23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب ! مجھے واپس بھیجو۔

حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ : یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ ”حَتّيٰٓ“ (یہاں تک) کا تعلق کس سے ہے ؟ مفسرین نے اس کی کئی توجیہیں فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کفار کی برائیوں کا جواب بہترین طریقے سے دیتے رہیں اور جو باتیں یہ بناتے ہیں انھیں ہمارے حوالے کرتے رہیں، یہاں تک کہ۔۔ الخ۔ دوسری توجیہ اس سے زیادہ واضح ہے کہ اس کا تعلق محذوف جملے سے ہے جو ”حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ“ سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے۔ ”أَيْ لَا یَزَالُوْنَ کَذٰلِکَ حَتّٰی إِذَا جَاءَ۔۔“ یعنی وہ اسی طرح اپنے کفر و شرک پر قائم رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے۔۔ اس طرح جملے کے حذف کی مثال فرزدق کا شعر ہے ؂ فَیَا عَجَبَا حَتّٰی کُلَیْبٌ تَسُبُّنِيْ کَأَنَّ أَبَاھَا نَھْشَلٌ أَوْ مُجَاشِعُ (أَيْ یَسُبُّنِيَ النَّاسُ حَتّٰی کُلَیْبٌ) ”یعنی تعجب ہے کہ مجھے سبھی لوگ گالی دیتے ہیں، حتیٰ کہ بنو کلیب بھی گالی دیتے ہیں، جیسے ان کا باپ نہشل یا مجاشع ہے، یعنی کسی نامور باپ کی اولاد نہ ہونے کے باوجود کلیب جیسے قبیلے کے بےوقعت لوگ بھی میرے جیسے اونچے نسب والے شخص کو گالی دیتے ہیں۔“ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ : ”رَجَعَ یَرْجِعُ“ لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی، اس کا معنی لوٹنا بھی ہے اور لوٹانا بھی، یہاں مراد لوٹانا ہے۔ یعنی کافر و مشرک اپنے کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے اور رسولوں کی بتائی ہوئی وہ تمام حقیقتیں آنکھوں کے سامنے آتی ہیں، جنھیں وہ اب تک جھٹلاتے رہے تھے، تو وہ مہلت دینے اور دنیا کی طرف واپس لوٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔ دیکھیے سورة منافقون (10، 11) اور ابراہیم (44) یہ درخواست وہ موت کے وقت بھی کریں گے، قیامت کے دن بھی اور آگ کو دیکھ کر بھی، جیسا کہ دوسری آیات میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (53) ، سجدہ (12) ، انعام (27) ، شوریٰ (44) ، مؤمن (11) ، فاطر (37) اور سبا (51 تا 53)۔ ”رَبِّ“ (اے میرے رب !) میں مخاطب واحد ہے، جبکہ ”ارْجِعُوْنِ“ (مجھے واپس بھیجو) میں مخاطب جمع ہے۔ مفسرین نے اس کی تین توجیہیں کی ہیں، ایک یہ کہ کافر نہایت عجز کے ساتھ درخواست کرتے ہوئے تعظیم کے لیے اللہ تعالیٰ کو جمع کے صیغے سے مخاطب کرے گا، جیسا کہ تمام زبانوں میں یہ انداز معروف ہے، عربی میں بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ فرشتوں نے سارہ[ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا : (اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ) [ ھود : 73 ] ”کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے ؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو !“ ابن عاشور لکھتے ہیں کہ مخاطب مذکر ہو یا مؤنث، تعظیم کے وقت اس کے لیے جمع مذکر کی ضمیر ”کُمْ“ ہی استعمال ہوتی ہے۔ کلام عرب میں واحد مخاطب کے لیے جمع کی ضمیر کی مثال حسان بن ثابت ؓ کا قول ہے ؂ أَلَا فَارْحَمُوْنِيْ یَا إِلٰہَ مُحَمَّدٍ فَإِنْ لَمْ أَکُنْ أَھْلًا فَأَنْتَ لَہُ أَھْلٌ اس شعر میں شاعر نے ”فَارْحَمْنِيْ“ کے بجائے ”فَارْحَمُوْنِيْ“ کہا ہے اور حماسہ کے شاعر جعفر بن علبہ حارثی کا شعر ہے، جس میں وہ اپنی محبوبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے ؂ فَلاَ تَحْسَبِيْ أَنِّيْ تَخَشَّعْتُ بَعْدَکُمْ لِشَيْءٍ وَ لَا أَنِّيْ مِنَ الْمَوْتِ أَفْرَقُ ”پس تو یہ گمان نہ کر کہ میں تمہارے بعد کسی چیز کی وجہ سے عاجز ہوگیا ہوں اور نہ یہ کہ میں موت سے ڈرتا ہوں۔“ اس شعر میں شاعر نے ”بَعْدَکِ“ کے بجائے ”بَعْدَکُمْ“ کہا ہے۔ یہ توجیہ سب سے اچھی ہے۔ دوسری توجیہ طبری ؓ نے فرمائی ہے کہ کافر کلام کی ابتدا ”رب“ سے کرے گا، جو استغاثہ کے لیے ہے، مگر وہ واپس بھیجنے کی درخواست ان فرشتوں سے کرے گا جو اس کی روح نکالنے کے لیے آئے ہوں گے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کچھ لوگ کسی کو پکڑ لیں اور وہ کہے ”ہائے اللہ ! مجھے چھوڑ دو۔“ یہ توجیہ بھی بہت اچھی ہے۔ تیسری توجیہ یہ ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ سے بار بار درخواست کرے گا : ”ارْجِعْنِيْ ، ارْجِعْنِيْ ، ارْجِعْنِيْ“ تو اس تکرار کے بیان کے لیے جمع کا صیغہ ”ارْجِعُوْنِ“ استعمال کیا گیا ہے۔ اس توجیہ کی معتبر نظیر مجھے نہیں ملی۔
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک بات ہے جسے وہ کہنے والا ہے اور ان کے پیچھے اس دن تک جب وہ اٹھائے جائیں گے، ایک پردہ ہے۔

لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ : تاکہ میں جو کچھ مال و متاع چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کرلوں، یا اس دنیا میں جا کر کوئی نیک عمل کرلوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”قتادہ نے آیت : (حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ) کے متعلق کہا کہ علاء بن زیاد فرمایا کرتے تھے کہ آدمی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس مرنے والے کی جگہ رکھ کر سوچے کہ گویا اس کی موت آپہنچی تھی اور اس نے رب تعالیٰ سے مہلت مانگی تو اسے مل گئی، سو وہ اس مہلت میں جس قدر ہو سکے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرلے۔ اور قتادہ نے فرمایا، اللہ کی قسم ! نہ وہ گھر والوں کی طرف جانے کی تمنا کرے گا، نہ اولاد کی طرف، بلکہ یہی تمنا کرے گا کہ واپس جا کر اللہ کی اطاعت کرلے۔ سو کوتاہی کرنے والے کافر کی آرزو دیکھو اور ملی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر اس پر عمل کرلو۔“ كَلَّا : اس کے دو معنی ہیں اور دونوں مراد ہیں، ایک یہ کہ ہرگز ایسا نہ ہوگا کہ تم دنیا میں واپس جاؤ اور دوسرا یہ کہ تمہارا کہنا کہ میں واپس جا کر نیک عمل کروں گا، ہرگز درست نہیں۔ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا : یعنی یہ صرف ایک بات ہوگی جو وہ کہے گا، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، بلکہ وہ صاف جھوٹ کہہ رہا ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ) [ الأنعام : 28 ] ”اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا اور بلاشبہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔“ دوسرا مطلب یہ کہ یہ صرف اس کے منہ کی بات ہوگی جو وہ بار بار کہے گا، مگر اسے اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسی بات ہے جو ہر کافر مرتے وقت ضرور ہی کہنے والا ہے۔ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ : ”وَرَاءٌ“ کا معنی آگے بھی ہے اور پیچھے بھی، یہاں دونوں معنی مراد ہیں کہ آگے ایک اور عالم برزخ آ رہا ہے، جسے قبر کی زندگی بھی کہا جاتا ہے، جہاں پہنچ کر دنیا والوں سے پردہ ہوجاتا ہے اور آخرت بھی سامنے نہیں آتی۔ ہاں کافر کے لیے آخرت کے عذاب کا تھوڑا سا نمونہ سامنے آتا ہے، جس کا مزہ قیامت تک چکھتا رہے گا۔ اسی طرح اہل ایمان کے لیے راحت و نعمت میسر ہوتی ہے۔ دونوں کا احادیث میں ذکر ہے اور آیات میں بھی۔ دیکھیے سورة مؤمن (45، 46)۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور میں پھونکا جائے گا تو اس دن ان کے درمیان نہ کوئی رشتے ہوں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔

فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ : نسب سے مراد وہ قرابت ہے جو ولادت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ”بَيْنَهُمْ“ سے مراد کفار ہیں، کیونکہ پیچھے انھی کا ذکر آ رہا ہے۔ عالم برزخ کے بعد جب قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو کفار کی باہمی تمام نسبی قرابتیں ختم ہوجائیں گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کسی کا باپ یا بیٹا یا بھائی نہیں رہے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس نسبی تعلق کی وجہ سے جو ایک دوسرے کی مدد ہوتی ہے، وہ نہیں ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ 34؀ۙوَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ 35؀ۙوَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ 36؀ۭلِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ) [ عبس : 34 تا 37 ] ”جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بےپروا بنا دے گی۔“ یہ حال مجرموں کا ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذٍۢ بِبَنِيْهِ 11 ۝ ۙوَصَاحِبَتِهٖ وَاَخِيْهِ 12 ۝ ۙوَفَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُـــــْٔوِيْهِ 13 ۝ ۙوَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ ثُمَّ يُنْجِيْهِ) [ المعارج : 11 تا 14 ] ”مجرم چاہے گا کاش کہ اس دن کے عذاب سے (بچنے کے لیے) فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو۔ اور اپنے خاندان کو، جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔ اور ان تمام لوگوں کو جو زمین میں ہیں، پھر اپنے آپ کو بچا لے۔“ یہ معاملہ صور پھونکنے کے وقت ہوگا۔ بعد میں بھی کفار کا حال یہی رہے گا۔ البتہ ایمان والوں کو ان کی نسبی قرابت کا فائدہ ہوگا اور دوستی کا بھی، جیسا کہ فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ) [ الطور : 21 ] ”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ۔ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔“ اور دوستی کے متعلق فرمایا : (اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ) [ الزخرف : 67 ] ”سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، مگر متقی لوگ۔“ وَّلَا يَتَسَاۗءَلُوْنَ : یہاں ایک سوال ہے کہ یہاں فرمایا کہ وہ ایک دوسرے سے سوال نہیں کریں گے، جب کہ دوسری جگہ فرمایا : (وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ) [ الصافآت : 27 ] ”اور ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔“ ایسا کیوں ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا دن ہے۔ اس میں مختلف مواقع اور مختلف حالتیں ہوں گی، کسی حالت میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور کسی میں نہیں کریں گے۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض نہیں۔
Ayahs 23:102–103

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پھر وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہوگئے تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا، جہنم ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

3 ان دونوں آیات میں قیامت کا ایک اور منظر بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے اعمال کا وزن۔ ”مَوَازِیْنُ“ کو جمع لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ میزان کئی قسم کے ہوں گے، ہر عمل کے لیے مخصوص ترازو ہوگا۔ ان دونوں آیات میں اہل ایمان کے لیے خوش خبری ہے اور مشرکین کے لیے وعید، کیونکہ اصل وزن ایمان کے ساتھ عمل صالح کا ہوگا، مشرکین کے عمل ویسے ہی باطل ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) [ الفرقان : 23 ] ”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔“ اور فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاۗىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا) [ الکہف : 105 ] ”یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے، سو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔“
Ayahs 23:104–105

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا میری آیتیں تم پر پڑھی نہ جاتی تھیں، تو تم انھیں جھٹلایا کرتے تھے ؟

ۚتَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ : چہرے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ انسان کا سب سے اہم اور باشرف حصہ ہے اور انسان سب سے زیادہ اسی کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، جب آگ اسے بھی جلا رہی ہوگی تو جسم کے دوسرے حصوں کا کیا حال ہوگا۔ وَهُمْ فِيْهَا كٰلِحُوْنَ : ”کَلَحَ“ کا معنی ہے کہ اوپر کا ہونٹ اوپر اٹھ جائے اور نیچے کا مزید نیچے ہوجائے اور دانت باہر نکل آئیں، جس سے چہرہ شدید تیوری والا، نہایت بدشکل اور ڈراؤنا ہوجائے، جیسے بکرے کی جلی ہوئی سری ہوتی ہے۔
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا : ”شِقْوَۃٌ“ بدبختی۔ ”الصحیح المسبور“ میں ہے کہ آدم بن ابی ایاس نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد کا قول نقل فرمایا ہے کہ آیت : (غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا) کا معنی ہے : ”اَلَّتِيْ کَتَبْتَ عَلَیْنَا“ یعنی ہم پر ہماری وہ بدبختی غالب آگئی جو تو نے ہم پر لکھی تھی۔ طبری نے بھی یہ قول نقل فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ ظالم اپنا عذر پیش کرتے ہوئے بھی سارا الزام اللہ تعالیٰ پر رکھیں گے، جیسا کہ شیطان نے بھی اپنی گمراہی کا الزام اللہ تعالیٰ کو دیا تھا۔ دیکھیے سورة اعراف (16)۔ وَكُنَّا قَوْمًا ضَاۗلِّيْنَ : ابن کثیر نے فرمایا : ”یعنی ہم پر حجت قائم ہوئی (اور ہم تک ہدایت کی بات پہنچی) لیکن ہم اس سے کہیں زیادہ بدبخت تھے کہ اس کے تابع ہوتے اور اس کی پیروی کرتے، سو ہم اس سے بھٹک گئے اور ہمیں ہدایت حاصل نہ ہوسکی۔“
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے۔

رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْهَا۔۔ : یہ مطالبہ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار کرچکے ہوں گے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (99)۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

فرمائے گا اس میں دور دفع رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

قَالَ اخْسَـُٔـوْا فِيْهَا۔۔ :”خَسَأَ یَخْسَأُ (منع) أَيْ ذَلَّ۔“ ”اخْسَـُٔـوْا“ ذلیل رہو، دفع دور رہو۔ یہ لفظ کتے وغیرہ کو دھتکارنے کے لیے بولا جاتا ہے، پھر اس کا استعمال ہر اس شخص کے لیے بھی ہونے لگا جسے حقیر اور ذلیل قرار دے کر دور دفع ہونے کے لیے کہا جائے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں دھتکارتے ہوئے فرمائیں گے کہ اسی جہنم میں ذلیل اور دور دفع رہو اور مجھ سے بات مت کرو۔ بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد ان کی زبانیں بند ہوجائیں گی اور یہ ان کا آخری کلام ہوگا، مگر انھی آیات میں آگے ان کی اللہ تعالیٰ سے گفتگو آرہی ہے : (قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ 112؁ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔـــلِ الْعَاۗدِّيْنَ) [ المؤمنون : 112، 113 ] ”فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے ؟ وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ایسی کوئی روایت صحیح نہیں۔ البتہ آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کی درخواست حقارت کے ساتھ رد کردی جائے گی۔
Ayah 23:109

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

بیشک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے، سو تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے۔

اِنَّهٗ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْ عِبَادِيْ۔۔ : ”فَرِيْقٌ“ کے لفظ سے معلوم ہوا کہ اللہ کے وہ بندے کفار اور ان کے عقیدہ و عمل سے یکسر الگ گروہ تھے۔ مقصود اس کلام سے کفار کو دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ ان کے سلوک کی اور اہل ایمان کی موجودہ حالت کی خبر دے کر حسرت و افسوس دلانا ہے۔ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا : ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا : (أَيُّ أَفْضَلُ ؟ قَالَ إِیْمَانٌ باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ) [ بخاري، الإیمان، باب من قال إن الإیمان ھو العمل : 26 ]”کون سا عمل افضل ہے ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“ یعنی میرے بندوں میں سے ایک گروہ کے لوگ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لانے کے عمل کا وسیلہ پیش کرکے مجھ سے دعا کیا کرتے تھے۔ اس سے دعا کے وقت اپنے کسی خالص عمل کا وسیلہ پیش کرنا ثابت ہوا۔ دیکھیے (اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ) کی تفسیر اور آل عمران کی آیت (193) کی تفسیر۔ فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا : ”غَفَرَ“ کا معنی پردہ ڈالنا ہے۔ ”اَلْمِغْفَرُ“ خَود کو کہتے ہیں، جو لوہے کا ہوتا ہے اور دشمن کی ضرب سے پردے کا کام دیتا ہے، یعنی اے ہمارے رب ! ہم تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائے ہیں، اس لیے تو ہمارے گناہوں اور لغزشوں پر پردہ ڈال، ایسا پردہ کہ کراماً کاتبین کے دفتر میں بھی نظر نہ آئے اور ہم پر رحم کر۔ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : یہاں بقاعی ؓ نے واؤ عطف کا نکتہ بیان فرمایا ہے (اور انھوں نے تقریباً ہر ایسی جگہ مقام کے مطابق کوئی نکتہ بیان فرمایا ہے، جو صاحب ذوق حضرات کے لیے نہایت پر لطف ہے) وہ کہتے ہیں کہ واؤ کا مطلب یہ ہے کہ ”وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ“ سے پہلے ایک جملہ ہے جس پر ”وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ“ کا عطف ہے۔ ’ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ 3“ کی مناسبت سے پورا کلام اس طرح ہے : ”فَأَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ وَ أَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ۔“ واؤ عطف سے چونکہ بات واضح ہو رہی ہے، اس لیے ”أَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ“ کو حذف کردیا، کیونکہ مسلمہ قاعدہ ہے : ”خَیْرُ الْکَلَامِ مَا قَلَّ وَ دَلَّ“ کہ بہترین کلام وہ ہے جس میں الفاظ کم ہوں اور وہ مدلل ہو۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے انھیں مذاق بنالیا، یہاں تک کہ انھوں نے تم کو میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِيًّا۔۔ : ”حَتّٰٓي اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِيْ“ کا لفظی معنی یہ ہے کہ انھوں نے تمہیں میری یاد بھلا دی۔ یعنی تم ان کے پیچھے ایسے ہاتھ دھو کر پڑے اور ان کا اس قدر مذاق اڑاتے رہے کہ گویا وہ تمہیں میری یاد بھلانے کا سبب بن گئے۔ (شوکانی) وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ : دیکھیے سورة مطففین (29 تا 36)۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

بیشک میں نے انھیں آج اس کے بدلے جو انھوں نے صبر کیا، یہ جزا دی ہے کہ بیشک وہی کامیاب ہیں۔

اِنِّىْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ۔۔ : دنیا میں اہل ایمان کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ دین پر عمل کرتے ہیں تو دین سے جاہل اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق اور ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں جو ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام الٰہی پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جیسے مشرکانہ رسوم سے کنارہ کشی اور ان کا رد ہے، ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ اور موت وغیرہ کی ہندوانہ رسوم سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھی کو کامیابی سے سرفراز فرمائے گا۔ یا اللہ ! تو ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین) سورة مطففین کی آیات (29 تا 36) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے ؟

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ : کفار قیامت کا انکار کرتے تھے اور دنیا کی زندگی کے علاوہ کسی زندگی کو نہیں مانتے تھے۔ ان کے خیال میں مٹی اور ہڈیاں ہوجانے کے بعد زندہ ہونا ممکن نہ تھا، اس لیے انھوں نے دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھا، اسے آخرت پر ترجیح دی اور اسے اس طرح گزارا جیسے انھیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، حالانکہ یہ تھوڑا سا وقت غنیمت جان کر اگر آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتے اور اسے اللہ کی فرماں برداری میں گزارتے تو اس کے صلے میں ہمیشہ ہمیشہ جنت کی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کے مالک بنتے۔ لیکن انھوں نے یہ تھوڑا سا وقت بہت لمبا زمانہ سمجھ کر اللہ کی نافرمانی میں گزارا تو اس کے بدلے میں ہمیشہ ہمیشہ جہنم کے مستحق ٹھہرے۔ قیامت کے دن جب وہ اس عذاب میں مبتلا ہوں گے جو ختم ہونے والا ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ انھیں اس زندگی کی حقیقت یاد دلانے کے لیے، جسے وہ سبھی کچھ سمجھتے تھے، ان سے سوال کریں گے کہ تم زمین میں کتنے سال رہے ہو ؟
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، سو شمار کرنے والوں سے پوچھ لے۔

قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ۔۔ : وہ جواب میں کہیں گے کہ ہم وہاں ایک دن یا اس کا کچھ حصہ رہے ہیں۔ گویا وہ عذاب کی مصیبت میں ایسے پھنسے ہوں گے کہ انھیں اچھی طرح وہ عرصہ بھی یاد نہیں رہے گا جو انھوں نے دنیا میں گزارا، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں یہ کہہ کر کہ ہم نے وہاں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ گزارا ہے، یہ کہیں گے کہ ہمیں تو وہ مدت اچھی طرح یاد نہیں، اس لیے آپ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیں، جنھوں نے ہماری زندگی کے ایک ایک سانس کے عمل کو شمار کر رکھا ہے۔ مراد فرشتے ہیں۔ 3 انھیں دنیا کی زندگی اتنی مختصر کیوں دکھائی دے گی، اس لیے کہ گزرا ہوا وقت ایسے ہی دکھائی دیتا ہے اور اس لیے کہ جو ختم ہوجائے وہ باقی رہنے والے کے مقابلے میں کالعدم ہوتا ہے اور اس لیے کہ جہنم کے ایک غوطے کے بعد ہی انھیں یہ محسوس ہوگا کہ انھوں نے کبھی راحت و آرام دیکھا ہی نہیں۔ [ دیکھیے مسلم : 2807 ]
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

فرمائے گا تم نہیں رہے مگر تھوڑا ہی، کاش کہ واقعی تم جانتے ہوتے۔

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا۔۔ : اللہ تعالیٰ ان کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ واقعی تم دنیا میں بہت تھوڑا ٹھہرے ہو، کیونکہ دنیا اور اس کا سازو سامان فانی ہونے کی وجہ سے ہے ہی بہت تھوڑا، جیسا کہ فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَالْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۣ) [ النساء : 77 ] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت اس کے لیے بہتر ہے جو متقی ہے۔“ مگر اب اس اعتراف کا کچھ فائدہ نہیں، کاش ! تم اس وقت یہ جانتے ہوتے تو اس مختصر سے وقت میں اپنے مالک کی فرماں برداری کر کے ہمیشہ کی جنتوں کے وارث بن جاتے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

تو کیا تم نے گمان کرلیا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد ہی پیدا کیا ہے اور یہ کہ بیشک تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا۔۔ : یعنی پھر کیا تم نے سمجھ رکھا تھا کہ ہم اس دنیا میں عیش کرنے اور مزے لوٹنے ہی کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ (دیکھیے قیامہ : 36) تم نے دیکھا کہ اس دنیا میں نہ ظالموں کو ان کے ظلم کا پورا بدلا ملتا ہے، نہ اپنے خیال میں نیک اعمال کرنے والوں کو ان کی نیکی کا بدلا ملتا ہے اور نہ کوئی انسان دوبارہ زندہ ہو کر آیا جو تمہیں بتاتا کہ اچھے اعمال والوں کو ان کی جزا اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ملی ہے۔ لہٰذا تم نے یقین کرلیا کہ یہی دنیا ہی دنیا ہے، جس قدر ہو سکے یہاں عیش و عشرت کا سامان جمع کرلو۔ اس کے سوا زندگی کا کوئی مقصد نہیں، نہ ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے، نہ کسی کے سامنے پیش ہونا ہے، حالانکہ اگر تم اس کائنات کے نظام عدل میں ذرا بھی غور کرتے، یا رسول کی بات پر یقین کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ اس کائنات اور اس میں انسان کو محض کھیل تماشے کے طور پر اور بےمقصد نہیں بنایا گیا، بلکہ ہر کام کا ایک نتیجہ ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تمہارے اچھے اور برے اعمال کا کوئی نتیجہ نہ نکلے اور چونکہ دنیا کی زندگی اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لیے بہت تھوڑی ہے، اس لیے مرنے کے بعد ہم نے ہمیشہ کی زندگی رکھی ہے، تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس بہت بلند ہے اللہ، جو سچا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عزت والے عرش کا رب ہے۔

فَتَعٰلَى اللّٰهُ۔۔ : ”تَعَالٰی“ ”عَلَا یَعْلُوْ“ (ن) سے باب تفاعل ہے، جس میں مبالغہ ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”پس بہت بلند ہے اللہ“ یعنی اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ تمہیں بےکار اور بےمقصد پیدا کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان فرمائیں، جن میں سے ہر صفت کا تقاضا ہے کہ وہ کوئی کام عبث اور بےمقصد نہ کرے۔ الْمَلِكُ الْحَقُّ : پہلی صفت یہ ہے کہ وہ سچا بادشاہ ہے، اس کی بادشاہی حق اور ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ دوسرے بادشاہ نہ اپنی بادشاہی کے حقیقی مالک ہیں اور نہ ان کی بادشاہی حق اور باقی رہنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ) [ آل عمران : 26 ] ”کہہ دے اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔“ جب کوئی عقل مند آدمی بےمقصد کام نہیں کرتا تو سچا بادشاہ جو ساری کائنات کا اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے، اس کے متعلق تم نے کیسے گمان کرلیا کہ اس نے تمہیں عبث اور بےمقصد پیدا کردیا ہے ؟ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ : یہ دوسری صفت ہے، جس میں پیدا کرنے کی حکمت کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یعنی صرف یہی نہیں کہ وہ بادشاہی میں یکتا ہے، بلکہ اس کے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں، عبادت صرف اسی کا حق ہے، کس قدر نادان ہو کہ اس وحدہ لا شریک لہ معبود نے تمہیں اپنی توحید اور عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور تم نے گمان کرلیا کہ ہمیں پیدا کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں۔ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عرش کا معنی تخت ہے۔ کسی چیز کے کریم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی جنس کی اشیاء کی تمام خوبیاں اور کمالات موجود ہوں اور وہ ان سب سے بلند اور باشرف ہو، جیسے فرمایا : (اِنِّىْٓ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ) [ النمل : 29 ] ”بیشک میری طرف ایک عزت والا خط پھینکا گیا ہے۔“ اور فرمایا : (وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ) [ الدخان : 26 ] ”اور کھیتیاں اور عمدہ مقام۔“ اور فرمایا : (كَمْ اَنْۢبَـتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ) [ الشعراء : 7 ] ”ہم نے اس میں کتنی چیزیں ہر عمدہ قسم میں سے اگائی ہیں۔“ اور فرمایا : (وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا) [ بني إسرائیل : 23 ] ”اور ان سے بہت کرم والی بات کہہ۔“ (ابن عاشور و راغب) اس آیت میں یہ اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت ہے کہ وہ کائنات کی سب سے بڑی مخلوق عرش الٰہی کا مالک ہے، جو زمین و آسمان اور اس میں موجود ساری مخلوق کو محیط ہے اور سب سے بلند ہے، تو وہ باقی مخلوقات کا مالک کیوں نہ ہوگا۔ 3 عرش الٰہی کو کریم (عزت و شرف والا) اس لیے فرمایا کہ کسی جگہ کی عزت اس کے رہنے والے کی وجہ سے ہوتی ہے، جیسے کہتے ہیں ”فُلَانٌ مِنْ بَیْتٍ کَرِیْمٍ“ کہ فلاں شخص باعزت گھر کا فرد ہے۔ کیونکہ اس گھر کے رہنے والے معزز ہوتے ہیں۔ عرش کی سب سے بڑی عزت اور اس کا سب سے بڑا شرف یہ ہے کہ اس پر رب کریم مستوی ہے اور اس عرش ہی سے تمام احکامات اور ساری رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ 3 پورے قرآن مجید میں ”ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ“ اسی مقام پر آیا ہے۔ ”ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ“ دو جگہ آیا ہے، سورة توبہ (129) اور نمل (26) میں۔ یہاں عرش کی صفت کریم اس لیے آئی ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے عیب سے منزہ ہونے اور دنیا اور آخرت میں اس کی صفت عدل کا بیان مقصود ہے، جب کہ سورة توبہ اور نمل میں اس کی صفت قہر و جبروت کا بیان مقصود ہے۔ (بقاعی)
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بیشک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔

وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ۔۔ :”جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے“ کے بعد ”جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں“ کا یہ مطلب نہیں کہ کسی دوسرے ایسے معبود کو پکارنا جائز ہے جس کی کوئی دلیل کسی کے پاس موجود ہو۔ بلکہ یہ جملہ معترضہ ہے، جس کا مقصد اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنے کی کوئی دلیل ہے ہی نہیں، نہ عقلی، نہ نقلی۔ (دیکھیے احقاف : 4) یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ جو شخص کسی پر ظلم کرے، جس کا اسے کوئی حق نہیں تو وہ اس کا بدلا پائے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ایسا ظلم بھی ہوتا ہے جس کا کسی کو حق حاصل ہے، بلکہ مقصد ظلم کی برائی بیان کرنا ہے کہ ظلم کا حق کسی کو بھی نہیں۔ 3 رازی نے اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ غور و فکر کے بعد دلیل پر عمل کرنا حق ہے اور تقلید (بلا دلیل کسی بات کو لے لینا) باطل ہے۔ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ : یعنی اس کا یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ اس کی سزا کا کوئی شخص حساب نہیں کرسکتا، نہ اندازہ کرسکتا ہے۔ اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے اور وہی اس کی سزا جانتا ہے۔ لوگوں کو اس نے صرف اتنا بتایا ہے کہ میں یہ جرم کسی صورت بھی معاف نہیں کروں گا، اس کے سوا جو بھی گناہ ہے، جسے چاہوں گا بخش دوں گا۔ (دیکھیے نساء : 48، 116) اور اس میں رسول اللہ ﷺ کو بھی تسلی ہے کہ آپ کا کام پیغام پہنچانا ہے، حساب لینا ہمارا کام ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) [ الرعد : 40 ] ”تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ : ”إِنَّ“ کے بعد ضمیر ”ہٗ“ پیچھے کسی لفظ کی طرف نہیں لوٹتی، اسے ضمیر شان کہتے ہیں۔ یہ کسی بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”بیشک حقیقت یہ ہے کہ۔“ ”کافر فلاح نہیں پائیں گے“ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنے والے کافر ہیں اور کافر فلاح نہیں پائیں گے۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور تو کہہ اے میرے رب ! بخش دے اور رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔

سورت کی ابتدا ان لوگوں کے ذکر سے ہوئی تھی جو فلاح پانے والے ہیں اور اختتام ان لوگوں کے ذکر سے ہو رہا ہے جو فلاح نہیں پائیں گے۔ وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ۔۔ : اس سے پہلے آیت (109) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کامیاب ہونے والے بندوں کی ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ یہ دعا ”رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ“ کرتے ہیں اور سورت کے آخر میں انھی بندوں کی طرح کفار و مشرکین سے کٹ کر اپنے رب کی مغفرت اور رحمت کے دامن میں پناہ لینے کا حکم دیا۔ وہ تمام دعائیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لفظ ”قُلْ“ کے ساتھ حکم دیا ہے، نہایت جامع دعائیں ہیں اور عجیب و غریب اسرار رکھتی ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرنے کا حکم ہے، جن کے پہلے پچھلے تمام گناہ اللہ نے معاف فرما دیے (دیکھیے فتح : 2) تو امت کو تو بدرجۂ اولیٰ یہ دعا کرنے کا حکم ہے۔ 3 ابن کثیر نے فرمایا : ”اَلْغَفْرُ“ کا لفظ جب مطلق آئے تو اس کا معنی گناہ کو مٹانا اور لوگوں کے سامنے اس پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے اور ”رحمت“ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اقوال و افعال میں سیدھا رکھے اور اپنی توفیق خاص سے نوازے۔ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : یہ مختصر جملہ ہے، مکمل جملہ یوں ہے : ”رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ فَأَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ وَ أَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ“ اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے آیت (109) کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ سب رحم کرنے والوں سے بہتر اس لیے ہے کہ دوسرے سب رحم کرنے والے اسی کا عطا کردہ رحم کرتے ہیں اور وہ بھی اس کی رحمت کے سویں حصے میں سے اپنے حصے میں آنے والے رحم سے۔ 3 ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : ”مجھے ایسی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کروں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا، یوں کہو : (اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْلِيْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِيْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ) [ بخاري، الأذان، باب الدعاء قبل السلام : 834 ] ”اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، بہت زیادہ ظلم اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا، سو مجھے بخش دے، عظیم بخشش اپنے پاس سے اور مجھ پر رحم کر، کیونکہ تو ہی غفور و رحیم ہے۔“