Ayah 22:23ۧاِنَّ اللّٰهَ يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : ”يُحَلَّوْنَ“ ”حَلَّی یُحَلِّيْ تَحْلِیَۃً“ (تفعیل) سے مضارع مجہول ہے۔ اسی سے ”حِلْیَۃٌ“ بمعنی زیور ہے۔ ”اَسَاوِرَ“ ”أَسْوِرَۃٌ“ کی جمع ہے جو خود ”سِوَارٌ“ کی جمع ہے۔ جمع الجمع ان کنگنوں کی کثرت اور حسن و خوبی کے بیان کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ ”مِنْ اَسَاوِرَ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ کنگن سونے اور موتیوں کے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو تم نہیں جانتے، جیسا کہ فرمایا : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ) [ السجدۃ : 17 ] ”پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ توحید ربانی کے بارے میں باہمی معرکہ آرا گروہوں میں سے ”الَّذِيْنَ كَفَرُوْا“ کے عذاب کے ذکر کے بعد ”الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ کے ثواب کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابتدا اس کی حرف تاکید ”اِنَّ“ سے ہے اور کفار کے ہر عذاب کے مقابلے میں اہل ایمان کے لیے کسی نہ کسی نعمت کا ذکر ہے۔ چناچہ ”يُدْخِلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا“ ، ”كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا“ کے مقابلے میں ہے۔ ”تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ“ ، ”يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِيْم“ کے مقابلے میں ہے۔ ”وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ“ ، ”قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ“ کے مقابلے میں ہے۔ ”يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ“ ، ”وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ“ کے مقابلے میں ہے اور ”هُدُوْٓا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ“ ، ”ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ“ کے مقابلے میں ہے، کیونکہ جنتیوں کے لیے طیب بات ”سلام“ ہے تو جہنمیوں کے لیے بری بات ”جلنے کا عذاب چکھو“ ہے۔
اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا : عورتوں کے لیے سونے اور موتیوں کے زیور تو معروف بات ہے، رہے مرد تو گزشتہ زمانے میں بادشاہ اور بڑے بڑے رئیس زینت اور اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے کنگن اور موتی پہنا کرتے تھے۔ اس آیت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں شاہانہ لباس پہنایا جائے گا۔ مزید دیکھیے سورة کہف (31)۔
وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْر : ”حَرِيْرٌ“ سے مراد خالص ریشم ہے، جس کا استعمال مردوں کے لیے دنیا میں حرام ہے۔ انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ لَبِسَ الْحَرِیْرَ فِی الدُّنْیَا فَلَنْ یَلْبَسَہُ فِی الْآخِرَۃِ) [ بخاري، اللباس، باب لبس الحریر للرجال۔۔ : 5832۔ مسلم : 73]”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں ہرگز نہیں پہنے گا۔“
Ayah 22:24وَهُدُوْٓا اِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ : یعنی دنیا میں انھیں پاکیزہ بات کلمۂ توحید ”لا الٰہ الا اللہ“ کی ہدایت عطا ہوئی اور انھیں تمام تعریفوں والے پروردگار کے راستے اسلام کی ہدایت ملی۔ اسی طرح آخرت میں انھیں اس مقام کی طرف لے جایا جائے گا جہاں وہ پاکیزہ کلام ہی سنیں گے، کوئی لغو یا گناہ کی بات کان میں نہیں پڑے گی۔ نہ جھگڑا ہوگا اور نہ کوئی بک بک، ہر طرف سے سلام کی آواز آئے گی، فرمایا : (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙاِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا) [ الواقعۃ : 25، 26 ] ”وہ اس میں نہ بےہودہ گفتگو سنیں گے اور نہ گناہ میں ڈالنے والی بات، مگر یہ کہنا کہ سلام ہے، سلام ہے۔“ سلام کے علاوہ اللہ کی حمدہو گی اور اس کی تسبیح۔ دیکھیے سورة فاطر (33 تا 35) اور زمر (73، 74)۔
وَهُدُوْٓا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ : اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اہل جنت کو یہ سعادت حمد الٰہی کی وجہ سے حاصل ہوگی، فرمایا : (دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ) [ یونس : 10 ] ”ان کی دعا ان میں یہ ہوگی ”پاک ہے تو اے اللہ !“ اور ان کی آپس کی دعا ان (باغات) میں سلام ہوگی اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
Ayah 22:25اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ : ابن عاشور ؓ نے فرمایا کہ یہ ”هُدُوْٓا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِيْدِ“ کے مقابلے میں ہے کہ اہل ایمان کو اللہ (اَلْحَمِیْد) کے راستے کی ہدایت عطا ہوئی، جب کہ کفار کا یہ حال ہے کہ وہ خود بھی راہ ہدایت اختیار کرنے کا انکار کرچکے ہیں اور لوگوں کو بھی اللہ کے راستے (اسلام) اور مسجد حرام سے مسلسل روک رہے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ مومنوں کے لیے جنت اور کافروں کے لیے عذاب الیم ہے۔ ”كَفَرُوْا“ ماضی ہے اور ”َيَصُدُّوْنَ“ مضارع، یعنی وہ کافر تو گزشتہ زمانے سے ہوچکے، البتہ ان کا لوگوں کو اسلام سے اور مسجد حرام سے روکنے کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ماضی پر مضارع کے عطف کی ایک اور مثال اس آیت میں ہے : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ) [ الرعد : 28 ] کفار مسلمانوں کو ہجرت سے پہلے بھی مسجد حرام میں آنے، نماز پڑھنے اور طواف کرنے سے روکتے تھے، (علق : 9، 10) اور ہجرت کے بعد بھی جب وہ سن 6 ہجری میں عمرہ کرنے کے لیے آئے تو کفار نے انھیں عمرہ کرنے سے منع کردیا۔ دیکھیے سورة فتح (25، 26) اور بقرہ (217) نتیجہ یہ کہ اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے کفار عذاب الیم کے حق دار ٹھہرے جب کہ مسلمان اللہ کے راستے (صِرَاطِ الْحَمِيْدِ) پر چلنے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے۔
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰهُ للنَّاسِ۔۔ : اگرچہ اللہ کے راستے سے روکنے میں مسجد حرام سے روکنا بھی شامل تھا مگر اسے علیحدہ ذکر فرمایا۔ مقصود مسجد حرام کی عظمت کو نمایاں کرنا ہے اور اس مناسبت سے اس کی تعمیر، حج کی ابتدا، طواف اور دوسرے چند احکام، پھر قربانی، اس کی حکمت اور اہمیت کی طرف منتقل ہونا ہے۔
”اَلعَاکِفُ“ کا لفظی معنی ”اپنے آپ کو روک کر رکھنے والا“ ہے اور مراد مکہ کا باشندہ ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں ”الْبَاد“ آ رہا ہے، یعنی ”بادیہ“ (باہر) سے آنے والا۔ کفار کے ظلم کا بیان ہے کہ وہ اس مسجد سے لوگوں کو روکتے ہیں جس میں عبادت، طواف، عمرہ اور حج کے لیے آنا سب لوگوں کا برابر حق ہے، خواہ مکہ کے رہائشی ہوں یا باہر سے آنے والے۔ جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَا بَنِيْ عَبْدِ مَنَافٍ ! لَا تَمْنَعُوْا أَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَصَلَّی أَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَاءَ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَھَارٍ) [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في الصلاۃ بعد العصر۔۔ : 868 ] ”اے بنی عبد مناف ! کسی شخص کو مت روکو جو رات یا دن کی کسی گھڑی میں اس گھر کا طواف کرنا چاہے یا (اس میں) نماز پڑھنا چاہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام میں نماز کے ممنوعہ اوقات میں بھی نماز اور طواف جائز ہے۔
3 تیسیر القرآن میں ہے کہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے حقوق ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ اور باہر سے آنے والے لوگوں کو برابر کے حصے دار قرار دیا ہے اور آیا ان حقوق کا اور ان کی برابری کا تعلق صرف بیت الحرام یا کعبہ سے ہے یا پورے حرم مکہ سے ؟ جہاں تک صرف بیت اللہ کا تعلق ہے اور اس میں نماز، طواف اور ارکان حج بجا لانے کا تعلق ہے تو اس میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات کے اس حق عبادت میں کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ اہل مکہ کو قطعاً یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ بیرونی حضرات کو حرم میں داخل ہونے، نمازیں ادا کرنے، طواف کرنے یا ارکان حج و عمرہ بجا لانے سے روکیں، کیونکہ اس حق میں اہل مکہ اور بیرونی حضرات سب برابر کے حصے دار ہیں۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس حق کا تعلق پورے حرم مکہ سے بھی ہے یا نہیں ؟ یعنی کیا پورے حرم مکہ کے دروازے باہر سے آنے والے حضرات کے لیے کھلے رہنے چاہییں کہ وہ جب چاہیں حرم مکہ کے اندر موجود جس جگہ چاہیں آ کر ڈیرے ڈال دیں اور رہیں سہیں اور ان سے کوئی کرایہ وغیرہ بھی وصول نہ کیا جائے ؟ اس اختلاف کی دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ ارکان حج میں سے بیشتر کا تعلق صرف بیت اللہ سے نہیں بلکہ حرم مکہ سے ہے۔ صفا، مروہ، منیٰ ، مزدلفہ، مشعر حرام سب بیت اللہ کی حدود سے باہر ہیں، جب کہ حرم مکہ میں داخل ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض مقامات پر مسجد حرام کا ذکر کرکے اس سے حرم مکہ مراد لیا ہے، مثلاً ارشاد باری ہے : (ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) [ البقرۃ : 196] ”یہ (رعایت) اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔“ اور یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی شخص مسجد حرام کے اندر رہائش پذیر نہیں ہوتا، یہاں لازماً مسجد حرام سے مراد حرم مکہ ہی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا : وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰه) [ البقرۃ : 217 ] ”اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک (ماہ حرام میں جنگ کرنے سے) زیادہ بڑا ہے۔“
پھر اس سے اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرم میں زمین اور مکان کی خریدو فروخت اور اس سے آگے ان کی ملکیت و وراثت بھی جائز ہے یا نہیں ؟ تو یہ بات تو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اسلام سے پہلے مکہ کے مکانات اور زمینوں پر لوگوں کے ملکیت و وراثت اور بیچنے اور کرایہ پر دینے کے حقوق قائم تھے جو اسلام کے بعد بھی قائم رہے، اسلام نے انھیں منسوخ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد عقیل نے آپ ﷺ کے مکان پر قبضہ کرلیا، پھر اسے بیچ بھی دیا، چناچہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کہاں قیام فرمائیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (وَھَلْ تَرَکَ عَقِیْلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُوْرٍ) [ بخاري، الحج، باب توریث دور مکۃ و بیعہا و شراۂ ا۔۔ : 1588 ] ”کیا عقیل نے ہمارا کوئی مکان چھوڑا بھی ہے (جس میں ہم رہیں) ؟“ نیز عمر ؓ کے زمانے میں نافع بن عبد الحارث نے مکہ میں صفوان بن امیہ سے ایک گھر جیل خانہ بنانے کے لیے اس شرط پر خریدا کہ اگر عمر ؓ اس خریداری کو منظور کریں گے تو بیع پوری ہوگی، بصورت دیگر صفوان کو چار سو دینار مل جائیں گے۔ [ بخاري، في الخصومات، باب الربط والحبس في الحرم، قبل ح : 2423 ] اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم میں مکانوں کی خریدو فروخت جائز ہے (وہ چار سو دینار عمر ؓ کا حکم آنے تک کے عرصے کا کرایہ شمار ہوں گے یا اتنی دیر تک فروخت سے روک رکھنے کا زر تلافی)۔ کچھ حضرات نے بخاری کی صحیح روایات کے مقابلے میں ضعیف روایات کے ساتھ مکہ کے مکانات کی خریدو فروخت اور انھیں کرایہ پر دینے کو حرام ٹھہرایا ہے، ان روایات میں سے ایک بھی صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں، کوئی منقطع ہے، کوئی مرسل اور کسی میں کوئی راوی ضعیف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی کے قول سے دین کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مکہ کے مکانوں کا کرایہ نہ لینا مستحب ہے، تاہم اس کے جواز سے انکار مشکل ہے اور امام بخاری ؓ کا اپنا موقف یہ ہے کہ حرم مکہ میں مکانوں کی خریدو فروخت اور وراثت وغیرہ جائز ہے، جیسا کہ عنوان ”بَابُ تَوْرِیْثِ دُوْرٍ مَکَّۃَ وَ بَیْعِھَا وَ شَرَاءِھَا“ (اس بات کا بیان کہ مکہ میں موجود مکانات میراث ہوسکتے ہیں اور ان کی خریدو فروخت جائز ہے) سے معلوم ہو رہا ہے۔rnۭ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍۢ۔۔ : ”اِلْحَادٌ“ سیدھے راستے سے ہٹ جانا۔ ظلم کا لفظ عام ہے جس میں سب سے پہلے کفر و شرک آتا ہے، پھر کوئی بھی کام کرنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، یا کوئی کام ترک کرنا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اس میں بدعت بھی شامل ہے اور گناہ کا کوئی اور کام بھی، مثلاً حرم کی حرمت کا خیال نہ رکھنا، یعنی حرم کے جانوروں کو ذبح کرنا، اس کے درختوں کو کاٹنا، کسی کی گم شدہ چیز اٹھانا، الا یہ کہ اسے استعمال نہ کرے اور اس کا اعلان ہمیشہ کرتا رہے، اس میں ذخیرہ اندوزی کرنا۔ غرض دوسری جگہوں میں ٹیڑھی راہ اختیار کرنا عذاب الیم کا باعث ہے مگر حرم مکہ میں اس کا ارادہ بھی عذاب الیم کا باعث ہے۔
Ayah 22:26ۧوَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ : ”بَوَّاْنَا“ (تَفْعِیْل) جگہ دینا، جگہ مقرر کرنا، یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے بیت اللہ کی جگہ متعین کی۔ بیت اللہ اس سے پہلے تعمیر ہوچکا تھا، بلکہ زمین پر اللہ کا سب سے پہلا گھر یہی تھا اور ظاہر ہے کہ ابراہیم ؑ سے بہت پہلے آدم ؑ اور دوسرے انبیاء ؑ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ بیت اللہ کی پہلی تعمیر آدم ؑ نے کی یا اس سے پہلے فرشتوں نے اسے تعمیر کیا تھا۔ ایک ٹیلے پر اس کی بنیادیں موجود تھیں جس پر ابراہیم اور اسماعیل ؑ نے کعبہ کی عمارت تعمیر فرمائی۔ صحیح بخاری میں ابن عباس ؓ کی لمبی حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ ابراہیم ؑ سے پہلے ایک اونچی جگہ تعمیر ہوا تھا۔ چناچہ اس حدیث میں زمزم کے نمودار ہونے کے بعد فرشتے کے ام اسماعیل ؑ کو تسلی دینے کا ذکر ہے : (فَقَالَ لَھَا الْمَلَکُ لاَ تَخَافُوا الضَّیْعَۃَ فَإِنَّ ھٰھُنَا بَیْتَ اللّٰہِ ، یَبْنِيْ ھٰذَا الْغُلَامُ وَ أَبُوْہُ وَ إِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ أَھْلَہُ وَ کَانَ الْبَیْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الْأَرْضِ کَالرَّابِیَۃِ تَأْتِیْہِ السُّیُوْلُ فَتَأْخُذُ عَنْ یَّمِیْنِہِ وَ عَنْ شِمَالِہِ فَکَانَتْ کَذٰلِکَ حَتّٰی مَرَّتْ بِھِمْ رُفْقَۃٌ مِنْ جُرْھُمَ) [ بخاري، الأنبیاء، باب (یزفون): 3364 ] ”تو فرشتے نے اس سے کہا، تم ضائع ہونے سے مت ڈرو، کیونکہ یہاں اللہ کا گھر ہے، یہ لڑکا اور اس کا باپ اسے بنائے گا اور اللہ اس کے رہنے والوں کو ضائع نہیں کرے گا۔ بیت اللہ زمین سے ٹیلے کی طرح بلند تھا، سیلاب آتے اور اس کے دائیں بائیں طرف ہوجاتے۔ ام اسماعیل ایسے ہی رہیں، حتیٰ کہ جرہم قبیلے کے کچھ لوگ ان کے پاس سے گزرے۔“ اس حدیث کے آخر میں بیت اللہ کی تعمیر کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زمزم کے نمودار ہونے کے وقت بھی ایک ٹیلے پر بیت اللہ موجود تھا مگر اس کی از سر نو تعمیر اسماعیل ؑ کے جوان ہونے پر ابراہیم اور اسماعیل ؑ نے کی۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (127) کی تفسیر۔
اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا۔۔ : ”الرُّكَّعِ“ ”رَاکِعٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”سُجَّدٌ“ ہے۔ ”السُّجُوْد“ ”سَاجِدٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”رَاقِدٌ“ اور ”جَالِسٌ“ کی جمع ”رُقُوْدٌ“ اور ”جُلُوْسٌ“ ہے۔ طواف کا معنی کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا ہے۔ یعنی اس گھر کی بنیاد خالص توحید پر رکھو، ہر شخص یہاں آ کر صرف اللہ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ مگر کفار مکہ نے اس کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھ دیے جن کا وہ طواف کرتے تھے، اب بھی کئی مسلمان کہلانے والے قبروں اور آستانوں کا طواف کرتے ہیں، حالانکہ طواف اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ایک گھر کا رکھا ہے، جسے کعبۃ اللہ کہتے ہیں، اس کے سوا کسی جگہ کا یا شخص کا طواف جائز نہیں۔ کعبہ کو ”بَيْتِيَ“ (میرا گھر) کہنے میں اس کی جو شان بیان ہوئی ہے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔ یعنی بیت اللہ کی تعمیر کے ساتھ ابراہیم ؑ کو حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور میرے گھر کو طواف، قیام، سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔ بیت اللہ کو صاف ستھرا رکھنے سے مراد عام صفائی کے علاوہ شرک و بت پرستی سے پاک صاف رکھنا ہے۔ اس سے مشرکین کو عار دلانا مقصود ہے کہ یہ شرط تو ابراہیم ؑ کے وقت سے چلی آتی ہے کہ اس میں بت پرستی حرام ہے۔ نیز دیکھیے سورة بقرہ (125) کی تفسیر۔
Ayah 22:27وَاَذِّنْ فِي النَّاس بالْحَجِّ۔۔ : حج کا لفظی معنی قصد ہے، مراد اللہ کے گھر کا قصد ہے، اس نیت سے کہ وہ قولی، بدنی اور مالی عبادات ادا کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے یہاں مقرر فرمائی ہیں۔ ”رِجَالًا“ ”رَاجِلٌ“ کی جمع ہے، جیسے ”نَاءِمٌ“ کی جمع ”نِیَامٌ“ ہے، یعنی پیدل چلنے والے۔ ”ضَامِرٍ“ سواری کا وہ جانور جسے چارے کی قلت اور سفر نے تھکا کر دبلا کردیا ہو۔ ”فَجٍّ“ دو پہاڑوں کے درمیان کھلے راستے کو کہتے ہیں، مکہ کے راستے میں اکثر پہاڑوں سے گزر ہوتا ہے، اس لیے اس کے راستوں کو ”فَجٍّ“ کہہ دیا ہے۔ ”عَمِيْقٍ“ کا لفظی معنی گہرا ہے، مراد دور کا سفر ہے، دور کی مسافت کو کنویں کی گہرائی سے مشابہت دی ہے۔ پنجابی میں اسے ”ڈونگھے پینڈے“ کہتے ہیں۔
3 حج کے اعلان سے پہلے اپنے گھر کو طواف، قیام، رکوع اور سجدہ کرنے کے لیے آنے والوں کی خاطر پاک صاف کرنے کا حکم دیا۔ معلوم ہوا مہمانوں کی آمد سے پہلے گھر کی صفائی ہونی چاہیے۔
3 اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو کعبہ کی تعمیر کے بعد حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کرو، وہ تمہارے پاس پیدل اور ان بیشمار سواریوں پر سوار ہو کر آئیں گے، جو بہت گہرے اور دور دراز راستوں کو طے کرتی ہوئی آئیں گی اور سفر کی دوری کی وجہ سے لاغر ہوچکی ہوں گی۔ ”كُلِّ ضَامِرٍ“ سے مراد لاغر سواریوں کی کثرت ہے، کیونکہ ہر لاغر سواری تو مکہ نہیں جاتی۔ عربی میں ”کُلٌّ“ کا لفظ کثرت کے لیے بھی آتا ہے، جیسا کہ عنترہ کے ان شعروں میں ”کُلٌّ“ کا لفظ تین دفعہ کثرت کے معنی میں آیا
جَادَتْ عَلَیْہِ کُلُّ بَکْرَۃِ حَرَّۃٍ
فَتَرَکْنَ کُلَّ قَرَارَۃٍ کَالدِّرْھَمِ
سَحًّا وَ تَسْکَابًا فَکُلَّ عَشِیَّۃٍ
یَجْرِيْ عَلَیْھَا الْمَاءُ لَمْ یَتَصَرَّمِ
(ابن عاشور)
ابراہیم ؑ نے یہ اعلان کیسے کیا ؟ اس کے متعلق تفسیر ابن کثیر میں ہے : ”جب اللہ تعالیٰ نے حج کی دعوت کے لیے اعلان کرنے کا حکم دیا تو ذکر کیا جاتا ہے کہ ابراہیم ؑ نے عرض کی، پروردگار ! میں لوگوں تک یہ پیغام کیسے پہنچاؤں، میری تو آواز ہی ان تک نہیں پہنچے گی ؟ فرمایا، تم منادی کرو، پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے۔ تو آپ نے اپنے مقام پر، بعض نے کہا پتھر پر، بعض نے کہا صفا پر اور بعض نے کہا جبل ابی قبیس پر کھڑے ہو کر اعلان کیا : ”لوگو ! تمہارے رب نے گھر بنایا ہے، تم اس کا حج کرو۔“ کہا جاتا ہے کہ پہاڑ جھک گئے، حتیٰ کہ یہ آواز زمین کے کناروں تک پہنچ گئی اور جو ماؤں کے شکم یا باپوں کی پشت میں تھے ان کے کانوں میں بھی پہنچ گئی۔ ہر پتھر، اینٹ یا درخت جس نے اسے سنا اس نے بھی اور جس شخص کے متعلق اللہ نے قیامت تک حج کرنا لکھا تھا، سب نے جواب میں کہا : ”لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ“ یہ ان روایتوں کا مضمون ہے جو ابن عباس، مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر اور کئی ایک سلف سے آئی ہیں۔ (واللہ اعلم) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے انھیں پورے طول سے نقل کیا ہے۔“
ابن کثیر ؓ کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات مروی نہیں، اوپر نقل کردہ روایات میں ”ذکر کیا جاتا ہے“ ، ”بعض نے کہا“ ، ”کہا جاتا ہے“ اور ”واللہ اعلم“ کے الفاظ ابن کثیر کی ان روایات کی صحت میں تردد کو ظاہر کر رہے ہیں۔ تابعین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اس اعلان کے وقت وہاں موجود نہیں تھے اور نہ انھوں نے اپنا ذریعہ بتایا ہے۔ رہی ابن عباس ؓ کی روایت تو اس کے متعلق تفسیر ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر لکھتے ہیں کہ اسے ابن ابی شیبہ (مصنف : 11؍518) اور حاکم (المستدرک : 2؍388) دونوں نے جریر عن قابوس عن ابیہ عن ابن عباس کے طریق سے مختصراً بیان کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، لیکن قابوس ”لَیِّنُ الْحَدِیْثِ“ (کمزور حدیث والا) ہے، جیسا کہ تقریب میں ہے۔ ابن عباس ؓ سے یہ روایت ثابت بھی ہو تو معلوم نہیں انھوں نے یہ کہاں سے لی ہے ؟ کیونکہ نہ خود اس وقت موجود تھے اور نہ انھوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ابراہیم ؑ کی آواز ساری دنیا اور تمام ارواح تک پہنچانا کچھ مشکل نہیں، مگر یہ بات کسی معتبر طریقے سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ ابن عاشور ؓ لکھتے ہیں کہ ابراہیم ؑ ”رَحَّالَۃٌ“ تھے، یعنی بہت سفر کیا کرتے تھے، چناچہ انھوں نے حسب استطاعت اس حکم پر عمل کیا اور ہر اس مقام پر حج کا اعلان کیا جہاں وہ اپنے سفروں کے دوران گزرے یا پہنچے۔ پھر ان کے بعد ہمارے نبی کریم ﷺ نے یہ اعلان فرمایا، اب دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں جہاں یہ اعلان نہ پہنچا ہو اور جہاں سے لوگ سفر کرکے حج کے لیے نہ پہنچتے ہوں۔ سعودی حکومت کا اندازہ ہے کہ دس پندرہ سال تک حاجیوں کی تعداد سالانہ ایک کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ سارا سال عمرہ کے لیے آنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ”يَاْتُوْكَ رِجَالًا“ (تیرے پاس آئیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم ؑ ہر سال حج کے موقع پر خود وہاں موجود ہوتے تھے، یا مراد ہے کہ حج پر جانے والا ہر شخص ابراہیم ؑ کی دعوت پر گویا انھی کے پاس جاتا ہے۔
Ayah 22:28لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ : یعنی لوگ پیدل اور سوار ہو کر حج کے لیے آئیں گے، تاکہ وہ اپنے بہت سے فائدوں میں حاضر ہوں۔ حج کا اصل مقصد تو عبادت کے ذریعے سے دینی اور اخروی فوائد حاصل کرنا ہے، لیکن ضمناً اس میں بہت سے دنیوی اور ملی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ کے دینی و دنیوی فوائد دونوں ذکر فرمائے ہیں، چناچہ فرمایا : (تَابِعُوْا بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ فَإِنَّھُمَا یَنْفِیَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ کَمَا یَنْفِی الْکِیْرُ خَبَثَ الْحَدِیْدِ وَالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ) [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في ثواب الحج والعمرۃ : 810، عن عبد اللّٰہ بن مسعود ؓ ] ”حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو، کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔“ دینی فوائد میں بہت بڑا فائدہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کا حصول ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا : (اَلْعُمْرَۃُ إِلَی الْعُمْرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہُ جَزَاءٌ إِِلَّا الْجَنَّۃُ) [ بخاري، الحج، باب وجوب العمرۃ و فضلھا : 1773۔ مسلم : 1349 ]”عمرہ سے لے کر عمرہ، دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔“ گناہوں کی معافی بھی بہت بڑا نفع ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہٗ أُمُّہٗ) [ بخاري، الحج، باب فضل الحج المبرور : 1521، عن أبي ہریرہ۔ مسلم : 1350 ؒ ّ ] ”جو شخص حج کرے، نہ کوئی شہوانی فعل کرے اور نہ کوئی نافرمانی کرے تو واپس اس طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) جائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔“ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن عاص ؓ سے فرمایا تھا : (أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ وَأَنَّ الْھِجْرَۃَ تَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا وَأَنَّ الْحَجَّ یَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہٗ) [ مسلم، الإیمان، باب کون الإسلام یھدم ما قبلہ۔۔ : 121 ] ”کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے اور یہ کہ ہجرت اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتی ہے اور یہ کہ حج اپنے سے پہلے (گناہوں) کو گرا دیتا ہے۔“
حج کے فوائد میں سے سب سے بڑا فائدہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا جمع ہونا اور اس بات کا مظاہرہ ہے کہ ہم سب ایک امت ہیں، کالے، گورے، سرخ اور زرد کسی کو کسی پر رنگ یا زبان کی وجہ سے برتری حاصل نہیں، سب بھائی بھائی ہیں۔ اس موقع پر سب کا ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہونا اور مشکل میں گرفتار اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے سوچنا اور اس کا بندوبست کرنا ہے۔ ان فوائد میں سے ایک فائدہ اس موقع پر تجارت، صنعت، مزدوری وغیرہ کے ذریعے سے حلال روزی کمانا بھی ہے، چناچہ فرمایا : (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ) [ البقرۃ : 198 ] ”تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا کوئی فضل تلاش کرو۔“ یہ مسلمانوں کی بین الاقوامی مصنوعات اور پیداوار سے آگاہی اور تمام دنیا کی باہمی تجارت منظم کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اسی طرح اس موقع پر دنیا بھر کے علماء سے ملاقات اور دین و دنیا کے علوم میں اضافہ بھی حج کے فوائد میں سے بہت بڑا فائدہ ہے۔ پھر اس سفر کے دوران دنیا کے مختلف علاقوں اور لوگوں کے حالات سے واقفیت بھی بہت بڑا علم ہے جو حج کی برکات میں سے عظیم برکت ہے۔ خلاصہ یہ کہ حج مسلمانوں کے بیشمار سیاسی، اقتصادی، معاشی اور تمدنی فوائد کا جامع ہے۔
وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ۔۔ : قرآن مجید کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ چوپاؤں پر اللہ تعالیٰ کا نام لینے سے مراد انھیں ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ“ پڑھ کر ذبح کرنا ہے۔ دیکھیے سورة انعام (118 تا 121) یہاں حج کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا کہ حج کرنے والے حضرات چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں کی نعمت بھی یاد دلائی ہے۔ یہ ”اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ“ (چند معلوم دن) کون سے ہیں ؟ بعض بڑے بڑے جلیل القدر حضرات نے اس سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن اور سورة بقرہ (203) میں ”اَيَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ“ سے مراد ایام تشریق لیے ہیں ؟ مگر بقول مفسر امین شنقیطی صاحب اضواء البیان : ”ان حضرات کی جلالت قدر کے باوجود ان کا موقف درست نہیں، بلکہ درست بات ان حضرات کی ہے جو اس سے یوم النحر (دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد والے دو یا تین دن مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں چند معلوم دنوں میں قربانی کا ذکر ہے، جب کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں صرف ایک دن (دس ذوالحجہ) کو قربانی ہوتی ہے (حالانکہ ”مَعْلُوْمٰت“ کم از کم تین ہونے چاہییں)۔ خلاصہ یہ کہ ان ”اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ“ سے مراد وہ دن ہیں جن میں قربانی کی جاتی ہے اور وہ یوم النحر اور اس کے بعد دو دن یا تین دن ہیں۔“ یوم النحر کے بعد پورے ایام تشریق (11، 12، 13) یعنی چار دن میں قربانی کی دلیل رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے : (کُلُّ أَیَّام التَّشْرِیْقِ ذَبْحٌ) ”ایام تشریق سارے ذبح کے دن ہیں۔“ شیخ البانی ؓ نے ”مَنَاسِکُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ“ میں فرمایا کہ اسے احمد نے روایت کیا اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے اور یہ میرے نزدیک اپنے مجموع طرق کے ساتھ قوی ہے، اسی لیے میں نے اسے سلسلہ صحیحہ (2476) میں درج کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان چار دنوں میں اللہ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت پالتو جانوروں کو اس کے نام پر قربان کرنا حج کے مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد ہے۔ ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : (أَیُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ ؟ قَالَ الْعَجُّ وَ الثَّجُّ) [ ترمذي، الحج، باب ما جاء في فضل التلبیۃ والنحر : 827 ] ”حج کی کون سی چیز افضل ہے ؟“ فرمایا : ”(لبیک کے ساتھ) آواز بلند کرنا اور خون بہانا (قربانی کرنا)۔“
فَكُلُوْا مِنْهَا وَاَطْعِمُوا۔۔ : اس سے پہلے حج کرنے والوں کا ذکر غائب کے صیغوں کے ساتھ ہے، اب انھیں مخاطب کرلیا ہے کہ چوپائے جو میں نے تمہیں عطا کیے اور تم نے میرے نام پر قربان کیے، اب میری اس نعمت کا تقاضا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیر کو بھی کھلاؤ۔ ”الْبَاۗىِٕسَ“ کا معنی ہے جو مالی طور پر تنگدست ہو۔ فقیر بھی وہی ہے، صرف فقیر کی بدحالی پر رحم کو ابھارنے کے لیے ”الْفَقِيْر“ سے پہلے ”الْبَاۗىِٕسَ“ ذکر فرمایا، کیونکہ فقیر کا لفظ تو عام استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غنی کو نہیں کھلا سکتے، بلکہ یہ فقراء کو کھلانے کی تاکید کے لیے ہے، اغنیاء کو کھلانے کا ذکر آیت (36) میں آ رہا ہے۔ خود کھانے کا حکم اس لیے دیا کہ مشرکین اپنی قربانی میں سے نہیں کھاتے تھے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ خود کھانے کا حکم وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب یا رخصت کے لیے ہے، یعنی تمہیں خود بھی کھانے کی اجازت ہے، ضروری نہیں کہ کھاؤ۔ بہرحال امر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہو سکے تو اپنی قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے، جیسا کہ جابر ؓ بیان کرتے ہیں : (أَنَّ الْبُدْنَ الَّتِيْ نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَتْ مِءَۃَ بَدَنَۃٍ نَحَرَ بِیَدِہٖ ثَلاَثًا وَّ سِتِّیْنَ وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کُلِّ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ فَجُعِلَتْ فِيْ قِدْرٍ ثُمَّ شَرِبَا مِنْ مَرْقِھَا) [ مسند أحمد : 3؍331، ح : 14561 ] ”وہ اونٹ جو رسول اللہ ﷺ نے نحر کیے، ایک سو اونٹ تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (63) اونٹ نحر کیے اور باقی علی ؓ نے کیے اور نبی ﷺ نے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا جو ایک دیگ میں ڈالے گئے، پھر دونوں نے اس کا کچھ شوربا پیا۔“ شعیب ارناؤوط نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
Ayah 22:29ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ : ”تَفَثٌ“ کے دو معنی کیے گئے ہیں، ایک میل کچیل اور دوسرا مناسک حج۔ پہلے معنی کے مطابق ترجمہ ہوگا ”پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ احرام باندھنے کے ساتھ ہی سلے ہوئے کپڑے پہننا، بال یا ناخن کٹوانا اور خوشبو لگانا حرام ہوجاتا ہے۔ صرف دو چادریں ہوتی ہیں، سر ننگا ہوتا ہے اور زیادہ مل مل کر غسل نہیں کرنا ہوتا، اس مسافرانہ اور فقیرانہ حالت میں بدن پر میل کچیل چڑھ جاتا ہے۔ دس محرم کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے کے بعد بیوی سے مباشرت کے سوا احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ میل کچیل دور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پھر وہ سر کے بال منڈوائیں یا کتروائیں اور ناخن وغیرہ صاف کریں، پھر غسل کرکے سلے ہوئے کپڑے پہن لیں۔ اگر کسی نے قربانی کرنی ہو تو بہتر ہے احرام کھولنے سے پہلے کرلے، اگر احرام کھول کر قربانی کرے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ احرام کھول کر، سلے ہوئے کپڑے پہن کر بیت اللہ کے طواف کے لیے روانہ ہوجائیں۔ اس طواف کا نام طواف زیارت اور طواف افاضہ ہے، یہ حج کا رکن ہے اور اس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اس طواف کے بعد احرام کی آخری پابندی بھی ختم ہوجاتی ہے اور بیوی سے مباشرت حلال ہوجاتی ہے۔ دوسرے معنی کے مطابق ترجمہ ہوگا ”پھر وہ اپنے حج کے اعمال پورے کریں اور اپنی نذریں پوری کریں۔“
وَلْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ : یعنی فریضۂ حج کے اعمال سے زائد کسی عمل کی نذر مانی ہو تو وہ پوری کریں، مثلاً زائد طواف یا مسجد حرام میں اعتکاف یا زائد قربانی یا نفل نماز یا صدقہ یا قرآن کی تلاوت وغیرہ۔
وَلْيَطَّوَّفُوْا بالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : ”طَافَ یَطُوْفُ طَوَافًا“ (ن) کسی چیز کے گرد پھرنا، چکر لگانا۔ ”وَلْيَطَّوَّفُوْا“ باب تفعل سے ہے جو اصل میں ”لِیَتَطَوَّفُوْا“ تھا، حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی بیت اللہ کا خوب طواف کریں، فرض طواف کے علاوہ نفل طواف بھی کثرت سے کریں۔ یا باب تفعل سے طواف کی مشکل کی طرف اشارہ ہے، جو اس دن حاجیوں کے بےپناہ ہجوم کی وجہ سے پیش آتی ہے کہ اسے برداشت کرتے ہوئے کعبۃ اللہ کا طواف کریں۔
بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : عتیق کا معنی قدیم ہے۔ زمین پر اللہ کا پہلا تعمیر کیا جانے والا گھر ہونے کی وجہ سے اس کا نام ”اَلْبَیْتُ الْعَتِیْقُ“ ہے۔ عتیق کا دوسرا معنی آزاد ہے، یعنی اللہ کے سوا اس کا مالک کوئی نہیں جو اس میں آنے سے کسی کو روک سکے۔ یہ ہر آقا کے تسلط سے آزاد ہے۔ یہ مشرکین کا ظلم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آنے والے مسلمانوں کو اس سے روکتے ہیں۔ آزاد کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس پر کبھی کوئی جابر مسلط نہیں ہوسکا، جیسا کہ اصحاب الفیل کا واقعہ معروف ہے۔ جو ظالم بھی اس گھر پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا اس کا یہی حال ہوگا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَغْزُوْ جَیْشٌ الْکَعْبَۃَ فَإِذَا کَانُوْا بِبَیْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ یُخْسَفُ بِأَوَّلِھِمْ وَآخِرِھِمْ) [ بخاري، البیوع، باب ما ذکر في الأسواق : 2118 ] ”ایک لشکر کعبہ سے جنگ کے لیے آئے گا، جب وہ بیداء (مکہ کے باہر کھلے میدان) میں پہنچیں گے تو سب کے سب اول سے آخر تک زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا : (لَیُحَجَّنَّ الْبَیْتُ وَلَیُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوْجِ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ) [ بخاري، الحج، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (جعل اللّٰہ الکعبۃ۔۔) : 1593 ] ”یاجوج ماجوج کے خروج کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ جاری رہے گا۔“ علامات قیامت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا : (یُخَرِّبُ الْکَعْبَۃَ ذو السُّوَیْقَتَیْنِ مِنَ الْحَبَشَۃِ) [ بخاري، الحج، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (جعل اللّٰہ الکعبۃ۔۔) : 1591 ] ”(قیامت کے قریب) ایک پتلی پنڈلیوں والا حبشی بیت اللہ کو گرا دے گا۔“ مزید فرمایا : (کَأَنِّيْ بِہِ أَفْحَجَ یَقْلُعُہَا حَجَرًا حَجَرًا) [ بخاري، الحج، باب ھدم الکعبۃ : 1595 ] ”گویا میں وہ دیکھ رہا ہوں، کالا ٹیڑھے پاؤں والا ہے، اسے ایک ایک پتھر کر کے اکھیڑ رہا ہے۔“
Ayah 22:30ذٰلِكَ : یہ لفظ دو کلاموں کے درمیان فاصلے کے لیے آتا ہے اور اس سورت میں تین دفعہ آیا ہے۔ ایک یہ، ایک آیت (32) میں : (ذٰلِكَ ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ) اور ایک آیت (60) میں : (ذٰلِكَ ۚ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ) اس کا مبتدا محذوف مانتے ہیں ”اَلْأَمْرُ ذٰلِکَ“ یعنی حج کا معاملہ تو یہ ہوا اور۔۔
وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ : یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی تعظیم خود بندے کے لیے بہتر ہے، کیونکہ یہ اس کے لیے اس کے رب کی رضا حاصل کرنے کا باعث ہے، جس کا فائدہ اسی کو ہوگا۔ ”حرمٰت“ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، جیسے حرم، مسجد حرام، حرمت والے مہینے، ہدایا یعنی مکہ میں قربانی کے لیے جانے والے اونٹ، قلائد یعنی وہ بھیڑ بکریاں اور گائیں جن کے گلے میں قلادے (پٹے اور ہار) ڈالے ہوئے ہوں وغیرہ۔ ان سب کی تکریم ابراہیم ؑ کے زمانے سے چلی آرہی ہے، مگر مشرکین نے اپنے ملت ابراہیم کے پیروکار ہونے کے دعوے کے باوجود ان حرمتوں کو پامال کیا اور خود ساختہ چیزوں کو حرمت والا قرار دے لیا، جیسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ۔ ”وَمَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ“ کا مطلب یہ بھی ہے کہ احرام میں جو کام اللہ تعالیٰ نے حرام کیے ہیں، مثلاً شکار کرنا، شہوانی افعال، لڑائی جھگڑا، فسق و فجور وغیرہ، تو ان کے ارتکاب کو جو شخص بہت بڑا گناہ سمجھ کر ان سے اجتناب کرے تو یہ اس کے رب کے ہاں اس کے لیے بہتر ہے۔
وَاُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ : اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (3) اور سورة نحل (115)۔
فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔۔ : ”اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ“ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان چوپاؤں کے حلال ہونے کا حکم دیا جو مشرکین نے حرام کر رکھے تھے، مثلاً بحیرہ، سائبہ وغیرہ اور ”اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ“ کے ساتھ ان جانوروں کو حرام قرار دیا جو مشرکین نے حلال کر رکھے تھے، مثلاً غیر اللہ کے نام پر ذبح کردہ جانور اور مردار وغیرہ۔ مشرکین کے بعض جانوروں کو حرام اور بعض کو حلال کرنے کا باعث بتوں کی عبادت تھی اور یہ ان کا اللہ پر صاف جھوٹ اور بہتان تھا کہ حلال و حرام کا یہ حکم اس کا حکم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرک اور جھوٹ دونوں سے بچنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس گندگی سے بچو جو بتوں کی صورت میں ہے اور جھوٹی بات سے بچو۔ یعنی مشرکین نے اللہ کے ساتھ جو بتوں کو شریک بنا رکھا ہے اور اللہ کے ذمے بعض چیزوں کو حلال یا حرام کرنے کا بہتان باندھ رکھا ہے تم اس شرک سے اور اس جھوٹ اور بہتان سے اجتناب کرو۔ ”قَوْلَ الزُّوْرِ“ کا لفظ عام ہے، اس لیے اس میں جھوٹی شہادت دینا، کسی پر بہتان لگانا، غرض کوئی بھی جھوٹ بولنا شامل ہے اور سب سے اجتناب کا حکم ہے۔ ”الرِّجْسَ“ کا معنی گندگی ہے، ”مِنْ“ بیان کرنے کے لیے ہے، یعنی گندگی ظاہری بھی ہوتی ہے مگر خاص طور پر حکم دیا کہ اس معنوی گندگی سے بچو جو بتوں کی صورت میں ہے۔ ابن جزی فرماتے ہیں : ”مِنْ لِبَیَانِ الْجِنْسِ کَأَنَّہُ قَال الرِّجْسُ الَّذِيْ ھُوَ الْأَوْثَانُ۔“
Ayah 22:31حُنَفَاۗءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ : ”أَيْ کُوْنُوْا حُنَفَاءَ“ یعنی تمام معبودوں سے ہٹ کر صرف اللہ کی خالص عبادت کرنے والے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے والے بنو۔ ”ۙحُنَفَاۗءَ“ پر نصب ”وَاجْتَنِبُوْا“ کی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة انعام (160 تا 163)۔
وَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ : جو شخص توحید پر قائم ہے وہ بلندی اور عزو شرف میں گویا آسمان پر ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا اور اسی کا حکم مانتا ہے۔ جب اس نے شرک کیا تو اس بلند مقام سے گرگیا، اب یا تو اسے پرندے راستے ہی میں اچک لیں گے، یعنی وہ بتوں کے پجاریوں یا ان زندہ یا مردہ پیروں بزرگوں کے مجاوروں کے ہتھے چڑھ جائے گا جنھوں نے ان پیروں بزرگوں کو خدا بنا رکھا ہے، یا ہوا اسے بہت دور جگہ میں گرا دے گی، یعنی اگر کسی کے قابو نہ آیا تو اللہ سے تو بدظن ہو ہی چکا ہے، پھر اسے اس کی خواہش بہت دور گہری جگہ میں گرا دے گی، یعنی سب سے منکر ہو کر دہریہ ہوجائے گا۔ دونوں صورتوں میں اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 22:32ذٰلِكَ ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ۔۔ :”ذٰلِكَ“ کی تفسیر آیت (30) میں ملاحظہ فرمائیں۔”شَعَاۗىِٕرَ“ ”شَعِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے، اسم فاعل بمعنی ”مُشْعِرَۃٌ“ ہے، جس سے کسی چیز کا شعور ہو (نشانیاں) ، یعنی وہ چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا شعور دلانے کے لیے مقرر کر رکھی ہیں، جو شخص ان کی تعظیم کرے گا تو اس کا باعث دلوں کا تقویٰ ہے، یعنی جس کے دل میں اللہ کا ڈر ہوگا وہ ان کی تعظیم ضرور کرے گا۔ ہر وہ چیز جس کی زیارت کا اللہ نے حکم دیا ہے یا اس میں حج کا کوئی عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ ”شعائر اللہ“ میں داخل ہے۔ قربانی کے جانور بھی ”شعائر اللہ“ میں داخل ہیں، چناچہ فرمایا : (وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَاۗىِٕرِ اللّٰهِ) [ الحج : 36 ] ”اور قربانی کے بڑے جانور، ہم نے انھیں تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔“ ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کے آتے ہوئے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے، جانور قیمتی خریدے اور عیب دار جانور نہ خریدے۔ ان پر جھول اچھی ڈالے، انھیں خوب کھلائے پلائے اور سجا کر رکھے، جیسا کہ گلے میں قلادے ڈالنے سے ظاہر ہے، مجبوری کے بغیر ان پر سواری نہ کرے، جیسا کہ آگے حدیث آرہی ہے اور قربانی کے بعد ان کے جھول وغیرہ بھی صدقہ کر دے۔ ”شعائر اللہ“ کی تعظیم اگرچہ اس سے پہلے ”حُرُمٰتِ اللّٰهِ“ کی تعظیم میں آچکی ہے مگر ”حُرُمٰت“ کا مفہوم وسیع اور عام ہے جب کہ ”شَعَائِر“ خاص ہے، اس لیے ”شعائر اللہ“ کی تعظیم کی تاکید کے لیے اسے دوبارہ الگ ذکر فرمایا۔
Ayah 22:33لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا، ان سے نسل اور اون حاصل کرنا ہے، اسی طرح ان کے گوبر وغیرہ کو ایندھن یا کھاد کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ مشرکین جس طرح قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اسی طرح قربانی کے جانوروں سے اون، دودھ یا سواری وغیرہ کا فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں سے اس وقت تک فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انھیں قربانی کے لیے نامزد نہ کیا جائے، اس کے بعد سواری یا دودھ یا اون کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ”شعائر اللہ“ سے فائدہ اٹھانا بطور احسان ذکر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ قربانی کے لیے نامزد ہونے کے بعد ہی جانور ”شعائر اللہ“ میں شامل ہوتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلاً یَسُوْقُ بَدَنَۃً فَقَالَ ارْکَبْھَا فَقَالَ إِنَّھَا بَدَنَۃٌ فَقَالَ ارْکَبْھَا قَالَ إِنَّھَا بَدَنَۃٌ قَالَ ارْکَبْھَا وَیْلَکَ) [ بخاري، الحج، باب رکوب البدن : 1689۔ مسلم، : 1323 ] ”رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک بدنہ (قربانی کے لیے مکہ جانے والا اونٹ) ہانک کرلے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ”اس پر سوار ہوجاؤ۔“ اس نے کہا : ”یہ بدنہ ہے۔“ فرمایا : ”اس پر سوار ہوجاؤ۔“ اس نے کہا : ”یہ بدنہ ہے۔“ فرمایا : ”اس پر سوار ہوجاؤ، افسوس ہو تم پر۔“ جابر ؓ کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (اِرْکَبْھَا بالْمَعْرُوْفِ إِذَا أُلْجِءْتَ إِلَیْھَا حَتّٰی تَجِدَ ظَھْرًا) [ مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ۔۔ : 1324 ] ”اس پر اس طرح سوار ہوجاؤ کہ اسے تکلیف نہ دو ، جب تمہیں اس کی ضرورت پڑجائے، یہاں تک کہ تمہیں کوئی اور سواری مل جائے۔“
ابن کثیر نے شعبہ عن زہیر بن ابی ثابت الاعمی عن مغیرہ بن حذف کی سند سے علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بدنہ ہانک کرلے جاتے ہوئے دیکھا، جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، فرمایا : ”اس کا دودھ صرف اتنا پیو جو اس کے بچے سے زائد ہو اور جب یوم النحرہو تو اسے اور اس کے بچے کو ذبح کر دو۔“ یہ علی ؓ کا قول ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، مجھے مغیرہ بن حذف کے حالات نہیں ملے اور متن میں بچے کو ذبح کرنے کی بات غریب (انوکھی) ہے۔
ثُمَّ مَحِلُّهَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : ”مَحِلُّهَآ“ اترنے کی جگہ۔ حلال ہونے کی جگہ سے مراد یہ ہے کہ جہاں آخر قربانی کے جانوروں کو پہنچنا ہے اور نحر یا ذبح ہونا ہے وہ بیت عتیق (کعبہ) ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : (هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ) [ المائدۃ : 95 ] یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حرم کعبہ ہے، کیونکہ عین کعبہ میں تو قربانی نہیں کی جاتی، قربانی تو اس کے باہر کی جاتی ہے، چناچہ پورے مکہ یا منیٰ میں جہاں بھی قربانی کی جائے درست ہے۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (کُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ وَکُلٌّ مِنًی مَنْحَرٌ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیْقٌ وَ مَنْحَرٌ) [ أبوداوٗد، المناسک، باب الصلاۃ بجمع : 1937 ] ”عرفہ پورا وقوف کی جگہ ہے، منیٰ پورا نحر کی جگہ ہے اور مزدلفہ پورا وقوف کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام سڑکیں راستہ ہیں اور نحر کی جگہ ہیں۔“ ہمارے استاذ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں، اور ہوسکتا ہے کہ ”مَحِلُّهَآ“ میں ”ھَا“ ضمیر سے مراد سارے شعائر ہوں، تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ معنی زیادہ مناسب ہے، ورنہ خصوصیت کے ساتھ ”بیت عتیق“ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)
Ayah 22:34وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا : ”مَنْسَكًا“ کے تین معنی ہوسکتے ہیں، عبادت، عبادت کی جگہ اور قربانی۔ یہاں آخری معنی زیادہ موزوں ہے، کیونکہ آگے جانوروں پر اللہ کا نام لینے کا ذکر آ رہا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے بطور نیاز قربانی کرنا تمام آسمانی شریعتوں کے نظام عبادت کا لازمی جز رہا ہے۔ اسلام میں بھی یہ بطور عبادت مقرر کی گئی ہے، اس میں حاجی، غیر حاجی کی کوئی قید نہیں ہے۔ چناچہ انس ؓ بیان کرتے ہیں : (ضَحَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ 8 بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ فَرَأَیْتُہُ وَاضِعًا قَدَمَہُ عَلٰی صِفَاحِھِمَا یُسَمِّيْ وَیُکَبِّرُ فَذَبَحَھُمَا بِیَدِہٖ) [ بخاري، الأضاحی، باب من ذبح الأضاحي بیدہ : 5558۔ مسلم : 1966 ] ”رسول اللہ ﷺ نے سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے قربانی کیے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے ان کے پہلوؤں پر اپنا پاؤں رکھا اور ”بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ“ پڑھ کر ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔“ یاد رہے مکہ میں حج یا عمرہ پر کی جانے والی قربانی کو ہدی اور دوسرے مقامات پر کی جانے والی قربانی کو اضحیہ کہا جاتا ہے۔
3 تفسیر ثنائی میں ہے : ”قرآن مجید کے اس دعویٰ (کہ ہر قوم میں قربانی کا حکم ہے) کا ثبوت آج بھی مذہبی کتب میں ملتا ہے۔ عیسائیوں کی بائبل تو قربانی کے احکام سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی دوسری کتاب سفر خروج میں عموماً یہی احکام ہیں۔ تعجب تو یہ ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ ہندوؤں اور آریوں کے مسلمہ پیشوا منوجی کہتے ہیں : ”یگیہ (قربانی) کے واسطے اور نوکروں کے کھانے کے واسطے اچھے ہرن اور پرند مارنا چاہیے۔ اگلے زمانے میں رشیوں نے یگیہ کے لیے کھانے کے لائق ہرن اور پکشیوں کو مارا ہے۔ شری برہماجی نے آپ سے آپ یگیہ (قربانی) کے واسطے پشو (حیوانوں) کو پیدا کیا۔ اس سے یگیہ جو قتل ہوتا ہے وہ بدھ نہیں کہلاتا۔ حیوان، پرند، کچھوا وغیرہ، یہ سب یگیہ کے واسطے مارے جانے سے اعلیٰ ذات کو دوسرے جنم میں پاتے ہیں۔“ [ اوہیائے : 5۔ شلوک : 22، 23، 39، 40 ] گو آج کل کے ہندو یا آریہ ایسے مقامات کی تاویل یا تردید کریں مگر صاف الفاظ کے ہوتے ہوئے ان کی تاویل کون سنتا ہے۔ اس جگہ ہم نے صرف یہ دکھانا تھا کہ قرآن شریف نے جو دعویٰ کیا ہے وہ بحمد اللہ اپنا ثبوت رکھتا ہے، باقی قربانی کی علت اور وجہ کے لیے ہماری کتب مباحثہ، حق پر کاش، ترک اسلام وغیرہ ملاحظہ ہوں۔“
لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ۔۔ : یعنی ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ہمارے عطا کردہ پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام لے کر انھیں قربان کریں، نہ کہ کفار کی طرح ہمارے عطا کردہ چوپاؤں کو بتوں اور غیر اللہ کے آستانوں پر انھیں خوش کرنے کی نیت سے ذبح کریں۔
فَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗٓ اَسْلِمُوْا : پہلی امتوں پر قربانی مقرر کرنے کے ذکر کے بعد اب ہماری امت کو خطاب ہے کہ پہلی امتوں کا الٰہ اور تمہارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے، سو تم بھی پوری طرح اسی کے فرماں بردار ہوجاؤ اور اپنے آپ کو پوری طرح اس کے سپرد کر دو اور اپنی ہر عبادت، جس میں قربانی بھی ہے، صرف اسی کے لیے کرو۔ اگر کسی اور کے لیے کرو گے تو اس کی عبادت میں شرک کے مجرم ٹھہرو گے۔ مگر اب بعض مسلمان کہلانے والوں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ عید الاضحی پر قربانی کو بھی عبد القادر جیلانی کی گیا رھویں قرار دے کر ان کے نام کا ختم دیتے ہیں، اس سے بڑھ کر شرک کیا ہوگا ؟rnۭ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ :”الْمُخْبِتِيْنَ“ باب افعال (إِخْبَاتٌ) سے اسم فاعل ہے۔ ”خَبْتٌ“ نیچی جگہ کو کہتے ہیں۔ ”مُخْبِتٌ“ کا معنی نیچی جگہ میں چلنے والا ہے، پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر تواضع اور عاجزی کرنے والے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ بعض حضرات نے اسے ”خَبَتِ النَّارُ“ (آگ بجھ گئی) سے مشتق مانا ہے، حالانکہ اس کا اصل ”خ ب و“ ہے، جبکہ ”الْمُخْبِتِيْنَ“ کا اصل ”خ ب ت“ ہے۔ یعنی ان عاجزی کرنے والوں کو بشارت دے دے کہ جن کے ہاں اللہ کے حضور عاجزی ہی عاجزی ہے اور ذرہ بھر تکبر نہیں۔ یہاں مراد حج و عمرہ کے لیے آنے والے ہیں کہ ان کی کفن جیسی ان سلی چادروں، ننگے سروں، ان کی وضع قطع، ان کی لبیک کی صداؤں، منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات میں وقوف، ان کے طواف، سعی اور ان کی قربانیوں، غرض ہر چیز سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے پامال ہوچکے ہیں۔
Ayah 22:35الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ :”وَجِلَ یَوْجَلَ وَجْلاً“ (ع) شدید خوف۔ اس آیت میں ”الْمُخْبِتِيْنَ“ (تواضع اور عاجزی کرنے والوں) کے اوصاف بیان ہوئے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات یا اس کے کسی حکم کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل سخت ڈر جاتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد و ثنا اور اس سے استغفار کرتے ہیں اور دل و جان سے اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ کفار کی طرح نہیں کہ جن کے دل اکیلے اللہ کا ذکر ہونے پر تنگ پڑجاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ) [ الزمر : 45 ] ”اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں۔“ اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو نہایت تکبر سے منہ پھیر کر چل دیتے ہیں جیسے انھوں نے وہ سنی ہی نہیں، فرمایا : (وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ) [ لقمان : 7 ] ”اور جب اس پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے، گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں، گویا اس کے دونوں کانوں میں بوجھ ہے، سو اسے دردناک عذاب کی خوش خبری دے دے۔“ ایسے متکبروں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ بھی مہر لگا دیتا ہے، فرمایا : (كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ) [ المؤمن : 35 ] ”اسی طرح اللہ ہر متکبر، سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“
وَالصّٰبِرِيْنَ عَلٰي مَآ اَصَابَهُمْ : یہ آیات چونکہ حج کے بیان میں آئی ہیں اور حج میں سفر کی صعوبتوں کے علاوہ بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں، بعض ساتھیوں کے مزاج کی شدت، خود غرضی یا ضروریات کی کمی کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کی نوبت آتی ہے، خصوصاً جب ان میں بدعقیدہ اور مشرک لوگ بھی ہوں، کیونکہ یہ سورت مکہ میں اتری اور اب بھی بہت سے حاجی وہ ہوتے ہیں جو شرک و بدعت میں گرفتار ہوتے ہیں اور توحید و سنت کی بات سننا برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ بعض اوقات بھوک، بیماری، راستے کی رکاوٹیں اور قدرتی آفات پیش آجاتی ہیں، تو اللہ کے وہ متواضع بندے ان سب مواقع پر (فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ) [ البقرۃ : 197 ] اور (وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ) [ البقرۃ : 155، 156 ] پر عمل کرتے ہوئے اتنا صبر کرتے ہیں کہ صابرین کے لقب سے سرفراز ہوتے ہیں۔
وَالْمُقِيْمِي الصَّلٰوةِ : ”اَلْمُقِیْمِیْنَ“ کا نون ”الصَّلٰوةِ“ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے گرگیا ہے۔ مضاف پر اگرچہ الف لام نہیں آتا مگر اسم فاعل یا صفت کا کوئی صیغہ اپنے معمول کی طرف مضاف ہو تو اس پر الف لام آجاتا ہے۔ سفر حج کی صعوبتوں کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ نماز میں سستی ہوجائے، یا وہ صحیح طریقے سے ادا نہ کی جاسکے، مگر اللہ کے وہ عاجز بندے اللہ سے اتنی محبت رکھتے اور نماز میں غفلت سے اس قدر خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہر وقت اس کی فکر میں رہتے ہیں اور اسے اتنی پابندی سے بروقت اور صحیح طریقے سے ادا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کی طرف سے انھیں ”نماز قائم کرنے والے“ کا لقب عطا ہوتا ہے، گویا وہ ہر وقت نماز ہی میں ہیں۔
وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ : اس سفر میں چونکہ خرچ بہت ہوتا ہے، اس لیے فرمایا کہ ہمارے وہ بندے سفر کے خرچ میں، یا کھانے پینے کے خرچ میں، یا اپنے ساتھیوں پر خرچ کرنے میں، یا قربانی وغیرہ پر خرچ کرنے میں بخل نہیں کرتے، بلکہ ہم نے جو کچھ انھیں دیا ہے، یہ سمجھ کر کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اسی کا عطا کردہ ہے، فراخ دلی سے خرچ کرتے ہیں۔
اس آیت کی مندرجہ بالا تفسیر مفسر بقاعی نے سیاق وسباق کے لحاظ سے کی ہے۔ الفاظ عام ہونے کا تقاضا ہے کہ ”الْمُخْبِتِيْنَ“ (اللہ کے متواضع بندوں) کی یہ صفات ان میں صرف حج کے دوران میں نہیں بلکہ دوسرے تمام اوقات میں بھی پائی جاتی ہیں، جس سے وہ بشارت الٰہی ”وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ“ کے مستحق بنتے ہیں۔