل واحد کے صیغے کے ساتھ آتا ہے۔ یہاں ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ فاعل ظاہر ہونے کے باوجود فعل جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں آیا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ”وَاَسَرُّوا“ کا فاعل ضمیر جمع ہے اور ”الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا“ اس سے بدل ہے، یعنی کفار نے باہمی خفیہ مشورے سے لوگوں کو آپ ﷺ سے دور رکھنے کے لیے خفیہ مشاورت کرکے طے کیا کہ لوگوں سے یہ کہو اور خفیہ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ان کی طے کردہ بات ہے تو وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ۔۔ : یعنی یہ کوئی فرشتہ نہیں ہے، بلکہ تمہاری طرح کا ایک انسان ہے، اب جو یہ معجزات دکھاتا ہے اور اس کلام کو سن کر لوگ گرویدہ ہو رہے ہیں تو یہ سب جادو ہے۔ کفار نے آپ ﷺ کی نبوت پر دو طرح سے طعن کیا، ایک یہ کہ آپ بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کئی جگہ بیان فرمائی ہے، مثلاً دیکھیے سورة بنی اسرائیل (94) ، تغابن (6) ، قمر (24) ، مومنون (33، 34) ، فرقان (7) اور ابراہیم (10) پہلے کفار و مشرکین کہتے تھے کہ بشر نبی نہیں ہوسکتا، آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا، بات ایک ہی ہے، (بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْن) [ المؤمنون : 81 ] ”بلکہ انھوں نے کہا جیسے پہلوں نے کہا تھا۔“ اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا رد فرمایا۔ دوسرا طعن یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جادو ہے۔ کفار کا یہ طعن بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مثلاً دیکھیے سورة مدثر (24) اور ذاریات (52)۔
Ayah 21:4قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ۔۔ : یعنی پیغمبر ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم نے خفیہ مشورے سے جو بات طے کی ہے وہ میرے رب سے مخفی نہیں۔ وہ آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، کیونکہ وہ سمیع بھی ہے اور علیم بھی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ”یَعْلَمُ السِّرَّ“ (وہ چھپی بات کو جانتا ہے) کے بجائے ”يَعْلَمُ الْقَوْلَ“ فرمایا، یعنی وہ ہر بات جانتا ہے، تمہاری خفیہ سرگوشیاں بھی اور بلند آواز سے گفتگو بھی۔ اس لیے اس کے پیغمبر کے خلاف تمہاری یہ خفیہ مجلسیں یا علانیہ مخالفت تمہارے کسی کام نہیں آئیں گی اور تم غلبۂ اسلام کو کسی طرح نہیں روک سکو گے۔ ایک قراءت میں ”قُلْ رَّبِّي“ ہے، یعنی کہہ دے کہ میرا رب آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات جانتا ہے۔
Ayah 21:5بَلْ قَالُـوْٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ۔۔ : ”اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (44)۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ ﷺ نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورة مدثر (18 تا 25) میں کفار کے ایک کھڑپینچ کی اسی طرح کی پریشان خیالی کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام باتوں کا جواب دے رکھا تھا کہ اگر تمہیں اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو اس جیسی کتاب بنا کرلے آؤ، یا دس سورتیں بنا کرلے آؤ، چلو ! یہ بھی نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آؤ۔ اگر یہ بھی نہ کرو اور کر بھی نہیں سکو گے، تو جہنم کی آگ سے ڈر کر اس پر ایمان لے آؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو عطا کیا گیا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کفار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ اس وقت تھا اور نہ قیامت تک اس کا جواب لاسکتے ہیں۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، اس لیے کہنے لگے کہ اس معجزے کو دیکھ کر ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہمارے پاس تو یہ رسول وہ معجزے لے کر آئے جو پہلے رسولوں کو دیے گئے تھے، مثلاً صالح ؑ کی اونٹنی، موسیٰ ؑ کا عصا، عیسیٰ ؑ کا مردہ کو زندہ کرنا، نابینا کو بینا کرنا وغیرہ۔
Ayah 21:6مَآ اٰمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْيَةٍ۔۔ : اس آیت میں تین باتیں نہایت اختصار کے ساتھ بیان فرمائی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر تم نے پہلے رسولوں جیسا معجزہ لانے کا مطالبہ کیا ہے، سو پہلی امتوں کو ایسے معجزات دکھائے گئے، وہ ان پر ایمان نہیں لائے، تو تم جو ان سے کہیں بڑھ کر سرکش اور ضدی ہو، کیسے ایمان لاؤ گے ؟ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (59) دوسری یہ کہ جو قومیں معجزات دیکھ کر ایمان نہیں لائیں انھیں ہلاک کردیا گیا، کیونکہ صریح معجزہ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایمان نہ لانے والی قوم ہلاک کردی جاتی ہے، تو تم ایسا مطالبہ کیوں کرتے ہو جس کا نتیجہ تمہاری ہلاکت ہے ؟ تیسری یہ کہ تمہیں معجزہ نہ دکھانا اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمہیں مہلت دے رکھی ہے اور اس کے علم میں تمہاری کئی نسلوں کا مسلمان ہونا مقدر ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة عنکبوت (48 تا 51) کی تفسیر۔
Ayah 21:7وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا۔۔ : یہ ”هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ“ (یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا) کا جواب ہے، یعنی وہ تمام رسول جو آپ سے پہلے آئے، جن کے رسول ہونے کو یہ بھی مانتے ہیں، مثلاً ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق ؑ وغیرہم، وہ سب بشر تھے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ تو یہ لوگ آپ کو بشر ہونے کی وجہ سے رسول کیوں نہیں مانتے ؟ دیکھیے سورة انعام (91) سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : (کَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ یَفْلِيْ ثَوْبَہُ وَ یَحْلِبُ شَاتَہُ وَیَخْدِمُ نَفْسَہُ) [ مسند أحمد : 6؍256، ح : 26248۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 671 ] ”آپ ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے، اپنا کپڑا خود ٹٹول لیا کرتے تھے اور اپنی بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے اور اپنا کام خود کرلیتے تھے۔“ زمین میں اگر فرشتے رہا کرتے تو رسول بھی فرشتہ آتا، اب انسان بستے ہیں تو ان کے لیے نمونہ اور ان کی رہنمائی کرنے والا انسان ہی ہوسکتا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (94، 95)۔
فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ۔۔ : اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل (43)۔
Ayah 21:8وَمَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا۔۔ :”جَسَدًا“ کا معنی بےجان جسم ہے، یہ جثہ کا ہم معنی ہے۔ محقق ائمۂ لغت کا یہی قول ہے، جیسا کہ ابو اسحاق زجاج نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : (فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ) [ طٰہٰ : 88 ] کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔ [ التحریر والتنویر ] یہ ان کے اس اعتراض کا جواب ہے : (مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ) [ الفرقان : 7 ] ”اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ اس کے ساتھ ہی ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا : (هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ) [ الأنبیاء : 3 ] ”یہ تمہارے جیسا ایک بشر ہی تو ہے۔“ ان اعتراضوں کے ساتھ مطالبہ یہ تھا : (فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْن) [ الأنبیاء : 5 ] ”پس یہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے رسول بھیجے گئے۔“ ”فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ“ کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں دوسرے دونوں اعتراضوں کا جواب دیا کہ اس سے پہلے تمام رسول جو ہم نے بھیجے، بشر تھے فرشتے نہ تھے، مرد تھے عورتیں نہ تھے۔ اسی طرح وہ بےجان جسم نہ تھے جو نہ کھاتے ہوں اور نہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہوں، بلکہ وہ کھاتے پیتے بھی تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔ (فرقان : 20) ان کی بیویاں بھی تھیں اور اولاد بھی۔ (رعد : 38) جیسے تمہارے جد امجد ابراہیم اور اسماعیل ؑ اور بنی اسرائیل کے جد امجد یعقوب، اسحاق اور ابراہیم۔ تو جب ان سب کو بشر ہونے، کھانے پینے، بازاروں میں چلنے پھرنے اور صاحب آل و اولاد ہونے کے باوجود رسول مانتے ہو تو نبی امی ﷺ کو رسول کیوں نہیں مانتے ؟
3 مشرکین خواہ پہلے زمانے کے ہوں یا رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے یا ہمارے زمانے کے، سب کا ذہن یہی ہوتا ہے کہ بزرگ کھانے پینے سے بےنیاز اور بیوی بچوں سے مستغنی ہوتے ہیں اور دنیا کے دھندوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کی نگاہ میں بزرگ اور پیر بننے والے حضرات کمائی وغیرہ چھوڑ کر کٹیاؤں اور خانقاہوں میں ڈیرے لگا لیتے ہیں۔ ان بزرگوں کے بعض عقیدت مند ان کے متعلق عجیب و غریب قصے مشہور کردیتے ہیں، جن کا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو ”تذکرۃ الاولیاء“ پڑھ لیں، مثلاً فلاں بزرگ نے پہلے ایک دن کھانے کا ناغہ کیا، پھر ایک ماہ کا، پھر ایک سال کا اور پھر ساری عمر کا۔ پنجاب کے ایک بزرگ کے متعلق ان کے عقیدت مندوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ انھوں نے بارہ سال کچھ کھائے بغیر جنگل میں عبادت کرتے ہوئے گزار دیے، صرف ایک لکڑی کی روٹی ان کے پاس تھی، جسے کبھی کبھار وہ دانتوں سے کاٹتے تھے۔ پھر بارہ سال انھوں نے ایک کنویں میں الٹے لٹک کر اللہ کی عبادت کرتے ہوئے گزار دیے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ الٹا لٹکنا کون سی عبادت ہے ؟ اور اس عرصے کی نمازیں، روزے اور وضو و غسل سب کہاں گئے ؟ ان لوگوں کے ہاں یہ بزرگی ہے، جب کہ وہ تین صحابہ، جن میں سے ایک نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ ساری ساری رات قیام کیا کروں گا، کبھی سوؤں گا نہیں، دوسرے نے کہا تھا کہ میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا کبھی روزے کے بغیر نہیں رہوں گا اور تیسرے نے کہا تھا کہ میں عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا : (وَاللّٰہِ ! إِنِّیْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَأَتْقَاکُمْ لَہُ لٰکِنّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ) ”اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں، لیکن میں قیام کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزے رکھتا ہوں کبھی نہیں بھی رکھتا اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، تو جس نے میرے طریقے سے بےرغبتی کی وہ مجھ سے نہیں۔“ [ بخاري،
النکاح، باب الترغیب في النکاح : 5063 ]
وَمَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ : یہ بھی کفار کے ایک غلط عقیدے کا رد ہے کہ اللہ کے رسول اور خاص بندے مرتے نہیں۔ کئی جاہلوں نے ایک عبارت بنا رکھی ہے جسے وہ قرآن کی آیت قرار دے کر سناتے ہیں : ”أَلَا إِنَّ أَوْلِیَاء اللّٰہِ لَا یَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنَّھُمْ مِنْ دَارٍ إِلٰی دَارٍ یَنْتَقِلُوْنَ“ ”یاد رکھو ! اللہ کے ولی مرتے نہیں، بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔“ اگر کوئی شخص کہہ بیٹھے کہ اللہ کے رسول ﷺ یا فلاں بزرگ فوت ہوگئے ہیں تو یہ لوگ اسے گستاخ قرار دے کر اس پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ پہلے گزرے ہوئے رسول ہمیشہ رہنے والے نہ تھے، بلکہ اپنی طبعی زندگی گزار کر فوت ہوگئے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ) [ الأنبیاء : 34 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مرجائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زمر (30، 31)۔
Ayah 21:9ثُمَّ صَدَقْنٰهُمُ الْوَعْدَ۔۔ : ”صَدَقَ یَصْدُقُ“ لازم بھی آتا ہے، یعنی سچ کہنا اور متعدی بھی، یعنی سچا کردکھانا، ”پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کردیا۔“ ”ثُمَّ“ (پھر) کا لفظ یہ بتانے کے لیے ہے کہ رسولوں کی مخالفت ہوئی، انھیں ستایا گیا، جنگیں بھی ہوئیں مگر پھر آخر کار ہم نے ان سے مدد کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا، سو ہم نے رسولوں کو نجات دی اور ان کو بھی جنھیں ہم چاہتے تھے۔ اس میں رسولوں کے پیروکار بھی شامل ہیں اور کفار میں سے وہ بھی جنھیں آئندہ ایمان لانا تھا، یا جن کی اولاد کو ایمان کی توفیق ملنا تھی۔ عربوں پر سب کو ہلاک کرنے والا عذاب نہ آنے میں یہی حکمت تھی۔ ”اور حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کردیا“ اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لیے خوش خبری ہے اور کفار کے لیے وعید۔ رسولوں سے کیے گئے مدد کے وعدے اور اسے پورا کرنے کے ذکر پر مشتمل آیات سورة مجادلہ (21) ، صافات (71 تا 73) ، ابراہیم (13، 14) اور یوسف (110) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 21:10لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا۔۔ : اس آیت میں کفار کی ان تمام پریشان کن باتوں کا اکٹھا جواب ہے جو وہ نبی ﷺ اور قرآن کے متعلق کہتے تھے کہ یہ خوابوں کی پراگندہ باتیں ہیں، یا من گھڑت باتیں ہیں، یا جادو ہے، یا شاعری ہے، تو فرمایا کہ قرآن کا ان میں سے کسی بات سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ہم نے تو تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، تمہارے ہی حالات اور زندگی کے معاملات پر بحث کی گئی ہے اور انھی کے متعلق تمہاری راہنمائی کی گئی ہے۔ اس میں خواب، جادو یا شاعری کی کون سی بات ہے، تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ ”فِيْهِ ذِكْرُكُمْ“ کا ایک معنی یہ ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں یہ کتاب ساری دنیا میں تمہاری ناموری، شہرت اور عز و شرف کا باعث ہے، جیسا کہ دوسری جگہ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا : (وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ) [ الزخرف : 44 ] یعنی بیشک یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے عز و شرف کا باعث ہے۔ ذکر کا ایک معنی نصیحت بھی ہے، جیسے فرمایا : (وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ) [ الذاریات : 55 ] ”اور نصیحت کر، کیونکہ یقیناً نصیحت ایمان والوں کو نفع دیتی ہے۔“ تو آیت کا ترجمہ یہ ہوگا ”بلاشبہ یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہاری نصیحت کا سامان ہے۔“ آیت میں ذکر کے تینوں معنی بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان میں کوئی باہمی تعارض نہیں۔
Ayah 21:11ۧوَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً : ”قَصْمٌ“ کا معنی کسی سخت چیز کو توڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے : ”فُلاَنٌ قَصَمَ ظَھْرَ فُلاَنٍ“ کہ فلاں نے فلاں کی کمر توڑ دی۔ ”اِنْقَصَمَتْ سِنُّہُ“ فلاں کا دانت ٹوٹ گیا۔ ”کَمْ“ یہاں تکثیر کے لیے ہے، ”کتنی ہی بستیاں“ سے مراد بہت سی بستیاں ہیں، اس سے کوئی خاص بستی مراد نہیں۔ ابن عباس ؓ کی طرف منسوب وہ روایت موضوع ہے جس میں ان سے نقل کیا گیا ہے کہ اس سے مراد یمن کے شہروں کے لوگ ہیں۔ [ الاستیعاب في بیان الأسباب ] آیت کے الفاظ کے مطابق بھی وہ بستیاں عام ہیں اور کوئی خاص علاقہ مراد نہیں۔
وَّاَنْشَاْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ : ”اَلإْنْشَاءُ“ کا معنی نئی چیز بنانا ہے۔ ”بَعْدَهَا“ بعض مقامات پر ”مِنْ بَعْدِھَا“ ہوتا ہے، اس میں کچھ دیر بعد مراد ہوتا ہے، یہاں ”بَعْدَهَا“ کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان بستیوں کی ہلاکت کے بعد ساتھ ہی نئے سرے سے اور قومیں وہاں لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور بعد والی آیات میں اپنا ذکر جمع کے صیغے سے کیا ہے۔ مراد اس سے اپنی عظمت کا اظہار ہے۔
Ayah 21:12فَلَمَّآ اَحَسُّوْا بَاْسَنَآ۔۔ : احساس کا معنی حواس سے معلوم کرنا، مثلاً دیکھنا یا سننا وغیرہ۔ ”يَرْكُضُوْنَ“ ”رَکَضَ یَرْکُضُ“ (ن) کا معنی سواری کو تیز دوڑانے کے لیے ایڑ لگانا ہے، مراد تیزی سے بھاگنا ہے، یعنی جب انھوں نے ہمارے عذاب کو اپنے حواس یعنی آنکھوں یا کانوں وغیرہ سے محسوس کیا تو بہت تیزی کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔
Ayah 21:13لَا تَرْكُضُوْا وَارْجِعُوْٓا اِلٰى مَآ اُتْرِفْتُمْ فِيْهِ۔۔ : یعنی ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ انھیں کہا جائے یا فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ بھاگو نہیں، بلکہ ان جگہوں کی طرف جن میں تمہیں خوشحالی دی گئی تھی اور اپنے گھروں کی طرف واپس آؤ، تاکہ تم سے پوچھا جائے کہ ان تمام نعمتوں کی تم نے کیا قدر کی ؟ ایک معنی یہ ہے کہ اپنی انھی مجلسوں میں دوبارہ واپس آؤ، تاکہ پہلے کی طرح تمہارے نوکر چاکر ہاتھ باندھ کر تم سے سوال کریں کہ سرکار کیا حکم ہے ؟ تیسرا معنی یہ ہے کہ بھاگو نہیں، بلکہ اپنی وہی پہنچایتیں اور کونسلیں جما کر بیٹھو، تاکہ لوگ اپنے مسائل کا حل تم سے پوچھنے کے لیے آئیں اور مانگنے والے تم سے مانگنے کے لیے آئیں، جنھیں تم فخر و ریا کے لیے دیا کرتے تھے۔ بہرحال یہ سب کچھ انھیں ڈانٹنے اور ان کا مذاق اڑانے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
Ayah 21:14قَالُوْا يٰوَيْلَنَآ۔۔ : جب اللہ کا عذاب آ گھیرتا ہے تو بدکار سے بدکار قومیں بھی گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسی طرح واویلا مچاتی ہیں، مگر اس وقت گناہوں کے اعتراف اور توبہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ دیکھیے سورة مومن (85)۔
Ayah 21:15فَمَا زَالَتْ تِّلْكَ دَعْوٰىهُمْ۔۔ : ”حَصِيْدًا“ ”حَصَدَ یَحْصُدُ“ (درانتی سے کاٹنا) سے ”فَعِیْلٌ“ بمعنی مفعول (مَحْصُوْدٌ) ہے۔ فعیل کا وزن مذکر و مؤنث اور واحد، تثنیہ، جمع سب کے لیے ایک ہی آتا ہے، معنی کٹے ہوئے۔
Ayah 21:16وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ۔۔ : پچھلی آیات میں ظالم بستیوں کو برباد کرنے کا ذکر فرمایا تھا، اب اس کی حکمت بیان فرمائی کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے اس زمین و آسمان کو کھیلتے ہوئے پیدا کردیا ہے کہ لوگ جیسے چاہیں ظلم و ستم کرتے پھریں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ بلکہ ان کے پیدا کرنے میں ہماری بیشمار حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اور کائنات میں ہر عمل کی جزا یا سزا کا عمل جاری ہے۔ لہٰذا اگر ان ظالموں کو ہلاک کیا گیا تو یہ عدل و انصاف اور جزا و سزا کے قانون کے عین مطابق تھا۔ تمہیں چاہیے کہ آنے والی دوسری زندگی میں جو ابدہی کے لیے تیاری کرو۔
Ayah 21:17لَـوْ اَرَدْنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا۔۔ : یعنی بفرض محال اگر ہم اپنی دل لگی اور کھیل کے لیے کھیلنے کی کوئی چیز بناتے تو اپنے پاس بنا لیتے اور تمہیں اس کا پتا نہ چلنے دیتے، کیونکہ لہو و لعب تو نقص اور خامی کی بات ہے، اس لیے ہم اسے کسی کی نگاہ کے سامنے نہ آنے دیتے۔ تو یہ آسمان و زمین جو ہر وقت تمہارے سامنے ہیں، ہم کھیل اور دل لگی کے لیے کیسے بنا سکتے ہیں ؟ یہ ساری بات بطور فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ کس قدر رحیم و کریم ہے کہ اس نے انسان کی چھوٹی عقل کو سمجھانے اور ہر طرح سے مطمئن کرنے کے لیے اس کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی ہے، ورنہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرے، کیونکہ لفظ ”لَوْ“ ہوتا ہی محال چیز کے بیان کے لیے ہے۔
3 طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے ”لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّآ“ کا معنی نقل کیا ہے کہ ہم اس لہو و لعب کو اپنے پاس بنا لیتے، نہ جنت اور جہنم پیدا کرتے اور نہ ہی موت اور قیامت۔ یعنی پھر زمین و آسمان، انسان، جن اور ان کی جزا و سزا کے سلسلے کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دیکھیے سورة مومنون (115) ، سورة صٓ (27) اور سورة ملک (2)۔
Ayah 21:18بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ۔۔ : ”قَذَفَ یَقْذِفُ“ (ض) کا معنی کسی چیز کو سختی کے ساتھ پھینک مارنا۔ ”فَيَدْمَغُهٗ“ ”دَمَغَ یَدْمَغُ“ (ف) کسی چیز کا دماغ کو توڑنا، یہاں تک کہ اس کی وہ جھلی پھٹ جائے جس کے پھٹنے سے روح نکل جاتی ہے۔ ”زَاهِقٌ“ ”زُھُوْقٌ“ کا معنی کسی چیز کا مکمل طور پر ختم ہوجانا ہے۔ یعنی ہم نے اس کائنات کو بےمقصد نہیں بنایا، بلکہ اس میں حق و باطل کا معرکہ جاری ہے اور اس کا نظام ہم نے اس طرح بنایا ہے کہ باطل نے جب بھی سر اٹھایا حق نے ضرب کاری لگا کر اسے نیست و نابود کردیا۔ اسی طرح اب بھی بالآخر باطل فنا ہوجائے گا اور حق قائم و دائم رہے گا۔
”فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ“ میں ”إِذَا“ فجائیہ یعنی اچانک کے معنی میں ہے اور ”هُوَ زَاهِقٌ“ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار کے لیے ہے اور جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ باطل نہایت تیزی کے ساتھ مٹتا ہے اور اس کا مٹنا عارضی نہیں، دائمی ہوتا ہے۔ (آلوسی)
وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ : یعنی اگر تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا یہ سلسلہ ایک کھیل بنایا ہے اور دوبارہ زندہ ہونا، حساب کتاب اور جنت و دوزخ سب فرضی قصے کہانیاں ہیں تو تمہارے اس بیان کا نتیجہ تمہاری بربادی کی صورت میں ظاہر ہوگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
Ayah 21:19وَ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”مَنْ“ کا لفظ عموماً عقل والی مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگرچہ یہاں زمین و آسمان کے عقلاء کو اللہ تعالیٰ کی ملکیت قرار دیا گیا ہے مگر اس میں آسمان و زمین، ان کے اندر پائے جانے والے تمام اجرام فلکی اور دوسری تمام مخلوقات بھی شامل ہیں اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ کیونکہ یہ زمین آسمانوں کے اندر ہے اور ہر آسمان اپنے سے اوپر والے آسمان کے اندر ہے اور سب سے اوپر والا آسمان عرش کے اندر ہے اور اللہ سبحانہ عرش عظیم کا مالک ہے، جیسا کہ آگے آیت (22) میں آ رہا ہے : (فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ) تو اس سے عقلاً یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور ملک یعنی بادشاہ بھی۔ (بقاعی)
وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ : یعنی عرش اٹھانے والے (حاقہ : 17) اور دوسرے فرشتے اور اللہ کی وہ مخلوق جسے وہی جانتا ہے۔ یعنی اتنی عظمت والے فرشتے جب ہمیشہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور اپنے آپ کو اس سے بڑا نہیں سمجھتے تو پھر انسان کی کیا بساط ہے کہ اپنے آپ کو اس کی عبادت سے بالا تر سمجھے ؟
وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ : ”حَسَرَ یَحْسِرُ حُسُوْرًا (ض)“ تھک کر رہ جانا۔ سورة ملک میں ہے : (يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ) [ الملک : 4 ] ”نظر ناکام ہو کر تیری طرف پلٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ ”يَسْتَحْسِرُوْنَ“ باب استفعال سے ہے جس میں طلب کا معنی پایا جاتا ہے، یا حروف میں اضافے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہوجاتا ہے، یہاں باب استفعال لانے میں کیا نکتہ ہے ؟ اہل علم نے اس کے مختلف جواب دیے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ”وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ أَيْ لَا یَطْلُبُوْنَ أَنْ یَّنْقَطِعُوْا عَنْ ذٰلِکَ فَأَنْتَجَ ذٰلِکَ قَوْلُہُ ”ۚيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ“ ”یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تھکنا چاہتے ہی نہیں اور انھیں اس کی طلب ہی نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ رات دن اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں، وقفہ نہیں کرتے۔“ (بقاعی) اس کا سب سے اچھا جواب وہ ہے جو ابوالسعود اور آلوسی ; نے دیا ہے کہ جب حرف نفی مبالغہ کے لفظ پر آئے تو مراد مبالغہ کی نفی نہیں ہوتی بلکہ نفی میں مبالغہ ہوتا ہے، جیسا کہ ”وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ“ کا معنی یہ نہیں ہوگا کہ ”تیرا رب بندوں پر بہت زیادہ ظلم کرنے والا نہیں“ بلکہ یہ ہوگا کہ ”تیرا رب بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔“ دیکھیے سورة آل عمران (182) اور انفال (51) چناچہ ”وَ لَا يَسْتَحْسِرُوْنَ“ کا معنی ہوگا ”اور وہ ذرا برابر نہیں تھکتے۔“ ”لَا يَسْـتَكْبِرُوْنَ“ کی بھی یہی توجیہیں ہیں۔ اس کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورة نحل (49، 50) اور نساء (172)۔
Ayah 21:20ۚيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ :”اَلْفُتُوْرُ“ کا معنی کسی کام سے رک جانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ) [ المائدۃ : 19 ] ”بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد۔“ یعنی فرشتے رات دن اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، کبھی نہیں رکتے، وقفہ نہیں کرتے۔ یہاں ایک سوال ہے جو عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کعب احبار سے کیا کہ آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا : (ۚيُسَبِّحُوْنَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَايَفْتُرُوْنَ) تو کیا انھیں آپس کی بات چیت، پیغمبروں کو وحی پہنچانا اور دوسرے کام تسبیح میں رکاوٹ نہیں بنتے ؟ انھوں نے فرمایا : ”بیٹا ! اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تسبیح ایسے ہی کردی ہے جیسے تمہارے لیے سانس لینا کردیا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ تم بات کرتے ہوئے سانس لیتے جاتے ہو اور چلتے ہوئے سانس لیتے رہتے ہو ؟“ [ طبری من طرق یقوي أحدھما الآخر، حکمت بن بشیر ] دن رات بغیر وقفے کے تسبیح سے مراد مبالغہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بہت زیادہ تسبیح کرتے ہیں، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں تمہاری ہر وقت تعریف کرتا ہے، یا میں دن رات تمہیں یاد کرتا ہوں وغیرہ۔ مفسر آلوسی نے اس توجیہ کی تعریف کی ہے۔ (روح المعانی) یا جس طرح ام المومنین عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق فرمایا : (کَان النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ أَحْیَانِہِ) [ مسلم، الحیض، باب ذکر اللہ في حال الجنابۃ وغیرھا : 373 ]”آپ ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔“ ظاہر ہے آپ اپنی انسانی ضروریات، دعوت و تبلیغ اور جہاد کے لیے بات بھی کرتے تھے، کھاتے پیتے اور سوتے بھی تھے، اس کے باوجود اللہ کی یاد سے دل غافل نہیں ہوتا تھا۔ یہ توجیہ کعب احبار کی توجیہ سے ملتی جلتی ہے۔
Ayah 21:21اَمِ اتَّخَذُوْٓا اٰلِهَةً۔۔ :”اَمْ“ کسی جملہ استفہامیہ کے بعد آتا ہے، جو ہر مقام پر سیاق وسباق سے سمجھ میں آ رہا ہوتا ہے۔ یہاں پہلی آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مفسر بقاعی ؓ نے فرمایا : ”کیا یہ لوگ جان چکے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی ہر ہستی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اس میں اسی کا امر نافذ ہے اور یہ جان کر اپنی گمراہی سے باز آ چکے ہیں یا (جاننے کے باوجود اپنی ہٹ پر قائم ہیں اور) انھوں نے زمین سے کچھ معبود بنا لیے ہیں جو اکیلے زندگی کی روح پھونک سکتے ہیں ؟ اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر یہ ایسے بےچاروں کو معبود کیوں مان رہے ہیں ؟“
”اٰلِهَةً مِّنَ الْاَرْضِ“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے معبود سب زمین سے تعلق رکھتے ہیں، بت ہوں یا قبریں، درخت ہوں یا دریا، جانور ہوں یا انسان یا جن، مردہ داتا و دستگیر ہوں یا زندہ، سب اسی مٹی سے ہیں جو قدموں تلے روندی جاتی ہے۔ ان کی کوڑھ مغزی دیکھو کہ انھوں نے کس قدر بےوقعت ہستیوں کو اس رب کے ہوتے ہوئے حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیا جو زمین ہی کا نہیں عرش کا بھی رب ہے۔ اگلی آیت میں اسی مناسبت سے فرمایا : (فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ) ”سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ جو زمین و آسمان دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کی عبادت ہوتی ہے۔ دیکھیے سورة زخرف (84، 85)۔
هُمْ يُنْشِرُوْن : ما وردی نے فرمایا : ”اس میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس کا معنی ”یَخْلُقُوْنَ“ ہے، یعنی وہ پیدا کرتے ہیں، یہ قطرب کا قول ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا معنی ”یُحْیُوْنَ“ ہے، یعنی وہ دوبارہ زندہ کریں گے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ دونوں معنوں میں آتا ہے۔ پہلے معنی کی تائید سورة روم کی آیت (20) سے ہوتی ہے اور دوسرے معنی کی سورة عبس کی آیت (19) سے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا انھوں نے کوئی ایسے معبود بنائے ہیں جو پہلی دفعہ پیدا کرتے ہیں یا دوبارہ زندہ کریں گے ؟ یہ شان تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ۭ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ الروم : 27] ”اور وہی ہے جو خلق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور وہ اسے زیادہ آسان ہے۔“ اس کے سوا کوئی نہ پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (3)۔
هُمْ يُنْشِرُوْن : یعنی کیا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں کہ وہی زندگی بخشتے ہیں اور دوبارہ بھی وہی زندہ کریں گے ؟ یہ ان کے معبودوں سے مذاق ہے کہ ذرا ان کی اوقات تو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اکیلے ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔
ابن جزی ؓ نے ”مِّنَ الْاَرْضِ“ کو ”يُنْشِرُوْنَ“ کے متعلق کیا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ یا انھوں نے کوئی ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو (لوگوں کو) زمین سے دوبارہ زندہ کریں گے۔
Ayah 21:22لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ۔۔ : یعنی ان لوگوں نے تو زمین سے لے کر کئی معبود بنا رکھے ہیں، جب کہ زمین اور آسمان دونوں میں ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا : (وَهُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَاۗءِ اِلٰهٌ وَّفِي الْاَرْضِ اِلٰهٌ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ) [ الزخرف : 84 ] ”اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ کیونکہ معبود برحق تو وہ ہے جو پوری قدرت اور مکمل اختیار رکھنے والا ہو اور کسی معاملے میں عاجز نہ ہو۔ اب اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی قادر و مختار ہوتے تو کائنات کا یہ سلسلہ کبھی کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ کیونکہ ان سب کی ہمیشہ کشمکش رہتی اور کوئی چیز اپنی مرتب شکل میں نہ بن سکتی اور نہ چل سکتی، جیسا کہ فرمایا : (مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۢ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْن) [ المؤمنون : 91 ] ”نہ اللہ نے (اپنی) کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کردیتا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ اسی طرح ان میں سے ہر ایک اپنی قوت و اختیار منوانے کے لیے پوری کائنات کا اختیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا اور عرش پر قبضے کی جدو جہد کرتا، نتیجہ پوری کائنات کی تباہی ہوتا، فرمایا : (قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : 42 ] ”کہہ دے اگر اس کے ساتھ کچھ اور معبود ہوتے، جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو اس وقت وہ عرش والے کی طرف کوئی راستہ ضرور ڈھونڈتے۔“
خلاصہ یہ کہ زمین و آسمان میں کسی فساد کا نہ ہونا اور پوری کائنات میں زبردست ترتیب اور ہم آہنگی کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مالک اور انھیں چلانے والا ایک ہی ہے۔ یہ دلیل بہت زبردست، نہایت ہی سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر کا نظام کبھی درست نہیں چل سکتا اگر اس کا ذمہ دار ایک نہ ہو اور نہ ایک مملکت میں دو فرماں روا رہ سکتے ہیں، تو اتنی بڑی کائنات کا نظام دو فرماں رواؤں کی صورت میں کیسے چل سکتا ہے ؟ علمائے اسلام نے اس دلیل کی کئی طرح سے تشریح فرمائی ہے، میں ان میں سے صرف دو تشریحات نقل کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ اگر ہم دو معبود فرض کریں تو کسی چیز کو حرکت دینے یا ساکن رکھنے میں اگر دونوں میں اختلاف ہوجائے تو یہ ناممکن ہے کہ دونوں کا ارادہ پورا ہوجائے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ کسی کا ارادہ بھی پورا نہ ہو (کیونکہ پھر وہ قادر و مختار ہی کیا ہوئے ؟) اگر صرف ایک کا ارادہ پورا ہو تو دوسرا عاجز ٹھہرا، جو کسی صورت معبود برحق نہیں ہوسکتا اور دونوں کے اختلاف کا ممکن ہونا اس کے واقع ہونے کے قائم مقام ہے۔ دوسری تشریح یہ ہے کہ عدم سے وجود میں آنے والا ہر جز ناممکن ہے کہ دو قدرتوں کے نتیجے میں پیدا ہو۔ جب وہ دونوں میں سے ایک کی قدرت سے وجود میں آیا، تو دوسرا زائد اور بےکار ٹھہرا، جس کا اس جز میں کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح کائنات کے ہر جز اور ہر ذرے میں غور کرتے جائیں، نتیجہ صرف ایک قادر و مختار نکلے گا۔ [ ابن عطیہ فی المحرّر الوجیز ]
Ayah 21:23لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْــَٔــلُوْنَ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ ہر چیز کا مالک اور سلطان وہ خود ہے، کسی کی کیا جرأت کہ اس کے کسی کام کے متعلق پوچھے کہ ایسا کیوں کیا ؟ کیونکہ اپنی ملکیت میں وہ جو چاہے کرے۔ اگر وہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق کو عذاب دے تو بھی عین عدل ہوگا، کیونکہ وہ مالک ہے اور اپنی چیز سے جو چاہے کرے۔ جس طرح انسان اپنی خریدی ہوئی ایک اینٹ کو مکان کی پیشانی پر لگا دیتا ہے، دوسری کو چولھے یا بھٹی میں لگا دیتا ہے اور کوئی اسے ظالم نہیں کہتا، حالانکہ وہ اینٹ کا خالق بھی نہیں، صرف عارضی مالک ہے اور اگر اللہ تعالیٰ مخلوق پر رحم فرمائے تو اس کا فضل ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کا ہر کام اتنا محکم اور درست ہے کہ اس میں کوئی خامی یا خلل نہیں، اس نے جو کیا اور جو فرمایا سب نہایت عمدہ اور کمال حسن و خوبی والا ہے۔ اس لیے اس کے کسی کام کے متعلق سوال یا اعتراض کی گنجائش نہیں۔ مفسر بقاعی نے ایک قدیم فلسفی سے نقل کیا ہے کہ کسی نے اس سے پوچھا، جب اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہے اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی تو اس نے یہ جہان کیوں بنایا ؟ اس نے جواب دیا کہ اس سے ”کیوں“ کا سوال ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ کوئی اس سے اوپر ہو تو یہ سوال کرے۔ اس کے برعکس لوگوں سے دونوں وجہوں سے سوال ہوسکتا ہے اور ہوگا، کیونکہ وہ مالک نہیں غلام ہیں اور مالک غلام سے پوچھ سکتا ہے اور پوچھتا ہے کہ اس نے کوئی کام کیوں کیا اور اس لیے کہ ان کے ہر کام میں خامی اور خلل موجود ہے۔ قیامت کے دن سوال کا ذکر کئی آیات میں ہے، دیکھیے سورة حجر (92) اور صافات (24)۔
Ayah 21:24اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً : یہ بات شرک کے نہایت قبیح اور باطل ہونے کے بیان کے لیے پھر دہرائی۔
قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ : اس سے پہلے شرک کے باطل ہونے کی دو عقلی دلیلیں بیان فرمائیں، ایک ”لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ“ اور دوسری ”لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ“ ، اس آیت میں اس کی دو نقلی دلیلیں بیان فرمائیں اور کفار سے مطالبہ فرمایا کہ تم بھی اپنی کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرو۔ ظاہر ہے کفار کے پاس شرک کی کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی، ان کا سرمایہ محض وہم و گمان اور نفس کی خواہشیں ہیں (سورۂ نجم : 23، 28۔ یونس : 66) یا آبا و اجداد کی تقلید (زخرف : 21 تا 24) اور دونوں میں سے کوئی بھی دلیل یا برہان نہیں ہے۔
ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ : یہ توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کی دو نقلی دلیلیں ہیں۔ ”مَنْ مَّعِيَ“ (جو میرے ساتھ ہیں) سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے مسلم مراد ہیں اور ان کے ذکر سے مراد قرآن کریم ہے جو اس امت کے لیے نصیحت ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ الأنبیاء : 10 ] ”بلاشبہ یقیناً ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر (تمھاری نصیحت) ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟“ ”وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ“ (اور مجھ سے پہلے لوگوں کی نصیحت) سے مراد پہلی امتوں پر نازل ہونے والی کتابیں تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم وغیرہ ہیں۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ یہ قرآن مجید اور پہلی کتابیں تمہاری دسترس میں ہیں، کسی میں شرک کی کوئی دلیل ہے تو دکھا دو۔ پہلے پچھلے تمام اہل علم کی شہادت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، فرمایا : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بالْقِسْطِ ۭ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) [ آل عمران : 18 ] ”اللہ نے اس بات کی شہادت دی کہ بیشک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، سب پر غالب ہے، کمال حکمت والا ہے۔“ قرآن مجید میں کفار سے شرک کی نقلی دلیل پیش کرنے کا مطالبہ کئی آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة احقاف (3) اور زخرف (45)۔
بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ۙ الْحَقَّ : لفظ ”بَلْ“ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے سامنے عقلی یا نقلی دلیلیں پیش کرکے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ قبول کرلیں گے، کیونکہ یہ جاہل ہیں اور انھیں حق کا علم ہی نہیں۔ ”وَالنَّاسُ أَعْدَاءٌ لِمَا جَھِلُوْا“ (لوگ جس چیز کا علم نہ رکھتے ہوں اس کے دشمن ہوتے ہیں)۔ ”اَكْثَرُهُمْ“ سے معلوم ہوا کہ وہ سب ایسے نہیں بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق جانتے ہیں مگر عناد کی وجہ سے تسلیم نہیں کرتے اور کچھ ایسے لوگوں کی طرف بھی اشارہ ہے جن کی طبیعتیں حق جان کر اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوچکی ہوتی ہیں، جیسے عمر بن خطاب اور ان جیسے دیگر اصحاب ؓ تھے اور ایسے لوگوں کی امید پر ہی داعیان حق کا حوصلہ قائم رہتا ہے۔
فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ : اس میں ان کے جہل کا سبب بیان فرمایا کہ وہ حق معلوم کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور نہ کسی دلیل پر غور کرتے ہیں، جیسے فرمایا : (وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ) [ یوسف : 105 ] ”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بےدھیان ہوتے ہیں۔“
Ayah 21:25وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ۔۔ : پچھلی آیت میں ”ھٰذَا ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِيْ“ کہہ کر جو بات اختصار کے ساتھ کہی گئی تھی اب وہ واضح الفاظ میں تاکید کے ساتھ دہرائی گئی ہے اور جس بات کا حوالہ صرف چند کتابوں کے ساتھ خاص تھا اب تمام رسولوں کے ذکر کے ساتھ اسے عام کرکے بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول ہم نے بھیجا، خواہ اسے کتاب دی یا نہ دی، اسے یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، سو میری عبادت کرو۔ مزید دیکھیے سورة نحل (36) معلوم ہوا تمام رسول توحید الوہیت کی دعوت دینے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اور اسی سے دعا اور فریاد کرو، کیونکہ توحید ربوبیت کے تو اکثر کفار بھی قائل تھے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو خالق، مالک اور رازق مانتے تھے، مگر پکارتے وقت غیر اللہ کو بھی پکارتے اور انھیں نفع نقصان کا مالک سمجھتے تھے، یا یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اپنی بات اللہ تعالیٰ سے منوا سکتے ہیں اور ہماری حاجتیں پوری کروا سکتے ہیں۔ دیکھیے سورة یونس (18) اور سورة زمر (3)۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر پہلے اپنی صفات کے تعدد کی بنا پر جمع متکلم کے ساتھ کیا ہے، مراد اپنی عظمت کا اظہار ہے، پھر جب توحید کا ذکر آیا تو اپنا ذکر واحد متکلم کے ساتھ فرمایا کہ ”لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ“ اس میں ”فَاعْبُدُوْنِ“ (میں) بھی واحد ہے اور ”فاعبدون“ (جو اصل میں ”فَاعْبُدُوْنِيْ“ تھا) کی یائے متکلم بھی واحد ہے، یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا، تاکہ شبہ بھی پیدا نہ ہو کہ معبود ایک سے زیادہ ہیں۔
Ayah 21:26وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَـدًا :۔۔ : عقلی اور نقلی دلیلوں سے شرک کی تردید کے بعد اب ان لوگوں کا رد کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے صاحب اولاد ہونے کے قائل تھے۔ عرب کے بعض مشرکین کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بعض یہود کا کہنا تھا کہ (نعوذ باللہ) جنات اللہ تعالیٰ کے سسرال ہیں، جن سے فرشتے پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح یہود نے عزیر ؑ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتایا۔ نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اور بعض مسلمان کہلانے والوں نے نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے ذاتی نور کا ٹکڑا قرار دیا اور بعض نے کہا
خدا کے نور سے پیدا ہوئے ہیں پانچوں تن
محمد است، علی، فاطمہ، حسین و حسن
چونکہ یہ شرک کی بدترین صورت اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی گستاخی تھی (دیکھیے مریم : 88 تا 90۔ بقرہ : 116۔ نساء : 171) اس لیے اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اس کا رد فرمایا۔
سب سے پہلے یہ کہہ کر رد فرمایا کہ ”وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَـدًا“ (اور انھوں نے کہا رحمٰن نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے) یعنی باپ اور اولاد ایک جنس ہوتے ہیں، اب کہاں رحمٰن کہ جس کی کمال رحمت سے یہ کائنات وجود میں آئی اور مسلسل چل رہی ہے اور جس کے سوا ”رحمان“ نام کا مصداق تم بھی کسی کو نہیں سمجھتے۔ اگر اس کی اولاد مانو تو والد اور اولاد کے ایک جنس ہونے کی وجہ سے فرشتوں کو اور عزیر و مسیح ؑ کو اور ایک ہی نور سے ہونے کی وجہ سے نبی کریم ﷺ اور پنجتن کو اسم رحمٰن کا مصداق ماننا پڑے گا۔ خود ہی سوچ لو کیا یہ رحمٰن تھے ؟
پھر ”سُبْحٰنَهٗ“ کہہ کر رد فرمایا، یعنی جن کمزوریوں کی وجہ سے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سے پاک ہے۔ انسان کو اولاد کی ضرورت اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہوتی ہے، تاکہ وہ مشکل میں اس کی مدد کرے، بڑھاپے میں اس کا سہارا (عصائے پیری) بنے اور مرنے کے بعد اس کی جانشین بنے۔ پھر اولاد کے لیے بیوی کا ہونا لازم ہے، انسان اپنی خواہش نفس کی وجہ سے بیوی کا محتاج ہوتا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (101) رحمٰن ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے، اگر اس میں یہ کمزوریاں ہوں تو وہ رحمٰن نہیں ہوگا، بلکہ خود رحم کے قابل ہوگا، جس طرح تمام انسان، جن، فرشتے اور تمام مخلوقات ہیں۔ پھر وہ نہ رحمٰن ہوگا اور نہ تمام عیوب اور کمزوریوں سے پاک۔ [ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ]
پھر ”سُبْحٰنَهٗ“ کہہ کر رد فرمایا، یعنی جنھیں یہ لوگ اولاد کہہ رہے ہیں وہ بندے (غلام) ہیں۔ غلام اپنے مالک کی اولاد نہیں ہوتا اور اولاد اپنے باپ کی غلام نہیں ہوتی۔ بندگی اور ولدیت جمع نہیں ہوسکتیں۔ اہل علم نے اس آیت سے استدلال فرمایا کہ اگر کسی کا بیٹا غلامی کی حالت میں اس کی ملکیت میں آئے تو آزاد ہوجائے گا، کیونکہ ولدیت اور عبدیت جمع نہیں ہوسکتیں۔
”مُّكْرَمُوْنَ“ کفار نے ان ہستیوں کی عظمت شان کی وجہ سے انھیں اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہ کو یہ کہہ کر دور فرمایا کہ ان ہستیوں کی تمام عظمت و رفعت صرف اس لیے ہے کہ انھیں عزت عطا کی گئی ہے۔ اس میں ان کا اپنا کمال کچھ نہیں، جب کہ والد اور اولاد اوصاف میں یکساں اور برابر کا جوڑ ہوتے ہیں۔
Ayah 21:27ۙلَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ یعنی ان کی بندگی اور فرماں برداری کا یہ حال ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر بات تک نہیں کرتے۔
وَهُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ : ”بِاَمْرِهٖ“ کو پہلے لانے سے دو باتیں واضح ہوئیں، ایک یہ کہ وہ جو کرتے ہیں اس کے حکم سے کرتے ہیں، اس کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ دوسری یہ کہ وہ ہر کام صرف اس کے حکم سے کرتے ہیں، کسی اور کے حکم سے نہیں۔ غور کرو، بندگی اور غلامی کی انتہا ہے کہ مولا کی مرضی کے بغیر نہ بولتے ہیں نہ کچھ کرتے ہیں، بھلا اولاد بھی اس طرح ہوتی ہے ؟ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی نفی فرمائی۔
Ayah 21:28يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ : یعنی جو کام وہ کرچکے یا جو آئندہ کریں گے وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اس میں ان کے اس قدر اطاعت گزار اور فرماں بردار ہونے کی وجہ بیان فرمائی ہے، یعنی وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری پہلی، پچھلی، ظاہر اور پوشیدہ ہر بات جانتا ہے، اس لیے وہ اس کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔
وَلَا يَشْفَعُوْنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى : یعنی وہ اسی کے حق میں سفارش کرتے ہیں جسے وہ پسند کرے اور جس کے حق میں سفارش کو پسند کرے اور اس کی اجازت دے۔ دیکھیے سورة بقرہ (255) اور سبا (23) مراد اس سے اہل ایمان اور اہل توحید ہیں، کیونکہ کافر و مشرک نہ اللہ کو پسند ہیں اور نہ اسے ان کے حق میں سفارش پسند ہے۔ یہ سفارش دنیا میں بھی ہے، جیسا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں دعا اور استغفار کرتے ہیں (دیکھیے سورة مومن : 7 تا 9) اور انبیاء و رسل بھی ان کے حق میں دعا کیا کرتے تھے۔ آخرت میں بھی فرشتے اور انبیاء سفارش کریں گے۔ جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (شَفَاعَتِيْ لِأَہْلِ الْکَبَاءِرِ مِنْ أُمَّتِیْ) [ مستدرک حاکم : 1؍69، ح : 228، و صححہ الذھبی ] ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں والے لوگوں کے لیے ہوگی۔“ اس میں بھی اولاد کی نفی ہے، کیونکہ اولاد والد کی مرضی کے خلاف بھی سفارش کرسکتی ہے۔
وَهُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ : اس میں فرشتوں اور رسولوں کی اللہ تعالیٰ کے لیے انتہائی تعظیم کا ذکر فرمایا کہ وہ اس کے خوف کی وجہ سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی اولاد نہ ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ والد اور اولاد کا یہ حال نہیں ہوتا۔
Ayah 21:29وَمَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّىْٓ اِلٰهٌ۔۔ : یعنی بالفرض اگر ان فرشتوں یا انبیاء میں سے کوئی یہ کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری بندگی کرو، تو ہم اسے اس کی جزا جہنم دیں گے۔ فرشتوں اور انبیاء سے یہ بات کبھی سرزد نہیں ہوسکتی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء کو شرک کرنے کی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے کی وعید سنائی ہے، حالانکہ انھوں نے شرک کرنا ہی نہیں تھا۔ دیکھیے سورة انعام (83 تا 88) اور زمر (65)۔
كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ : اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ہر لحاظ سے ناقص اور فقیر مخلوق اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں رب اور معبود ہونے کا دعویٰ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ شرک سے بڑا ظلم اور بےانصافی کوئی نہیں (لقمان : 13) اور اسی لیے آخرت میں اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔ دیکھیے سورة نساء (48، 116) اور مائدہ (72)۔