Ayah 22:36وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ : ”وَالْبُدْنَ“ ”بَدَنَۃٌ“ کی جمع ہے، بڑے بدن والا جانور۔ یہ لفظ بڑے جسم کی وجہ سے اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے قربانی کے لیے سورة انعام (143، 144) میں ”بَھِیْمَۃُ الْأَنْعَامِ“ یعنی پالتو چوپاؤں کا ذکر فرمایا تھا جو بھیڑ، بکری، اونٹ اور گائے ہیں۔ اس آیت میں بڑے جانوروں کا ذکر خصوصاً فرمایا، کیونکہ چوپاؤں میں بطور ”شعائر اللہ“ وہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، خاص طور پر اونٹ اپنے بلند قد کی وجہ سے اور اشعار کی وجہ سے زیادہ ہی نمایاں ہوتا ہے۔ اشعار کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ میں قربانی کے اونٹ روانہ کیے جاتے ہیں تو ان کے کوہان کے دائیں طرف برچھی وغیرہ سے زخم کرکے خون جلد پر مل دیا جاتا ہے، جو علامت ہوتا ہے کہ یہ جانور مکہ معظمہ قربانی کے لیے جا رہے ہیں اور جس سے ہر دیکھنے والا ان کی تعظیم و تکریم اور خدمت کرتا ہے۔ گائے کو بھی ”بَدَنَۃٌ“ کہہ لیتے ہیں، قاموس میں ہے : ”اَلْبَدَنَۃُ مُحَرَّکَۃٌ مِنَ الإِْبِلِ وَالْبَقَرِ کَالْأُضْحِیَۃِ مِنَ الْغَنَمِ“ ”یعنی جس طرح بھیڑ بکری کی قربانی کو اضحیہ کہتے ہیں اسی طرح اونٹ اور گائے کو بدنہ کہتے ہیں۔“ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : (خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُھِلِّیْنَ بالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نَّشْتَرِکَ فِي الْإِبِلِ ، وَالْبَقَرِ ، کُلُّ سَبْعَۃٍ مِنَّا فِيْ بَدَنَۃٍ) [ مسلم، الحج، باب جواز الاشتراک في الھدی۔۔ : 351؍1318 ] ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے نکلے تو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم اونٹوں اور گائیوں میں شریک ہوجائیں، ہم میں سے ہر سات آدمی ایک بدنہ میں شریک ہوجائیں۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اونٹ اور گائے دونوں کو بدنہ کہتے ہیں اور یہ کہ حج کے موقع پر اونٹ اور گائے دونوں میں سات سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ دوسری روایت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، بیان کرتے ہیں : (کُنَّا مَعَ النَّبِيِِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحٰی فَاشْتَرَکْنَا فِي الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃً وَفِي الْجَزُوْرِ عَشْرَۃً) [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في الاشتراک في البدنۃ والبقرۃ : 905، وقال حدیث حسن صحیح وقال الألباني صحیح ] ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے تو نحر (قربانی کا وقت) آگیا تو ہم نے گائے سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی اور اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے۔“ ترمذی کے علاوہ اسے احمد، نسائی اور طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کے علاوہ دوسرے مقامات پر عید الاضحی کے موقع پر اونٹ میں دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ ہاں، حج کے موقع پر سات آدمی شریک ہوں گے، جیسا کہ مسلم کی حدیث میں گزرا ہے۔ البتہ ہمارے استاذ محمد عبدہ ؓ نے لکھا ہے : ”ایک اونٹ کی قربانی میں دس اور ایک گائے کی قربانی میں سات شریک ہوسکتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں ہے اور صحیح مسلم میں جو جابر ؓ والی روایت میں ”اَلْجَزُوْرُ عَنْ سَبْعَۃٍ“ (اونٹ سات کی طرف سے) آیا ہے وہ اس کے منافی نہیں ہے، کیونکہ دس والی روایت جواز پر محمول ہے۔“
لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ : ”خَيْرٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”تمہارے لیے ان میں بڑی خیر ہے۔“ اس خیر میں وہ منافع بھی شامل ہیں جو آیت (23) کی تفسیر میں گزرے ہیں اور ذبح کرنے کے بعد ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیوں اور جسم کے ہر حصے سے فائدہ اٹھانا بھی شامل ہے۔ آخرت میں ملنے والا اجر و ثواب اس کے علاوہ ہے اور وہ ایسی خیر ہے جو شمار سے باہر ہے۔
فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا : یہ کہنے کے بجائے کہ انھیں ذبح کرو، فرمایا، ان پر اللہ کا نام لو۔ اس لفظ کو بار بار دہرانے سے یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ اللہ کے پیدا کیے یہ چوپائے اسی کے نام پر ذبح ہونے چاہییں، نہ کسی غیر سے کوئی مراد بر لانے کی نیت پر اور نہ کسی غیر کے نام پر۔
”صَوَاۗفَّ“ ”صَافَّۃٌ“ کی جمع ہے بروزن ”فَوَاعِلَ۔“ صف کا معروف معنی قطار ہے، یعنی اونٹوں کو قربان گاہ میں قطار کی صورت میں کھڑا کرکے باری باری نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے قربانی کے جمال و جلال میں اضافہ ہوتا ہے، جیسا کہ جابر ؓ سے مروی لمبی حدیث میں ہے : (ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلاَثًا وَسِتِّیْنَ بِیَدِہٖ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ) [ مسلم، الحج، باب حجۃ النبی ﷺ : 1218۔ مسند أحمد : 3؍320، 321، ح : 14453 ]”پھر رسول اللہ ﷺ قربان گاہ کی طرف پلٹے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (63) اونٹ نحر کیے، آپ انھیں ایک برچھے کے ساتھ زخم لگاتے تھے، پھر آپ نے وہ برچھا علی ؓ کو دے دیا تو انھوں نے باقی کو نحر کردیا اور وہ کل سو اونٹ تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منیٰ میں باقاعدہ قربان گاہ تھی، جیسا کہ آج کل حکومت نے باقاعدہ جگہیں مقرر کر رکھی ہیں اور یہ بھی کہ سب اونٹ وہاں قریب قریب جمع تھے۔ (ابن عاشور) مگر حبر الامہ عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی تفسیر فرمائی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اونٹوں کو تین ٹانگوں پر کھڑا کر کے نحر کیا جائے، اس طرح کہ ان کی اگلی بائیں ٹانگ اکٹھی کرکے باندھی ہوئی ہو۔ [ طبري بسند ثابت ] جابر ؓ سے روایت ہے : (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَہٗ کَانُوْا یَنْحَرُوْنَ الْبَدَنَۃَ مَعْقُوْلَۃَ الْیُسْرٰی قَاءِمَۃً عَلٰی مَا بَقِيَ مِنْ قَوَاءِمِھَا) [ أبوداوٗد، المناسک، باب کیف تنحر البدن : 1767، و صححہ الألباني ]”رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب اونٹوں کو اس طرح نحر کرتے تھے کہ ان کے اگلے بائیں پاؤں کا گھٹنا بندھا ہوتا اور وہ باقی ٹانگوں پر کھڑے ہوتے۔“ ابن عمر ؓ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنی اونٹنی بٹھا رکھی تھی اور اسے نحر کر رہا تھا تو فرمایا : ”اسے کھڑا کرکے پاؤں باندھ کر نحر کرو، یہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔“ [ بخاري، الحج، باب نحر الإبل مقیدۃ : 1713 ] قرآن مجید کے الفاظ ”فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا“ (جب ان کے پہلو گرپڑیں) سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ اونٹوں کو کھڑا کرکے نحر کرنا چاہیے، کیونکہ اگر ان کے پہلو پہلے ہی زمین پر ہوں تو وہ کیسے گریں گے ؟rnۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا : نحر یہ ہے کہ اونٹ کو اگلی بائیں ٹانگ بندھی ہونے کی حالت میں کھڑا کردیا جاتا ہے، پھر اس کے سینے کے گڑھے میں، جہاں سے گردن شروع ہوتی ہے، کوئی برچھا یا نیزہ یا چھرا ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ“ پڑھ کر مارا جاتا ہے جس سے خون کا پرنالہ بہ نکلتا ہے، بہت سا خون نکل جانے پر اونٹ دائیں یا بائیں کروٹ پر گرپڑتا ہے۔ اس کی جان پوری طرح نکلنے سے پہلے اس کی کھال اتارنا یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کاٹنا منع ہے، کیونکہ شداد بن اوس ؓ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقَتْلَۃَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَ وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَہٗ فَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَہٗ) [ مسلم، الصید والذبائح، باب الأمر بإحسان الذبح۔۔ : 1955 ]”اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان یعنی اس سے اچھا سلوک کرنا فرض فرمایا ہے، سو تم جب قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے۔“ اور ابو واقد لیثی ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا قُطِعَ مِنَ الْبَھِیْمَۃِ وَھِيَ حَیَّۃٌ فَھِيَ مَیْتَۃٌ) [ أبوداوٗد، الضحایا، باب إذا قطع من الصید قطعۃ : 2858۔ ترمذي : 1480 ] ”جانور کا جو حصہ اس وقت کاٹا جائے جب وہ زندہ ہو تو وہ (گوشت) مردار ہے۔“ شیخ البانی ؓ نے اسے صحیح کہا ہے۔
فَكُلُوْا مِنْهَا۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سے پہلے آیت (28) کی تفسیر۔ ”الْقَانِعَ“ ”قَنِعَ یَقْنَعُ“ (ع) سے اسم فاعل ہے، قناعت کرنے والا، اللہ نے جو دیا ہے اس پر صبر کرکے سوال سے بچنے والا۔ ”وَالْمُعْتَرَّ“ (سوال کے لیے) سامنے آنے والا۔ ”فَكُلُوْا“ میں ”فاء“ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے جانور کی جان پوری طرح نکلنے کے بعد جتنی جلدی ہو سکے اس کا گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیونکہ قربانی کے گوشت ہی سے ناشتہ کرنا مستحب ہے۔ معلوم ہوا قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، دوست احباب، خویش و اقارب اور ان مساکین کو بھی کھلانا چاہیے جو سوال نہیں کرتے اور ان فقراء و مساکین کو بھی جو سوال کے لیے آجاتے ہیں۔ گویا قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جاسکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تینوں برابر ہوں۔
كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْن : یعنی یہ ہم ہیں جنھوں نے اس طرح بےبس کرکے اتنے بڑے قوی ہیکل اونٹ اور بیل، جو طاقت میں تم سے کہیں زیادہ ہیں، تمہارے تابع کردیے ہیں۔ تم ان سے جو فائدہ چاہتے ہو اٹھاتے ہو، ان پر بوجھ لادتے ہو، سواری کرتے ہو، دودھ پیتے ہو اور جب چاہتے ہو ذبح کرلیتے ہو، وہ اف نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ تم ہمارا شکر ادا کرو، نہ کہ مشرکین کی طرح ان کا جن کا نہ ان چوپاؤں کے پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے اور نہ تمہارے لیے تابع کرنے میں۔
Ayah 22:37لَنْ يَّنَال اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۗؤُهَا۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس نہ قربانیوں کے گوشت پہنچیں گے، جو کھا لیے گئے اور نہ ان کے خون، جو بہا دیے گئے۔ یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے غنی ہے، اس کے پاس تو تقویٰ یعنی تمہارے دل کا وہ خوف پہنچے گا جو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے، جو دل پر غالب ہوجاتا ہے تو آدمی اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتا اور ہر منع کردہ کام سے باز آجاتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی صُوَرِکُمْ وَ أَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَ أَعْمَالِکُمْ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ۔۔ : 34؍ 2564 ] ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے عملوں کو دیکھتا ہے۔“ اس آیت اور حدیث سے دل کے تقویٰ اور نیت کے اخلاص کی اہمیت ظاہر ہے، اس لیے قربانی خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے، نہ دکھاوا مقصود ہو اور نہ شہرت، نہ فخر اور نہ یہ خیال کہ لوگ قربانی کرتے ہیں تو ہم بھی کریں۔ نیت کے بغیر عمل کا کچھ فائدہ نہیں۔ نیت خالص ہو تو بعض اوقات عمل کے بغیر ہی بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا : (إِنَّ بالْمَدِیْنَۃِ اَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِیْرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوْا مَعََکُمْ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَھُمْ بالْمَدِیْنَۃِ ؟ قَالَ وَھُمْ بالْمَدِیْنَۃِ حَسَبَھُمُ الْعُذْرُ) [ بخاري، المغازی، باب : 4423 ]”مدینہ میں کئی لوگ ہیں کہ تم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ہیں۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! مدینہ میں رہتے ہوئے ؟“ فرمایا : ”ہاں ! مدینہ میں رہتے ہوئے، انھیں عذر نے روکے رکھا۔“ نیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آدمی کی زندگی جتنی بھی ہو محدود ہے، یعنی صرف چند سال، اگر اس میں نیک عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ جنت میں اور برے عمل کرے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا۔ محدود عمل پر غیر محدود جزا نیت کی وجہ سے ہے کہ نیک کی نیت ہمیشہ نیکی کرتے رہنے کی اور بد کی نیت ہمیشہ بدی کرتے رہنے کی تھی۔ دیکھیے سورة انعام (27، 28)۔
كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا هَدٰىكُمْ : یہاں تاکید کے لیے قربانی کے جانوروں کو مسخر کرنے کا احسان دوبارہ یاد دلایا اور تکبیر یعنی ”اللہ اکبر“ کہہ کر اللہ کی بزرگی بیان کرنے کا ذکر فرمایا، اس سے پہلے قربانی کرتے وقت اللہ کا نام لینے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ“ کہنا اللہ کو مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ اونٹ کو اشعار (کوہان کی ایک طرف زخم) کرتے ہوئے ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ“ پڑھتے تھے۔ [ الموطأ لإمام مالک : 845 ] انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ“ پڑھا اور اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا۔ [ بخاري، الأضاحي، باب التکبیر عند الذبح : 5565 ] ”لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا هَدٰىكُمْ“ کے لفظ عام ہونے کی وجہ سے چوپاؤں کو مسخر کرنے کی نعمت پر دوسرے اوقات میں بھی اللہ کی کبریائی بیان کرنی چاہیے، جیسا کہ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کے لیے روانہ ہوتے وقت اونٹ پر سوار ہوتے تو تین دفعہ ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر ”سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ“ پڑھتے (آگے سفر کی مکمل دعا مذکور ہے)۔ [ مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ۔۔ : 1342 ]
وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ :”الْمُحْسِنِيْنَ“ کو بشارت دینے کے حکم کے بعد ”الْمُحْسِنِيْنَ“ کو بشارت دینے کا حکم دیا۔ احسان کا تعلق ”وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ“ سے ہے۔ تقویٰ ہر وقت اللہ کے خوف سے اس کے احکام پر عمل اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا نام ہے۔ احسان بھی یہی ہے کہ ہر وقت یہ بات دل و دماغ میں حاضر رکھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے احسان کی تفسیر فرمائی : (أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَّمْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ)[ بخاري، الإیمان، باب سؤال جبریل۔۔ : 50 ] ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ تواضع اور احسان کی صفات رکھنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں ہر خیر کی بشارت ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (112) ، نساء (125) اور لقمان (22) اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
3 مفسر بقاعی نے ”وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ“ کی واؤ کا ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ دین کا مدار نذارت و بشارت دونوں پر ہے، اس مقام پر چونکہ حج اور اس کے اعمال قربانی وغیرہ کا ذکر ہے، جو بشارت سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں، اس لیے نذارت کو حذف کرکے واؤ عطف کے بعد بشارت کا واضح الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ گویا اصل عبارت یوں تھی :”فَأَنْذِرْ أَیُّھَا الدَّاعِی ! الْمُسِیْءِیْنَ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ“ ”سو اے دعوت دینے والے ! برائی کرنے والوں کو ڈرا اور نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دے۔“
Ayah 22:38اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : پچھلی آیات کے ساتھ اس مضمون کا تعلق یہ ہے کہ اس سورت میں اس سے پہلے کفار کا اور ان کے لیے عذاب الیم کا ذکر ہوا ہے، جو اسلام اور مسجد حرام سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ جس میں اللہ کی عبادت کرنا ہر ایک کا حق ہے۔ پھر آیت (19) ”ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ“ میں مشرکین اور موحدین کی کشمکش کا ذکر فرمایا ہے، اس کے بعد بیت اللہ کی تعمیر، حج کی ابتدا اور قربانی اور حج کے دوسرے اعمال کی فضیلت کا بیان ہوا ہے جس سے مہاجر مسلمانوں کے دل میں اپنے وطن کو دیکھنے، بیت اللہ کی زیارت اور اس کے عمرہ و حج کا شوق پیدا ہونا قدرتی تھا اور یہ خیال بھی کہ کافر کب تک ظلم کرتے رہیں گے اور مسلمانوں کو اللہ کے گھر سے روکتے رہیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اپنے آپ کو بےیارو مددگار مت سمجھیں، اللہ تعالیٰ ان کا دفاع کر رہا ہے اور کرے گا۔ بہت جلد مسلمانوں کو غلبہ عطا ہوگا اور کفار، جنھوں نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور انھیں ان کے وطن مکہ معظمہ سے ہجرت پر مجبور کیا، وہ مغلوب ہوں گے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ : ”خَوَّانٍ“ ”خَانَ یَخُوْنُ“ سے اسم فاعل مبالغے کا صیغہ ہے اور ”كَفُوْرٍ“ ”کَفَرَ یَکْفُرُ“ سے اسم فاعل مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کے دفاع کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بیحد خیانت کرنے والا، بہت ناشکرا ہے، جبکہ کفار میں یہ دونوں صفات پائی جاتی ہیں۔
3 یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو بیحد خیانت کرنے والا، بہت ناشکرا ہو، تو کیا وہ عام خیانت کرنے والے اور عام ناشکرے کو پسند فرماتا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی خیانت کرنے والے اور کسی بھی ناشکرے کو پسند نہیں کرتا، خواہ وہ صرف خائن و کافر ہو یا خوان و کفور ہو، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَاۗىِٕنِيْنَ) [ الأنفال : 58 ] ”بیشک اللہ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔“ اور فرمایا : (فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ) [ آل عمران : 32 ] ”بیشک اللہ کفر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔“ یہاں مبالغے کے صیغے لانے کے دو فائدے ہیں، ایک یہ کہ کفار مکہ کا حال بیان کرنا مقصود ہے کہ انھیں بیت اللہ کی تولیت کی امانت اور حرم میں سکونت کی نعمت عطا کی گئی مگر انھوں نے شرک و کفر پر اصرار کرکے اور مسلمانوں پر بےپناہ مظالم ڈھا کر، انھیں خانہ بدر کرکے اور آئندہ حج و عمرہ، نماز و طواف اور دوسری عبادات کے لیے اللہ کے گھر میں آنے سے روک دیا۔ یہ امانت میں حد سے بڑھی ہوئی خیانت اور نعمت کی بہت بڑی ناشکری ہے۔ یاد رہے کہ ”خَوَّانٍ“ میں ”كَفُوْرٍ“ سے زیادہ مبالغہ ہے۔ ”خَؤُوْنٌ“ کے بجائے ”خَوَّانٍ“ اس لیے لایا گیا ہے کہ کفر اور دوسرے نقائص کی اصل بھی خیانت ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ ممکن نہیں کہ انسان میں پائے جانے والے نقائص مبالغہ سے خالی ہوں۔ خیانت ہی کو لے لیجیے ! آدمی جب کسی کی خیانت کی نیت کرتا ہے، پھر اس پر عمل کرتا ہے تو درحقیقت وہ پہلے اپنی جان کی خیانت کرتا ہے، پھر لوگوں کی اور رب تعالیٰ کی بھی، کفر کا بھی یہی حال ہے۔
Ayah 22:39اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ۔۔ :”أَيْ فِی الْقِتَالِ“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے دفاع کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام مسلمانوں سے لے گا، وہ اگر چاہے تو قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب مدین کی طرح آسمانی عذاب کے ذریعے سے کفار کو تباہ و برباد کرسکتا ہے، مگر فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کے زمانے سے اللہ تعالیٰ نے کفار کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا دلوانے کا طریقہ اختیار فرمایا، کیونکہ اس میں بیشمار حکمتیں ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ 14 ۙ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ) [ التوبۃ : 14، 15 ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور انھیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“ جہاد کی چند حکمتوں کے لیے دیکھیے سورة محمد (4) ، آل عمران (140 تا 142، 179) اور توبہ (16)۔
3 یہ پہلی آیت ہے جس میں کفار سے لڑائی کی اجازت دی گئی ہے، کیونکہ مکہ میں کفار کی بیشمار زیادتیوں کے باوجود مسلمانوں کو لڑنے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ہاتھ روک کر رکھنے کا حکم تھا، جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَھُمْ كُفُّوْٓا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ) [ النساء : 77 ] ”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔“ عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : (لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّۃَ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ أَخْرَجُوْا نَبِیَّھُمْ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ! لَیُھْلِکُنَّ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی : (ۧاُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ) وَھِيَ أَوَّلُ آیَۃٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ) [ مستدرک حاکم : 2؍246، ح : 2968۔ مسند أحمد : 1؍216، ح : 1870 ] ”جب نبی ﷺ کو مکہ سے نکال دیا گیا تو ابوبکر ؓ نے کہا : ”انھوں نے (مکہ والوں نے) اپنے نبی کو نکال دیا، انا للہ و انا الیہ راجعون، وہ ضرور ہلاک کردیے جائیں گے۔“ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : (ۧاُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ) [ الحج : 39 ] عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ”یہ وہ پہلی آیت ہے جو قتال کے بارے میں نازل ہوئی۔“ جب مسلمان مدینہ منتقل ہوگئے تو چھوٹی سی اسلامی مملکت قائم ہوگئی۔ کفار نے یہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا تو اس آیت میں مسلمانوں کو بھی لڑائی کی اجازت مل گئی۔ یہ تقریباً ہجرت کے پہلے سال کے آخر کا واقعہ ہے، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ کے خلاف کئی مہمیں بھیجیں، جن کے نتیجے میں پہلا فیصلہ کن معرکہ بدر کے مقام پر ہوا، جسے اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان قرار دیا اور جس میں فرشتوں کے ذریعے سے مسلمانوں کی مدد کی گئی۔
3 قتال (لڑائی) ایک نہایت مشکل کام ہے، بیشک موت کا وقت مقرر ہے مگر آدمی جان بچانے کے لیے لڑائی سے جان بچاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قتال فرض کرنے میں تدریج سے کام لیا، پہلے اس آیت کے ذریعے سے قتال کا اذن ملا، پھر ”قَاتِلُوْا“ کے حکم کے ساتھ قتال فرض ہوا، مگر صرف ان لوگوں سے جو لڑائی کریں، جیسا کہ فرمایا : (وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا) [ البقرۃ : 190 ] ”اور اللہ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو۔“ اس کے بعد تمام کفار سے لڑنا فرض کردیا گیا، فرمایا : (كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ) [ البقرۃ : 216 ] ”تم پر لڑنا لکھ دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمہیں ناپسند ہے۔“ اور فرمایا : (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ) [ التوبۃ : 5 ] ”پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ بیٹھو۔“ اور فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) [ التوبۃ : 29] ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَ ھُمْ وَ أَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الإْسْلَامِ وَ حِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ) [ بخاري، الإیمان، باب (فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ۔۔ : 25 ] ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام لوگوں سے قتال (لڑائی) کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ بیشک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ کام کرلیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے مال مجھ سے محفوظ کرلیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ لڑائی کی تدریجاً فرضیت ایسے ہی ہے جیسے شراب تین مرحلوں میں مکمل حرام ہوئی۔ دیکھیے سورة مائدہ (90) کی تفسیر۔ اسی طرح روزہ تین مرحلوں میں موجودہ صورت میں فرض ہوا۔
بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا : یعنی مسلمانوں کو قتال کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، یہ ظلم رسول اللہ ﷺ پر بھی کیا گیا اور مسلمانوں پر بھی۔ عروہ بن زبیر فرماتے ہیں : (سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ أَشَدِّ مَا صَنَعَ الْمُشْرِکُوْنَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَأَیْتُ عُقْبَۃَ بْنَ أَبِيْ مُعَیْطٍ جَاءَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یُصَلِّيْ ، فَوَضَعَ رِدَاءَہٗ فِيْ عُنُقِہِ فَخَنَقَہُ بِھَا خَنْقًا شَدِیْدًا، فَجَاءَ أَبُوْ بَکْرٍ حَتّٰی دَفَعَہُ عَنْہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : (اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَقَدْ جَاۗءَكُمْ بالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ) [ بخاري، فضائل أصحاب النبی ﷺ ، باب : 3678 ] ”میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے پوچھا : ”مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ سخت تکلیف کیا پہنچائی تھی ؟“ انھوں نے فرمایا : ”میں نے (بدبخت) عقبہ بن ابی معیط کو دیکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف بڑھا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، اس نے اپنی چادر آپ کی گردن میں ڈالی اور آپ کا گلا بہت سختی سے گھونٹ دیا تو ابوبکر ؓ آئے اور اسے دھکیل کر پیچھے ہٹایا اور کہا : (اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللّٰهُ وَقَدْ جَاۗءَكُمْ بالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ) [ المؤمن : 28 ] ”کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے، میرا رب اللہ ہے، حالانکہ یقیناً وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔“ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : (کَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْھَرَ إِسْلَامَہُ سَبْعَۃٌ : رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُوْ بَکْرٍ ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّہُ سُمَیَّۃُ ، وَصُھَیْبٌ، وَبِلاَلٌ، وَالْمِقْدَادُ ، فَأَمَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ وَ عَلَیْہَِ سَلَّمَ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِعَمِّہِ أَبِیْ طَالِبٍ وَ أَمَّا أَبُوْ بَکْرٍ فَمَنَعَہُ اللّٰہُ بِقَوْمِہِ وَ أَمَّا سَاءِرُھُمْ ، فَأَخَذَھُمُ الْمُشْرِکُوْنَ وَأَلْبَسُوْھُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِیْدِ وَصَھَرُوْھُمْ فِي الشَّمْسِ ، فَمَا مِنْھُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وَاتَاھُمْ عَلٰی مَا أَرَادُوْا، إِلاَّ بِلَالاً ، فَإِنَّہُ ھَانَتْ عَلَیْہِ نَفْسُہُ فِي اللّٰہِ ، وَھَانَ عَلٰی قَوْمِہِ ، فَأَخَذُوْہُ ، فَأَعْطَوْہُ الْوِلْْدَانَ ، فَجَعَلُوْا یَطُوْفُوْنَ بِہِ فِيْ شِعَابِ مَکَّۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ : أَحَدٌ، أَحَدٌ) [ ابن ماجہ، السنۃ، باب فضل سلمان وأبي ذر والمقداد : 150 و صححہ الحاکم والذھبي وابن حبان وغیرھم و الألباني ] ”سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ سات آدمی تھے، رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمار، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد ؓ ، رسول اللہ ﷺ کو تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے سے محفوظ رکھا، ابوبکر ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کے ذریعے سے محفوظ رکھا۔ باقی سب کو مشرکین نے پکڑ لیا اور انھیں لوہے کی قمیصیں پہنا کر دھوپ میں جھلسنے کے لیے پھینک دیا۔ چناچہ ان میں سے جو بھی تھا اس نے اس کے مطابق کہہ دیا جو وہ چاہتے تھے سوائے بلال ؓ کے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں اس کے نزدیک اس کی جان بےقدر و قیمت ٹھہری (اس نے اپنی جان کی کوئی پروا نہ کی) اور وہ ان لوگوں کی نظر میں ایسا بےقدر و قیمت ٹھہرا کہ انھوں نے اسے پکڑا اور لڑکوں کو دے دیا۔ وہ اسے مکہ کی گھاٹیوں میں پھراتے تھے اور وہ کہتا تھا : اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔“ ابوبکر ؓ کو مشرکین کی بےتحاشا مار کا تذکرہ بھی کتب سیرت میں موجود ہے۔ جابر ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَمَّارٍ وَأَھْلِہِ وَھُمْ یُعَذَّبُوْنَ فََقَالَ أَبْشِرُوْا آلَ عَمَّارٍ وَآلَ یَاسِرٍ فَإِنَّ مَوْعِدَکُمُ الْجَنَّۃُ) [ مستدرک حاکم : 3؍383، ح : 5666 و صححہ الحاکم و وافقہ الذھبی ] ”رسول اللہ ﷺ عمار اور اس کے خاندان کے پاس سے گزرے، جب انھیں عذاب دیا جا رہا تھا تو فرمایا : ”اے آل عمار اور آل یاسر ! خوش ہوجاؤ، تمہارے وعدے کی جگہ جنت ہے۔“ خباب ؓ نے بیان کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں چادر کی ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے بہت سخت تکلیف پہنچی تھی۔ میں نے کہا : ”کیا آپ اللہ سے دعا نہیں کرتے ؟“ آپ (سیدھے ہو کر) بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ (غصے سے) سرخ تھا، فرمایا : ”تم سے پہلے لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا کہ لوہے کی کنگھیوں کے ساتھ ان کی ہڈیوں سے گوشت اور پٹھے چھیل دیے جاتے تھے، یہ چیز انھیں ان کے دین سے نہیں پھیرتی تھی اور انھیں سر کی چوٹی پر آرا رکھ کر دو حصوں میں چیر دیا جاتا، یہ چیز انھیں ان کے دین سے پھیرتی نہ تھی اور (اللہ کی قسم !) یہ کام ضرور پورا ہو کر رہے گا یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے کسی کا خوف نہیں ہوگا سوائے اللہ کے، یا سوائے بھیڑیے کے اس کی بھیڑ بکریوں پر اور لیکن تم جلدی کرتے ہو۔“ [ بخاري، مناقب الأنصار، باب ما لقي النبي ﷺ و أصحابہ من المشرکین بمکۃ : 3852 ] کفار نے مسلمانوں پر اس قدر ظلم کیا اور اتنی ایذائیں دیں کہ ان میں سے کچھ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے اور کچھ مکہ ہی میں ظلم کی چکی میں پستے رہے، حتیٰ کہ انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کی اور رسول اللہ ﷺ بھی ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔ ابوبکر ؓ بھی ایک دفعہ ہجرت کرنے کے لیے نکلے مگر ابن الدغنہ برک الغماد سے انھیں واپس لے آئے، پھر بعد میں وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔
وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ : یعنی اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے، مگر اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر اور انھیں غالب کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہاں یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ اس وقت مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں مسلمانوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی، مقابلے میں قریش تھے، جن کی سرداری پورے عرب میں مسلم تھی اور عرب کے تمام مشرک قبائل ان کی پشت پر تھے، بعد میں یہودی بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ اس موقع پر کائنات کے مالک اور شہنشاہ کا یہ فرمان کہ ”بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقیناً پوری طرح قادر ہے“ یہ جملہ ان مسلمانوں کو قوی اور قائم کردینے والا تھا جنھیں پورے عرب کے مقابلے کے لیے کہا جا رہا تھا اور کفار کو بھی تنبیہ ہے کہ ان کا مقابلہ چند مسلمانوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے، کیونکہ مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان نہیں بلکہ مراد نصرت کا وعدہ ہے۔
Ayah 22:40الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ۔۔ : یہ آیت دلیل ہے کہ اس سورت کا یہ حصہ مدینہ میں نازل ہوا ہے۔
3 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دو ظلم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا، جب کہ یہ تمام دنیا کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو شخص جہاں رہتا ہے وہاں رہنے میں اور اس کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں وہاں کے تمام لوگوں کے ساتھ برابر حق رکھتا ہے اور کسی کو حق نہیں کہ اسے اس کے گھر سے نکال باہر کرے۔ دوسرا ظلم یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کو صرف اس جرم کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکالا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جرم ہے ہی نہیں بلکہ عین عدل ہے اور یہ گھروں سے نکالنے کا باعث نہیں بلکہ امن و سکون سے اپنے گھروں میں سکونت کا ضامن ہے۔ دراصل اس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایسے طریقے سے تعریف فرمائی ہے کہ ان سے ہر جرم کی نفی کرکے اس چیز کو ان کا جرم بیان کیا ہے جو حقیقت میں جرم نہیں خوبی ہے، جیسا کہ عرب کے ایک شاعر نے کچھ لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا
وَلَا عَیْبَ فِیْھِمْ غَیْرَ أَنَّ سُیُوْفَھُمْ
بِھِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْکَتَاءِبِ
”ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں دشمن کے لشکروں سے کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“
ظاہر ہے کہ جسے وہ عیب کہہ رہا ہے وہ دراصل بہت بڑی خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقامات پر بھی کفار کا یہ ظلم یاد دلا کر مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع فرمایا ہے، فرمایا : (يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ) [ الممتحنۃ : 1 ] ”وہ رسول کو اور خود تمہیں اس لیے نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان لائے ہو۔“
وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ۔۔ : ”صَوَامِعُ“ ”صَوْمَعَۃٌ“ کی جمع ہے، وہ عبادت خانہ جو عیسائی راہب آبادیوں سے دور اونچے مینار کی شکل میں بناتے تھے، جس کی اوپر کی منزل میں وہ اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے اور مینار کی چوٹی پر عموماً رات کو چراغ جلاتے، تاکہ مسافر راستہ معلوم کرسکیں اور نچلی منزل میں قیام کرسکیں۔ امرؤ القیس نے کہا ہے :
تُضِیْءُ الظَّلَام بالْعَشِيِّ کَأَنَّھَا
مَنَارَۃُ مُمْسَی رَاھِبٍ مُتَبَتِّلٖ
”َبِيَعٌ“ ”بِیْعَۃٌ“ کی جمع ہے، آبادیوں میں نصرانیوں کے گرجے۔ ”َّصَلَوٰتٌ“ یہودیوں کے عبادت خانے، یہ ”صَلَاۃٌ“ کی جمع ہے۔ شاید ان کا نام ”َّصَلَوٰتٌ“ اس لیے رکھا گیا ہو کہ یہودیوں کو صرف اپنے عبادت خانے میں نماز پڑھنا لازم تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ ”صلوتا“ کی جمع ہے جو غیر عربی لفظ ہے اور یہودیوں کے معبد خانے پر بولا جاتا ہے۔ ”لَّهُدِّمَتْ“ باب تفعیل کی وجہ سے ترجمہ ہوگا ”بری طرح ڈھا دیے جاتے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ ہر چیز، ہر شخص اور ہر جماعت، دوسری چیز، یا شخص یا جماعت کے مقابلے میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے جنگ کرتی رہے، اگر ایسا نہ ہوتا اور نیکی کو اللہ تعالیٰ اپنی حمایت میں لے کر بدی کے مقابلے میں کھڑا نہ کرتا تو نیکی کا نشان تک زمین پر باقی نہ رہتا۔ بےدین اور شریر لوگ، جن کی ہر زمانے میں کثرت رہی ہے، تمام مقدس مقامات اور شعائر اللہ کو ہمیشہ کے لیے صفحۂ ہستی سے مٹا دیتے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ بدی کی طاقتیں کتنی ہی جمع ہوجائیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت آئے جب نیکی کے ہاتھوں بدی کے حملوں کا دفاع کرایا جائے اور حق تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد فرما کر ان کو دشمنانِ حق پر غالب کرے۔ بہرحال اس وقت مسلمانوں کو ظالم کافروں کے مقابلے میں جہاد و قتال کی اجازت دینا اسی قانون قدرت کے ماتحت تھا اور یہ وہ عام قانون ہے جس کا انکار کوئی عقل مند نہیں کرسکتا۔ اگر دفاع و حفاظت کا یہ قانون نہ ہوتا تو اپنے اپنے زمانے میں نہ نصرانی راہبوں کے صوامع قائم رہتے اور نہ نصاریٰ کے گرجے، نہ یہود کے عبادت خانے اور نہ مسلمانوں کی وہ مسجدیں جن میں اللہ کا ذکر بڑی کثرت سے ہوتا ہے، یہ سب عبادت گاہیں گرا کر اور بری طرح ڈھا کر ملیامیٹ کردی جاتیں۔ تو اس عام قانون کے تحت کوئی وجہ نہیں کہ مسلمانوں کو ایک مناسب وقت پر اپنے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس مضمون کی ایک اور آیت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (251)۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے، ان کو مسمار نہ کیا جائے، کیونکہ ان میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، البتہ بت خانے اور آتش کدے صرف اس صورت میں باقی رکھے جائیں گے جب کسی قوم سے معاہدے میں انھیں باقی رکھنا شامل ہو۔ rnۭوَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ : اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاۗءُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَاللّٰهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ) [ فاطر : 15] ”اے لوگو ! تم ہی اللہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی سب سے بےپروا، تمام تعریفوں کے لائق ہے۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کے دین کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ دین کی مدد دلیل وبرہان کے ساتھ بھی ہے اور سیف وسنان کے ساتھ بھی، اسی طرح جان کے ساتھ بھی ہے اور مال کے ساتھ بھی، پھر ہاتھوں کے ساتھ بھی ہے اور زبان کے ساتھ بھی، غرض ہر طرح سے اللہ کے دین کی مدد لازم ہے اور جو بھی یہ فریضہ سرانجام دے گا اللہ تعالیٰ اس کی یقیناً ضرور مدد فرمائے گا، خواہ اس کے لیے نصرت کے دنیوی اسباب مہیا فرما دے یا غیب سے اپنے لشکروں میں سے کسی لشکر کے ساتھ مدد کر دے، فرمایا : (وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ) [ المدثر : 31 ] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ جیسے بدر میں فرشتوں کے ذریعے سے مدد فرمائی (انفال : 9) اور خندق میں آندھی اور ان لشکروں کے ذریعے سے مدد فرمائی جو تم نے نہیں دیکھے۔ (احزاب : 9)
اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ : بیشک اللہ یقیناً بہت قوت والا، سب پر غالب ہے۔ جس کی وہ مدد کرے یقیناً وہی غالب ہوگا اور اس کا مدمقابل مغلوب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اپنے دین کی مدد کرنے والے انصار و مہاجرین اور ان کے پیروکاروں کے ہاتھوں زمین کے جابر و قاہر بادشاہوں کو مغلوب و مقہور کرکے مشرق سے مغرب تک اسلام کا بول بالا کردیا۔ (وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا) [ النساء : 87 ] ”اور اللہ سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے ؟“
Ayah 22:41اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ۔۔ : اس سے پہلے جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے کہ انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور وہ گھروں سے صرف توحید الٰہی کے جرم میں نکالے گئے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرور مدد کرے گا، انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ پیشگی بیان فرما رہے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں زمین میں اقتدار بخشا تو وہ چار کام سرانجام دیں گے۔ پہلا اور دوسرا یہ کہ وہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کریں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد میں اقامت صلاۃ کا ایسا مضبوط نظام قائم تھا کہ حدیث و سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں دوسرے گناہوں کے ارتکاب کا اور ان کی سزا کا ذکر آپ پڑھیں گے مگر ایک بھی شخص نہیں پائیں گے جو نماز نہ پڑھتا ہو یا زکوٰۃ نہ دیتا ہو اور اسے مسلمان سمجھا جاتا ہو، حتیٰ کہ منافقین کو بھی اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دینے کے لیے مسجدوں میں آ کر نماز پڑھنا پڑتی تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا) [ النساء : 142 ] ”بیشک منافق لوگ اللہ سے دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ وہ انھیں دھوکا دینے والا ہے اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر بہت کم۔“ اور سب جانتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بعض قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو ابوبکر ؓ نے فرمایا تھا : (وَاللّٰہِ ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکَاۃِ) [ بخاري، الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ : 1400 ] ”اللہ کی قسم ! میں ہر صورت اس سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرے گا۔“ مسلمانوں کے زوال کا آغاز اس دن سے ہوا جب کچھ حکمرانوں نے ان لوگوں کا موقف اختیار کیا جو کہتے تھے کہ کوئی نماز پڑھے یا نہ پڑھے، زکوٰۃ دے یا نہ دے، اس کے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، وہ پکا مسلمان ہے۔ کچھ لوگ یہاں تک پہنچ گئے کہ ایمان سب کا ایک جیسا ہے، اس میں کمی یا اضافہ نہیں ہوتا، اس لیے ہمارا اور ابوبکر ؓ کا اور ہمارا اور جبریل ؑ کا ایمان برابر ہے۔ آج کل بعض حضرات کی جماعتیں پوری دنیا میں نماز کی دعوت دیتی پھرتی ہیں مگر خود ان کے خویش و اقارب اور بیویاں اور اولاد بےنماز ہیں، اس کے باوجود وہ انھیں سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ اپنا کاروبار اور جائداد انھی کے سپرد رکھتے ہیں۔ اصل سبب عقیدے کی خرابی ہے کہ وہ بےنماز اور نمازی دونوں کے ایمان کو برابر سمجھتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ایمان صرف تصدیق اور اقرار کا نام ہے، اگر آج ”اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ“ کا فریضہ سرانجام دینے والے صدیق و فاروق اور عثمان و علی ؓ ہوتے تو ہم دیکھتے کہ یہ لوگ کس طرح نماز اور زکوٰۃ کے بغیر مسلمان کی حیثیت سے دندناتے پھرتے، بلکہ اپنے آپ کو نمازیوں سے بہتر مسلمان قرار دیتے رہتے۔
تیسرا اور چوتھا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔ اس آیت سے خلفائے راشدین کی خلافت برحق ثابت ہوتی ہے، کیونکہ انھوں نے صلاۃ و زکوٰۃ کے علاوہ صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیا۔ اللہ کی حدود قائم کیں، جن کی برکت سے حیرہ سے چل کر اکیلی خاتون نے بیت اللہ کا حج کیا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا۔ جہاد کے ذریعے سے دنیا کو توحید کی دعوت دی اور شرک و کفر سے منع کیا اور قیصر و کسریٰ اور عرب کے بڑے بڑے جابروں کو شکست فاش دے کر ان کے خزانے فتح کیے اور ان کی اقوام کو دائرۂ اسلام میں داخل کیا۔ جو خوشی سے اس دائرے میں نہیں آیا اسے زبردستی مسلمان نہیں بنایا مگر اس سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک اس نے جزیہ ادا کرنے کا اقرار کرکے اسلام کا محکوم بننا قبول نہیں کیا۔ خلفائے راشدین کے بعد وہ خلفاء بھی اس بشارت میں شامل ہیں جنھوں نے یہ چاروں امور پوری طرح سرانجام دیے۔ کس قدر بدنصیب ہیں وہ لوگ جو ان عظیم ہستیوں سے بغض رکھتے ہیں کہ جن کے اوصاف حسنہ اور اعمال صالحہ کی شہادت اللہ تعالیٰ انھیں اقتدار عطا کرنے سے پہلے دے رہا ہے۔
3 آج بھی اللہ تعالیٰ کا نصرت کا وعدہ انھی لوگوں سے ہے جنھیں اللہ تعالیٰ اقتدار عطا فرمائے تو وہ یہ چاروں کام سرانجام دیں۔ اس کے نتیجے میں انھیں اقوام عالم پر غلبہ حاصل ہوگا، اسی کے نتیجے میں معاشی بدحالی ختم ہو کر فلاحی مملکت قائم ہوگی اور اسی کے نتیجے میں امن قائم ہوگا۔ افسوس ! مسلمان حکام ان چاروں چیزوں کو چھوڑ کر کفار کے طریقوں جمہوریت، سود، بےحیائی کے فروغ، آخرت سے دوری اور صرف اور صرف دنیا طلبی کے پیچھے لگ کر یہ توقع کر رہے ہیں کہ اس سے دنیا پر غلبہ حاصل ہوگا، خوش حالی آئے گی اور امن قائم ہوگا، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ہر بیماری کا علاج صرف اور صرف اللہ کے فرمان پر عمل ہے۔
3 اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ اور بشارت سورة نور میں بھی مذکور ہے، فرمایا : (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ) [ النور : 55 ] ”اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کر امن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جس نے اس کے بعد کفر کیا تو یہی لوگ نافرمان ہیں۔“
وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ : مفسر بقاعی نے اس ”واؤ“ کے تحت بہت خوب صورت نکتہ بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس ”واؤ“ کا جس جملے پر عطف ہے وہ یہاں ذکر نہیں ہوا، جہاد کے حکم اور اس کی حکمت ”وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ“ کی مناسبت سے کلام یہ ہے کہ ”فَلِلّٰہِ بَادِءَۃُ الْأُمُوْرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُوْرِ“ یعنی پہلے کفار کے مسلمانوں کو طویل عرصہ تک بیحد ایذا کی مہلت دینے اور اب مسلمانوں کو جہاد کی اجازت اور نصرت کے وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور کی ابتدا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ شروع میں بعض اوقات کفار کو مہلت دے دیتا ہے، جس سے ان پر اتمام حجت مقصود ہوتا ہے اور ایمان کے دعوے داروں کا امتحان مقصود ہوتا ہے، تاکہ سچا اور جھوٹا اور مذبذب ایمان اور مستحکم ایمان والا ظاہر ہوجائے اور بعض اوقات شروع ہی میں مسلمانوں کی مدد کردیتا ہے۔ پس تمام کاموں کا آغاز صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمام کاموں کا انجام بھی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ”بَادِءَۃُ الْأُمُوْرِ“ کے حذف اور ”عَاقِبَةُ الْاُمُوْر“ کے ذکر سے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ہے کہ ابتدا میں تو بعض اوقات اللہ کے دشمنوں کو بھی موقع مل جاتا ہے مگر انجام تمہارا ہی ہے۔ اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے، چاہے تو دنیا میں بھی انجام مسلمانوں کے حق میں کر دے اور چاہے تو اس وقت ان کے حق میں کر دے جب ہر کام اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ کے سوا سب کا اختیار ختم ہوجائے گا (انفطار : 19) بلکہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بول بھی نہیں سکے گا۔ (نبا : 38) پھر جو جہنم سے بچ گیا اور جنت میں داخل ہوگیا تو وہی کامیاب ہے اور اسی کا انجام بخیر ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (185)۔
Ayahs 22:42–44وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ۔۔ : آیت کے شروع میں ”واؤ“ کا عطف ایک محذوف جملے پر ہے اور وہ محذوف جملہ اور یہ مذکور جملہ دونوں ترغیب و ترہیب پر مشتمل پچھلی آیات کا حاصل بیان کر رہے ہیں۔ وہ جملہ یہ ہے : ”فَاِنْ آمِنُوْا بِکَ مَکَّنَّاھُمْ فِي الْأَرْضِ وَ إِنْ یُّکَذِّبُوْکَ أَخَذْتُھُمْ“ ”پس اگر وہ (یہ سب کچھ سن کر) تجھ پر ایمان لے آئیں تو ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں گے اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا۔“ پہلا جملہ سننے والے کی سمجھ کے سپرد کرکے حذف کردیا ہے اور ”وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ“ کا اس پر عطف ڈالا ہے۔ (بقاعی) قرآن مجید میں بعض مقامات پر اس حذف شدہ جملے جیسے جملے مذکور بھی ہیں، مثلاً : (فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ) [ البقرۃ : 137 ] ”پھر اگر وہ اس جیسی چیز پر ایمان لائیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے اور اگر پھرجائیں تو وہ محض ایک مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔“ اور فرمایا : (فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ) [ آل عمران : 20 ] ”پس اگر وہ تابع ہوجائیں تو بیشک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے۔“ اور فرمایا : (قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ۭ وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا) [ النور : 54 ] ”کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے۔“
”وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ۔۔“ یہ جملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسلی دینے اور ان کا غم دور کرنے کے لیے فرمایا ہے، یعنی اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو میں انھیں پکڑ لوں گا، خواہ وہ کتنی قوت رکھتے ہوں، میں نے ان سے پہلے عمر، قد و قامت، قوت و شوکت، مال و متاع، خبث و نجاست اور حکومت و اقتدار میں ان سے کہیں بڑھی ہوئی قوموں کو، جب وہ باز نہ آئے تو پکڑ لیا اور وہ میری گرفت سے بچ نہ سکے، تو مکہ کے ان کافروں کی کیا بساط ہے ؟ اس لیے آپ غم زدہ نہ ہوں۔ آپ سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے جھٹلایا، جن کی عمریں سب لوگوں سے زیادہ اور جن کا اقتدار نہایت مضبوط تھا اور عاد نے جو بہت لمبے اور نہایت مضبوط قد رکھتے تھے، جن کے بعد ان جیسی قوم پیدا نہیں ہوئی اور ثمود، جنھوں نے میدانوں میں اور پہاڑوں میں چٹانیں تراش کر نہایت مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں بنا رکھی تھیں اور ابراہیم ؑ کی قوم کو جو جبر و تکبر میں انتہا کو پہنچے ہوئے تھے اور لوط ؑ کی خبیث اور نجس قوم کو اور مدین والوں کو جنھوں نے حرام طریقے سے کمائے ہوئے مال کے خزانے جمع کر رکھے تھے۔
وَكُذِّبَ مُوْسٰى : موسیٰ ؑ کو چونکہ سب لوگوں کو نظر آنے والے اتنے معجزے عطا کیے گئے جو اس سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئے تھے، اس لیے ان کی تکذیب انتہائی بعید بات تھی، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے کلام کا اسلوب بدل دیا اور اس لیے بھی بدل دیا کہ پہلے ذکر کردہ تمام انبیاء کی اقوام نے انھیں جھٹلایا تھا جب کہ موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل نے انھیں چند ایک کے سوا نہیں جھٹلایا، صرف فرعون کی قوم قبطیوں نے انھیں جھٹلایا تھا۔ رہی بنی اسرائیل کی نافرمانیاں تو وہ موسیٰ ؑ کو جھوٹا سمجھنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس قوم کی بدعملی اور طبیعت کی خست کی وجہ سے تھیں۔
فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ : اس میں آپ ﷺ کو اور مسلمانوں کو دلاسا اور تسلی دی ہے کہ میں نے مکہ کے کفار کو بھی اسی طرح مہلت دی ہے، اب جنگ کی اجازت ہے، اگر یہ ایمان لے آئیں تو خیر، ورنہ ان پر بھی میری پکڑ مہاجرین و انصار کی یلغار کی صورت میں تیار ہے۔
فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ : ”نَكِيْرِ“ کی ”راء“ کے نیچے کسرہ ہے، کیونکہ اصل میں ”نَکِیْرِيْ“ تھا، میرا عذاب۔ ”یاء“ کو تخفیف کے لیے اور فواصل یعنی آیات کے آخری الفاظ (مثلاً کَفُوْر، عَزِیْز، اَلْاُمُوْر، مَشِیْد، اَلصُّدُوْر وغیرہ) کی موافقت کے لیے حذف کردیا گیا۔ ان پر آنے والے عذابوں کی تفصیل سورة عنکبوت میں ہے، فرمایا : (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ) [ العنکبوت : 40 ] ”تو ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ میں پکڑ لیا، پھر ان میں سے کوئی وہ تھا جس پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے چیخ نے پکڑ لیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے کوئی وہ تھا جسے ہم نے غرق کردیا اور اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔“