22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

سو کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے اس حال میں ہلاک کیا کہ وہ ظالم تھیں، پس وہ اپنی چھتوں پر گری ہوئی ہیں اور کتنے ہی بےکار چھوڑے ہوئے کنویں ہیں اور چونہ گچ محل۔

فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ۔۔ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (259) کی تفسیر۔ ”َبِئْرٍ“ مؤنث سماعی ہے، اس لیے اس کی صفت ”مُّعَطَّلَةٍ“ آئی ہے۔ ”مَّشِيْدٍ“ ”شَادَ یَشِیْدُ شَیْدًا“ (ض) سے اسم مفعول ہے، چونے کے ساتھ مضبوط کیا ہوا۔ یہ مجرد ثلاثی سے ہے، جب کہ سورة نساء کی آیت (78) : (وَلَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَـيَّدَةٍ) میں باب تفعیل یعنی ثلاثی مزیدفیہ استعمال ہوا ہے جس میں مبالغہ ہوتا ہے، کیونکہ وہاں موت کا ذکر ہے کہ خواہ تم چونے کے ساتھ بنے ہوئے محکم سے محکم قلعوں میں ہو موت تمہیں وہاں بھی نہیں چھوڑے گی۔ موت کی دسترس کے اظہار کے لیے ”مُّشَـيَّدَةٍ“ (باب تفعیل) لایا گیا، جب کہ پرانے محلات خواہ کس قدر مضبوط ہوں آخر وہ پختگی باقی نہیں رہتی، اس لیے صرف ”مَشِیْد“ (ثلاثی مجرد) پر اکتفا کیا گیا۔ ”مَشِیْد“ کا ایک معنی بلند بھی ہے۔ 3 یہ سات اقوام جن کا ذکر ہوا ہے، کثرت و قوت میں تمام اقوام سے بڑھ کر تھیں۔ ان کے علاوہ ان کے عہد میں اور بعد کے زمانوں میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کی کتنی قومیں گزری ہیں ؟ ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت بیان فرمائی کہ پہلے انھیں مہلت دی جاتی ہے، پھر اگر وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ انھیں ہلاک کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ ترتیب کے مطابق پہلے مہلت کا اور پھر پکڑنے کا ذکر ہونا چاہیے تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے کے انجام بد سے ڈرانے کے لیے ایسی اقوام کی کثرت، ان کی قوت و شوکت اور ان کی تباہی و بربادی کی یاد دلانے والے آثار قدیمہ کا بیان پہلے فرمایا اور آیت (46) میں دوبارہ انھیں مہلت دینے کے بعد پکڑنے کا ذکر فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا کہ کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ان کے ظلم اور کفر ان نعمت کی پاداش میں ہم نے ہلاکت اور تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ ان کی چھتیں بوسیدہ ہو کر گرنے کے بعد ان کی دیواریں بھی ان پر گری پڑی ہیں اور کتنے ہی کنویں ہیں جو کبھی آبادی کا مرکز تھے اور ان پر پانی کے لیے آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، اب اجاڑ اور ویران پڑے ہیں۔ عربوں کے ہاں پانی کی قلت کی وجہ سے کنوؤں کا خصوصاً ذکر فرمایا۔ اسی طرح کتنے ہی چونے کے ساتھ مضبوط بنے ہوئے بلند و بالا اور پر شکوہ ایوان اور محلات ہیں، جن میں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جن کی حفاظت کے لیے دن رات ہزاروں فوجیوں کا پہرا ہوتا تھا، اب ان پر کوؤں، چیلوں اور الوؤں کی حکومت ہے۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے لیے ایسے دل ہوں جن کے ساتھ وہ سمجھیں، یا کان ہوں جن کے ساتھ وہ سنیں۔ پس بیشک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : عرب کے لوگ تجارت کے لیے دور دراز سفر کرتے تھے، چناچہ وہ گرمیوں میں شام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف جاتے تھے۔ سورة قریش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے اس انعام کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ یمن قوم عاد کا مسکن تھا اور شام کے سفر میں مدائن صالح اور قوم لوط کی تباہ شدہ بستیوں پر سے ان کا گزر ہوتا تھا، قوم لوط کے متعلق فرمایا : (وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ 137؀ۙوَبِالَّيْلِ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ) [ الصافات : 137، 138 ] ”اور بلاشبہ تم یقیناً صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟“ اور قوم لوط اور قوم شعیب (اصحاب الایکہ) کے متعلق فرمایا : (وَاِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ) [ الحجر : 79 ] ”اور بیشک وہ دونوں (بستیاں) یقیناً ظاہر راستے پر موجود ہیں۔“ مدین کا علاقہ بھی حجاز کے شمال مغرب میں واقع تھا۔ سفر میں آدمی کو مالی فوائد کے علاوہ علمی فوائد اور بیشمار تجربات اور عبرتیں حاصل ہوتی ہیں اور سفر کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے۔ ابوالعلاء المعری کہتا ہے ؂ وَ قِیْلَ أَفَاد بالْأَسْفَارِ مَالاً فَقُلْنَا ھَلْ أَفَادَ بِھَا فُؤَادًا ”لوگوں نے بتایا کہ اس نے مختلف سفروں میں بہت سا مال حاصل کیا ہے، تو ہم نے کہا، کیا اس نے ان سے کوئی دل بھی حاصل کیا ہے ؟“ یعنی اسے سفروں سے کچھ عقل و دانش اور نصیحت و عبرت بھی حاصل ہوئی ہے ؟ اس آیت میں ان لوگوں سے جنھوں نے یہ سفر کیے تھے، کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ مختلف قوموں کے آثار قدیمہ دیکھ کر ان کے دل عقل کرتے اور نصیحت و عبرت حاصل کرتے، یا لوگوں سے سن کر ہی عبرت حاصل کرتے ؟ مقصد یہ ہے کہ سفر کا فائدہ تو سوچنا سمجھنا اور عبرت حاصل کرنا ہے اور بیشک تم نے ان سفروں میں آنکھوں سے بہت کچھ دیکھا اور کانوں سے بہت کچھ سنا مگر جب اس سے عبرت اور عقل حاصل نہیں کی تو سمجھو کہ تم آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے اور کان رکھنے کے باوجود بہرے ہو، فرمایا : (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ) [ البقرۃ : 171 ] ”اور ان لوگوں کی مثال جنھوں نے کفر کیا، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو ان جانوروں کو آواز دیتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے، بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں سمجھتے۔“ گویا جس کا دل عقل سے خالی ہے اس کی آنکھوں اور کانوں کا اسے کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح اس آیت میں ان لوگوں کو جنھوں نے سفر نہیں کیا، ترغیب دی جا رہی ہے کہ دنیا میں چلو پھرو، اس سے تمہاری آنکھیں دیکھ کر اور کان سن کر عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ۔۔ : ”إِنَّ“ کے بعد ”ھَا“ ضمیر قصہ کہلاتی ہے، یہ مذکر بھی آتی ہے، جیسا کہ اس آیت کی ایک قراءت ”فَإِنَّہُ لَا تَعْمَی الْأَبْصَارُ“ بھی ہے، اس وقت اسے ضمیر شان کہتے ہیں، معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ۔۔ بینائی دو قسم کی ہے، ایک آنکھوں کی بینائی، اسے بصارت کہتے ہیں اور ایک دل کی بینائی، اسے بصیرت کہتے ہیں۔ اسی طرح اندھا پن بھی دو قسم کا ہے، ایک آنکھوں کا اندھا ہونا اور ایک دل کا اندھا ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ یہاں آنکھوں کے اندھا نہ ہونے کا مطلب ہے کہ آنکھیں اندھی ہونے سے کچھ نقصان نہیں، اصل نقصان دل اندھا ہونے اور بصیرت سے محروم ہونے کا ہے۔ 3 بعض اہل علم نے بصارت اور بصیرت کی مثال سواری اور سوار کی بیان فرمائی ہے، اگر سوار دیکھتا ہے تو سواری اندھی ہونے کا خاص نقصان نہیں، لیکن اگر سوار اندھا ہے تو سواری کی نگاہ جتنی بھی تیز ہو کچھ فائدہ نہیں۔ 3 موجودہ سائنس کا کہنا ہے کہ سوچنا سمجھنا دماغ کا کام ہے دل کا نہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس دل کو عقل کا مرکز قرار دیا ہے جو سینے میں ہے، اس دماغ کو نہیں جو سر میں ہے۔ اب بعض لوگوں نے کہا کہ قرآن نے سائنس کی زبان میں بات نہیں کی، ادبی زبان میں بات کی ہے مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ سائنس کے نظریات بدلتے رہتے ہیں، جب کہ اللہ کا فرمان اٹل ہے اور کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔ یہ بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ دماغ کو خون دل ہی سے پہنچتا ہے، عین ممکن ہے کہ دماغ محض ایک سٹور ہو جس کا بٹن دل میں ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے اور بیشمار دفعہ ہوا ہے کہ یہاں بھی سائنس اصل حقیقت تک پہنچ جائے اور دل کو عقل کا مرکز تسلیم کرلے۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور وہ تجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور بیشک ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو۔

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ : مشرکین رسول اللہ ﷺ سے جلد از جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اس مطالبے سے ان کا مقصد عذاب آنے کا انکار اور نبی ﷺ کو جھٹلانا، آپ کا مذاق اڑانا اور آپ کو لاجواب کرنا تھا۔ قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : (وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) [ الأنبیاء : 38 ] ”اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔“ اور فرمایا : (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ ۭ وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاۗءَهُمُ الْعَذَابُ) [ العنکبوت : 53 ] ”اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آجاتا۔“ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست عذاب کی دعا سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے : (وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ) [ صٓ : 16 ] ”اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلدی دے دے۔“ اور فرمایا : (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ الأنفال : 32 ] ”اور جب انھوں نے کہا اے اللہ ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔“ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ : مشرکین جس یقین کے ساتھ عذاب نازل ہونے کو جھٹلاتے تھے اسی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا، جو اس نے فرمایا ہے ہو کر رہے گا، مگر اس وقت پر جو اس نے مقرر فرمایا ہے۔ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ۔۔ : یعنی رب تعالیٰ تمہاری طرح تنگ ظرف اور جلد باز نہیں بلکہ بیحد حلیم اور وسعت والا ہے۔ اس کی دی ہوئی تھوڑی سی مہلت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، تمہارا ایک ہزار سال اس کے نزدیک صرف ایک دن ہے، وہ اتنا حلیم ہے کہ آدھے دن کی مہلت دے تو وہ بھی پانچ سو برس ہوگی اور ایک گھنٹہ کی مہلت دے تو چالیس برس سے زیادہ ہوگی۔ اس کے حلم کی وجہ یہ ہے کہ وہ انتقام پر قادر ہے، کوئی چیز اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتی، خواہ وہ کتنی مہلت دے یا رسی دراز کرے۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں میں نے مہلت دی، اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا۔۔ : اس آیت میں قانون مہلت کو دہرایا ہے کہ میں نے کتنی ہی بستیوں کو ان کے ظلم کے باوجود تمہاری طرح مہلت دی، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا۔ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ : یعنی اگر کسی ظالم قوم پر عذاب آنے میں دیر ہوئی، یا دنیا میں سرے سے اس پر عذاب آیا ہی نہیں تو بھی وہ ہماری گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے، ہر حال میں انھیں ہماری ہی طرف آنا ہے، وہاں سب وعدے پورے ہوں گے۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

کہہ دے اے لوگو ! میں تو بس تمہارے لیے کھلم کھلاڈرانے والا ہوں۔

قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَا لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک جواب تو اپنا قانون مہلت ذکر فرمایا، یہ آیت دوسرا جواب ہے۔ فرمایا، ان سے کہہ دیجیے کہ میں تو صرف تمہیں ڈرانے والا ہوں، میرا کام کفر کے برے انجام سے خبردار اور آگاہ کرنا ہے، عذاب جلدی لانا یا دیر سے لانا میرا کام نہیں، یہ مجھے بھیجنے والے کا کام ہے۔ میں صرف پیغام پہنچانے والا ہوں، خود اللہ نہیں ہوں۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ : یعنی تمام دنیا کے لوگوں کو پیغام پہنچا دو خواہ کسی قوم یا ملک سے تعلق رکھتے ہوں، خواہ قیامت تک کسی زمانے کے لوگ ہوں۔ دیکھیے سورة سبا (28)۔ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ : یعنی میں تمہیں ڈرانے والا (اور بشارت دینے والا) ہوں، تمہیں کھول کر ہر وہ چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے نقصان دہ ہے، تاکہ تم اس سے بچ جاؤ اور ہر وہ چیز بتاتا ہوں جو تمہارے فائدے کی ہے، تاکہ تم اسے اختیار کرلو۔ یہاں ”نَذِيْرٌ“ کے ساتھ ”بَشِیْرٌ“ بھی ہے مگر الفاظ میں اسے حذف کردیا گیا ہے، کیونکہ مقام اس عذاب سے ڈرانے کا ہے جسے وہ جلدی مانگ رہے ہیں۔ یہاں ”بَشِیْرٌ“ کو الگ اس لیے ذکر نہیں فرمایا کہ ہر نذیر بشیر بھی ہوتا ہے، کیونکہ اس کی خبردار کردہ چیزوں سے بچنے کا نتیجہ خوشی کی خبر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ”نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ“ کے ضمن میں ”بَشِیْرٌ“ کے تذکرے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد پہلی آیت میں بشارت ہے اور دوسری میں نذارت۔ (بقاعی)
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے سراسر بخشش اور باعزت رزق ہے۔

ۚفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : یہ بشارت کی آیت ہے۔ ”مَّغْفِرَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ عظیم بخشش کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایمان میں دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل تینوں چیزیں شامل ہیں، مگر اعمال صالحہ کا الگ ذکر خاص طور پر تاکید کے لیے فرمایا، کیونکہ اس میں عموماً کوتاہی ہوتی ہے۔ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ : اس سلسلۂ کلام کا آغاز قتال کے اذن سے ہوا ہے، اس وقت مسلمان کفار کے ظلم و ستم کی وجہ سے گھروں سے بےگھر تھے اور مالی طور پر بھی نہایت تنگی کی حالت میں تھے، اس لیے انھیں بشارت دینے کا حکم ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کے حامل مجاہد افراد کے لیے عظیم بخشش بھی ہے اور باعزت رزق بھی۔ باعزت رزق سے مراد دنیا میں مال غنیمت اور آخرت میں جنت ہے کہ دونوں میں اللہ کے سوا کسی کے احسان کا بار نہیں ہے۔
Ayah 22:51

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کے بارے میں کوشش کی، اس حال میں کہ نیچا دکھانے والے ہیں، وہی بھڑکتی آگ والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْٓ اٰيٰتِنَا۔۔ : ”مُعٰجِزِيْنَ“ باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے، مقابلے میں عاجز کردینے والے، نیچا دکھانے والے۔ یہ نذارت یعنی ڈرانے کی آیت ہے، یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں نیچا دکھا دیں یا عاجز کردیں، کبھی انھیں جھوٹا کہتے ہیں، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، تو یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، حتیٰ کہ ان کا لقب ہی ”اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ“ (بھڑکتی ہوئی آگ والے لوگ) ہے۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں (خلل) ڈالا تو اللہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو پختہ کردیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ۔۔ : لغت میں ”تَمَنّٰی یَتَمَنّٰی تَمَنِّیًا“ کا معنی تمنا، آرزو اور خواہش کرنا بھی ہے اور تلاوت کرنا اور پڑھنا بھی ہے، سورة بقرہ کی آیت (78) : (وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ) میں ”اَمَانِیَّ“ ”أُمْنِیَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی آرزو بھی ہے اور تلاوت کرنا بھی۔ پہلے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول یا نبی بھیجا شیطان اس کی ہر آرزو اور خواہش کے راستے میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ ظاہر ہے پیغمبر کی آرزو لوگوں کے ایمان قبول کرنے اور دین حق کے غلبے کے سوا کیا ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے انبیاء و رسل کی ہر کوشش کو شیطان ناکام کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم اور اپنے دین کو غالب کرتا رہا، جیسا کہ فرمایا : (هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ ۙ) [ التوبۃ : 33 ] ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔“ دوسرے معنی کی رو سے مطلب یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسول یا نبی آیا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتا تو شیطان اس کے سننے میں رکاوٹ ڈالتا، جیسا کہ فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ) [ حٰآ السجدۃ : 26 ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔“ مگر اللہ تعالیٰ اس کی رکاوٹوں کو دور کرکے اپنی آیات کو محکم کردیتا۔ یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ پیغمبروں کے آیات کی تلاوت کے وقت شیطان ان آیات کے معانی کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈال دیتا جنھیں اللہ تعالیٰ بعد میں وضاحت کرکے دور کردیتا، جیسا کہ سورة نحل کی آیت (115) : (اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ) میں شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا حلال کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مارے ہوئے کو حرام کہتے ہیں۔ سورة انبیاء کی آیت (98) : (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ) میں شبہ ڈالا کہ پھر تو مسیح ؑ بھی نعوذ باللہ جہنم میں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی وضاحت فرما کر شیطان کے ڈالے ہوئے شبہ کو دور فرما دیا اور اپنی آیات کو محکم کردیا۔ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ ان سب شیاطین کو خوب جانتا ہے جو انبیاء کی تمناؤں کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں، یا انبیاء کے آیات کی تلاوت کے وقت لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات ڈالتے ہیں اور ان شکوک و شبہات کو اور ان کے دفاع کے طریقوں کو بھی خوب جانتا ہے اور وہ کمال حکمت والا بھی ہے جس کے پیش نظر اس نے شیاطین کو مہلت دے رکھی ہے کہ خود بھی گمراہ رہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں۔ 3 بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ سورة نجم کی تلاوت کر رہے تھے، جب آپ آیت (20) : (وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى) پر پہنچے تو لا شعوری کے عالم میں شیطان نے آپ کی زبان پر یہ کلمات جاری کردیے، یا آپ کے لہجے اور آواز میں پڑھ دیے : ”تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَ إِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجَی“ ”یہ عالی مقام دیویاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید کی جاتی ہے۔“ اس پر کفار قریش بہت خوش ہوئے کہ آج ہمارے بتوں کی بھی تعریف ہوئی ہے اور آپ ﷺ کو بہت غم لاحق ہوا، چناچہ سورة حج کی یہ آیت اتری اور آپ کو تسلی دی گئی کہ پہلے انبیاء کی وحی میں بھی شیطان اس قسم کی دخل اندازیاں کرتا رہا ہے، مگر شیطان کے یہ حربے کامیاب نہیں ہوتے وغیرہ۔ یہ قصہ ان آیات کے صریح متصادم ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبروں کے چاروں طرف زبردست پہرا اس وقت تک رکھتا ہے جب تک وہ اللہ کے پیغامات لوگوں تک نہ پہنچا دیں (اتنے کڑے پہرے میں ممکن ہی نہیں کہ شیطان کسی طرح بھی اثر انداز ہو سکے)۔ دیکھیے سورة جن کی آخری آیات ”عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ“ سے آخر سورت تک۔ محقق علماء نے اس قصے کی پر زور تردید کی ہے۔ بیہقی ؓ کہتے ہیں، یہ قصہ من گھڑت ہے۔ ابن خزیمہ ؓ نے لکھا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ (ملحد و بےدین لوگوں) نے گھڑا ہے۔ قاضی عیاض نے ”الشفاء“ میں اس کی تردید کی ہے۔ رازی نے فرمایا کہ یہ قصہ باطل ہے۔ حافظ ابن حجر ؓ نے تین مرسل روایات کی بنا پر اس واقعے کا کچھ اصل ثابت کرنے اور اس کی توجیہ کی کوشش کی ہے مگر محدث البانی ؓ نے اپنے رسالہ ”نَصْبُ الْمَجَانِیْقِ لِنَسْفِ قِصَّۃِ الْغَرَانِیْقِ“ میں مضبوط علمی بحث کے ساتھ اس قصے کا بالکل بےاصل ہونا ثابت فرمایا ہے اور قدیم و جدید محدثین و فقہاء کا حوالہ دیا ہے، جنھوں نے اس واقعہ کی دلائل کے ساتھ تردید فرمائی۔
Ayahs 22:53–54

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

تاکہ وہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، ان لوگوں کے لیے آزمائش بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم لوگ یقینا دور کی مخالفت میں ہیں۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور تاکہ وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا ہے، جان لیں کہ بیشک وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں، پس ان کے دل اس کے لیے عاجز ہوجائیں اور بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔

لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً۔۔ : ”شِقَاقٍ“ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ”قِتَالٌ“ ہے، مراد آمنے سامنے مقابلہ ہے، جس میں ایک فریق ایک شق میں ہوتا ہے اور دوسرا فریق دوسری شق میں۔ اس آیت میں شیطان کو انبیاء کی دعوت اور آیات الٰہی میں شکوک و شبہات ڈالنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی فرصت دینے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ شیاطین کو جو اس طرح کھل کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس سے مقصود ابتلا و آزمائش کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے، تاکہ اس کے نتیجے میں اہل باطل اپنا من بھاتا کھا جا پا کر اہل باطل کے علمبرداروں کے ساتھ ہوجائیں اور اہل حق باطل والوں کے تمام شور و غوغا کے باوجود راہ حق پر مزید پختہ ہوجائیں، کیونکہ حق کے مقابلے میں جتنا زیادہ جھگڑا کیا جائے اتنا ہی اس کے دلائل مزید نکھرتے اور واضح ہوتے ہیں اور جن لوگوں کو علم کی روشنی ملی ہوتی ہے ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ آپ کو رب کی طرف سے ملنے والا علم کتاب بالکل حق ہے، پھر ان کا یہ یقین ان کے ایمان کو پختہ کرنے اور اس میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے دل اپنے رب کے لیے عاجزی اختیار کرتے ہیں اور پورے اطمینان کے ساتھ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ ”لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ“ سے مراد منافقین ہیں اور ”وَّالْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ“ سے مراد پکے کافر ہیں کہ جن کے دل کفر و عناد کی وجہ سے سخت ہوچکے ہیں۔ ”لِّيَجْعَلَ“ کی ضمیر، ”فَيَنْسَخُ اللّٰهُ“ اور ”ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ“ میں مذکور لفظ ”اَللّٰه“ کی طرف جا رہی ہے۔ شیطان کی دخل اندازی اور شکوک و شبہات کو کفار و منافقین کے لیے فتنے کا باعث بنانے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے کہ وہ شیطان کے اس عمل کو کفار و منافقین کے لیے فتنہ بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کی حکمت و مشیت کے مطابق ہو رہا ہے۔ کوئی مومن ہو یا کافر یا منافق ہر ایک کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان کے ہر فعل کا خالق بھی وہی ہے، اس لیے فتنہ بنانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کردی ہے۔ البتہ کفار و منافقین کو فتنے میں مبتلا کرنے کا باعث ان کے دلوں کے مرض نفاق کو اور ان کے دلوں کی سختی اور عناد کو قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ) [ البقرۃ : 26 ] ”اور وہ اس کے ساتھ فاسقوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔“ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : یعنی شیطان اور اس کے چیلے جتنے شکوک و شبہات پیدا کرلیں اور جتنے اعتراض کرلیں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی سیدھے راستے کی طرف ضرور ہی رہنمائی کردیتا ہے، جس سے انھیں فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں بات فی الواقع وحی الٰہی ہے، وہ اس پر قائم ہوجاتے ہیں اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے، سو وہ اس سے بچ جاتے ہیں۔ اس طرح انھیں دنیا و آخرت دونوں کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہمیشہ اس کے بارے میں کسی شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے، یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو بانجھ (ہر خیر سے خالی) ہے۔

وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ۔۔ : یعنی کفار اس قرآن کے متعلق ہمیشہ کسی نہ کسی شک میں مبتلا رہیں گے، خواہ وہ شیطان کا پیدا کردہ ہو یا خود ان کے نفس کا اور اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ان کے پاس قیامت کی گھڑی نہ آجائے، یا یوم عقیم (بانجھ دن) کا عذاب نہ آجائے۔ بانجھ دن سے مراد قیامت کا دن ہے، اسے عقیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ہوگا، جس طرح عقیم اسے کہا جاتا ہے جس کی اولاد نہ ہو، یا اس لیے کہ کفار کے لیے اس دن میں کوئی خیر نہیں ہوگی، جس طرح آندھی کو جو عذاب کے طور پر آئی ”الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ“ (ہر خیر سے خالی ہوا) کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ۭوَفِيْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيْحَ الْعَقِيْمَ) [ الذاریات : 41 ] ”اور عاد میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پر بانجھ (خیر و برکت سے خالی) ہوا بھیجی۔“ اس یوم عقیم سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین نے اس سے مراد یوم بدر لیا ہے کہ اس میں کفار کے لیے کوئی خیر و برکت نہیں تھی۔ مگر یہ اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کافر اس یوم عقیم کا عذاب آنے تک شک میں رہیں گے، گویا اس دن کے آنے کے بعد کافروں کو کوئی شک نہیں رہے گا اور ظاہر ہے کہ بدر کے بعد بھی کافر موجود ہیں اور ان کے شکوک و شبہات بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود اس دن کی تعیین فرما دی ہے، فرمایا : (اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ۭ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ) [ الحج : 56 ] ”تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔“ معلوم ہوا کہ اس یوم عقیم سے مراد قیامت کا دن ہے اور مزید فرمایا : (يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَـيْــــًٔا ۭ وَالْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ) [ الانفطار : 17 تا 19 ] ”اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے ؟ پھر تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ جزا کا دن کیا ہے ؟ جس دن کوئی جان کسی جان کے لیے کسی چیز کا اختیار نہ رکھے گی اور اس دن سب حکم اللہ کا ہوگا۔“ اس پر یہ سوال ہے کہ اس سے تکرار لازم آتا ہے، کیونکہ ”السَّاعَةُ“ سے مراد بھی قیامت ہے۔ جواب یہ ہے کہ ”السَّاعَةُ“ میں قیامت کا ذکر ہے اور ”عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ“ میں قیامت کے دن کے عذاب کا ذکر ہے۔ خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ کفار اس وقت سے پہلے ایمان نہیں لائیں گے جب ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔

اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ : ”اَلْمُلْكُ“ کے الف لام کی وجہ سے ”تمام بادشاہی“ ترجمہ کیا ہے، یعنی دنیا میں تو عارضی طور پر لوگوں کو بھی بادشاہت مل جاتی ہے مگر اس دن کسی اور کی بادشاہی نہیں ہوگی، فرمایا : (لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ) [ المؤمن : 16 ] ”آج کس کی بادشاہی ہے ؟ اللہ ہی کی جو ایک ہے، بہت دبدبے والا ہے۔“ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ۔۔ : دنیا میں ہر شخص، کافر ہو یا منافق یا مسلم، یہی سمجھ رہا ہے کہ وہ حق پر ہے، دوسرے سب غلط ہیں، اس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کرے گا۔ دیکھیے سورة زمر (46) اس فیصلے کے نتیجے میں ایمان اور عمل صالح والے نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح اللہ کی آیات اور اس کے رسول کی تکریم تھی، بدلے میں ”جَنّٰتِ النَّعِيْمِ“ میں رہنے کی تکریم ملی۔
Ayah 22:57

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا تو وہی ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۔۔ : ”فَاُولٰۗىِٕكَ“ کی ”فاء“ کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب کا سبب ان لوگوں کا کفر اور اللہ کی آیات کو جھٹلانا تھا۔ انھوں نے اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی اہانت کی، بدلہ عذاب مہین کی صورت میں ملا، جیسا عمل ویسا نتیجہ۔
Ayah 22:58

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے راستے میں وطن چھوڑا، پھر قتل کردیے گئے، یا مر گئے یقینا اللہ انھیں ضرور رزق دے گا اچھا رزق اور بیشک اللہ ہی یقینا سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔

وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : اس سے پہلے ”فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ“ کے ساتھ عام مومنوں کا ذکر فرمایا تھا، اب ان میں سے خاص لوگوں کا ذکر فرمایا جنھوں نے اللہ کی خاطر اپنے وطن، گھر بار اور خویش و اقارب کو چھوڑا۔ مقصد ہجرت کی شان اور اس کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ یہ اتنا عظیم عمل ہے کہ ہجرت کرنے والے جہاد فی سبیل اللہ میں قتل ہوں یا لڑائی کے بغیر فوت ہوجائیں، دار الکفر سے ہجرت کے بعد آخرت کے درجات میں برابر ہیں۔ (ابن عاشور) پہلی آیات سے اس کی ایک اور مناسبت یہ ہے کہ چونکہ مشرکین ان شیطانی شبہات اور رکاوٹوں کے ساتھ، جن کا اوپر ذکر ہوا، بہت سے لوگوں کو ایمان لانے سے روکتے تھے اور وہ روک صرف انھی کو سکتے تھے جو ان کے قابو میں ہوں، اس لیے اللہ سبحانہ نے ہجرت کی ترغیب دلائی اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ (بقاعی) لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا : لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں برزخ میں اور جنت میں رزق حسن ہر صورت دے گا۔ شہداء کے متعلق دیکھیے سورة آل عمران (169) اور ہجرت کے بعد فوت ہونے کے متعلق دیکھیے سورة نساء (100)۔ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : اللہ تعالیٰ خیر الرازقین ہے، اس لیے کہ 1 وہ کسی استحقاق کے بغیر رزق دیتا ہے۔ 2 مانگے بغیر دیتا ہے۔ 3 بےحساب دیتا ہے۔ 4 کسی سے فائدے کی امید یا کسی سے خوف کے بغیر دیتا ہے۔ 5 اور صرف وہی ہے جو اپنے پاس سے دیتا ہے، اس کے سوا کوئی دوسرا اگر دیتا ہے تو اسی کا دیا دیتا ہے، سو حقیقت میں دینے والا وہی ہے۔ سب دینے والوں سے بہتر ان لوگوں کے لحاظ سے فرمایا جو دنیا میں ایک دوسرے کو کچھ دے دیتے ہیں، مگر ان میں ”خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ“ کی صفات میں سے ایک صفت بھی نہیں جو اوپر گزری ہیں۔
Ayah 22:59

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

یقینا وہ انھیں ایسے مقام میں ضرور داخل کرے گا جس پر وہ خوش ہوں گے اور بیشک اللہ ضرور سب کچھ جاننے والا، بےحد بردبار ہے۔

لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ : مراد جنت ہے جسے دیکھ کر وہ خوش ہوں گے اور اس میں اپنی ہر خواہش موجود پائیں گے۔ پسندیدہ رہائش بھی رزق حسن میں شامل ہے، اس کا الگ ذکر اس لیے فرمایا کہ خوبصورت اور بہترین گھر کا اہتمام لوگ کھانے پینے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ : صفت ”عَلِیْمٌ“ کی مناسبت اس مقام کے ساتھ دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والوں کے اعمال اور ان کی نیتوں کو خوب جاننے والا ہے، وہ ہر ایک کو ان کے مطابق جزا دے گا اور اسی طرح ہجرت پر مجبور کرنے والے کفار کے اعمال اور نیتوں سے بھی خوب واقف ہے، انھیں بھی ان کے مطابق سزا دے گا۔ اسی طرح ”حَلِيْمٌ“ کی مناسبت بھی دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ان مہاجرین سے جو کوتاہیاں ہوئیں اللہ تعالیٰ اپنے بےانتہا حلم کی وجہ سے ان سے چشم پوشی فرما کر انھیں رزق حسن اور پسندیدہ منزل عطا فرمائے گا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ جن کفار نے انھیں نکالا، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کمال حلم کی وجہ سے اتنے بڑے جرم کے باوجود مہلت دی اور فوراً گرفت نہیں فرمائی، جس کے نتیجے میں تقریباً وہ تمام لوگ جنھوں نے مہاجرین کو مکہ سے نکالا تھا مسلمان ہوگئے۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ اور جو شخص اس کی مثل بدلہ لے جو اسے تکلیف دی گئی، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرورہی اس کی مدد کرے گا، یقینا اللہ ضرور نہایت درگزر کرنے والا، بےحد بخشنے والا ہے۔

ذٰلِكَ ۚ وَمَنْ عَاقَبَ۔۔ : ”ذٰلِكَ“ کا لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے ہوتا ہے، یعنی یہ تو ہوا، اب اگلی بات سنو کہ جو شخص اتنا ہی بدلہ لے جتنی اسے ایذا دی گئی ہے، پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اس کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ اس میں جہاد کی ترغیب ہے اور ”اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا“ اور ”وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ“ کا مضمون دہرایا گیا ہے۔ عطف اس کا ”وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔“ پر ہے، جس میں ان مظلوموں کا ذکر تھا جو بدلہ نہیں لے سکے، اب ان مظلوموں کا ذکر ہے جو ظالموں کے مقابلے میں قوت استعمال کریں۔ انھیں تاکید ہے کہ وہ اتنا ہی بدلہ لیں جتنی ان پر زیادتی ہوئی ہے، اگر اتنا بدلہ لینے کے بعد پھر ان پر زیادتی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ان کی ضرور ہی مدد کرے گا۔ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو بیشمار ایذائیں دیں، انھیں دین سے مرتد کرنے کے لیے مسلسل عذاب سے دو چار رکھا، جو قتل سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ تھا۔ انھیں ان کے گھروں سے نکالا، اس کے بعد بھی لڑائی کے لیے چڑھ کر آتے رہے۔ ان کی ایذا کے برابر بدلے کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ 190؁ وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ۭكَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ) [ البقرۃ : 190، 191 ] ”اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو، بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پاؤ اور انھیں وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تمہیں نکالا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو، یہاں تک کہ وہ اس میں تم سے لڑیں، پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، ایسے ہی کافروں کی جزا ہے۔“ اسی طرح حکم دیا : (وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ 12؀ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) [ التوبۃ : 12، 13 ] ”اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ بیشک یہ لوگ، ان کی کوئی قسمیں نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں۔ کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انھوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ تو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔“ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ : یہاں ان صفات کے تذکرے کا مطلب یہ نہیں کہ کفار کو معاف کر دو ، کیونکہ ان کے متعلق تو حکم ہے : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ) [ التوبۃ : 14 ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا۔“ عفو و درگزر مسلمانوں کے باہمی معاملات میں ہے، کفار کے ساتھ نہیں، فرمایا : (وَالَّذِيْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) [ الفتح : 29 ] ”اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں، کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ یہاں ان صفات کی مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اتنا ہی بدلہ لینے کا جو حکم دیا ہے کہ جتنی ایذا دی جائے، یہ اس کے عفو و مغفرت کی وجہ سے ہے کہ اس نے کفار پر بھی حد سے بڑھ کر زیادتی کی اجازت نہیں دی، جس سے وہ مظلوم ٹھہریں، کیونکہ مظلوم کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لے رکھا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّھَا لَیْسَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ) [ بخاري، المظالم، باب الاتقاء و الحذر من دعوۃ المظلوم : 2448، عن ابن عباس ؓ ] ”مظلوم کی بددعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں۔“ دوسری مناسبت یہ ہے کہ بدلہ لینے میں سو فیصد برابری تو انسان کے بس ہی میں نہیں، اس لیے فرمایا کہ کچھ کمی بیشی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ جو مظلوم اور بےنوا کی مدد کرتا ہے، وہ اس لیے ہے کہ یہ اس کے لیے کچھ مشکل نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، رات کو دن میں داخل کرکے دن کو رات پر غالب کردیتا ہے اور دن بڑا ہوجاتا ہے اور دن کو رات میں داخل کر کے رات کو دن پر غالب کردیتا ہے اور رات بڑی ہوجاتی ہے۔ تو اس کے لیے مظلوموں کو ظالموں پر غالب کرنا کیا مشکل ہے ؟ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ کے مظلوم کی مدد کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے حال سے پوری طرح باخبر ہے، سب کچھ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے، سنتے اور دیکھتے ہوئے وہ ظلم کو کس طرح برداشت کرے گا ؟
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ بیشک اللہ ہی ہے جو حق ہے اور (اس لیے) کہ بیشک اس کے سوا وہ جسے بھی پکارتے ہیں وہی باطل ہے اور (اس لیے) کہ بیشک اللہ ہی بےحد بلند ہے، بہت بڑا ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ۔۔ : یہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے وعدے کو پورا کرنے کی تیسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سچا اور حق رب ہے۔ جس چیز کا وہ ارادہ کرے اسے کر گزرتا ہے، سو وہ اپنے دوستوں کی ضرور مدد کرے گا اور اس کے سوا جس کو بھی لوگ پکارتے ہیں وہ ناحق اور باطل ہے، وہ خود اپنی مدد نہیں کرسکتا تو ان کی مدد کیا کرے گا ؟ اور اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کے مقابلے میں اپنے دشمنوں کی مدد کیوں کرے گا ؟ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ : چوتھی وجہ اس بات کی کہ ”اللہ تعالیٰ مظلوم مسلمانوں کی مدد ضرور کرے گا“ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے اونچا ہے، باقی سب نیچے ہیں اور وہی بیحد بڑا ہے، باقی سب چھوٹے ہیں اور کوئی اس کا مدمقابل نہیں۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو زمین سر سبز ہوجاتی ہے۔ بیشک اللہ نہایت باریک بین، ہر چیز سے باخبر ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ۔۔ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے کی نعمت کا ذکر فرما کر اپنے حق ہونے اور دوسرے تمام معبودوں کے باطل ہونے کا اور اپنی صفات ”سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ“ اور ”الْعَلِيُّ الْكَبِيْر“ کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اپنے ہر چیز پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر اپنی چھ نعمتیں شمار فرمائیں، جن میں سے پہلی نعمت اس آیت میں بیان فرمائی ہے۔ ”اَلَمْ تَرَ“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تو نے نہیں دیکھا۔“ یہاں یہ معنی بھی مراد ہوسکتا ہے، کیونکہ بارش برسنا اور زمین کا سرسبز ہونا ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہے۔ مگر عام طور پر قرآن مجید میں ”اَلَمْ تَرَ“ کا لفظ ”أَلَمْ تَعْلَمْ“ کے معنی میں آیا ہے، یعنی ”کیا تمہیں معلوم نہیں۔“ دیکھیے سورة فیل کی آیت (1) : (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ) کی تفسیر۔ یہاں بھی یہی دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ دیکھنے سے مقصود علم ہی ہے اور جس دیکھنے سے علم حاصل نہ ہو وہ کالعدم ہے۔ ”ماءٍ“ کی تنوین تقلیل کی وجہ سے ”کچھ پانی“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو ”زمین سرسبز ہوگئی“ کے بجائے فرمایا ”زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔“ یعنی ماضی کے بجائے مضارع کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ بارش کا نزول ایک دفعہ ہوتا ہے تو زمین ایک لمبا عرصہ سرسبز رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت دیکھیے کہ زمین مردہ اور پتھر کی طرح سخت تھی، اس کے نیچے خشک بیج مدت سے دفن تھے، رحمت کی بارش برسی تو زمین پھولی اور ابھری، خشک بیج میں زندگی پیدا ہوئی اور نرم و نازک کونپل زمین کا سینہ چیر کر باہر نکلی۔ دیکھتے ہی دیکھتے زمین کا سارا تختہ آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سرور پہنچانے والا سبز رنگ اختیار کر گیا، جو عقل والوں کے لیے دلیل ہے کہ جس اللہ تعالیٰ نے بارش کے ذریعے سے بنجر زمین میں دفن خشک بیج سے پودا پیدا فرمایا وہی قیامت کو اس زمین سے مردہ انسانوں کو ان کی ”عَجْبُ الذَّنَبِ“ (دم کی ہڈی) سے دوبارہ زندہ کرسکتا ہے اور کرے گا۔ [ بخاري، التفسیر، باب (یوم ینفخ فی الصور فتأتون أفواجا) : 4935 ] بعض مفسرین نے اس میں اس اشارے کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش کے ذریعے سے زندگی بخشتا ہے، اسی طرح وہ مردہ دلوں کو وحی الٰہی کے ذریعے سے ایمان کی زندگی عطا فرماتا ہے۔ 3 زمین سے پیدا ہونے والے پودوں کے پتے، پھول، پھل اور دانے، غرض ہر چیز انسان کے لیے خوراک، لباس اور دوسری ضروریات کے کام آتی ہے اور سبھی اللہ کی نعمتیں ہیں مگر یہاں زمین کے سرسبز ہونے کو خاص طور پر ذکر فرمایا کہ اس سبزے سے آنکھوں کو جو تازگی اور دل کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ دوسری نعمتوں کا ذکر چھوڑ دیا کہ انسان خود سوچ لے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ : لفظ ”لَطِيْفٌ“ میں دو مفہوم شامل ہیں، ایک ”باریک چیزوں کو دیکھنے والا“ اور دوسرا ”نہایت مہربانی والا۔“ ”اِنَّ“ عموماً پہلے جملے کی وجہ بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتار کر زمین کو سرسبز اس لیے کیا کہ وہ نہایت مہربان بھی ہے، باریک بین بھی اور ہر چیز کی پوری خبر رکھنے والا بھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ زمین کے سینے میں کس جگہ کون سا انسان یا حیوان یا کسی پودے کا باریک سے باریک بیج دفن ہے اور اسی کے لطف و کرم سے یہ سب کچھ دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس سے اپنے بندوں کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی مادی یا اخلاقی ضرورت پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنی کمال مہربانی اور باریک طریقوں سے ایسے انتظام فرماتا ہے کہ ہر بندے کی بلکہ ہر مخلوق کی ضرورت، جو اس کے حسب حال ہے، پوری ہو۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بلاشبہ اللہ ہی یقینا بڑا بےپروا، تمام تعریفوں والا ہے۔

لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ : یہ دوسری دلیل ہے، یعنی وہ صرف آسمان سے بارش برسانے اور زمین سے سبزہ اگانے ہی کا مالک نہیں بلکہ آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا وہ اکیلا مالک ہے، بارش برسانا اور سبزہ اگانا تو اس کے اختیار کا معمولی سا حصہ ہے۔ ”لَهٗ“ کو پہلے لانے سے قصر کا مفہوم پیدا ہوا۔ تو جب ہر چیز کا مالک وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو ؟ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ : یہ عام مشاہدہ ہے کہ انسان جن چیزوں کا مالک ہوتا ہے ان کا محتاج بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کی ضرورت ہوتی ہیں، اس لیے آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہونے کے ذکر کے ساتھ وضاحت فرمائی کہ وہ آسمان و زمین اور ان میں موجود کسی چیز کا محتاج نہیں، بلکہ سب سے بےپروا اور غنی ہے، حتیٰ کہ حمد کرنے والوں کی حمد سے بھی غنی ہے۔ اس وصف کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ حمید یعنی تمام تعریفوں والا ہے، ہر حمد اور تعریف خواہ کسی کی ہو، دراصل وہ اس اکیلے ہی کی ہے، کیونکہ مخلوق میں تعریف کے لائق جو خوبی بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ جب سب اسی کے محتاج ہیں تو پھر مخلوق کی عبادت کیوں ہو جو خود اپنے وجود میں بھی اس کی محتاج ہے۔ ”اِنَّ“ کے اسم ”اللّٰهَ“ اور اس کی خبر ”الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ“ کے درمیان ضمیر فصل ”ھُوَ“ لانے سے اور ”اِنَّ“ کی خبر ”الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ“ پر الف لام لانے سے کلام میں دو وجہوں سے حصر پیدا ہوگیا، جس سے ترجمہ یہ ہوگا کہ بلاشبہ اللہ ہی یقیناً بڑا بےپروا، تمام تعریفوں والا ہے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ نے تمہاری خاطر مسخر کردیا ہے جو کچھ زمین میں ہے اور ان کشتیوں کو بھی جو سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رکھتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے مگر اس کے اذن سے۔ بیشک اللہ یقینا لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ : یہ تیسری دلیل ہے۔ زمین کی ہر چیز کو انسان کے لیے مسخر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس طرح بنایا ہے کہ آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ سورج اور چاند اس رفتار سے چل رہے ہیں جو انسان کے لیے مفید ہے۔ ہوا، پانی، آگ، بجلی، ایٹم، غرض کتنی ہی منہ زور قوتیں ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔ پالتو جانور ہیں تو ان پر سواری کرتا ہے، ان کا دودھ پیتا، گوشت کھاتا اور کئی ضروریات پوری کرتا ہے، غرض وہ ہر طرح سے انسان کے تابع کردیے گئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اونٹ، گائے، بھینس اور گھوڑے کو انسان کے تابع نہ کرتا تو انسان کبھی انھیں پالتو نہ بنا سکتا، فرمایا : (وَذَلَّــلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَمِنْهَا يَاْكُلُوْنَ) [ یٰسٓ : 72 ] ”اور ہم نے انھیں ان کے تابع کردیا تو ان میں سے کچھ ان کی سواری ہیں اور ان میں سے بعض کو وہ کھاتے ہیں۔“ رہے جنگلی جانور، تو ان کا شکار کرکے انھیں زندہ یا مردہ اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ وَالْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ : یہ چوتھی دلیل ہے، اگرچہ سمندر میں چلنے والے جہاز بھی زمین کی ان چیزوں میں شامل ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کر رکھا ہے، مگر ان کا معاملہ دوسری چیزوں سے زیادہ عجیب ہے کہ پانی، جو ہر وزن والی چیز کو اپنے اندر غرق کرلیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس طرح انسان کے فائدے کے لیے مسخر کردیا ہے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ ایک خاص وضع پر بنائے ہوئے ہزاروں ٹن کے پہاڑوں جیسے وزنی اور لمبے چوڑے اور اونچے بحری جہازوں کو اپنے سینے پر اٹھائے رکھتا ہے، غرق نہیں کرتا۔ یہ جہاز انسان کی ضرورت کی ہزاروں اشیاء اٹھا کر سیکڑوں ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں اور ان میں بیٹھے ہوئے لوگ اس طرح آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں گویا وہ اپنے گھر میں آرام کر رہے ہیں۔ ”بِاَمْرِهٖ“ یعنی یہ سب کچھ اس کے تکوینی حکم سے ممکن ہوا کہ اس نے سمندر کو اس طرح بنایا ہے کہ جہاز اس پر چل سکیں۔ اگر اس کا حکم نہ ہوتا تو سمندر انھیں ایک لمحے میں ڈبو کر اپنی آغوش میں لے لیتا، یا انھیں اپنے سینے پر چلنے نہ دیتا اور وہ ایک جگہ کھڑے کھڑے ہی تباہ ہوجاتے۔ وَيُمْسِكُ السَّمَاۗءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ : یہ پانچویں دلیل ہے۔ آسمان کو زمین پر گرنے سے روک کر رکھنا سمندر میں جہازوں کے چلنے سے بھی عجیب ہے کہ جہازوں کے نیچے کم از کم پانی تو ہے جسے اللہ نے انھیں غرق کرنے سے منع کردیا ہے، بلکہ اسے جہازوں کا ٹھکانا اور سہارا بنادیا ہے مگر آسمان کو اتنی بلندی پر نیچے کسی بھی چیز کے سہارے کے بغیر تھام کر رکھنا اس بےانتہا قوتوں والے مالک ہی کا کام ہے۔ ایسے مالک کے ہوتے ہوئے بےبس مخلوق کی بندگی کرنے سے بڑی بےانصافی کیا ہوسکتی ہے ؟ اِلَّا بِاِذْنِهٖ : یہ اس لیے فرمایا کہ جب اس کا اذن ہوگا تو آسمان پھٹ جائے گا اور اسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے کوئی چیز نہیں روک سکے گی۔ اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : ”رَءُوْفٌ“ اور ”رَّحِيْمٌ“ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صفت ”رَأْفَۃٌ“ میں نقصان سے بچانے کا اور صفت ”رَحْمَۃٌ“ میں نفع پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ بھی آجاتے ہیں۔ اکٹھے آنے میں نقصان سے بچانے اور نفع پہنچانے کے دونوں مفہوم جمع ہوگئے۔ (ابن عاشور) ”رَءُوْفٌ“ اور ”رَّحِيْمٌ“ بجائے خود مبالغے کے صیغے ہیں، ان پر مزید تنوین تعظیم آنے کے بعد اس کی رافت و رحمت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے ؟ اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر جو یہ احسانات فرمائے ہیں اور تمہاری زندگی کے لیے جو یہ اسباب فراہم کیے ہیں یہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ تمہارا حاجت مند ہے، بلکہ یہ سراسر اس کی شفقت و مہربانی کا کرشمہ ہے، تمہارا اس پر کوئی زور نہ تھا کہ وہ چاہتا یا نہ چاہتا تم اس سے یہ اسباب حاصل کرلیتے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں مارے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ بیشک انسان یقینا بہت ناشکرا ہے۔

وَهُوَ الَّذِيْٓ اَحْيَاكُمْ۔۔ : یہ چھٹی نعمت ہے اور پہلے ذکر کی گئی تمام نعمتوں کی اصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا، اگر پیدا ہی نہ کرتا تو دوسری تمام نعمتیں تمہارے کس کام کی تھیں ؟ اس بات کو ہر ملحد شخص بھی مانتا ہے کہ ہم پہلے نہیں تھے، بعد میں پیدا ہوئے۔ ”ۡ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ“ پھر وہ تمہیں موت دے گا، یہ حقیقت بھی ہر شخص تسلیم کرتا ہے۔ ”ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ“ جو شخص پہلی دونوں باتیں مانتا ہے اسے یہ بھی ماننا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد زندہ بھی کرے گا۔ 3 بظاہر ان تینوں میں سے نعمت صرف پہلی دفعہ پیدا کرنا ہے، کیونکہ پھر مارنا اور زندہ کرنا تو محاسبے کے لیے ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ بھی نعمتیں ہیں، کیونکہ ان دونوں کے بغیر جنت اور دیدار الٰہی کبھی حاصل نہیں ہوسکتے اور جو چیز جنت کی ہمیشہ کی زندگی اور مالک کے دیدار کا ذریعہ ہو اس کے نعمت ہونے میں کیا شک ہے ؟ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ : ”لَكَفُوْرٌ“ ”کَافِرٌ“ میں مبالغہ ہے اور کفر سے مراد کفر نعمت یعنی نعمتوں کی ناشکری یا ان کا انکار ہے، یعنی ابن آدم ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتا جو اوپر کی آیات میں مذکور ہیں، نہ ان کا شکر ادا کرتا ہے، یعنی اس دعوت کو نہیں مانتا جو اس کی طرف سے اس کے رسول پیش کرتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) [ إبراہیم : 34 ] ”اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پاؤ گے، بلاشبہ انسان یقیناً بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔“
Ayah 22:67

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہر امت کے لیے ہی ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ تجھ سے اس معاملے میں ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، بیشک تو یقینا سیدھے راستے پر ہے۔

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ : ”مَنْسَكًا“ ”نَسَکَ یَنْسُکُ“ (ن، ک) سے مصدر میمی ہے، عبادت، قربانی، عبادت کا طریقہ یا قربانی کا طریقہ، یا یہ ظرف ہے، یعنی عبادت یا قربانی کی جگہ۔ ”نَسْکٌ“ اور ”نُسُکٌ“ عبادت، ذبیحہ۔ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی کی نماز پڑھائی، پھر لوگوں کی طرف رخ کرکے فرمایا : (إِنَّ أَوَّلَ نُسُکِنَا فِيْ یَوْمِنَا ھٰذَا أَنْ نَّبْدَأَ بالصَّلَاۃِ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ) [ بخاري، العیدین، باب استقبال الإمام الناس في خطبۃ العید : 976، عن البراء۔ ] ”ہمارے آج کے دن میں ہماری پہلی عبادت یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر واپس جائیں اور قربانی کریں۔“ یہاں نماز کو ”نُسُکٌ“ کہا گیا ہے۔ ”لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا“ کا جملہ اس سے پہلے آیت (34) میں بھی گزرا ہے، وہاں اس کا معنی قربانی کا طریقہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہاں آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پالتو مویشیوں پر اللہ کا نام لینے یعنی ذبح کرنے کا ذکر ہے۔ 3 آیات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب حج کے بعض مناسک میں تبدیلی کی، اسی طرح جیسے پہلی امتوں کے لیے مقرر کردہ بعض احکام منسوخ بھی کیے اور بعض میں تبدیلی فرمائی تو کفار مکہ نے، جو دین ابراہیم کے پیروکار ہونے کے دعوے دار تھے اور یہود و نصاریٰ سب نے جھگڑنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اصل دین ایک ہے جو توحید ہے، مگر ہم نے ہر زمانے کے لوگوں کے لیے اس زمانے کے احوال و ضروریات کے مطابق عبادت کا ایک طریقہ مقرر فرمایا، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے تھے۔ جس میں بعض چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی تھیں، جس طرح موسیٰ ؑ کی امت کے لیے تورات اور عیسیٰ ؑ کی امت کے لیے تورات کے ساتھ انجیل تھی۔ اب قیامت تک دنیا کے تمام لوگ محمد ﷺ کی امت ہیں اور ان کا ضابطۂ حیات قرآن مجید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : (شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا) [ المائدۃ : 48 ] ”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔“ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ اگر بعد میں آنے والے نبی کے زمانے میں کسی عبادت کے طریقے میں کوئی تبدیلی کر دے تو بندوں کا کام یہ ہے کہ وہ دل و جان سے اسے قبول کریں نہ کہ اس معاملے میں پیغمبر سے جھگڑا شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو فرمایا کہ یہ لوگ ہرگز آپ سے اس معاملے میں جھگڑا نہ کریں، یعنی آپ بھی ان سے جھگڑا نہ کریں اور نہ انھیں جھگڑے کا موقع دیں اور آپ اپنے رب کی طرف دعوت دیتے چلے جائیں اور یقین رکھیں کہ آپ بالکل سیدھے راستہ پر ہیں۔ سورة جاثیہ میں فرمایا : (ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ) [ الجاثیۃ : 18 ] ”پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔“
Ayahs 22:68–69

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو تم کرتے ہو۔

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

وَاِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔۔ : یعنی اگر دین حق کی پوری وضاحت کے بعد بھی کفار جھگڑے سے باز نہ آئیں تو آپ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں اور ان سے کہہ دیں کہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے، وہ تمہیں اس کا بدلہ ضرور دے گا اور دین کی جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن کرے گا۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں جانا کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ بیشک یہ ایک کتاب میں درج ہے، بیشک یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یعنی کیا تمہیں واضح بات بھی معلوم نہیں کہ آسمان و زمین میں جو کچھ بھی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ؟ نہ اس کے مخلص اور فرماں بردار بندوں کی فرماں برداری اس سے مخفی ہے اور نہ اس کے منکروں اور نافرمانوں کی شرارتیں اور فساد اس سے اوجھل ہے۔ اس لیے اس علم کے ساتھ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح فرما دیا کہ ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ پورے اہتمام کے ساتھ ایک کتاب میں محفوظ ہے، اس لیے کوئی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں، اتنی مخلوق کے ہر عمل کا ریکارڈ کیسے رکھا جاسکتا ہے اور ان کے درمیان فیصلہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا بیشک یہ تمہارے لیے ایک مشکل بلکہ ناممکن کام ہے مگر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں، کیونکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔