21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر القرآن الکریم

Ayah 21:30

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ١ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 21:30 in the Quran reader

اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا یہ نہیں دیکھا کہ بیشک سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

اَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : ”رَتْقًا“ کا معنی دو یا کئی چیزوں کا آپس میں سختی سے جڑا اور چپکا ہوا ہونا ہے، خواہ وہ فطری ہو (جیسے پتھر) یا کسی کے بنانے سے۔ (راغب) یہ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، یعنی بالکل بند۔ ”فَتْقٌ“ کا معنی ایسی جڑی ہوئی چیزوں کو الگ الگ کرنا ہے۔ ”اَوَلَمْ يَرَ“ کا معنی ہے ”اور کیا دیکھا نہیں“ اور جہاں دیکھی جانے والی چیز نہ ہو وہاں معنی ہے ”اور کیا جانا نہیں۔“ (دیکھیے سورة فیل) اس آیت کے دو معنی ہیں اور دونوں درست ہیں۔ طبری نے حسن سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے : (کَانَتَا مُلْتَزِقَتَیْنِ) ”سارے آسمان اور زمین آپس میں سختی سے ملے ہوئے تھے۔“ یعنی کیا یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ بےبس ہستیوں کو شریک بنا رہے ہیں، انھیں معلوم نہیں کہ سارے آسمان اور زمین ایک ٹھوس تودہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی بےپناہ قوت اور کمال قدرت کے ساتھ ان کو الگ الگ کرکے درمیان میں ہوا اور خلا کا فاصلہ کردیا اور آسمانوں کو سات آسمان اور زمین کو سات زمینیں بنادیا۔ دیکھیے سورة طلاق (12) بھلا اس کے سوا کسی کی یہ مجال ہے ؟ آج کل سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ کائنات پہلے ایک تودے کی شکل میں تھی، پھر ایک بہت بڑے دھماکے کے ساتھ جدا جدا ہوئی، مگر بےچارے سائنس دان وہ دھماکا کرنے والے سے ناآشنا ہی رہے۔ (الا ما شاء اللہ) دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا اللہ کی توحید کے منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان بند تھا، اس سے ایک قطرہ نہیں برستا تھا اور زمین بند تھی، اس سے ایک پتا نہیں اگتا تھا ؟ ہم نے اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ اپنی مخلوق کے فائدے کے لیے بارش کے ساتھ آسمان کے دہانے کھول دیے اور اس کے ساتھ زمین کے مسام کھول کر طرح طرح کی نباتات پیدا فرما دیں۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ : اس میں انسان، حیوان، پودے اور درخت سب شامل ہیں۔ پانی سے جاندار چیز کی پیدائش کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نور (45) اور نباتات کی پیدائش کے لیے دیکھیے سورة انعام (99)۔ 3 ہمارے استاذ محمد عبدہ ؓ امام رازی سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ”یعنی جن چیزوں میں جان ہے، جیسے حیوانات اور نباتات، ان سب کی پیدائش پانی سے ہے، لیکن فرشتے اور جن یا دوسری کوئی چیز جس کے متعلق ثابت ہوجائے کہ اس کے مادہ میں پانی کو دخل نہیں ہے، وہ اس سے مستثنیٰ قرار پائیں گی۔“ (کبیر) دراصل یہ اس سوال کا جواب ہے کہ فرشتے اور جن تو پانی سے نہیں بلکہ نور اور آگ سے پیدا ہوئے ہیں، ان کی پیدائش پانی سے کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے ؟ اس جواب کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ”کُلٌّ“ سے مراد کائنات کی ہر چیز نہیں ہوتی، بلکہ ہر موقع کی مناسبت سے ”کُلٌّ“ کا معنی کیا جاتا ہے، جیسا کہ ملکہ سبا کے متعلق ہد ہد نے کہا تھا : (وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ) [ النمل : 23 ] ”اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے۔“ اور قوم عاد پر آنے والی آندھی کے متعلق اللہ نے فرمایا : (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۢ بِاَمْرِ رَبِّهَا) [ الأحقاف : 25 ] ”جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔“ مفسر رازی کا یہ جواب معقول ہے۔ تاہم اگر ”كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ“ ہر زندہ چیز کا وجود پانی سے مان لیا جائے، جس میں انسان کے ساتھ جن اور فرشتے بھی شامل ہوں تو کچھ بعید نہیں، جب مٹی سے بننے والے انسان کا اصل پانی ہے تو آگ اور نور سے بننے والے جنوں اور فرشتوں کا اصل بھی پانی ہوسکتا ہے۔ آج جب ایٹم کو پھاڑنے کی صورت میں مادے کا توانائی میں بدلنا مشاہدے سے ثابت ہوچکا ہے، جس سے انسان کو بےپناہ تعمیری اور تخریبی قوت حاصل ہوئی ہے اور قیامت کے دن سمندر کے پانی آگ کی صورت اختیار کر جائیں گے (دیکھیے سورة تکویر : 6) تو اللہ کے حکم سے پانی آگ کے علاوہ نور کی صورت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ (واللہ اعلم) اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ : یعنی زمین و آسمان میں حیرت انگیز نظام قائم کرنے والے ہم ہیں، کوئی اور نہیں، کیا اس پر بھی یہ لوگ توحید کا راستہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ دوسروں کو ہمارا شریک سمجھ رہے ہیں ؟ رازی فرماتے ہیں : ”اس آیت (30) سے آیت (33) تک چار آیات میں کائنات کو بنانے والے کے وجود اور اس کے صرف ایک ہونے کے چھ قسم کے دلائل مذکور ہیں۔“ (کبیر)
Ayah 21:31

وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ١۪ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 21:31 in the Quran reader

اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے کہ وہ انھیں ہلانہ دے اور ہم نے ان میں کشادہ راستے بنا دیے، تاکہ وہ راہ پائیں۔

وَجَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ : ”رَوَاسِيَ“ ”رَاسِیَۃٌ“ کی جمع ہے جو ”رَسَا یَرْسُوْ رُسُوًّا“ سے اسم فاعل ہے، یعنی زمین میں گڑے ہوئے۔ ارضیات کے ماہروں پر اب یہ حقیقت ظاہر ہوئی ہے کہ پہاڑوں کا بہت بڑا حصہ زمین کے نیچے گڑا ہوا ہے۔ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ : ”مَادَ یَمِیْدُ مَیْدًا وَ مَیْدَانًا“ حرکت کرنا، ٹیڑھا ہونا۔ (قاموس) ”اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ ۠“ اصل میں ”أَنْ لَا تَمِیْدَ“ ہے۔ یہ تیسری دلیل ہے، یعنی اگر زمین میں یہ بھاری پہاڑ نہ گاڑ دیے جاتے تو اس میں ہر وقت زلزلے اور حرکت کی حالت رہتی، اس میں نہ وہ توازن ہوتا اور نہ سکون جو مخلوق کے رہنے کے لیے ضروری ہے۔ وہ کسی وقت بھی ایک طرف جھک جاتی، یا زلزلے سے دو چار رہتی جس سے زمین کے ستر فیصد حصے پر پھیلا ہوا سمندر کا پانی خشکی پر چڑھ دوڑتا اور زمین پر ایک متنفس بھی باقی نہ رہتا۔ اب بھی کبھی کبھار اللہ تعالیٰ زلزلے کے ذریعے سے اپنی نعمت یاد دلاتا رہتا ہے، جس سے سمندر کا پانی خشکی پر چڑھ دوڑتا ہے اور میلوں تک آبادیوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ وَجَعَلْنَا فِيْهَا فِجَـاجًا سُبُلًا : ”فِجَـاجًا“ ”فَجٌّ“ کی جمع ہے، یعنی پہاڑوں کے درمیان کھلا راستہ۔ زمخشری نے ”فِجَـاجًا“ کو ”سُبُلًا“ سے حال قرار دیا ہے، کیونکہ یہ نکرہ ”سُبُلاً“ کی صفت ہے جو پہلے آئی ہے، جیسا کہ فرمایا : (لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا) [ نوح : 20 ] ”تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو۔“ یعنی اگر یہ بلند اور ٹھوس پہاڑ اس طرح واقع ہوتے کہ ان میں کوئی راستہ نہ ہوتا، یا ان میں ڈھلوان نہ ہوتی بلکہ عموداً کھڑے ہوتے تو نہ زمین کی ایک طرف کے لوگ دوسری طرف جاسکتے، نہ ایک شہر کے لوگ دوسرے شہر کے لوگوں سے مل سکتے اور نہ خود پہاڑوں پر آبادی ہوسکتی۔ یہ ہماری قدرت کا کمال ہے کہ ہم نے پہاڑوں میں ندی نالوں، دروں اور ڈھلوانوں کی صورت میں آنے جانے کے کشادہ راستے بنا دیے ہیں، جس سے پہاڑ بھی میدانوں کی طرح آباد ہیں۔ لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ : تاکہ وہ زمین میں جہاں جانا چاہیں اس کے لیے راہ پاسکیں اور تاکہ وہ زمین و آسمان اور پہاڑوں کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے دیکھ کر اس کی توحید کی راہ پاسکیں۔ ”يَهْتَدُوْنَ“ میں دونوں مفہوم شامل ہیں۔
Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا : زمین کے چند عجائب کے ذکر کے بعد آسمان کے عجائب کی طرف متوجہ فرمایا۔ لوگوں کی بنائی ہوئی چھوٹی سی چھتیں بھی دیواروں یا ستونوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر ان میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ان سے گرنے والی چیزیں کسی نہ کسی نقصان کا باعث بنتی ہیں، وہ جتنی دیر بھی رہیں آخر گر پڑتی ہیں۔ چور ان میں نقب لگا کر مال و متاع چرا کرلے جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمان کو زمین کے لیے ایسی چھت بنایا جو ستونوں کے بغیر قائم ہے۔ دیکھیے سورة رعد (2) اور لقمان (10) اور گرنے سے ہر طرح سے محفوظ ہے۔ دیکھیے سورة فاطر (41) اور سورة حج (65) اس سے کوئی نقصان دہ چیز نیچے آنے کے بجائے زندگی کو قائم رکھنے والی چیزیں، مثلاً سورج کی تیز روشنی (ضیا) اور حرارت، چاند اور ستاروں کا نور، رات دن کا آنا جانا، بادل، بارش، ہوائیں، فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی بیشمار نظر نہ آنے والی رحمتیں اترتی ہیں۔ پھر نقب تو بہت دور، راز چرانے کی کوشش کرنے والے شیاطین سے بھی شہاب ثاقب کے ذریعے سے اس کی حفاظت کا زبردست انتظام کیا گیا ہے۔ دیکھیے سورة حجر (16 تا 18) اور صافات (6 تا 10)۔ وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ : یعنی مشرک لوگ آسمان اور اس میں پائی جانے والی نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے، مثلاً سورج، چاند، ستارے، رات، دن، بارش، بادل، بجلی، ہوائیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار چیزیں۔ کیونکہ اگر وہ عبرت کی نظر سے ان تمام چیزوں کو دیکھیں تو یقین کرلیں کہ ان کا بنانے والا موجود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند پیدا کیے، سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ : پچھلی آیت میں مشرکوں کے زمین و آسمان کی نشانیوں سے منہ موڑنے کا ذکر فرمایا، اس آیت میں ان میں سے چند نشانیاں ذکر فرمائی ہیں، یعنی رات، دن، سورج اور چاند۔ بڑی نشانیوں کے ذکر کے بعد چھوٹی نشانیوں، مثلاً ستاروں وغیرہ کے ذکر کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (12) ، قصص (71، 72) ، یونس (5، 6) ، فرقان (61، 62) ، انعام (96) اور یس (37 تا 40)۔rnۭ كُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ : ”فَلَكٍ“ دراصل چرخے کے دھاگا بنانے والے تکلے پر گھومنے والے گول چمڑے کو کہتے ہیں، پھر ہر دائرے کو فلک کہہ لیتے ہیں۔ ”سَبَحَ یَسْبَحُ“ (ف) کا معنی تیرنا ہے۔ نہایت تیزی سے چلنے کو بھی تیرنے سے تشبیہ دیتے ہیں، جیسا کہ متنبی نے کہا ہے ؂ أَعَزُّ مَکَانٍ فِی الدُّنْیَا سَرْجُ سَابِحٍ وَ خَیْرُ جَلِیْسٍ فِی الزَّمَانِ کِتَابُ ”دنیا میں سب سے زیادہ باعزت جگہ تیرنے والے گھوڑے کی زین ہے اور زمانے میں سب سے بہتر ہم نشین کتاب ہے۔“ مطلب یہ ہے کہ سورج، چاند اور تمام سیارے اپنے اپنے دائرے میں نہایت تیزی سے گھوم رہے ہیں۔ کوئی اپنے مقرر کردہ مدار سے نہ ادھر ادھر ہوتا ہے اور نہ خراب ہو کر رکتا ہے۔ نہ کسی میں کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے اور نہ تصادم، فرمایا : (ذٰلِكَ تَــقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِــيْمِ) [ یٰسٓ : 38 ] ”یہ اس کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو سب پر غالب، سب کچھ جاننے والا ہے۔“
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مرجائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ : اس سے پہلے چار آیات میں خالق کائنات کے وجود اور اس کی توحید کے چھ دلائل بیان فرمائے۔ اب یہاں سے بیان فرمایا کہ یہ نظام ہمیشہ قائم رہنے کے لیے نہیں بلکہ امتحان اور آزمائش کے لیے بنایا گیا ہے۔ (کبیر) 3 بقاعی نے پچھلی آیت کے ساتھ یہ مناسبت ذکر کی ہے کہ اس میں رات دن کے آنے جانے کا ذکر ہے، جس سے ہر انسان کی عمر کا سلسلہ آخر منقطع ہوجاتا ہے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، خواہ نیک ہو یا بد۔ یہ آیت خضر ؑ کے زندہ نہ ہونے کی بھی ایک بہت مضبوط دلیل ہے۔ رہے عیسیٰ ؑ ، تو ان کی عمر بہت طویل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں ہمیشہ کی زندگی حاصل ہے، کیونکہ قیامت کے قریب زمین پر اترنے کے بعد انھوں نے بھی فوت ہونا ہے۔ [ بخاري، العلم، باب السمر في العلم : 116، عن ابن عمر ] وہ حدیث بھی اس کی صریح دلیل ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَإِنَّ رَأْسَ مِءَۃِ سَنَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ عَلٰی ظَھْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ) [ بخاري، في العلم، باب السمر فی العلم : 116۔ مسلم : 2538 ] ”جو لوگ آج زمین کی پشت پر موجود ہیں آج سے ایک سو سال کے سرے پر ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔“ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ : اس میں ان لوگوں کا جواب ہے جو یہ کہہ کر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے کہ محمد ﷺ عنقریب مرجائیں گے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ دیکھیے سورة طور (20) فرمایا، اس میں ان کے لیے خوشی کا موقع تو تب ہو جب انھیں ہمیشہ زندہ رہنا ہو۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جان موت کو چکھنے والی ہے اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَةُ الْمَوْتِ : ”ذَاۗىِٕقَةُ“ ”ذَاقَ یَذُوْقُ“ (ن) سے اسم فاعل ہے، یعنی چکھنے والی۔ اس میں تمام بت پرستوں کی تردید ہے جو اپنے دیوی دیوتاؤں کے ہمیشہ زندہ رہنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اسی طرح ان قبر پرستوں کا بھی جو اپنے داتاؤں، حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے لیے موت کا لفظ گالی سمجھتے ہیں۔ چناچہ جب بھی رسول کریم ﷺ یا کسی بزرگ کے بارے میں موت یا فوت کا لفظ آئے وہ اس کے بجائے انتقال (جگہ بدلنے) کا لفظ استعمال کریں گے، یا کہیں گے وہ پردے میں ہوگئے ہیں یا پردہ فرما گئے ہیں۔ اللہ کے بندے یہ نہیں سوچتے کہ موت تو مومن کا تحفہ ہے، جس کے بغیر اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کا دیدار ممکن ہی نہیں۔ چناچہ ابن کثیر ؓ نے یہاں دو شعر نقل فرمائے ہیں جو امام شافعی ؓ نے ایسے ہی کسی موقع پر پڑھے ؂ تَمَنَّی رِجَالٌ أَنْ أَمُوْتَ وَ إِِنْ أَمُتْ فَتِلْکَ سَبِیْلٌ لَسْتُ فِیْھَا بِأَوْحَدٖ فَقُلْ لِلَّذِيْ یَبْغِيْ خلاَفَ الَّذِيْ مَضٰی تَھَیَّأْ لِأُخْرٰی مِثْلِھَا فَکَأَنْ قَدٖ ”کچھ لوگوں نے میری موت کی تمنا کی ہے اور اگر میں مرجاؤں تو یہ ایسا راستہ ہے جس میں میں اکیلا نہیں ہوں۔ سو اس شخص سے کہہ دو جو جانے والے کے بعد اس کی جگہ کا طلب گار ہے کہ تو بھی اس جیسی ایک اور (موت) کے لیے تیار ہوجا اور سمجھ لے کہ وہ بس آ ہی چکی۔“ ایک فارسی شاعر نے خوب کہا ہے ؂ بے فنائے خود میسر نیست دیدار شما مے فروشد خویش را اول خریدار شما ”اپنے فنا ہونے کے بغیر تمہارا دیدار میسر نہیں ہوسکتا، اس لیے تمہارا خریدار پہلے اپنے آپ کو فروخت کرتا ہے۔“ مزید دیکھیے سورة زمر (30) ، آل عمران (185) ، عنکبوت (56، 57) اور نساء (78)۔ وَنَبْلُوْكُمْ بالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً :”نَبْلُوْكُمْ“ ”بَلَا یَبْلُوْ“ اور ”اِبْتَلٰی یَبْتَلِیْ“ کا معنی ایک ہی ہے، آزمانا، مبتلا کرنا۔ ”فِتْنَةً“ آزمائش۔ ”فِتْنَةً“ لفظ کی تبدیلی کے ساتھ ”نَبْلُوْكُمْ“ کا مفعول مطلق ہے، مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے۔ ترجمہ مفعول لہ کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ شر سے مراد دنیا میں بدحالی اور سختی ہے اور خیر سے مراد خوشحالی اور آسانی ہے۔ یعنی ہم تمہیں کبھی سختی سے دوچار کرتے ہیں، کبھی نرمی کا سلوک کرتے ہیں۔ کبھی تم پر بیماری آتی ہے، کبھی صحت۔ کبھی دولت وافر ہوتی ہے کبھی فقیری، غرض ان تمام حالتوں سے مقصود تمہاری آزمائش ہے کہ تم نعمت پر شکر اور مصیبت پر صبر کرتے ہو یا نہیں۔ کافر اور فاسق خوشحالی میں بخل اور تکبر کرنے لگتا ہے اور مصیبت میں بےصبری اور جزع فزع۔ دیکھیے سورة معارج (19 تا 21) مومن کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہٗ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ وَإِنْ أَصَابَتْہٗ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَّہٗ) [ مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999، عن صہیب۔ ]”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ ہی خیر ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، وہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“ اللہ تعالیٰ کے اپنی مخلوق کو آزمانے کا ذکر کئی آیات میں آیا ہے، دیکھیے سورة اعراف (94، 95، 168) اور سورة انعام (42 تا 45)۔ وَاِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ : ”اِلَيْنَا“ پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ہے، یعنی تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہم تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق اچھی یا بری جزا دیں گے۔ ”لوٹائے جاؤ گے“ اس لیے فرمایا کہ ہمارے والد ماجد آدم ؑ کو پیدا کرنے کے بعد جنت میں رکھا گیا، پھر ان کی خطا سے انھیں جنت سے نکالا گیا۔ معلوم ہوا ہمارا اصل وطن جنت ہے، آزمائش کے لیے کچھ مدت زمین پر گزارنے کے بعد ہمیں دوبارہ اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہوگا، اگر کامیاب ہوئے تو دوبارہ جنت ملے گی اور ناکام ہوئے تو جہنم۔ دیکھیے سورة بقرہ (38، 39)۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔

وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا۔۔ : ”هُـزُوًا“ مصدر بمعنی مفعول ہے، یعنی جسے مذاق کیا جائے۔ پچھلی آیت میں لوگوں کو خیر و شر کے ساتھ آزمانے کا ذکر فرمایا۔ بنی نوع انسان کے لیے سب سے بڑی خیر رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے اور آپ کی آمد لوگوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بھی ہے کہ کون نعمت کی قدر کرتے ہوئے آپ پر ایمان لاتا ہے اور کون ناشکری اور کفر کرتا ہے۔ اس آیت میں اس نعمت کے عطا ہونے پر ناشکری کرنے والے لوگوں یعنی کافروں کے رویے کا ذکر فرمایا کہ جب وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق ہی بناتے ہیں، سنجیدگی سے نہ کوئی بات سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔ اَھٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ : یہ جملہ ان کے ٹھٹھے کی تفسیر ہے، یعنی وہ آپ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے ؟ ذکر کرنے سے مراد اچھائی سے ذکر کرنا بھی ہوتا ہے اور برائی سے بھی، تعین اس کا حال کے قرینے سے ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص آپ سے آپ کے کسی دوست کے متعلق بیان کرتا ہے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا، تو ظاہر ہے اس کی مراد یہی ہے کہ وہ آپ کی تعریف کر رہا تھا اور اگر آپ کے کسی مخالف کے متعلق بیان کرے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا تو اس سے مراد یہی ہوگی کہ وہ برائی کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہا تھا۔ جیسا کہ بت توڑنے والے کو تلاش کرتے ہوئے ابراہیم ؑ کی قوم کے لوگوں نے کہا تھا : (سَمِعْنَا فَـتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗٓ اِبْرٰهِيْمُ) [ الأنبیاء : 60 ] ”ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔“ ”اَھٰذَا“ (کیا یہی ہے) میں ہمزہ تعجب کے اظہار کے لیے اور ”ھٰذَا“ تحقیر کے لیے استعمال ہوا ہے۔ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ : یعنی ان کے معبودوں کا برائی سے ذکر کرنے پر آپ کا مذاق اڑانا انھیں کس طرح زیب دیتا ہے، جب کہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ رحمٰن کے ذکر ہی سے منکر ہیں ؟ انھیں اس بیحد رحم والے کا ذکر گوارا نہیں جس نے انھیں پیدا کیا، ان پر انعام فرمایا اور جس اکیلے کے ہاتھ میں ان کا نفع اور ان کا نقصان ہے۔ پھر مذاق کے حق دار یہ لوگ ہیں یا ہمارا رسول ؟ ”بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ“ کی تفسیر بعض مفسرین نے قرآن مجید فرمائی ہے کہ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ) [ الحجر : 9 ] یعنی وہ خود رحمٰن کے نازل کردہ ذکر کے منکر ہیں۔
Ayah 21:37

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان سراسر جلد باز پیدا کیا گیا ہے، میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا، سو مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ : کسی چیز کے وقت سے پہلے اس کا ارادہ عجلہ (جلد بازی) ہے، یعنی جلد بازی انسان کی فطرت میں شامل ہے، وہ پیدا ہی جلد باز کیا گیا، جیسا کہ فرمایا : (ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا) [ بني إسرائیل : 11 ] ”اور انسان ہمیشہ سے بہت جلد باز ہے۔“ ”جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے“ سے مراد مبالغہ ہے، جیسے فرمایا : (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ) [ الروم : 54 ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔“ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ : ”فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ“ اصل میں ”فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِيْ“ ہے۔ آیات کے آخری حروف کی موافقت کے لیے نون پر کسرہ باقی رکھ کر ”یاء“ حذف کردی گئی۔ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ کفار کی شدید مخالفت اور رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑانے پر مسلمان سخت غم زدہ اور پریشان تھے اور کفار پر جلد از جلد عذاب کے منتظر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عمل کو جلد بازی قرار دے کر تسلی دی کہ میں تمہیں اپنی نشانیاں ضرور دکھاؤں گا، مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے، اس سے پہلے اس کا مطالبہ مت کرو۔ نشانیوں سے مراد کفار پر آنے والی آفات و مصائب ہیں، مثلاً بدر، احد، خندق، حدیبیہ اور فتح مکہ میں کفار کی شکست اور ان کے اقتدار کا خاتمہ۔ اس مطلب کا قرینہ یہ ہے کہ کفار کے عذاب جلدی لانے کے مطالبے کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کی سرشت میں جلد بازی ہے، وہ کسی سے ناراض ہو اور اس کے پاس طاقت ہو تو وہ فوراً انتقام لیتا ہے۔ اپنی اس سرشت کے مطابق انھوں نے اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی یہ خیال کیا کہ اگر اس کے پاس انتقام کی طاقت ہوتی تو وہ فوراً عذاب نازل کردیتا، چناچہ وہ آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے اور عذاب میں دیر کی وجہ سے بار بار اس کے جلد لانے کا مطالبہ کرتے۔ فرمایا، تم عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو ؟ اب تک جو ہم نے تمہیں ڈھیل دی ہے اس میں ہماری کئی حکمتیں ہیں، جن میں سے تم پر حجت پوری کرنا اور تم میں سے کئی لوگوں کا اسلام قبول کرنا بھی ہے۔ اس سے تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہمیں تمہاری کارستانیاں اور شرارتیں گوارا ہیں ؟ ذرا ٹھہرو ! ابھی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم تم سے کیسے انتقام لیتے ہیں۔ دنیا میں بھی قتل ہو گے اور ذلت و رسوائی برداشت کرنا پڑے گی اور آخرت میں بھی تمہیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنایا جائے گا۔
Ayah 21:38

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔

وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى ھٰذَا الْوَعْدُ۔۔ : یہ ان کے عذاب طلب کرنے میں جلدی کی تفصیل ہے۔ کفار رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور آپ کا اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے لیے بار بار پوچھتے کہ عذاب کا وہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ جھٹلانے کے ساتھ ساتھ چڑانے اور بھڑکانے کے لیے طنزاً یہ بھی کہتے کہ ”اگر تم سچے ہو۔“ ”کُنْتُمْ“ ہمیشگی کا اظہار کرتا ہے اور ”صٰدِقِیْنَ“ اسم فاعل بھی سچ کے دوام کا اظہار کرتا ہے، یعنی تم جو ہمیشہ سچ بولتے ہو، تمہاری صفت ہی صادق ہے تو عذاب کا جو وعدہ تم نے کیا تھا وہ کب پورا ہوگا ؟ (بقاعی)
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : یعنی ان لوگوں کے عذاب کو جھٹلانے اور اسے ناممکن سمجھنے کی اصل وجہ ان کا جہل ہے، انھیں اس وقت کا علم ہی نہیں جب آگ انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گی۔ یہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے، جو ان کے جسم کا سب سے اہم اور خوبصورت حصہ ہے اور نہ پشتوں سے، جو جسم کا سب سے مضبوط حصہ ہے۔ جب ان اعضا کو آگ سے نہ بچا سکے تو دوسرے اعضا کو کیسے بچائیں گے ؟ کفار کو آگ کے چاروں طرف سے گھیرنے کا ذکر کئی جگہ آیا ہے۔ دیکھیے سورة کہف (29) ، اعراف (41) ، زمر (16) ، ابراہیم (50) ، مومنون (104) اور دوسری آیات۔ ”لو“ کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ یہ حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے، جو خودبخود سمجھ میں آرہی ہے، یعنی اگر کافر لوگ اس وقت کو جان لیں تو نہ کبھی اسے جلدی طلب کریں، نہ اس کا مذاق اڑائیں اور نہ اس کا انکار کریں۔ دوسری تفسیر یہ کہ یہ حرف تمنی ہے، یعنی ”کاش کہ کافر لوگ اس وقت کو جان لیں“ اس صورت میں جزا کی ضرورت نہیں۔ وَلَا هُمْ يُنْــصَرُوْنَ : کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا اور نہ وہ اپنی یا ایک دوسرے کی مدد کرسکیں گے۔ دیکھیے سورة طارق (10) ، صافات (25، 26) اور شعراء (92 تا 95)۔
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ ان پر اچانک آئے گی تو انھیں مبہوت کر دے گی، پھر وہ نہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔

بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً۔۔ : ”بلکہ وہ ان کے پاس اچانک آئے گا۔“ ”تَاْتِيْهِمْ“ کی ضمیر سے مراد قیامت ہے، کیونکہ آگ کا چاروں طرف سے گھیرنا قیامت کے دن ہوگا۔ اچانک آنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا وقت معلوم ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ نے وہ کسی کو بتایا ہے۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (15) ، اعراف (187) اور نازعات (42 تا 46) نہ قیامت آہستہ آہستہ بتدریج آئے گی کہ اس کے آنے کا علم ہوجائے۔ (بقاعی) بلکہ اچانک آئے گی، اسی لیے اس کا ایک نام ”اَلسَّاعَۃُ“ ہے، اس لیے کہ وہ ایک ساعت (گھڑی) میں قائم ہوجائے گی۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَھُمَا فَلاَ یَتَبَایَعَانِہٖ وَلَا یَطْوِیَانِہٖ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِہٖ فَلَا یَطْعَمُہٗ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَھُوَ یَلِیْطُ حَوْضَہٗ فَلَا یَسْقِيْ فِیْہِ وَلَتَقُوْمَنَّ السَّاعَۃُ وَقَدْ رَفَعَ أَحَدُکُمْ أُکْلَتَہُ إِلٰی فِیْہِ فَلَا یَطْعَمُھَا) [ بخاري، الرقاق، بابٌ : 6506۔ مسلم : 2954 ] ”قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ دو آدمیوں نے اپنا کپڑا پھیلایا ہوگا، پھر نہ اس کی خریدو فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ آدمی اپنے دودھ والے جانور کا دودھ لائے گا تو اسے پیے گا نہیں اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ وہ اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا تو اس میں اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا ہوگا تو کھا نہیں سکے گا۔“ فَتَبْهَتُهُمْ : ”بَھَتَ یَبْھَتُ بَھْتًا“ (ع، ن، ک) اچانک آپکڑنا، لاجواب کردینا، حیران کردینا۔ (قاموس) ”یعنی وہ انھیں مبہوت (حیرت زدہ) کر دے گی۔ ”فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ رَدَّهَا“ کیونکہ نہ وہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ اس پر صبر کرسکیں گے۔ ”وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ“ اور نہ انھیں کوئی مہلت ملے گی کہ ایک لمحہ آرام کرلیں، کیونکہ مہلت کی مدت تو اس سے پہلے پوری ہوچکی ہوگی۔ (قاسمی)
Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا انھیں اسی چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ۔۔ :”حَاقَ یَحِیْقُ“ گھیر لینا۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ کفار کے مذاق اڑانے اور جھٹلانے سے بددل نہ ہوں، آپ سے پہلے پیغمبروں کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ انھوں نے اللہ کے جس عذاب سے ڈرایا اس کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ آخر کار ان مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ آپ کا مذاق اڑانے والوں کا انجام بھی یہی ہوگا۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

کہہ کون ہے جو رات اور دن میں رحمان سے تمہاری حفاظت کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بالَّيْلِ۔۔ :”کَلَأَ یَکْلَؤُ“ (ف) پہرا دینا، حفاظت کرنا۔ (قاموس) ”مِنَ الرَّحْمٰنِ“ سے مراد ”مِنْ أَمْرِ الرَّحْمَانِ“ یا ”مِنْ عَذَاب الرَّحْمٰنِ“ ہے۔ (طبری وغیرہ) پچھلی آیت میں رسولوں کا مذاق اڑانے والی گزشتہ اقوام کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے گھیر لینے کا ذکر تھا، اس آیت میں موجود کفار سے خطاب ہے کہ وہ کون ہے جو رات یا دن کسی وقت آنے والے رحمٰن کے عذاب سے تمہاری حفاظت کرتا ہے ؟ درحقیقت یہ سوال کفار کو لاجواب کرنے کے لیے ہے، کیونکہ اگر وہ اس کا جواب دیں تو انھیں ماننا پڑے گا کہ دن رات پیش آنے والی بیشمار آفات و مصائب سے اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کوئی ان کی حفاظت کرتا ہے اور نہ بچا سکتا ہے، اس لیے وہ اس سوال کا جواب ہی نہیں دیں گے۔ ”ۭ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ“ بلکہ وہ ایسا جواب دینے سے گریز ہی کریں گے جس میں ان کے رب کا ذکر آئے۔ (التسہیل) زمحشری نے فرمایا : ”بلکہ انھوں نے اپنے رب کے ذکر (یاد یا نصیحت) ہی سے منہ موڑ رکھا ہے، وہ اس کے عذاب سے کیا ڈریں گے۔“ ابن کثیر ؓ نے ”مِنَ الرَّحْمٰنِ“ کا معنی ”بَدْلَ الرَّحْمَانِ“ فرمایا ہے، یعنی وہ کون ہے جو دن رات میں آنے والی بیشمار آفات سے رحمٰن کے بجائے تمہاری حفاظت کرتا ہو ؟ ظاہر ہے ایسا کوئی نہیں۔ ”الرَّحْمٰنِ“ کے لفظ میں اشارہ ہے کہ رات دن میں پیش آنے والی بیشمار آفات و حوادث سے تمام انسانوں حتیٰ کہ کفار کی بھی ایک وقت تک حفاظت کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ) [ الرعد : 11 ] ”اس کے لیے اس (انسان) کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم (یعنی عذاب اور دوسری آفات) سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ ”ۧقُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ“ میں کفار کو مخاطب فرمایا، پھر نفرت کے اظہار کے لیے انھیں غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ ”بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ“ یعنی یہ خطاب کے قابل ہی نہیں۔ اسے التفات کہتے ہیں، اس کی ایک اور مثال کے لیے دیکھیے سورة یونس (22)۔
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

یا ان کے لیے ہمارے سوا کوئی اور معبود ہیں، جو انھیں بچاتے ہیں ؟ وہ نہ خود اپنی جانوں کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے۔

اَمْ لَـهُمْ اٰلِـهَةٌ تَمْــنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا : ”اَمْ“ کا عطف اس سے پہلے محذوف جملہ استفہامیہ پر ہوتا ہے۔ (بقاعی) یعنی کیا حقیقت وہی ہے جو اوپر گزری کہ ہمارے عذاب سے انھیں کوئی بچانے والا نہیں، یا ہمارے سوا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں جو ان کو بچاتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں ؟ ”مِّنْ دُوْنِنَا“ کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”یا ان کے کوئی ایسے معبود ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کو بچاتے اور ان کا دفاع کرتے ہیں۔“ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَـصْرَ اَنْـفُسِهِمْ : یہ اس کا رد ہے کہ ان کے معبود انھیں بچا سکتے ہیں، یعنی ان کے بنائے ہوئے معبود اپنی مدد نہیں کرسکتے تو ان کی یا کسی اور کی کیا مدد کریں گے ؟ وَلَا هُمْ مِّنَّا يُصْحَبُوْنَ : ”اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے“ یہ کفار کے اس عقیدے کا رد ہے کہ ہمارے معبود ہمیں بچانے کی طاقت نہ بھی رکھتے ہوں تو انھیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کا ساتھ حاصل ہے، جس کی بدولت وہ جو چاہیں کروا لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے معبود نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ انھیں ہمارا کسی قسم کا ساتھ یا تائید حاصل ہے۔ اس کے قریب معنی والی آیت دیکھیے سورة زمر (3)۔ (ابن عاشور)
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سازو سامان دیا، یہاں تک کہ ان پر لمبی عمر گزر گئی، پھر کیا وہ دیکھتے نہیں کہ بیشک ہم زمین کو آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے گھٹاتے آتے ہیں، تو کیا وہی غالب آنے والے ہیں ؟

بَلْ مَتَّعْنَا هٰٓؤُلَاۗءِ وَاٰبَاۗءَهُمْ۔۔ : یعنی ان کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بےپروا ہونے، پیغمبر کا مذاق اڑانے اور جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی، انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھانے کا جو موقع دیا تو اس پر احسان مند ہونے کے بجائے اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ یہ نعمت ہمیشہ رہے گی، کبھی زائل نہ ہوگی، جیسا کہ فرمایا : (اَوَلَمْ تَكُوْنُوْٓا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ) [ إبراہیم : 44 ] ”اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمہارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔“ اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوش حالی میں اس قدر مست ہوگئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ ان کے اوپر کوئی ان کا رب بھی ہے، جو جب چاہے عذاب بھیج کر ان کا نام و نشان مٹا سکتا ہے۔ اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا۔۔ : یعنی کیا یہ مشرکین جو عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اس عذاب کے آثار اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کی زمین کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اسے مسلسل کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلمان شہروں پر شہر اور علاقوں پر علاقے فتح کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ وقت آ رہا ہے کہ ان کی مقبوضہ زمین گھٹتے گھٹتے ساری کی ساری ان کے قبضے سے نکل جائے گی، تو کیا پھر بھی یہی غالب ہوں گے ؟ زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَسْـــَٔـلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا) [ یوسف : 82 ] ”اور اس بستی سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے۔“ یہاں بستی سے مراد بستی میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کیا یہ کافر ہماری زبردست قدرت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ بےسروسامان اور مظلوم و مقہور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ان سرداروں کے ساتھی مسلمان ہوتے جا رہے ہیں، جس سے کفار کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، جو آخر کار ختم ہوجانے والی ہے۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ہماری زبردست قدرت نہیں دیکھتے کہ ہم آسمانی اور زمینی آفات مثلاً طوفانوں، سیلابوں، زلزلوں، آتش فشاں پہاڑوں کی ہلاکت خیزیوں، جنگوں، وباؤں اور دوسرے عذابوں کی صورت میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرکے آباد زمینوں کو بےآباد کردیتے ہیں ؟ ان کے اردگرد ہود ؑ ، صالح ؑ ، لوط ؑ اور قوم سبا کی برباد شدہ بستیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں، بھلا ہماری اس عظیم الشان قوت کے مقابلے میں یہ لوگ غالب آسکتے ہیں ؟ پہلا مطلب الفاظ کے بہت قریب ہے، مگر سورت مکی ہونے کی وجہ سے آخری دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ مزید دیکھیے سورة رعد (41)۔
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہہ دے میں تو تمہیں صرف وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں اور بہرے پکارکو نہیں سنتے، جب کبھی ڈرائے جاتے ہیں۔

قُلْ اِنَّمَآ اُنْذِرُكُمْ بالْوَحْيِ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا کام تو وحی کے مطابق تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، عذاب لانا نہیں۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور فوراً عذاب لانا اس کی کونی اور شرعی حکمتوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہوتا ہے۔ وَلَا يَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَاۗءَ : بہروں سے مراد کفار ہیں جنھیں حق سنائی ہی نہیں دیتا۔ الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”یہ بہرے“ کیا گیا ہے۔ آیت کے شروع میں کفار کو مخاطب فرمایا کہ ”میں تو تمہیں وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں“ پھر فرمایا ”یہ بہرے پکار نہیں سنتے“ ، بعد میں انھیں غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا کہ یہ لوگ مخاطب کرنے کے اہل ہی نہیں، یہ التفات ہے۔ اِذَا مَا يُنْذَرُوْنَ : ”جب ڈرائے جاتے ہیں“ کے الفاظ سے ان کے بہرے پن کی شدت بیان کرنا مقصود ہے، کیونکہ بہرہ تو کوئی بھی بات نہیں سنتا، خواہ ڈرانے کی ہو یا خوش خبری کی، مگر عام دستور ہے کہ ڈرانے کے وقت زیادہ سے زیادہ اونچی آواز کے ساتھ پکارا جاتا ہے۔ تو جو بہرہ اتنی بلند پکار نہ سنے وہ کوئی اور آواز کیا سنے گا ؟
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور یقینا اگر انھیں تیرے رب کے عذاب کی ایک لپٹ چھو جائے تو ضرور ہی کہینگے ہائے ہماری بربادی ! بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔

وَلَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ۔۔ : ”نَفْحَةٌ“ کسی چیز کا ایک دفعہ کا تھوڑا سا حصہ، مثلاً ہوا کا ہلکا سا جھونکا، آگ یا گرمی کی معمولی سی لپٹ، خوشبو کی ہلکی سی لپٹ۔ یعنی آج تو یہ لوگ تکبر کی وجہ سے بہرے ہو رہے ہیں مگر جلد ہی ان کی یہ حالت بدل جائے گی اور عذاب کا تو ذکر ہی کیا، اگر صرف ایک مرتبہ اس کی ذرا سی لپٹ انھیں چھو بھی گئی تو ساری شیخی ختم ہوجائے گی اور واویلا کرنے لگیں گے، مگر اس وقت چیخ پکار کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کفار کا عذاب دیکھتے ہی اپنے ظالم ہونے کا اقرار قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہے۔ دیکھیے سورة مومن (84، 85)۔ ہلکے سے ہلکے عذاب سے ان کی یہ حالت ہونے کی تصویر کشی کے لیے تین مبالغے استعمال کیے گئے۔ لفظ ”مَسّ“ (چھونا) اور ”نَفْحَةٌ“ کا لفظ، جس کا معنی کسی بھی چیز کا کم از کم ہونا ہے اور ”نَفْحَةٌ“ میں ”تاء“ جو ایک مرتبہ کے مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ (زمحشری)
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔

وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ۔۔ : پچھلی آیات میں ذکر ہوا ہے کہ کفار کے پاس جب تک قدرت رہتی ہے وہ عدل و انصاف سے کنارہ کش اور ظلم و جور پر تلے رہتے ہیں اور اختیار ختم ہوتے ہی حق کا اعتراف کرنے لگتے ہیں، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس طرح نہیں، وہ ہمیشہ ”قَاءِمًا بالْقِسْطِ“ انصاف پر قائم ہے، حتیٰ کہ قیامت کے دن بھی وہ انصاف کے ترازو قائم فرمائے گا، پھر کسی جان پر کچھ ظلم نہیں ہوگا۔ (بقاعی) ”الْمَوَازِيْنَ“ ”مِیْزَانٌ“ کی جمع ہے۔ ”الْقِسْطَ“ مصدر ہے جو اسم فاعل ”مُقْسِطٌ“ کے معنی میں ہے اور ”الْمَوَازِيْنَ“ کی صفت ہے، جیسے مبالغے کے لیے عادل آدمی کو ”رَجُلٌ عَدْلٌ“ کہہ لیتے ہیں، یعنی اتنا عادل آدمی کہ سراپا عدل ہے۔ یعنی ہم ایسے ترازو رکھیں گے جو اتنے انصاف والے ہیں گویا عین انصاف ہیں۔ موصوف واحد ہو یا تثنیہ یا جمع، مذکر ہو یا مؤنث، اگر اس کی صفت مصدر ہو تو وہ سب کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے۔ ”الْقِسْطَ“ مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی ہم انصاف کے لیے بہت سے ترازو رکھیں گے۔ ”الْمَوَازِيْنَ“ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن متعدد ترازو ہوں گے، جن کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا، پھر یا تو ہر آدمی کے لیے الگ ترازو ہوگا یا ہر عمل کے لیے۔ نیز دیکھیے سورة اعراف (7)۔ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا : ”پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہیں کیا جائے گا“ یعنی نہ نیکیوں میں کچھ کمی آئے گی اور نہ برائیوں میں کوئی اضافہ ہوگا۔ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ 3۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة زلزال (7، 8) اور لقمان (16)۔ وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ : ہم حساب لینے والے کافی ہیں، ہمیں کسی مدد گار کی ضرورت نہیں، پھر نہ ہمارے حساب کے بعد کسی پڑتال کی گنجائش ہے اور نہ کہیں اپیل ہوسکتی ہے۔
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ اور ہارون کو خوب فرق کردینے والی چیز اور روشنی اور نصیحت عطا کی ان متقی لوگوں کے لیے۔

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى وَهٰرُوْنَ۔۔ : سورت کے شروع سے توحید، نبوت اور قیامت پر بات چلی آرہی ہے، اب چند انبیاء کے واقعات کا آغاز ہوتا ہے۔ مقصد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان انبیاء کی طرح آپ بھی پوری تن دہی سے دعوت کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل میں صبر و استقامت سے کام لیں، اس کے علاوہ اس بات کی تفصیل ہے کہ پہلے تمام انبیاء بشر تھے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے موسیٰ اور ہارون ؑ کا ذکر فرمایا۔ قرآن مجید میں اکثر موسیٰ ؑ اور نبی کریم ﷺ کا اور دونوں کی کتابوں کا ذکر اکٹھا آتا ہے، کیونکہ دعوت کے ساتھ جہاد کا سلسلہ موسیٰ ؑ سے شروع ہوتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں دونوں کے درمیان بڑی مماثلت ہے۔ الْـفُرْقَانَ وَضِيَاۗءً وَّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ : ”الْـفُرْقَانَ“ اور ”اَلْفَرْقُ“ کا معنی ایک ہی ہے، الف اور نون کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا ہے، یعنی حق و باطل کے درمیان خوب فرق کرنے والی چیز۔ اس سے مراد تورات بھی ہے، معجزے اور جادو کے درمیان فرق کرنے والے معجزے بھی اور موسیٰ اور ہارون ؑ اور بنی اسرائیل کو فرعونیوں پر حاصل ہونے والی فتح و نصرت بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یوم بدر کو یوم الفرقان قرار دیا۔ گویا ”الْـفُرْقَانَ“ کتاب، معجزات اور نصرت الٰہی تینوں کی صفت ہوسکتی ہے، کیونکہ تینوں ہی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہیں۔ اسی طرح ”وَضِيَاۗءً“ اور ”َّذِكْرًا لِّـلْمُتَّـقِيْنَ“ بھی تینوں کی صفت ہیں، کیونکہ تورات، معجزات اور نصرت الٰہی تینوں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی بھی ہیں، ایمان کی روشنی بھی ہیں اور نصیحت بھی۔ مگر کتاب، معجزات اور نصرت الٰہی کے مشاہدے سے حق و باطل کے درمیان فرق، ایمان کی روشنی اور نصیحت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو متقی ہو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (2) کی تفسیر۔
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے ڈرنے والے ہیں۔

الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ : اس کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ وہ اپنے رب کو دیکھے بغیر اس کا شدید خوف رکھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہونے کی حالت میں بھی وہ اپنے رب سے بہت ڈرتے ہیں۔ ان کے کسی عمل سے مقصود نہ ریا ہے اور نہ لوگوں کی طعن تشنیع سے بچنا، بلکہ ان کے ہر عمل کا باعث صرف اپنے رب کی خشیت ہے۔ وَهُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ : یہ جملہ اسمیہ ہے جس میں دوام پایا جاتا ہے، ”اشفاق“ کا معنی ہے کسی آنے والے حادثے کا شدید کھٹکا، یعنی انھیں ہر وقت قیامت کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ ایک بابرکت نصیحت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، تو کیا تم اسی سے منکر ہو ؟

وَھٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ ۭ : ”ھٰذَا“ (یہ) سے مراد قرآن مجید ہے، سامعین کے ذہن میں حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی طرف ”ھٰذَا“ کے ساتھ اشارہ فرمایا ہے۔ ”ھٰذَا“ یعنی یہ نصیحت ہے اور یاد دہانی بھی۔ ”ذِكْرٌ“ جس میں بہت برکت، یعنی بیشمار بھلائیاں ہیں اور ہم نے (اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا ہے) اسے نازل کیا ہے۔ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ : ہم نے موسیٰ اور ہارون ؑ کو تورات اور معجزات عطا کیے، تم لوگ انھیں مانتے ہو تو یہ بابرکت ذکر یعنی قرآن بھی ہم نے ہی نازل کیا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم اسے نہیں مانتے ؟
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جاننے والے تھے۔

وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ۔۔ : ”رُشْدٌ“ ہدایت اور سیدھا راستہ، یہ لفظ ”غَیٌّ“ کے مقابلے میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ) [ البقرۃ : 256 ] ”بلاشبہ ہدایت گمراہی سے صاف واضح ہوچکی۔“ اور سمجھ بوجھ اور ہوش مندی کے معنی میں بھی، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا) [ النساء : 6 ] ”پھر اگر تم ان سے کچھ سمجھ داری معلوم کرو۔“ ”رُشْدَهٗ“ یعنی وہ سمجھ بوجھ جو اس کے لائق تھی۔ مِنْ قَبْلُ : یعنی موسیٰ اور ہارون ؑ سے پہلے یا نبوت عطا کرنے سے پہلے۔ بعض نے کہا غار سے نکلنے کے بعد۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (75 تا 79)۔ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ : یعنی ہم اسے جانتے تھے کہ ہم نے اس میں کیا کیا خوبیاں اور صلاحیتیں رکھی تھیں۔ ابراہیم ؑ کی جتنی بھی خوبیاں بیان کرلی جائیں اللہ تعالیٰ کی یہ شہادت ان سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ منصب عطا ہی اسے ہوتا ہے جو اللہ کے علم میں اس کا اہل ہو، فرمایا : (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) [ الأنعام : 124 ] ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو ؟

اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ۔۔ : ”التَّـمَاثِيْلُ“ ”تِمْثَالٌ“ کی جمع ہے، اللہ تعالیٰ کی کسی مخلوق کی مثل بنائی ہوئی صورت، مجسمہ۔ بت پرست عموماً انسانوں کے مجسموں کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ سمجھ بوجھ جو موسیٰ ؑ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو عطا فرمائی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا حق ہونا اور بتوں اور دوسرے تمام معبودوں کا باطل ہونا۔ ابراہیم ؑ کی قوم بت پرست بھی تھی، ستارے، چاند اور سورج کی پرستش بھی کرتی تھی اور بادشاہ کو بھی رب مانتی تھی۔ ستارے، چاند اور سورج کے معبود نہ ہونے کے لیے ابراہیم ؑ کی نہایت مدلل، مؤثر اور لاجواب دعوت سورة انعام (76 تا 83) میں ملاحظہ فرمائیں۔ بادشاہ کے رب نہ ہونے کی دعوت سورة بقرہ (258) میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں بتوں کے بےاختیار ہونے کی تبلیغ اور اس کا عملی اظہار فرمایا ہے۔ مَا هٰذِهِ التَّـمَاثِيْلُ۔۔ : ”هٰذِهِ“ کا اشارہ بتوں کی تحقیر کے لیے ہے۔ ابراہیم ؑ نے نادان بنتے ہوئے اپنے باپ اور اپنی قوم سے بتوں کا تذکرہ نہایت تحقیر کے ساتھ کرتے ہوئے پوچھا : ”یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو، کیا چیز ہیں ؟“ گویا ابراہیم ؑ ان کو کوئی چیز ماننے ہی پر تیار نہ تھے، کیونکہ وہ نہ سنتے تھے اور نہ کوئی فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے تھے۔ دیکھیے سورة مریم (42)۔
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرنے والے پایا ہے۔

قَالُوْا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا۔۔ : ابراہیم ؑ کے والد اور ان کی قوم کے پاس بتوں کی عبادت کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل نہ تھی، اس لیے انھوں نے تقلید کا سہارا لیا اور کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرنے والے پایا ہے، حالانکہ باپ دادا سیدھے راستے پر ہوں تو بیشک ان کے پیچھے چلو، لیکن اگر وہ غلط راستے پر ہوں تو غلط راستے پر چلتے جانا کہاں کی دانش مندی ہے ؟
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

کہا بلاشبہ یقینا تم اور تمہارے باپ دادا کھلی گمراہی میں تھے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : اس کا یہ معنی نہیں کہ تم اور تمہارے باپ دادا ماضی میں گمراہی میں مبتلا تھے اب نہیں، بلکہ ”کَانَ“ دوام اور استمرار کے لیے ہے اور ”فِيْ“ ان کے گمراہی میں بری طرح پھنسے ہونے کے اظہار کے لیے ہے، جیسا کہ ابوالسعود نے فرمایا : ”وَ مَعْنٰی ”كُنْتُمْ“ مُطْلَقُ اِسْتَقْرَارِھِمْ عَلَی الضَّلاَلِ لاَ اسْتِقْرَارُہُمُ الْمَاضِيْ الْحَاصِلِ قَبْلَ زَمَانِ الْخَطَابِ الْمُتَنَاوِلِ لَھُمْ وَلِآبَاءِھِمْ“ خلاصہ یہ کہ ابراہیم ؑ نے واشگاف الفاظ میں فرما دیا کہ بلاشبہ یقیناً تم اور تمہارے باپ دادا پہلے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے اور اب بھی مسلسل ایسے ہی چلے آرہے ہو۔ کیونکہ بت پرستی سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے ؟

قَالُوْٓا اَجِئْـتَنَا بالْحَــقِّ۔۔ : قوم کو بت پرستی کے حق ہونے کا اتنا یقین تھا کہ وہ سوچ ہی نہ سکتے تھے کہ کوئی شخص اسے کھلی گمراہی قرار دے سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ابراہیم ؑ جیسے حسن اخلاق والے شخص سے (جو کوئی ایسی بات کہتا ہی نہیں جو کسی کو ناگوار گزرے) صاف گمراہی کا فتویٰ سن کر انھیں یقین نہ آیا کہ ابراہیم ؑ یہ بات سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔ وہ سمجھے کہ آپ مذاق کر رہے ہیں، اس لیے انھوں نے پوچھا کہ آپ یہ حقیقت بیان کر رہے ہیں یا دل لگی کر رہے ہیں ؟
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

کہا بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انھیں پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں سے ہوں۔

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ۔۔ : ”بَلْ“ (بلکہ) سے پہلے کلام کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے، یعنی میں یہ بات مذاق سے نہیں بلکہ پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں کہ یہ مورتیاں اور مجسّمے رب نہیں ہیں بلکہ تمہارا رب صرف وہ ہے جو تمام آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے۔”رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ“ مبتدا اور خبر دونوں کے معرفہ ہونے سے حصر کا معنی پیدا ہو رہا ہے۔ وَاَنَا عَلٰي ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ : یعنی میں یہ بات دلیل سے ثابت کرسکتا ہوں، تمہاری طرح نہیں کہ آبا و اجداد کی تقلید کے سوا میرے پاس کوئی دلیل ہی نہ ہو (کیونکہ شہادت اسی بات کی دی جاتی ہے جس کا انسان کو یقینی علم ہو، جب کہ تقلید اور علم ایک دوسرے کے منافی ہیں)۔ (رازی)
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم ! میں ضرور ہی تمہارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔

وَتَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ۔۔ : ابراہیم ؑ نے زبان سے بتوں کی تردید کے بعد سمجھا کہ ان لوگوں کو زبانی سمجھانا کافی نہیں بلکہ ان کے دماغوں میں ان بتوں کی خدائی اور مشکل کشائی کا جما ہوا عقیدہ ختم کرنا ایک زبردست عملی کارروائی کے بغیر ممکن نہیں، جس سے ان کی بےبسی صاف واضح ہوجائے۔ چونکہ ان تک پہنچنا اور کارروائی کرنا آسان نہ تھا، تو اس کام کے لیے انھوں نے اس دن کا انتخاب فرمایا جب سب لوگوں کے جشن پر جانے سے کارروائی کا موقع مل سکتا تھا۔ دیکھیے سورة صافات (88 تا 90)۔ 3 ابراہیم ؑ نے بتوں کے باطل ہونے کو عمل سے ثابت کرنے سے پہلے اللہ کی قسم کھا کر اپنے ارادے کا اعلان فرمایا۔ کچھ لوگ پختہ قبروں یا آستانوں اور بتوں کو خفیہ طریقے سے توڑ دیتے ہیں اور روپوش ہوجاتے ہیں اور اپنے اس عمل کو سنت ابراہیمی قرار دیتے ہیں، لیکن اگر واقعی وہ سنت ابراہیمی کے پیروکار ہیں تو انھیں چاہیے کہ اعلان کرکے یہ کام کریں، تاکہ اس کے نتیجے کے ذمہ دار بھی خود بنیں اور ابراہیم ؑ جیسی استقامت دکھائیں۔ یہ نہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ 3 بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم ؑ نے یہ بات دل میں کہی۔ بعض نے لکھا ہے کہ جب سب لوگ چلے گئے تو انھوں نے ایک آدھ آدمی کی موجودگی میں یہ بات کہی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسرائیلیات ہیں۔ قرآن مجید نے صاف الفاظ میں ان کے اپنے والد اور قوم کے سامنے یہ بات کہنے کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر قوم کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے، اس لیے انھوں نے اس کی پروا نہیں کی۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔

فَجَــعَلَهُمْ جُذٰذًا : ”جُذٰذًا“ ”جَذَّ یَجُذُّ“ (قطع کرنا اور ریزہ ریزہ کرنا) میں سے ”فُعَالٌ“ بمعنی مفعول (مَجْذُوْذٌ) ہے، یعنی ریزہ ریزہ، ٹکڑے ٹکڑے۔ اسی کے ہم وزن اور ہم معنی ”حُطَامٌ“ اور ”فُتَاتٌ“ ہیں۔ ابراہیم ؑ کی قوم کے لوگ اپنے خاص جشن کے موقع پر گھروں سے باہر نکلتے اور سارا دن جشن مناتے، چناچہ انھوں نے ابراہیم ؑ کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی مگر انھوں نے بیماری کا عذر کرلیا۔ (صافات : 88 تا 90) ابراہیم ؑ موقع پا کر بت خانے کے اندر داخل ہوگئے، پہلے ان سے کچھ خطاب کیا، جس کا تذکرہ سورة صافات میں ہے، جواب نہ پا کر پوری قوت سے انھیں توڑنا شروع کردیا اور ایک کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ یہاں اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم ؑ نے سب کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا، مگر یہ محض اسرائیلی روایت ہے، قرآن یا حدیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ پھر پتھر کے بت توڑنے کے لیے کلہاڑے کے بجائے ہتھوڑا استعمال ہوتا ہے۔ ہاں اگر لکڑی کے بت ہوں تو الگ بات ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے ابراہیم ؑ نے ان بتوں کو کیسے ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اس کے لیے صرف ایک ہتھیار استعمال کیا یا جس جس اوزار کی ضرورت تھی سب استعمال فرمائے۔ اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ :”كَبِيْرًا“ نکرہ ہے، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔ معلوم ہوا کہ ان کے بڑے بت کئی تھے، مگر ابراہیم ؑ نے ایک بڑے کے سوا چھوٹے بڑے تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اس کی تائید آئندہ آیت (63) ”َ بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ“ سے بھی ہوتی ہے کہ ”یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس بڑے کے سوا اور بھی بڑے بت تھے جو اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔ (بقاعی) جو لوگ اسے ان کے سب بتوں سے بڑا بت قرار دیتے ہیں قرآن کے الفاظ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ ”سوائے ان کے ایک بڑے کے“ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں یا ان کے معبودوں کو ”کبیر“ نہیں فرمایا، ہاں ”ان کے ہاں کبیر“ فرمایا ہے، کیونکہ وہ اسے کبیر مانتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت کا خط بھیجتے ہوئے لکھا : (اِلٰی ھِرَقْلَ عَظِیْمِ الرُّوْمِ) دیکھیے ہرقل کو صرف رومیوں کے ہاں عظیم فرمایا ہے، کافر کو مطلقاً عظیم نہیں فرمایا۔ (سعدی) لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ : ان کے ایک بڑے بت کو کچھ نہیں کہا، تاکہ جب وہ سب بتوں کو ٹوٹا ہوا اور اسے صحیح سلامت دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ جناب آپ کے غصے کا باعث کیا ہوا کہ آپ نے ان سب خداؤں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو آپ کے ہوتے ہوئے کوئی ظالم یہ کام کیسے کر گیا ؟ ایک معنی اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابراہیم ؑ نے ایک بڑے کے سوا تمام بت ٹکڑے ٹکڑے کردیے کہ وہ لوگ جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم ؑ ہی کی طرف جائے گا، پھر جب وہ ان سے پوچھیں گے تو انھیں شرک کی تردید کا بہترین موقع مل جائے گا۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

انھوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ بلاشبہ وہ یقینا ظالموں سے ہے۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ ھٰذَا بِاٰلِـهَتِنَآ : مشرکوں کے عقل سے عاری ہونے کی کیسی زبردست تصویر ہے۔ کہنے لگے، ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے ؟ سوچا ہی نہیں کہ وہ معبود ہی کیا جو اپنا دفاع بھی نہ کرسکے ؟ لطف یہ کہ سب نے یہی کہا کہ کوئی اور ان کے خداؤں کا یہ حال کر گیا ہے۔ قبر پرستوں کا بھی یہی حال ہے ؂ جو کروٹ بدلنا نہیں جانتے ہیں انھیں آپ مشکل کشا مانتے ہیں اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيْنَ : ”إِنَّ“ اور لام کی تاکید کے ساتھ، بیشک وہ یقیناً ظالموں سے ہے کہ اس نے مشکل کشاؤں کی تعظیم کے بجائے ان کا یہ حال کردیا ہے۔ یا اس لیے کہ مارنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اس ظالم نے تو انھیں اتنا مارا ہے کہ ان کا کچھ باقی ہی نہیں چھوڑا اور نہ انھیں ذلیل کرنے میں کوئی کسر رہنے دی ہے۔ (رازی)
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَـتًى يَّذْكُرُهُمْ۔۔ : بتوں کو توڑنے کا مجرم تلاش کرنے میں انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ جن لوگوں نے وہ تقریر سنی تھی، جو ابراہیم ؑ نے اپنے والد اور قوم کے سامنے کی تھی اور جس میں انھوں نے صاف اعلان کیا تھا کہ اللہ کی قسم ! میں ضرور تمہارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو سنا ہے جو ان (بتوں) کا ذکر کر رہا تھا، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ ان مشرکوں کا ابراہیم ؑ کی تحقیر کا انداز دیکھیے، وہ انھیں ابراہیم نامی ایک غیر معروف جوان بتا رہے ہیں، حالانکہ ابراہیم ؑ جیسی شخصیت گمنام ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ بھلا سورج یا چاند بھی چھپے رہ سکتے ہیں ؟ پھر وہ اس عمل کا باعث ان کی جوانی کو قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ان جاہلوں کو معلوم ہی نہیں کہ اس جوان کی جوانی دیوانی نہیں بلکہ ایسی ہوش مند ہے جس پر بیشمار پختہ عمروں کی پختہ عمری قربان ہے۔ ”يَّذْكُرُهُمْ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (36)۔