Ayah 21:82 وَمِنَ الشَّيٰطِيْنِ مَنْ يَّغُوْصُوْنَ لَهٗ : اللہ تعالیٰ نے ہوا کے علاوہ کئی شیطان جن بھی سلیمان ؑ کے تابع کردیے۔ گویا عناصر اربعہ میں سے ہوا کے علاوہ آگ سے بنی ہوئی کچھ مخلوق بھی ان کے تابع فرمان کردی گئی، پھر اس مخلوق کے ذریعے سے غوطہ خوری کے ساتھ بہت سے سمندری منافع حاصل کرنے کی استطاعت بخشی اور انھی کے ذریعے سے مٹی اور اس سے نکلنے والے پتھر وغیرہ سے ہر وہ چیز بنانا ان کی دسترس میں کردیا جو وہ بنانا چاہتے تھے۔ گویا تسخیر عناصر کی عجیب نعمت انھیں عطا فرمائی گئی۔ (بقاعی) بعض منحرف مفسرین کا کہنا ہے کہ شیاطین کا لفظ جن و انس دونوں پر آجاتا ہے، جیسا کہ سورة انعام (112) میں ”شَـيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ“ کا ذکر ہے، اس لیے دراصل یہ سرکش اور قوی قسم کے دیہاتی لوگ تھے، جن سے سلیمان ؑ غوطہ خوری اور عمارات کی تعمیر کا کام لیتے تھے۔ مگر سورة سبا میں صراحت ہے : (وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۭ وَمَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَاب السَّعِيْرِ 12 يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَاۗءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَتَمَاثِيْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَــوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ ۭ اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا ۭ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ) [ سبا : 12، 13 ] ”اور جنوں میں سے کچھ وہ تھے جو اس کے سامنے اس کے رب کے اذن سے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔ وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں، مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو ! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔ اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔“ سورة سبا (14) ہی میں ذکر ہے کہ ان جنوں کے متعلق بعض لوگوں کا عقیدہ تھا کہ وہ غیب دان ہیں مگر جنوں کو سلیمان ؑ کی وفات کا علم اس وقت تک نہ ہوا جب تک دیمک نے ان کی لاٹھی کو کھا نہیں لیا، پھر جب سلیمان ؑ گرے تو جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلیل عذاب (عمارتیں وغیرہ بنانے کے کام) میں نہ رہتے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے غوطہ خوری اور دوسرے دشوار کاموں کے لیے جنوں میں سے کچھ شیاطین کو سلیمان ؑ کے تابع کیا تھا، ورنہ دیہاتی سرکش اور قوی انسان تو سلیمان ؑ سے پہلے بھی عمارتیں بناتے تھے اور اب بھی بناتے ہیں، پھر سلیمان ؑ کی وہ بےمثال سلطنت کیا ہوئی جس جیسی سلطنت ان کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں ہے۔
وَيَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ : اس کی تفصیل کچھ پچھلے فائدے میں گزری ہے، کچھ سورة سبا (12 تا 14) میں آئے گی۔
وَكُنَّا لَهُمْ حٰفِظِيْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی قدرت سے سلیمان ؑ کے تابع کردیا اور خود ان کی حفاظت فرمائی کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے، نہ ان کی نافرمانی کرسکتے تھے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے تھے اور نہ کوئی چیز یا کوئی کام خراب کرسکتے تھے، کیونکہ جو ان کے حکم سے ذرا بھی سرتابی کرتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھڑکتی ہوئی آگ سے سزا دی جاتی، فرمایا : (وَمَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَاب السَّعِيْرِ) [ سبا : 12 ] ”اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے کجی کرتا ہم اسے بھڑکتی آگ کا کچھ عذاب چکھاتے تھے۔“ اور جو زیادہ ہی سرکشی دکھانے والے تھے انھیں بیڑیوں میں اکٹھے جکڑنے کا بندوبست موجود تھا، فرمایا : (وَّاٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ) [ ص : 38 ] ”اور کچھ اوروں کو بھی (تابع کردیا) جو بیڑیوں میں اکٹھے جکڑے ہوئے تھے۔“ ظاہر ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا، ورنہ انسان کی کیا بساط کہ اتنی خوفناک قوتوں کو قابو میں رکھ سکے۔
3 اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ کے تابع جو جن کیے گئے تھے وہ کافر تھے، کیونکہ شیطان کا کفر معلوم ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو خود ہی اللہ کے پیغمبر کے تابع ہوجاتے، پھر ان کی خاص حفاظت کی ضرورت نہ تھی۔
3 سلیمان ؑ کی وفات کے بعد اگر کوئی شخص کوئی جن پکڑ لے، جیسا کہ ابوہریرہ ؓ نے زکوٰۃِ فطر کی حفاظت کرتے ہوئے تین دفعہ شیطان کو پکڑا تھا، تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے ان کے نقصان سے حفاظت کا کوئی ذمہ نہیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سرکش جن کو پکڑ کر چھوڑ دیا تھا، ابوہریرہ ؓ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ سے بیان فرماتے ہیں : (إِنَّ عِفْرِیْتًا مِّنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَۃَ لِیَقْطَعَ عَلَیَّ صَلاَتِيْ فَأَمْکَنَنِيَ اللّٰہُ مِنْہُ فَأَخَذْتُہُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَہُ عَلٰی سَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حتَّی تَنْظُرُوْا إِلَیْہِ کُلُّکُمْ ، فَذَکَرْتُ دَعْوَۃَ أَخِيْ سُلَیْمَانَ : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ) [ ص : 35 ] فَرَدَدْتُہُ خَاسِءًا) ”ایک سرکش جن گزشتہ رات مجھ پر حملہ آور ہوا، تاکہ مجھ پر میری نماز قطع کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے اسے پکڑ لیا اور ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ تم سب اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (ؑ) کی دعا یاد آگئی : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ ۚ) ”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ تو میں نے اسے دفع دور کرتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا۔“ [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (ووھبنا
لداوٗد سلیمان۔۔) : 3423 ]
Ayahs 21:83–84ۙوَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ۔۔ : یعنی ایوب کو یاد کرو۔ داؤد اور سلیمان ؑ کی آزمائش ان نعمتوں کے ساتھ ہوئی جن پر شکر واجب تھا، جبکہ ایوب ؑ کی آزمائش ایسی تکالیف کے ساتھ ہوئی جن پر صبر لازم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ شکر اور صبر لازم و ملزوم ہیں۔ صبر وہی کرسکتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ بےصبرا شاکر نہیں ہوتا اور ناشکرا صابر نہیں ہوتا۔ ان کا واقعہ قرآن مجید میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک یہاں سورة انبیاء میں اور ایک سورة ص (41 تا 44) میں۔ ایک دفعہ زیر تفسیر آیات کا ترجمہ ملاحظہ کریں، ساتھ ہی سورة ص کی آیات کا ترجمہ دیکھیں، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ”اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک شیطان نے مجھے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے اور ہم نے اسے اس کے گھر والے عطا کردیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی، ہماری طرف سے رحمت کے لیے اور عقلوں والوں کی نصیحت کے لیے۔“
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایوب ؑ اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ کی طرف سے ان پر ایسی آزمائش آئی کہ وہ شدید اور لمبی بیماری میں مبتلا ہوگئے، ان کے اہل و عیال بھی جدائی یا فوت ہونے کی وجہ سے ان سے جدا ہوگئے۔ (ثنائی) جب کمانے والے ہی نہ رہے تو مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے، مگر ایوب ؑ نے ہر مصیبت پر صبر کیا، نہ کوئی واویلا کیا اور نہ کوئی حرف شکایت لب پر لائے۔ جب تکلیف حد سے بڑھ گئی تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ایک یہ کہ اے میرے رب ! مجھے شیطان نے بڑا دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ دوسری یہ کہ اے میرے رب ! مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔ اس دعا میں انھوں نے اپنی حالت زار بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ارحم الراحمین ہونے کے بیان ہی کو کافی سمجھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ انھوں نے پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نمودار ہوگیا۔ حکم ہوا کہ اسے پیو اور اس سے غسل کرو۔ وہ مبارک پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے ان کی ساری بیماری دور ہوگئی اور وہ پوری طرح صحت مند ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے گھر والے بھی عطا فرما دیے اور اتنے ہی اور عطا فرما دیے۔ بیماری کے دوران انھوں نے کسی پر ناراض ہو کر اسے کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی، اب وہ سزا زیادہ سمجھ کر پریشان تھے کہ اسے اتنے کوڑے ماروں تو زیادتی ہوتی ہے، نہ ماروں تو قسم ٹوٹتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ مشکل بھی حل فرما دی کہ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر ایک دفعہ مار دو ، جتنے کوڑے مارنے کی تم نے قسم کھائی تھی، اس سے تمہاری قسم پوری ہوجائے گی، قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوگا۔
3 ”اَلضَّرُّ“ اور ”اَلضُّرُّ“ میں فرق یہ ہے کہ ضاد کے فتحہ کے ساتھ ”ضَرٌّ“ نفع کی ضد ہے، اس سے مراد کوئی بھی نقصان ہے، مالی ہو یا جانی یا کوئی اور، جبکہ ضاد کے ضمہ کے ساتھ ”ضُرٌّ“ سے مراد آدمی کی جسمانی بدحالی ہے، مثلاً بیماری، لا غری یا بڑھاپا وغیرہ۔ (اعراب القرآن از درویش)
3 ایوب ؑ نے شدید تکلیف دہ بیماری اور اموال و اولاد کی ہلاکت جیسے مصائب کی آزمائش میں جس طرح صبر کیا، پھر جس طرح انھوں نے اللہ کی جناب میں اپنی حالت زار کا ذکر کرکے اس کے ارحم الراحمین ہونے کے واسطے سے دعا کی اور جسے شرف قبولیت عطا ہوا، اس سے چند اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ شدید بیماری اور مال و اہل کی تباہی کے ساتھ آزمائش اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی، اسی طرح اس پر صبر کی توفیق دینا، پھر دعا قبول فرما کر صحت سے نوازنا اور دگنے اہل و عیال عطا فرمانا، سب کچھ اللہ کی عظیم رحمت تھی۔ دوسرا یہ کہ اس میں عبادت گزار بندوں کے لیے یاد دہانی ہے کہ اگر اللہ کے بندوں کا مصائب کے ذریعے سے امتحان ہو اور وہ اس پر صبر کریں اور اللہ تعالیٰ ہی کی جناب میں اپنی فریاد پیش کریں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ملتا ہے اور آدمی کے گمان سے بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہاں ”ذِكْرٰي لِلْعٰبِدِيْن“ فرمایا، جبکہ سورة صٓ (43) میں ”ذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ“ فرمایا، معلوم ہوا عبادت کرنے والے ہی عقل والے ہیں، جو بندگی نہیں کرتے وہ کتنے ہی ہوشیار نظر آئیں، عقل سے خالی ہیں۔ تیسرا یہ کہ آزمائش میں صبر اور اللہ تعالیٰ ہی سے بار بار رجوع اور استغاثہ و فریاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایوب ؑ کی تعریف میں تین جملے ارشاد فرمائے : 1 (اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا) ”ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا۔“ 2 (نِعْمَ الْعَبْدُ) ”وہ بہت اچھا بندہ تھا۔“ 3 (ۭ اِنَّهٗٓ اَوَّابٌ) ”یقیناً وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ آزمائش میں کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش بھی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحسین و آفرین ایوب ؑ کے حق میں بہت ہی بڑی شہادت ہے۔
3 دکتور محمد بن محمد ابو شہبہ ؓ اپنی کتاب ”اَلْاِسْرَاءِیْلِیَاتُ وَالْمَوْضُوْعَاتُ فِيْ کُتُبِ التَّفْسِیْرِ“ میں لکھتے ہیں کہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت فرمایا : ”وہب بن منبہ سے ایوب ؑ کے واقعہ میں ایک لمبا قصہ روایت کیا گیا ہے، جسے ابن جریر نے اور ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ اس (وہب بن منبہ) سے نقل کیا ہے۔ بعد میں آنے والے کئی ایک مفسرین نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ اس واقعہ میں غرابت ہے، ہم نے لمبا ہونے کی وجہ سے اسے ترک کردیا ہے۔“ ابوشہبہ فرماتے ہیں : ”عجیب بات یہ ہے کہ روایات پر نقد کرنے والے حافظ ابن کثیر بھی ایوب ؑ کے واقعہ میں انھی باتوں میں پڑگئے ہیں جن میں دوسرے حضرات پڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہاں بہت سی اسرائیلیات ذکر فرمائی ہیں، جن پر کوئی تعاقب نہیں فرمایا، حالانکہ ان کے متعلق ہمارا مشاہدہ ہے کہ وہ ایسی جو بات بھی ذکر فرماتے ہیں اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئی اور اسلامی روایات میں کیسے داخل ہوئی ؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ ان روایات کو (بلانقد) بیان کرنا جائز سمجھتے ہوں۔ چناچہ انھوں نے ذکر کیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ ”ان کے سارے بدن میں جذام (کوڑھ) ہوگیا اور ان کے دل اور زبان کے سوا کوئی چیز سلامت نہ رہی، جن کے ساتھ وہ اللہ عزو جل کا ذکر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ پاس بیٹھنے والوں کو ان سے نفرت ہوگئی اور انھیں شہر کے ایک کونے میں الگ رہائش رکھنا پڑی۔ ان کی بیوی کے سوا ان پر شفقت کرنے والا کوئی نہ رہا، جس نے ان کی آزمائش کے دوران ناقابل بیان مصیبتیں اٹھائیں، حتیٰ کہ وہ محنت مزدوری کرنے لگیں، بلکہ انھوں نے اسی وجہ سے اپنے بال بھی فروخت کردیے۔“ پھر ذکر فرماتے ہیں : ”بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اس آزمائش میں بہت لمبی مدت تک مبتلا رہے۔ پھر اختلاف ہے کہ انھیں اس دعا کے لیے بےقرار کرنے کا باعث کیا تھا ؟ چناچہ حسن بصری اور قتادہ نے کہا، ایوب ؑ سات سال اور کچھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے، اس عرصے میں انھیں کوڑا پھینکنے کی جگہ میں ڈال دیا گیا اور ان کے بدن میں کیڑے پڑگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور فرمائی اور انھیں اجر عظیم عطا فرمایا اور ان کی بہت اچھی تعریف فرمائی۔ اور وہب بن منبہ نے کہا کہ آپ تین سال تکلیف میں مبتلا رہے، نہ زیادہ نہ کم۔ سدی نے کہا، ایوب ؑ کا گوشت جھڑ گیا، صرف ہڈیاں اور پٹھے باقی رہ گئے۔“ پھر ایک لمبا قصہ ذکر کیا، پھر ابن کثیرنے وہ واقعہ ذکر فرمایا جو ابن ابی حاتم نے اپنی سند سے عن الزہری عن انس بن مالک روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ایوب ؑ پر ان کی آزمائش اٹھارہ برس رہی۔ دور و نزدیک کے سب لوگوں نے انھیں چھوڑ دیا۔ ان کے دوستوں بھائیوں میں سے صرف دو آدمی صبح اور شام ان کے پاس آتے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا، جانتے ہو ! اللہ کی قسم ! ایوب نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ ساتھی نے کہا، وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا، اٹھارہ سال ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم نہیں کیا کہ اس کی تکلیف دور کردیتا۔ جب شام کو دونوں ان کے پاس گئے تو اس آدمی نے اس بات کا ذکر کردیا۔ ایوب ؑ نے کہا، مجھے معلوم نہیں تم کیا کہہ رہے ہو ؟ ہاں یہ بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا جو جھگڑ رہے ہوتے، جس میں وہ اللہ کا ذکر کرتے تو میں گھر آ کر ان کی طرف سے کفارہ دے دیتا کہ کہیں وہ ناحق اللہ کا ذکر نہ کر رہے ہوں۔ اور وہ حاجت کے لیے باہر جایا کرتے تھے، جب فارغ ہوجاتے تو ان کی بیوی ہاتھ پکڑ کرلے آتی۔ ایک دن اس نے آنے میں دیر کی تو اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : (اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ ۚ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ) [ صٓ : 42 ] ”اپنا پاؤں مار، یہ نہانے کا اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے۔“
حافظ ابن حجر ؓ نے فرمایا کہ ایوب ؑ کے قصے میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جو ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بیان کی ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے، پھر یہ روایت بیان کی۔ شیخ ناصر الدین البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ (سلسلہ صحیحہ : 17) مگر صحیح بات یہی ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔ حافظ ابن حجر کے قول سے اس کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا، صرف دوسری روایتوں سے اس کا بہتر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اگر ان کی مراد اس حدیث کا صحیح ہونا ہو تب بھی ان کی بات محل نظر ہے۔ ابن کثیر نے ”اَلْبِدَایَۃُ وَالنِّہَایَۃُ“ میں ایوب ؑ کے تذکرہ میں فرمایا : ”ھٰذَا غَرِیْبٌ رَفْعُہُ جِدًّا وَالْأَشْبَہُ أَنْ یَّکُوْنَ مَوْقُوْفًا“ ”اس روایت کا رسول اللہ ﷺ سے مروی ہونا بہت ہی غریب ہے، زیادہ قریب یہی ہے کہ یہ صحابی کا قول ہے۔“ اس روایت کی تمام سندوں میں زہری کی روایت ”عن“ کے لفظ کے ساتھ آئی ہے اور زہری کا اپنی تمام تر عظمت و جلالت کے باوجود مدلس ہونا معروف و مشہور ہے۔ اس لیے صحیحین کے سوا ان کی تدلیس والی روایت کو صحیح نہیں کہا جاسکتا۔
ایوب ؑ کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے صرف ایک صحیح حدیث آئی ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بَیْنَمَا أَیُّوْبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ رِجْلُ جَرَادٍ مِنْ ذَھَبٍ فَجَعَلَ یَحْثِيْ فِيْ ثَوْبِہِ فَنَادَاہُ رَبُّہُ یَا أَیُّوْبُ ! أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی ؟ قَالَ بَلٰی یَا رَبِّ ! وَلَکِنْ لَا غِنَی لِيْ عَنْ بَرَکَتِکَ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (و أیوب إذ نادی ربہ۔۔) : 3391 ]”ایوب ؑ کپڑے اتار کر غسل کر رہے تھے، غسل کے دوران ہی ان پر سونے کی ٹڈیوں کا ایک دَل (لشکر) آ گرا۔ ایوب ؑ لپوں کے ساتھ اسے اپنے کپڑے میں بھرنے لگے تو انھیں ان کے رب نے آواز دی : ”اے ایوب ! کیا میں نے تمہیں اس سے غنی نہیں کردیا جو تم دیکھ رہے ہو ؟“ انھوں نے عرض کی : ”کیوں نہیں، تیری عزت کی قسم ! لیکن میرے لیے تیری برکت سے کسی طرح بےپروائی ممکن نہیں۔“
اس کے علاوہ ایوب ؑ کے متعلق تمام اقوال تابعین یا صحابہ سے مروی ہیں اور سب وہب بن منبہ کے بیان ہی کا خلاصہ یا تفصیل ہیں، جو صاف ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل سے لیے گئے ہیں۔ حقیقت صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور جس کا خلاصہ اس آیت کے فائدہ نمبر (1) میں گزر چکا ہے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بیان پر اپنے پاس سے یا ان اہل کتاب سے لے کر اضافہ کرے جنھوں نے انبیاء پر تہمتیں باندھیں، بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھی نہیں بخشا اور کہہ دیا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ دیکھیے سورة آل عمران (181) اور یہ کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (غُلَّتْ اَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا) [ المائدۃ : 64 ] ”انھی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کی باتوں کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔“
3 ابوشہبہ فرماتے ہیں، ہمیں جو عقیدہ رکھنا واجب ہے وہ یہ ہے کہ ایوب ؑ کی آزمائش یقیناً ہوئی، ان پر جسم اور اہل مال کی شدید تکلیف آئی، جس پر انھوں نے ایسا صبر کیا کہ صبر میں ضرب المثل بن گئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس پر ان کی تعریف فرمائی، مگر ان کی آزمائش اس حد تک نہیں پہنچی جو ان جھوٹی داستانوں میں بیان ہوئی ہے کہ انھیں جذام (کوڑھ) ہوگیا، ان کے سارے جسم پر پھوڑے بن گئے، انھیں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ ان کے جسم میں کیڑے رینگتے پھرتے تھے اور ہڈیوں اور پٹھوں کے سوا سارا گوشت جھڑ گیا تھا اور ان سے دور ہی سے بدبو آتی تھی وغیرہ۔ ایوب ؑ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے کہیں معزز ومکرم تھے کہ انھیں کوڑے پر پھینک دیا جائے، یا وہ ایسے مرض میں مبتلا ہوں جس سے لوگ ان کی دعوت سے متنفر ہوں۔ اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہی اس قدر معیوب حالت میں ہو تو ایسی دعوت کا کیا فائدہ اور اس سے حاصل کیا ہوگا ؟ پھر انبیاء ہمیشہ اپنی قوم کے اونچے نسب میں سے مبعوث کیے جاتے رہے ہیں (جیسا کہ حدیث ہرقل میں ہے)۔ ایوب ؑ کی ایسی حالت میں ان کا قبیلہ کہاں تھا کہ ان کی حفاظت کرتا، ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتا، بجائے اس کے کہ ان کی بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کرے، بلکہ اپنے سر کے بال فروخت کرتی پھرے اور ان پر ایمان لانے والے کہاں گئے، کیا سب انھیں چھوڑ گئے، کیا ایمان کا تقاضا یہی ہے ؟
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی ساری داستانیں بےبنیاد ہیں، نہ عقل سلیم انھیں تسلیم کرتی ہے اور نہ صحیح نقل۔ ایوب ؑ پر آنے والی بیماری ایسی ہرگز نہ تھی جس سے نفرت پیدا ہو، کیونکہ یہ ان کے منصب ہی کے خلاف تھا، بلکہ وہ اس قسم کی کوئی بیماری تھی جس کا جسم پر کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا، مثلاً کوئی جسمانی درد، ریوماٹزم، جوڑوں یا ہڈیوں وغیرہ کی تکلیف۔ جب اللہ کا فضل ہوا تو زمین پر پاؤں مارنے کے نتیجے میں نمودار ہونے والے چشمے کا ٹھنڈا پانی پینے اور اس کے ساتھ غسل کرنے سے مکمل شفایاب ہوگئے۔ قاضی ابوبکر ابن العربی ؓ کی بات دل کو بہت لگتی ہے، وہ فرماتے ہیں : ”ایوب ؑ کے معاملے میں کوئی بات ثابت نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں دو مقامات پر بتائی ہے، ایک : (وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ) [ الأنبیاء : 83 ] اور دوسری : (رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الشَّيْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ) [ صٓ : 41 ] رہے نبی کریم ﷺ ! تو آپ سے اس حدیث کے سوا ایوب ؑ کے متعلق ایک حرف بھی ثابت نہیں جس میں ان پر غسل کے دوران سونے کی ٹڈیاں گرنے کا ذکر ہے۔ پھر جب اس کے سوا قرآن اور حدیث میں کوئی بات ثابت ہی نہیں تو وہ کون صاحب ہیں جنھوں نے ایوب ؑ کا حال آنکھوں سے دیکھا یا کانوں سے سنا ؟ رہی اسرائیلی روایات ! تو وہ علماء کے نزدیک قطعی طور پر متروک ہیں، اس لیے ان کے پڑھنے سے اپنی نگاہیں بچا کر رکھو اور ان کے سننے سے اپنے کان بند رکھو۔ کیونکہ وہ تمہاری سوچ میں محض خیال کا اور دل میں صرف خرابی کا اضافہ کریں گی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : (یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ ! کَیْفَ تَسْأَلُوْنَ أَھْلَ الْکِتَابِ ؟ وَکِتَابُکُمُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلٰی نَبِیِّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ الْأَخْبَار باللّٰہِ تَقْرَؤُوْنَہٗ لَمْ یُشَبْ ، وَقَدْ حَدَّثَکُمُ اللّٰہُ أَنَّ أَھْلَ الْکِتَابِ بَدَّلُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ وَغَیَّرُوْا بِأَیْدِھِمُ الْکِتَابَ فَقَالُوْا : (ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا) [ البقرۃ : 79 ] أَفَلاَ یَنْھَاکُمْ مَا جَاءَ کُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَ لَتِھِمْ ؟ وَلَا وَاللّٰہِ ! مَا رَأَیْنَا رَجُلًا مِنْھُمْ قَطُّ یَسْأَلُکُمْ عَنِ الَّذِيْ أُنْزِلَ عَلَیْکُمْ) [ بخاري، الشھادات، باب لا یسأل أھل الشرک عن الشھادۃ وغیرھا : 2685 ] ”اے مسلمانو کی جماعت ! تم اہل کتاب سے کس طرح سوال کرتے ہو، جب کہ تمہاری کتاب، جو نبی ﷺ پر نازل کی گئی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی خبروں میں سے سب سے تازہ ہے۔ تم اسے اس حال میں پڑھتے ہو کہ اس میں کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو لکھا تھا اہل کتاب نے اسے بدل دیا اور انھوں نے اپنے ہاتھوں سے اللہ کی کتاب میں تبدیلی کردی اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ساتھ بہت تھوڑی قیمت حاصل کریں۔ تو کیا تمہارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کرتا ؟ نہیں ! قسم ہے اللہ کی ! ہم نے ان میں سے کسی آدمی کو کبھی تم سے اس کے متعلق سوال کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔“ آخر میں ابوشہبہ نے آلوسی، طبری اور دوسرے علماء سے اس مفہوم کی عبارتیں نقل کی ہیں۔ ایوب ؑ کے متعلق مزید دیکھیے سورة صٓ (41 تا 44)۔
Ayah 21:85وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ : یعنی ان تینوں کو یاد کرو۔ ایوب ؑ کے صبر اور ان کے حسن انجام کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے تین پیغمبروں کا ذکر فرمایا جو خاص طور پر صبر کی صفت سے آراستہ تھے۔ اسماعیل ؑ نے ذبح کے متعلق اپنے والد ماجد کے پوچھنے پر کہا : (سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ) [ الصافات : 102 ] ”اگر اللہ نے چاہا تو تو مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائے گا۔“ اور اس نے واقعی صبر کرکے دکھایا۔ اسی طرح وادی غیر ذی زرع میں مستقل رہائش پر اور شکار اور زمزم کے ساتھ زندگی گزارنے پر صبر کیا، پھر بیت اللہ کی تعمیر میں ہر طرح کی مشقت برداشت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں سید ولد آدم ﷺ کو پیدا فرمایا۔ اسماعیل اور ادریس ؑ کا ذکر سورة مریم (54 تا 57) میں گزر چکا ہے۔ ذوالکفل کے متعلق قرآن و حدیث میں تفصیل نہیں آئی۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ انبیاء کے ساتھ ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔ (واللہ اعلم) اس کے علاوہ تفاسیر میں ان کے متعلق بیان کردہ تمام باتیں اسرائیلیات پر مبنی اور بےاصل ہیں۔
كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ : صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے، یہ تین طرح کا ہوتا ہے : 1 اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر، یعنی اپنے آپ کو اس کی فرماں برداری کا پابند رکھنا۔ 2 اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر، یعنی اپنے آپ کو اس سے روک کر رکھنا۔ 3 اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقدیر میں لکھے ہوئے آلام و مصائب آنے پر اپنے آپ کو جزع فزع اور اللہ تعالیٰ یا مخلوق کے شکوہ و شکایت سے روک کر رکھنا۔ کوئی بھی شخص صابر نہیں کہلا سکتا جب تک وہ صبر کی ان تینوں قسموں سے پوری طرح آراستہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کے متعلق شہادت دی کہ انھوں نے صبر کا پورا حق ادا کیا۔
Ayah 21:86وَاَدْخَلْنٰهُمْ فِيْ رَحْمَتِنَا ۭ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ : ”صَلَحَ یَصْلَحُ صَلَاحًا“ (ف، ن، ک) درست ہونا۔ یہ فساد کی ضد ہے۔ (قاموس) اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کی تعریف فرمائی کہ وہ پوری طرح صالح تھے، ان کا دل اللہ تعالیٰ پر ایمان، اس کی محبت اور ہر وقت اس کے ذکر سے درست تھا۔ ان کی زبان اس کے ذکر، اس کے دین کی دعوت اور ہر وقت سچ کہنے سے درست تھی اور دوسرے تمام اعضاء اس کے احکام کی اطاعت اور منع کردہ چیزوں سے اجتناب کی وجہ سے درست تھے، کیونکہ ان تینوں کے درست ہوئے بغیر کوئی شخص صالح نہیں کہلا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صبر و صالحیت کی وجہ سے ہم نے انھیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا اور انھیں نبوت عطا کی۔ دنیا و آخرت کی نعمتیں عطا فرمائیں، یہی کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کی تعریف فرمائی اور قیامت تک کے لیے انھیں حقیقی ناموری عطا فرمائی۔ (سعدی)
Ayah 21:87وَذَا النُّوْنِ : یعنی مچھلی والے کو یاد کرو۔ ”النُّوْنِ“ کی جمع ”نِیْنَانٌ“ ہے، جیسے ”حُوْتٌ“ کی جمع ”حِیْتَانٌ“ ہے۔ اس سے مراد یونس بن متی (بروزن شَتّٰی) ہیں جو نینویٰ (پہلے نون کے کسرہ اور دوسرے کے فتحہ کے ساتھ) کے رہنے والے تھے، جو موصل (عراق) کے قریب تھا۔
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا : ”مُغَاضِبًا“ باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے جس میں مشارکت ہوتی ہے، یا معنی میں مبالغہ مراد ہوتا ہے۔ یونس ؑ نے جب اپنی قوم کو دعوت دی اور وہ مسلسل کفر کرتے رہے تو آخر اکتا کر سخت غصے کی حالت میں ان کے حق میں بددعا کی اور عذاب کی دھمکی دے کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر انھیں چھوڑ کر نکل پڑے۔ جب کہ منصب رسالت کا تقاضا تھا کہ ان کے تمام تر غیظ و غضب اور کفر و طغیان کے باوجود انھی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ہرگز انھیں چھوڑ کر نہ جاتے، جیسا کہ نوح ؑ نے ساڑھے نو سو سال دعوت میں گزار دیے، نہ اکتائے اور نہ ان کے حق میں بددعا کی، جب تک اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ آئندہ ان کی قوم میں سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا۔ دیکھیے سورة ہود (36) اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم ﷺ کو فرمایا : (فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ) [ القلم : 48 ] ”پس اپنے رب کے فیصلے تک صبر کر اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو۔“ اور فرمایا : (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ) [ الأحقاف : 35 ] ”پس اولو العزم رسولوں کی طرح صبر کر اور ان کے لیے جلدی (عذاب کا) مطالبہ نہ کر۔“ اللہ تعالیٰ نے یونس ؑ کے بلا اجازت نکلنے کو غلام کا بھاگ جانا قرار دیا ہے، فرمایا : (اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ) [ الصافات : 140 ] ”جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔“ یونس ؑ کے واقعہ کے لیے مزید دیکھیے سورة یونس (98) اور سورة صافات (139 تا 148)۔
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ : ”اَنْ“ اصل میں ”أَنَّا“ سے مخفف ہے، ”نَا“ کو حذف کر کے ”أَنَّ“ کے نون کو ساکن کردیا گیا ہے، یا ”أَنْ“ حرف تفسیر ہے جو ”أَيْ“ کے معنی میں ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ ”قَدَرَ یَقْدِرُ“ کا معنی قادر ہونا، قابو پانا ہے، تو یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کا جلیل القدر پیغمبر یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر قابو نہیں پا سکے گا ؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے یہ ہرگز نہیں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر قابو نہیں پا سکے گا، بلکہ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی معمولی کوتاہی پر بھی سخت خفگی کا اظہار فرماتے ہیں۔ اس آیت میں ان کی حالت کا بیان ہے کہ بلا اجازت ان کے چلے جانے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ سمجھ رہے ہوں کہ مجھے کوئی پکڑ نہیں سکے گا۔ دوسرا جواب اس سے بہتر ہے کہ یہاں ”لَّنْ نَّقْدِرَ“ قادر ہونے کے معنی میں نہیں، بلکہ تنگی کرنے اور گرفت کرنے کے معنی میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ) [ الرعد : 26 ] ”اللہ رزق فراخ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔“ اور فرمایا : (وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰىهُ اللّٰهُ) [ الطلاق : 7 ] ”اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔“ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ یونس ؑ نے سمجھا کہ ان کے بلا اجازت قوم سے نکل جانے پر ہم ان پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ بعض اہل علم نے پہلے معنی کو سرے سے غلط قرار دیا ہے۔
فَنَادٰي فِي الظُّلُمٰتِ : یہاں ایک لمبی بات حذف کردی گئی ہے، جو سورة صافات (139 تا 148) میں مذکور ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ وہ قوم سے نکلے تو سمندری سفر کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوئے جو ضرورت سے زیادہ بھری ہوئی تھی۔ طوفان آیا اور سب کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوا تو کشتی ہلکی کرنے کے لیے سامان پھینکنے کے بعد کچھ آدمیوں کو سمندر میں پھینکنے کا فیصلہ ہوا۔ قرعہ ڈالا گیا تو کئی اور آدمیوں کے ساتھ یونس ؑ کے نام کا قرعہ نکلا، چناچہ دوسروں کے ساتھ انھیں بھی سمندر میں پھینک دیا گیا، جہاں اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے انھیں سالم ہی نگل لیا۔ اب وہ ایسی جگہ تھے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ یہ ایسا قید خانہ تھا جہاں نہ کوئی ملاقاتی، نہ مقدمہ لڑنے والا، نہ پیروی کرنے والا، نہ قید کی کوئی میعاد، بلکہ تا قیامت قید کا فیصلہ (اگر وہ تسبیح نہ کریں) اور نہ اللہ کے سوا امید کی کوئی روشنی۔ ان کئی اندھیروں میں انھوں نے اپنے رب کو اس حال میں آواز دی کہ وہ غم سے بھرے ہوئے تھے، فرمایا : (ۘ اِذْ نَادٰى وَهُوَ مَكْظُوْمٌ) [ القلم : 48 ] ”جب اس نے پکارا، اس حال میں کہ وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔“
3 قرآن مجید میں ”الظُّلُمٰتِ“ کا لفظ ہر جگہ جمع ہی آیا ہے، واحد کہیں بھی استعمال نہیں ہوا۔ (ابن عاشور) پھر سمندر کی تاریکیوں کا کوئی حساب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ) [ النور : 40 ] ”یا (کفار کے اعمال کی مثال) ان اندھیروں کی طرح ہے جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق سمندر کے اندھیرے جب صرف ”الظُّلُمٰتِ“ ہی نہیں بلکہ ”ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ“ ہیں تو ”الظُّلُمٰتِ“ کی جمع کا صیغہ مکمل کرنے کے لیے رات کا اندھیرا شامل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ یونس ؑ کی دعا دن کے وقت ہو تب بھی ”فِي الظُّلُمٰتِ“ ہی ہے۔ [ التفسیر القرآنی للشیخ
عبد الکریم الخطیب ]
اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ : یہ ”اَنْ“ بھی اصل میں ”أَنَّہُ“ سے مخفف ہے، یا حرف تفسیر بمعنی ”أَيْ“ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے اگلی آیت میں فرمایا ہے : (فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ) ”تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔“ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یونس ؑ نے کچھ مانگا ہی نہیں، نہ رہائی اور نہ اس مصیبت سے چھٹکارا، تو اللہ تعالیٰ نے کون سی دعا قبول فرمائی ؟ جواب اس کا یہ ہے (واللہ اعلم) کہ انھوں نے اپنی حالت کے مطابق بہترین دعا کی ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو میرا مالک و معبود ہے، میں تیرا بندہ اور تیرا غلام ہوں، میں اور میرا سب کچھ تیرے سپرد اور تیرے تابع ہے۔ پھر اس کی تسبیح کی کہ تو ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، میری اس آزمائش اور مصیبت میں تیرا کوئی ظلم ہے نہ زیادتی، تیری ذات ظلم سے یکسر پاک ہے۔ تو نے جو کیا مالک اور معبود ہونے کی وجہ سے تیرا حق ہے اور اس میں تیری بےشما رحکمتیں ہیں۔ آخر میں اپنے ظلم کا اعتراف کیا کہ یقیناً مجھ پر جو کچھ گزرا یہ میرے اپنی جان پر ظلم کی وجہ سے ہے۔ یہ دعا بہترین اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعتراف میں درخواست ہو رہی ہے کہ تیرے سوا کوئی مجھے اس مصیبت سے نجات نہیں دے سکتا، تسبیح کے ضمن میں اظہار ہو رہا ہے کہ تو مجھے اس مصیبت سے نکالنے سے عاجز نہیں کہ جس سے نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں اور ہمیشہ سے اپنے ظالموں میں سے ہونے کا اعتراف معافی اور بخشش مانگنے کی لطیف ترین صورت ہے۔ ایوب ؑ نے بھی دعا کے لیے عرض حال اور اللہ کی رحمت کا واسطہ دینے پر اکتفا کیا ہے۔ مزید سورة فاتحہ کی تفسیر میں ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کے بہترین دعا ہونے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یونس ؑ کے واقعہ کی مزید تفصیل سورة صافات اور سورة قلم میں دیکھیں۔
Ayah 21:88وَكَذٰلِكَ نُـــــْۨـجِي الْمُؤْمِنِيْنَ : اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ جس طرح ہم نے یونس ؑ کی دعا قبول کرکے انھیں غم سے نجات دی اسی طرح ہم ایمان والوں کو ان کی دعائیں قبول کرکے غم سے نجات دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جس طرح اس دعا کے ساتھ ہم نے یونس ؑ کو غم سے نجات دی اسی طرح ایمان والوں کو ہم اس دعا کے ساتھ غم سے نجات دیتے ہیں۔ سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (دَعْوَۃُ ذِي النُّوْنِ إِذْ دَعَا وَھُوَ فِيْ بَطْنِ الْحُوْتِ (لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ) فَإِنَّہٗ لَمْ یَدْعُ بِھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِيْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَاب اللّٰہُ لَہٗ) [ ترمذي، الدعوات، باب [ في دعوۃ ذي النون ] : 3505۔ مسند أحمد : 1؍170، ح : 1644، و صححہ الألباني ]”ذو النون (یونس ؑ کی دعا، جو اس نے مچھلی کے پیٹ میں کی ”لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ“ کوئی مسلم آدمی اس کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں دعا نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔“
Ayah 21:89وَزَكَرِيَّآ اِذْ نَادٰي رَبَّهٗ۔۔ : یہ اس سورت میں مذکور نواں قصہ ہے، اس کی تفصیل سورة آل عمران (39 تا 41) اور سورة مریم (1 تا 15) میں ملاحظہ فرمائیں۔
وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ : وارث وہ ہے جو کسی مالک کے فوت ہونے کے بعد اس کی ملکیت کا مالک بنے۔ اصل وارث سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا) [ مریم : 40 ] ”بیشک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں۔“ زکریا ؑ نے اپنے علم و نبوت کا وارث عطا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفت ”خَيْرُ الْوٰرِثِيْنَ“ کا وسیلہ پکڑا۔ قرآن و سنت میں مذکور دعاؤں میں ہر دعا کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کی صفت کا ذکر ہے، جیسا کہ ایوب ؑ نے ”وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ“ کہا اور یونس ؑ نے ”لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ“ کہا۔ بعض مفسرین نے اس جملہ کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ میں تجھ سے وارث عطا کرنے کی دعا کر رہا ہوں، مگر حقیقی وارث تو ہی ہے، اگر تو مجھے اولاد نہ بھی دے گا تب بھی میرے بعد اپنے دین کا انتظام ضرور کرے گا۔ (قرطبی)
Ayah 21:90فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ ۡ وَوَهَبْنَا لَهٗ يَحْــيٰى وَاَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ : بیوی کو درست کرنے سے مراد ان کا بانجھ پن دور کر کے انھیں اولاد کے قابل بنانا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ بظاہر ترتیب تو یہ ہونی چاہیے کہ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کے لیے اس کی بیوی کو درست کردیا اور اسے یحییٰ عطا کیا، کیونکہ بیوی درست ہونے کے بعد بچے کا مرحلہ آتا ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ واؤ ہمیشہ ترتیب کے لیے نہیں ہوتی۔ یہاں یحییٰ ؑ عطا کرنے کا ذکر پہلے اس لیے ہے کہ دعا بیٹا عطا کرنے کی تھی، اس کی قبولیت کے بیان کے لیے پہلے یحییٰ عطا کرنے کا ذکر ہوا، پھر اس سوال کا جواب دے دیا گیا کہ اتنی بوڑھی اور بانجھ بیوی سے بیٹا کیسے پیدا ہوگیا ؟
اِنَّهُمْ كَانُوْا يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ : یعنی زکریا ؑ ، ان کی بیوی اور یحییٰ ؑ نیکیوں میں جلدی کرتے اور رغبت اور خوف کے ساتھ ہمیں پکارتے تھے اور صرف ہمارے لیے عاجزی کرنے والے تھے۔ یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ ان تمام انبیاء میں، جن کا ذکر اس سے پہلے گزرا، یہ تینوں صفات پائی جاتی تھیں۔ معلوم ہوا دعا کی قبولیت کے لیے یہ تینوں باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان بڑے لوگوں میں یہ بات نہ تھی کہ شفا بخش سکیں یا مشکل کشائی کرسکیں یا اولاد عطا کردیں، بلکہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بندگی میں ان کے عظیم مرتبے کے پیش نظر معجزانہ طریقے سے ان کی دعا قبول فرماتا تھا۔
وَيَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا : یعنی وہ ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انھیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا) [ السجدۃ : 16 ] ”وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔“ بعض صوفی حضرات کہا کرتے ہیں کہ جنت کے لالچ یا جہنم کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا تو سودے بازی ہے، عبادت تو بس اللہ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے، اس آیت میں ان کا رد ہے، انبیائے کرام اللہ کے قرب کے سب سے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، ان کے متعلق فرمایا : (يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا) یعنی وہ ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انھیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ جاہل صوفیوں کو علم نہیں کہ جنت اللہ کی رضا سے ملے گی اور جہنم اللہ کے غضب کا نتیجہ ہے۔ رہی سودے بازی، تو وہ خود اللہ تعالیٰ نے بندوں سے کی ہے، فرمایا : (ۧاِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ) [ التوبۃ : 111 ] ”بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔“
Ayah 21:91وَالَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا : یعنی اس خاتون کا بھی ذکر کر جس پر ناپاک لوگ (یہودی) تہمتیں لگاتے ہیں، حالانکہ اس نے اپنی شرم گاہ کو حرام سے محفوظ رکھا، بلکہ عبادت میں ایسی مشغول رہی کہ حلال سے بھی محفوظ رکھا، جیسا کہ فرمایا : (وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَرٌ) [ آل عمران : 47 ] ”حالانکہ کسی بشر نے مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیک شہرت کے اظہار کے لیے اس کا نام نہیں لیا، کیونکہ سب جانتے ہیں اس سے مراد مریم بنت عمران [ ہیں۔
فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا : مراد عیسیٰ ؑ کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس کے حکم سے جبریل ؑ نے پھونکی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کو عزت و شرف بخشنے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا اور جبریل ؑ کے پھونکنے کو اپنا پھونکنا قرار دیا، جیسے ”بیت اللہ“ اور ”ناقۃ اللہ“ میں کعبہ کو اپنا گھر اور صالح ؑ کی اونٹنی کو اپنی اونٹنی قرار دیا۔ شیخ ثناء اللہ امر تسری ؓ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : ”عیسائی لوگ اس آیت اور اس قسم کی اور آیات سے عموماً دلیل لایا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (معاذ اللہ) خدا تھا، کیونکہ اس کو ”روح اللہ“ کہا گیا ہے، مگر وہ قرآن شریف کے محاورے کو غور سے نہیں دیکھتے کہ اس قسم کی اضافات سے مطلب کیا ہوتا ہے ؟ سورة سجدہ میں عام انسانوں کے لیے بھی یہی اضافت روح کی اللہ کی طرف آئی ہے، چناچہ ارشاد ہے : (وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ ۚثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ ۚثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ) [ السجدۃ : 7 تا 9 ] ”(یعنی اللہ نے) انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی، پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ اس جگہ عام انسانی پیدائش کی ابتدا اور سلسلے کا ذکر ہے۔ پس اگر آیت زیر تفسیر سے مسیح ؑ کی الوہیت (خدا ہونا) ثابت ہوتی ہو تو اس قسم کی آیات سے تمام انسانوں کی الوہیت ثابت ہوگی، پھر اگر مسیح بھی ایسے ہی خدا اور الٰہ تھے جیسے کہ سب انسان ہیں تو خیر اس کے ماننے میں کسی کو کلام نہیں۔ پس آیت موصوفہ کے معنی وہی ہیں جو ہم نے لکھے ہیں (کہ وہ روح مخلوق تھی) (فَافْھَمْ)۔“
وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَآ اٰيَةً لِّـلْعٰلَمِيْنَ : مریم اور مسیح ؑ کا جہانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی ہونا سورة آل عمران (36 تا 63) ، نساء (156 تا 159، 171) اور مائدہ (46، 110 تا 120) میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
Ayah 21:92اِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً۔۔ : بہت سے مفسرین نے یہاں امت سے مراد دین لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول نقل فرمایا : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ) [ الزخرف : 22 ] ”بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک امت (یعنی ایک دین) پر چلتے پایا۔“ یعنی تمہارا دین اور ملت ایک ہی ہے اور وہ ہے دین توحید، اور ”ہٰذِهٖ“ سے مراد اس سے پہلے مذکور انبیاء، نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، لوط، داؤد، سلیمان، ایوب، اسماعیل، ادریس، ذوالکفل، یونس، زکریا، مسیح ابن مریم ہیں کہ سب کا ایک ہی دین تھا اور سب توحید پر قائم تھے۔ کسی اور کو معبود، مشکل کشا، شفا دینے والا، بگڑی بنانے والا یا اولاد عطا کرنے والا نہیں سمجھتے تھے، یہ سب لوگ ایک ہی دین پر تھے کہ میں تمہارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ أُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب (واذکر في الکتاب مریم۔۔) : 3443۔ مسلم : 145؍2365 ] ”ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں، جن کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔“ امت کا معنی جماعت بھی ہے، مگر ایسی جماعت جس کے لوگوں کے درمیان انھیں اکٹھا رکھنے والی کوئی چیز ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ) [ آل عمران : 104 ] ”اور لازم ہے کہ تمہاری صورت میں ایک جماعت ہو جو نیکی کی طرف دعوت دیں۔“ یعنی یہ تمام انبیاء ایک ہی جماعت تھے جن کا رب ایک اور دین ایک تھا۔
Ayah 21:93وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ :”تَقَطَّعُوْٓا“ باب تفعل سے ہے جو لازم ہے۔ اصل میں ”تَقَطَّعُْوْا فِي أَمْرِھِمْ“ تھا، یعنی وہ اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ”فِیْ“ کو حذف کرنے کی وجہ سے ”اَمْرَھُمْ“ پر نصب آگیا۔ بعض نے فرمایا کہ یہاں ”تَقَطَّعُوْٓا“ باب تفعیل (قَطَّعُوْا) کے معنی میں ہے جو متعدی ہے، یعنی انھوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر پہلا معنی راجح ہے۔ یعنی سب کا دین ایک اور رب ایک ہے، اس لیے لازم تھا کہ سب ایک جماعت رہتے اور اپنے نبی کی کتاب اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھتے، مگر وہ سب کچھ جانتے ہوئے محض باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے بارے میں کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ دیکھیے سورة بقرہ (213) اور سورة شوریٰ (13، 14) ہماری امت کا بھی یہی حال ہوا کہ وہ کتاب و سنت پر متحد ہونے کے بجائے فقہ و تصوف کے الگ الگ پیشوا بنا کر بہت سے فرقوں میں بٹ گئے، جن میں سے ہر فرقہ اپنے آپ ہی کو حق پر قرار دیتا ہے۔ سیاسی طور پر خلافت اسلامیہ کو ختم کر کے چھپن (56) خود مختار ملکوں میں تقسیم ہوگئے، جن میں سے ایک بھی حقیقت میں خود مختار نہیں ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
3 اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو مخاطب کرکے فرمایا تھا : (اِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ڮ وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ) یعنی یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ اب اس آیت میں انھیں مخاطب کرنے کے بجائے ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا اور ”تَقَطَّعْتُمْ أَمْرَکُمْ بَیْنَکُمْ“ (تم اپنے دین کے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے) کے بجائے فرمایا : ”تَقَطَّعُوْا أَمْرَھم بَیْنَھمْ“ کہ وہ اپنے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ یہ مخاطب سے غائب کی طرف التفات ہے، گویا اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرنے کے بعد ان کی گروہ بندی کی وجہ سے انھیں اس قابل نہیں سمجھا کہ ان سے خطاب کیا جائے، اس لیے ان کا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا۔
كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ : یعنی یہ لوگ جتنے گروہ چاہیں بنالیں، آخر سب نے ہمارے پاس آنا ہے، پھر ہم سب کا فیصلہ کریں گے، فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ) [ الزمر : 46 ] ”تو کہہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! ہر چھپی اور کھلی کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔“
Ayah 21:94فَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ۔۔ : یعنی ان مختلف گروہوں میں سے جو بھی اس کے مطابق کچھ عمل کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ پر، اس کی توحید پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر، خیر و شر تقدیر پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو، تو اس کی کوشش کی کوئی ناقدری نہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو اس کے نامۂ اعمال میں درج فرمائے گا۔
مِنَ الصّٰلِحٰتِ“ میں ”مِنْ“ بعض کے معنی میں ہے۔ (ابوالسعود) یعنی جو شخص صالح اعمال میں سے کچھ اعمال کرے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے۔“ اللہ تعالیٰ کی کریمی دیکھیے کہ ایمان کے بعد بعض اعمال صالحہ کی بھی قدر دانی ہو رہی ہے۔
Ayah 21:95وَحَرٰمٌ عَلٰي قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَآ۔۔ : اس آیت کے تین معنی ہوسکتے ہیں اور تینوں درست ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کا اعجاز ہے کہ ایک آیت کئی معانی کی گنجائش رکھتی ہے۔ پہلے معنی کی صورت میں ”وَحَرٰمٌ“ کا معنی ”ممنوع“ اور ”ناممکن“ ہے اور ”لَا يَرْجِعُوْنَ“ میں ”لَا“ کا حرف زائد ہے، نفی کا معنی نہیں دے رہا، مگر بےفائدہ نہیں بلکہ ”حَرٰمٌ“ کے معنی میں جو نفی پائی جاتی ہے اس میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر فرمایا : (مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ) [ ص : 75 ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ کرے ؟“ دوسری جگہ فرمایا : (مَا مَنَعَكَ اَ لَّا تَسْجُدَ) [ الأعراف : 12 ] ”تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا ؟“ اس سے ظاہر ہے کہ ”اَ لَّا تَسْجُدَ“ میں ”لاَ“ زائد ہے اور ”مَنَعَکَ“ کے معنی میں زور پیدا کرنے کے لیے ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے آیت کا ترجمہ یہ ہوگا کہ جس بستی کو ہم ہلاک کردیں ناممکن ہے کہ وہ (دنیا میں) واپس لوٹیں، جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُوْنَ) [ یٰسٓ : 31 ] ”کیا انھوں نے نہیں دیکھا، ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے کہ وہ ان کی طرف پلٹ کر نہیں آتے۔“ دوسرے معنی کی صورت میں ”حَرٰمٌ“ کا معنی ”ممنوع“ اور ”ناممکن“ ہی ہوگا، مگر ”لَا يَرْجِعُوْنَ“ میں ”لَا“ نفی کے معنی میں ہوگا جو اس کا اصل ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جس بستی کو ہم ہلاک کردیں، ناممکن ہے کہ وہ (قیامت کے دن ہماری طرف) واپس نہ آئیں، بلکہ وہ ضرور ہماری طرف واپس لوٹیں گے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ یہاں ”حَرٰمْ“ کا لفظ لازم اور واجب کے معنی میں ہے، جیسا کہ ابن کثیر نے ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے فتح الباری (11؍503) اس صورت میں معنی یہ ہے کہ جس بستی کو ہم ہلاک کردیں لازم ہے کہ وہ (دنیا میں) واپس نہیں لوٹیں گے۔ ابن کثیر ؓ نے اس معنی کو ترجیح دی ہے۔ شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر ; نے بھی اسی مفہوم کو اختیار فرمایا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو تینوں معنوں کا نتیجہ ایک ہی ہے، البتہ اس میں سے وہ لوگ مستثنیٰ ہوں گے جنھیں اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد زندہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے، مثلاً بنی اسرائیل کا مقتول جو گائے کا کوئی حصہ مارنے سے زندہ ہوا وغیرہ۔
Ayah 21:96حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ۔۔ : ”حَدَبٍ“ زمین کا ابھرا ہوا حصہ، اونچی جگہ، جیسے کسی کی پیٹھ ابھری ہوئی ہو تو اسے ”حَدَبَۃُ الظَّھْرِ“ کہتے ہیں۔ ”نَسَلَ“ (ض، ن) قریب قریب قدم رکھ کر نیچے کی طرف تیز دوڑنا، یعنی ہلاک ہونے والی بستیوں کے لوگوں کا دوبارہ زندہ ہونا اس وقت تک ناممکن رہے گا جب تک قیامت قائم نہ ہو، جس کی بالکل قریب نشانیوں میں سے ایک یاجوج ماجوج کا نکلنا بھی ہے۔ ان کے نکلنے کے بعد بہت جلد قیامت قائم ہوجائے گی۔ حذیفہ بن اسید غفاری ؓ بیان کرتے ہیں : ”ایک دفعہ ہم آپس میں قیامت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ”تم آپس میں کیا ذکر کر رہے ہو۔“ انھوں نے کہا : ”ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّھَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْنَ قَبْلَھَا عَشْرَ آیَاتٍ ، فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ ، وَالدَّابَّۃَ ، وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِھَا، وَنُزُوْلَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَیَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ ، وَثَلاَثَۃَ خُسُوْفٍ : خَسْفٌ بالْمَشْرِقِ ، وَخَسْفٌ بالْمَغْرِبِ ، وَخَسْفٌ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ ، وَآخِرُ ذٰلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلٰی مَحْشَرِھِمْ) [ مسلم، الفتن، باب في الآیات التی تکون قبل الساعۃ : 2901 ] ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔“ پھر آپ نے دخان (دھوئیں) ، دجال، دابۃ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، عیسیٰ ؑ کے نزول، یاجوج ماجوج اور تین خسوف (زمین میں دھنس جا نے) کا ذکر فرمایا۔ ایک خسف مشرق میں، ایک خسف مغرب میں اور ایک خسف جزیرۂ عرب میں ہوگا اور ان کے آخر میں ایک آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے حشر کی جگہ کی طرف ہانکے گی۔“ یاجوج ماجوج کے کھولے جانے سے مراد قیامت کے قریب اس دیوار کا ٹوٹنا ہے جو ذوالقرنین نے لوگوں کو یاجوج ماجوج کی غارت گری سے بچانے کے لیے بنائی تھی۔ اس وقت ان کے نکلنے کا نقشہ بیان ہوا ہے کہ وہ اتنی کثرت اور تیزی سے نکلیں گے کہ ہر بلندی و پستی پر چھا جائیں گے، کسی میں ان کے مقابلے کی طاقت نہ ہوگی۔ [ مسلم، الفتن، باب ذکر الدجال : 2937 ] یاجوج ماجوج کی تفصیل سورة کہف (93 تا 99) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔