23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 23:1

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ : ”قَدْ“ حرف ”لَمَّا“ کی نقیض ہے۔ ”لَمَّا“ کا مفہوم یہ ہے کہ متوقع کام ماضی میں ابھی تک نہیں ہوا، جیسا کہ فرمایا : (كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ) [ عبس : 23 ] ”ہرگز نہیں، ابھی تک اس (انسان) نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا تھا۔“ جب کہ ”قَدْ“ ماضی کو حال کے قریب کردیتا ہے اور جملہ فعلیہ میں تاکید کا وہی فائدہ دیتا ہے جو جملہ اسمیہ میں ”إِنَّ“ اور ”لام تاکید“ دیتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کام کی توقع تھی وہ ماضی قریب میں یقیناً واقع ہوچکا ہے۔ یعنی آگے ذکر کردہ صفات والے مومن یقیناً فلاح پاچکے ہیں۔ مستقبل میں حاصل ہونے والی کامیابی کو یقینی ہونے کی وجہ سے ”قَدْ“ اور ماضی کے صیغہ ”اَفْلَحَ“ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ (بقاعی وابن عاشور) ”قَدْ“ کے ساتھ تاکید کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سی آیات میں ایمان والوں کو فلاح کی امید دلائی گئی تھی، جیسا کہ پچھلی سورت کے آخر میں فرمایا : (وَافْعَلُوا الْخَــيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) [ الحج : 77 ] ”اور نیکی کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔“ تو اس توقع کے پورا کرنے کی خوش خبری ”قَدْ اَفْلَحَ“ کے ساتھ بیان فرمائی۔ شاید نماز کی اقامت ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ“ میں حرف ”قَدْ“ اسی وجہ سے ہے کہ نمازی شوق سے جماعت کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ ”قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ“ اسی انتظار کا اثبات میں جواب ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (یَا بِلَالُ ! أَقِمِ الصَّلَاۃَ أَرِحْنَا بِھَا) [ أبو داوٗد، الأدب، باب في صلاۃ العتمۃ : 4985 ] ”بلال ! نماز کھڑی کرو، ہمیں اس کے ساتھ راحت دلاؤ۔“ (ابن عاشور) اَفْلَحَ : ”اَلْفَلَحُ“ لام کے فتحہ کے ساتھ اور ”اَلْفَلَاحُ“ کا معنی بھلائی کے کام میں کامیابی ہے اور ”اَلْفَلْحُ“ لام کے سکون کے ساتھ ”پھاڑنا۔“ دونوں باب ”مَنَعَ“ سے آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : ”اَلْحَدِیْدُ بالْحَدِیْدِ یُفْلَحُ“ ”لوہا، لوہے کے ساتھ کاٹا جاتا ہے۔“ کسان کو اسی لیے ”اَلْفَلَّاحُ“ کہتے ہیں کہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے۔ گویا فلاح وہ کامیابی ہے جو محنت و مشقت کے نتیجے میں حاصل ہو۔ کامیابی دنیا کی بھی ہے اور آخرت کی بھی۔ ”قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ“ میں یہ بتایا ہے کہ بعد میں ذکر کردہ صفات والے مومن یقیناً کامیاب ہوگئے، مگر یہ نہیں بتایا کہ کس چیز میں کامیاب ہوگئے۔ یہ بات ان آیات کے آخر میں بیان فرمائی ہے، فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ 10 ۝ ۙالَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ) [ المؤمنون : 10، 11 ] ”یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے۔“ یعنی کامیابی سے مراد آخرت کی کامیابی ہے، کیونکہ حقیقی زندگی وہی ہے، فرمایا : (وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَھِىَ الْحَـيَوَانُ ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ) [ العنکبوت : 64 ] ”اور بیشک آخری گھر، یقیناً وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔“ دنیا کی زندگی نہ حقیقی زندگی ہے اور نہ اس کی کامیابی حقیقی کامیابی، فرمایا : (فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ) [ آل عمران : 185 ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کردیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو یقیناً وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“ 3 کامیاب ہونے والوں کے اوصاف میں سب سے پہلے ایمان کا ذکر فرمایا، کیونکہ ایمان ہی کامیابی کا اصل سبب ہے، پھر بعد کی آیات میں اہل ایمان کی چند مزید صفات بیان فرمائیں جو ایمان کے درست اور پختہ ہونے کی دلیل ہیں اور جن کے بغیر ایمان بےمعنی ہے۔
Ayah 23:2

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔

الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ : طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے ”خٰشِعُوْنَ“ کی تفسیر ”خَاءِفُوْنَ سَاکِنُوْنَ“ روایت کی ہے۔ (طبری : 25627) یعنی وہ نماز میں دل سے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں اور اس خوف کا ان کے جسم پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ نماز کے منافی کسی بھی حرکت سے اجتناب کرتے ہیں، نہ ادھر ادھر نگاہ پھیرتے ہیں، نہ اپنے کپڑے یا ڈاڑھی سے کھیلتے ہیں اور نہ انگلیاں چٹخاتے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر جھانکنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (ھُوَ اخْتِلَاسٌ یَخْتَلِسُہُ الشَّیْطَانُ مِنْ صَلَاۃِ الْعَبْدِ) [ بخاري، الأذان، باب الالتفات في الصلاۃ : 751 ] ”یہ شیطان کا آدمی کی نماز سے اچک کرلے جانا ہے، جو شیطان بندے کی نماز سے اچک کرلے جاتا ہے۔“ 3 اس آیت کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز میں اپنی ڈاڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ”اگر اس کا دل خشوع کرتا تو اس کے دوسرے اعضا بھی خشوع کرتے۔“ شیخ البانی نے ”سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ (110)“ میں اس کا موضوع (خود بنائی ہوئی) ہونا دلائل سے ذکر فرمایا ہے۔ تنبیہ : نماز میں ڈاڑھی، کپڑے یا کسی بھی چیز سے کھیلنے اور بےمقصد حرکت کرنے کا خشوع، یعنی دل کے خوف اور جسم کے سکون کے منافی ہونا واضح بات ہے، مگر یہ ہرگز جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ذمے وہ الفاظ لگائے جائیں جو آپ ﷺ سے ثابت نہیں، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ) [ بخاري، العلم، باب إثم من کذب۔۔ : 110۔ مسلم : 3 ]”جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے۔“ 3 امام بخاری ؓ نے اپنی صحیح میں ایک باب باندھا ہے : ”نماز میں ہاتھ سے مدد لینے کا باب، جب وہ کام نماز ہی سے متعلق ہو۔“ پھر اس عنوان کے تحت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا : ”آدمی نماز میں اپنے جسم سے جس طرح چاہے مدد حاصل کرے۔“ پھر لکھتے ہیں کہ ابو اسحاق نے نماز میں اپنی ٹوپی نیچے رکھی اور اسے اٹھایا اور علی ؓ نے اپنی ہتھیلی اپنی بائیں کلائی کے جوڑ پر رکھے رکھی، سوائے اس کے کہ اپنی جلد کو کھجلی کریں یا اپنا کپڑا درست کریں۔“ اس کے بعد امام صاحب نے ابن عباس ؓ سے وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو کر رات کی نماز پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔ اس میں یہ بھی ہے : ”آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے (یعنی مجھے کان سے پکڑ کر دائیں طرف کیا)۔“ [ بخاري، العمل في الصلاۃ، باب استعانۃ الید في الصلاۃ إذا کان من أمر الصلاۃ : 1198 ]
Ayah 23:3

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْن :”لغو“ ہر وہ بات یا کام جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ اس میں شرک اور ہر گناہ، بلکہ ہر بےفائدہ اور بےمقصد قول و فعل آجاتا ہے۔ یعنی کوئی لغو بات یا کام خود کرنا تو دور کی بات ہے، وہ کوئی لغو کام ہوتا ہوا دیکھتے یا سنتے بھی نہیں، بلکہ ان کی عادت ہی لغو سے منہ موڑے رکھنا ہے۔ ”یُعْرِضُوْنَ“ کے بجائے ”مُعْرِضُوْن“ (اسم فاعل) کا مطلب ہے کہ لغو سے اعراض ان کی عادت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ) [ ترمذي، الزھد، باب حدیث من حسن إسلام المرء۔۔ : 2317، عن أبي ہریرہ ؓ ]”آدمی کے اسلام کے حسن میں سے اس کا ان چیزوں کو چھوڑ دینا ہے جو اس کے مقصد کی نہیں ہیں۔“ عباد الرحمان کی صفت بیان فرمائی : (وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا) [ الفرقان : 72 ] ”اور جب بےہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“ جنت کی ایک خوبی یہ ہوگی : (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا) [ الواقعۃ : 25 ] ”وہ اس میں نہ بےہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات۔“
Ayah 23:4

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور وہی جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ للزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ : زکوٰۃ کا لفظ طہارت پر بولا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى) [ الأعلٰی : 14 ] ”بیشک وہ کامیاب ہوگیا جو پاک ہوگیا۔“ اور کسی چیز کے بڑھنے پر بھی، جیسا کہ کہا جاتا ہے : ”زَکَا الزَّرْعُ“ ”کھیتی بڑھ گئی۔“ زکوٰۃ ارکان اسلام میں سے ایک رکن کا نام بھی ہے، جو مال میں سے ایک مخصوص حصے کی ادائیگی پر بولا جاتا ہے، کیونکہ اس عمل سے نفس کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور مال میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ اس معنی کے مطابق ”لِلزَّكٰوةِ“ کا لام اسم فاعل کی تقویت کے لیے ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ زکوٰۃ کا عمل کرنے والے ہیں۔ (بقاعی) قرآن میں عام طور پر نماز اور زکوٰۃ کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔
Ayah 23:5

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْن : پاکدامنی کی صفت اگرچہ لغو سے اعراض میں شامل ہے، مگر نفس کی سب سے منہ زور قوت پر قابو رکھنے کی اہمیت کی وجہ سے اسے الگ بھی ذکر فرمایا، جیسا کہ ”اَلْمُوْمِنُوْنَ“ کے لفظ میں ایمان کے تمام اعمال شامل ہیں، مگر بعد میں سات چیزوں کو ان کی اہمیت کے پیش نظر الگ بھی ذکر فرمایا۔
Ayah 23:6

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔

اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ اسلام جوگیوں، راہبوں اور بعض صوفیوں کی طرح جنسی خواہش کو سرے سے روک دینے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ بیویوں اور لونڈیوں سے جماع کو جائز قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم دیا ہے، فرمایا : (وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ) [ النور : 32 ] ”اور اپنے میں سے بےنکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے ان تین صحابہ سے جن میں سے ایک نے نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا تھا، فرمایا : (أَمَا وَاللّٰہِ ! إِنِّيْ لَأَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَ أَتْقَاکُمْ لَہُ ، لٰکِنِّيْ أَصُوْمُ وَ أُفْطِرُ وَ أُصَلِّيْ وَ أَرْقُدُ وَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَیْسَ مِنِّيْ) [ بخاري، النکاح، باب الترغیب في النکاح۔۔ : 5063 ] ”اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے بچنے والا ہوں، لیکن (اس کے باوجود) میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، میں قیام اللیل بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، پھر جو میری سنت سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔“ ”اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ“ سے معلوم ہوا کہ شہوت پوری کرنے کے لیے مسلمان مرد کے پاس صرف دو راستے ہیں، بیوی اور لونڈی اور عورت کے لیے صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے خاوند یا لونڈی کا مالک۔ کیونکہ جب بیوی خاوند کے لیے حلال ہوئی تو خاوند بیوی کے لیے خود بخود حلال ہوگیا۔ عورت اپنے غلام سے حاجت پوری نہیں کرسکتی، کیونکہ ”عَلیٰ“ کا لفظ اس سے منع کرتا ہے، جو بلندی اور اوپر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ کسی عورت سے جماع کے جواز کے لیے نکاح ضروری ہے، یا اس کا مملوکہ ہونا۔ مالک کو مملوکہ لونڈی کے لیے نکاح کی ضرورت نہیں، اگر مالک کو اس سے جماع کے لیے نکاح ضروری ہوتا تو ”عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ“ ہی کافی تھا، مملوکہ لونڈیوں کا الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
Ayah 23:7

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ۔۔ : یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے ہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس آیت سے اپنی منکوحہ عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے سوا کسی بھی عورت سے جماع حد سے بڑھنا ٹھہرا۔ چناچہ فرمایا : (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) [ بنی إسرائیل : 32 ] ”اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بیشک وہ ہمیشہ سے بڑی بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے۔“ اسی طرح قوم لوط کا عمل، کسی جانور سے بدفعلی اور ہاتھ یا کسی اور طریقے سے ایسا فعل بھی حد سے تجاوز ہے۔ اگرچہ تجاوز کے درجوں میں فرق ہے، مگر مومن کو کسی طرح بھی اللہ کی حدود سے تجاوز درست نہیں۔ تنبیہ : ہاتھ سے منی نکالنا اگرچہ ایک قبیح اور مروّت کے خلاف فعل ہے اور حد سے بڑھنا ہے، مگر اس کی وعید میں رسول اللہ ﷺ سے جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی ثابت نہیں، مثلاً روایت : (نَاکِحُ الْیَدِ مَلْعُوْنٌ) ”ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔“ اور یہ روایت کہ سات آدمی ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور انھیں آگ میں سب سے پہلے داخل کرے گا، ان میں سے پہلا ”نَاکِحُ الْیَدِ“ (ہاتھ سے نکاح کرنے والا) ہے اور یہ روایت کہ قیامت کے دن یہ فعل کرنے والوں کے ہاتھ حمل کی حالت میں ہوں گے، وغیرہ۔
Ayah 23:8

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رٰعُوْن : عفت اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی امانت ہے، اس کے ذکر کے بعد عام امانتوں کی حفاظت کا ذکر فرمایا۔ عہد بھی ایک امانت ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کا الگ ذکر فرمایا۔ ”رٰعُوْن“ ”رَعٰی یَرْعٰی“ (ف) سے اسم فاعل ہے۔ فعل مضارع کے بجائے اسم فاعل لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہ ان کی عادت ہے۔ منافقوں کی طرح نہیں کہ جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ) [ بخاري، الإیمان، باب علامات المنافق : 33 ] ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔“
Ayah 23:9

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور وہی جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَوٰتِهِمْ يُحَافِظُوْن : فلاح پانے والے مومنوں کی پہلی صفت نماز میں خشوع بیان فرمائی اور دوسرے اوصاف بیان کرنے کے بعد آخر میں پھر نماز ہی سے تعلق رکھنے والی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کیا کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نماز کی کس قدر اہمیت ہے۔ ”يُحَافِظُوْن“ باب مفاعلہ سے مبالغے کے لیے ہے، کیونکہ یہاں مقابلے کا معنی مراد نہیں ہوسکتا۔ ”یَحْفَظُوْنَ“ ”حفاظت کرتے ہیں“ اور ”يُحَافِظُوْن“ ”خوب حفاظت کرتے ہیں۔“ محافظت سے مراد نماز ہمیشہ ادا کرنا اور ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ”میں نے نبی ﷺ سے پوچھا : ”یا رسول اللہ ! کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِہَا) ”نماز اس کے وقت پر ادا کرنا۔“ میں نے کہا : ”پھر کون سا عمل ؟“ فرمایا : ”والدین سے حسن سلوک۔“ میں نے کہا : ”پھر کون سا ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”جہاد فی سبیل اللہ۔“ [ بخاري، مواقیت الصلاۃ، باب فضل الصلاۃ لوقتھا : 527۔ مسلم : 85 ] مستدرک حاکم (1؍188، ح : 674) میں ہے : (اَلصَّلَاۃُ فِيْ أَوَّلِ وَقْتِھَا) ”نماز اس کے اول وقت میں ادا کرنا۔“ حاکم نے فرمایا، یہ لفظ دو ثقہ راویوں بندار بن بشار اور حسن بن مکرم کی روایت سے ثابت ہیں، جو ان دونوں نے عثمان بن عمرو سے روایت کی ہے اور یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، جب کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
Ayahs 23:10–11

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ۔۔ : ان سات صفات کے مالک فردوس کے وارث ہوں گے۔ انھیں وارث کہنے کی تین وجہیں ہیں، ایک یہ کہ وراثت کسی چیز کے حق دار ہونے کا سب سے مضبوط سبب ہے، یعنی یہ لوگ جنت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ جنت ان کے والد مکرم آدم ؑ کی ملکیت تھی، جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کی اولاد جو یہ اعمال کرے گی اپنے والد کی جائداد کی وارث ہوگی۔ تیسری وجہ حدیث میں آئی ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا لَہُ مَنْزِلَانِ ، مَنْزِلٌ فِي الْجَنَّۃِ ، وَ مَنْزِلٌ فِي النَّارِ ، فَإِذَا مَاتَ ، فَدَخَلَ النَّارَ ، وَرِثَ أَھْلُ الْجَنَّۃِ مَنْزِلَہُ ، فَذٰلِکَ قَوْلُہُ تَعَالٰی : (ۘاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ) [ ابن ماجہ، الزھد، باب صفۃ الجنۃ : 4341۔ صححہ الألباني في سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 2279 ] ”تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گھر ہیں، ایک گھر جنت میں اور ایک گھر آگ میں۔ پھر اگر کوئی فوت ہوجائے اور آگ میں چلا جائے تو جنت والے اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں، سو یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا : (ۘاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ)۔“ ”الْفِرْدَوْسَ“ لغت میں وسیع باغ کو کہتے ہیں، جس میں کئی قسم کے باغات ہوں، جن میں ہر طرح کے پھل دار درخت خصوصاً انگور اور خوشبو دار پھول کثرت سے ہوں۔ قرآن میں مذکور فردوس کی تفسیر رسول اللہ ﷺ سے آئی ہے، ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَ أَعْلَی الْجَنَّۃِ ، أُرَاہُ قَالَ : وَ فَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ وَ مِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ) [ بخاري، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین۔۔ : 2790 ] ”جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو، کیونکہ وہ جنت کا اوسط اور جنت کا اعلیٰ (سب سے بلند) حصہ ہے۔“ راوی حدیث کہتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں پھر یوں فرمایا : ”اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ اوسط کا معنی افضل بھی ہے اور سب سے درمیان بھی۔ شاید درمیان سے مراد یہ ہو کہ وہ طول و عرض کے لحاظ سے جنت کے عین درمیان ہے اور بلندی کے لحاظ سے جنت کی سب سے بلند منزل ہے۔
Ayah 23:12

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ : ”سُلٰـلَـةٍ“ ”سَلَّ یَسُلُّ“ کوئی چیز نرمی کے ساتھ کھینچتے ہوئے نکالنا۔ ”سَلَلْتُ السَّیْفَ“ ”میں نے میان سے تلوار نکالی۔“ ”اَلسُّلَالَۃُ“ بمعنی ”اَلشَّيْ ءُ الْمَسْلُوْلُ“ یعنی کسی چیز کا خلاصہ۔ ”فُعَالَۃٌ“ کے وزن میں قلت کا مفہوم پایا جاتا ہے، جیسے ”قُلَامَۃٌ“ قلم کا تراشہ اور ”صُبَابَۃٌ“ تھوڑا سا گرا ہوا پانی۔ 3 ان آیات کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاح پانے والے مومنوں کے فردوس کے وارث ہونے کا ذکر فرمایا، تو ظاہر ہے کہ یہ قیامت کے دن ہی ہوگا، اس لیے قیامت اور موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی پہلی دفعہ پیدائش کا ذکر فرمایا، پھر کائنات میں اس سے بھی بڑی مخلوقات آسمان و زمین اور ان میں موجود نعمتوں کا ذکر دلیل کے طور پر فرمایا کہ جس نے یہ سب کچھ پہلی دفعہ پیدا کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اللہ کی توحید اور دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے منکروں کے انجام بد سے ڈرایا، چناچہ سب سے پہلے نوح ؑ کی قوم کے انکار اور ان پر آنے والے عذاب کا ذکر فرمایا۔ واللہ اعلم (نظم الدرر للبقاعی) مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ : ”طِيْنٍ“ کی تنوین تحقیر کے لیے ہے اور ”سُلٰـلَـةٍ“ میں بھی قلت کا مفہوم موجود ہے، یعنی یہ انسان جسے تم چلتے پھرتے اور ہنستے مسکراتے دیکھتے ہو اس کی ابتدا حقیر مٹی کے تھوڑے سے خلاصے کے ساتھ ہوئی۔ ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَۃٍ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْھُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ وَالْأَسْوَدُ وَ بَیْنَ ذٰلِکَ وَالسَّھْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ) [ أبو داوٗد، السنۃ، باب في القدر : 4693 ] ”اللہ عزو جل نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا ہے، جسے اس نے تمام روئے زمین سے جمع فرمایا تھا۔ چناچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے، کئی سرخ ہیں اور کئی سفید، کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔ کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت۔ کئی بری طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔“ اس آیت میں آدم ؑ کی پیدائش کا ذکر ہے۔
Ayah 23:13

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔

جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ : اس میں آدم ؑ کے بعد نسل انسانی کی پیدائش کا ذکر ہے، یعنی پھر اس مٹی کو یا مٹی سے بنی ہوئی اس مخلوق کو پانی کا ایک قطرہ بنا کر ایک نہایت محفوظ ٹھکانے (رحم مادر) میں رکھا۔ مٹی سے پانی کا قطرہ بنانا، جس میں مٹی کا نام و نشان نہیں اور اسے ماں کے رحم کے نہایت محفوظ ٹھکانے میں رکھ کر پانی کے قطرے کو نو (9) ماہ میں مکمل انسان بنادینا سب اس کی قدرت کا کمال ہے۔ ”قَرَارٍ مَّكِيْنٍ“ کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مرسلات (20 تا 22)۔
Ayah 23:14

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر ہم نے اس قطرے کو ایک جما ہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک بوٹی بنایا، پھر ہم نے اس بوٹی کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں کو کچھ گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور صورت میں پیدا کردیا، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو پیدا کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے۔

۠ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً۔۔ :”عَلَقَةً“ کا معنی جمے ہوئے خون کا ٹکڑا بھی ہے اور جونک بھی۔ پھر اللہ تعالیٰ پانی کے سفید سیال قطرے کو سرخ جمے ہوئے خون کے جامد ٹکڑے کی شکل دے دیتا ہے جو جونک کی شکل کا ہوتا ہے اور جونک ہی کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة حج (5)۔ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ : یعنی پھر ہم اس میں روح پھونکتے ہیں تو وہ نہایت خوب صورت دیکھنے، سننے، سمجھنے اور حرکت کرنے والا انسان بن جاتا ہے۔ جس کی شکل و صورت ہی اور ہوتی ہے۔ اب پہلی صورت کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں، یعنی مٹی سے اس کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، پہلے بےجان تھا اب جاندار ہے۔ پہلے اندھا، بہرا اور گونگا تھا اب آنکھ، کان اور زبان والا ہے۔ پہلے گوشت کا بےحس ٹکڑا تھا، اب اس کے ذرّے ذرّے میں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب باریکیاں اور ہزاروں قسم کے احساسات ہیں۔ اس پر آنے والا ہر لمحہ نئی سے نئی تبدیلی لے کر آ رہا ہے، پہلے جنین پھر دودھ پیتا بچہ، جو پیدا ہوتے ہی اپنا اختیار استعمال کرنا شروع کردیتا ہے، پھر لڑکا پھر نوجوان پھر جوان پھر ادھیڑ عمر پھر بوڑھا، پھر ایسا بوڑھا کہ بچپن کی کمزوری کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ انھی منزلوں میں سے کسی منزل میں اسے موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر ایسے مدلل اور خوب صورت انداز میں فرمایا ہے کہ خود بخود یہ جملہ زبان پر آجاتا ہے : (تَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ) ”سو بہت برکت والا ہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کلام کی خوبی کی انتہا ہے۔ چناچہ ایک شاعر نے چند قصیدوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے ؂ قَصَاءِدٌ إِنْ تَکُنْ تُتْلٰی عَلٰی مَلإٍَ صُدُوْرُھَا عُلِمَتْ مِنْھَا قَوَافِیْھَا ”وہ ایسے قصیدے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کے ابتدائی اشعار پڑھے جائیں تو ان کے آخری اشعار خود بخود معلوم ہوجاتے ہیں۔“ غالب نے کیا خوب کہا ہے ؂ دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے الْخٰلِقِيْنَ : یہاں ”خَلْقٌ“ کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ عیسیٰ ؑ کے متعلق فرمایا : (وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ) [ المائدۃ : 110 ] ”اور جب تو مٹی سے پرندے کی شکل کی مانند میرے حکم سے بناتا تھا۔“ اور جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا : (أَحْیُوْا مَا خَلَقْتُمْ) [ بخاري، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ۔۔ 2105، عن عائشۃ ؓ ] ”تم نے جو خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔“ پیدا کرنے اور زندگی بخشنے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ ”اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ“ کے لفظ میں انسان کے حسن و جمال کی طرف بھی واضح اشارہ ہے۔ (بقاعی)
Ayah 23:15

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر بیشک تم اس کے بعد ضرور مرنے والے ہو۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ : اگرچہ مٹی اور نطفے سے لے کر موت تک کا ہر لمحہ ہی موت کے بعد زندگی کا شاہد ہے، کیونکہ جسم کا ہر خلیہ جو موجود ہوتا ہے فنا ہوتا اور اس کی جگہ نیا خلیہ وجود میں آتا رہتا ہے اور یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے، جس کے دوران انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کی طرف بھی منتقل ہوتا رہتا ہے، مگر موت و حیات کے اس سلسلے پر غور کرنے والے بہت ہی کم ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے موت کا وہ مرحلہ بیان فرمایا جو ہر شخص اپنے سر کی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ چناچہ ”ثُمَّ“ کے ساتھ اس مہلت کی طرف اشارہ فرمایا جو انسان کو پیدا ہونے کے بعد عمل کے لیے ملتی ہے اور ”إِنَّ“ اور ”لَام“ کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ پھر زندگی کے سارے یا کچھ ادوار گزار کر آخر تمہیں ہر حال میں مرنا ہے۔
Ayah 23:16

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر بیشک تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔

ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ : انسانی زندگی کے مراحل کو بطور دلیل بیان کرکے اصل بات بیان فرمائی، جسے کافر ناممکن خیال کرتے تھے کہ پھر ایک مدت کے بعد یقیناً تم دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ سورة حج میں واضح طور پر فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۭ وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّكُمْ ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰٓى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْــــًٔا ۭ وَتَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاۗءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَاَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ) [ الحج : 5 ] ”اے لوگو ! اگر تم اٹھائے جانے کے بارے میں کسی شک میں ہو تو بیشک ہم نے تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر کچھ جمے ہوئے خون سے، پھر گوشت کی ایک بوٹی سے، جس کی پوری شکل بنائی ہوئی ہے اور جس کی پوری شکل نہیں بنائی ہوئی، تاکہ ہم تمہارے لیے واضح کریں اور ہم جسے چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر ہم تمہیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کرلیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تو زمین کو مردہ پڑی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں تو وہ لہلہاتی ہے اور ابھرتی ہے اور ہر خوبصورت قسم میں سے اگاتی ہے۔“ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ أَرْبَعُوْنَ ، قَالُوْا یَا أَبَا ھُرَیْرَۃَ ! أَرْبَعُوْنَ یَوْمًا ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ سَنَۃً ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، قَالَ أَرْبَعُوْنَ شَھْرًا ؟ قَالَ أَبَیْتُ ، وَیَبْلَی کُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِہِ ، فِیْہِ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و نفخ في الصور۔۔) : 4814 ] ”دو نفخوں کے درمیان چالیس کا عرصہ ہے ؟“ لوگوں نے کہا : ”اے ابوہریرہ ! چالیس دن کا ؟“ کہا : ”میں نہیں مانتا۔“ انھوں نے کہا : ”چالیس سال کا ؟“ کہا : ”میں نہیں مانتا۔“ انھوں نے کہا : ”چالیس ماہ کا ؟“ کہا : ”میں نہیں مانتا۔“ (کیونکہ دنیا کے ایام اور ماہ و سال کی بساط تو سورج کے ساتھ ہی لپیٹی جا چکی ہوگی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اور انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہوجائے گی، مگر اس کی دم کی ہڈی، اسی پر اس مخلوق کو جوڑا جائے گا۔“
Ayah 23:17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمہارے اوپر سات راستے بنائے اور ہم کبھی مخلوق سے غافل نہیں۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ : اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد زندگی کی دلیل کے طور پر انسان کی اپنی پیدائش کا ذکر فرمایا، جو غور کرنے والے کے لیے کافی تھی، مگر اس کے بعد اس سے بھی کہیں بڑی مخلوق آسمانوں اور زمین کا اور ان میں رکھی ہوئی نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ قیامت کی دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ اکثر انسان کی پیدائش کے ذکر کے بعد آسمانوں اور زمین کی پیدائش کا ذکر فرماتا ہے اور اس سے پہلے یا بعد قیامت کا ذکر فرماتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ ۭ بَنٰىهَا 27؀۪رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا 28؀ۙوَاَغْطَشَ لَيْلَهَا وَاَخْرَجَ ضُحٰىهَا 29؀۠وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا) [ النازعات : 27 تا 30 ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان ؟ اس نے اسے بنایا۔ اس کی چھت کو بلند کیا، پھر اسے برابر کیا۔ اور اس کی رات کو تاریک کردیا اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کردیا اور زمین، اس کے بعد اسے بچھا دیا۔“ اسی طرح دیکھیے سورة مومن (57) اور سورة سجدہ کی شروع کی آیات۔ فَوْقَكُمْ : زمین کے کسی حصے پر چلے جاؤ آسمان اوپر ہی ہوگا۔ سَبْعَ طَرَاۗىِٕقَ :”طَرَاۗىِٕقَ“ ”طَرِیْقَۃٌ“ کی جمع ہے۔ ”طَارَقَ یُطَارِقُ“ اور ”أَطْرَقَ“ کا معنی ایک دوسرے پر چڑھانا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم ترکوں سے لڑو گے۔“ پھر ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا : (کَأَنَّ وُجُوْھَھُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَۃُ) [ بخاري، الجہاد والسیر، باب قتال الترک : 2928 ] ”ان کے چہرے (ایسے چوڑے ہوں گے) جیسے وہ ایسی ڈھا لیں ہیں جن پر چمڑا چڑھایا ہوا ہے۔“ ”طَارَقْتُ بَیْنَ الثَّوْبَیْنِ“ ”میں نے دو کپڑے اوپر تلے لیے۔“ مطلب یہ ہے کہ یہ ساتوں آسمان ایک دوسرے کے اوپر ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا) [ نوح : 15 ] ”کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔“ ”طَرَقَ یَطْرُقُ“ (ن) ”ضَرَبَ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، ہتھوڑے کو ”اَلْمِطْرَقَۃُ“ اسی لیے کہتے ہیں۔ ”طَرِیْقٌ“ کا ایک معنی راستہ بھی ہے، کیونکہ وہ چلنے والوں کی ٹھوکر میں ہوتا ہے۔ آسمانوں کو ”طَرِیْقَۃٌ“ اس لیے بھی کہتے ہیں کہ وہ فرشتوں کی آمد و رفت اور احکام الٰہی کے نزول اور اعمال کے اوپر جانے کے راستے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۭ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا) [ الطلاق : 12 ] ”اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقیناً ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔“ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ : ”کُنَّا“ استمرار (ہمیشگی) کے لیے ہے، اسی لیے ترجمہ میں ”کبھی“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ انسانوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے کے بعد ہم ان سے بیخبر اور بےتعلق ہوگئے ہوں، یا انھیں کسی داتا، دستگیر یا گنج بخش کے حوالے کردیا ہو، نہیں، ایسا نہ کبھی تھا نہ ہوگا۔ ان کا وجود تو قائم ہی ہمارے علم اور ہماری قدرت کی بدولت ہے، جیسا کہ فرمایا : (يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْهَا ۭ وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ) [ الحدید : 4 ] ”وہ جانتا ہے جو چیز زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں بھی تم ہو اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے۔“ اور دیکھیے سورة انعام (59)۔
Ayah 23:18

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور یقینا ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر ضرور قادر ہیں۔

وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ : آسمان کی پیدائش کے بعد اپنی مزید نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پانی بذات خود بہت بڑی نعمت ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ) [ الأنبیاء : 30 ] ”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی۔“ اس آیت میں پانی اتارنے کی عظیم نعمت کے ذکر کے بعد اس کے متعلق تین باتیں فرمائیں، چناچہ فرمایا کہ ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، جس سے انسان، حیوان، کھیت اور درخت سیراب ہو سکیں۔ میدانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں زندگی باقی رہ سکے اور سمندروں اور ندی نالوں کی ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ اگر اس مخصوص مقدار سے زیادہ بارش برستی تو سمندر خشکی پر چڑھ کر زندگی کا سلسلہ نیست و نابود کردیتے اور اگر کم برستی تو انسان، حیوان، درخت اور کھیت زندہ نہ رہ سکتے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ صرف پانی ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز مخصوص مقدار میں اتارتا ہے، نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم، جیسا کہ فرمایا : (وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ ۡ وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ) [ الحجر : 21 ] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔“ مستدرک حاکم میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے : (مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یُصَرِّفُہُ حَیْثُ یَشَاءُ ثُمَّ قَرَأَ : (؀ وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوْا) [ الفرقان : 50 ]) [ مستدرک حاکم : 2؍403، ح : 3520۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 5؍460، ح : 2461 ] ”کوئی سال ایسا نہیں جس میں دوسرے کسی سال کی نسبت بارش زیادہ ہوتی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے بارش میں کمی بیشی کرتا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اسے ان کے درمیان پھیر پھیر کر بھیجا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ : دوسری بات یہ کہ آسمانوں سے برسنے والا پانی اللہ کے حکم سے مختلف صورتوں میں زمین پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس میں سے کچھ چشموں کی صورت میں نمودار ہوجاتا ہے، کچھ زیر زمین محفوظ ہوجاتا ہے، جسے لوگ کنووں وغیرہ کی صورت میں نکال کر استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَلَكَهٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ) [ الزمر : 21 ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اسے چشموں کی صورت زمین میں چلایا۔“ اور کچھ پانی ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت اختیار کرجاتا ہے جس سے لوگ اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں، خود پیتے ہیں، غسل کرتے ہیں، کپڑے وغیرہ دھوتے ہیں، جانوروں کو پلاتے ہیں، کھیتیاں اور باغات سیراب کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا) [ الرعد : 17] ”اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا تو کئی نالے اپنی اپنی وسعت کے مطابق بہ نکلے۔“ اور بارش کا کچھ پانی سمندر کی صورت میں ذخیرہ ہوجاتا ہے، جو دوبارہ بارش کا اور انسان کے بیشمار منافع و فوائد کا ذریعہ بنتا ہے۔ وَاِنَّا عَلٰي ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ : تیسری بات یہ کہ جس طرح ہم نے پانی اتارا ہے اسے لے جا بھی سکتے ہیں، پھر کون ہے جو اسے واپس لاسکے ؟ ”ذَهَابٍ“ کی تنوین میں نکرہ کے عموم کی وجہ سے ترجمہ کیا ہے کہ ”ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر قادر ہیں۔“ مثلاً ہم بارش روک دیں، یا برسنے والا پانی گندا کردیں جو پینے اور استعمال کے قابل ہی نہ رہے، یا جس طرح یہ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے تو ”کُنْ“ کہہ کر اسے پھر گیس میں بدل دیں، یا زمین میں اتنا گہرا لے جائیں کہ تم نکال ہی نہ سکو، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ) [ الملک : 30 ] ”کہہ دے کیا تم نے دیکھا اگر تمہارا پانی گہرا چلا جائے تو کون ہے جو تمہارے پاس بہتا ہوا پانی لائے گا ؟“ یا اسے سخت نمکین بنادیں جو پیا ہی نہ جاسکے، جیسا کہ فرمایا : (اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ 68۝ۭءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ 69؀ لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ) [ الواقعۃ : 68 تا 70 ] ”پھر کیا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو ؟ کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے، یا ہم ہی اتارنے والے ہیں ؟ اگر ہم چاہیں تو اسے سخت نمکین بنادیں، پھر تم شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟“ یا اس میں سے وہ برکت نکال لیں جو ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جنھیں ہم عطا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ آیت سورة ملک کی آیت (30) : (قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَاۗؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ بِمَاۗءٍ مَّعِيْنٍ) سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ صاحب روح المعانی نے زیر تفسیر آیت کے سورة ملک کی آیت سے زیادہ بلیغ ہونے کی اٹھارہ وجہیں ”التقریب لتفسیر التحریر والتنویر للطاہر ابن عاشور“ سے نقل کرنے کے بعد مزید بارہ وجہیں ذکر کرکے انھیں تیس تک پہنچا دیا ہے۔ صاحب ذوق حضرات وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 23:19

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہارے لیے اس کے ساتھ کھجوروں اور انگوروں کے کئی باغ پیدا کیے، تمہارے لیے ان میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ : پانی اتارنے کے ذکر کے بعد حیات بعد الموت پر دلالت کرنے والی چند چیزیں ذکر فرمائیں، پہلی یہ کہ ہم نے اس پانی کے ساتھ (اپنے لیے نہیں بلکہ) تمہارے لیے کئی قسم کے باغات پیدا فرمائے۔ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ : ”نَّخِيْلٍ“ کھجور کے درخت، ”اَعْنَابٍ“ ”عِنَبٌ“ کی جمع ہے، انگور کا پھل۔ کھجور اور انگور کا خصوصاً ذکر ان کے بیشمار فوائد کی وجہ سے فرمایا، کیونکہ انھیں دوسرے تمام پھلوں پر برتری حاصل ہے، جیسا کہ فرشتوں میں جبریل اور میکال کا خصوصاً الگ ذکر کیا، فرمایا : (مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ) [ البقرۃ : 98 ] ”جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے۔“ اور اس لیے بھی کہ عرب میں یہ دونوں پھل زیادہ پائے جاتے ہیں۔ انگور کے پھل کے ذکر سے پہلے کھجور کے پھل کے بجائے اس کے درخت کا ذکر فرمایا، کیونکہ کھجور کا درخت پھل کے علاوہ بھی بہت سے فوائد رکھتا ہے۔ اس کا ہر حصہ کارآمد ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے شجرۂ طیبہ قرار دے کر کلمہ طیبہ کی مثال اس کے ساتھ دی ہے، فرمایا : (اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ) [ إبراھیم : 24 ] ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح ہے۔“ کھجور کے درخت کے ضمن میں وہ تمام درخت بھی آگئے جن کے پھل پھول، پتے، چھال اور لکڑی ہر چیز کارآمد ہے۔ لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ۔۔ : اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کی طرف توجہ دلانے کے لیے بار بار ”لَکُم“ کا لفظ دہرا رہے ہیں کہ یہ سب کچھ تمہارے لیے ہے، ہمارے لیے نہیں، یعنی تمہارے لیے ان باغات میں کھجور کے درختوں اور انگوروں کے علاوہ بہت سے لذیذ پھل ہیں۔ وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ : اس جملے کے جملہ اسمیہ پر عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ایک جملہ فعلیہ محذوف ہے : ”أَيْ مِنْھَا (وَ ھِيَ طَرِیَّۃٌ) تَتَفَکَّھُوْنَ وَ مِنْھَا تَأْکُلُوْنَ“ یعنی تم ان کے بعض سے تازہ ہونے کی حالت میں لذت حاصل کرتے ہو اور خشک کرکے یا رس اور روغن نکال کر بعد میں بھی اور یہی تمہاری خوراک کا ایک حصہ بنتے ہیں۔ (بقاعی) ”وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ“ میں یہ بھی شامل ہے کہ انھی کی آمدنی سے سارا سال تمہارے کھانے پینے اور دوسری ضروریات زندگی کا بند و بست ہوتا ہے۔
Ayah 23:20

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی جو طور سینا سے نکلتا ہے، تیل لے کر اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی۔

ۙوَشَجَــرَةً تَخْــرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۗءَ : طور ایک مخصوص پہاڑ کا نام ہے۔ طور کا معنی پہاڑ بھی ہے۔ بعض نے کہا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر درخت اگتے ہوں۔ سیناء اس پہاڑ کا نام ہے، جیسا کہ جبل احد کہتے ہیں، یا ”جَبَلَا طَيْءٍ“ (بنو طے کے دو پہاڑ) کہتے ہیں۔ امام طبری نے فرمایا : ”اور ہم نے تمہارے لیے وہ درخت بھی پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، یعنی اس پہاڑ سے جس پر درخت اگتے ہیں۔ مراد زیتون کا درخت ہے۔“ اعراب القرآن و بیانہ از درویش میں ہے : ”سیناء ایک شبہ جزیرہ ہے، جس کی حد شمال میں بحر ابیض متوسط ہے اور مغرب میں نہر سویز اور خلیج سویز ہے اور مشرق میں فلسطین اور خلیج عقبہ ہے اور جنوب میں وہ بحر احمر میں ”رأس محمد“ کے پاس ختم ہوتا ہے اور سیناء ایک پہاڑ ہے جو شبہ جزیرہ سیناء میں جنوب کی طرف واقع ہے اور درخت سے مراد زیتون کا درخت ہے اور اسے طور سیناء کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا ہے کہ اس کا اصل وطن وہ ہے جہاں سے وہ دوسرے مقامات پر منتقل ہوا۔“ کھجور اور انگور کے بعد زیتون کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس کے کثیر فوائد کی وجہ سے فرمایا۔ شام اور فلسطین اس کا اصلی وطن ہیں اور وہاں کا زیتون بہت عمدہ ہوتا ہے۔ شام میں زیتون اتنی کثرت سے ہے کہ گھروں، کھیتوں اور سڑکوں کے کناروں وغیرہ پر خود بخود اگا ہوا ملتا ہے۔ اس درخت کی عمر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے : ”یہ ڈیڑھ دو ہزار برس تک چلتا ہے، حتیٰ کہ فلسطین کے بعض درختوں کا قد و قامت اور پھیلاؤ دیکھ کر اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ عیسیٰ ؑ کے زمانے سے اب تک چلے آ رہے ہیں۔“ (واللہ اعلم) سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ نے اسے شجرۂ مبارکہ قرار دیا ہے، اس کے تیل کی تعریف میں فرمایا : (يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْۗءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ) [ النور : 35 ] ”اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔“ اور سورة التین میں اس کی قسم کھائی ہے۔ تَنْۢبُتُ بالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ : زیتون میں اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی قدرت کا کمال دیکھیے کہ پانی سے سیراب ہوتا ہے اور اپنے ہمراہ تیل کا خزانہ اور کھانے والوں کے لیے ایک طرح کا سالن لے کر اگتا ہے۔ ”وَصِبْغٍ“ نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ ”ایک طرح کا سالن“ کیا گیا ہے، کیونکہ سالن بیشمار ہیں اور اس سے عمدہ اور لذیذ بھی ہیں۔ (بقاعی) اس کا تیل کھانا پکانے، سالن کے طور پر کھانے، جسم پر لگانے اور دوسری ضروریات میں کام آتا ہے اور اس کا پھل اچار کی صورت میں بھی کھانے کے کام آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُوا الزَّیْتَ وَادَّھِنُوْا بِہِ فَإِنَّہُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُبَارَکَۃٍ) [ ترمذي، الأطعمۃ، باب ما جاء في أکل الزیت : 1851۔ صححہ الألباني في الصحیحۃ : 379 ] ”زیتون کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو، کیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔“ ابن حبان نے فرمایا : ”کھجور، انگور اور زیتون کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا : ”لِأَنَّھَا أَکْرَمُ الشَّجَرِ وَ أَجْمَعُھَا لِلْمُنَافِعِ“ ”کیونکہ یہ تمام درختوں سے زیادہ عمدہ ہیں اور سب سے زیادہ فوائد کے جامع ہیں۔“ [ البحر المحیط ] 3 اگرچہ یہاں صرف زیتون کا ذکر کیا گیا ہے، مگر اس کے ضمن میں وہ تمام درخت اور پودے بھی آگئے جن سے انسان اپنی روغنیات کی ضرورت حاصل کرتا ہے اور جنھیں کھانے کے لازمہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
Ayah 23:21

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارے لیے چوپاؤں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم تمہیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہے، پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔

وَاِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً : پچھلی آیات میں پانی کے ساتھ پیدا ہونے والی نباتات کا ذکر فرمایا، جس میں موت کے بعد زندگی کی دلیل اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد دہانی ہے۔ اب موت کے بعد زندگی کا یقین دلانے کے لیے اور اپنی نعمتوں اور قدرتوں کا احساس دلانے کے لیے نباتات سے اعلیٰ درجے کی زندگی والی مخلوق کا ذکر فرمایا، جو روح رکھنے والے چوپائے ہیں۔ ”لَعِبْرَةً“ میں تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی عبرت“ کیا ہے۔ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا : اس کی تفصیل سورة نحل (66) میں دیکھیے۔ وَلَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (142) ، سورة نحل (5 تا 8، 66، 80) ، سورة حج (27، 28، 32، 33، 36، 37) اور سورة مومن (79)۔ وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْن : یعنی تم ان کا گوشت کھاتے ہو اور وہ چوپائے خریدو فروخت کے ذریعے سے تمہارے کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی اشیاء حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔
Ayah 23:22

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور انھی پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔

وَعَلَيْهَا وَعَلَي الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ : ”ۙ وَعَلَيْهَا“ (ان پر) سے مراد اونٹ ہیں، جو صحرا کے جہاز ہیں۔ عرب میں سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اونٹ ہی استعمال ہوتے تھے اور اونٹوں کے لیے ”خشکی کے جہاز“ کا استعارہ قدیم زمانے سے معروف ہے۔ ذو الرُّمّہ شاعر اپنی اونٹنی کے متعلق کہتا ہے ؂ طُرُوْقًا وَجُلْبُ الرَّحْلِ مَشْدُوْدَۃٌ بِھَا سَفِیْنَۃُ بَرٍّ تَحْتَ خَدِّيْ زِمَامُھَا ”رات کا وقت تھا اور ”جُلْبُ الرَّحْلِ“ (پالان کی لکڑیوں) کے ساتھ خشکی کا جہاز بندھا ہوا تھا، جس کی مہار میرے رخسار کے نیچے تھی۔“ (اضواء البیان) خشکی کے جہازوں کی مناسبت سے بحری جہازوں کی نعمت کا ذکر بھی فرما دیا ہے۔ ”سوار ہوتے ہو“ کے بجائے ”سوار کیے جاتے ہو“ کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ (اور ہاتھی) جیسے عظیم الجثّہ جانوروں پر سوار ہونا اور انھیں اپنا تابع فرمان بنانا تمہارے بس کی بات نہیں، بلکہ ان پر سوار کرنا اور انھیں تمہارے تابع فرمان بنادینا ہمارا کام ہے، یقین نہ ہو تو ان سے بدرجہا چھوٹے جانوروں، مثلاً ہرن، بھیڑیے، لومڑی، گیدڑ اور چیتے وغیرہ کو ان کی طرح مانوس کرکے دکھاؤ۔ اسی طرح ہماری عظیم الشان مخلوق سمندر کہ جس کے مقابلے میں تم اتنے بھی نہیں جتنا صحرا کے مقابلے میں ریت کا ذرہ، اس پر سوار ہونا اور اس کا تمہیں اپنے سینے پر اٹھائے رکھنا تمہارے بس کی بات نہیں، یہ تو ہم ہیں جو تمہیں کشتیوں میں سوار کرکے اسے تمہارے تابع کردیتے ہیں، اگر یقین نہ ہو تو ان طوفانوں کو یاد کرو جن کی بلاخیزی سے پہاڑوں جیسے جہاز آنکھ جھپکنے میں اس کی آغوش میں ڈوب جاتے ہیں۔
Ayah 23:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ : توحید و قیامت کے دلائل اور اپنی عظیم الشان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کا انکار کرنے والی اور رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کا اور اپنے رسولوں کی نصرت کا ذکر فرمایا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نوح ؑ اور ان کی قوم کا ذکر فرمایا، کیونکہ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول وہی تھے اور نعمتوں کے تذکرے سے بات کا رخ نوح ؑ کی طرف نہایت خوب صورت طریقے سے موڑا کہ آخری نعمت جو ذکر فرمائی وہ انسانوں کو کشتیوں پر سوار کرنا تھی اور سب سے پہلے کشتی کے سوار نوح ؑ اور ان کے مومن ساتھی تھے، بعد میں تمام کشتیاں اسی کی طرز پر بنیں۔ (دیکھیے سورة یٰس : 41 تا 43) اس لیے کشتیوں کے بعد ان کا ذکر فرمایا۔ 3 انعامات اور دلائل توحید بیان کرنے کے بعد آگے انبیاء اور ان قوموں کے حالات بیان فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں غور و فکر کے بجائے احسان فراموشی اور تکبر سے کام لیا، تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ اس میں قریش اور دوسرے تمام کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔ قرآن میں عموماً ”آلَاء اللّٰہِ“ (اللہ کی نعمتوں) کے بعد ”أَیَّام اللّٰہِ“ کا بیان ہوتا ہے، تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ اِلٰى قَوْمِهٖ“ سے معلوم ہوا کہ نوح ؑ صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اس وقت موجود ہی ان کی قوم تھی۔ تمام انسانوں اور جنوں کی طرف مبعوث ہونا صرف ہمارے رسول ﷺ کا خاصہ ہے۔ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ : ”يٰقَوْمِ“ اصل میں ”یَا قَوْمِيْ“ ہے ”اے میری قوم !“ کتنی محبت اور نرمی سے خطاب فرمایا ہے، پھر فرمایا : ”اللہ کی عبادت کرو۔“ ہر پیغمبر کی دعوت یہی رہی ہے۔ (دیکھیے سورة انبیاء : 25) نوح ؑ کے واقعات کے لیے سورة اعراف (59 تا 64) ، یونس (71 تا 73) ، بنی اسرائیل (3) اور سورة انبیاء (76، 77) بھی ملاحظہ فرمائیں۔ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ : ”مِنْ“ کے ساتھ معبودوں کے عموم کی تاکید ہے، اس لیے ترجمہ ہوگا ”اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں۔“ یہ جملہ ”اعْبُدُوا اللّٰهَ“ کی علت ہے، یعنی اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں۔ جب اور کوئی بھی معبود نہیں تو عبادت کیسی ؟ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ : یعنی کیا اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہوئے تم اس سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔
Ayah 23:24

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، یہ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرلے اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور کوئی فرشتے اتار دیتا، ہم نے یہ اپنے پہلے باپ دادا میں نہیں سنا۔

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ : معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے واضح طور پر الگ الگ قبیلے تھے اور نوح ؑ کا اپنا قبیلہ انکار میں پیش پیش تھا۔ اس لیے انکار اور اعتراض کے اپنوں کی طرف سے ہونے کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے ”مِنْ قَوْمِهٖ“ فرمایا۔ (بقاعی) اس میں ہمارے رسول ﷺ کے لیے تسلی ہے، کیونکہ آپ کی سخت ترین مخالفت آپ کے قریب ترین رشتہ دار ابولہب نے کی۔ (دیکھیے سورة لہب) ایک شاعر نے کہا ؂ وَ ظُلْمُ ذَوِی الْقُرْبٰی أَشَدُّ مَضَاضَۃً عَلَی الْمَرْءِ مِنْ وَقْعِ الْحُسَامِ الْمُھَنَّدِ ”اور قرابت والوں کا ظلم تکلیف میں آدمی پر ہندی تلوار لگنے سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔“ مَا ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ : مفسر رازی نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے پانچ شبہات ذکر فرمائے، مگر جواب کسی کا نہیں دیا، کیونکہ معمولی سے غور کے ساتھ ان کا بےکار ہونا سمجھ میں آجاتا ہے۔“ ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ یہ تو تمہارے جیسا بشر ہے۔ بقاعی نے فرمایا : ”انھوں نے کسی انسان کا نبی ہونا نہیں مانا تو لازم تھا کہ کسی مٹی کا انسان ہونا بھی نہ مانتے، پانی کے کسی قطرے کا علقہ ہونا اور خون کی کسی پھٹکی کا مضغہ ہونا بھی نہ مانتے۔۔“ ابن جزیّ نے التسہیل میں فرمایا : ”کس قدر تعجب ہے کہ انھوں نے بشر کے رسول ہونے کو نہیں مانا، مگر پتھر کے رب ہونے کو مان لیا۔“ مشرک کی عقل ایسی ہی ہوتی ہے، ہمارے زمانے کے بعض لوگ جو جدّی پشتی مسلمان ہیں، آبا و اجداد سے سن کر محمد ﷺ کو نبی مانتے ہیں مگر بشر نہیں مانتے۔ پہلے لوگوں کا کہنا تھا کہ بشر رسول نہیں ہوسکتا اور ان کا کہنا ہے کہ رسول بشر نہیں ہوسکتا۔ نتیجہ دونوں باتوں کا ایک ہی ہے۔ قرآن نے بشر کے رسول نہ ہونے یا رسول کے بشر نہ ہونے کا بار بار رد فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (63 تا 69) ، یونس (2) ، ہود (27 تا 31) ، یوسف (109) ، رعد (38) ، ابراہیم (10، 11) ، نحل (43) ، بنی اسرائیل (94، 95) ، کہف (110) ، انبیاء (3) ، مومنون (33، 34، 47) ، فرقان (7 تا 20) ، شعراء (154، 186) اور سورة یٰس (15)۔ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ : یہ دوسرا شبہ ہے جو کافر سرداروں نے انبیاء کو عوام میں بےوقعت بنانے کے لیے پیش کیا کہ یہ تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اکثر کفار نے اپنے اپنے انبیاء کے بارے میں یہی بات کہی کہ یہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ اور ہارون ؑ کو یہ طعنہ دیا تھا : (قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۗءُ فِي الْاَرْضِ) [ یونس : 78 ] ”انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے ؟“ گویا سرداری اور برتری ان مشرکوں ہی کا مادری و پدری ورثہ ہے، یہ کسی اور کا حق نہیں۔ جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ اگر رسول اپنے منصب کی وجہ سے برتری چاہتے ہیں تو برتری کا حامل ہونا ان کا حق ہے، تاکہ کسی کو ان کے اتباع میں عار نہ ہو اور اگر وہ تکبر اور فخر و غرور کے لیے برتری چاہتے ہیں تو یہ ان پر بہتان ہے، کیونکہ ان سے بڑھ کر کوئی متواضع نہیں ہوتا۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰۗىِٕكَةً : یہ تیسرا اعتراض ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اللہ کو مانتے تھے، مگر اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔ نوح ؑ کی طرف سے ایک اللہ کی عبادت کا حکم سن کر بہانہ گھڑا کہ اگر اللہ چاہتا کہ کوئی رسول بھیجے تو وہ انسان کے بجائے کوئی فرشتے بھیج دیتا۔ یہ بھی درحقیقت بشر کی نبوت سے انکار ہے۔ انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ مالک مرضی والا ہے، وہ جسے چاہے، جس کام کے لیے چاہے چن لیتا ہے۔ وہ مالک ہی کیا ہوا جو تمہارے چاہنے کا پابند ہو۔ مَّا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ : یہ چوتھا اعتراض ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ سے پہلے جاہلیت کا طویل عرصہ گزرا تھا۔ پہلی تینوں باتوں میں نوح ؑ کے رسول ہونے کا انکار تھا اور یہ اس دعوت کا انکار ہے جو نوح ؑ لے کر آئے تھے۔ یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنے کی بات ہم نے نہیں سنی اور نہ یہ سنا ہے کہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے یا سفارشی بنانے کے لیے بھی کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ کفار کے سرداروں کی یہ بات بھی اس لیے جواب کے قابل نہیں کہ اس کی بنیاد تقلید ہے، جب کہ تقلید سراسر جہل ہے اور جاہلوں کا جواب خاموشی اور سلام متارکہ ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) [ الفرقان : 63 ] ”اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام ہے۔“ (دیکھیے بقرہ : 170) بھلا بتاؤ اس سے بڑی جہالت کیا ہوگی کہ جو چیز ہم نے سنی نہیں وہ ہے ہی نہیں ؟