Ayah 23:65لَا تَجْــــَٔــرُوا الْيَوْمَ۔۔ : یعنی اب بلبلانے اور چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں، کیونکہ یہ جزا کا وقت ہے، توبہ اور عمل کا وقت ختم ہوگیا۔ اب ہماری طرف سے کسی مدد کی امید مت رکھو۔ دیکھیے سورة مومن (82 تا 85)۔
Ayah 23:66قَدْ كَانَتْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ۔۔ : ”نَکَصَ“ (ض، ن) عموماً کسی خیر کے کام سے پیچھے ہٹنے کو کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ نے ”تَنْكِصُوْنَ“ کا معنی ”تُدْبِرُوْنَ“ (پلٹتے تھے) بیان فرمایا ہے۔ (طبری) یعنی یہ عذاب تمہارے اپنے اعمالِ بد ہی کا نتیجہ ہے کہ میری آیات جب تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو تم ایڑیوں کے بل پھرجاتے تھے، تمہیں سننا تک گوارا نہ تھا۔
Ayah 23:67”ۙمُسْتَكْبِرِيْنَ“ یہ ”تَنْكِصُوْن“ کی ضمیر سے حال ہے، یعنی ہماری آیات کی تلاوت کے وقت تمہارا الٹے پاؤں پھرجانا کسی خوف یا مصروفیت یا کسی اور وجہ سے نہیں تھا، بلکہ تم محض تکبر کرتے ہوئے سننے سے اجتناب کے لیے ایڑیوں پر پھرجاتے تھے۔
بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ : ”سَمَرَ یَسْمُرُ سَمْرًا وَ سُمُوْرًا فَھُوَ سَامِرٌ“ (ن) رات کو دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا اور قصے کہانیاں سنانا۔ ”ھَجَرَ یَھْجُرُ ھَجْرًا وَ ھِجْرَۃً“ چھوڑنا اور ”ھُجْرًا“ بےہودہ، لغو اور فضول باتیں کرنا، بکواس کرنا۔ ”بِهٖ“ کی ضمیر قرآن کی طرف جاتی ہے، جو آیات کے ضمن میں مذکور ہے، یعنی رات کو باتیں کرتے ہوئے تم اس قرآن کے متعلق بےہودہ گوئی اور بکواس کیا کرتے تھے۔
Ayah 23:68اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزیں بیان فرمائی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی سبب ہوتا تو کفار کا رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر ایمان نہ لانا معقول تھا، مگر جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو ان کے پاس انکار، تکبر اور مذاق اڑانے کا کوئی عذر نہیں۔
اَفَلَمْ يَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ : یعنی کیا ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کو انھوں نے سمجھا نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ وجہ نہیں، قرآن کوئی پہیلی نہیں، کسی ایسی زبان میں نہیں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو آدمی کی سمجھ سے بالا ہو، وہ اس کی ایک ایک بات کو سمجھتے ہیں۔ مخالفت اس لیے نہیں کر رہے کہ انھوں نے سمجھنے کی کوشش کی اور انھیں سمجھ نہیں آیا، بلکہ اس لیے مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ ماننا نہیں چاہتے۔
اَمْ جَاۗءَهُمْ مَّا لَمْ يَاْتِ اٰبَاۗءَهُمُ الْاَوَّلِيْنَ : یعنی یا ان کے انکار کی یہ وجہ ہے کہ اس نے کوئی نرالی بات پیش کی ہے جو کبھی کسی کے سننے ہی میں نہیں آئی ؟ ظاہر ہے یہ بات بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء ہمیشہ آتے رہے ہیں، یہ کوئی پہلا رسول نہیں۔ فرمایا : (قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ) [ الأحقاف : 9 ] ”کہہ دیجیے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں۔“ ان کے گرد و پیش عراق، شام اور مصر میں کئی انبیاء آئے ہیں، ان کی اپنی سرزمین میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ آئے، ہود، صالح اور شعیب ؑ آئے۔ یہ خود ان کو سچے رسول مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے، بلکہ توحید کی دعوت لے کر آئے تھے۔ غرض ان کے انکار کی وجہ یہ بھی نہیں کہ ان کے پاس نبی ﷺ کی آمد کوئی انوکھی بات ہے۔
تنبیہ : قرآن میں جہاں یہ ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو ان لوگوں کی طرف بھیجا گیا جن کے آباء کی طرف کوئی رسول نہیں آیا، وہاں مراد قریب زمانے میں رسول کا نہ آنا ہے اور یہاں مراد بعید زمانے میں رسول کا آنا ہے، جو ان کے بھی علم میں ہے، کیونکہ ابراہیم، اسماعیل، ہود، صالح اور شعیب ؑ کو وہ لوگ بھی رسول مانتے تھے۔
Ayah 23:69اَمْ لَمْ يَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ : تیسری وجہ ان کے ایمان نہ لانے کی یہ ہوسکتی ہے کہ ایک بالکل اجنبی آدمی ان میں اٹھ کر کھڑا ہوگیا ہو کہ مجھے رسول مانو، جس کے حسب نسب، صدق و امانت اور حسن اخلاق کو وہ نہ جانتے ہوں، سو یہ وجہ بھی نہیں، کیونکہ وہ ان میں سے سب سے عالی خاندان کا فرد اور عالی اخلاق کا مالک ہے۔ اس دعویٰ سے پہلے چالیس سال تک وہ ان میں رہا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (16)۔
Ayah 23:70اَمْ يَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ۔۔ :”جِنَّةٌ“ پر تنوین تنکیر کی ہے، یعنی یہ کہتے ہیں کہ اس کو کسی قسم کا جنون ہے۔ چوتھی وجہ ان کے انکار کی یہ ہوسکتی ہے کہ وہ کہتے ہوں کہ اسے کسی قسم کا جنون ہے اور واقعی وہ آپ کو کسی قسم کا دیوانہ یا پاگل سمجھتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی اصل وجہ نہیں ہے، کیونکہ وہ ہٹ دھرمی سے اپنی زبان سے جو چاہیں کہتے رہیں، مگر دل سے آپ ﷺ کی کمال دانائی کے قائل ہیں، کیونکہ خود انھوں نے صادق اور امین کا لقب دیا ہے۔ بھلا پاگلوں کو یہ لقب دیا جاتا ہے، پھر وہ کیسا دیوانہ ہے (یا مستشرقین کی ہرزہ سرائی کے مطابق مرگی کے دورے کا مریض ہے) کہ دیوانگی یا مرگی کے دورے کے وقت اس کی زبان سے قرآن جیسا کلام نکلتا ہے، جس کی سب سے چھوٹی سورت کا جواب پیش کرنے سے پوری کائنات قاصر ہے اور جس نے تیئیس (23) برس کے مختصر عرصے میں ساری دنیا کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔
بَلْ جَاۗءَهُمْ بالْحَقِّ وَاَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْن : جب یہ بات بھی نہیں تو نتیجہ یہی ہے کہ جو دعوت اس رسول نے پیش کی ہے وہ حق ہے، جب کہ ان کے اکثر حق بات کو ناپسند کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی شتر بےمہار خواہشات اور حیوانی خصلتوں کے خلاف ہے۔ چناچہ وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ سچی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرمایا : ”ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔“ کیونکہ جو حق پسند تھے وہ ایمان لے آئے۔
Ayah 23:71وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ۔۔ : یعنی اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا یہ سلسلہ تباہ ہوجائے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے کی خواہش سے ٹکراتی ہے اور ان کا علم محدود ہے، نہ پوری موجود کائنات کا علم رکھتے ہیں، نہ آئندہ کی کچھ خبر رکھتے ہیں۔ ان کی خواہشات پر عمل کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ دور کیوں جائیے، ملکوں کے منتخب نمائندے ایک قانون بناتے ہیں، جب اس کی خرابیاں سامنے آتی ہیں تو اسے ختم کر کے اور بنا دیتے ہیں، کچھ دیر کے بعد اسے بھی بدلنا پڑتا ہے۔ کتنے قانون انھوں نے خود بنائے، جن کے نتیجے میں وہ خود پھانسی کے پھندے میں جھول گئے۔ پھر یہ لوگ تو اللہ کے سوا کئی معبودوں کی پرستش کرتے ہیں، اگر ان کی خواہش کے مطابق ایک سے زیادہ معبودوں کے ہاتھ میں کائنات کا نظام دے دیا جائے تو سوچ لو کہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ سلسلہ چل سکتا ہے ؟ یہ کائنات تو صرف ایک مالک کے حکم پر چل رہی ہے، جو خود حق ہے، اس کا کلام حق ہے اور اس کا سب کچھ برحق ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (22) : (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) کی تفسیر۔
بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ۔۔ : ذکر کے دو معنی ہیں، ایک نصیحت اور ایک عز و شرف اور ناموری، یہاں دونوں درست ہیں۔ نصیحت اس لیے کہ کفار مکہ کہہ سکتے تھے : (لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّآ اَهْدٰي مِنْهُمْ) [ الأنعام : 157 ] ”اگر ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم پہلی امتوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکوے کا موقع ہی نہیں دیا اور خود ہی وہ کتاب نازل فرما دی جو ان کے لیے نصیحت ہے، مگر چونکہ اس میں ان کے عیوب اور خامیوں کی اصلاح کی بات تھی، اس لیے تکبر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اپنی ہی نصیحت اور خیر خواہی کی بات سے منہ موڑنے والے بن گئے۔ فعل ماضی ”أَعْرَضُوْا“ کے بجائے اسم فاعل ”مُّعْرِضُوْنَ“ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے صرف ایک دو بار ہی منہ نہیں موڑا، بلکہ پکے منہ موڑنے والے بن گئے۔ ذکر کا دوسرا معنی عز و شرف اور شہرت و ناموری ہے، یعنی یہ قرآن ایمان لانے والوں، خصوصاً عرب کے لیے تمام دنیا میں قیامت تک کے لیے عز و شرف اور ناموری کا باعث ہے، مگر یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ انھیں اپنی ناموری اور اپنا عز و شرف بھی راس نہیں آتا۔ یہ دوسرا مطلب یہاں زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayah 23:72ۭاَمْ تَسْـَٔــلُهُمْ خَرْجًا۔۔ : ”خَرْجٌ“ اور ”خَرَاجٌ“ کسی شخص کو ادا کیا جانے والا روزانہ، ماہانہ یا سالانہ عطیہ۔ یہ ان کے انکار کی پانچویں وجہ ہے، جو ممکن ہوسکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، یا پھر یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ آپ ان سے روزانہ، ماہانہ یا سالانہ کسی تنخواہ کا سوال کرتے ہوں، جسے وہ بوجھ محسوس کرتے ہوں، تو ان سے کہہ دیجیے کہ مجھے تم سے کسی اجرت کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ان کا دیا ہوا تو ختم ہوجائے گا مگر دنیا اور آخرت میں آپ کے رب کی طرف سے عطا کیا جانے والا رزق کبھی ختم ہونے والا نہیں اور اس سے بہتر روزی دینے والا کوئی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب آپ دعوت حق کا یہ کام بالکل بےلوث ہو کر کر رہے ہیں اور ان سے کوئی حق الخدمت طلب نہیں کرتے تو ان کا آپ کی دعوت کو ٹھکرانا سراسر حماقت اور عاقبت نااندیشی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو کئی جگہ صاف اعلان کرنے کا حکم دیا ہے کہ میں تم سے کسی اجرت یا بدلے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ مثلاً سورة ص (86) وغیرہ۔
Ayah 23:73وَاِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : یعنی ان پانچوں باتوں میں سے ایک کا وجود بھی نہیں، جس کی وجہ سے یہ آپ کو جھٹلا سکیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ انھیں بالکل سیدھے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، جسے کوئی الٹی سمجھ والا ہی ٹھکرا سکتا ہے۔ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے۔
Ayah 23:74وَاِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ : یعنی سیدھے راستے سے ہٹنے کا اصل باعث آخرت پر ایمان کا نہ ہونا ہے۔ اگر پختہ یقین ہو کہ آخرت کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو ممکن نہیں کہ آدمی صحیح راستہ جاننے کے بعد غلط راستوں پر چلتا رہے۔
Ayah 23:75وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ۔۔ : اس آیت کی ایک تفسیر وہ ہے جو ابن عاشور نے ”التحریر والتنویر“ میں اور بقاعی نے ”نظم الدرر“ میں فرمائی ہے۔ روح المعانی میں بھی اسے ایک امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کا عطف آیت (64) : (حَتّيٰٓ اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ بالْعَذَابِ اِذَا هُمْ يَجْــــَٔــرُوْنَ) (یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے، اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے) پر ہے اور اس آیت اور اس آیت کے درمیان کی آیات جملہ ہائے معترضہ ہیں، جن سے مقصود ان کے خلاف دلائل کا ذکر اور ان کے عذر بہانے ختم کرنا ہے۔ یعنی اگر ہم ان کے چیخنے، پکارنے اور بلبلانے پر رحم کرکے ان پر آنے والا عذاب دور کردیں، تب بھی وہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے، بلکہ اسی پر اڑے رہیں گے اور اسی میں سر مارتے پھریں گے، کیونکہ کفر اور سرکشی ان کی طبعی خصلت بن چکی ہے، جو کسی طرح ان سے جدا نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح فرمایا : (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) [ الأنعام : 28 ] ”اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔“ آیات کے سیاق سے یہ تفسیر نہایت مناسب ہے۔
دوسری تفسیر شیخ عبد الرحمان سعدی نے کی ہے کہ اس میں کفار کی شدید سرکشی اور ہٹ دھرمی کا بیان ہے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں، مثلاً قحط پڑجاتا ہے، بھوک سے لاچار ہوجاتے ہیں، سمندری طوفان میں گھر جاتے ہیں، یا کوئی وبا آ گھیرتی ہے تو خلوص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اسے دور کرنے کی دعا کرتے ہیں، پھر اگر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرما کر وہ مصیبت دور کر دے تو بھی وہ اپنے کفر اور سرکشی پر اڑے رہتے ہیں اور اسی میں سر مارتے پھرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَآ اَذَقْــنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّاۗءَ مَسَّتْھُمْ اِذَا لَھُمْ مَّكْرٌ فِيْٓ اٰيَاتِنَا ۭ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا ۭ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ 21 ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۭ حَتّٰى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ ۚ وَجَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِهَا جَاۗءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَاۗءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّوْٓا اَنَّھُمْ اُحِيْطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ لَىِٕنْ اَنْجَيْـتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ 22 فَلَمَّآ اَنْجٰىھُمْ اِذَا ھُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ) [ یونس : 21 تا 23 ] ”اور جب ہم لوگوں کو کوئی رحمت چکھاتے ہیں، کسی تکلیف کے بعد، جو انھیں پہنچی ہو، تو اچانک ان کے لیے ہماری آیات کے بارے میں کوئی نہ کوئی چال ہوتی ہے۔ کہہ دے اللہ چال میں زیادہ تیز ہے۔ بیشک ہمارے بھیجے ہوئے لکھ رہے ہیں جو تم چال چلتے ہو۔ وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے اور ان پر ہر جگہ سے موج آجاتی ہے اور وہ یقین کرلیتے ہیں کہ ان کو گھیر لیا گیا ہے، تو اللہ کو اس طرح پکارتے ہیں کہ ہر عبادت کو اس کے لیے خالص کرنے والے ہوتے ہیں، یقیناً اگر تو نے ہمیں اس سے نجات دے دی تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔ پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔“
Ayahs 23:76–77وَلَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بالْعَذَابِ۔۔ : ”اَخَذْنٰهُمْ“ (ہم نے انھیں پکڑا) میں ”ھُمْ“ (اُن) سے مراد موجودہ کفار و منکرین نہیں بلکہ اس سے مراد ان جیسے وہ منکرین ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور جو اپنے اپنے دور میں اسی طرح کے کفر و انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ موجودہ دور کے منکرین کو تاریخ کے اس سبق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے لیے آنے والے عذابوں سے سبق نہیں لیتے، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ وہ پہلے کمتر درجے کا عذاب بھیجتا ہے، تاکہ لوگ سنبھل جائیں، فرمایا : (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ) [ السجدۃ : 21 ] ”اور یقیناً ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے۔“ پھر جب لوگ اس عذاب سے عبرت نہیں پکڑتے تو ان کی رسی دراز کردی جاتی ہے اور انھیں نافرمانی کے باوجود خوش حالی عطا کردی جاتی ہے، تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کثرت سے بیان ہوا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (42 تا 44) ، اعراف (94 تا 98) ، یونس (12 تا 21) اور دخان (10 تا 16)۔
بعض مفسرین نے اس عذاب سے مراد وہ قحط لیا ہے جو ہجرت سے پہلے مکہ والوں پر رسول اللہ ﷺ کی بد دعا سے مسلط ہوا اور سخت عذاب والے دروازے سے مراد یوم بدر لیا ہے، جبکہ بعض نے اس عذاب سے مراد بدر اور سخت عذاب والے دروازے سے مراد ہجرت کے بعد ثمامہ بن اثال ؓ کے گندم روک لینے سے واقع ہونے والا قحط لیا ہے۔ ابن جزی ”التسہیل“ میں فرماتے ہیں : ”زیادہ راجح یہ ہے کہ پہلے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے اور شدید عذاب سے مراد موت اور آخرت کا عذاب ہے۔ کیونکہ شدید عذاب وہی ہے، دنیا کا عذاب اس کے مقابلے میں ادنیٰ ہے۔“ اور فرمایا : (اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَ) یعنی ہر خیر سے ناامید ہوں گے۔ کفار کو یہ ناامیدی آخرت کے دن ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ) [ الروم : 12 ] ”اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم ناامید ہوجائیں گے۔“ بدر اور قحط کے بعد تو وہ بار بار حملہ آور ہوتے رہے تھے۔
Ayah 23:78وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ۔۔ : اس سے پہلے کفار کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ تھا، اب انھیں مخاطب کرکے احسانات یاد دلائے۔ یہ غائب سے مخاطب کی طرف التفات ہے، کیونکہ بعض اوقات وعید کا اثر نہیں ہوتا، ہاں ! کسی احسان کی خوشگوار یاد دل کو مائل کردیتی ہے۔
وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ۔۔ : یعنی وہ لوگ نہ اپنے رب کے لیے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کی، حالانکہ رب صرف وہ ہے، کوئی اور نہیں۔ جس نے کسی پہلے نمونے کے بغیر تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا فرمائے، جو سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے مرکز ہیں۔ ان تینوں چیزوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جسم کی تمام نعمتیں ان کے تابع ہیں، یہ نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں۔
قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ : یہ بات کہ تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو، کئی طرح سمجھی جاسکتی ہے۔ مثلاً سوچو، کوئی آدمی اگر تمہیں یہ تینوں نعمتیں دے اور تم اس کا بدلا دینا چاہو تو کیا دے سکتے ہو ؟ یا اس طرح سوچو کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ تینوں نعمتیں تم سے چھین لے تو تمہارا کیا حال ہوگا ؟ اب جو اس نے یہ سب کچھ تمہیں دے رکھا ہے تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے تم اس کی کس قدر فرماں برداری کر رہے ہو ؟ اس سے بڑی ناشکری کیا ہوگی کہ اپنا خالق ومالک مانتے ہوئے اس اکیلے کی عبادت کے بجائے تم نے اس کے شریک بنا رکھے ہیں، جنھوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بجائے تم اسے جھٹلا رہے ہو ؟ ان حواس کی شکر گزاری تو یہ ہے کہ ان کے ذریعے سے صحیح راستے کی طرف رہنمائی حاصل کرو، ورنہ ان کے ذریعے سے جسمانی اور مادی خواہش تو دوسرے حیوانات بھی پوری کر رہے ہیں۔ تمہارا حق یہ ہے کہ کائنات میں توحید کے جو دلائل پائے جاتے ہیں ان حواس کے ذریعے سے ان دلائل کو آنکھوں سے دیکھو، کانوں سے سنو اور دل سے سمجھو اور توحیدِ الٰہی پر دل و جان سے ایمان رکھو۔
”قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ“ کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم شکر کرتے ہی نہیں، کیونکہ عرب ”قَلِیْلٌ“ کو نہ ہونے کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ابوکبیر ہذلی نے ”تَأَبَّطَ شَرًّا“ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے
قَلِیْلُ التَّشَکِّيْ لِلْمُھِمِّ یُصِیْبُہُ
کَثِیْرُ الْھَوٰی شَتَّی النَّوٰی وَ الْمَسَالِکِ
”وہ پیش آنے والی مہمات کی شکایت بہت کم کرنے والا ہے، بہت سے مقاصد والا، مختلف نیتوں اور راستوں والا ہے۔“ ”شکایت بہت کم کرنے والا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ شکایت کرتا ہی نہیں۔
Ayah 23:79وَهُوَ الَّذِيْ ذَرَاَكُمْ۔۔ : یہ اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ“ ہونے کی دوسری دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ جس اکیلے نے تمہیں وجود کی نعمت عطا کرکے ساری دنیا میں پھیلا دیا، وہ تمہیں سمیٹنے پر بھی قادر ہے اور یاد رکھو کہ اس اکیلے ہی کی طرف تمہیں دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا۔
Ayah 23:80وَهُوَ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۔۔ : اکٹھا کرنے کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے ساری کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا ذکر فرمایا۔ خصوصاً ان کاموں کا ذکر فرمایا جو ایک دوسرے کی ضد ہیں، تاکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی دلیل بن سکیں۔ چناچہ فرمایا، اور وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا بھی اسی کے قبضے میں ہے۔ یہ توحید کی بھی دلیل ہے اور قیامت کی بھی کہ موت و حیات اور اندھیرے و اجالے کو یکے بعد دیگرے لانے والے کے لیے تمہیں موت کے بعد زندگی عطا کرنا اور تمہیں قیامت کو زندہ کرکے حساب کے لیے سامنے لا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے ؟ فرمایا : (كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ) [ الأعراف : 29 ] ”جس طرح اس نے تمہاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔“
اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : ہمزہ استفہام اصل میں فاء کے بعد ہے، مگر چونکہ اس کا مقام کلام کی ابتدا ہے، اس لیے اسے فاء سے پہلے لایا گیا ہے، یعنی تو کیا تم اتنی واضح بات بھی نہیں سمجھتے ؟ یا یوں کہہ لیجیے، تو کیا تم کوئی بات بھی نہیں سمجھتے ؟
Ayahs 23:81–82بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ : یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے انھیں مخاطب کرنا چھوڑ کر ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کرنا شروع کردیا، گویا اتنی واضح دلیلوں کے بعد بھی انکار پر اڑے رہنے کی وجہ سے وہ اس قابل نہیں کہ انھیں مخاطب کیا جائے۔
3 مرنے کے بعد زندگی کا انکار صرف قیامت کا انکار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے اور شرک ہی کا شاخسانہ ہے۔ جو شخص رب تعالیٰ کو ایک مانتا ہو اور اس کی قدرت و حکمت پر ایمان رکھتا ہو وہ کبھی قیامت کا انکار نہیں کرسکتا۔
3 یعنی ان لوگوں کے پاس اپنے آباء کی تقلید کے سوا قیامت کے انکار اور دوسرے غلط عقائد و اعمال کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہیں ہے۔
قَالُوْٓا ءَاِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا۔۔ :”جب ہم مرجائیں گے“ ہی کافی تھا، مگر اس کے بعد ”اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے“ کے الفاظ کے ساتھ وہ اپنے خیال میں مرنے کے بعد زندگی کے عقل سے بعید ہونے کی بات بہت مدلل کر رہے ہیں اور ”ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ“ میں ”إِنَّ“ اور ”لام“ کے ساتھ وہ رسول اللہ ﷺ کا قیامت کے عقیدے کو نہایت تاکید سے بیان کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ہمزہ استفہام کے ساتھ اس کا شدت سے انکار کر رہے ہیں کہ بھلا ایسا بھی کبھی ہوسکتا ہے ؟
Ayah 23:83لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَاۗؤُنَا ھٰذَا۔۔ :”اَسَاطِيْرُ“ ”أُسْطُوْرَۃٌ“ کی جمع ہے، دل لگی کے لیے لکھے جانے والے قصے کہانیاں اور افسانے۔ ”أُفْعُوْلَۃٌ“ کا وزن عموماً دل لگی کا مفہوم ادا کرنے والے الفاظ کے لیے آتا ہے، جیسے : ”أُضْحُوْکَۃٌ، أُرْجُوْحَۃٌ، أُعْجُوْبَۃٌ، أُحْدُوْثَۃٌ، أُغْلُوْطَۃٌ“ وغیرہ۔
3 پچھلی آیت میں ان کے قیامت کے انکار کی ایک وجہ بیان ہوئی ہے، یہ دوسری وجہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے کا دعویٰ اس پیغمبر کی طرح پہلے انبیاء کی طرف سے بھی ہوتا چلا آ رہا ہے، مگر سیکڑوں ہزاروں برس گزرنے کے باوجود پورا نہیں ہوا، کوئی مرنے کے بعد واپس نہیں آیا، معلوم ہوا یہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ گویا ان کے خیال میں دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ اسی دنیا کے اندر پورا ہونا ہے۔ انتہائی ذہانت اور عقل کے دعوے داروں کی سمجھ دیکھیے کہ رسول کیا فرما رہے ہیں اور وہ اس کا مطلب کیا سمجھ رہے ہیں ؟
Ayahs 23:84–85قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهَآ۔۔ : جب کفار نے اتنی شدت کے ساتھ قیامت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے ان باتوں کا اقرار کروائیں اور ان کی زبان سے کہلوائیں جنھیں وہ جانتے پہچانتے اور مانتے ہیں، جنھیں تسلیم کرنے کی صورت میں انھیں لازماً قیامت کے دن زندہ ہونے کا اقرار کرنا پڑے گا۔ چناچہ فرمایا، ان سے کہہ اگر واقعی تم کچھ جانتے ہو تو بتاؤ یہ زمین اور اس میں جو کچھ ہے، اس کا مالک کون ہے ؟
قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : ”تَذَکُّرٌ“ (تفعّل) کا اصل معنی یاد کرنا ہے۔”تَذَكَّرُوْنَ“ اصل میں ”تَتَذَکَّرُوْنَ“ ہے، یعنی تو پھر تم اپنی فطرت میں رکھی ہوئی اس بات کو یاد کیوں نہیں کرتے جو غفلت میں پڑ کر بھلا چکے ہو اور اس سے نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے کہ جب زمین کا اور اس میں موجود ہر چیز کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر مالک کو چھوڑ کر مملوک کی پوجا کیوں ؟ اور جب تم میں سے معمولی شخص بھی اس بات پر تیار نہیں کہ وہ اپنے غلاموں سے پوچھ گچھ نہ کرے، یا انھیں ان کی کارکردگی کا صلہ نہ دے، یا ان کے درمیان عدل نہ کرے، تو تم نے اس قادر مطلق اور حکیم کامل کے متعلق کیسے سوچ لیا کہ وہ تمہیں دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا، یا نہیں کرے گا اور اس کے بندے جو بھی کرتے رہیں نہ ان سے باز پرس کرے گا، نہ انھیں ان کے کیے کی جزا سزا دے گا اور نہ ان کے درمیان عدل فرمائے گا۔
Ayahs 23:86–87قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ۔۔ : زمین کے بعد ان سے عالم بالا کے متعلق سوال کرنے کا حکم دیا، کیونکہ آسمان زمین سے کہیں بڑا ہے، پھر ہر آسمان نیچے والے سے بڑا ہے اور ان سے اوپر عرش ان سب کو محیط ہے، جسے رب تعالیٰ نے عظیم (بہت بڑی عظمت والا) فرمایا ہے اور جو زمین و آسمان اور ان میں موجود ہر چیز سے پہلے موجود تھا۔ فرمایا : ”پوچھو، ان کا رب کون ہے ؟“ فرمایا : ”وہ جواب میں کہیں گے، یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے۔“ فرمایا : ”تو پھر تم ڈرتے نہیں ؟“ پہلے فرمایا تھا : (اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ) (پھر کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟) اب اس سے سخت الفاظ میں فرمایا : (اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) (تو پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟) کیونکہ کوئی شخص جس قدر اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت کا علم رکھے گا اتنا ہی زیادہ وہ اس سے ڈرے گا۔ مثلاً ایک بچے کو کچھ علم نہیں کہ بادشاہ کتنی قوت کا مالک ہے، وہ اس سے نہیں ڈرے گا۔ ہاں، جسے جس قدر معلوم ہوگا کہ بادشاہ کتنی قوت رکھتا ہے، وہ اس سے اتنا ہی ڈرے گا۔ اس لیے فرمایا : (اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا) [ فاطر : 28 ] ”اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔“ یہاں فرمایا کہ یہ جان کر بھی کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب اللہ ہے، تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو اور کے بعد اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا انکار کرتے ہو، تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟
سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہ کہنے کے بعد کہ ساتوں آسمانوں کا رب اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ جو اب بظاہر یہ ہے : ”اَللّٰہُ“ کہ وہ اللہ ہے، اس کے بجائے فرمایا : ”لِلّٰهِ“ کہ یہ سب کچھ اللہ کے لیے ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس کا جواب طبری اور دوسرے مفسرین نے یہ دیا ہے کہ ”مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ“ (ساتوں آسمانوں کا رب کون ہے ؟) کا معنی یہی ہے کہ ”لِمَنِ السَّمٰوَات السَّبْعُ“ یعنی ساتوں آسمان اور عرش عظیم کس کی ملکیت ہیں ؟ اس لیے جواب آیا : ”لِلّٰهِ“ کہ یہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔
3 حجاز، عراق اور شام کے تمام قراء اس لفظ کو ”لِلّٰهِ“ پڑھنے پر متفق ہیں، کیونکہ ان کی طرف امیر المومنین عثمان ؓ کی طرف سے جو مصحف بھیجے گئے، ان میں یہ لفظ اسی طرح ہے۔ البتہ بصرہ کے قاری ابو عمرو ؓ اسے ”اَللّٰہُ“ پڑھتے ہیں، کیونکہ ان کے مصحف میں اسی طرح لکھا ہے۔ اس صورت میں معنی واضح ہے کہ ”وہ اللہ ہے۔“ طبری نے ”لِلّٰهِ“ کی قراءت کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ بصرہ کے سوا تمام بلاد اسلام کے مصاحف میں یہ لفظ اسی طرح لکھا ہے۔
3 ابن عاشور ؓ نے ”لِلّٰهِ“ میں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ سوال تو یہ تھا کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب کون ہے ؟ ان کی طرف سے اس کا جواب یہ ذکر فرمایا کہ وہ (یہ کہنے کے بجائے کہ ان کا رب اللہ ہے) یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے، کیونکہ وہ زمین و آسمان اور عرش عظیم غرض ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے، مگر انھوں نے شریک اور رب کئی بنا رکھے تھے۔ چناچہ وہ حج و عمرہ کے لیے لبیک کہتے ہوئے کہتے تھے : (لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔۔ إِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ) [ مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصف تھا و وقتھا : 1185 ] ”(اے اللہ !) میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔۔ مگر تیرا ایک شریک ہے، اس کا مالک بھی تو ہے، وہ کسی شے کا مالک نہیں۔“ مشرکین عرب فرشتوں کو اور مشرکین یہود و نصاریٰ عزیر اور عیسیٰ ؑ کو رب سمجھتے تھے۔ یوسف ؑ نے قید خانے کے ساتھیوں کو فرمایا : (ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) [ یوسف : 39 ] ”کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اللہ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے۔“ غرض مشرکین مالک صرف اللہ کو سمجھتے، مگر رب دوسروں کو بھی مانتے تھے، اس لیے فرمایا : (اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) کہ پھر کہہ دے کہ ہر چیز کا مالک اللہ کو مان کر پھر دوسرے ارباب کی پرستش کرتے ہو، تو تم اس کے غصے سے ڈرتے نہیں کہ وہ ساری کائنات کا مالک تمہارے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟
Ayah 23:88قُلْ مَنْۢ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ : ”مُلْکٌ“ اور ”مِلْکٌ“ دونوں کے مفہوم میں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے لفظ ”مَلَكُوْتُ“ استعمال کیا گیا ہے، یعنی ایسی کامل ملکیت اور کامل بادشاہی جس میں کوئی نقص نہ ہو۔ ”بِيَدِهٖ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کہہ کون ہے وہ کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل بادشاہی ہے۔“
وَّهُوَ يُجِيْرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ : ”أَجَارَ یُجِیْرُ“ (افعال) پناہ دینا، کسی کو ہر ایک سے بچا کر اپنی حفاظت میں لے لینا۔ ابن کثیر فرماتے ہیں : ”عرب کا دستور تھا کہ ان کا سردار کسی کو پناہ دے دیتا تو اس کی پناہ کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی تھی اور کسی کو اس کے مقابلے میں پناہ دینے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔“
3 جب ان سے نیچے اور اوپر کے دونوں جہانوں کے مالک ہونے کا اقرار کروا لیا تو حکم دیا گیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے رب ہونے کا اعتراف کر واؤ، تاکہ اس میں وہ چیزیں آجائیں جن کا ذکر ہوا ہے اور وہ بھی جن کا ذکر نہیں ہوا۔ چناچہ فرمایا، کہہ دے وہ کون ہے کہ صرف اس کے ہاتھ میں ہر چیز کی مکمل ملکیت اور کامل بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے (یعنی جسے وہ پناہ دے دے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا) اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاتی (یعنی جسے وہ پکڑ لے اسے کوئی اپنی پناہ میں نہیں لے سکتا، نہ اس سے چھڑا سکتا ہے)۔
Ayah 23:89سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ : یعنی وہ کہیں گے اس کا مالک بھی اللہ ہی ہے۔
قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ : ”تُسْحَرُوْنَ“ کا لفظی معنی ہے ”جادو کیے جاتے ہو۔“ جادو کا اثر دماغ پر ہوتا ہے، آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ پھر تمہاری مت کہاں سے ماری جا رہی ہے اور تمہارے ہوش و حواس کیسے گم ہوگئے کہ ایسی موٹی بات نہیں سمجھ سکتے۔ جب زمین و آسمان اور عرش عظیم کا مالک وہی ہوا اور ہر چیز اسی کے قبضہ و اختیار میں ہوئی تو عبادت میں اس کا شریک کہاں سے نکل آیا اور تمہارے بدن کی ہڈیاں اور ریزے اس کی قدرت و اختیار سے نکل کر کہاں چلے جائیں گے کہ وہ انھیں زندہ نہیں کرسکے گا۔
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے پکڑ لے اسے کوئی پناہ دے کر چھڑا نہیں سکتا اور جسے اپنی پناہ میں لے لے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ مگر افسوس کہ بعض مسلمان کہلانے والے شرک میں اس حد تک بڑھ گئے کہ مخلوق کو خالق سے بھی زیادہ اختیار رکھنے والا بنادیا، چناچہ ایسے ہی ایک تک باندھنے والے نے کہا ہے
خدا جس کو پکڑے چھڑا لے محمد
محمد کا پکڑا چھڑا کوئی نہیں سکتا
عجیب بات یہ ہے کہ اس صریح شرک اور اللہ تعالیٰ کی شدید گستاخی کے باوجود انھیں اصرار ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کے مسلمان ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تُطْرُوْنِيْ کَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَی ابْنَ مَرْیَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُہُ فَقُوْلُوْا عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُوْلُہُ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واذکر في الکتاب مریم۔۔) : 3445 ] ”مجھے حد سے مت بڑھاؤ، جیسے نصاریٰ نے مسیح ابن مریم کو حد سے بڑھا دیا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، چناچہ یہی کہو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
Ayah 23:90بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بالْحَقِّ : ”اَلْحَقُّ“ سے مراد یہاں ”سچ“ ہے، کیونکہ مقابلے میں ”لَكٰذِبُوْنَ“ آ رہا ہے۔ ”کامل“ کا مفہوم الف لام سے حاصل ہو رہا ہے، یعنی ہم ان کے پاس جھوٹے قصے کہانیاں (اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْن) نہیں لائے، بلکہ ایسا سچ لائے ہیں جس میں کوئی نقص نہیں۔
وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ : یعنی یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں، اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے، یا کوئی اس کا بیٹا ہے جسے خدائی اختیارات حاصل ہیں، یا وہ جو چاہے اللہ تعالیٰ سے منوا سکتا ہے اور اس بات میں جھوٹے ہیں کہ موت کے بعد زندگی ممکن نہیں ہے اور ان کا جھوٹ ان کے اعترافات سے ثابت ہے جو اوپر گزرے۔
Ayahs 23:91–92مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ۔۔ : ”وَّلَدٍ“ نکرہ پر ”مَا“ کے ساتھ نفی آئی تو عموم پیدا ہوگیا کہ ”اللہ نے کوئی اولاد نہیں بنائی۔“ ”مِنْ“ کے ساتھ اس عموم کی تاکید ہوگئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی اولاد نہیں بنائی۔“ یعنی نہ کوئی فرشتہ، نہ نبی، نہ ولی، نہ کوئی اور۔
3 تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”اللہ تعالیٰ اس سے اپنی برتری بیان فرما رہا ہے کہ اس کی اولاد ہو یا اس کا کوئی شریک ہو، ملک میں، تصرف میں، عبادت کا مستحق ہونے میں۔ وہ یکتا ہے، نہ اس کی اولاد ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ کئی ایک الٰہ (معبود) ہیں تو ہر ایک اپنی مخلوق کا مستقل مالک ہونا چاہیے۔ ایسی صورت میں موجودات میں نظام قائم نہیں رہ سکتا، حالانکہ کائنات کا انتظام مکمل ہے۔ عالم علوی، عالم سفلی اور آسمان و زمین وغیرہ کمال ربط کے ساتھ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں۔ دستور سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوتے۔ پس معلوم ہوا کہ ان سب کا خالق ومالک ایک ہی ہے، نہ کہ متفرق کئی ایک۔ پھر بہت سے الٰہ (معبود) مان لینے کی صورت میں یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر ایک دوسرے کو پست و مغلوب کرنا اور خود غالب اور طاقت ور ہونا چاہے گا، اگر غالب آگیا تو مغلوب الٰہ (معبود) نہ رہا، اگر غالب نہ آیا تو وہ خود الٰہ (معبود) نہیں۔“ (ابن کثیر)
پس ثابت ہوا کہ معبود ایک اللہ ہے۔ وہ ظالم، سرکش، حد سے گزر جانے والے مشرک جو اللہ کی اولاد ٹھہراتے ہیں اور اس کے شریک بتاتے ہیں، ان کے بیان کردہ اوصاف سے ذات الٰہی بہت بلند و بالا اور برتر و منزہ ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے جو مخلوق سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو مخلوق پر عیاں ہے، پس وہ ان تمام شرکاء سے پاک ہے جو مشرک اور منکر اللہ کا شریک بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد یا شریک کے رد کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (22) ، بنی اسرائیل (42، 111) ، نحل (57، 58) ، اور کہف (4) کی تفسیر۔
Ayahs 23:93–94قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَــنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَ : ”اِمَّا“ ”إِنْ“ کی تاکید ”مَا“ کے ساتھ کی گئی ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے اور ”تُرِیَنَّ“ میں نون ثقیلہ تاکید کے لیے ہے۔ مفسر بقاعی نے لکھا ہے : ”أَيْ إِنْ کَانَ وَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ تُرِیَنِّيْ قَبْلَ مَوْتِيْ“ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے : ”اگر تو کبھی مجھے ضرور ہی وہ (عذاب) دکھائے۔“
3 یعنی جب اللہ تعالیٰ کی جناب میں اولاد یا شریک بنانے کی سخت گستاخی کی جاتی ہے تو یقیناً کوئی سخت آفت آ کر رہے گی، اس لیے ہر مومن کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈر کر یہ دعا مانگے۔
3 آیت کے اولین مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں، ان کے ساتھ امت کا ہر فرد بھی مخاطب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں عذاب نہ لانے کا وعدہ فرمایا ہے، فرمایا : (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ) [ الأنفال : 33 ] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں عذاب دے، جب کہ تو ان میں ہو اور اللہ انھیں کبھی عذاب دینے والا نہیں جب کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔“ اس کے باوجود اس آیت میں آپ ﷺ کو عذاب سے بچنے کی دعا کا حکم دیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے عذاب سے سخت خوف زدہ رہتے تھے اور اس سے بچنے کی دعا کرتے رہتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے، اس کے باوجود آپ کو استغفار کا حکم دیا، فرمایا : (فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ) [ النصر : 3 ] ”تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے بخشش مانگ۔“ اور آپ ﷺ کثرت سے استغفار کیا کرتے تھے۔ اس سے آپ ﷺ کی اللہ تعالیٰ سے خشیت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس میں امت کے لیے تعلیم بھی ہے۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں : ”رسول اللہ ﷺ جب بادل یا آندھی دیکھتے تو آپ کے چہرے پر اس کے اثرات پہچانے جاتے۔“ عائشہ ؓ نے کہا : ”یا رسول اللہ ! لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں، اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نظر آتے ہیں ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : (یَا عَاءِشَۃُ ! مَا یُؤْمِنِّيْ أَنْ یَّکُوْنَ فِیْہِ عَذَابٌ ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بالرِّیْحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (فلما رأوہ عارضا۔۔) : 4829 ] ”اے عائشہ ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں کوئی عذاب نہ ہو ؟ ایک قوم (عاد) پر آندھی کا عذاب آیا اور ایک قوم نے عذاب دیکھا تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر بارش برسانے والا ہے۔“
3 اس آیت سے معلوم ہوا کہ آدمی کو ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ پروردگار ! تو مجھے عفو اور عافیت عطا فرما اور اگر تو نے کچھ لوگوں کو عذاب دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہو تو مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔ معاذ بن جبل ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا نقل فرمائی ہے : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَ تَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَ تَرْحَمَنِيْ وَ إِذَا أَرَدْتَ فِتْنَۃً فِيْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِيْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ ، وَ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَ حُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلٰی حُبِّکَ) ”اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیاں کرنے، برائیاں چھوڑنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور اس بات کا بھی کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کرے اور جب تو کسی قوم کے فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں ڈالے بغیر قبض کرلے۔ میں تجھ سے تیری محبت کا سوال کرتا ہوں اور ان لوگوں کی محبت کا جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت کے قریب کر دے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّھَا حَقٌّ فَادْرُسُوْھَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْھَا) [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورة صٓ : 3235، قال الترمذي حسن صحیح و قال الألباني صحیح ] ”یہ کلمات حق ہیں انھیں پڑھو، پھر انھیں اچھی طرح سیکھ لو۔“
3 اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو یہ دعا سکھائی تاکہ مشرکین پر عذاب آئے تو آپ اس وقت ان کے ساتھ نہ ہوں، بلکہ ان سے الگ ہوں، پھر آپ ﷺ کو ہجرت کی توفیق عطا فرما کر آپ کو کافروں سے الگ کردیا اور قحط اور جنگوں کی صورت میں ان پر جو عذاب آئے آپ کو ان سے محفوظ رکھا۔
Ayah 23:95وَاِنَّا عَلٰٓي اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ :”إِنَّ“ اور ”لام“ کے ساتھ تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مشرکین مکہ پر عذاب کا وہ وعدہ پورا ہوتا ہوا آنکھوں سے دکھا دیا، جب کہ آپ اس وقت ان سے الگ ہوچکے تھے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے۔ چناچہ اس عذاب کی ابتدا بدر سے ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ نے کفار قریش کے سرداروں کی لاشیں کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا اور پھر اس کنویں کے کنارے پر کھڑے ہو کر ایک ایک کا نام لے کر فرمایا : (فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ؟) [ بخاري، المغازي، باب قتل أبي جھل : 3976 ] ”یقیناً ہم نے تو وہ وعدہ سچا پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا، تو کیا تم نے بھی وہ وعدہ سچا پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا ؟“ پھر ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوگیا اور دسویں سال حُجۃ الوداع کے موقع پر مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اسلام قبول کرلیں یا جزیرۃ العرب خالی کردیں اور یہاں سے نکل جائیں، ورنہ جہاد کے ذریعے سے ان کا کلی خاتمہ کردیا جائے گا۔ یہ عذاب تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں ان پر نازل ہوا، پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں آس پاس کے ممالک سے شرک اور مشرکین کا خاتمہ ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ (والحمد للہ)
3 اگر عذاب سے مراد آسمان سے نازل ہونے والا عذاب ہو، جیسا کہ عاد وثمود پر نازل ہوا، تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان سے عذاب کا جو وعدہ کر رہے ہیں یقیناً آپ کو دکھانے پر قادر ہیں، مگر ایک تو موسیٰ ؑ کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ جہاد کے ذریعے سے مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب ہو، جیسا کہ فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ) [ التوبۃ : 14 ] ”ان سے لڑو، اللہ انھیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔“ اور بیشک ہم آسمان سے ایسا عذاب بھیجنے پر قادر ہیں جو ان کا صفایا کر دے، مگر ہماری حکمت کا تقاضا انھیں مہلت دینے کا ہے، تاکہ ان میں سے جنھوں نے اسلام قبول کرنا ہے کرلیں اور جن کی آئندہ نسل نے اسلام قبول کرنا ہے وہ نسل وجود میں آجائے۔
Ayah 23:96اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ۔۔ : یعنی ہم عذاب میں جو تاخیر کر رہے ہیں اس میں ہماری حکمت ہے، آپ اس دوران ان کی ہر برائی اور زیادتی کا جواب ایسے طریقے سے دیں جو اچھا ہی نہیں، سب سے اچھا ہو۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کچھ کہتے ہیں، کس طرح اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور کس طرح آپ کو کاہن، شاعر، جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہتے ہیں۔
3 برائی کا جواب بہترین طریقے سے یہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے، ظلم کا جواب انصاف سے، خیانت کا جواب دیانت داری سے، جھوٹ کا جواب سچ سے، قطع رحمی کا جواب صلہ رحمی سے اور گالی گلوچ کا جواب دعا وسلام سے دیا جائے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ) [ حٰآ السجدۃ : 34 ] ”(برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہو۔“ اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : (وَاللّٰہِ ! مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِہِ فِيْ شَيْءٍ یُؤْتَی إِلَیْہِ قَطُّ حَتّٰی تُنْتَھَکَ حُرُمَات اللّٰہِ فَیَنْتَقِمُ لِلّٰہِ) [ بخاري، الحدود، باب إقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ : 6786 ] ”اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ کی گئی کسی زیادتی میں اپنی ذات کا انتقام کبھی نہیں لیا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے تو اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔“
Ayahs 23:97–98وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ۔۔ : ”اَلْھَمْزُ“ کا معنی ہاتھ یا کسی بھی چیز کے ساتھ چوکا مارنا ہے۔ گلا گھونٹنے، طعنہ دینے اور غیبت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مراد شیطان کے چوکے، وسوسے اور اکساہٹیں ہیں، جن کے ساتھ وہ غصے پر ابھارتا ہے، حتیٰ کہ جنون تک پہنچا دیتا ہے۔ شیاطین انس و جن کے وساوس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ناس کی تفسیر۔ ”اَنْ يَّحْضُرُوْنِ“ اصل میں ”أَنْ یَّحْضُرُوْنِيْ“ ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ”اَنْ“ کے ساتھ ”يَّحْضُرُوْنِ“ کا نون گر جاتا، یاء کو حذف کرکے نون کا کسرہ باقی رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے میرے رب ! میں صرف شیاطین کے چوکوں ہی سے تیری پناہ نہیں مانگتا، اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں، کیونکہ انھوں نے خیر کے ساتھ تو آنا ہی نہیں۔ برے لوگوں کی صحبت سے بھی بچنے کی دعا سکھائی۔
3 برائی کا جواب نیکی سے دینا اگرچہ دشمنوں کو دوست بنانے کے لیے اکسیر ہے، مگر اس کے لیے بہت بڑے حوصلے کی ضرورت ہے، ہر شخص میں یہ برداشت نہیں پائی جاتی، آدمی کا نفس اسے انتقام پر ابھارتا ہے، پھر انسانوں اور جنوں میں سے شیطان اسے اکسا کر غصہ دلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے برائی کا جواب بہترین طریقے کے ساتھ دینے کی تلقین کے بعد ایسے شیطان انسانوں اور جنوں کی اکساہٹوں سے اپنی پناہ مانگنے کی تاکید فرمائی، کیونکہ ان ظالموں کا مقابلہ کرنے میں انسان بےبس ہے۔ یہاں اس کی کوئی تدبیر کام نہیں آتی، نہ ہی وہ شیطان کسی نیکی یا احسان سے دوست بنتے یا نرم ہوتے ہیں، کیونکہ انھوں نے دشمنی کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس لیے اسے اس ذات گرامی کی پناہ میں آجانا چاہیے جس کے قبضے میں کائنات کی ہر چیز ہے، نیک ہو یا بد ہر ایک کی پیشانی اس کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری جگہ یہی بات تفصیل سے بیان فرمائی : (وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) [ حٰمٓ السجدۃ : 34 تا 36 ] ”اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔ اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے کوئی اکساہٹ تجھے ابھار ہی دے تو اللہ کی پناہ طلب کر، بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید پڑھتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ (النحل : 98) رسول اللہ ﷺ نے موت کے وقت شیطان کے گمراہ کرنے سے دعا کی تعلیم دی، ابو الیسر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : (أَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَدْمِ وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ التَّرَدِّيْ ، وَ أَعُوْذُ بِکَ منَ الْغَرَقِ وَالْحَرَقِ وَالْھَرَمِ وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ أَنْ یَتَخَبَّطَنِيَ الشَّیْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَمُوْتَ فِيْ سَبِیْلِکَ مُدْبِرًا وَ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَمُوْتَ لَدِیْغًا) [ أبوداوٗد، الوتر، باب في الإستعاذۃ : 1552، و صححہ الألباني ]”اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں (اپنے اوپر) دیوار وغیرہ گرنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں نیچے گر جانے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں غرق ہونے سے، جلنے سے اور شدید بڑھاپے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیطان مجھے موت کے وقت خبطی بنا دے اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تیرے راستے میں پیٹھ دیتا ہوا مروں اور تیری پناہ مانگتا ہوں کہ زہریلے ڈنگ سے مروں۔“ کسی خاص وقت ہی میں نہیں، بلکہ ”ۙوَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ“ کا مطلب یہ ہے کہ ”اے میرے رب ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس کسی بھی وقت آئیں یا موجود ہوں۔“ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے تمام کاموں کے شروع میں اللہ کا نام لینے کا حکم دیا، کیونکہ اللہ کا نام لینے سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے کھانے پینے، جماع اور ذبح وغیرہ کے شروع میں اللہ کا نام لینے کا حکم دیا، رات کو اللہ کا نام لے کر سونے کا حکم دیا اور فرمایا : (وَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لاَ یَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَ أَوْکُوْا قِرَبَکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ ، وَ خَمِّرُوْا آنِیَتَکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوْا عَلَیْہَا شَیْءًا وَ أَطْفِءُوْا مَصَابِیْحَکُمْ) [ بخاري، الأشربۃ، باب تغطیۃ الإناء : 5623۔ مسلم : 97؍2012 ] ”(جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو) دروازے بند کرلو اور اس وقت اللہ کا نام لو، کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپ دو ، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھانپ سکو اور اپنے چراغ (سونے سے پہلے) بجھا دیا کرو۔“ ہمارے استاذ حافظ محمد گوندلوی ؓ نے بیان کیا کہ ان کے پاس ایک شخص نے شکایت کی کہ رات کو اچانک گھر کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، تو انھوں نے رات بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کرنے کی نصیحت کی تو دروازوں کا کھلنا ختم ہوگیا۔
رسول اللہ ﷺ نے غصے کے وقت بھی شیطان سے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی۔ سلیمان بن صرد ؓ فرماتے ہیں کہ دو آدمی نبی ﷺ کے پاس ایک دوسرے کو گالی دینے لگے، ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک دوسرے کو سخت غصے میں گالی دے رہا تھا، اس کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا : (إِنِّيْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَھَا لَذَھَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ ، لَوْ قَالَ أَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ ، فَقَالُوْا للرَّجُلِ أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُوْلُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ؟ قَالَ إِنِّيْ لَسْتُ بِمَجْنُوْنٍ) [ بخاري، الأدب، باب الحذر من الغضب : 6115 ] ”میں ایک کلمہ جانتا ہوں، اگر یہ شخص وہ کلمہ کہہ دے تو جو غصہ اسے آیا ہوا ہے چلا جائے۔ وہ کلمہ ”أَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمِ“ ہے۔“ لوگوں نے اسے کہا : ”سنتے نہیں ! نبی ﷺ کیا فرما رہے ہیں ؟“ وہ کہنے لگا : ”میں کوئی پاگل نہیں ہوں۔“