21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچا وعدہ بالکل قریب آجائے گا تو اچانک یہ ہوگا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔ ہائے ہماری بربادی ! بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔

وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ : ”اقْتَرَبَ“ ”قَرِبَ“ میں ہمزہ اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی بہت یا بالکل قریب ہوگیا۔ ”سچے وعدے“ سے مراد قیامت ہے۔ یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد مسیح ؑ مسلمانوں کو لے کر پہاڑ سے اتریں گے، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زمین کی بیشمار برکتیں عطا فرمائے گا۔ صحیح مسلم (2937) میں ہے کہ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک طیب ہوا ان کی بغلوں کے نیچے بھیجے گا، جو ہر مومن کی روح قبض کرلے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو شہوت رانی کے لیے گدھوں کی طرح ایک دوسرے پر چڑھیں گے، انھی پر قیامت قائم ہوگی۔ عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں : (لاَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ إِلَّا عَلٰی شِرَارِ الْخَلْقِ ھُمْ شَرٌّ مِنْ أَھْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ لاَ یَدْعُوْنَ اللّٰہَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّہُ عَلَیْھِمْ) [ مسلم، الإمارۃ، باب قولہ ﷺ : لا تزال طائفۃ من أمتی۔۔ : 1924 ] ”قیامت ان لوگوں پر قائم ہوگی جو اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہوں گے، وہ جاہلیت والوں سے بھی بدتر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگیں گے اللہ تعالیٰ انھیں وہ چیز دے دے گا۔“ فَاِذَا هِىَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ”شُخُوْصٌ“ کا معنی حیرت یا خوف سے کھلا رہ جانا ہے، یعنی قیامت کا منظر دیکھ کر اس وقت تمام موجود لوگوں کی، جو بدترین کافر ہوں گے، آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ اس کی ہم معنی آیت : (وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ ڛ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ 42 ۝ ۙ مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۚ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاۗءٌ) [ إبراھیم : 42، 43 ] ”اور تو اللہ کو ہرگز اس سے غافل گمان نہ کر جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔“ يٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ ھٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِيْنَ : اس وقت وہ اپنی بربادی اور ہلاکت کو آواز دیں گے اور پہلے غفلت کا عذر کریں گے، پھر خود ہی صاف اعتراف کریں گے کہ انبیاء نے ہمیں اس دن سے خبردار کیا تھا، اس لیے ہم غافل نہیں بلکہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ دیکھیے سورة ملک (5 تا 11)۔
Ayah 21:98

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

بیشک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں، تم اسی میں داخل ہونے والے ہو۔

اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ : یعنی اس وقت ان کے اعتراف جرم اور توبہ کا انھیں کچھ فائدہ نہ ہوگا (سورۂ مومن : 85) بلکہ کہا جائے گا کہ تم اور جن چیزوں کی تم عبادت کرتے تھے، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اس میں ان کے بت بھی شامل ہیں اور وہ تمام انسان یا جن بھی جو اپنی عبادت کروا کر خوش ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جہنم کا ایندھن قرار دیا۔ بتوں کو آگ میں پھینکنے کا مقصد ان مشرکین کو ذلیل کرنا ہے کہ اپنے خداؤں کا حال دیکھ لو، جیسا کہ فرمایا : (وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ) [ البقرۃ : 24 ] کہ جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ ”مَا“ کا لفظ عموماً غیر ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے، گویا اپنی عبادت پر خوش ہونے والے انسانوں اور جنوں کو غیر ذوی العقول قرار دیا گیا۔ اگر ”مَا“ کو عاقل و غیر عاقل سب کے لیے عام مانا جائے، جیسا کہ بعض اوقات استعمال ہوتا ہے، تب بھی اللہ کے پیغمبر اور مقبول بندے اس میں شامل نہیں ہوں گے، کیونکہ آیت (101) میں تمام مومنوں کے لیے جہنم سے دور رکھے جانے کی بشارت آرہی ہے۔ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ : ”لَھَا“ کا لفظ ”وٰرِدُوْنَ“ سے پہلے آنے سے حصر پید اہو گیا، اس لیے ترجمہ ”اس میں“ کے بجائے ”اسی میں“ داخل ہونے والے ہوگا۔ اس جملے کا فائدہ یہ ہے کہ جہنم کا ایندھن بننے کے بعد یہ مت سمجھو کہ موحدین کی طرح اس سے نکل کر جنت میں چلے جاؤ گے، نہیں ! بلکہ تم اسی میں داخل رہو گے۔ اس کے علاوہ ”وٰرِدُوْنَ“ کو بعد میں لانے سے دوسری آیات کے فواصل (آخری حروف) کے ساتھ موافقت بھی ہوگئی۔
Ayah 21:99

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور یہ سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

لَوْ كَانَ هٰٓؤُلَاۗءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا۔۔ : ”وَرَدُوْا“ کی ضمیر پوجنے والوں اور ان کے بنائے ہوئے معبودوں سب کی طرف جاتی ہے، اس لیے اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ اگر لات، منات، عزیٰ یا شیاطین وغیرہ معبود ہوتے تو ان کو پوجنے والے جہنم میں داخل نہ ہوتے، بلکہ ان کے معبود ان کو بچا لیتے۔ دوسری یہ کہ اگر یہ معبود ہوتے تو کم از کم خود ہی جہنم میں داخل نہ ہوتے، مگر جب ”كُلٌّ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ“ یعنی پوجنے والے اور جنھیں پوجا گیا سب جہنم کا ایندھن ہیں تو ان کے بنائے ہوئے خدا معبود کیسے ہوگئے ؟ اس آیت پر مشرکین کے اعتراض کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زخرف (57 تا 59)۔
Ayah 21:100

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

ان کے لیے اس میں گدھے جیسی آواز ہوگی اور وہ اس میں نہیں سنیں گے۔

لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ : ”زَفِيْرٌ“ کے معنی کے لیے دیکھیے سورة ہود (106)۔ وَّهُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْن : اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ اتنی اونچی آواز سے گدھے کی طرح رینگیں گے کہ اپنے چیخ پکار کے شور میں کوئی بات نہیں سنیں گے۔ دوسری تفسیر عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمائی کہ جب وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جنھیں ہمیشہ آگ میں رکھا جائے گا، تو انھیں آگ کے تابوتوں میں ڈال دیا جائے گا، جن میں آگ کی میخیں ہوں گی، تو ان میں سے کسی کو نظر نہیں آئے گا کہ اس کے سوا کسی کو عذاب ہو رہا ہے۔ پھر عبد اللہ ؓ نے یہ آیت پڑھی : (لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّهُمْ فِيْهَا لَا يَسْمَعُوْنَ) ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم، دکتور حکمت بن بشیر نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ گویا آگ کے عذاب کے ساتھ تنہائی کا شدید عذاب مزید ہوگا کہ نہ کسی کو دیکھیں گے اور نہ کوئی آواز سنیں گے۔
Ayah 21:101

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہوچکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى۔۔ :”الْحُسْنٰٓى“ ”اَلْأَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، معنی ہے سب سے اچھی چیز۔ مراد وہ سعادت اور خوش قسمتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کی تقدیر میں لکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے جہنم میں جانے والوں کے ذکر کے بعد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والوں کا ذکر فرمایا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سعادت اور نیک اعمال کی توفیق یا معافی مقدر کردی ہے اور وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ بعض مفسرین نے اس آیت سے مراد وہ صالحین، انبیاء اور فرشتے لیے ہیں جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے۔ ان کے مطابق یہ آیت مشرکین کے جواب میں اتری ہے جنھوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کی گئی ہے وہ جہنم میں جائیں گے تو لوگوں نے عبادت فرشتوں اور پیغمبروں کی بھی کی ہے۔ جواب یہ دیا گیا کہ یہ لوگ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ اگرچہ اس آیت میں اس اعتراض کا جواب بھی موجود ہے، تاہم آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے اس میں فرشتوں، پیغمبروں اور صالحین کے ساتھ تمام سعادت مند مومن بھی شامل ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص اسلوب ہے کہ وہ جنت و جہنم اور نیک و بد دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ فرماتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سعادت مند لوگوں کو عطا ہونے والی پانچ نعمتیں ذکر فرمائی ہیں، جن میں سے پہلی یہ ہے کہ وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
Ayah 21:102

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

وہ اس کی آہٹ نہیں سنیں گے اور وہ اس میں جسے ان کے دل چاہیں گے، ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

ۙلَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا : یہ دوسری نعمت ہے کہ جہنم کی ہلکی سے ہلکی محسوس ہونے والی آواز بھی ان کے کانوں میں نہیں آئے گی کہ انھیں کسی طرح بھی تکلیف پہنچ سکے۔ مراد جنت میں جانے کے بعد ہے۔ (قرطبی) وَهُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْن : یہ تیسری نعمت ہے، یعنی اہل جنت کے دل کی ہر خواہش نہ صرف یہ کہ پوری ہوگی (حم السجدہ : 30 تا 32) بلکہ ان کی من پسند ہر نعمت دائمی اور ابدی بھی ہوگی، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 21:103

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

انھیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور انھیں (آگے سے) لینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔

لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ : یہ چوتھی نعمت ہے کہ پہلے کوئی گھبراہٹ ہو تو ہو، آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کے بعد وہ ہر گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے، حتیٰ کہ سب سے بڑی گھبراہٹ بھی انھیں غمگین نہیں کرے گی، پھر چھوٹی موٹی گھبراہٹوں کی کیا مجال ہے کہ انھیں غم زدہ کرسکیں ؟ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ : ابن عطیہ ؓ نے فرمایا : ”یہ نعمت جنت میں داخلے کے بعد حاصل ہوگی۔“ کیونکہ صحیح احادیث میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے ساتھ بہت سے اہل ایمان کا جہنم سے نکلنا اور جنت میں جانا ثابت ہے، اس لیے ”الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ“ سے مراد وہ وقت معلوم ہوتا ہے جس کا ذکر ابوسعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (یُوْتٰی بالْمَوْتِ کَھَیْءَۃِ کَبْشٍِ أَمْلَحَ فَیُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ھٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ، ھٰذَا الْمَوْتُ ، وَکُلُّھُمْ قَدْ رَآہُ ، ثُمَّ یُنَادِيْ یَا أَھْلَ النَّارِ ، فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَیَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ھٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ : نَعَمْ ، ھٰذَا الْمَوْتُ ، وَکُلُّھُمْ قَدْ رَآہٗ ، فَیُذْبَحُ ، ثُمَّ یَقُوْلُ : یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ ، وَ یَا أَھْلَ النَّارِ ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ ، ثُمَّ قَرَأَ (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ) وَھٰؤُلَاءِ فيْ غَفْلَۃٍ أَھْلُ الدُّنْیَا، (وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ عز و جل : (وأنذرھم یوم الحسرۃ) : 4730 ] ”موت کو ایک سیاہ و سفید مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا : ”اے جنت والو !“ وہ گردن اٹھائیں گے اور دیکھیں گے تو وہ کہے گا : ”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے : ”ہاں ! یہ موت ہے“ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا، پھر وہ آواز دے گا : ”اے آگ والو !“ تو وہ گردن اٹھائیں گے اور دیکھیں گے تو وہ کہے گا : ”کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟“ وہ کہیں گے : ”ہاں ! یہ موت ہے“ اور ان سب نے اسے دیکھا ہوگا، پھر اسے ذبح کردیا جائے گا، پھر وہ کہے گا : ”اے جنت والو ! (اب) ہمیشگی ہے اور موت نہیں ہے اور اے آگ والو ! (اب) ہمیشگی ہے اور موت نہیں ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : (وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ) [ مریم : 39 ] (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں) یعنی وہ سراسر دنیا کی غفلت میں ہیں : (وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ)”اور وہ ایمان نہیں لاتے۔“ ابن کثیر نے ”عبد الرزاق عن یحییٰ بن ربیعہ عن عطاء“ یہ قول ذکر فرمایا ہے : ”گویا ”يَوْمَ الْحَسْرَةِ“ اور ”الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ“ ایک ہی چیز ہے۔“ اکثر حضرات نے اس سے مراد صور میں آخری پھونک کا وقت مراد لیا ہے۔ بعض نے میدان حشر میں پیش آنے والے ہولناک واقعات مراد لیے ہیں، مگر جو غم یا گھبراہٹ ختم ہوجائے اسے ”الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ“ نہیں کہا جاسکتا۔ ابن کثیر میں ہے کہ سعید بن جبیر نے فرمایا : (حِیْنَ تُطْبَقُ النَّارُ عَلٰی أَھْلِھَا) ”اس سے مراد وہ وقت ہے جب جہنم والوں کے اوپر جہنم کو بند کردیا جائے گا۔“ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا : ”اسے طبری نے حسن سند سے ذکر کیا ہے۔“ یہ قول اور موت کو ذبح کرنے کا قول ایک ہی ہے، کیونکہ جہنم کو اسی وقت اوپر سے بند کیا جائے گا جب اس میں وہی لوگ رہ جائیں گے جنھیں ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔ خلاصہ یہ کہ جنت میں جانے کے بعد جنتی ہر قسم کی گھبراہٹ اور خوف سے محفوظ رہیں گے، حتیٰ کہ سب سے بڑی گھبراہٹ بھی انھیں غم زدہ نہیں کرے گی، بلکہ وہ صرف اور صرف جہنمیوں کے لیے مخصوص ہوگی۔ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ۔۔ : یہ استقبال جنت میں داخلے کے وقت ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ) [ الزمر : 73 ] ”اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈر گئے، گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے، اس حال میں کہ اس کے دروازے کھول دیے گئے ہوں گے اور اس کے نگران ان سے کہیں گے تم پر سلام ہو، تم پاکیزہ رہے، پس اس میں داخل ہوجاؤ، ہمیشہ رہنے والے۔“ اس سے پہلے موت کے وقت بھی فرشتے ان کا استقبال کریں گے اور بشارتیں دیں گے، فرمایا : (اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ 30؀ نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ 31؀ۭ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ) [ حٰآ السجدۃ : 30 تا 32 ] ”بیشک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔ ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ یہ بیحد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔“ اور فرمایا : (الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ النحل : 32 ] ”جنھیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ پاک ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں سلام ہو تم پر، جنت میں داخل ہوجاؤ، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔“
Ayah 21:104

یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ كَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ١ؕ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُهٗ١ؕ وَعْدًا عَلَیْنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:104 in the Quran reader

جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔ جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقینا ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔

نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ : ”طَوٰی یَطْوِيْ طَیًّا“ لپیٹنا۔ ”السِّجِلِّ“ کا معنی ہے صحیفہ، کتاب بھی ہے اور کاتب بھی۔ (قاموس) یہاں کاتب معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ کاتب کاغذات لکھنے کے بعد آخر میں لپیٹ کر اکٹھے کرلیتا ہے۔ (ابن عاشور) بعض لوگوں نے ایک فرشتے کا نام ”سجل“ بتایا ہے اور بعض نے نبی ﷺ کے ایک کاتب کا نام ”سجل“ بتایا ہے، مگر یہ دونوں درست نہیں، نہ کسی فرشتے کا نام ”سجل“ ثابت ہے اور نہ کسی صحابی کا۔ ”یَوْمَ“ یعنی جن چیزوں کا ذکر اوپر گزرا یہ سب اس دن ہوں گی جس دن۔۔ (أَيْ تَکُوْنُ ھٰذِہِ الْأَشْیَاءَ یَوْمَ)۔ (بقاعی) نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ : یعنی جس طرح کاتب اپنے اوراق لپیٹ لیتا ہے اسی طرح ہم آسمانوں کو لپیٹ دیں گے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بات کچھ تفصیل سے آئی ہے، چناچہ فرمایا : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ) [ الزمر : 67 ] ”اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔“ اور ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ یَقْبِضُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْأَرْضَ وَتَکُوْنُ السَّمَاوَاتُ بِیَمِیْنِہِ) [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (لما خلقت بیدی) : 7412 ] ”بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام زمینوں کو مٹھی میں لے لے گا اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔“ مزید تفصیل سورة زمر (67) میں دیکھیے۔ سلف صالحین کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جس طرح قرآن و حدیث میں آئی ہیں ان کا اسی طرح عقیدہ رکھنا چاہیے اور انھیں اسی طرح بیان کرنا چاہیے، نہ ان کا انکار کیا جائے اور نہ تاویل، نہ یہ کہا جائے کہ ان الفاظ کا معنی ہی ہمیں معلوم نہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو مخلوق کی صفات کے مشابہ نہ سمجھا جائے۔ كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ۔۔ : ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں نصیحت کی خاطر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : (یَا أَیُّھَا النَّاسُ ! إِنَّکُمْ تُحْشَرُوْنَ إِلَی اللّٰہِ حُفَاۃً عُرَاۃً غُرْلًا) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمہا، باب فناء الدنیاء : 58؍2860۔ بخاري : 4740 ] ”اے لوگو ! تم اللہ کی طرف اس حال میں اٹھائے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، ختنے کے بغیر ہو گے۔“ پھر یہ آیت پڑھی : (كَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ ۭ وَعْدًا عَلَيْنَا ۭ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ)
Ayah 21:105

وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ Open ayah 21:105 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ بیشک یہ زمین، اس کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ۔۔ : زبور کا معنی کتاب ہے، یہاں زبور سے مراد داؤد ؑ کی کتاب ہے اور ذکر سے مراد نصیحت ہے، جیسا کہ ترجمہ کیا گیا ہے، کیونکہ موجودہ زبور میں یہ بات موجود ہے۔ یا پھر زبور سے مراد گزشتہ آسمانی کتابیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے، یعنی پہلے لوح محفوظ میں یہ بات درج ہے اور اس کے بعد آسمانی کتابوں میں بھی یہ بات لکھی جاتی رہی ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوں گے۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا کونی فیصلہ بھی ہے اور شرعی بھی۔ اس زمین سے کیا مراد ہے ؟ آیات کے سیاق وسباق کو دیکھنے سے بات صاف سمجھ میں آرہی ہے کہ اس سے مراد زمین و آسمان کی بساط لپیٹنے کے بعد وجود میں آنے والی زمین ہے، جو بطور انعام اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کو عطا کی جائے گی اور وہ ان کی دائمی اور ابدی وراثت ہوگی۔ چناچہ موجودہ زبور اگرچہ تحریف سے خالی نہیں مگر یہ حوالہ اس میں بھی موجود ہے : ”صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“ [ زبور، باب : 37، آیت : 29 ] قرآن مجید میں بھی بطور انعام ملنے والی اس وراثت کا ذکر ہے جو ہمیشہ رہے گی، چناچہ فلاح پانے والے مومنوں کے اوصاف ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ 10 ۝ ۙالَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ۭ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) [ المؤمنون : 10، 11 ] ”یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں، جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اور فرمایا : (وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ ۚفَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ) [ الزمر : 74 ] ”اور وہ (جنتی) کہیں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ ہم جنت میں سے جہاں چاہیں جگہ بنالیں، سو یہ عمل کرنے والوں کا اچھا اجر ہے۔“ زبور اور قرآن دونوں سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بطور انعام ملنے والی وراثت ارض جنت ہے، کیونکہ ہمیشہ کا بسیرا وہی ہے۔ رہی موجودہ زمین، تو اس کی وراثت صالح و طالح، کافر و مسلم دونوں کو ملتی ہے اور صرف انعام کے طور پر نہیں، بلکہ امتحان کے لیے ملتی ہے اور ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ عارضی ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا باللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ 128؁ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ) [ الأعراف : 128، 129 ] ”موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، بیشک زمین اللہ کی ہے، وہ اس کا وارث اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے بناتا ہے اور اچھا انجام متقی لوگوں کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا، ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا، تمہارا رب قریب ہے کہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔“ اس زمین کی وراثت نہ نیکی و بدی پر موقوف ہے اور نہ ابدی اور دائمی ہے، فرمایا : (وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ) [ آل عمران : 140 ] ”اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔“ البتہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر مسلمان صحیح مومن ہوں تو دنیا میں بھی آخر وہی غالب رہیں گے، چناچہ فرمایا : (وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) [ آل عمران : 139 ] ”اور تم ہی غالب ہو، اگر تم مومن ہو۔“ اور فرمایا : (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْن) [ النور : 55 ] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کر امن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“ ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی زَوَی لِيَ الْأَرْضَ فَأُرِیْتُ مَشَارِقَھَا وَمَغَارِبَھَا وَإِنَّ مُلْکَ أُمَّتِيْ سَیَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِيْ مِنْھَا وَأُعْطِیْتُ الْکَنْزَیْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْیَضَ) [ أبوداوٗد، الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن و دلائلھا : 4252، و صححہ الألباني ]”اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین تہ کردی تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب دیکھ لیے اور میری امت کا ملک وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وہ میرے لیے تہ کی گئی ہے اور مجھے سرخ اور سفید (سونا اور چاندی) دو خزانے دیے گئے ہیں۔“ اور واقعی آپ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق چند ہی سالوں میں مسلمان زمین کے مشرق و مغرب کے مالک بن گئے، مگر جب ان میں ایمان اور عمل صالح کی کمی ہوئی، انھوں نے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ میں کوتاہی کی اور عیش و عشرت میں پڑگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے اور اپنے دشمن سزا دینے کے لیے مسلط کردیے، جس طرح بنی اسرائیل پر بخت نصر کو مسلط کیا تھا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (5 تا 7) معلوم ہوا ایسا نہیں ہے کہ جو بھی اس زمین کے کسی حصے کا مالک بن جائے وہ صالحین میں شمار ہوگیا، ورنہ فرعون، ہامان، قارون، شداد، نمرود، چنگیز، ہلاکو، ہٹلر، نپولین، بش، کمیونسٹ، گائے اور بتوں کے پجاری اور تثلیث کے فرزند اللہ کے صالح بندے شمار ہوں گے اور آج کل کے روشن خیال یہی چاہتے ہیں کہ مغرب کے مشرکوں، بدکاروں اور ہم جنس پرستوں کو صالح شمار کیا جائے، تاکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے سے چھٹکارا مل جائے۔
Ayah 21:106

اِنَّ فِیْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِیْنَؕ Open ayah 21:106 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا ایک پیغام ہے جو عبادت کرنے والے ہیں۔

؁ اِنَّ فِيْ ھٰذَا لَبَلٰغًا۔۔ : یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں توحید، آخرت، انبیاء کے واقعات اور جو دوسرے مضامین بیان ہوئے ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے بہت بڑا پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی عبادت پر آمادہ ہی نہیں، بلکہ شیطان اور نفس کی پیروی پر ڈٹے ہوئے ہیں انھیں اس قرآن سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آنکھوں میں روشنی ہو تو سورج یا چراغ کی روشنی کا فائدہ ہوتا ہے، اندھے کو چراغ سے کچھ دکھائی نہ دے تو اس میں چراغ کا کوئی قصور نہیں۔ دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (2) میں ”ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ“ کی تفسیر۔
Ayah 21:107

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:107 in the Quran reader

اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرتے ہوئے۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ : اعراب القرآن (قرآن کی ترکیب نحوی) کے موضوع پر لکھی ہوئی تقریباً تمام کتابوں میں ”رَحْمَةً“ کو ”اَرْسَلْنٰكَ“ کا مفعول لہ بیان کیا گیا ہے۔ بعض کتابوں میں دوسری تراکیب بھی بیان ہوئی ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ نحو کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ مفعول لہ جس فعل کی علت بیان کر رہا ہو اس فعل کا اور مفعول لہ کا فاعل ایک ہوتا ہے، مثلاً ”ضَرَبْتُ زَیْدًا تَأْدِیْبًا“ (میں نے زید کو ادب سکھانے کے لیے مارا) اس میں مارنے والا اور ادب سکھانے والا ایک ہی ہے، اس طرح یہاں بھیجنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ چناچہ معنی یہ ہوگا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرنے کے لیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کو بھیجنے کی وجہ اللہ تعالیٰ کا جہانوں پر رحم کرنا ہے۔ چناچہ شاہ ولی اللہ ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ہے : ”ونفرستادیم ترا مگر ازروئے مہربانی برعالمہا“ (اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر مہربانی کی وجہ سے) اور شاہ عبد القادر ؓ نے ترجمہ کیا ہے : ”اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہر (یعنی مہربانی) کر کر جہان کے لوگوں پر۔“ مفسر ابوالسعود نے فرمایا : ”أَيْ مَا أَرْسَلْنَاکَ بِمَا ذُکِرَ لِعِلَّۃٍ مِنَ الْعِلَلِ إِلاَّ لِرَحْمَتِنَا الْوَاسِعَۃِ لِلْعَالَمِیْنَ قَاطِبَۃً“ ”اور ہم نے تجھے مذکورہ وحی دے کر کسی بھی وجہ سے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں پر اپنی وسیع رحمت کی وجہ سے۔“ امام المفسرین طبری نے فرمایا : ”وَمَا أَرْسَلْنَاکَ یَا مُحَمَّدُ ! إِلاَّ رَحْمَۃً لِمَنْ أَرْسَلْنَاکَ إِلَیْہِ مِنْ خَلْقِيْ“ ”اور ہم نے اے محمد ! تجھے نہیں بھیجا مگر اپنی مخلوق میں سے ان لوگوں پر رحم کے لیے جن کی طرف ہم نے تجھے بھیجا ہے۔“ پھر امام طبری نے ”رَحْمَةً“ کی تفسیر میں اس قول کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ کو بھیجنے کی وجہ مومن و کافر سب پر رحم ہے کہ جو آپ پر ایمان لائے گا اس کے لیے دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں رحمت لکھی جائے گی اور جو آپ پر ایمان نہیں لائے گا وہ دنیا میں ان عذابوں سے محفوظ رہے گا جو پہلی امتوں پر نبی کو جھٹلانے کی وجہ سے نازل ہوتے تھے، مثلاً زمین میں دھنس جانا، شکلیں بدل جانا وغیرہ۔ ایک ترکیب نحوی یہ ہے کہ ”رَحْمَةً“ حال بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے۔ جس طرح کہتے ہیں ”زَیدٌ عَدْلٌ“ کہ زید عدل ہے، یعنی اتنا عادل ہے گویا سراپا عدل ہے۔ پھر یہ ”اَرْسَلْنٰكَ“ میں ضمیر فاعل ”ہم“ سے بھی حال ہوسکتا ہے اور ”اَرْسَلْنٰكَ“ میں ضمیر ”کاف“ سے بھی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس حال میں کہ ہم جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہیں۔ دوسری صورت میں معنی ہوگا کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر اس حال میں کہ تو جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے۔ پہلا معنی مفعول لہ والے معنی کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ ﷺ کو جہانوں پر رحم کی وجہ سے مبعوث کرنا اور اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں بھیجنا کہ اس کی ذات پاک تمام جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے، دونوں کا مفہوم ایک ہے جو سورة فاتحہ میں ”رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ“ اور ”الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ کے اکٹھے بیان سے واضح ہے۔ دوسرا معنی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں بھیجا کہ آپ جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہیں، بھی درست ہے کہ آپ مومنوں کے لیے تو دنیا و آخرت دونوں میں سراسر رحمت ہیں، فرمایا : (بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) [ التوبۃ : 128 ] ”مومنوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔“ اور فرمایا : (وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ) [ التوبۃ : 61 ] ”اور ان کے لیے ایک رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں۔“ اور کفار کے لیے بھی دنیا میں سراسر رحمت ہیں کہ آپ کی وجہ سے وہ دنیا میں پہلی قوموں جیسے عذابوں سے محفوظ ہوگئے اور آپ کی شریعت میں صلح و جنگ دونوں حالتوں میں ان پر وہ ظلم و جور روا نہیں رکھا جاتا جو دوسری تمام اقوام اپنے مخالفین پر روا رکھتی ہیں اور آپ کو کفار کے ایمان نہ لانے اور ان کے جہنم کا ایندھن بننے کا اتنا غم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : (لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ) [ الشعراء : 3 ] ”شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔“ آپ ﷺ جانوروں پر رحم فرماتے اور اس کا حکم دیتے اور ان پر ظلم سے منع فرماتے تھے، فرمایا : (فِيْ کُلِّ ذَاتِ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ) [ بخاري، المظالم، باب الآبار علی الطرق إذا لم یُتأذّبہا : 2466 ] ”ہر تر جگر (زندگی) والی چیز (پر رحم) میں اجر ہے۔“ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر ایک بدکار عورت کو مغفرت کی نوید سنائی۔ شریعت اسلامیہ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ رحمت بھی رب العالمین ہی کی رحمت ہے کہ اس نے اپنے محبوب رسول میں یہ وصف رکھا۔ چناچہ ابن جزی ”التسہیل“ میں اعراب کی یہ تینوں وجہیں لکھ کر فرماتے ہیں : ”وَالْمَعْنٰی عَلٰی کُلِّ وَجْہٍ أَنَّ اللّٰہَ رَحِمَ الْعَالَمِیْنَ بِإِرْسَالِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ“ ”ان تمام صورتوں میں معنی ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد ﷺ کو بھیجنے کے ساتھ جہانوں پر رحم فرمایا۔“
Ayah 21:108

قُلْ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 21:108 in the Quran reader

کہہ دے میری طرف صرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، تو کیا تم فرماں برداری کرنے والے ہو ؟

قُلْ اِنَّمَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ اَنَّـمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ۔۔ : اس آیت میں ”اِنَّمَا“ کلمۂ حصر دو دفعہ آیا ہے۔ فرمایا، آپ کہہ دیں کہ میری طرف صرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تو اس کے علاوہ بھی بہت سی وحی آتی تھی، مثلاً رسالت، قیامت، نماز، روزہ اور دوسرے احکام، تو یہ کیوں فرمایا کہ میری طرف صرف ایک وحی آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہے ؟ جواب یہ ہے کہ پوری شریعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا کام صرف ایک معبود کی عبادت یعنی ایک مالک کی غلامی ہے۔ وہ جو حکم دے اسے کرنا ہے، جس سے منع کرے اس سے باز رہنا ہے۔ اپنی ہر ضرورت اسی سے مانگنی ہے، کیونکہ اسے وہی پورا کرسکتا ہے، یہ تمام انبیاء کی دعوت ہے، فرمایا : (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) [ الأنبیاء : 25 ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ یہی ملت ابراہیم ہے، فرمایا : (اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ البقرۃ : 131 ] ”جب اس سے اس کے رب نے کہا، فرماں بردار ہوجا، اس نے کہا، میں جہانوں کے رب کے لیے فرماں بردار ہوگیا۔“ شریعت کے تمام احکام اس مالک کی بندگی بجا لانے کی مختلف صورتیں ہیں اور سب ”اَنَّـمَآ اِلٰــهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ“ کی تفصیل ہیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂ داستان حسن جب پھیلی تو لامحدود تھی اور جب سمٹی تو تیرا نام بن کر رہ گئی اس لیے یہاں جب اس حقیقت کے اعلان کا حکم دیا کہ میری طرف صرف یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے اور تمہارا کام اسی کی عبادت یعنی اس سے انتہا درجے کی محبت اور اس کے لیے انتہا درجے کی عاجزی کے ساتھ پوری طرح اس کا بندہ اور غلام بن جانا اور اسلام یعنی اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے سپرد کردینا اور اپنی مرضی چھوڑ کر صرف اس کی مرضی پر چلنا ہے۔ تو آخر میں انھیں ایک اللہ کی عبادت اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے حوالے کرنے کا حکم دینے کے لیے استفہام کا طریقہ اختیار فرمایا کہ جب مجھے یہی وحی ہوتی ہے تو کیا اس کے مطابق تم اس کے لیے مسلم یعنی اس کے سپرد ہونے والے اور مکمل فرماں بردار بننے والے ہو ؟ مقصد یہ ہے کہ ضرور بننا چاہیے، چناچہ ہمارے نبی کو حکم ہوا : (قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ الأنعام : 162، 163 ] ”کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔“
Ayah 21:109

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ وَ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:109 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمہیں اس طرح خبردار کردیا ہے کہ (ہم تم) برابر ہیں اور میں نہیں جانتا آیا قریب ہے یا دور، جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ اٰذَنْتُكُمْ۔۔ : ”إِنْ“ کا لفظ شک کے لیے آتا ہے، یعنی اول تو اتنے یقینی دلائل کے بعد ممکن نہیں کہ وہ مسلم نہ بنیں، لیکن اتنے واضح اور قطعی دلائل کے بعد بھی اگر وہ منہ موڑیں اور مسلم نہ بنیں تو ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے اسلام اور توحید سے منہ موڑنے کے بعد میں تمہیں صاف آگاہ کر رہا ہوں کہ تم نے توحید سے منہ موڑا تو میں نے بھی تمہارے شرک سے منہ موڑا، تاکہ یہ بات جاننے میں ہم تم دونوں برابر ہوجائیں۔ سورة کافرون میں بھی یہ اعلان صاف الفاظ میں سنا دیا گیا ہے۔ rnۭ وَاِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ۔۔ : یعنی توحید سے منہ موڑنے کی وجہ سے عذاب کا تم پر آنا لازم ہے، مگر مجھے معلوم نہیں کہ تم سے جس دنیوی یا اخروی عذاب کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور ؟ کیونکہ اس کا ٹھیک وقت اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ سورة جن میں فرمایا : (قُلْ اِنْ اَدْرِيْٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَهٗ رَبِّيْٓ اَمَدًا) [ الجن : 25 ] ”کہہ دے میں نہیں جانتا آیا وہ چیز قریب ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا میرا رب اس کے لیے کچھ مدت رکھے گا۔“
Ayah 21:110

اِنَّهٗ یَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 21:110 in the Quran reader

بیشک وہ بلند آواز سے کی ہوئی بات کو جانتا ہے اور وہ بھی جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔

اِنَّهٗ يَعْلَمُ الْجَـــهْرَ مِنَ الْقَوْلِ۔۔ : سب کے سامنے کھلم کھلا عمل بھی ہوتا ہے اور قول بھی، اس لیے فرمایا کہ کوئی بھی کھلم کھلی اور بلند آواز میں ہونے والی بات ہو، اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے اور جو بات تم دل میں چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔ یہ تنبیہ اور خبردار کرنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے کہ کسی کو غلط کام سے روکنا ہو تو اسے روکنے کے بجائے کہا جائے کہ میں تمہاری سب حرکتیں دیکھ رہا ہوں، مطلب یہ کہ تم سے نمٹ لوں گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہاری بلند آواز کی باتیں بھی جانتا ہوں اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہوں۔ مطلب یہ کہ تمہارا کفر بھی مجھے معلوم ہے اور تمہارا نفاق بھی، اس لیے کفر بھی چھوڑ دو اور نفاق بھی، ورنہ میری گرفت کے لیے تیار رہو۔ 3 یہاں ایک سوال ہے کہ چھپی ہوئی بات جاننا تو واقعی کمال ہے اور یہ اللہ ہی کی شان ہے، مگر جہر اور بلند آواز سے کی ہوئی بات تو ہر شخص سن سکتا ہے اور جان سکتا ہے، اس صفت کو خاص طور پر کیوں ذکر فرمایا گیا ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بلند آواز سے ایک آدمی بات کرے تو واقعی وہ سمجھ میں آجاتی ہے مگر جب ایک ہی وقت میں دو چار یا دس پندرہ آدمی اپنی پوری بلند آواز کے ساتھ بات کرنا شروع کردیں تو آدمی کو کسی کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی، یہ اللہ مالک الملک، سمیع وبصیر کی شان ہے کہ دس پندرہ نہیں کروڑوں، اربوں انسان، جن، فرشتے اور حیوانات اپنی پوری آواز کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، تو وہ ان سب کی پکار سنتا ہے، جو کچھ وہ کہہ رہے ہوتے ہیں اسے جانتا ہے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ مخلوق میں یہ وصف کہاں ؟ (بقاعی)
Ayah 21:111

وَ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 21:111 in the Quran reader

اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔

وَاِنْ اَدْرِيْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ۔۔ : یعنی مجھے معلوم نہیں کہ شاید عذاب میں یہ تاخیر تمہارے لیے آزمائش ہو کہ تم اس سے فائدہ اٹھا کر حق کی طرف پلٹتے ہو، یا اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے ہو، جس کے بعد یہ مہلت دنیا میں کچھ دیر تک فائدہ اٹھانے کے لیے دی گئی ہو۔
Ayah 21:112

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ۠ Open ayah 21:112 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب ہی وہ بےحد مہربان ہے جس سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ۔۔ : پہلے انبیاء کی امتوں نے جب حق کو جھٹلایا تو انھوں نے حق تعالیٰ سے اس دعا سے ملتی جلتی دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے، چناچہ شعیب ؑ نے دعا کی : (رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفٰتِحِيْنَ) [ الأعراف : 89 ] ”اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔“ اور ان سب پیغمبروں کے متعلق فرمایا جنھیں ان کی قوم نے کفر اختیار نہ کرنے کی صورت میں اپنی بستی سے نکالنے کی دھمکی دی تھی : (وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ) [ إبراہیم : 15 ] ”اور انھوں نے (حق تعالیٰ سے) فیصلہ مانگا اور ہر سرکش، سخت عناد رکھنے والا نامراد ہوا۔“ ”قٰلَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ“ کے ”قٰلَ“ میں دو قراءتیں ہیں، ایک امر کے صیغے کے ساتھ ”قُلْ“ ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ یہ کہیں جو اس آیت میں مذکور ہے۔ دوسری قراءت ، جو ہمارے ہاں رائج ہے، اس کے مطابق یہ ماضی کا صیغہ ”قَالَ“ ہے، جس کا معنی ہے، اس نے کہا۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمارے اس رسول نے بھی کفار کے جھٹلانے اور جلاوطن کرنے کی کوششوں کی وجہ سے ہم سے یہ کہا جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی داعی جب ایسے حالات سے دو چار ہو تو اسے یہ دعا کرنی چاہیے۔ 3 قرآن مجید کے رسم الخط میں اس آیت کا پہلا لفظ الف کے بغیر ”قٰلَ“ لکھا گیا ہے، جسے ”قُلْ“ اور ”قَالَ“ دونوں طرح پڑھنے کی گنجائش ہے، جس طرح ”مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ“ میں ”مَلِکِ“ اور ”مَالِکِ“ دونوں طرح پڑھنے کی گنجائش ہے اور یہ قرآن مجید کے رسم الخط کا کمال ہے۔