Ayahs 22:1–2يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ :”النَّاسُ“ کے ساتھ مسلم و کافر اور آیت کے نزول کے وقت موجود یا بعد میں قیامت تک آنے والے تمام لوگ مخاطب ہیں۔ بعض لوگ ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ سورت کے آغاز کو اس کے مکی ہونے کی دلیل بناتے ہیں مگر یہ قاعدہ کلی نہیں، کیونکہ مدنی سورتوں میں بھی ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب آیا ہے، مثلاً سورة بقرہ میں ہے : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ) [ البقرۃ : 21 ] مفسرین کے مطابق اس سورت میں مدنی آیات بھی ہیں، مثلاً آیت (39) : (اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ) اور مکی بھی، مگر وہ ملی جلی ہیں، الگ الگ ہر ایک کے مکی یا مدنی ہونے کی تعیین معلوم نہیں۔ (قرطبی)
اتَّقُوْا رَبَّكُمْ : تقویٰ کا معنی بچنا بھی ہے اور ڈرنا بھی، کیونکہ آدمی جس سے ڈرتا ہے اس سے بچتا ہے، یعنی اپنے اس محسن کے عذاب سے بچو جو پیدا کرنے سے لے کر اب تک تمہاری پرورش کر رہا ہے اور تم پر بیشمار احسان کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر اس چیز سے بچو جو تمہیں اس کی سزا کا حق دار بنا سکتی ہے، خواہ وہ اس کے فرائض کا ترک ہو یا اس کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب، ان دونوں سے بچنا ہی اس کا تقویٰ ہے۔
اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ زَلْزَلَةَ ”زَلْزَلَ یُزَلْزِلُ“ سے ”فَعْلَلَۃٌ“ کے وزن پر مصدر ہے، بہت سخت ہلانا۔ ”السَّاعَةِ“ کا لفظی معنی گھڑی اور لمحہ ہے۔ قیامت کو ”السَّاعَةِ“ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ایک لمحے میں برپا ہوجائے گی۔ ”اِنَّ“ ایسے موقع پر اس سے پہلے والی بات کی وجہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اپنے رب سے اس لیے ڈرو کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ اس میں مزید خوف کی بات یہ ہے کہ وہ صرف انسانی پیمانے کے مطابق عظیم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اسے عظیم فرما رہے ہیں، اب اس کی عظمت اور ہولناکی کا کوئی اندازہ ہوسکتا ہے ؟
يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ : ”تَرَوْنَهَا“ میں ”ہَا“ کی ضمیر ”زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ“ میں ”زَلْزَلَةَ“ کی طرف بھی جاسکتی ہے، معنی یہ ہوگا کہ جس دن تم اس زلزلے کو دیکھو گے اور ”السَّاعَةِ“ کی طرف بھی، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ جس دن تم اس قیامت کو دیکھو گے۔ ”ذُھُوْلٌ“ کا معنی ہے ایسی غفلت جس کے ساتھ دہشت یا خوف بھی ہو۔ ”مُرْضِعَةٍ“ عورت جس وقت بچے کو دودھ پلا رہی ہو اس وقت اسے ”مُرْضِعَۃٌ“ کہتے ہیں۔ وہ صفات جو صرف عورتوں میں پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ ”تاء“ نہیں لگائی جاتی، مثلاً ”حَاءِضٌ، حَامِلٌ، مُرْضِعٌ“ ان کے ساتھ ”تاء“ اس وقت لگائی جاتی ہے جب وہ اس کام میں مصروف ہوں، مثلاً کوئی بھی عورت جو کسی بھی وقت دودھ پلاتی ہے ”مُرْضِعٌ“ کہلائے گی، ”مُرْضِعَۃٌ“ اس وقت ہوگی جس وقت وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہو۔ مطلب اس وقت کی ہولناکی بیان کرنا ہے کہ دودھ پلانے والی عورت، جسے اپنے بچے سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی، اس زلزلہ کی وجہ سے عین دودھ پلاتے ہوئے ایسی دہشت زدہ ہوگی کہ اسے اپنے بچے تک کی ہوش نہیں ہوگی۔
وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا : حاملہ عورت کو ”حَامِلٌ“ کہتے ہیں، مگر یہ لفظ بوجھ اٹھانے والے کسی بھی شخص پر بولا جاسکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ”حَامِلٌ“ کی جگہ ”ذَاتِ حَمْلٍ“ (حمل والی) کا لفظ استعمال فرمایا۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ) [ الطلاق : 4 ] ”حمل والی (عورتوں کو طلاق ہوجائے) تو ان کی عدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کرلیں۔“ مراد قیامت یا قیامت کے زلزلے کی شدت کا بیان ہے کہ ہر حمل والی اپنا حمل (جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ”فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ“ بہت محفوظ ٹھکانے میں ہے) اس دن کی شدت کی وجہ سے گرا دے گی۔
وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي۔۔ : ”سُكٰرٰي“ ”سَکْرَانٌ“ یا ”سَکِرٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”کَسْلَانٌ“ کی جمع ”کُسَالٰی“ ہے، یعنی تم لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ نشے میں ہیں، انھیں کچھ ہوش نہیں، حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے جس کی وجہ سے انھیں کوئی ہوش نہیں رہے گا۔ مفسر قاسمی ؓ نے ”سُكٰرٰي“ کو مجاز کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے، وہ فرماتے ہیں، مجاز وہ ہوتا ہے جو کسی چیز پر بولا بھی جاسکے اور اس کی نفی بھی ہو سکے، مثلاً حمزہ، سعد اور علی شیر تھے، یہ بھی درست ہے اور یہ بھی درست ہے کہ وہ شیر نہیں تھے۔ اسی طرح کسی کو بےسمجھی کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ فلاں گدھا ہے، جب کہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ گدھا نہیں ہے۔
زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ : مفسرین میں اختلاف ہے کہ قیامت کے اس زلزلے سے کیا مراد ہے ؟ اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید کی سب سے معتبر تفسیر وہ ہے جو خود قرآن میں آئی ہو، اس کے بعد وہ جو صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے آئی ہو۔ آپ ﷺ سے اس زلزلے کا موقع جو صحیح حدیث میں بیان ہوا ہے، وہ ہے جو ابوسعید خدری ؓ نے آپ ﷺ سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، اے آدم ! وہ عرض کریں گے، لبیک وسعدیک ! بار بار حاضر ہوں، بار بار حاضر ہوں اور بھلائی ساری تیرے ہاتھ میں ہے۔ اللہ فرمائیں گے، آگ والی جماعت نکال کر الگ کر دو۔ وہ کہیں گے، اور آگ والی جماعت کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ تو اس وقت بچہ بوڑھا ہوجائے گا : (وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْدٌ) ”اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو نشے والے دیکھے گا، حالانکہ وہ نشے والے نہیں ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔“ تو یہ بات صحابہ پر بہت سخت گزری، انھوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! وہ آدمی ہم میں سے کون ہوگا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”خوش ہوجاؤ کہ یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہوں گے اور تم میں سے ایک ہوگا۔“ پھر فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تو امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے۔“ راوی نے کہا، یہ سن کر ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً میں امید رکھتا ہوں کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے۔ دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال سیاہ بیل کی جلد میں ایک سفید بال کی سی ہے یا جس طرح گدھے کے بازو کے اندرونی جانب ایک گول نشان ہوتا ہے۔“ [ بخاري، الرقاق، باب (ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم)۔۔ : 6530۔
مسلم، الإیمان، باب قولہ : یقول اللہ لآدم أخرج بعث النار۔۔ : 222 ]
یہ صحیح حدیث دلیل ہے کہ اس آیت میں مذکور زلزلے سے مراد وہ وقت ہے جب آدم ؑ کو ایک ہزار میں سے نو سو نناوے آدمی جہنم کے لیے نکال کر الگ کرنے کا حکم ہوگا۔ اس وقت لوگوں پر ایسا زلزلہ طاری ہوگا، وہ ایسے شدید ہلائے جائیں گے اور اس قدر خوف زدہ ہوں گے کہ جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔ بعض لوگ اس حدیث کو آیت کا مصداق قرار دینے پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس وقت نہ کوئی حاملہ ہوگی اور نہ دودھ پلانے والی، تو حاملہ حمل کیسے گرائے گی اور دودھ پلانے والی اپنے بچے سے کیسے غافل ہوگی ؟ اس لیے اس آیت سے وہ وقت مراد نہیں، بلکہ ایک صاحب نے تسلیم کرکے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے ماننے سے انکار کردیا ہے۔ کوئی ایسے حضرات کو سمجھائے کہ کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اس بات کا علم نہیں تھا، پھر انھوں نے یہ کیوں فرمایا ؟ دراصل ایسے حضرات نے کلام کے اسلوب کو سمجھا ہی نہیں، یہ تو اس وقت کی ہولناکی اور شدت سے استعارہ ہے کہ اگر اس وقت حاملہ عورتیں ہوں تو سب کا حمل گرجائے گا اور اگر دودھ پلانے والیاں ہوں تو وہ اپنے بچے سے غافل ہوجائیں گی۔ اس سوال کا اس سے بھی مضبوط جواب یہ ہے کہ جابر ؓ نے فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا : (یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَا مَاتَ عَلَیْہِ) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب الأمر بحسن الظن باللہ۔۔ : 2878 ] ”ہر بندہ اس حالت پر اٹھے گا جس پر فوت ہوا تھا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ دودھ پلانے والیاں اور حمل والیاں صرف پہلے نفخہ کے وقت ہی اس حال میں نہیں ہوں گی بلکہ قیامت والے دن اٹھتے وقت بھی ان کی یہی حالت ہوگی۔ اس سے منکرین حدیث کا سوال سرے سے ختم ہوجاتا ہے۔ ابن جریر، بقاعی اور بہت سے مفسرین نے فرمایا کہ صحیح حدیث کے بعد کوئی اور تفسیر معتبر نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا مصداق قیامت کا پہلا نفخہ لیا ہے اور صور میں تین نفخے بتائے ہیں، ایک نفخۂ فزع، ایک نفخۂ صعق اور ایک نفخۂ بعث۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ زلزلہ مراد ہے جو پہلے نفخہ یعنی نفخۂ فزع سے پیدا ہوگا، کیونکہ قیامت کو تو نہ کوئی حاملہ ہوگی اور نہ دودھ پلانے والی۔ اس نفخے سے ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی، اس وقت جو بھی دودھ پلانے والی عورت ہوگی وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے سے غافل ہوجائے گی۔ علقمہ اور شعبی کا بھی یہی قول ہے۔ طبری نے ابوہریرہ ؓ سے اس قول پر مشتمل مرفوع حدیث یہ کہہ کر نقل کی ہے کہ اس کی اسناد میں نظر ہے (کیونکہ اس میں دو راوی مجہول ہیں)۔ طبری فرماتے ہیں : ”یہ قول ہی اصل قول ہوتا اگر صحیح احادیث اس کے خلاف نہ آتیں، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کی وحی اور قرآن کے معانی کا سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔“ علاوہ ازیں تحقیق یہی ہے کہ نفخے دو ہی ہیں، تین نفخوں والی یہ روایت ثابت نہیں۔ امام بقاعی اور صاحب احسن التفسیر نے ایک بہت اچھی بات فرمائی ہے : ”عین ممکن ہے کہ ”وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْدٌ“ سے یہ زلزلہ بھی مراد ہو جو آدم ؑ کو اہل نار کے الگ نکالنے کے حکم کے وقت پیدا ہوگا اور اس سے پہلے کے زلزلے بھی (یعنی صور میں پہلی پھونک کا زلزلہ اور دوبارہ پھونک کا زلزلہ، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر محشر کی طرف دوڑیں گے) کیونکہ قیامت کا دن بہت لمبا (پچاس ہزار سال کا) ہے تو ہر زلزلے کی نسبت قیامت کی طرف درست ہے۔“ اب اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طویل دن میں کتنے زلزلے برپا ہوں گے جو سب کے سب ”وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا هُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَاب اللّٰهِ شَدِيْدٌ“ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اپنی پناہ میں رکھے۔
Ayah 22:3وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ۔۔ : واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے جو آیات کے مطابق یہ ہے کہ لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور قیامت پر اور دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے پر یقین رکھتا ہے۔
3 اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو قیامت کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ جانے بغیر خواہ مخواہ جھگڑتا ہے اور کہتا ہے کہ جو لوگ ہڈیاں اور مٹی ہوچکے اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کیسے کرے گا ؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے مقابلے میں اپنے قیاس اور عقل کے ڈھکوسلے پیش کرتا ہے اور اپنے اس جھگڑے میں پوری کوشش سے ہر سرکش شیطان یعنی ابلیس اور اس کی اولاد کے اور انسانوں میں سے کفر کے سرداروں کے پیچھے چلتا ہے، جو لوگوں کو حق سے روکتے ہیں۔ ”تَبِعَ یَتْبَعُ“ (ع) کا معنی پیروی کرنا ہے۔ ”يَتَّبِـعُ“ باب افتعال میں مبالغہ ہے، یعنی پوری کوشش کرکے ہر شیطان کے پیچھے چلتا ہے۔ (بقاعی)
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ علم کے ساتھ جھگڑا درست بلکہ لازم ہے، جیسا کہ فرمایا : (اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ) [ النحل : 125 ] ”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلا اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔“
Ayah 22:4كُتِبَ عَلَيْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ۔۔ : ”تَوَلّٰی یَتَوَلّٰی“ دوست بنانا۔ ”اَنَّهُ“ میں ضمیر ”ہِ“ شیطان کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پہلے ”عَلَیْهِ“ میں ضمیر شان کی ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ واقعہ یہ ہے۔ اس سے مراد بات میں پختگی پیدا کرنا ہوتا ہے، یعنی شیطان کے متعلق لکھا جا چکا ہے کہ جو اس سے دوستی کرے گا شیطان اسے گمراہ کرے گا۔ مطلب یہ کہ قضائے الٰہی میں اس کے متعلق یہ طے کیا جا چکا ہے۔ ”لکھنے“ کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ بات لکھے جانے کے بعد پکی ہوجاتی ہے، یا یہ کہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔
Ayah 22:5يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ۔۔ : یعنی اگر تمہیں آخرت کو دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو اسے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی پیدائش کی ابتدا پر غور کرو، اس سے تم جان لو گے کہ جس نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور جو زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد نباتات پیدا کرتا ہے وہ تمہیں تمہاری قبروں سے نکالنے پر بھی قادر ہے۔
مِّنْ تُرَابٍ : اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ حقیر مٹی کیا گیا ہے۔ آدم ؑ کی پیدائش کی طرف اشارہ ہے اور سب لوگوں کے مٹی سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سب آدم ؑ کی اولاد ہیں، جو اس بےجان اور قدموں میں پامال ہونے والی مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ ۚثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ) [ السجدۃ : 7، 8 ] ”وہ (ذات پاک) جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش حقیر مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصہ سے بنائی۔“ زیر تفسیر آیت میں انسانی زندگی پر گزرنے والے سات مراحل ذکر ہوئے ہیں۔
ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ : پھر پانی کے ایک قطرے سے۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ منی کے ایک قطرے میں کروڑوں جرثومے ہوتے ہیں، جن میں سے صرف ایک جرثومہ عورت کے بیضہ سے مل کر حمل کا حصہ بنتا ہے۔ یہ معاملہ مٹی سے بھی عجیب ہے کہ ایک سیال لیس دار خوردبینی ذرے سے ایک حسین و جمیل انسان پیدا ہوجاتا ہے، اسے پیدا کرنے والے کے لیے اسے دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ شیخ سعدی نے کہا ہے
دھد نطفہ را صورتے چوں پری کہ کرداست برآب صورت گری
”یعنی اللہ تعالیٰ ایک قطرے کو پری جیسی صورت عطا فرما دیتا ہے، بھلا اس کے سوا کون ہے جو پانی پر صورت گری کرسکتا ہے۔“
ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ : ”عَلَقَةٍ“ کا معنی جما ہوا خون بھی ہے اور جونک بھی، یعنی پھر وہ سیال مادہ جمے ہوئے خون کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس کی شکل جو نک سے ملتی جلتی ہے۔
ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ۔۔ :”مَضَغَ یَمْضَغُ“ (ف) چبانا۔ ”مُّضْغَةٍ“ گوشت کا ٹکڑا جو چبایا جاتا ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”جب نطفہ عورت کے رحم میں قرار پکڑتا ہے تو چالیس دن اسی حالت میں اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، پھر وہ اللہ کے حکم سے سرخ رنگ کا جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر وہ چالیس دن تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ پھر وہ بدل کر ”مُضْغَةٍ“ یعنی گوشت کا ایک ٹکڑا بن جاتا ہے، جس میں نہ کوئی نقش ہوتا ہے نہ شکل و صورت، پھر اس میں نقش اور شکل و صورت بننا شروع ہوتی ہے، چناچہ اس کے سر، ہاتھوں، سینے، پیٹ، ٹانگوں، پاؤں اور باقی اعضاء کی شکل بنتی ہے، پھر کبھی شکل و صورت بننے سے پہلے عورت اسے گرا دیتی ہے اور کبھی شکل و صورت بننے کے بعد، جیسا کہ بچوں کے اسقاط کی صورت میں مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے فرمایا : (ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ) کہ جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی۔“ سورة مومنون (12 تا 14) میں بھی یہ تفصیل مذکور ہے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ خَلْقَ أَحَدِکُمْ یُجْمَعُ فِيْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا وَأَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَہٗ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَہٗ ذٰلِکَ ثُمَّ یُبْعَثُ إِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیُؤْذَنُ بِأَرْبَعَ کَلِمَاتٍ رِزْقَہٗ وَ أَجَلَہُ وَعَمَلَہٗ وَ شَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ) [ بخاري، التوحید، باب (ولقد سبقت کلمتا۔۔) : 7454۔ مسلم : 2643 ] ”تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ کی صورت میں) چالیس دن اور چالیس راتیں جمع ہوتی رہتی ہے۔ پھر وہ اتنی دیر تک جما ہوا خون رہتا ہے، پھر اتنی دیر ہی مضغہ رہتا ہے، پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے، تو اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کا رزق اور اس کی مدت اور اس کا عمل اور یہ بات کہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔“
لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ : تاکہ ہم تمہارے لیے واضح کریں کہ ہم جب پانی کے ایک قطرے کو پوری شکل و صورت والا گوشت کا ٹکڑا بنا دیتے ہیں تو ہمارے لیے تمہیں دوبارہ بنانا اور قبروں سے نکال کر زندہ کرکے حساب کتاب لینا کیا مشکل ہے۔rnۭ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ۔۔ : یعنی جسے ہم چاہتے ہیں ساقط ہونے سے محفوظ کرکے رحم میں قائم رکھتے ہیں۔ ”اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى“ یعنی کم از کم چھ ماہ اور زیادہ جتنا ہم چاہتے ہیں۔ یہ ہماری مرضی پر موقوف ہے کہ ہم نے اسے کتنی دیر رحم میں رکھنا ہے۔ ”ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا“ پھر ہم اسے بچے کی صورت میں شکم مادر سے نکالتے ہیں۔
ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ۔۔ : ”ثُمَّ“ کے بعد کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے، یعنی پھر ہم تمہیں بچہ ہونے کی حالت میں ماں کے پیٹ سے نکالتے ہیں جو اپنے بدن، کانوں، آنکھوں، قوت اور عقل میں کمزور ہوتا ہے۔ ”ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ“ پھر اللہ تعالیٰ اسے آہستہ آہستہ قوت بخشتا ہے، اس کے والدین دن رات اس پر شفقت اور اس کی خدمت کرتے ہیں، وہ بڑھتا جاتا ہے، تاکہ بچپن، لڑکپن سے گزرتا ہوا اپنی پوری قوت کو پہنچ کر جوانی کا حسن و کمال حاصل کرلے۔
وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى۔۔ : یعنی تم میں سے کچھ وہ ہیں جو جوانی کو پہنچ کر یا اس سے پہلے فوت کرلیے جاتے ہیں۔ ”وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا“ یہ ساتواں مرحلہ ہے، یعنی کچھ وہ ہیں جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں، یعنی انتہائی بڑھاپا جس میں عقل و فکر اور بدن کی تمام قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ جو شخص کسی وقت بہت بڑا عالم تھا اسے کچھ یاد نہیں رہتا، نہ حافظہ باقی رہتا ہے اور نہ عقل کام کرتی ہے۔ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور عقل و فکر سے عاری ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ) [ یٰسٓ : 68 ] ”اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کردیتے ہیں۔“ اور فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً) [ الروم : 54 ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنادیا۔“ نبی کریم ﷺ ارذل العمر سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، جیسا کہ عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص ؓ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جس طرح معلم لڑکوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ پناہ مانگا کرتے تھے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ) [ بخاري، الجھاد والسیر، باب ما یتعوذ من الجبن : 2822 ] ”اے اللہ ! میں بزدلی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاؤں اور میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ مصعب بن سعد کی روایت میں ”اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ“ کے بعد ”وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ“ بھی ہے کہ میں بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [ بخاري، الدعوات، باب الاستعاذۃ من أرذل العمر۔۔ : 6374 ] rnۭ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً۔۔ : ”اهْتَزَّتْ“ ”ھَزَّ یَھُزُّ ھَزًّا“ حرکت دینا، ہلانا۔ ”اِھْتَزَّ یَھْتَزُّ اِھْتِزَازًا“ (افتعال) حرکت کرنا، کھیتی کا لہلہانا۔ ”َرَبَتْ“ ”رَبَا یَرْبُوْ“ (ن) بڑھنا، پھولنا۔ یہ موت کے بعد زندگی کی دوسری دلیل ہے۔ مختلف قسم کی نباتات اور اجناس کے بیج زمین میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں، جنھیں ہواؤں نے یا پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا۔ اسی طرح بیشمار چیزوں کی جڑیں بھی جگہ جگہ مٹی میں دفن ہوتی ہیں، جن میں زندگی کا نشان تک نہیں ہوتا، مگر جوں ہی ان پر بارش کے چھینٹے پڑے تو ہر طرف زندگی لہلہانے لگی۔ ہر مردہ جڑ اپنی قبر سے جی اٹھی اور ہر بےکار پڑا ہوا بےجان بیج ایک زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ مردوں کے زندہ ہونے کا ایسا عمل ہے جسے ہر انسان موسم بہار میں اور موسم برسات میں خود مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔ یہی صورت انسان کے جسم کی ہے، اس کے اٹھنے کا بھی ایک موسم ہے، جو صور کا دوسرا نفخہ ہے، جب یہ موسم آجائے گا تو ہر انسان اپنے دفن ہونے کی جگہ سے زندہ اٹھا کر کھڑا کردیا جائے گا۔ (تیسیر القرآن)
Ayahs 22:6–7ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ۔۔ : اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، ایک یہ کہ ”باء“ سببیہ ہے جو ”کَاءِنٌ“ وغیرہ سے متعلق ہے، جو افعال عامہ سے مشتق ہیں۔ یعنی بنی آدم کو پیدا کرنے اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہمیشہ ثابت اور موجود ہے، سو وہی ان دونوں کا اور ہر چیز کا موجد ہے۔ ”وَاَنَّهٗ يُـحْيِ الْمَوْتٰى“ اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہی مردوں کو زندہ کرے گا، اگر وہ مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت نہ رکھتا تو بےجان مٹی اور نطفے کو اور مردہ زمین کو زندگی کیسے بخشتا ؟ ”وَاَنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر“ اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے، سو وہ نطفے اور مردہ زمین کو زندگی بخشنے پر بھی قادر ہے۔ ”ۙوَّاَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ۔۔“ اور اس کا سبب یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ قبروں میں دفن لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، تاکہ ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ ملے، ورنہ نطفے سے لے کر جوانی اور پھر بڑھاپے تک پہنچانے کا کوئی مقصد نہ ہوتا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام عبث اور بےمقصد نہیں۔ قدیم مفسرین یہ معنی بیان کرتے ہیں۔
3 دوسرا مطلب یہ ہے کہ ”باء“ کو ایسے لفظ کے متعلق کیا جائے جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتا ہو، مثلاً ”شَاہِدٌ“ وغیرہ، ”أَيْ ذٰلِکَ شَاھِدٌ بِأَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ“ مطلب یہ ہوگا کہ یہ جو کچھ گزرا، یعنی انسان کا مٹی سے، پھر نطفے سے (آخر تک) پیدا ہونا اور مردہ زمین کا پانی سے زندہ ہوجانا اس بات کا شاہد اور اس کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا۔۔ متاخرین اس معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔
Ayahs 22:8–9وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ۔۔ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہی الفاظ اس سے پہلے آیت (3) میں گزرے ہیں، پھر انھیں دوبارہ لانے میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہاں قیامت کے قیام پر اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے متعلق ان کج بحث جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو علم سے سراسر عاری اور محض مقلد ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جبکہ یہاں ان جھگڑالوؤں کا ذکر ہے جو گمراہی کے پیشوا ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی آیت : ”وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ“ میں واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے (آیت : 3 کی تفسیر ایک بار پھر دیکھ لیں) اسی طرح موقع کی مناسبت سے یہاں بھی ”وَمِنَ النَّاسِ“ کی واؤ سے پہلے کچھ لوگوں کا ذکر محذوف ہے، یعنی جو لوگ انسان کی پیدائش اور مردہ زمین کو زندہ کرنے کے دلائل سے پہلے قیامت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان نہیں لا رہے تھے ان قطعی دلائل کے بعد ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہٹ دھرم اور عقل و شعور سے عاری ہیں جو کسی بھی دلیل کے بغیر محض تکبر کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتے، بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى۔۔ : علم سے مراد بدیہی اور فطری دلیل ہے جو کسی غور و فکر کے بغیر ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے۔ ”هُدًى“ سے مراد غور و فکر اور نظر و استدلال سے حاصل ہونے والی عقلی دلیل ہے اور ”كِتٰبٍ مُّنِيْرٍ“ سے مراد آسمان سے نازل ہونے والی کتابوں میں صحیح ثابت ہونے والی کوئی دلیل نقلی ہے۔ یعنی اس کے پاس قیامت کے انکار یا اللہ تعالیٰ کے وجود یا اس کی قدرت کے انکار کی کوئی فطری دلیل ہے نہ عقلی اور نہ نقلی۔ اس کے جھگڑے کا باعث صرف تکبر ہے۔
ثَانِيَ عِطْفِهٖ : ”ثَنٰی یَثْنِیْ ثَنْیًا“ بروزن ”لَوَی یَلْوِیْ لَیًّا“ (ض) موڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ ”ثَنٰی عِنَانَ فَرَسِہِ“ اس نے اپنے گھوڑے کی باگ موڑی۔ جھکانے کے معنی میں بھی آتا ہے : (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ) [ ھود : 5 ] ”سن لو ! بلاشبہ وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں۔“ ”عِطْفٌ“ کا معنی کندھا بھی ہے اور پہلو بھی۔ یہ اس کے تکبر کی تصویر ہے کہ وہ کس طرح پہلو موڑتے ہوئے اور گردن کشی کرتے ہوئے حق سے اعراض کرتا ہے۔
لَهٗ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ : مراد مسلمانوں کے ہاتھوں قتل، شکست، اسیری یا محکومی ہے، جیسا کہ بدر، احد، خندق، فتح خیبر، فتح مکہ اور فتح طائف اور دوسری بیشمار جنگوں میں ہوا۔ مزید ذلت و رسوائی یہ کہ مال و اولاد کی فراوانی کے باوجود ”مَعِيْشَةً ضَنْكًا“ (طٰہٰ : 124) اور اموال و اولاد کے ذریعے سے مسلسل عذاب ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (55) جو دنیا میں کفار کا اور حق تعالیٰ کی یاد سے منہ موڑنے والے ہر شخص کا مقدر ہے۔
Ayah 22:10وَاَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (182) اور انفال (51) بعض اہل علم نے اس کی ایک اور توجیہ لکھی ہے کہ ”فَعَّالٌ“ کا وزن ہمیشہ مبالغہ کے لیے نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات صرف نسبت کے لیے یعنی ”ذُوْ شَيْءٍ“ (کسی چیز والا) کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے ”سَمَّانٌ“ (گھی والا) ، ”قَطَّانٌ“ (روئی والا) ، ”حَدَّادٌ“ (لوہار) ، تَمَّارٌ (کھجوروں والا) ، مطلب یہ ہے کہ یہاں ”ظَلَّامٌ“ مبالغے کے لیے نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات عالی ہے جس کی طرف ظلم کی نسبت بھی نہیں ہوسکتی۔
Ayah 22:11ۧوَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ۔۔ :”حَرْفٍ“ کا معنی کنارا ہے، یعنی وہ دین کے دائرے کے وسط میں داخل نہیں ہوتا، بلکہ کنارے ہی پر رہتا ہے، یا اس کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوتا، صرف زبان اسلام کا اقرار کرتی ہے، جیسے کوئی شخص کسی لشکر کے کنارے پر رہے، اگر فتح نظر آرہی ہو تو جا ملے، ورنہ فرار اختیار کرے۔ یہ آیت ان اعراب (بادیہ نشین) لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو صحرا سے ہجرت کرکے آتے۔ پھر اگر جان و مال میں برکت ہوتی تو اسلام پر بڑے اطمینان کا اظہار کرتے اور اگر تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوجاتے تو مرتد ہو کر واپس بھاگ جاتے۔ بعض ”مؤلفۃ القلوب“ کی بھی یہی حالت تھی۔ (کبیر) اور دیکھیے سورة بقرہ (17 تا 20)۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : (کَان الرَّجُلُ یَقْدَمُ الْمَدِیْنَۃَ ، فَیُسْلِمُ ، فَإِنْ وَلَدَتِ امْرَأَتُہُ غُلَامًا وَنُتِجَتْ خَیْلَُہُ قَالَ ہٰذَا دِیْنٌ صَالِحٌ وَ إِنْ لَّمْ تَلِدِ امْرَأَتُہُ وَ لَمْ تُنْتَجْ خَیْلُہُ قَالَ ھٰذَا دِیْنُ سُوْءٍ) [ بخاري، التفسیر، باب (و من الناس من یعبد اللہ علی حرف) : 4742 ] ”آدمی مدینے آتا، پھر اگر اس کی بیوی لڑکے کو جنم دیتی اور اس کی گھوڑیاں بچے دیتیں تو کہتا، یہ اچھا دین ہے اور اگر بیوی کے ہاں بچہ نہ ہوتا اور نہ گھوڑیاں بچے دیتیں تو کہتا یہ دین برا ہے۔“
انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ یعنی مرتد ہوگیا اور پھر کفر و شرک کی طرف پلٹ گیا۔
ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں، یعنی دنیا کا فائدہ اور بھلائی دیکھے تو بندگی پر قائم رہے اور اگر آزمائش آجائے اور کوئی تکلیف پہنچے تو بندگی چھوڑ دے۔ ادھر (تکلیف اور مصیبت سے) دنیا گئی ادھر (بندگی چھوڑ کر مرتد ہونے سے) دین گیا۔ کنارے پر کھڑا ہے، یعنی دل ابھی نہ اس طرف ہے اور نہ اس طرف، جیسے کوئی مکان کے کنارے کھڑا ہے، جب چاہے نکل جائے۔ (موضح)
Ayah 22:12يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهٗ وَمَا لَا يَنْفَعُهٗ۔۔ : بعض لوگ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ سے مراد بت لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اولیاء اللہ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ نہیں ہیں۔ حالانکہ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے سوا ہر چیز ہے، خواہ بت ہوں یا قبریں، درخت ہوں یا جانور، مثلاً گائے وغیرہ، خواہ انسان ہوں یا جن یا فرشتے، زندہ ہوں یا مردہ، نیک ہوں یا بد، سب ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ ہیں، کیونکہ جو بھی موجود ہے یا اللہ ہے یا ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔“ اگر ولیوں اور نبیوں کو ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ نہ مانیں تو انھیں اللہ ماننا پڑے گا۔ پھر ”وحدہ لا شریک لہ“ اور ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ“ کا مطلب کیا ہوگا ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا سب کچھ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ (اللہ کے سوا) ہے۔ مزید دیکھیے سورة نحل (20، 73)۔
Ayah 22:13يَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗٓ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ۔۔ : یعنی نفع تو درکنار ان کے پکارنے میں الٹا نقصان ہے، کیونکہ جو شخص انھیں پکارتا ہے وہ ایمان سے تو یقیناً اور فوراً ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اب رہا ظاہری فائدہ، تو وہ محض ایک خیالی امید ہے جو اس نے اپنے دماغ میں پال رکھی ہے۔ حاصل ہو تو ہو، نہ ہو تو نہ ہو۔ ہو بھی تو ان معبودوں کی طرف سے نہیں ہوگی، انھیں پکارنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 22:14اِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : کافروں اور مطلب پرست بےیقین مسلمانوں کے بعد سختی اور نرمی یعنی ہر حال میں اسلام پر قائم رہنے والے مسلمانوں کا ذکر فرمایا، جو یقین و ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں اور ہر عمل خلوص نیت کے ساتھ سنت نبوی کے مطابق بجا لاتے ہیں، کیونکہ عمل صالح کے لیے یہ دونوں چیزیں لازم ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسی جنتوں کا وعدہ فرمایا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ : یعنی اللہ تعالیٰ غیر محدود اختیارات کا مالک ہے، دنیا یا آخرت میں جسے جو چاہے دے دے۔ تھوڑے سے عمل پر وہ جنت عطا کر دے کہ جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے، فرمایا : (عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ) [ آل عمران : 133 ] ”جنت کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔“ جبکہ کفار و مشرکین کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم میں چون و چرا کرسکے، وہ جو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو روک لے کوئی وہ دے نہیں سکتا اور نہ دلوا سکتا ہے۔
Ayah 22:15مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا۔۔ : ”سَبَبٌ“ رسی۔ ”اَلسَّمَاء“ ”سَمَا یَسْمُوْ“ (ن) سے ہے جس کا معنی ہے بلند ہونا۔ آسمان کو اس کی بلندی کی وجہ سے ”سماء“ کہتے ہیں، اس لیے بادل کو بھی ”سماء“ کہہ لیتے ہیں اور چھت کو بھی۔
مَنْ كَانَ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَاکی ایک تفسیر وہ ہے جو طبری نے ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں محمد ﷺ کی مدد نہیں کرے گا، وہ چھت سے ایک رسی باندھے، پھر اس کے ساتھ پھانسی لے کر اپنا گلا گھونٹ لے اور مرجائے اور دیکھے، کیا اس کے ایسا کرنے سے اس کے غصے اور حسد کی آگ بجھتی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے محمد ﷺ کی نصرت پر اس کے سینے میں بھڑک رہی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ جو سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ بیشک پھانسی لے کر مرجائے، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اپنے رسول کی نصرت یقیناً فرمائے گا۔ چونکہ ہر چیز کا اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہے، اس لیے نصرت میں دیر کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد کبھی کرے گا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ تو یقیناً اپنے تمام رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا اور آخرت میں مدد فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ) [ المؤمن : 51 ] ”بیشک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔“ اس تفسیر پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت سے پہلے یا بعد میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر نہیں آیا تو ”اس کی مدد نہیں کرے گا“ میں ”اس“ سے رسول اللہ ﷺ کیسے مراد ہوسکتے ہیں ؟ جواب اس کا یہ دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ضمیر لوٹانے کے لیے پہلے آپ کا ذکر ہونا ضروری نہیں، کیونکہ آپ کا ذکر ہر مومن کے ذہن میں موجود ہے۔ اس لیے الفاظ میں پہلے آپ ﷺ کا ذکر نہ بھی ہو تو حرج نہیں۔
دوسری تفسیر وہ ہے جو طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے نقل کی ہے کہ جو شخص (اپنے متعلق) یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں (اس کی کبھی مدد نہیں کرے گا) اسے کبھی رزق نہیں دے گا، وہ اوپر کی طرف رسی لٹکا کر اپنا گلا گھونٹ لے، پھر دیکھے۔۔ یعنی جو شخص اللہ کی نصرت پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ایسے ناامید شخص کو چاہیے کہ وہ پھانسی لے کر مرجائے، پھر دیکھے کہ کیا اس سے اس کی امید برآتی ہے ؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ اگر تم فلاں بات پر یقین نہیں کرتے تو جاؤ دیوار سے ٹکر مار کر مرجاؤ۔
شاہ عبد القادر ؓ نے اس آیت کی ایک بہت عمدہ تفسیر فرمائی ہے، وہ لکھتے ہیں : ”دنیا کی تکلیف میں جو اللہ تعالیٰ سے ناامید ہو کر اس کی بندگی چھوڑ دے اور جھوٹی چیزوں کی پوجا کرے، جن کے ہاتھ نہ برا ہے نہ بھلا، وہ اپنے دل کو سمجھانے اور تسلی دینے کے لیے یہ صورت قیاس کرلے کہ جیسے ایک شخص اونچی لٹکتی رسی سے لٹک رہا ہے، اگر چڑھ نہیں سکتا تو توقع تو ہے کہ رسی اوپر کھینچے تو چڑھ جاوے۔ جب رسی توڑ دی پھر کیا توقع ؟ رسی کہا اللہ کی امید کو اور اس رسی کو آسمان کی طرف تانے یعنی اونچان کی طرف۔“ (موضح) اس تفسیر اور اس سے پہلی تفسیر دونوں میں اس آیت کا تعلق گزشتہ آیت : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ) سے بھی واضح ہو رہا ہے۔
Ayah 22:16وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : طبری نے فرمایا : ”اور جس طرح ہم نے مختلف دلائل کے ساتھ ان لوگوں کے لیے اپنی حجت واضح کی ہے جو لوگوں کے مرنے کے بعد انھیں زندہ کرنے پر ہمیں قادر نہیں مانتے اور ہم پر ایمان نہیں لاتے، اسی طرح ہم نے یہ پورا قرآن ہی نہایت روشن آیات کی صورت میں اتارا ہے۔“rnۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ : اس جملے کا پچھلے جملے سے کیا تعلق ہے اور درمیان میں واؤ لانے کی کیا حکمت ہے ؟ اس سوال کے حل کے لیے اہل علم نے آیت کی کئی نحوی ترکیبیں کی ہیں، مگر مجھے سب سے قریب بقاعی کی تفسیر معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ”ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يُّرِيْدُ“ میں ”واؤ“ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس کا کسی محذوف پر عطف ہے جو ”وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ“ سے تعلق رکھتا ہے، چناچہ پوری عبارت یوں ہوگی : ”وَکَذٰلِکَ أَنْزَلْنَاہُ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ لِیُعْلَمَ أَنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَاءُ وَ أَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ“ ”اور اسی طرح ہم نے اسے روشن آیات کی صورت میں نازل کیا ہے، تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور یہ معلوم ہوجائے کہ بیشک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ یعنی گو قرآن میں ایمان و توحید کی روشن دلیلیں موجود ہیں مگر سب لوگوں کے اس سے ہدایت نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ سب کو معلوم ہوجائے کہ گمراہی اور ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ کوئی شخص اپنے بل بوتے پر یہ نعمت حاصل نہیں کرسکتا، اس لیے کہ یہ علم و عقل اور تجربہ تو حقیقت تک پہنچنے کا ایک امکانی ذریعہ ہے، لیکن اس تک رسائی صرف اللہ کی توفیق پر موقوف ہے۔ بعض اہل علم نے اس کی یہ ترکیب کی ہے : ”وَالْأَمْرُ أَنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ“ ”اور اصل معاملہ یہ ہے کہ بیشک اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔“ شاہ عبد القادر ؓ نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔
Ayah 22:17اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا۔۔ : گزشتہ آیات میں ایمان والوں کے علاوہ مختلف لوگوں کا ذکر ہوا، کچھ قیامت کے منکر، کچھ کنارے پر رہ کر عبادت کرنے والے، کچھ اللہ کے ساتھ شریک بنانے والے وغیرہ۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ اتنے مختلف عقائد کے لوگ جو اپنی اپنی بات پر اس قدر پختہ ہیں کہ واضح دلائل کے باوجود اپنی بات نہیں چھوڑتے، آخر کبھی ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی ہوگا ؟ فرمایا، ان کے جھگڑے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن فرمائے گا، جب مومن جنت اور کافر جہنم میں جائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں ان کے حق یا باطل پر ہونے کا فیصلہ نہیں ہوا۔ یقیناً ہوا ہے اور قرآن مجید کا نام فرقان اسی لیے ہے۔ یہ کلام ایسے ہی ہے جیسے بحث ختم کرنے کے لیے بات اللہ کے سپر دکر دی جاتی ہے، حالانکہ بات کرنے والے کو اپنے سچا ہونے کا اور فریق مخالف کے خطا پر ہونے کا یقین ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۭلَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ ۭ اَللّٰهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۚ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ) [ الشورٰی : 15 ] ”ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“
3 مومنین، یہود، نصاریٰ اور صابئین کا بیان سورة بقرہ (62) میں گزر چکا ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں، یہاں مجوس اور مشرکین کا مزید ذکر ہے۔ مجوس سے مراد آتش پرست ہیں جو دو خالق مانتے ہیں، ایک خالق خیر (یزدان) اور ایک خالق شر (اہرمن) یہ لوگ اپنے آپ کو زرتشت کا پیرو کہتے ہیں اور کسی نبی کا نام بھی لیتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ بعد میں گمراہ ہوئے یا شروع ہی سے غلط تھے۔ مزدک نے ان کے مذہب اور اخلاق کو بری طرح مسخ کرکے رکھ دیا، حتیٰ کہ حقیقی بہن سے نکاح بھی ان کے ہاں جائز قرار دیا گیا۔ ”وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُـوْٓا“ (وہ لوگ جنھوں نے شرک کیا) سے مراد عرب اور دوسرے ملکوں کے وہ مشرک ہیں جنھوں نے مندرجہ بالا گروہوں میں سے کسی کا نام اختیار نہیں کیا تھا، مثلاً گائے اور بتوں کے پجاری ہندو۔ قرآن مجید انھیں مشرکین اور ”وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُـوْٓا“ کے نام سے ذکر کرتا ہے، اگرچہ موحد مسلمانوں کے سوا مندرجہ بالا سب مذاہب میں شرک کی کوئی نہ کوئی قسم ضرور پائی جاتی ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ : یعنی ان تمام گروہوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حاکمانہ اختیار کی وجہ سے اندھا فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ عین عدل و انصاف ہوگا، کیونکہ ہر چیز اس کے سامنے ہے، وہ ہر چیز پر گواہ ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے عین مطابق جزا یا سزا دے گا۔
Ayah 22:18اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَهٗ۔۔ : پچھلی آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہوا اہل ایمان کے علاوہ سب نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھے ہیں۔ یہود نے عزیر ؑ کو اور نصاریٰ نے مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے۔ صابی ستارہ پرست، مجوس آتش پرست اور مشرکین بت پرست ہیں۔ اس آیت میں فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کی عبادت اور اسے سجدہ کرنے پر متفق ہے ؟ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی، اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کے سارے افراد اوروں سے زیادہ اس کی عبادت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر متفق ہوتے، مگر اس کے بہت سے افراد غیر اللہ کی عبادت کی وجہ سے عذاب الٰہی کے حق دار ٹھہرے ہیں۔
”اَلَمْ تَرَ“ سے مراد ”أَلَمْ تَعْلَمْ“ ہے، یعنی کیا تجھے معلوم نہیں ؟ کیونکہ آسمانوں اور زمین میں بسنے والے تمام افراد کو اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ مزید دیکھیے سورة فیل کی آیت (1) : (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ) کی تفسیر۔ ”اَلَمْ تَرَ“ کے اولین مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں اور آپ کے بعد آپ کی امت کا ہر فرد۔
بعض مفسرین نے یہاں سجدے سے مراد انقیاد لیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے ساری مخلوق عاجز اور بےبس ہے۔ چاہے یا نہ چاہے، اسے اس کے سامنے گردن جھکانا اور اس کے ”کُنْ فَیَکُوْنُ“ والے حکم کو ماننا پڑتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ ”کُنْ“ کہے اور کوئی اس سے منہ پھیر سکے۔ مگر یہاں سجدے کا صرف یہ معنی مراد لینا درست نہیں، کیونکہ یہ سجدہ تو ساری مخلوق کے ساتھ ساتھ ہر انسان اور جن بھی کرتا ہے، بلکہ یہاں مراد وہ سجدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بہت سے لوگ کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں پر عذاب واجب ہوچکا ہے، یعنی وہ سجدہ نہیں کرتے۔ اگر تکوینی سجدہ مراد ہو تو مومن و کافر کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم سے سرتابی کرے۔ آدمی ایک ٹانگ اٹھا سکتا ہے، ذرا دونوں اٹھا کر تو دکھائے ؟ اپنی بھوک یا پیاس کو روک لے۔ پیشاب پاخانہ کی حاجت سے بےنیاز ہو کر دکھائے۔ دل کی دھڑکن، خون کی گردش، بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، ضعف، انحطاط، موت، غرض اللہ کے کسی تکوینی حکم کے مقابلے میں سجدے سے سر اٹھا کر دکھائے ؟ معلوم ہوا اس سجدے سے وہ سجدہ مراد ہے جو انسان اپنی خوشی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق وہ تمام چیزیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے اپنی خوشی سے اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں، جب کہ لوگوں میں سے بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے یہ سجدہ خوشی سے کرتے ہیں اور بہت سے نہیں کرتے۔ جن و انس کے علاوہ باقی ساری مخلوق دونوں طرح سے اللہ کے لیے سجدہ ریز ہے، تکوینی طور پر بھی اور اطاعت و عبادت کے لیے بھی، جبکہ انسان تکوینی طور پر اللہ کے حکم کے سامنے سجدہ ریز ہے، اطاعت و عبادت کے طور پر بہت سے انسان سجدہ کرتے ہیں، بہت سے نہیں کرتے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا تکوینی حکم کے تابع ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر عبادت کے لیے باقاعدہ سجدہ کرنا سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ پہاڑ، درخت، سورج، چاند اور ستارے تو بےجان چیزیں ہیں، وہ سجدہ کیا کریں گی ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں میں احساس اور شعور رکھا ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنے سامنے رکوع و سجود اور قیام و تسبیح کا طریقہ بھی سکھا رکھا ہے، حتیٰ کہ جب اس نے زمین و آسمان کو حکم دیا کہ خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہوجاؤ تو دونوں نے کہا، ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ دیکھیے سورة حم السجدہ (11) اور فرمایا : (ۧاَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰۗفّٰتٍ ۭ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْن) [ النور : 41 ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ، اس کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے، ہر ایک نے یقیناً اپنی نماز (جس میں قیام اور رکوع و سجود سب کچھ ہوتا ہے) اور اپنی تسبیح جان لی ہے اور اللہ اسے خوب جاننے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔“ اور دیکھیے سورة بنی اسرائیل (44) ، احزاب (72) ، حشر (21) ، نحل (48) ، حم السجدہ (21) اور سورة بقرہ (74) خلاصہ یہ ہے کہ یہاں ”یسجد“ کے سجدے سے مراد عبادت کا سجدہ ہے، جو کچھ لوگ کرتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں کرتے اور ”اَلنَّاس“ کے علاوہ باقی تمام چیزوں کے سجدے سے دونوں سجدے مراد ہیں، تکوینی بھی اور عبادت کا سجدہ بھی۔
3 اللہ تعالیٰ نے اپنی بیشمار مخلوق میں سے چند کا خاص طور پر نام لے کر ذکر فرمایا کہ وہ اللہ کے لیے سجدہ کرتی ہیں۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان تمام اشیاء میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی مشرک نے اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش صابئین کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکین شعریٰ اور دوسرے ستاروں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم ؑ نے بھی اپنی قوم کو ان کی عبادت سے منع فرمایا تھا۔ پہاڑوں کے پتھروں کی پوجا بت پرست کرتے ہیں، اسی طرح کئی درختوں کی بھی عبادت ہوتی ہے، جیسے کئی قبر پرست اور بت پرست اپنے اپنے دربار کے درختوں کو بھی کرنی والا سمجھتے ہیں اور ان کے پتے یا ٹہنی توڑنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے ہیں۔ کئی جانوروں کو بھی معبود بنایا گیا ہے، جیسے ہندو گائے، سانپ، بندر اور کئی جانوروں کی پوجا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سب تو اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتے اور اسے اپنا رب مانتے ہیں، پھر عقل سے کس قدر عاری ہیں وہ لوگ جو اللہ کو سجدہ کرنے کے بجائے ان کو سجدہ کرتے ہیں جو خود اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر انسان کی اور ذلت کیا ہوگی ؟
وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ : ”يُّهِنِ“ پر ”مَنْ“ آنے کی وجہ سے نون پر جزم آگئی، دو ساکنوں کی وجہ سے ”یاء“ گرگئی تو ”یُھِنْ“ ہوگیا، پھر آگے ملانے کے لیے نون کو کسرہ دے دیا۔ یعنی جسے اللہ تعالیٰ اس کے شرک و کفر کی شامت کے نتیجے میں انسانی عز و شرف سے محروم کر کے جانوروں سے بھی بدتر بنا دے (اعراف : 179) اور جہنم کے دائمی عذاب میں مبتلا کرکے ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا کر دے تو اسے اس ذلت سے نکال کر کوئی عزت عطا کرنے والا نہیں، فرمایا : (وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ) [ آل عمران : 26 ] ”اور تو جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کردیتا ہے۔“
اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاۗءُ : ”اِنَّ“ (ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ) اپنے سے پہلے جملے کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو عزت اور کسی کو ذلت کیوں دیتا ہے ؟ فرمایا، وہ اپنی مرضی کا مالک ہے، جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (23) کی تفسیر۔
3 اس آیت پر سجدہ ہے اور سورة حج کے اس سجدہ پر سب کا اتفاق ہے۔
Ayah 22:19ڍھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ : یہاں دو جھگڑنے والوں میں ایک فریق مسلمان اور دوسرا فریق وہ پانچوں گروہ ہیں جن کا پچھلی آیت میں ایمان والوں کے بعد ذکر ہوا ہے اور جنھیں اس آیت میں کافر قرار دیا گیا ہے۔ رب تعالیٰ کے بارے میں جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی توحید کے قائل ہیں اور یہ تمام لوگ توحید کے بارے میں طرح طرح کے خیالات رکھتے ہیں جو کفر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس مخالفت کا لازمی نتیجہ مسلمانوں کی طرف سے جہاد ہے۔ پہلا غزوہ جس میں رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں دو بدو جنگ ہوئی غزوۂ بدر تھا، جس میں سب سے پہلے میدان میں نکلنے والے حمزہ بن عبد المطلب، عبیدہ بن حارث اور علی بن ابی طالب ؓ تھے، جو اپنے قریب ترین رشتہ داروں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کے مقابلے میں نکلے تھے۔ چناچہ اس آیت کا اولین مصداق یہی تین صحابہ کرام ؓ ہیں۔ ابوذر غفاری ؓ کے بارے میں آتا ہے : (أَنَّہٗ کَانَ یُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ ھٰذِہِ الْآیَۃَ : (ڍھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ) نَزَلَتْ فِيْ حَمْزَۃَ وَصَاحِبَیْہِ وَعُتْبَۃَ وَصَاحِبَیْہِ یَوْمَ بَرَزُوْا فِيْ یَوْمِ بَدْرٍ) [ بخاري، التفسیر، باب (ھذان خصمان۔۔): 4743۔ مسلم : 3033 ] ”وہ قسم کھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت : (ڍھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ) ان چھ آدمیوں حمزہ اور ان کے دو ساتھی، عقبہ اور اس کے دو ساتھیوں کے بارے میں اتری تھی جو بدر کے دن ایک دوسرے کے مقابلے میں نکلے تھے۔“ اور علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا : ”میں پہلا شخص ہوں جو قیامت کے دن اس جھگڑے کے لیے رحمٰن کے سامنے دونوں زانوؤں کے بل بیٹھوں گا اور اپنا مقدمہ پیش کروں گا۔“ [ بخاري، التفسیر، باب (ھٰذان خصمان اختصموا في ربھم) : 4744 ] ان تینوں حضرات کے بعد قیامت تک آنے والے وہ تمام مجاہد بھی اس آیت میں شامل ہیں جنھوں نے توحید کی خاطر کفار سے جہاد کیا یا کریں گے۔
فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ : یعنی کافروں کے لیے آگ کے کپڑے کاٹے جا چکے۔ یہاں قیامت کے دن ہونے والے کام کو ماضی کے لفظ کے ساتھ بیان فرمایا، یعنی یہ کام اتنا یقینی ہے کہ بس ہو ہی چکا۔ آگ کے یہ کپڑے قمیصوں کی صورت میں بھی ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (سَرَابِيْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ) [ إبراھیم : 50 ] ”ان کی قمیصیں گندھک کی ہوں گی۔“ اور نیچے اور اوپر والے بچھونوں اور لحافوں کی صورت میں بھی، جیسا کہ فرمایا : (لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ) [ الأعراف : 41 ] ”ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے۔“
يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْمُ : ”الْحَمِيم“ انتہائی گرم (کھولتا ہوا) پانی۔ مزید دیکھیے سورة دخان (48)۔
Ayah 22:20يُصْهَرُ بِهٖ مَا فِيْ بُطُوْنِهِمْ وَالْجُلُوْدُ : ”صَھَرَ (مَنَعَ) الشَّحْمَ“ اس نے چربی پگھلائی، یعنی ان کے سروں پر ایسا جلتا اور کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا کہ جس کے ساتھ ان کے پیٹ کے اندر کی تمام چیزیں پگھل کر باہر نکل جائیں گی اور ان کے چمڑے بھی پگھل جائیں گے اور یہ عذاب مسلسل جاری رہے گا۔ جب بھی ان کے چمڑے گل سڑ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں ان کے علاوہ اور چمڑے بدل دے گا۔ دیکھیے سورة نساء (56)۔
Ayah 22:21وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ : ”مَّقَامِعُ“ ”مِقْمَعٌ“ کی جمع ہے، ہتھوڑے۔
Ayah 22:22كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا۔۔ : اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ آگ کی لپٹ کے ساتھ اوپر آئیں گے اور چاہیں گے کہ جہنم کی شدید گھٹن سے نکل جائیں تو آگ کی لپٹ کے نیچے جانے کے ساتھ وہ بھی دوبارہ نیچے چلے جائیں گے۔ یہ مطلب اس لیے ہے کہ جہنمی تو زنجیروں میں جکڑے اور پروئے ہوئے ہوں گے، وہ خود کس طرح نکلنے کا ارادہ کرسکتے ہیں ؟ فرمایا : (وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ) [ إبراھیم : 49 ] ”اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔“ اور فرمایا : (ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ) [ الحاقۃ : 32 ] ”پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اس (کافر) کو داخل کر دو۔“
وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ : یعنی ان سے یہ کہا جائے گا کہ جلنے کے عذاب کا مزا چکھو۔