22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی اور جس کا انھیں کچھ علم نہیں اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں ہستی کو فلاں فلاں اختیارات دے رکھے ہیں، لہٰذا ان کاموں کے لیے اپنی حاجات ان سے طلب کرو اور نہ اس بات کی کوئی علمی یا عقلی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو بھی کائنات میں اپنی مرضی چلانے کا اختیار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس سے مرادیں مانگی جائیں۔ دیکھیے سورة احقاف (4، 5) اور فاطر (40) جب شرک کی نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی، تو معلوم ہوا کہ لوگوں نے جو غیر اللہ کے آستانے بنا رکھے ہیں، یا زندہ یا فوت شدہ بزرگوں کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھ کر ان کی نذریں نیازیں چڑھا رہے ہیں اور ان کی قبروں کا یا ان کے بتوں کا طواف یا ان کے سامنے قیام، رکوع یا سجود کر رہے ہیں، یا ان کے مجاور بن کر ان کا اعتکاف کر رہے ہیں، یا انھیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان سے فریادیں کر رہے ہیں تو ان کے پاس اوہام پرستی اور باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کچھ نہیں، جس کا رد قرآن مجید میں کئی مقامات پر کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (170) اور مائدہ (104)۔ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ : عبارت کی ترتیب کے مطابق یہ الفاظ کافی تھے کہ ”وَمَا لَھُمْ مِنْ نَّصِیْرٍ“ یعنی ان کا کوئی مددگار نہیں، اس کے بجائے فرمایا ”وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ“ یعنی ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، یعنی اللہ کی نصرت سے ان کی محرومی کا باعث ان کا ظلم (شرک) ہے کہ اللہ کا حق بندوں کو دے دیا۔ یہ احمق سمجھ رہے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود، حاجت روا اور مشکل کشا دنیا اور آخرت میں ان کی مدد کریں گے، حالانکہ ان کی مدد کوئی نہیں کرے گا، کیونکہ ان ظالموں نے اللہ کے لیے شریک بنا کر اسے ناراض کرلیا، سو وہ تو ان کی مدد کو آئے گا ہی نہیں اور دوسرے معبودوں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں طاقت ہی نہیں کہ ان کی مدد کرسکیں۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات کی تلاوت کی جائے تو تو ان لوگوں کے چہروں میں جنھوں نے کفر کیا، صاف انکار پہچان لے گا، قریب ہوں گے کہ ان لوگوں پر حملہ کردیں جو ان پر ہماری آیات کی تلاوت کریں۔ کہہ دے تو کیا میں تمہیں اس سے بری چیز بتاؤں ؟ وہ آگ ہے جس کا اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جنھوں نے کفر کیا اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا۔۔ : ”الْمُنْكَرَ“ مصدر میمی ہے یعنی انکار، یا اسم مفعول ہے یعنی ایسی حالت جو مانوس اور پہچانی ہوئی نہیں بلکہ انوکھی اور بری ہے۔ ”يَسْطُوْنَ“ ”سَطَا یَسْطُوْ سَطْوَۃً“ سخت پکڑنا یا حملہ کردینا، یعنی ان باطل کے پجاری مشرکوں کا اپنے بےحقیقت اور بےبنیاد داتاؤں اور جھوٹے خداؤں کی حمیت کا یہ حال ہے کہ جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں یعنی ان کے سامنے کوئی بھی ہماری آیات پڑھ دیتا ہے، جو ہماری توحید وصفات اور آخرت وغیرہ کے بیان میں بالکل واضح ہیں اور جو اتنی پر حکمت اور بلیغ ہیں کہ ان کا ہمارا کلام ہونا بالکل واضح ہے، تو ان کافروں کے چہروں ہی سے ان کا صاف انکار پہچانا جاتا ہے۔ ان کی حالت بری ہوجاتی ہے جو نظر آرہی ہوتی ہے۔ ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، رگیں پھول جاتی ہیں، چہرے بگڑ جاتے ہیں، بھویں تن جاتی ہیں اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، قریب ہوتا ہے کہ وہ اپنے سامنے ہماری آیات پڑھنے والوں پر حملہ ہی کردیں۔ شوکانی نے فرمایا کہ اہل بدعت کا بھی قرآن و سنت کے دلائل سن کر یہی حال ہوتا ہے۔ توحید سے مشرکوں کی نفرت کا بیان سورة زمر کی آیت (45) ”وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ“ میں بھی ملاحظہ فرمائیں۔ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ۔۔ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کیا میں تمہیں تمہارے انکار، غیظ و غضب کی آگ اور چہروں کے بگڑ جانے کی حالت سے کہیں زیادہ تمہارے لیے بری اور ناگوار چیز بتاؤں ؟ وہ جہنم کی آگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات سے کفر کرنے والوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ سو تم لوگ اہل حق اور آیات الٰہی سے چڑنے اور غیظ و غضب کی آگ میں جلنے کے بجائے جہنم کی اس ہولناک آگ سے بچنے کی فکر کرو۔ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی فرصت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ! ایک مثال بیان کی گئی ہے، سو اسے غور سے سنو ! بیشک وہ لوگ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، ہرگز ایک مکھی پیدا نہیں کریں گے، خواہ وہ اس کے لیے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے وہ اسے اس سے چھڑا نہ پائیں گے۔ کمزور ہے مانگنے والا اور وہ بھی جس سے مانگا گیا۔

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق تھا۔ بیشک اللہ یقینا بہت قوت والا ہے، سب پر غالب ہے۔

يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مشرکین کی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی کوئی نقلی دلیل ہے نہ عقلی۔ اس سورت کی ابتدا ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ سے ہوئی تھی، اختتام کے قریب بھی ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کے ساتھ خطاب ہے۔ ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ سے مراد یہاں مشرکین ہیں، کیونکہ اللہ کے سوا دوسروں کو وہی پکارتے ہیں، سب لوگ ایسا نہیں کرتے۔ یا سب لوگوں ہی کو خطاب ہے، جیسے کسی قبیلے کا ایک آدمی کوئی کام کرے تو کہہ دیا جاتا ہے، قبیلے والو ! تم نے یہ کام کیا ہے۔ (روح المعانی) فرمایا، لوگو ! ایک مثال بیان کی گئی ہے، اسے کان لگا کر سنو۔ یہاں مثال بیان کرنے والے کا ذکر نہیں فرمایا، تاکہ پوری طرح توجہ مثال کی طرف رہے جو اصل مقصود ہے، بیان کرنے والے کا ذکر مقصود نہیں۔ (بقاعی) اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا۔۔ : اللہ کے سوا تم جن کو بھی پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کریں گے، خواہ وہ سب اس کام کے لیے جمع ہوجائیں۔ مثال میں مستقبل میں حرف ”لَنْ“ کی تاکید کے ساتھ ایک مکھی پیدا کرنے کی نفی فرمائی ہے، یعنی نہ وہ اس سے پہلے یہ کام کرسکے، نہ اب کر رہے ہیں اور نہ آئندہ ایسا کریں گے۔ اللہ کی ایک چھوٹی سی مخلوق پیدا کرنا، جو لوگوں کی نگاہ میں بالکل حقیر ہے، جب تمہارے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے اختیار میں نہیں تو وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی بیشمار عظیم الشان مخلوقات کیسے پیدا کرسکتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَھَبَ یَخْلُقُ کَخَلْقِيْ فَلْیَخْلُقُوْا ذَرَّۃً أَوْ لِیَخْلُقُوْا حَبَّۃً أَوْ شَعِیْرَۃً) [ بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ : (واللہ خلقکم وما تعملون)۔۔ : 7559۔ مسلم : 2111، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو میرے پیدا کرنے کی طرح پیدا کرنے چلا ہے ؟ سو وہ ایک ذرہ پیدا کریں، یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں۔“ 3 بعض لوگ جو فوت شدہ بزرگوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں وہ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ سے مراد صرف بت لیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء و اولیاء ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ نہیں۔ اس پر خود بخود سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ (اللہ کے سوا نہیں) تو پھر وہ خود خدا ٹھہرے۔ اگر تمہارا یہ عقیدہ ہے تو اس کائنات میں تم سے بڑا کافر کوئی نہیں کہ تم نے اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کو رب بنادیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء ہوں، اولیاء ہوں یا فرشتے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ ہیں، خود اللہ نہیں۔ دلیل اس کی یہی آیت ہے کہ صرف بت ہی نہیں تمام زندہ یا فوت شدہ انبیاء و اولیاء اور تمہارے بنائے ہوئے مشکل کشا، داتا اور دستگیر جمع ہو کر بھی ایک مکھی نہیں بنا سکتے۔ اگر کوئی بنا سکتا ہے یا کسی نے بنائی ہے تو اس کا نام لو۔ اللہ تعالیٰ نے کیا خوب فرمایا : (قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ڬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۭ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) [ الرعد : 16 ] ”کہہ دے کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں ؟ یا کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہوتے ہیں ؟ یا انھوں نے اللہ کے لیے کچھ شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے اس کے پیدا کرنے کی طرح پیدا کیا ہے، تو پیدائش ان پر گڈمڈ ہوگئی ہے ؟ کہہ دے اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی ایک ہے، نہایت زبردست ہے۔“ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ کی مزید وضاحت کے لیے سورة نحل (20، 21) ملاحظہ فرمائیں۔ وَاِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْـــــًٔـا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ : یہ ”مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ“ کی بےبسی کی ایک اور مثال ہے کہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے ہرگز چھڑا نہیں پائیں گے۔ اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سے مراد بت ہیں جن پر ان کو پوجنے والے زعفران اور شہد وغیرہ لگاتے ہیں، یا ان کے سامنے کھانے کی اشیاء لا کر رکھتے ہیں، جیسا کہ ابراہیم ؑ کی قوم کرتی تھی۔ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے۔ یہ تفسیر بھی ٹھیک ہے، مگر اللہ کے سوا وہ سب ہستیاں بھی اس میں شامل ہیں جنھیں پکارا جاتا ہے، اگر نہ مانو تو اس ہستی کا نام لو جس نے مکھی سے چھینی ہوئی چیز چھڑائی ہو۔ مفسر آلوسی نے فرمایا : ”وَالْآیَۃُ وَ إِنْ کَانَتْ نَازِلَۃً فِي الْأَصْنَامِ۔۔ إِلَّا أَنَّ الْحُکْمَ عَامٌّ لِسَاءِرِ الْمَعْبُوْدَاتِ الْبَاطِلَۃِ“ ”آیت اگرچہ بتوں کے بارے میں اتری ہے۔۔ مگر اس کا حکم تمام باطل معبودوں کے لیے عام ہے۔“ (روح المعانی) چھیننے میں وجۂ شبہ مکھی کا ڈھیٹ پن ہے۔ اگر یہ ڈھیٹ پن شیر میں ہوتا تو شاید ہی کوئی اس سے بچتا مگر یہ اللہ کی حکمت ہے کہ شیر کی قوت کے ساتھ لوگوں سے دور رہنا رکھ دیا اور مکھی کے ضعف کے ساتھ ڈھیٹ پن رکھ دیا۔ (بقاعی) ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ : اس بات سے کہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ مکھی سے چھینی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے۔ مکھی کی قوت کی طرف ذہن جاسکتا تھا، اس لیے وضاحت کردی کہ مکھی بھی کمزور، جس سے چھین کرلے جا رہی ہے وہ بھی کمزور اور جو اسے پوجتے اور پکارتے ہیں وہ بھی کمزور۔ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ : نتیجہ اس ساری مثال کا یہ ہے کہ مشرک اللہ تعالیٰ سے بالکل جاہل ہے، تبھی وہ اللہ کا حق کہ صرف اسے پکارا جائے، کسی دوسرے کو دیتا ہے، خواہ کوئی بھی ہو۔ پھر اس سے بڑھ کر بےقدری کیا ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ان ہسیتوں کو دے دے جو حقیر ترین چیز مکھی بھی نہ پیدا کرسکتے ہیں اور نہ اس سے چھینی ہوئی چیز واپس لے سکتے ہیں۔ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ : یہاں سوال پیدا ہوا کہ پھر اس کی قدر کا حق کیا ہے ؟ جواب میں فرمایا، بیشک اللہ یقیناً بہت قوت والا ہے۔ جو چیز پیدا کرنا چاہے کرسکتا ہے اور کرتا ہے، جسے فنا کرنا چاہے کرسکتا ہے اور کرتا ہے۔ وہ سب پر غالب ہے اور کوئی اس پر غالب نہیں، جبکہ کسی دوسرے میں نہ یہ قوت ہے اور نہ غلبہ۔ 3 مکھی کی حقارت اگر ضرب المثل ہے تو اس کی جرأت بھی بےمثال ہے۔ بڑے بڑے جابر بادشاہ اس کے آگے بےبس ہوجاتے ہیں، اسے چہرے سے اڑاتے ہیں، یہ پھر آ بیٹھتی ہے، حتیٰ کہ زچ ہو کر بعض اوقات کہہ اٹھتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں پیدا کیا ہے ؟ اس پر انھیں یہ سننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جبار لوگوں کو ذلیل کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی، بیشک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ : یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سب سے بہتر مخلوق مقرب فرشتے اور انبیاء مکھی بھی نہیں بنا سکتے تو ان کی عظمت کیا ہوئی ؟ جواب یہ ہے کہ ان کی عظمت یہ نہیں کہ وہ خالق بن کر اللہ کے شریک بن گئے ہوں، ان کی عظمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں میں سے ان فرشتوں کو اور تمام انسانوں میں سے ان انسانوں کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب فرمایا ہے، اس سے بڑھ کر مخلوق کی عظمت کیا ہوگی ؟ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ : یعنی اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے، اسے معلوم ہے کہ کس منصب کے لائق کون ہے ؟ لہٰذا اس کے انتخاب میں غلطی نہیں ہوسکتی اور نہ اس سے بہتر انتخاب کسی کا ہوسکتا ہے۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔

ۚيَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ : یہ جملہ قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے، سورة بقرہ (255)۔ سورة طٰہٰ (110) ، سورة انبیاء (28) اور یہاں سورة حج میں۔ ہر مقام پر اس جملے سے پہلے یا بعد میں سفارش یا معبودان باطلہ کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتوں اور انبیاء و اولیاء کو اگر بذات خود حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر نہیں بلکہ اللہ کے ہاں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہو، تو یہ بھی غلط ہے، کیونکہ سب کچھ دیکھنے اور سننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر شخص کے ظاہر اور مخفی حالات وہی جانتا ہے، دنیا کی کھلی اور چھپی ضرورتیں اور مصلحتیں بھی وہی جانتا ہے، فرشتوں اور نبیوں سمیت کسی مخلوق کو بھی پوری طرح معلوم نہیں کہ کس وقت کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے زیادہ مقرب بندوں کو بھی یہ حق نہیں دیا کہ وہ اس کے اذن کے بغیر جو سفارش چاہیں کر بیٹھیں اور ان کی سفارش قبول بھی ہو۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (255) (مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ) کی تفسیر۔ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی وہ (پیغمبر خود) کوئی اختیار نہیں رکھتے، اختیار ہر چیز میں اللہ کا ہے۔“ (موضح)
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور نیکی کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا۔۔ : یہ ساری سورت قیامت اور توحید کے حق ہونے کے دلائل اور انکار قیامت اور شرک کی تردید اور مذمت کے دلائل پر مشتمل ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خطاب فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں کہ ایمان لائے ہو تو اس کا ثبوت بھی پیش کرو۔ سب سے پہلا کام جو ایمان لانے کے بعد سب سے اہم اور ضروری ہے اور کافر و مسلم کی پہچان ہے، وہ نماز ہے، سو نماز ادا کرو۔ ”نماز ادا کرو“ کے بجائے ”رکوع کرو اور سجدہ کرو“ کے الفاظ استعمال فرمائے، کیونکہ یہ دونوں آدمی کی عام حالت مثلاً قیام و قعود وغیرہ سے مختلف ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی عاجزی کا اظہا رہوتا ہے، اسی لیے کئی متکبر لوگوں نے اس لیے اسلام لانے سے انکار کردیا کہ انھیں اللہ کے سامنے عاجزی کی آخری حد تک جانا پڑتا ہے۔ وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ : ایک خاص عبادت نماز کی تاکید کے بعد رب تعالیٰ کی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادات کا حکم دیا کہ ”اپنے رب کی عبادت کرو“ اس میں دوسری عبادات کے ساتھ نماز بھی شامل ہے۔ وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ : عبادت کے حکم کے بعد ہر خیر یعنی ہر اچھے کام کا حکم دیا۔ خیر میں نماز اور تمام عبادات بھی شامل ہیں اور وہ اچھے اعمال بھی کہ نیت ہو تو عبادت ہوتے ہیں، نیت نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتے، مثلاً صلہ رحمی، مہمان نوازی، بیماری پرسی اور دوسرے اخلاق عالیہ۔ مقصد یہ ہے کہ خیر کے خاص اور عام کام کرتے رہو، تاکہ وہ تمہاری عادت بن جائیں اور ان کی ادائیگی میں تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔ ابوحیان نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے پہلے خاص چیزوں کا ذکر فرمایا پھر عام کا۔“ (بقاعی) لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ : تاکہ تمہیں دنیا اور آخرت کی کامیابی نصیب ہو۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کے بارے میں جہاد کرو جیسا اس کے جہاد کا حق ہے۔ اسی نے تمہیں چنا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے مطابق۔ اسی نے تمہارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی، تاکہ رسول تم پر شہادت دینے والابنے اور تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ سو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑو، وہی تمہارا مالک ہے، سو اچھا مالک ہے اور اچھا مددگار ہے۔

ڋوَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ : ”جِهَادِ“ ”جَھَدَ یَجْھَدُ“ (ف) میں سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے کسی کے مقابلے میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا۔ یہ لفظ اصل میں اللہ کے راستے میں لڑائی کے متعلق بولا جاتا ہے، یہاں یہی مراد ہے، کیونکہ یہی سورة مبارکہ ہے جس میں سب سے پہلے کفار سے لڑنے کی اجازت دی گئی اور لڑنے والوں کو اللہ کی نصرت کی خوش خبری دی گئی۔ دیکھیے اس سورت کی آیت (39) ”ۧاُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا۔“ اب اس آیت میں اذن سے بڑھ کر جہاد کا حکم دے دیا ہے۔ (ابن عاشور) ویسے جہاد کا لفظ ہر اس کوشش پر بھی بولا جاتا ہے جو کفار کے مقابلے میں اسلام کی سربلندی کے لیے جان، مال، زبان یا قلم کے ساتھ کی جائے، بلکہ نفس کی ناجائز خواہشوں کے مقابلے پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا : (أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بالْمُؤْمِنِ ؟ مَنْ آمَنَہُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِھِمْ وَأَنْفُسِھِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِہِ وَیَدِہِ وَالْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہُ فِيْ طَاعَۃِ اللّٰہِ وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوْبَ) [ مسند أحمد : 6؍21، ح : 24013 ] ”کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں بتاؤں ؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بےخوف ہوں اور مسلم وہ ہے کہ لوگ اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطائیں اور گناہ چھوڑ دے۔“ علامہ البانی ؓ نے سلسلہ صحیحہ (2؍81) میں لکھا ہے : ”اسے امام احمد نے اپنی مسند (6؍21) میں روایت کیا ہے۔ سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔“ امام المفسرین طبری نے فرمایا، اہل تاویل کا اللہ کے فرمان ”ڋوَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ“ کے متعلق اختلاف ہے، ان میں سے بعض نے فرمایا کہ اس کا معنی ہے کہ مشرکین سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جیسا اس کے جہاد کا حق ہے۔ پھر طبری نے اپنی سند سے ابن عباس ؓ کا قول ذکر فرمایا : ”(ڋوَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ) کَمَا جَاھَدْتُّمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ“ ”یعنی اس آیت ”اللہ کے بارے میں جہاد کرو جیسا اس کے جہاد کا حق ہے“ کا مطلب ہے، جیسا کہ تم نے پہلی مرتبہ جہاد کیا تھا۔“ اور بعض نے فرمایا کہ اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت ڈرو، یہی جہاد کا حق ہے۔ پھر طبری نے یہ قول بھی ابن عباس ؓ سے اپنی سند سے بیان فرمایا۔ کچھ اور نے فرمایا، اس کا معنی ہے کہ حق پر عمل کرو، جیسا کہ اس پر عمل کا حق ہے۔ طبری فرماتے ہیں، یہ قول ضحاک سے بعض ایسے راویوں نے ذکر کیا ہے جن کی روایت میں نظر ہے۔ آخر میں امام طبری اپنا فیصلہ بیان فرماتے ہیں : ”وَالصَّوَابُ مِنَ الْقَوْلِ فِيْ ذٰلِکَ قَوْلُ مَنْ قَالَ عُنِيَ بِہِ الْجِھَادَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لِأَنَّ الْمَعْرُوْفَ مِنَ الْجِھَادِ ذٰلِکَ ، وَھُوَ الْأَغْلَبُ عَلٰی قَوْلِ الْقَاءِلِ جَاھَدْتُّ فِی اللّٰہِ“ ”اس آیت کی تفسیر میں درست بات اس کی ہے جس نے کہا کہ اس سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے، کیونکہ جہاد کا معروف معنی یہی ہے اور جب کوئی کہے کہ میں نے اللہ (کے راستے) میں جہاد کیا تو اس کا اغلب معنی یہی ہے۔“ امام طبری نے یہ بہت عمدہ بات فرمائی ہے، کیونکہ اگر ہر گناہ چھوڑنے والا مہاجر کہلا سکتا ہے تو انصار و مہاجرین کا فرق ختم ہوجاتا ہے اور اگر ہر دین پڑھانے والا، قرآن کا قاری، کسی دینی رسالے یا ادارے کا مدیر یا اپنے نفس سے جہاد کرنے والا مجاہد کہلا سکتا ہے تو کفار کے مقابلے میں جان و مال سب کچھ قربان کردینے والے اور کسی مفتی و مدرس اور اپنے نفس سے جہاد کرنے والے کسی مسلم کے درمیان مجاہد کہلانے میں کوئی فرق نہیں رہے گا، بلکہ سارے مسلمان ہی مجاہد کہلائیں گے، جب کہ مجاہد صرف مجاہد ہی کو کہتے ہیں، کسی مدرس، مبلغ، مفتی، مصنف یا نفس سے جہاد کرنے والے کو کوئی مجاہد نہیں کہتا۔ رہی حدیث کہ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرے، تو اس میں مجاہدین کو نصیحت ہے کہ صرف کفار سے لڑنے کو کافی نہ سمجھنا، اصل مجاہد تم اس وقت بنو گے جب اللہ کی فرماں برداری میں اپنے نفس سے جہاد کرو گے اور مہاجرین کو نصیحت ہے کہ صرف ترک وطن کو کافی نہ سمجھنا، اصل مہاجر تم اس وقت بنو گے جب خطائیں اور گناہ چھوڑ دو گے۔ 3 بعض لوگ کفار سے جہاد کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک سے واپسی پر فرمایا : (رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْأَصْغَرِ إِلَی الْجِھَادِ الْأَکْبَرِ) ”ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف واپس آئے ہیں۔“ گویا کفار سے لڑائی چھوٹا جہاد ہے، حالانکہ یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے ہرگز ثابت نہیں۔ شیخ البانی ؓ نے ”سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ (2460)“ میں اس پر مفصل بحث کی ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے۔ اسی سلسلے میں انھوں نے مجموع الفتاویٰ (11؍197) سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؓ کا کلام نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : ”اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال کا علم رکھنے والوں میں سے کسی نے اسے روایت کیا ہے۔ کفار سے جہاد سب سے زیادہ عظمت والے اعمال میں سے ہے، بلکہ انسان اپنی خوشی سے جو عمل کرتا ہے ان سب سے افضل ہے۔“ پھر کچھ آیات و احادیث نقل فرمائیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے۔ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ : اس خطاب کے اولین مخاطب صحابہ کرام ؓ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنا دین قبول کرنے، اسے پھیلانے اور اسے نہ ماننے والوں کے ساتھ جہاد کے لیے چن لیا ہے۔ اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہ صحابہ ہی تھے جنھوں نے دعوت و جہاد کے ساتھ چند سالوں میں مشرق ومغرب تک اسلام پہنچا دیا۔ پھر ان کے بعد جو لوگ بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دعوت و جہاد کے ساتھ کفر کو مغلوب اور اسلام کو غالب کرتے رہے وہ بھی اس کے مخاطب ہیں۔ یہ آیت صحابہ اور ان کے پیروکاروں کی فضیلت کی زبردست دلیل ہے۔ وہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں جو اللہ کے ان چنے ہوئے پیاروں سے بغض رکھتے ہیں اور ان پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یا پوری امت اس کی مخاطب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمام امتوں میں سے چن لیا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس آیت کا اور ”كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ“ کا مفہوم ایک ہی ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (110) کی تفسیر۔ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ : امت کے چنیدہ ہونے کے ساتھ ہی اس کی افضلیت کی وجہ بھی بیان فرما دی کہ اس دین میں کوئی تنگی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ) [ بخاري، الإیمان، باب الدین یسر : 39، عن أبي ہریرہ ؓ] ”یہ دین آسان ہے۔“ اور فرمایا : (أَحَبُّ الدِّیْنِ إِلَی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ) [ بخاري، قبل ح : 39 ] ”تمام دینوں میں سے اللہ کو سب سے پسند ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو سادہ اور آسان ہے۔“ بخاری ؓ نے پہلی حدیث سند کے ساتھ اور دوسری معلق بیان فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا : (يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ) [ البقرۃ : 185 ] ”اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ ”وَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ“ سے اس جملے کا تعلق یہ ہے کہ اگر تم میں جہاد کی طاقت نہیں تو تمہیں رخصت ہے، فرمایا : (لَيْسَ عَلَي الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ حَرَجٌ) [ الفتح : 17 ] ”نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ مریض پر کوئی تنگی۔“ اسی طرح عورتوں بوڑھوں، کمزوروں اور نادانوں کو جہاد معاف کردیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (91 تا 93)۔ دین میں کسی مشکل کے نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان جو جی میں آئے کرتا پھرے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے احکام ایسے رکھے ہیں جو انسانی طاقت کے اندر ہیں، اسی لیے فرمایا : (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) [ البقرۃ : 286 ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ پھر کمزوری یا بڑھاپے یا کسی اور عذر کی بنا پر انجام نہ دے سکنے کی صورت میں رخصت اور تخفیف کا قاعدہ مقرر کیا ہے (جیسے سفر میں قصر نماز، سفر اور بیماری میں روزہ افطار کرنے کی اجازت، پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت، ساری زمین میں جہاں وقت ہوجائے نماز کی اجازت وغیرہ) پھر گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جسے پچھلی امتوں کے فقیہوں نے اپنی موشگافیوں سے ختم کر ڈالا تھا۔ اسی طرح پہلی امتوں کے بعض سخت احکام منسوخ کردیے اور وہ رسوم و رواج بھی ختم کردیے جو لوگوں نے خود یا ان کے فقیہوں نے ان پر لازم کر رکھے تھے۔ دیکھیے سورة اعراف (157)۔ مِلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ : ”أَيْ مُتَّبِعِیْنَ مِلَّۃَ أَبِیْکُمْ إِبْرَاھِیْمَ“ یعنی اس حال میں کہ تم اپنے باپ ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہو۔ ”اَبِيْكُمْ“ سے اگر مخاطب عرب سمجھے جائیں تو ابراہیم ؑ کو ان کا باپ اس لیے فرمایا کہ وہ اکثر ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھے اور اگر پوری امت مسلمہ مخاطب ہو تو ابراہیم ؑ پوری امت مسلمہ کے اس لیے باپ ہیں کہ وہ اس کے رسول ﷺ کے باپ ہیں۔ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ ھٰذَا : ”أَيْ مِنْ قَبْلِ الْقُرْآنِ وَ فِيْ ھٰذَا الْقُرْآنِ“ عام طور اس کی تفسیر یہ کی جاتی ہے کہ اس نے یعنی ابراہیم ؑ نے قرآن سے پہلے اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلمین رکھا۔ مگر امام طبری نے دو صحیح سندوں کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ ابن عباس ؓ نے ”هُوَ سَمّٰىكُمُ“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (تمھارا نام مسلم رکھا ہے)۔ یعنی یہ نام ابراہیم ؑ نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی اور مقاتل بن حیان نے بھی یہی فرمایا۔ اس کے بعد ابن کثیر نے طبری سے عبد الرحمان بن زید بن اسلم کا قول نقل فرمایا کہ ابراہیم ؑ نے تمہارا نام مسلمین رکھا اور اس پر ابن جریر کا تبصرہ نقل فرمایا کہ یہ کسی طرح صحیح نہیں، کیونکہ معلوم ہے کہ ابراہیم ؑ نے قرآن میں اس امت کا نام مسلمین نہیں رکھا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تمہارا نام اس سے پہلے اور اس میں مسلمین رکھا۔ مجاہد نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے گزشتہ کتابوں میں اور اس ذکر (قرآن) میں بھی۔ مجاہد کے علاوہ بھی کئی مفسرین نے یہی فرمایا ہے۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہی بات درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا : (هُوَ اجْتَبٰىكُمْ) یعنی اس (اللہ) نے تمہیں چنا۔ پھر انھیں رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی ترغیب یہ کہہ کر دلائی کہ یہ تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے، پھر اس امت پر احسان جتلایا کہ اس نے پہلی تمام کتابوں میں اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلمین رکھا ہے۔ آئندہ فائدے میں ایک حدیث آرہی ہے جس میں صراحت ہے کہ ہمارا نام اللہ تعالیٰ نے مسلمین، مؤمنین اور عباد اللہ رکھا ہے۔ قرآن میں مسلمین نام کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (64) اور سورة زمر (12)۔ 3 کچھ سال پہلے ایک صاحب نے کہا کہ جو شخص ”مسلم“ کے سوا کوئی اور نام اختیار کرے وہ کافر ہے، خارج از اسلام ہے۔ اگرچہ ان کے فوت ہونے کے بعد وہ زور نہیں رہا مگر اب بھی ان کے کئی متاثرین کافر گری کا یہ شغل جاری رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ وہ خود بھی کئی گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے پر فتوے لگا رہے ہیں۔ حالانکہ کوئی مسلم اگر اسلام کی کسی صفت کو بطور نام استعمال کرلے تو وہ ملت اسلام سے کیسے خارج ہوگیا ؟ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّاۗىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا) [ الأحزاب : 35 ] ”بیشک مسلم مرد اور مسلم عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان کے لیے اللہ نے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔“ اور حارث اشعری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَنِ ادَّعٰی دَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ فَھُوَ جُثَا جَھَنَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَقَالَ وَإِنْ صَلّٰی وَصَامَ فَادْعُوْا بِدَعْوَی اللّٰہِ الَّذِيْ سَمَّاکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ عِبَاد اللّٰہِ) [ ترمذي الأدب، باب ماجاء في مثل الصلاۃ۔۔ : 2863۔ مسند أحمد : 5؍344، ح : 22976 ] ”جو شخص جاہلیت کی دعوت کی آواز دے وہ جہنم کی ڈھیریوں میں سے ہے۔“ ایک آدمی نے کہا : ”یارسول اللہ ! خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”خواہ وہ نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ سو تم اللہ کی عبادت کی آواز دو جس کے ساتھ اس نے تمہارا نام ”مسلمین“ ، ”مومنین“ اور ”عباد اللہ“ رکھا ہے۔“ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ مسلمین کے علاوہ صفاتی نام (مثلاً مومنین، عباد اللہ) لینے میں کوئی حرج نہیں۔ لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (143) یہاں رسول کا ذکر پہلے ہے اور سورة بقرہ میں امت کا پہلے ہے۔ کیونکہ وہاں امت کی تعریف ہو رہی ہے جبکہ یہاں ملت ابراہیم کی پیروی کی تاکید ہے، جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں، اس لیے یہاں آپ ﷺ کا ذکر پہلے ہے۔ (ابن عاشور) فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ : یہ ”هُوَ اجْتَبٰىكُمْ“ اور ”هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِـمِيْنَ“ پر عطف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اتنے انعام کیے ہیں تو تم اس کا شکر ادا کرنے کے لیے ہمیشہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ ان دو اعمال کی تاکید اس لیے فرمائی کہ کسی اسلام لانے والے کے ایمان کا ثبوت اقرار کے بعد ان دونوں عملوں سے ملتا ہے۔ دیکھیے سورة توبہ (5، 11)۔ وَاعْتَصِمُوْا باللّٰهِ : اور اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے تھام لو، یعنی اس کے تمام احکام کو مضبوطی سے تھام لو، اسی طرح ہر مشکل اور مصیبت بلکہ اپنے ہر کام میں اسی کے سہارے کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور کسی غیر کی طرف نظر مت اٹھاؤ۔ هُوَ مَوْلٰىكُمْ : یہ اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ تمہارا مالک اور تمہارے تمام کاموں کا ذمہ اٹھانے والا وہی ہے۔ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ : وہ بہت اچھا مالک اور بہت اچھا مددگار ہے، کیونکہ وہ کسی کا ذمہ اٹھا لے تو اسے ہر فکر سے کافی ہوجاتا ہے اور جب کسی کی مدد کر دے تو اسے اس کے تمام دشمنوں پر غالب کردیتا ہے۔ دعائے قنوت میں ہے : (إِنَّہُ لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ) [ أبوداوٗد، الوتر، باب القنوت في الوتر : 1425 ] ”حقیقت یہ ہے کہ جس کا تو دوست بن جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا اور جس کا تو دشمن ہوجائے وہ کبھی عزت نہیں پاتا۔“