23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 23:25

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جسے ایک جنون ہے، سو ایک وقت تک اس کے بارے میں انتظار کرو۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ :”جِنَّةٌ“ جنون، دیوانگی۔ ان کی پانچویں بات یہ بہتان ہے جو انھوں نے لگایا، یعنی اس کا یہ کہنا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے رسول بنایا ہے، پھر وہ بات کہنا جو ہم نے کبھی سنی ہی نہیں کہ بتوں کی عبادت مت کرو، صرف اللہ کی عبادت کرو اور دن رات اسی کی تبلیغ میں لگے رہنا، نہ کاروبار کا خیال، نہ پوری قوم کی مخالفت کی پروا، درحقیقت اسے ایک جنون لاحق ہے، دیوانگی ہے جو اس سے یہ سب کچھ کرواتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کی نظر میں کافر جو کچھ کرتا ہے سراسر دیوانگی ہے کہ ساری جد و جہد چند روزہ زندگی کے لیے کرتا ہے، ہمیشہ کی زندگی کی اسے فکر ہی نہیں اور پیدا کرنے والے کے ساتھ ان لوگوں کو پکارتا اور ان کی عبادت کرتا ہے جنھوں نے نہ کچھ پیدا کیا اور نہ وہ کچھ اختیار رکھتے ہیں۔ اسی طرح کافر کی نظر میں مومن کے کام دیوانگی ہیں کہ نقد کو چھوڑ کر ادھار کے پیچھے پڑا ہے، نظر نہ آنے والے رب سے ڈر کر اپنی محبوب خواہشیں ترک کیے ہوئے ہے۔ ”جِنَّةٌ“ میں تنوین تنکیر کی ہے، یعنی اسے ایک قسم کا جنون لاحق ہے۔ مکمل پاگل کہنے کے بجائے کچھ جنون کہا، تاکہ ہر شخص انھیں جھٹلا نہ دے کہ بھلا اتنا کامل عقل والا شخص دیوانہ ہوسکتا ہے ؟ ابن جزی فرماتے ہیں : ”ان کی باتوں کا باہمی تضاد دیکھیے، ابھی کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (اتنی صلاحیتوں کا مالک ہے کہ) تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے اور ابھی کہتے ہیں کچھ دیوانگی میں مبتلا ہے۔“ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ : یعنی اس کے متعلق کچھ مدت انتظار کرو، حتیٰ کہ یہ زمانے کے کسی چکر کی لپیٹ میں آجائے، یا فوت ہوجائے اور تمہاری جان چھوٹ جائے۔
Ayah 23:26

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! میری مدد کر، اس لیے کہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔

قَالَ رَبِّ انْــصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ : درحقیقت یہ قوم پر عذاب کی دعا ہے۔ نوح ؑ نے یہ بد دعا کب کی اور کن الفاظ میں کی، اس کے لیے دیکھیے سورة قمر (9، 10) ، سورة شعراء (117، 118) اور سورة نوح (26، 27)۔
Ayah 23:27

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا، پھر جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو ہر چیز میں سے دو قسمیں (نرومادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس میں داخل کرلے، مگر ان میں سے وہ جس پر پہلے بات طے ہوچکی اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا ہے، وہ یقینا غرق کیے جانے والے ہیں۔

فَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ۔۔ : اس آیت کی تفسیر سورة ہود (37) میں دیکھیں۔
Ayah 23:28

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جاؤ تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔

فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَي الْفُلْكِ۔۔ : کشتی پر سوار ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد کا حکم دیا اور اس کے الفاظ خود بتائے، جیسے آدم ؑ کو خود دعا سکھائی اور جیسے قیامت کے دن ہمارے نبی ﷺ کو حمد سکھائیں گے۔ دوسری جگہ چوپاؤں اور کشتیوں کے متعلق فرمایا : (وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12 ۝ ۙلِتَسْتَوٗا عَلٰي ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْـتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ 13؀ۙوَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ) [ الزخرف : 12 تا 14 ] ”اور تمہارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کردیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔ اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے تھے : (اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ ، سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَ إِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ، اَللّٰھُمَّ إِنَّا نَسْءَلُکَ فِيْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہُ ، اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ والْخَلِیْفَۃُ فِي الْأَھْلِ ، اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَآء السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَ سُوْٓءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَھْلِ) ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا، حالانکہ ہم اسے ملنے والے نہیں تھے اور یقیناً ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جسے تو پسند کرے سوال کرتے ہیں۔ اے اللہ ! ہمارا یہ سفر ہم پر آسان فرما دے اور ہم سے اس کی دوری کم کر دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں نائب ہے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے سفر کی مشقت سے اور مال اور اہل میں منظر کے غم سے اور ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ اور جب رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے، البتہ یہ الفاظ زیادہ کہتے : (آءِبُوْنَ ، تَاءِبُوْنَ ، عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ) [ مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب۔۔ : 1342 ] ”ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی حمد کرنے والے ہیں۔“ نوح ؑ کو سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کا حکم ہوا : (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ) [ المؤمنون : 28 ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔“ اور انھوں نے یہ کہہ کر ساتھیوں کو کشتی میں سوار ہونے کا حکم دیا : (بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) [ ھود : 41 ] ”اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بیشک میرا رب یقیناً بیحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ فَقُلِ الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا۔۔ : ”الظّٰلِمِيْنَ“ سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔ ظلم کا معنی ”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَحَلِّہِ“ (کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں رکھنا) ہے اور ظلم کا معنی اندھیرا بھی ہے، گویا ظالم اندھیرے میں چیزوں کو ان کے اصل محل کے بجائے ادھر ادھر رکھ دیتا ہے۔ سب سے بڑا حق اللہ کا ہے، وہ غیر کو دیا تو یہ سب سے بڑا ظلم ٹھہرا۔ (ابن عاشور) 3 ظالم لوگوں سے نجات پر اللہ کی حمد کا حکم اس لیے دیا کہ وہ نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بیشمار اذیتوں کا نشانہ بناتے تھے، اس کے علاوہ نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کا ان میں رہنا، ان کے کفر و شرک اور گندے اور غلیظ کاموں کو دیکھنا بجائے خود شدید تکلیف دہ تھا۔ اب ان سے نجات ملی، دشمن غرق ہوئے، الگ رہنے کی جگہ ملی، اپنا ماحول اور اپنی مجلس بنی، تو اس پر شکر ادا کرنے کا حکم ہوا۔ 3 اسی لیے مسلمان کو دعوت یا جہاد کے مقصد کے بغیر کفار میں رہائش رکھنا حرام ہے، کیونکہ مسلسل کفر و شرک اور بدکاری و بےحیائی کا ارتکاب دیکھ دیکھ کر یا تو ہمیشہ شدید تکلیف میں رہے گا، یا اس کی اپنی غیرت و حمیت بھی ختم ہوجائے گی۔ چناچہ اگر ایسی جگہ رہتا ہے تو وہاں سے ہجرت کا حکم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَنَا بَرِيْءٌ مِنْ کُلِّ مُسْلِمٍ یُقِیْمُ بَیْنَ أَظْھُرِ الْمُشْرِکِیْنَ) [ أبوداوٗد، الجہاد، باب النھي عن قتل۔۔ : 2645 ] ”میں ہر اس مسلم سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے۔“
Ayah 23:29

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور تو کہہ اے میرے رب ! مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر ہے۔

وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا : یہ نوح ؑ کو سکھائی گئی دعا کا دوسرا حصہ ہے۔ ”مُنْزَلًا“ باب افعال میں سے مصدر میمی بھی ہے اور ظرف بھی، اتارنا اور اتارنے کی جگہ، یعنی اے میرے پروردگار ! تو مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور ایسی جگہ اتار جو بہت برکت والی ہو۔ بابرکت اتارنے سے مراد یہ ہے کہ سوار ہوتے وقت کوئی تکلیف نہ ہو اور جہاں اتریں وہاں کوئی آفت نہ آئے، ہر حال میں اور ہر جگہ بڑی رحمت و برکت شامل رہے۔ ہمارے نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا) [ بني إسرائیل : 80 ] ”اور کہہ اے میرے رب ! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔“ یہ دونوں دعائیں خود اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی ہیں جنھیں ”قل“ کہہ کر پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں، ان دونوں دعاؤں کو ورد زبان رکھنا چاہیے، خصوصاً گھر جاتے اور گھر سے نکلتے وقت اور یہ دعائیں کرتے ہوئے دنیا کی باعزت اور بابرکت منزل کے ساتھ ہماری اصل منزل جنت کی نیت بھی رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں وہ باعزت اور بابرکت مقام عطا فرمائے۔ (آمین) وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ : اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر ترجمے میں ہے اور ایک وہ ہے جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا : (وَاَنَا خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ) [ یوسف : 59 ] ”اور میں بہترین مہمان ٹھہرانے والا (میزبان) ہوں۔“ یعنی کشتی سے اترنے کے بعد تو ہی ہماری مہمان نوازی اور ہماری ضروریات کا بندوبست کرنے والا ہے اور تجھ سے بہتر مہمان نواز کوئی نہیں۔
Ayah 23:30

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں یقینا بہت سی نشانیاں ہیں اور بلاشبہ ہم یقینا آزمانے والے تھے۔

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ : نوح ؑ کا قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے حاصل ہونے والی عبرتوں کی طرف توجہ دلائی کہ یقیناً اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اس میں نوح ؑ کے اولو العزم پیغمبر ہونے کی کئی نشانیاں ہیں، یعنی مدت دراز تک ان کا بےمثال صبر، قوم کے ایمان نہ لانے کی اطلاع پر ان پر بددعا کا قبول ہونا، ان کے دشمنوں کا غرق ہونا، اللہ تعالیٰ کا ان کی رسالت کی تصدیق کرنا اور ان کی تعریف کرنا وغیرہ۔ نوح ؑ کی قوم جیسی رسولوں کو جھٹلانے والی دیگر قوموں کے لیے بھی کئی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اللہ کی عظیم قدرت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں، مثلاً اتنا عظیم طوفان جس سے پہاڑ بھی نہ بچا سکیں اور اس میں نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو محفوظ رکھ کر بابرکت طریقے سے اتار کر بابرکت جگہ دینا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے کامل علم و حکمت کی بھی بہت سی نشانیاں ہیں کہ اس نے کس طرح زمین کو مکمل طور پر شرک سے پاک کرنا طے کر رکھا تھا اور اتنے تباہ کن طوفان میں بھی اس نے انسانی ضروریات اور جانوروں کی بقا کا انتظام طے کر رکھا تھا اور کیا۔ (ابن عاشور) وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ : ”اِنْ“ اصل میں ”إِنَّ“ ہے، جس کا اسم ”نَا“ محذوف ہے۔ دلیل ”لَمُبْتَلِيْنَ“ پر آنے والا لام ہے۔ ”کَانَ“ استمرار کے لیے ہے، یعنی بلاشبہ یقیناً ہم ہمیشہ سے آزمانے والے ہیں۔ ہم نے نوح ؑ اور ان کی قوم کی آزمائش کی، اسی طرح ہم ہر پیغمبر اور اس کی امت کی آزمائش کرتے چلے آئے ہیں اور اب بھی آزمائش کرتے رہتے ہیں۔ اس میں ہماری حکمت کھرے کھوٹے کو ظاہر کرنا، آزمائش میں کامیاب ہونے والوں کو نوازنا اور ناکام رہنے والوں کے ساتھ ان کے حسب حال سلوک کرنا ہے۔
Ayah 23:31

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ Open ayah 23:31 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور زمانے کے لوگ پیدا کیے۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ : اس سے مراد اکثر مفسرین نے قوم عاد لی ہے، کیونکہ قوم نوح کے جانشین یہی لوگ بنے تھے۔ ہود ؑ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : (وَاذْكُرُوْٓا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاۗءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ) [ الأعراف : 69 ] ”اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کا جانشین بنایا۔“ مگر بہت سے مفسرین نے اس سے مراد صالح ؑ کی قوم ثمود لی ہے، کیونکہ یہاں ”اَلصَّیْحَةً“ (چیخ) کا ذکر ہے اور ”صیحہ“ یعنی چیخ سے ہلاک ہونے والے ثمود تھے۔ اس کے علاوہ اہل عرب کی نصیحت کے لیے قوم ثمود کا تذکرہ زیادہ موزوں تھا، کیونکہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے بنائے ہوئے مکانات مقام حجر میں ان کے سامنے موجود تھے۔ امام طبری، ابن عاشور اور مفسر سعدی وغیرہم نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں کسی قوم کا نام نہیں لیا، کیونکہ مراد تاریخ کا بیان یا قصہ گوئی نہیں بلکہ عبرت ہے کہ بعد میں آنے والوں نے بھی پہلوں کے انجام سے کوئی سبق حاصل نہ کیا، آخر اللہ کی گرفت کا نشانہ بنے۔
Ayah 23:32

فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 23:32 in the Quran reader

پھر ان میں انھی سے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

فَاَرْسَلْنَا فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ۔۔ : اس آیت کی تفسیر اسی سورت کی آیات (23، 24) میں گزر چکی ہے۔
Ayah 23:33

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:33 in the Quran reader

اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انھیں دنیا کی زندگی میں خوشحال رکھا تھا، کہا یہ نہیں ہے مگر تمہارے جیسا ایک بشر، جو اس میں سے کھاتا ہے جس میں سے تم کھاتے ہو اور اس میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : اس آیت میں ان کے سرداروں کی اپنے رسول کو بشر کہہ کر جھٹلانے کی دو بڑی وجہیں بیان ہوئی ہیں، ایک یہ کہ وہ آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور دوسری یہ کہ انھیں دنیا میں وسیع خوش حالی حاصل تھی۔ ”تَرَفٌ“ کا معنی وسیع خوش حالی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ میں سے حدیث کے منکر کا بھی یہی حال بیان کیا کہ اس کے انکار میں اس کی خوش حالی اور فارغ البالی کا دخل ہوگا۔ مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلَا إِنِّيْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ ، أَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِیْکَتِہِ یَقُوْلُ عَلَیْکُمْ بِھٰذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہُ ، أَلَا، لَا یَحِلُّ لَکُمُ الْحِمَارُ الْأَھْلِيُّ وَلَا کُلُّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السَّبُعِ) [ أَبوداوٗد، السنۃ، باب في لزوم السنۃ۔۔ : 4604 ] ”سنو ! مجھے کتاب دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اس کی مثل (حدیث) دی گئی ہے۔ سنو ! قریب ہے کہ ایک بھرے ہوئے پیٹ والا (یعنی خوش حال) آدمی جو اپنے تخت پر تکیہ لگائے ہوگا، یہ کہے گا کہ اس قرآن کو لازم پکڑو، جو اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔ سنو ! تمہارے لیے گھریلو گدھا حلال نہیں اور نہ کچلی والا درندہ حلال ہے (حالانکہ یہ قرآن میں نہیں بلکہ حدیث رسول میں ہے)۔“ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ۔۔ : ”بشر رسول نہیں ہوسکتا“ پیغمبروں کو جھٹلانے والے سبھی لوگوں نے یہی کہا۔ ہمارے نبی ﷺ کے لیے اس میں تسلی ہے کہ آپ اس تکذیب میں اکیلے نہیں، کیونکہ آپ کے متعلق بھی کفار نے کہا تھا : (مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ [ الفرقان : 7 ] ”اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔“ 3 سورة اعراف اور سورة ہود میں پیغمبروں کی نصیحت کے بعد قوم کے سرداروں کی بات ”قَالَ الْمَلَاُ“ سے شروع ہوتی ہے، جب کہ اس سورت میں نوح ؑ کی نصیحت کے بعد ”فقَالَ الْمَلَاُ“ ہے اور زیر تفسیر آیت میں ”وقَالَ الْمَلَاُ“ ہے۔ اس فرق کی توجیہ ابن عاشور ؓ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ ان دونوں سورتوں یعنی اعراف اور ہود میں پیغمبروں کی نصیحت کے بعد قوم کے سرداروں کا پیغمبروں سے براہ راست خطاب ہے، اس لیے ”فاء“ یا ”واؤ“ کی ضرورت نہیں، جب کہ یہاں پیغمبروں کی نصیحت کے بعد قوم کے سرداروں کا پیغمبروں کو جواب مذکور نہیں، بلکہ اس کے بعد ان کا اپنے لوگوں کے پاس جا کر انھیں بہکانا مذکور ہے، تاکہ وہ پیغمبر کی بات سے متاثر نہ ہوجائیں، اس لیے ”فاء“ اور ”واؤ“ لائی گئی ہیں۔
Ayah 23:34

وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ Open ayah 23:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ اگر تم نے اپنے جیسے ایک بشر کا کہنا مان لیا تو یقینا تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہوگے۔

وَلَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ۔۔ : سورة قمر میں اسی قوم کے صالح ؑ کے متعلق تحقیر سے بھرے ہوئے الفاظ ملاحظہ کریں، کہا : (فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗٓ ۙ اِنَّآ اِذًا لَّفِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ 24؀ ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ) [ القمر : 24، 25 ] ”پس انھوں نے کہا کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں ؟ یقیناً ہم تو اس وقت بڑی گمراہی اور دیوانگی میں ہوں گے۔ کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔“ اپنے مال و جاہ پر مغرور سرداروں نے سرداری خطرے میں دیکھ کر دنیا اور آخرت کی ذلت قبول کرلی، مگر بیشمار نشان دیکھنے کے باوجود رسول پر ایمان لا کر تابع ہونا قبول نہ کیا۔ سرداری کی آفات میں سے یہ سب سے بڑی آفت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے رکھے۔
Ayah 23:35

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:35 in the Quran reader

کیا یہ تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ بیشک جب تم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں بن گئے تو تم یقینا نکالے جانے والے ہو۔

اَيَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ۔۔ : پچھلی آیات میں رسول کو جھٹلانے کا ذکر ہے اور اس آیت میں اس کی دعوت، یعنی قیامت کو جھٹلانے کا ذکر ہے۔ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ان کی نگاہ میں ناممکن تھا، حالانکہ پہلی دفعہ بنانے والے کے لیے دوبارہ بنانا کچھ مشکل نہیں۔ اس سورة مبارکہ کے شروع ”وَلَقَدْخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ“ سے لے کر نوح ؑ کے ذکر تک موت کے بعد زندگی ہی کے دلائل ہیں۔
Ayah 23:36

هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ Open ayah 23:36 in the Quran reader

دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔

هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ : ”هَيْهَاتَ“ اسم مبنی جامد غیر مشتق ہے۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ فعل ماضی ”بَعُدَ“ (دور ہوا) کے معنی میں ہے۔ ”مَا تُوْعَدُوْنَ“ اس کا فاعل ہے اور لام فاعل کے بیان اور وضاحت کے لیے ہے۔ معنی ہوگا : ”دور ہے، دور ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ زجاج نے اپنی تفسیر میں فرمایا اور زمخشری نے بھی اسی بات کو پسند کرنے کا اشارہ فرمایا ہے کہ یہ مصدر ”بُعْدٌ“ (دوری) کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ ”دوری ہے، دوری ہے اس کے لیے جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔“ اس صورت میں لام کا معنی سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آتی، میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ مطلب یہ کہ مٹی اور ہڈیاں ہونے کے بعد دوبارہ قبروں سے زندہ نکالے جانے کی بات میں بہت بعد ہے۔
Ayah 23:37

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ Open ayah 23:37 in the Quran reader

نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری اس دنیا کی زندگی، ہم (یہیں) مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔

اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا : ”هِىَ“ سے مراد ”حَیَاۃٌ“ ہے، جو ”حَيَاتُنَا الدُّنْيَا“ سے واضح ہو رہی ہے، یعنی مرنے کے بعد زندگی کہاں ؟ زندگی ہے تو صرف یہ دنیا کی زندگی، باقی سب خیال و محال ہے۔ نَمُوْتُ وَنَحْيَا : ”ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مرنے کے بعد جینے کے قائل ہوگئے تھے، کیونکہ وہ اس دنیا کے سوا کسی زندگی کو مانتے ہی نہ تھے۔ اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہیں ہم مرتے جاتے ہیں اور پچھلے پیدا ہوتے رہتے ہیں، دنیا کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا ہے اور جاری رہے گا۔ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ : باء کی وجہ سے نفی میں تاکید پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ ہے ”اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔“ اگرچہ ان سرداروں کی پچھلی تمام باتوں کا مطلب بھی رسول اور قیامت کو جھٹلانا تھا، پھر بھی کوئی کمی باقی تھی تو انھوں نے نہایت تاکید کے ساتھ صاف لفظوں میں قیامت کا انکار کرکے اور رسول کو مفتری کہہ کر پوری کردی، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔
Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ نہیں ہے مگر ایک آدمی، جس نے اللہ پر ایک جھوٹ گھڑ لیا ہے اور ہم ہرگز اسے ماننے والے نہیں ہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُۨ افْتَرٰى۔۔ : یعنی یہ ”رَجُلُۨ“ (آدمی) ہو کر جو رسالت کا دعویٰ کرتا ہے اور مرنے کے بعد زندگی سے ڈراتا ہے، تو محض اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے، یا یہ کہ یہ صرف ایک آدمی ہے جو۔۔ ”بِمُؤْمِنِيْنَ“ پر باء بھی نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ میں لفظ ”ہرگز“ کا اضافہ کیا ہے۔
Ayah 23:39

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب ! میری مدد کر، اس کے بدلے کہ انھوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ : ”كَذَّبُوْنِ“ اصل میں ”کَذَّبُوْنِيْ“ ہے، نون کا کسرہ اس کی دلیل ہے۔
Ayah 23:40

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

فرمایا بہت تھوڑی مدت ہی میں یہ ضرور پشیمان ہوجائیں گے۔

قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ : ”قَلِيْلٍ“ کا معنی بہت کم ہے، اس کی قلت کی مزید تاکید کے لیے ”عَنْ“ کے ساتھ ”مَا“ کا اضافہ فرمایا ہے، یعنی بہت ہی کم مدت میں۔ (بقاعی)
Ayah 23:41

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

تو انھیں چیخ نے حق کـــــــــــــــے ســــــاتھ آپکڑا۔ پس ہم نے انھیں کوڑا کرکٹ بنادیا۔ سو ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ : یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے ”فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ“ کا ترجمہ یہ کیا ہے : ”آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آدبوچا۔“ یعنی وہ وعدہ جو ”عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ“ کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ ”اَلْحَقُّ“ سے مراد قطعی امر بھی ہوسکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)
Ayah 23:42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے کئی اور زمانوں کے لوگ پیدا کیے۔

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَ : یعنی قوم ثمود کے بعد ہم نے کئی اور دور پیدا کیے۔ (طبری)
Ayah 23:43

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت اپنے وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا۔۔ : یعنی کسی امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کی جو مدت مقرر کردی ہے وہ دنیا میں نہ اس سے کم ٹھہرتی ہے نہ زیادہ۔ طبری نے فرمایا : ”یہ ہمارے نبی محمد ﷺ کی قوم کے مشرکوں کے لیے وعید ہے اور انھیں آگاہ کرنا ہے کہ ان کے کفر و شرک اور رسول کو جھٹلانے کے باوجود انھیں جو مہلت دی جا رہی ہے وہ اس لیے ہے کہ وہ اپنی مقرر کردہ مدت کو پہنچ جائیں، پھر ان پر اس کی گرفت آئے گی، جیسا کہ پہلی امتوں کے ساتھ ہوا۔“
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے رسول پے درپے بھیجے۔ جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا انھوں نے اسے جھٹلا دیا، تو ہم نے ان کے بعض کو بعض کے پیچھے چلتا کیا اور انھیں کہانیاں بنادیا۔ سو دوری ہو ان لوگوں کے لیے جو ایمان نہیں لاتے۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا۔۔ :”تَتْرَا“ ”دَعْوٰی“ اور ”سَلْوٰی“ (فَعْلٰی) کے وزن پر مصدر ہے، جو ”رُسُلَنَا“ سے حال ہے۔ ”تَتْرَا“ اصل میں ”وَتَرٰی“ ہے۔ واؤ کو تاء سے بدل دیا، جس طرح ”تَقْوٰی“ میں تاء واؤ کی جگہ آئی ہے۔ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی ”مُتَوَاتِرِیْنَ“ یعنی پھر ہم نے اپنے کئی رسول پے در پے بھیجے، مگر ان کی قوموں نے پہلی امتوں کے انجام سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ہر امت اپنے رسول کے آنے پر اسے جھٹلاتی رہی، تو ہم نے بھی یکے بعد دیگرے ان کی ہلاکت کا تانتا باندھ دیا اور انھیں ایسا نیست و نابود کیا کہ قصے کہانیوں کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
Ayah 23:45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور واضح دلیل دے کر بھیجا۔

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوْنَ ڏ۔۔ : ”ثُمَّ“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پیغمبروں کے لمبے وقفے کے بعد مبعوث ہوئے۔ فرعون اور اس کی قوم اپنے زمانے کے نہایت قوت و شوکت اور مال و دولت والے لوگ تھے، انھوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا، چناچہ ان کی طرف رسول بھی نہایت عظیم الشان بھیجا گیا، جس کے حالات اور معجزات قرآن میں سب سے زیادہ بیان ہوئے ہیں اور اس مقام پر نوح ؑ کے بعد ذکر کردہ پیغمبروں اور امتوں کی طرح مبہم رکھنے کے بجائے موسیٰ و ہارون ؑ کا اور فرعون اور اس کے سرداروں کا نام لیا گیا۔ موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل تھی، جب کہ فرعون اور اس کی قوم قبطی تھے۔ اس لیے یہ کہنے کے بجائے کہ ہم نے موسیٰ کو ان کی قوم بنی اسرائیل کی طرف بھیجا، یہ فرمایا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا۔ فرعون کی قوم کا نام نہیں لیا، کیونکہ وہ فرعون اور اس کے سرداروں کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہ رکھتے تھے۔ فرعون کی طرف بھیجنے کا مقصد اسے توحید کی دعوت دینا (دیکھیے نازعات : 15 تا 19) اور بنی اسرائیل کو آزادی دلانا تھا۔ (دیکھیے طٰہٰ : 47) بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ : نشانیوں سے مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو فرعون کے غرق ہونے سے پہلے ظاہر ہوئیں، جن کا ذکر سورة اعراف اور دوسرے مقامات پر ہے۔ ان میں سمندر کا پھٹنا، من وسلویٰ اترنا، بارہ چشمے جاری ہونا اور بادل کا سایہ وغیرہ شامل نہیں، کیونکہ ان کا فرعون کو دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ ”سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ“ بھی اگرچہ آیات میں شامل ہے، مگر اس کی عظمت کی وجہ سے اسے الگ ذکر فرمایا۔ اکثر مفسرین نے اگرچہ اس سے عصائے موسیٰ مراد لیا ہے، مگر مجھے ان مفسرین کی بات راجح معلوم ہوتی ہے جنھوں نے فرمایا : ”اس سے مراد وہ غلبہ اور سطوت وہیبت ہے جو موسیٰ اور ہارون ؑ کو عطا ہوئی تھی۔“ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا : (وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا) [ القصص : 35 ] ”اور ہم تم دونوں کے لیے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو بھی اس کے حصول کی دعا سکھائی، فرمایا : (وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا) [ بني إسرائیل : 80 ] ”اور کہہ اے میرے رب ! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔“ زیر تفسیر آیت میں بھی ”سُلْطٰنٍ“ سے مراد غلبہ ہے۔ غور کیجیے فرعون کس قدر متکبر اور ظالم تھا، کتنے لوگوں کو اس نے قتل کیا ہوگا۔ اس کے دروازے پر کتنا سخت پہرا ہوگا۔ دو آدمی جو ہاتھ میں صرف عصا لیے ہوئے ہیں، اس کے پاس جاتے ہیں، کسی کو روکنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ بات شروع ہوتی ہے تو وہ ہر بات میں لاجواب ہوتا ہے۔ لاجواب ہو کر جیل کی دھمکی دیتا ہے، مگر دھمکی پر عمل کی ہمت نہیں ہوتی، جادوگروں سے مقابلہ کرواتا ہے، ناکام ہوتا ہے۔ (شعراء : 18 تا 28) پھر قتل کرنا چاہتا ہے مگر جرأت نہیں ہوتی۔ (مؤمن : 26) اللہ بہتر جانتا ہے کتنے سال اسی طرح گزرے، مگر وہ موسیٰ اور ہارون ؑ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکا، اسے کہتے ہیں ”سُلْطٰنٍ مُّبِیْن“ یعنی واضح غلبہ۔
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ : یہاں وہ بات حذف کردی ہے جسے فرعون اور اس کے سرداروں نے سخت تکبر سے ٹھکرا دیا، کیونکہ اس سے پہلے تمام انبیاء کے تذکرے میں اس کا بیان کئی بار ہوچکا ہے، یعنی : (اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ) [ المؤمنون : 32 ] ”کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کے بیان کے متعلق ہر رسول کی دعوت یہی تھی۔ (دیکھیے انبیاء : 25) فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَ :”فَاسْتَكْبَرُوْا“ میں سین اور تاء کا اضافہ تکبر کی شدت پر دلالت کرتا ہے۔ ”قَوْمًا عَالِيْنَ“ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (4)۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

تو انھوں نے کہا کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں، حالانکہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں۔

فَقَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا۔۔ : تکبر اور سرکشی کے نتیجے میں انھوں نے موسیٰ اور ہارون ؑ کی بات ماننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں کی بات پر ایمان لے آئیں، جب کہ ان کے لوگ ہمارے غلام ہیں اور ہم ان سے بلند تر ہیں۔ پہلا اعتراض موسیٰ اور ہارون ؑ کی ذات پر ہے اور دوسرا ان کی قوم پر ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ انھوں نے کھانے پینے اور چلنے پھرنے میں رسولوں کو اپنے جیسا بشر تو دیکھ لیا اور اسے جھٹلانے کا بہانہ بھی بنا لیا، مگر یہ نہ دیکھا کہ وہ ان کے دلائل و معجزات کے سامنے لاجواب ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود انھیں قتل کرنے سے عاجز ہیں۔ کم از کم وہ یہی سوچ لیتے کہ کوئی بشر وہ ہے جو جاہل اور عقل سے خالی ہے اور کوئی بشر وہ ہے جو اتنا علم اور اتنی عقل رکھتا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ جب علم و عقل میں اتنا تفاوت ہوسکتا ہے تو رسالت کا تفاوت کیوں نہیں ہوسکتا ؟ اور اللہ اپنے کسی بندے پر یہ احسان کیوں نہیں کرسکتا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (10، 11)۔
Ayah 23:48

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا تو وہ ہلاک کیے گئے لوگوں میں سے ہوگئے۔

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ : فاء سببیہ ہے، یعنی تکبر جھٹلانے کا سبب بنا اور جھٹلانا ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہونے کا باعث بنا۔ فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ : یعنی بجائے اس کے کہ وہ عام عادت کے مطابق یکے بعد دیگرے فوت ہوں، جھٹلانے کے باعث سمندر میں ڈبو کر ہلاک کیے جانے والوں میں شامل ہوگئے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (90 تا 92) ”مِنَ الْمُهْلَكِيْنَ“ میں قریش کے لیے بھی دھمکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا کرتا ہے۔
Ayah 23:49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ : موسیٰ ؑ کو کتاب تورات فرعونیوں کو غرق کرنے کے بعد ملی، جیسا کہ سورة اعراف (136 تا 145) میں فرعون کے غرق ہونے کے بعد موسیٰ ؑ کے چالیس راتوں کے لیے طور پر اعتکاف اور دیدارِ الٰہی والے معاملے کے بعد الواح کی صورت میں کتاب عطا فرمانے کا ذکر ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ پر تورات فرعون اور قبطیوں کو غرق کرنے کے بعد نازل فرمائی اور تورات نازل کرنے کے بعد کسی امت کو عام عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں فرمایا، بلکہ ایمان والوں کو کفار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ) [ القصص : 43 ] ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کردیا، جو لوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ اس لیے ”لَعَلَّهُمْ“ (تاکہ وہ) میں ضمیر ”ھُمْ“ بنی اسرائیل ہی کے لیے قرار دی جائے گی، فرعونیوں کے لیے نہیں۔ يَهْتَدُوْنَ : یعنی کتاب تو اس لیے تھی کہ بنی اسرائیل ہدایت حاصل کریں، مگر اپنے آپ میں نبی کو موجود پا کر، اس کے معجزوں کو آنکھوں سے دیکھ کر اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کو سن کر بھی ان کے اکثر سیدھی راہ پر نہیں آئے۔ جیسا کہ قرآن میں جا بجا ان کی نافرمانی کے قصے مذکور ہیں۔ امت مسلمہ کو تنبیہ ہے کہ دیکھنا تمہارا حال بھی ان کی طرح نہ ہوجائے۔
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو عظیم نشانی بنایا اور دونوں کو ایک بلند زمین کی طرف جگہ دی، جو رہنے کے لائق اور بہتے پانی والی تھی۔

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗٓ اٰيَةً : ”اٰيَةً“ میں تنوین تعظیم کی ہے ”عظیم نشانی۔“ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ابن مریم کو نشانی بنایا، نہ یہ فرمایا کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا، بلکہ دونوں کو ملاکر ایک عظیم نشانی قرار دیا، کیونکہ ان دونوں کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم نشان تھا کہ اس نے آدم ؑ کو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا فرمایا، حوا [ کو صرف مرد سے پیدا فرمایا اور مریم [ کے بطن سے عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ جب کہ عام پیدائش ماں باپ دونوں سے ہوتی ہے اور وہ بھی اللہ کی قدرت کا نشان ہے۔ 3 یہاں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کا نام لینے کے بجائے ”ابن مریم“ فرمایا کہ انھیں خدا قرار دینے والوں کو توجہ دلائی جائے کہ وہ ایک خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، سو خدا کیسے ہوگئے ؟ وَّاٰوَيْنٰهُمَآ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ : ”رَبْوَةٍ“ ٹیلا، اونچی جگہ۔ ”ذَاتِ قَرَارٍ“ ہموار، جہاں رہنا آسان ہو۔ ”َّمَعِيْنٍ“ جاری پانی، یہ ”عَانَ یَعِیْنُ“ (بَاعَ یَبِیْعُ) سے ہو تو ”مَبِیْعٌ“ کے وزن پر اسم مفعول ہے، اصل اس کا ”مَعْیُوْنٌ“ ہے، میم زائد ہے۔ زجاج نے فرمایا : ”َّمَعِيْنٍ“ چشموں میں جاری پانی، گویا یہ ”عَیْنٌ“ (چشمہ) سے مشتق ہے۔“ ابن الاعرابی نے فرمایا : ”مَعَنَ الْمَاءُ“ ”پانی بہ پڑا۔“ اس صورت میں اس کا وزن ”فَعِیْلٌ“ ہے اور میم اصلی ہے، جاری پانی۔ (قرطبی) 3 اس ربوہ (ٹیلا) سے کیا مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد سرزمین مصر لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ملک شام (جہاں عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے) کا حاکم ہیروڈس تھا، وہ نجومیوں سے سن کر کہ عیسیٰ ؑ کو سرداری ملے گی، بچپن ہی سے ان کا دشمن ہوگیا تھا اور ان کے قتل کے در پے تھا۔ مریم [ انھیں لے کر مصر چلی گئیں اور جب تک ہیروڈس زندہ رہا واپس نہ آئیں۔ انجیل متیّٰ میں یہ واقعہ اسی طرح مذکور ہے، لیکن حافظ ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کے قریب کھجور والی وہ بلند جگہ ہے جہاں عیسیٰ ؑ کی ولادت ہوئی اور مریم [ کو نیچے سے آواز دی گئی کہ غم نہ کر، تیرے نیچے تیرے رب نے ایک ندی جاری کردی ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا تو وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی، پس کھا، پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ۔ (دیکھیے مریم : 23 تا 26) کیونکہ قرآن کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو قرآن کی کسی آیت سے ہو، پھر صحیح احادیث سے اور پھر آثار سے۔“ (ابن کثیر) اسرائیلی روایات کو جب ہم نہ سچا کہہ سکتے نہ جھوٹا تو ان سے کوئی بات کیسے ثابت ہوسکتی ہے ؟
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقینا میں اسے جو تم کرتے ہو، خوب جاننے والا ہوں۔

يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ۔۔ : ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو حکم دے رہے ہیں کہ حلال کھاؤ اور صالح اعمال کرتے رہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اکل حلال عمل صالح کے لیے مددگار ہے۔“ (ابن کثیر) ظاہر ہے حلال حاصل کرنے کے لیے محنت بھی کرنا پڑے گی۔ چناچہ نبوت سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں اور تجارت بھی کی ہے اور آخر میں تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ ترین رزق مال غنیمت کے ساتھ غنی فرما دیا، چناچہ فرمایا : (فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا) [ الأنفال : 69 ] ”سو اس میں سے کھاؤ جو تم نے غنیمت حاصل کی، اس حال میں کہ حلال، طیب ہے۔“ مقدام ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا أَکَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَیْرًا مِنْ أَنْ یَّأْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ وَ إِنَّ نَبِيَّ اللّٰہِ دَاوٗدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ کَانَ یَأْکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ) [ بخاري، البیوع، باب کسب الرجل و عملہ بیدہ : 2072 ] ”کسی شخص نے کوئی کھانا اس کھانے سے بہتر نہیں کھایا جو وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور اللہ کے نبی داؤد ؑ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کَانَ زَکَرِیَّا نَجَّارًا) [ ابن ماجہ، التجارات، باب الصناعات : 2150، عن أبي ہریرہ ؓ و صححہ الألباني ] ”زکریا ؑ نجار (ترکھان) تھے۔“ اس کی مزید تفصیل اور حرام کھانے والے کی دعا قبول نہ ہونے کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (172)۔ اس آیت میں رہبانیت کا بھی رد ہے، جو اللہ کی نعمتیں اپنے آپ پر حرام کرلیتے ہیں۔ عیسیٰ ؑ کے تذکرے کے بعد شاید اسی لیے اس حکم کا ذکر کیا ہے کہ رہبانیت کا حکم کسی بھی رسول کو نہ تھا۔ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ : اس میں حلال کھانے اور عمل صالح پر جزا کا وعدہ ہے اور اس کے خلاف پر سزا کی وعید ہے۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور بیشک یہ تمہاری امت ہے، جو ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، سو مجھ سے ڈرو۔

وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (92)۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پھر وہ اپنے معاملے میں آپس میں کئی گروہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ ہر گروہ کے لوگ اسی پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے۔

فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا : اصل دین تمام پیغمبروں کا ایک ہے، البتہ بعض وقتی احکام میں فرق ہوسکتا ہے۔ آدم ؑ سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک سب کا دین اسلام ہے اور ان کے پیروکار سب امت مسلمہ ہیں۔ جس کے چند بنیادی اصول یہ ہیں : 1 توحید، یعنی عبادت صرف اللہ کی ہے، اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ 2 قیامت، یعنی مرنے کے بعد سب کو اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور اپنے عمل کا بدلا پانا ہے۔ 3 اکل حلال، یعنی صرف حلال اور طیب کھانا کھانا ہے، حرام سے پوری طرح اجتناب کرنا ہے۔ 4 عمل صالح، یعنی ریا سے بچ کر خالص اللہ کے لیے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنا ہے۔ ہر پیغمبر یہی اصول دین لے کر آیا، مگر لوگوں نے اصول دین ہی میں اختلاف کرکے سیکڑوں فرقے بنا لیے، مثلاً پہلے اصل توحید کو لے لیجیے، صرف ایک اللہ کی عبادت اور اسی سے استعانت کی جگہ کسی نے پیغمبر کو رب بنا لیا، کسی نے احبارو رہبان کو، کسی نے تین رب بنا لیے، کسی نے وحدت الوجود کا عقیدہ نکال لیا کہ ہر چیز میں رب ہے۔ کسی نے کہا، فلاں اللہ کا بیٹا ہے، کسی نے کہا، فلاں اللہ کے نور میں سے جدا شدہ نور ہے۔ کسی نے کہا، اللہ تعالیٰ بزرگوں اور ولیوں میں اتر آتا ہے۔ کسی نے کہا، بزرگ ترقی کرکے رب بن جاتے ہیں۔ اللہ کے سوا کئی ہستیوں کو عالم الغیب اور مختار کل تسلیم کیا گیا۔ حتیٰ کہ انسان نے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا، اپنے نفع و نقصان کو پتھروں، درختوں، مویشیوں، جن بھوتوں، قبروں اور آستانوں سے وابستہ کردیا اور ان کے آگے سر جھکانے اور انھی سے مرادیں مانگنے لگا۔ پیغمبروں کی لائی ہوئی توحید پر بہت کم لوگ قائم رہے۔ دوسرا اصل قیامت پر ایمان ہے۔ بعض لوگوں نے دوبارہ جی اٹھنے ہی کا انکار کردیا اور جنھوں نے اسے تسلیم کیا انھوں نے بھی اس کے تقاضوں کو نہ سمجھا۔ کسی نے کہا، ہم چونکہ انبیاء کی اولاد یا سادات ہیں، لہٰذا ہمیں عذاب کیسے ہوسکتا ہے ؟ بعض لوگوں نے جبری سفارش کا عقیدہ وضع کرلیا کہ اگر فلاں مرشد کی بیعت کرلی جائے تو وہ شفاعت کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ بعض نے یہی عقیدہ اپنے بتوں یا دیوتاؤں سے وابستہ کرلیا۔ نصاریٰ نے کفارے کا عقیدہ گھڑ لیا کہ مسیح ؑ ہم گناہ گاروں کے کفارے کے طور پر سولی چڑھ گئے، اب ان کے نام لیواؤں کے سب گناہ معاف ہیں۔ بعض پادری حضرات اس دنیا ہی میں لوگوں سے رقمیں بٹور کر انھیں معافی نامے جاری کرنے لگے اور بعض لوگوں نے عقیدہ گھڑا کہ اگر فلاں قبر کے بہشتی دروازے کے نیچے سے عرس کے دن گزرا جائے تو یقیناً نجات ہوجائے گی۔ سستی نجات کے ایسے سب عقیدے لغو اور باطل ہیں اور قرآن نے ایسے عقائد رکھنے والوں کو آخرت کے منکر یعنی کافر قرار دیا ہے۔ تیسرا اصل حلال و طیب کھانا تھا، اس میں بھی لوگوں نے افراط و تفریط کی راہ پیدا کرلی۔ راہبوں، جوگیوں اور بعض صوفیوں نے اپنے اوپر حلال اشیاء کو حرام قرار دے لیا اور بعض دوسروں نے حلال و حرام کی تمیز ہی ختم کردی اور سود اور قوم لوط کے عمل جیسی حرام اشیاء کو، جنھیں ساری شریعتوں میں حرام قرار دیا جاتا رہا، حلال ثابت کرنے کی کوشش کی۔ بہت سے علماء و مشائخ، بتوں کے مہنتوں اور مقبروں اور مزاروں کے مجاوروں نے حلت و حرمت کے اختیارات خود سنبھال لیے۔ ایسے لوگوں کا تذکرہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ چوتھا اصل عمل صالح ہے، غالباً اس اصل میں شرک سے بھی زیادہ فرقہ بازی ہوئی، دین کے بعض اصولی احکام کو مسخ کرکے بدعی عقائد و اعمال شامل کردیے گئے اور ان باتوں کی اصل بنیاد حب جاہ و مال تھی۔ چناچہ بیشمار سیاسی اور بدعی قسم کے فرقے وجود میں آگئے، ہر فرقے نے اپنے پیشوا کی بات انبیاء کی بات کی طرح حرف آخر قرار دے دی۔ گویا اس سادہ اور مختصر سی اصولی تعلیم سے اختلاف کر کے لوگ جو فی الحقیقت ایک ہی امت تھے، سیکڑوں ہزاروں فرقوں میں بٹتے چلے گئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے اور اپنے علاوہ دوسرے فرقوں کو دوزخ کا ایندھن سمجھتا ہے، حالانکہ یہ اصولی تعلیم آج بھی موجود ہے اور اگر کوئی شخص یا کوئی فرقہ تعصب سے بالاتر ہو کر راہ حق کو تلاش کرنا چاہے تو راہ حق آج بھی ایسی چھپی ہوئی چیز نہیں جس کا سراغ نہ لگایا جاسکتا ہو۔ (تیسیرالقرآن از کیلانی ؓ بتصرف) كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ : ”فَرِحُوْنَ“ بہت خوش۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ جب کوئی شخص ہر حال میں اپنے گروہ کو قائم رکھنے پر اڑ جاتا ہے تو اس کے دل میں حقیقت کی تلاش کا جذبہ بھی ختم ہوجاتا ہے اور اسے اپنے دھڑے ہی کی ہر بات درست معلوم ہوتی ہے اور وہ اسی پر خوش رہتا ہے، خواہ کتنی غلط ہو اور دوسرے کی بات خواہ کتنی صحیح ہو اسے غلط معلوم ہوتی ہے۔ افسوس ! مسلمان بھی خیر القرون کے بعد کتاب وسنت پر ایک جماعت رہنے کے بجائے فرقوں میں بٹ گئے۔ کچھ عقائدی فرقے، کچھ فقہی فرقے اور کچھ صوفی فرقے اور ہر ایک اپنے دھڑے پر اتنی سختی سے قائم ہے کہ اس کے مسلک کے خلاف قرآن مجید کی صریح آیت، یا رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث بھی پیش کی جائے تو وہ یہ کہہ کر اسے ماننے سے انکار کر دے گا کہ کیا ہمارے بڑوں کو اس کا علم نہ تھا ؟ اور اب یہ حال ہوگیا ہے کہ شاید مسیح ؑ ہی اس امت کو کتاب و سنت پر جمع فرما سکیں گے۔
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو تو انھیں ایک وقت تک ان کی غفلت میں رہنے دے۔

فَذَرْهُمْ فِيْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِيْنٍ : یعنی ایسے متعصب اور ہٹ دھرم لوگ جو راہ راست کی طرف آنا پسند ہی نہیں کرتے اور اپنے حال ہی پر خوش ہیں، انھیں ان کے حال ہی پر رہنے دیجیے، ایک وقت آنے والا ہے جب انھیں سب حقیقت پوری طرح معلوم ہوجائے گی۔
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم مال اور بیٹوں میں سے جن چیزوں کے ساتھ ان کی مدد کر رہے ہیں۔

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

ہم انھیں بھلائیاں دینے میں جلدی کر رہے ہیں، بلکہ وہ نہیں سمجھتے۔

اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ۔۔ : ”اَنَّمَا“ یہاں اکٹھا لفظ نہیں بلکہ ”أَنَّ“ اور ”مَا“ (بمعنی اَلَّذِيْ) الگ الگ لفظ ہیں، قرآن کے رسم الخط میں انھیں اکٹھا لکھ دیا گیا ہے، معنی ہے ”کہ وہ چیزیں جو۔“ 3 ہر گروہ کے اپنے حال پر بہت خوش رہنے کا سبب چونکہ انھیں لگنے والا دھوکا تھا کہ خوش حالی اور مال و اولاد کی کثرت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی دلیل ہے، چناچہ کفار کہا کرتے تھے کہ ہم اموال و اولاد میں زیادہ ہیں اور ہمیں کسی صورت عذاب نہیں ہوگا۔ دیکھیے سورة سبا (35) اور کہف (34 تا 36) اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کے لیے اس کا ردّ فرمایا۔ بَلْ لَّا يَشْعُرُوْنَ : یعنی ان کا یہ گمان درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں شعور ہی نہیں کہ مال و اولاد کی یہ فراوانی انھیں مہلت دینے کے لیے اور ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ہے کہ جس قدر انھیں ڈھیل ملے اسی قدر ان کے گناہوں کا پیمانہ اور لبریز ہو اور پھر بھرپور طریقے سے ان پر گرفت کی جائے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں کمی محسوس نہ کرے وہ فکر کرلے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رسی دراز کی جا رہی ہے۔
Ayah 23:57

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔

اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ خَشْـيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَ :”إِشْفَاقٌ“ کا معنی ہے متوقع چیز کا شدید خوف اور ”وَجِلٌ“ بروزن ”فَزِعٌ“ کا معنی ہے، سخت ڈرنے والا۔ اس سے پہلے غفلت میں مبتلا ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کے ہاں کفر و فسق کے باوجود مال اور بیٹوں کی فراوانی ہوتی جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر خوش ہے، تبھی یہ سب کچھ ہمیں دے رہا ہے۔ اب ان کے مقابلے میں مخلص و مومن بندوں کا ذکر ہے، جو کمال ایمان و عمل کے باوجود عجب اور خود پسندی سے محفوظ ہیں اور ہر وقت اس بات سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ کیا خبر اس کی جناب میں ہمارے عمل قبول ہوتے ہیں یا نہیں۔ 3 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص مومن بندوں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ وہ اپنے رب سے بہت ڈرنے والے ہیں کہ وہ ناراض نہ ہوجائے۔ واضح رہے کہ اہل ایمان کا اپنے رب سے یہ خوف اس قسم کا نہیں ہوتا جیسے کسی جابر و ظالم بےرحم سے ہوتا ہے، بلکہ وہ اسے اپنا رب یعنی ہر نعمت عطا کرنے والا سمجھ کر اس کے ساتھ انتہائی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی ناراضی کے خطرے سے انتہائی خوف بھی رکھتے ہیں۔
Ayah 23:58

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ : دوسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کی آیات پر ایسا یقین رکھتے ہیں جو شک سے پاک ہے۔ چناچہ وہ یقین انھیں اس کی اطاعت کا پابند کرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے باز رکھتا ہے۔
Ayah 23:59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں کرتے۔

وَالَّذِيْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُوْنَ : تیسری صفت یہ کہ وہ اپنے رب کے ساتھ نہ بڑا شرک کرتے ہیں، نہ چھوٹا، نہ جلی، نہ خفی، نہ کسی غیر کی پرستش کرتے ہیں اور نہ کوئی عمل ریا (دکھلاوے) کے لیے کرتے ہیں اور نہ سمعہ (شہرت) کے لیے، بلکہ ان کا ہر عمل اپنے رب کے لیے خالص ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ صفت ایمان میں شامل تھی مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے الگ بھی ذکر فرمایا۔
Ayah 23:60

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور وہ کہ انھوں نے جو کچھ دیا اس حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈرنے والے ہوتے ہیں کہ یقینا وہ اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا۔۔ : ”آتٰی یُؤْتِيْ إِیْتَاءً“ کا معنی ہے، دینا۔ عام طور پر اس سے مراد صدقہ و زکوٰۃ لیا جاتا ہے، مگر ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : ”اس سے نیکی کے تمام اعمال مراد ہیں۔“ (طبری) عربی میں ”إِیْتَاءٌ“ (دینا) کا لفظ صرف مال یا کوئی مادی چیز دینے ہی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ معنوی چیزیں دینے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، مثلاً کسی شخص کی اطاعت قبول کرلینے کے لیے کہتے ہیں : ”آتَیْتُہُ مِنْ نَفْسِي الْقَبُوْلَ“ اور اطاعت قبول نہ کرنے کے لیے کہتے ہیں : ”آتَیْتُہُ مِنْ نَفْسِي الإِْبَاءَ۔“ ابن عطیہ فرماتے ہیں : ”یہ معنی زیادہ خوب صورت ہے، گویا فرمایا : ”وَالَّذِیْنَ یُعْطُوْنَ مِنْ أَنْفُسِھِمْ فِيْ طَاعَۃِ اللّٰہِ مَا بَلَغَہُ جُھْدُھُمْ“ ”یعنی وہ اپنی جانوں کی طرف سے اللہ کی اطاعت میں وہ سب کچھ پیش کردیتے ہیں جو ان کے آخری بس میں ہوتا ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ وہ ہر نیک عمل کرتے ہوئے خود پسندی کا شکار ہونے کے بجائے سخت ڈر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کے پاس جانا ہے، کیا خبر اس کی جناب میں ہمارا عمل قبول ہوتا ہے یا نہیں اور کیا خبر کہ رب تعالیٰ کے حضور جانے کے وقت ہمارے ایمان و عمل کا کیا حال ہوتا ہے، کیونکہ دار و مدار تو خاتمے پر ہے۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا : (یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! (ۙوَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) [ المؤمنون : 60 ] أَ ھُوَ الَّذِيْ یَزْنِيْ وَ یَسْرِقُ وَ یَشْرَبُ الْخَمْرَ ؟ قَالَ لَا، یَا بِنْتَ أَبِيْ بَکْرٍ ! أَوْ یَا بِنْتَ الصِّدِّیْقِ ! وَلٰکِنَّہُ الرَّجُلُ یَصُوْمُ وَ یَتَصَدَّقُ وَ یُصَلِّيْ ، وَ ھُوَ یَخَافُ أَنْ لَا یُتَقَبَّلَ مِنْہُ) [ ابن ماجہ، الزھد، باب التوقي علی العمل : 4198۔ ترمذي : 3175۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 162]”یا رسول اللہ ! (اللہ کا فرمان ہے): (ۙوَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ) کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو چوری کرتا ہے، زنا کرتا ہے اور شراب پیتا ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”نہیں ! اے ابوبکر کی بیٹی ! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے قبول نہ کیا جائے۔“ ترمذی کی حدیث کے آخر میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (ۙاُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ) [ المؤمنون : 61 ] ”یہی (مذکورہ بالا صفات والے) وہ لوگ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔“ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ”يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا“ سے مراد صرف صدقہ و زکوٰۃ ہی نہیں، بلکہ تمام اعمال ہیں۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور یہی ان کی طرف آگے نکلنے والے ہیں۔

ۙاُولٰۗىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَــيْرٰتِ۔۔ : یعنی یہ لوگ جن میں یہ چاروں خوبیاں ہیں یہی نیک کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جلدی کرتے ہیں اور یہی لوگ انھیں حاصل کرنے میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ (دیکھیے سورة واقعہ : 10 تا 26) طبری نے ”وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ“ کے متعلق ابن عباس ؓ کا قول حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : ”سَبَقَتْ لَھُمُ السَّعَادَۃُ“ ”یعنی ان کی ان چاروں صفات کی وجہ سے (جو پہلے ہی اللہ کے علم میں ہیں) ان کے لیے پہلے ہی (جلدی بھلائیاں حاصل ہونے کی) سعادت طے ہوچکی ہے۔“ گویا یہ اس آیت کے ہم معنی ہے : (اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ) [ الأنبیاء : 101 ] ”بیشک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہوچکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔“
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی وسعت کے مطابق اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔

وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا۔۔ : یعنی ہم نے اپنے مومن بندوں کی جو صفات بیان کی ہیں، یہ ایسی نہیں ہیں کہ انسان کی وسعت اور گنجائش سے باہر ہوں اور وہ ان پر عمل نہ کرسکتا ہو۔ کیونکہ یہ ہمارا دستور ہی نہیں کہ کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف دیں۔ اسی لیے جہاں عذر آتا ہے رخصت دے دی جاتی ہے۔ پانی نہیں تو تیمم کرلو، سفر ہے تو نماز قصر کرلو اور روزہ افطار کرلو، بیمار ہو تو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ لو، خوف ہے تو پیدل یا سوار ہی پڑھ لو، بھوک سے بےبس ہو تو بقدر ضرورت حرام کھالو، اگر نفس کی سرکشی سے نافرمانی ہوجائے تو توبہ کرکے پلٹ آؤ۔ پھر اتنی آسانیوں کے بعد بھی بےرخی اور سرکشی کی روش اپناؤ، تو یاد رکھو کہ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، جس میں تمہارا چھوٹا، بڑا، ظاہر اور مخفی ہر عمل محفوظ ہے۔ دیکھیے سورة کہف (49) اور جاثیہ (29) رازی نے فرمایا : ”کتاب کو انسان کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو بولتا ہے، کیونکہ کتاب تو بولتی نہیں، بلکہ جو اس میں لکھا ہوتا ہے اس کا اظہار کرتی ہے۔“ مگر اب وڈیو کیمرے کے ذریعے سے کسی بھی شخص کے عمل کی تصویر بھی محفوظ ہوتی ہے اور آواز بھی۔ اس لیے اس تاویل کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تو ہمارے خیال سے بھی کہیں بلند ہے، جس کے حکم سے چمڑے اور ہاتھ پاؤں بول کر سب کچھ بتائیں گے، اس کے حکم سے کتاب کا بولنا کون سا بعید ہے۔ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ : یعنی نہ کسی کو قصور کے بغیر سزا ملے گی، نہ کسی کا قصور دوسرے کے نامۂ اعمال میں درج ہوگا، نہ کسی عمل کی جزا میں کمی ہوگی اور نہ سزا میں زیادتی۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں ہیں اور ان کے لیے اس کے سوا کئی کام ہیں، وہ انھی کو کرنے والے ہیں۔

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ ھٰذَا۔۔ : ”غَمْرَةٍ“ میں تنوین تہویل کی ہے، اس لیے ترجمہ ”سخت غفلت“ کیا ہے۔ ”ھذا“ کا اشارہ ان چیزوں کی طرف ہے جو اس سے پہلے مذکور ہیں، یعنی بات وہ نہیں جو کفار نے سمجھ رکھی ہے کہ اموال و اولاد کی صورت میں انھیں اللہ کی طرف سے بھلائیاں مل رہی ہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل بھلائیوں کے حصول کا سبب بننے والی صفات سے (یعنی خشیت الٰہی، آیات پر ایمان، شرک سے اجتناب اور کوئی بھی عمل کرتے ہوئے اس کے قبول نہ ہونے کا خوف رہنا) اور قیامت کے دن کتاب اعمال کے پیش ہونے سے سخت غفلت میں ہیں۔ پھر ان کا جرم یہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی کئی اعمال ہیں جنھیں وہ ہر حال میں کرنے والے ہیں، تاکہ ان پر حجت تمام ہو اور وہ اپنے کیے کا خمیازہ بھگتیں۔
Ayah 23:64

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوش حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے اچانک وہ بلبلا رہے ہوں گے۔

حَتّيٰٓ اِذَآ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ۔۔ : ”يَجْــــَٔــرُوْنَ“ ”جُؤَارٌ“ درحقیقت گائے یا بیل کے سخت تکلیف میں بلبلانے کو کہتے ہیں۔ عذاب سے مراد بظاہر دنیا میں آنے والا عذاب ہے، خواہ کسی آفت کی صورت میں ہو یا موت کی صورت میں، کیونکہ آسودگی اور خوش حالی کی موجودگی میں وہی آتا ہے۔ عذاب خواہ خوش حال کفار پر آئے یا بدحال کفار پر، چیخنے چلانے اور بلبلانے میں دونوں یکساں ہوتے ہیں، مگر ”مُتْرَفِیْنَ“ (خوش حال) کا ذکر خاص طور پر اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ یہی لوگ حق کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں اور اپنی سرداری کی وجہ سے بدحال لوگوں کے کفر پر قائم رہنے کا باعث بنتے ہیں۔ (دیکھیے سورة سبا : 31 تا 33) اس لیے عذاب نازل ہونے کے وقت ان کی حالت بیان فرمائی کہ ان کی ساری شیخی اور اکڑفوں ختم ہوجائے گی اور وہ سخت تکلیف میں مبتلا بیل کی طرح بلبلائیں گے۔