Ayah 21:61قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰٓي اَعْيُنِ النَّاسِ : کہنے لگے، اگر ایسا ہے تو اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لاؤ۔
لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُوْنَ : اس کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہوجائیں کہ یہی شخص ہے جو بتوں کی برائی بیان کرتا تھا اور ان کا بندوبست کرنے کی قسمیں اٹھاتا تھا اور اس کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے کہ یہ کام بھی اسی کا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کوئی موقع کا گواہ بھی مل جائے، جس نے اسے بت توڑتے ہوئے دیکھا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک ہونے کے باوجود وہ لوگ ملزم پر جرم ثابت کرنا ضروری سمجھتے تھے، جو ان کے نزدیک جرم تھا۔ بقاعی ؓ لکھتے ہیں : ”اب اللہ تعالیٰ کی جناب ہی میں ان لوگوں کی شکایت ہے جو (مسلمان ہو کر) اپنے دین کے اکابر کو بغیر کسی دلیل یا تہمت کے پکڑ کر بند کردیتے ہیں (نہ فرد جرم، نہ کوئی گواہ اور نہ کوئی اور ثبوت، بلکہ اکثر اوقات انھیں بےگناہی کے جرم میں پکڑ لیتے ہیں)۔“ دوسرا معنی یہ ہے کہ اسے لوگوں کے سامنے لاؤ، تاکہ وہ گواہ ہوجائیں اور آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اس کے ساتھ کیسا عبرتناک سلوک کیا جاتا ہے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی جرأت نہ ہو۔ وہ تو ابراہیم ؑ کو مجرم ثابت کرنے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر رہے تھے مگر درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم ؑ کی دلی تمنا پوری ہونے کا سامان ہو رہا تھا کہ کسی طرح سب لوگ جمع ہوں تو وہ ان کے سامنے بتوں کی بےبسی اور مشرکوں کی بےعقلی واضح کریں، جیسا کہ موسیٰ ؑ کے لیے عید کے دن دوپہر کے وقت تمام لوگوں کو کھلے میدان میں جمع کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (58، 59)۔
Ayahs 21:62–63قَالُوْٓا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ ھٰذَا۔۔ : لوگوں کے سوال کے جواب میں کہ اے ابراہیم ! کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے ؟ ابراہیم ؑ نے ان کے بتوں کی بےبسی و بےچارگی واضح کرنے کے لیے شدید طنز کرتے ہوئے فرمایا : ”بلکہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں۔“ مراد خود ان کے منہ سے اس بات کا اقرار کروانا تھا کہ بت نفع یا نقصان تو دور کی بات ہے بول کر بتا بھی نہیں سکتے کہ ان کا یہ حال زار کون کر گیا ہے۔ ”فَسْـَٔــلُوْهُمْ“ (سو ان سے پوچھ لو) یعنی صحیح سالم رہنے والے ان کے اس بڑے سے پوچھو کہ اس نے بت کیوں توڑے اور اگر کسی اور نے توڑے ہیں تو اس نے اپنے ساتھیوں کا دفاع کیوں نہیں کیا ؟ اور ٹوٹے ہوئے خداؤں سے بھی پوچھو کہ کس نے ان کا یہ حال کیا اور یہ بھی کہ وہ خود یا ان کا بڑا ان کا دفاع کیوں نہیں کرسکے ؟ ان کے ایک بڑے بت کو سالم چھوڑنے میں یہ اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا اپنے ساتھ کسی بڑے یا چھوٹے مدمقابل کو برداشت نہیں کرتا تو رب تعالیٰ جس کی صفت ہی ”اللہ اکبر“ ہے، اپنے ساتھ کسی شریک کو کیسے برداشت کرسکتا ہے ؟
3 ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَمْ یَکْذِبْ إِبْرَاھِیْمُ عَلَیْہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ إِلاَّ ثَلاَثَ کَذَبَاتٍ : ثِنْتَیْنِ مِنْھُنَّ فِيْ ذَات اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ، قَوْلُہُ : (اِنِّىْ سَقِيْمٌ) [ الصافات : 89] وَ قَوْلُ : (بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا) [ الأنبیاء : 63] وَقَالَ بَیْنَا ھُوَ ذَاتَ یَوْمٍ وَسَارَۃُ إِذْ أَتَی عَلٰی جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَۃِ ، فَقِیْلَ لَہُ إِنَّ ہَاہُنَا رَجُلاً مَعَہُ امْرَأَۃٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہُ عَنْھَا فَقَالَ مَنْ ھٰذِہِ ؟ قَالَ أُخْتِيِْ فَأَتَی سَارَۃَ فَقَالَ یَا سَارَۃُ ! لَیْسَ عَلَی وَجْہِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَیْرِيْ وَ غَیْرُکِ ، وَإِنَّ ھٰذَا سَأَلَنِيْ عَنْکِ فَأَخْبَرْتُہُ أَنَّکِ أُخْتِيْ فَلاَ تُکَذِّبِیْنِيْ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا) : 3358۔ مسلم : 2371 ] ”ابراہیم ؑ نے تین دفعہ کے سوا کبھی جھوٹ نہیں کہا، جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر تھے۔ ان کا کہنا : (اِنِّىْ سَقِيْمٌ) [ الصافات : 89] ”میں بیمار ہوں“ اور ان کا یہ کہنا : (بَلْ فَعَلَه ٗٗ ڰ كَبِيْرُهُمْ ھٰذَا) [ الأنبیاء : 63 ] ”بلکہ اسے ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔“ اور آپ ﷺ نے فرمایا : ”اور ایک دفعہ وہ اور (ان کی بیوی) سارہ سفر کر رہے تھے کہ وہ جابر لوگوں میں سے ایک جابر (کی بستی) کے پاس آئے۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک آدمی ہے جس کے ساتھ ایک عورت ہے جو حسین ترین لوگوں سے ہے۔ اس نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور اس کے متعلق پوچھا اور کہا : ”وہ کون ہے ؟“ کہا : ”وہ میری بہن ہے۔“ پھر سارہ کے پاس آئے تو کہا، اے سارہ ! اس سرزمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں اور اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اسے بتایا ہے کہ تو میری بہن ہے، سو مجھے مت جھٹلانا۔“
بعض لوگوں نے اس حدیث میں ابراہیم ؑ کے تین جھوٹوں کے ذکر کی وجہ سے اس حدیث کا انکار ہی کردیا کہ ایک صدیق نبی جھوٹ کیسے بول سکتا ہے ؟ ایک روشن خیال بزرگ نے تو امام بخاری اور تمام ائمۂ حدیث کے ساتھ اس حدیث کو صحیح کہنے والے حضرات کے متعلق یہاں تک لکھ دیا ہے : ”ایک گروہ روایت پرستی میں غلو کرکے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اسے بخاری و مسلم کے چند راویوں کی صداقت زیادہ عزیز ہے اور اس بات کی پروا نہیں کہ اس سے ایک نبی پر جھوٹ کا الزام عائد ہوتا ہے۔“ ان بزرگوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ائمہ کرام یعنی بخاری، عمرو بن حفص، ان کے والد، سلیمان الاعمش، ابراہیم نخعی، علقمہ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی صداقت کو عزیز نہ رکھنے کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ جب ان کی صداقت ہی عزیر نہ رہی تو امت کے اتفاق کے ساتھ ”أَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَاب اللّٰہِ“ اور دوسری کتب حدیث کی کیا حیثیت رہ جائے گی اور امت کے پاس باقی کیا رہ جائے گا ؟ لطف یہ کہ ان بزرگوں نے ائمۂ حدیث کے صدق پر یہ مہربانی بزعم خود منکرین حدیث کے فتنے کے سد باب کے لیے فرمائی ہے۔ بھلا اس کرم فرمائی کے بعد منکرین حدیث کو کسی مزید محنت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ ایک بزرگ نے یہ تک کہہ دیا کہ ”نبی کو جھوٹا کہنے سے بہتر ہے کہ اس حدیث کے راویوں کو جھوٹا کہہ دیا جائے۔“ سبحان اللہ ! ابراہیم ؑ کو جھوٹا کس نے کہا ہے ؟ اور آپ حضرات کی دلیری کا کیا کہنا کہ جن راویوں کو پوری امت بالاتفاق سچا قرار دیتی ہے آپ انھیں جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اچھے خاصے ذہین حضرات صحیح حدیث اور ائمۂ حدیث پر اتنی جرأت کرتے ہوئے یہ بات نہ سمجھ سکے کہ اس حدیث میں ابراہیم ؑ کو جھوٹا نہیں کہا گیا بلکہ اعلیٰ درجے کا سچا (صدیق) ثابت کیا گیا ہے۔ کیونکہ جس شخص نے پوری زندگی میں ان تین باتوں کے سوا کوئی جھوٹ نہ بولا ہو، جو حقیقت میں جھوٹ ہیں ہی نہیں، بلکہ صرف ظاہر میں جھوٹ ہیں، وہ کس قدر سچا ہوگا۔ بلاغت میں اسے ”تَأْکِیْدُ الْمَدْحِ بِمَا یَشْبَہُ الذَّمَّ“ کہا جاتا ہے، یعنی ایسی تعریف جو بظاہر مذمت ہو، جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے :
وَلَا عَیْبَ فِیْھِمْ غَیْرَ أَنَّ سُیُوْفَھُمْ
بِھِنَّ فُلُوْلٌ مِنْ قِرَاعِ الْکِتَاءِبِ
”یعنی ان میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ ان کی تلواروں میں لشکروں کو کھٹکھٹانے کی وجہ سے دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“
ظاہر ہے کہ دشمنوں کے مقابلے کی وجہ سے تلواروں میں دندانے پڑجانا کوئی عیب نہیں، تو جن کا عیب یہ ہے ان کی خوبیوں کا حال کیا ہوگا۔
اب آپ ان تینوں واقعات پر غور کریں۔ وہ لوگ ابراہیم ؑ سے پوچھتے ہیں کہ اے ابراہیم ! کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ تو نے یہ کام کیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں، بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کام کیا ہے۔ ”بلکہ“ کا معنی یہی ہے کہ میں نے نہیں کیا، حالانکہ ابراہیم کو خوب معلوم تھا کہ انھوں نے ہی یہ کام کیا ہے۔ یہ بظاہر صاف جھوٹ ہے مگر حقیقت میں یہ ایک تدبیر تھی جس کے ذریعے سے وہ ان کے منہ سے اقرار کروانا چاہتے تھے کہ بت بول نہیں سکتے، نفع نقصان کا مالک ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مشرکین بھی ابراہیم ؑ کے مقصد کو سمجھ رہے تھے اور ان کے پاس یہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ بت بولتے نہیں۔ چناچہ انھوں نے اس کا اقرار کیا۔ اب جس شخص کا جھوٹ دشمنوں کے مونہوں سے کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کا اقرار کروا لے کہ اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں کچھ نہیں، اس شخص کے صدیق ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح فرمایا : (اِنِّىْ سَقِيْمٌ) [ الصافات : 89 ] کہ میں بیمار ہوں، وہ سمجھے کہ اتنے بیمار ہیں کہ ساتھ نہیں جاسکتے، حالانکہ جو شخص اتنا بیمار ہو وہ پتھروں وغیرہ کے اتنے مجسموں کا ستیا ناس کیسے کرسکتا ہے ؟ ابراہیم ؑ کے ذہن میں کفر و شرک سے نفرت کی وجہ سے پیدا ہونے والی تکلیف یا کوئی بیماری تھی، اسے عربی زبان میں تعریض کہتے ہیں کہ کہنے والا اپنے الفاظ سے کچھ مراد لے اور سننے والے کچھ اور سمجھیں۔ سننے والوں کے لحاظ سے واقعہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس پر کذب کا لفظ بولا جاتا ہے، مگر یہ حقیقت میں جھوٹ نہیں ہوتا، بلکہ جھوٹ سے بچنے کا ایک طریقہ ہے، جیسا کہ عمران بن حصین ؓ نے فرمایا : (إِنَّ فِي الْمَعَارِیْضِ لَمَنْدُوْحَۃٌ عَنِ الْکَذِبِ) [ الأدب المفرد : 857 ] ”بیشک معاریض میں کذب سے بچنے کی گنجائش ہے۔“ اسی طرح سارہ [ کو بہن کہنا بظاہر واقعہ کے خلاف تھا مگر انھیں بہن کہتے وقت اپنی مراد ابراہیم ؑ نے خود بیان فرما دی جو بالکل درست ہے۔ ان دونوں واقعوں میں ابراہیم ؑ نے تعریض سے کام لیا ہے۔ غور کیجیے وہ حدیث جس میں مذکور ہے کہ ابراہیم ؑ نے ساری زندگی میں ان تین کے سوا کوئی جھوٹ نہیں بولا، ابراہیم ؑ کو سچا ثابت کر رہی ہے یا جھوٹا ؟ چلیں مان ہی لیں کہ اس حدیث میں ابراہیم ؑ کا تین دفعہ جھوٹ بولنا واقعی بیان ہوا ہے، پھر بھی اس میں ابراہیم ؑ پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا اور نہ ان کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے، کیونکہ وہ حالت جنگ میں تھے اور جنگ میں جھوٹ بولنا جائز ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْحَرْبُ خُدْعَۃٌ) [ بخاري، الجھاد والسیر، باب الحرب خدعۃ : 3029 ] ”جنگ دھوکے کا نام ہے۔“ بتائیے ! اس میں ابراہیم ؑ کے صدق پر کیا حرف آتا ہے ؟
اوپر مذکور بزرگوں نے بڑے زور شور سے یہ بات کہی ہے کہ سند صحیح ہونا کافی نہیں، متن بھی صحیح ہونا ضروری ہے۔ یہ بات فی الواقع درست ہے اور خود محدثین نے اسے حدیث کی صحت کے لیے شرط قرار دیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امام بخاری اور دوسرے محدثین کو اس حدیث میں ابراہیم ؑ کی توہین نظر آتی تو وہ کبھی اسے صحیح قرار نہ دیتے۔ افسوس ! ہمارے ان بزرگوں کی طعن تشنیع کا نشانہ محدثین ہی بنتے ہیں، اپنی رائے اور قیاس سے ایک نئی شریعت ایجاد کرلینے والے حضرات کے متعلق ان کے دلوں اور قلموں میں بہت نرم گوشہ ہے۔ [ فَإِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ]
بائبل کے حوالے سے ابراہیم ؑ کی عمر 75 سال اور سارہ کی عمر 65 سال نقل کرکے بھی اس حدیث پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس عمر میں عورت میں کیا حسن باقی رہ جاتا ہے جو شاہ مصر اس پر فریفتہ ہو۔ افسوس ! ہمارے یہ حضرات ائمۂ محدثین پر اس قدر خفا ہیں کہ کتاب اللہ کے بعد سب سے صحیح کتاب کی حدیث انھیں غلط نظر آئی اور وہ کتاب جس میں تحریف کی خود اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے اور جس کی داخلی شہادتیں اس کے بیشمار جھوٹوں کی نشان دہی کر رہی ہیں، وہ انھیں اس قابل نظر آئی کہ انھوں نے اس کے ساتھ صحیح حدیث رسول ﷺ کو رد کردیا۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
3 یہاں ایک اشکال باقی رہ جاتا ہے کہ صحیح بخاری میں مذکور حدیث شفاعت میں ہے کہ لوگ جب ابراہیم ؑ کے پاس شفاعت کی درخواست لے کر جائیں گے تو وہ اپنے تین کذبات کا ذکر کرکے شفاعت سے عذر کردیں گے۔ اگر یہ جھوٹ نہیں تو ابراہیم ؑ شفاعت سے معذوری کیوں ظاہر کریں گے ؟ اہل علم نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو جو مرتبہ عطا فرمایا تھا ان کے خیال کے مطابق اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان موقعوں پر بھی تعریض کے بجائے صاف کہتے کہ ہاں، میں نے بت توڑے ہیں اور مشرکین کی عید پر جانے سے بیماری کے عذر کے بجائے صاف لفظوں میں انکار کردیتے کہ میں نہیں جاتا۔ اسی طرح جبار مصر کے سامنے صاف کہہ دیتے کہ سارہ میری بیوی ہے، پھر جو آزمائش آتی اس پر صبر کرتے، جس طرح دوسری بہت سی آزمائشوں پر انھوں نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں امامت کے رتبے پر سرفراز فرمایا۔ اپنے اس عمل کو اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں کے مقابلے میں کمتر سمجھ کر وہ شفاعت سے معذوری ظاہر کریں گے۔ [ أحکام القرآن لابن العربی ] دیکھیے اسی حدیث شفاعت میں ہے کہ عیسیٰ ؑ شفاعت سے یہ کہہ کر عذر کردیں گے کہ لوگوں نے میری پرستش کی، اس لیے مجھے شفاعت کے لیے جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے، حالانکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔
Ayah 21:64فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓى اَنْفُسِهِمْ۔۔ : ابراہیم ؑ کی اس زبردست چوٹ نے انھیں سوچنے پر مجبور کردیا۔ سب نے اپنے دل میں غور کیا تو کہہ اٹھے کہ تم اس جوان کو خواہ مخواہ ظالم کہہ رہے ہو، ظالم تو تم خود ہو جو ایسی بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود قرار دے کر پوجتے پکارتے اور انھیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیتے ہو، جن کی بےبسی اور بےچارگی کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو بھی دفع نہیں کرسکتے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے آپ پر گزری ہوئی مصیبت کسی دوسرے کے سامنے بیان بھی نہیں کرسکتے، تو پھر اس سے بڑھ کر ظلم اور حماقت کیا ہوسکتی ہے ؟ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے : (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔“ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تم ہی ظالم ہو کہ تم نے اپنے بتوں کی حفاظت کا خاطر خواہ بندوبست نہیں کیا، مگر پہلا معنی ہی صحیح اور مقام کے مناسب ہے۔
Ayah 21:65ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰي رُءُوْسِهِمْ۔۔ : ”نَکَسَ“ کا معنی سر کے بل الٹا کرنا ہے، یعنی سر نیچے اور پاؤں اوپر کردینا، یہ کسی بھی شخص کی بدترین حالت ہے۔ ”نُکِسَ الْوَلَدُ“ جب بچے کی ٹانگیں سر سے پہلے باہر آئیں۔ ”نُکِسَ فِی الْمَرْضِ“ تندرست ہو کر پھر بیمار ہوجانا۔ یعنی اگرچہ ابراہیم ؑ کا جواب سنتے ہی ان کے دلوں نے فیصلہ کردیا کہ ظالم تم خود ہو جو ایسے بےحس اور بےبس بتوں کو معبود بنا بیٹھے ہو جو بول کر یہ بھی نہیں بتاسکتے کہ ان پر کیا گزری، مگر پھر حق تسلیم کرنے کے بجائے ان پر ضد اور جہالت سوار ہوگئی، جس سے ان کی عقل الٹی ہوگئی اور وہ بغیر کسی حیا کے وہ بات کہنے لگے جس سے ان کی بےوقوفی اور حماقت بالکل واضح ہو رہی تھی۔ ”نُكِسُوْا“ الٹے کردیے گئے، جیسے کسی چیز نے زبردستی انھیں سر کے بل اوندھا کردیا ہو، چناچہ کہنے لگے : (لَــقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰٓـؤُلَاۗءِ يَنْطِقُوْنَ) ”بلاشبہ یقیناً تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔“
Ayah 21:66قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : ابراہیم ؑ اتنے بڑے مجمع میں ان کی زبان سے یہی کہلوانا چاہتے تھے اور سب کچھ اسی ترتیب سے ہو رہا تھا جو ابراہیم ؑ کی توقع اور خواہش کے مطابق تھی۔ ان کے لیے توحید کی دعوت اور شرک کے رد کا ایسا سنہرا موقع شاید اس سے پہلے کبھی نہ آیا ہو، چناچہ فرمایا کہ جب یہ بول ہی نہیں سکتے تو فائدہ یا نقصان پہنچانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو پھر کیا تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں اور نہ نقصان ؟ ”مَا“ کا لفظ عموماً ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں عقل نہیں ہوتی۔
Ayah 21:67اُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ۔۔ : ”اُفٍّ“ کا اصل معنی ہر گندی سمجھی جانے والی چیز ہے، مثلاً میل، گندگی، ناخن کے تراشے اور اس قسم کی چیزیں۔ یہی لفظ ہر اس شخص یا چیز کے لیے بولا جاتا ہے جس سے اکتاہٹ کا اظہار کرنا اور اسے گندا اور نہایت حقیر قرار دینا مقصود ہو۔ (راغب) ”اُفٍّ“ کی تنوین سے نفرت کی شدت کا اظہار ہو رہا ہے، یعنی میری زبردست نفرت، اکتاہٹ اور تحقیر تم جیسے بےعقلوں کے لیے اور تمہارے بنائے ہوئے معبودوں کے لیے ہے، کیا تم نہیں سمجھتے کہ ایسے بےحس اور بےبس پتھر وغیرہ بھی کبھی اس قابل ہوسکتے ہیں کہ کوئی ہوش مند انسان ساری کائنات کے خالق ومالک اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرے ؟
Ayah 21:68قَالُوْا حَرِّقُـوْهُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِهَتَكُمْ : یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان دلیل سے لاجواب ہوجاتا ہے تو یا تو نیکی اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یا بدی غالب آجاتی ہے۔ بدی کے غلبے کی صورت میں جب اس کے پاس کوئی دلیل نہیں رہتی اور وہ مکمل طور پر لاجواب ہوجاتا ہے تو اپنے مخالف کو دھمکیاں دیتا ہے۔ دیکھیے نوح ؑ کی قوم (شعراء : 116) ، ابراہیم ؑ کو ان کے والد کی دھمکی (مریم : 46) ، لوط ؑ کی قوم (شعراء : 167) ، شعیب ؑ کی قوم (اعراف : 88) ، فرعون کی موسیٰ ؑ کو دھمکی (شعراء : 29) اور جادوگروں کو دھمکی (شعراء : 49)۔ پھر اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنے لاجواب کردینے والے حریف کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابراہیم ؑ کی قوم بھی جب دلیل میں ہر طرح لاجواب ہوگئی تو ابراہیم ؑ کی جان کے درپے ہوگئی۔ مشورہ ہوا کہ اسے قتل کر دو یا جلا دو۔ دیکھیے سورة عنکبوت (24) آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ اپنے معبودوں کا انتقام لینے کی اور ان کی نصرت کی یہی صورت ہے کہ اسے جلا کر راکھ بنادو۔
اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ : یہ الفاظ ان کے ضمیر کی کشمکش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اول تو ابراہیم کو نقصان پہنچانے والے تمہارے کسی اقدام کا کوئی جواز نہیں۔ دلیل کا جواب دلیل ہے، مار ڈالنا نہیں، لیکن اگر تمہارے پاس اس کا کوئی علاج نہیں اور تم نے ضرور ہی اس کے خلاف کچھ کرنا ہے تو پھر معمولی سزا مت سوچو۔ اپنے معبودوں کی مدد کرتے ہوئے اس کا قصہ نہایت عبرت ناک سزا کے ساتھ ختم کرو، تاکہ آئندہ کوئی اس بحث کی جرأت ہی نہ کرے۔ (بقاعی)
Ayah 21:69قُلْنَا يٰنَارُكُـوْنِيْ بَرْدًا۔ : ”بَرْدًا“ ٹھنڈک، ”وَّسَلٰمًا“ سلامتی۔ مبالغہ کے طور پر مصدر بمعنی اسم فاعل ہے۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ اپنے فیصلے کے مطابق انھوں نے ابراہیم ؑ کو جلانے کا زبردست انتظام کیا، چناچہ لکڑیاں جمع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک چار دیواری بنائی گئی، جیسا کہ فرمایا : (قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَــحِيْمِ) [ الصافات : 97 ] ”انھوں نے کہا، اس کے لیے ایک عمارت بناؤ، پھر اسے بھڑکتی آگ میں پھینک دو۔“ پھر جب آگ خوب بھڑک اٹھی اور اس کی تپش چاروں طرف پھیل گئی تو انھوں نے منجنیق کے ذریعے سے یا جیسے بھی ہوسکا، ابراہیم ؑ کو اس میں پھینک دیا تو ہم نے حکم دیا کہ اے آگ ! ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک ہوجا، مگر تکلیف دینے والی ٹھنڈک نہیں، بلکہ ایسی کہ سراسر سلامتی ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ صرف ”بَرْداً“ (سراسر ٹھنڈک) فرماتے تو شدید ٹھنڈک ابراہیم ؑ برداشت نہ کرسکتے، اس لیے آگ کو ٹھنڈک کے ساتھ سلامتی والی بن جانے کا حکم دیا۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابراہیم ؑ کے لیے معجزہ یعنی فطرت کے عام قوانین کے برعکس معاملہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کا حکم دیا تو سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح اپنی جگہ کھڑا رہا، فرمایا : (فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ) [ الشعراء : 63 ] ”پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔“ جب کہ پانی کی فطرت بہنا ہے، ایسے ہی آگ کی فطرت جلانا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد وہ ابراہیم ؑ کے لیے گلزار بن گئی۔ اگر کسی کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھ لے : (اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ) [ آل عمران : 47 ] ”جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتا ہے۔“ اس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے آگ کو ”کونی“ (ہو جا) سے خطاب فرمایا، پھر آگ کی کیا مجال تھی کہ ٹھنڈی اور سلامتی والی نہ ہوتی۔ (ثنائی) اگر کسی کو پھر بھی اصرار ہے کہ آگ کا کام جلانا ہی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھی ٹھنڈی نہیں ہوسکتی تو اسے قرآن مجید پر ایمان کے دعوے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔
3 ام شریک ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور فرمایا : (وَکَانَ یَنْفُخُ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ) ”یہ ابراہیم ؑ پر پھونکیں مارتی تھی۔“ [ بخاري، الأنبیاء، باب قولہ تعالیٰ : (واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا۔۔) : 3359 ] محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف (8392) میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ ؓ روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : (کَانَتِ الضِّفْدَعُ تُطْفِئُ النَّارَ عَنْ إِبْرَاھِیْمَ وَکَانَ الْوَزَغُ یَنْفُخُ فِیْہِ فَنَھَی عَنْ قَتْلِ ھٰذا وَ أَمَرَ بِقَتْلِ ھٰذَا) ”مینڈک ابراہیم ؑ سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔“ مسند احمد کے محقق نے لکھا ہے کہ یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ عائشہ ؓ نے فرمایا : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ اَلْفُوَیْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْہٗ أَمَرَ بِقَتْلِہٖ) ”نبی ﷺ نے چھپکلی کو ”فویسق“ (بہت نافرمان) فرمایا اور میں نے آپ ﷺ کو اسے قتل کرنے کا حکم دیتے ہوئے نہیں سنا۔“ اور سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں : (أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِہِ) [ بخاري : 3306 ] ”نبی ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ ؓ نے چھپکلی کو قتل کرنے کی حدیث کسی صحابی کے واسطے سے سنی ہے، اس صورت میں بھی حدیث صحیح ہے، کیونکہ تمام صحابہ روایت حدیث میں معتبر ہیں۔
3 ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ابراہیم ؑ کا آخری قول، جب انھیں آگ میں پھینکا گیا ”حَسْبِيَ اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ“ تھا، یعنی مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ [ بخاري، التفسیر، باب : (الذین قال لھم الناس۔۔) : 4564 ]
3 بغوی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ کعب احبار سے روایت کی گئی ہے کہ جب انھوں نے ابراہیم ؑ کو منجنیق میں رکھ کر آگ کی طرف پھینکا تو جبریل ؑ آپ کے سامنے آئے اور کہا : ”ابراہیم ! تمہیں کوئی حاجت ہے ؟“ فرمایا : ”تمہاری طرف تو نہیں۔“ انھوں نے کہا : ”پھر اپنے رب سے سوال کرو۔“ فرمایا : (حَسْبِيْ مِنْ سُؤَالِيْ عِلْمُہُ بِحَالِيْ) ”مجھے میرے سوال کرنے سے اس کا میری حالت کو جاننا ہی کافی ہے۔“ بغوی نے یہ کہہ کر اس کے ضعف کی طرف اشارہ کردیا ہے : ”رُوِیَ عَنْ کَعْبٍ“ کہ کعب سے روایت کی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس روایت کا کوئی سر پیر نہیں، اس لیے شیخ البانی ؓ نے فرمایا : ”لَا أَصْلَ لَہُ“ [ سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ : 21 ] اور ابن عراق نے ”تنزیۃ الشریعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنیعۃ الموضوعۃ“ میں یہ روایت ذکر کرکے فرمایا : ”ابن تیمیہ ؓ نے فرمایا، یہ روایت موضوع ہے۔“ علاوہ ازیں یہ روایت ان آیات و احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، فرمایا : (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) [ المؤمن : 60 ] ”اور تمہارے رب نے فرمایا، مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ لَمْ یَدْعُ اللّٰہَ یَغْضَبْ عَلَیْہِ) [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 6؍153، ح : 2654۔ ترمذی : 3373۔ ابن ماجہ : 3827 ] ”جو اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر غصے ہوجاتا ہے۔“
کعب احبار والی باطل روایت صحیح بخاری کی اس حدیث کے بھی خلاف ہے جو اوپر گزری کہ ابراہیم ؑ نے آگ میں پھینکے جانے کے وقت آخری الفاظ ”حَسْبِيَ اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ“ کہے تھے۔ قرآن میں ابراہیم ؑ کی بہت سی دعائیں مذکور ہیں، اگر دعا کے بجائے اللہ تعالیٰ کا علم ہی کافی ہو تو اللہ تعالیٰ کو تو ہر شخص کی ہر حالت کا علم ہے، پھر اس سے دعا اور سوال کا معاملہ تو سرے سے ختم ہے، حالانکہ دعا اس لیے نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری حالت کا علم نہیں بلکہ دعا خود ایک عبادت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلدُّعَاءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ) [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة البقرۃ : 2969 ] ”دعا ہی عبادت ہے۔“ اسی حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : (وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ) [ المؤمن : 60 ] ”اور تمہارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“ بعض صوفیاء نے جو اس باطل روایت کو دلیل بنا کر کہا ہے کہ تمہارا اس سے سوال کرنا تمہاری طرف سے اس پر تہمت لگانا ہے، یہ ان کی بہت بڑی گمراہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کو اللہ تعالیٰ پر تہمت لگانا قرار دے رہے ہیں۔ (خلاصہ سلسلہ صحیحہ) شیخ محمد امین شنقیطی ؓ ”اضواء البیان“ میں فرماتے ہیں : ”ابوالعالیہ سے روایت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ”سلٰماً“ نہ فرماتے تو اس کی سردی ان کے لیے اس کی گرمی سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی اور اگر ”عَلیٰ ابْراھیم“ نہ فرماتے تو اس کی ٹھنڈک ہمیشہ تک باقی رہتی۔ اور سدی سے ہے کہ اس دن جو آگ بھی تھی بجھ گئی۔ اور کعب اور قتادہ سے ہے کہ آگ نے صرف ابراہیم ؑ کو باندھنے والی رسیاں جلائیں۔ اور نہال بن عمرو سے ہے کہ ابراہیم ؑ نے فرمایا : ”میں ان ایام جیسا خوش حال کبھی نہیں رہا جن دنوں میں آگ میں تھا۔“ اور شعیب حمانی سے ہے کہ انھیں آگ میں ڈالا گیا تو ان کی عمر سولہ (16) سال تھی۔ اور ابن جریج سے ہے کہ اس وقت وہ چھبیس (26) برس کے تھے۔ اور کلبی سے ہے کہ جتنی آگیں تھیں سب ٹھنڈی ہوگئیں، چناچہ کسی آگ نے ایک کھری تک نہیں پکائی۔ اور بعض نے قصے میں ذکر کیا ہے کہ نمرود نے اپنے محل میں سے جھانکا تو دیکھا کہ ابراہیم ؑ تخت پر ہیں اور سایوں کا فرشتہ ان کا دل لگا رہا ہے، تو اس نے کہا، تیرا رب بہت اچھا رب ہے، میں اس کے لیے چار ہزار گائیں قربانی کروں گا اور پھر اس نے ابراہیم ؑ کو کچھ نہیں کہا۔“
شیخ شنقیطی ؓ یہ سب کچھ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں : ”یہ سب اسرائیلیات ہیں اور مفسرین اس قصے میں اور دوسرے بہت سے قصوں میں ایسی بہت سی باتیں بیان کردیتے ہیں۔“ یہاں تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب تابعین اور راوی اس وقت تو موجود ہی نہ تھے جب ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکا گیا، نہ ان پر وحی اتری اور نہ وہ درمیان کی کوئی سند بیان کرتے ہیں، پھر انھیں ان باتوں کا پتا کیسے چلا ؟ ظاہر ہے یہ وہی سنی سنائی باتیں ہیں جنھیں تفسیر قرآن میں کسی طرح بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مزید دیکھیے اس تفسیر کا مقدمہ۔
3 یہ واقعہ حق کی طرف دعوت اور اس پر استقامت کا عجیب و غریب واقعہ ہے۔ اس میں ہمارے نبی کریم ﷺ اور پوری امت مسلمہ کے لیے حق کی خاطر جان کی بازی لگا دینے کا سبق ہے اور یہ بھی کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو تمام اسباب ختم ہونے کے باوجود اپنے بندے کا بال بھی بیکا نہیں ہونے دیتا۔
Ayah 21:70وَاَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا۔۔ : ”الْاَخْسَرِيْنَ“ اگرچہ اسم تفضیل ہے، مگر یہاں کسی سے زیادہ خسارا اٹھانے والے مراد نہیں، بلکہ یہ خاسرین میں مبالغہ ہے، اس لیے ترجمہ ”انتہائی خسارے والے“ کیا گیا ہے۔ اگر تفضیل کا معنی لیں تو ”أَخْسَرِیْنَ مِنْ کُلِّ خَاسِرٍ“ مراد ہوگا، یعنی ہر خسارے والے سے زیادہ خسارے والے۔ ”كَيْدًا“ خفیہ تدیبر کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے ابراہیم ؑ کو جلانے کی سازش ان سے خفیہ رکھی تھی۔ شاید ان کا مقصد یہ ہو کہ ابراہیم ؑ ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔ (ابن عاشور) ”فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِيْنَ“ میں ”ھُمْ“ اور ”الْاَخْسَرِيْنَ“ دونوں کے معرفہ ہونے سے قصر کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ بس وہی انتہائی خسارے والے ہوئے، ابراہیم ؑ کو ذرہ بھر خسارا نہیں ہوا۔ انھیں خسارے والے (ناکام) اس لیے قرار دیا کہ وہ ابراہیم ؑ کی کسی بھی دلیل کا جواب نہ دے سکے جس کے ساتھ انھوں نے سورج، چاند اور ستاروں کو بےبس ثابت کیا، یا جس کے ساتھ انھوں نے بادشاہ کا بےاختیار ہونا ثابت کیا، یا بتوں کا معبود نہ ہونا ثابت کیا۔ پھر نہ ان سے بت توڑنے کا انتقام لے سکے اور نہ انھیں آگ میں جلا سکے، بلکہ وہ سب کچھ جو انھوں نے انھیں سزا دینے کے لیے تیار کیا تھا ان کے لیے معجزہ اور ان کی عظمت شان کا باعث بن گیا اور انتہائی خسارا یہ کہ اس واقعہ کے بعد اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا، جیسا کہ سورة حج میں ان قوموں کا ذکر فرمایا جن پر اللہ کا عذاب آیا، تو ان میں قوم ابراہیم کا بھی ذکر ہے، آخر میں فرمایا : (فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۚ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ) [ الحج : 44 ] ”تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا ؟“
Ayah 21:71وَنَجَّيْنٰهُ وَلُوْطًا۔۔ : اس واقعہ کو دیکھ کر لوط ؑ ابراہیم ؑ پر ایمان لے آئے۔ دیکھیے سورة عنکبوت (26) اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھا تھا اسی طرح ابراہیم اور لوط ؑ دونوں کو ان ظالموں کے پنجے سے بحفاظت نکال کر شام کی طرف ہجرت کرنے کی آسانی عطا فرمائی۔ یہ بھی عظیم احسان تھا، کیونکہ وہاں سے ان کا نکلنا آسان نہ تھا۔ شام کی طرف ہجرت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم ؑ عراق کے رہنے والے تھے۔ برکت والی زمین کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (1) کی تفسیر۔
Ayah 21:72وَوَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ ۭ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً :”نَافِلَةً“ کا معنی زائد عطیہ ہے۔ اس آیت کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ ہم نے اسے اسحاق عطا کیا اور زائد انعام کے طور پر یعقوب (پوتا) عطا کیا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب دونوں زائد انعام کے طور پر عطا کیے۔ مفسر ابن عاشور ؓ نے اس کی بہت عمدہ توجیہ فرمائی ہے کہ سورة صافات (100) میں مذکور ہے کہ جب ابراہیم ؑ ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی : (رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ)”اے میرے رب ! مجھے (لڑکا) عطا کر جو نیکوں سے ہو۔“ فرمایا : (فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ) [ الصافات : 101 ] ”تو ہم نے اسے ایک بہت بردبار لڑکے کی بشارت دی۔“ یہ بردبار لڑکا اسماعیل ؑ تھے جن کی قربانی کا واقعہ بھی اس مقام پر مذکور ہے۔ ابراہیم ؑ کی دعا تو اسماعیل ؑ کی ولادت سے قبول ہوگئی تھی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسحاق اور یعقوب ؑ جو عطا کیے تو وہ بغیر دعا اور بغیر امید کے عطا فرمائے، اس لیے دونوں کو زائد عطیہ قرار دیا جو اسماعیل ؑ کے بعد بلاطلب عطا ہوئے۔ دونوں کی خوش خبری بھی اکٹھی دی گئی تھی : (فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ) [ ھود : 71 ] ”تو ہم نے اس (سارہ) کو اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی۔“ rnۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْن : ”كُلًّا“ سے مراد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب ؑ ہیں، کیونکہ آخری بات انھی کی ذکر ہوئی ہے۔ لوط ؑ کا ذکر ابراہیم ؑ کی معیت کے طور پر آیا ہے، ان کا الگ ذکر آگے آ رہا ہے۔ [ التحریر والتنویر ] ”صٰلِحِيْنَ“ صلاح فساد کی ضد ہے۔ ”صَلَحَ“ (ف، ک) درست ہونا، یعنی ہم نے ان تمام پیغمبروں کو درست عقیدے اور درست عمل والا اپنا مکمل فرماں بردار بنایا۔
Ayah 21:73وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا : یعنی وہ صرف خود ہی ہر لحاظ سے درست اور ہمارے مکمل فرماں بردار نہ تھے، بلکہ وہ اپنی قوم کے پیشوا بھی تھے جو ہماری وحی کے مطابق دوسروں کو بھی حق کی طرف دعوت دیتے تھے۔ معلوم ہوا اصل ہدایت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو اور جو ائمہ اللہ کے حکم کے بغیر حکم دیں تو وہ ہدایت کے امام نہیں، گمراہی کے امام ہیں۔
وَاَوْحَيْنَآ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ۔۔ : یعنی صالحیت اور امامت کے علاوہ ہم نے انھیں اپنی وحی سے بھی سرفراز فرمایا۔ ”فِعْلَ الْخَيْرٰتِ“ میں اگرچہ تمام نیک اعمال آجاتے ہیں مگر اسلام لانے کے بعد اللہ کے حقوق میں سے سب سے اہم عمل نماز اور بندوں کے حقوق میں سے سب سے اہم حق زکوٰۃ کا ذکر خاص طور پر فرمایا، کیونکہ اگر یہ نہیں تو اسلام بھی معتبر نہیں۔ دیکھیے سورة توبہ (5)۔
وَكَانُوْا لَنَا عٰبِدِيْنَ : ”لَنَا“ پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے، کسی اور کو ہمارے ساتھ شریک کرنے والے نہ تھے۔
Ayahs 21:74–75وَلُوْطًا اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا۔۔ : لوط ؑ کا ذکر الگ کرنے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انھیں پہلے تینوں انبیاء کے علاقے اور قوم کے علاوہ کسی دوسرے علاقے اور قوم کی طرف بھیجا گیا تھا۔ لوط ؑ کا قصہ سورة اعراف (80) ، ہود (81) اور حجر (61) میں گزر چکا ہے۔ ان کی بستی کے خبیث اعمال کا ذکر گزشتہ سورتوں کے علاوہ سورة عنکبوت (28 تا 35) اور سورة قمر (33 تا 37) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ اس بستی کا نام سدوم مشہور ہے۔
Ayahs 21:76–77ابراہیم ؑ کو آگ سے نجات دینے کے بعد نوح ؑ کو پانی کے طوفان سے نجات دینے کا ذکر فرمایا۔
وَنُوْحًا اِذْ نَادٰي مِنْ قَبْلُ۔۔ : نوح ؑ کی اس دعا کا ذکر سورة نوح (26 تا 28) میں تفصیل سے مذکور ہے، اسی طرح سورة قمر میں ہے : (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ) [ القمر : 10] ”تو اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوں سو تو بدلہ لے۔“
فَنَجَّيْنٰهُ وَاَهْلَهٗ : ”اَهْلَهٗ“ سے مراد ان کے مشرک بیٹے اور بیوی کے سوا باقی گھر والے ہیں۔ بیٹے کے متعلق دیکھیے سورة ہود (40 تا 43) اور بیوی کے متعلق سورة تحریم (10)۔
مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ : ”الْكَرْبِ“ کا معنی ہے ”أَقْصَی الْغَمِّ“ یعنی آخری حد کو پہنچا ہوا غم۔ ”الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ“ سے مراد کفار کی نوح ؑ سے ساڑھے نو سو برس کی مسلسل مخالفت، بدسلوکی، ایذا رسانی، استہزا اور سنگسار کرنے کی دھمکیاں بھی ہیں، جن کا شکوہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کیا، جو سورة نوح کی آیت (5) سے آیت (24) تک میں مذکور ہے اور جن کا ذکر سورة ہود (38) اور شعراء (116) میں ہے۔ پہاڑوں جیسی موجوں والا طوفان بھی مراد ہے، جس نے اللہ کے حکم سے زمین پر بسنے والا ایک مشرک بھی باقی نہ چھوڑا۔
فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِيْنَ : اس کی تفصیل سورة ہود (37 تا 49) میں ملاحظہ فرمائیں۔
Ayahs 21:78–79وَدَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ اِذْ يَحْكُمٰنِ فِي الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ۔۔ : ”نَفَشَتْ“ کا معنی ہے جانوروں کا رات کو کھیت میں پھیل جانا اور اس کی کھیتی اور پودوں کو کھا جانا۔ ”غَنَمُ“ کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر آتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے داؤد اور سلیمان ؑ کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے وہ نعمت ذکر فرمائی جو دونوں کو عطا ہوئی تھی اور جو بعد میں آنے والی تمام نعمتوں سے افضل ہے، چناچہ فرمایا : (وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا) ”حُكْمًا“ سے مراد قوت فیصلہ ہے اور ”عِلْمًا“ سے مراد علم شریعت ہے۔
3 ان آیات کی تفسیر رسول اللہ ﷺ سے نہیں آئی، البتہ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس آیت کے متعلق فرمایا : (کَرْمٌ قَدْ أَنْبَتَتْ عَنَاقِیْدُہُ فَأَفْسَدَتْہُ الْغَنَمُ قَالَ فَقَضَی دَاوٗدُ بالْغَنَمِ لِصَاحِبِ الْکَرْمِ فَقَالَ سُلَیْمَانُ غَیْرُ ھٰذَا یَا نَبِیَّ اللّٰہِ ! قَالَ وَمَا ذٰلِکَ ؟ قَالَ تَدْفَعُ الْکَرْمَ اِلٰی صَاحِبِ الْغَنَمِ فَیَقُوْمُ عَلَیْہِ حَتّٰی یَعُوْدَ کَمَا کَانَ وَتَدْفَعَ الْغَنَمَ اِلٰی صَاحِبِ الْکَرْمِ فَیُصِیْبَ مِنْھَا حَتّٰی إِذَا عَادَ الْکَرْمَ کَمَا کَانَ دَفَعْتَ الْکَرْمَ اِلٰی صَاحِبِہِ وَدَفَعْتَ الْغَنَمَ اِلٰی صَاحِبِھَا قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : (فَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ ۚ وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا) ”یہ انگور کی بیلیں تھیں جن کے گچھے نکل چکے تھے، جنھیں بھیڑ بکریوں نے اجاڑ دیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ داؤد ؑ نے فیصلہ فرمایا کہ بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں کے مالک کو دے دی جائیں، تو سلیمان ؑ نے کہا : ”اے اللہ کے نبی ! اس کا فیصلہ اور ہے۔“ انھوں نے پوچھا : ”وہ کیا ہے ؟“ عرض کی : ”آپ انگور کی بیلیں بھیڑ بکریوں والے کے حوالے کردیں، وہ ان کی نگہداشت کرے جب تک وہ دوبارہ پہلے جیسی نہ ہوجائیں اور بھیڑ بکریاں انگور کی بیلوں والے کے حوالے کردیں وہ اس وقت تک ان سے فائدہ اٹھاتا رہے اور جب انگوروں کی بیلیں پہلی حالت پر لوٹ آئیں تو آپ انگوروں کی بیلیں اس کے مالک کے سپرد اور بھیڑ بکریاں اس کے مالک کے سپرد کردیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔“ ابن کثیر کے محقق دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا : ”حاکم نے اسے روایت کرکے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔ [ مستدرک : 2؍ 588، ح : 4138 ] (اس سند میں ابو اسحاق کی تدلیس موجود ہے)۔“ دکتور حکمت بن بشیر لکھتے ہیں : ”طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد کا یہی قول نقل فرمایا ہے اور قتادہ اور ابن زید کا یہی قول صحیح سند کے ساتھ مسند عبد الرزاق میں بھی مروی ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم داؤد اور سلیمان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے، یعنی ہمیں اس کی ایک ایک جزئی کا پورا علم ہے۔ اگرچہ ابن مسعود ؓ نے یہ تفسیر رسول اللہ ﷺ سے سننے کی صراحت نہیں کی، تاہم واقعہ کی صورت وہی معلوم ہوتی ہے جو انھوں نے بیان کی ہے۔ اس لیے بھی کہ بائبل میں اس واقعہ کا ذکر نہیں اور نہ یہ یہودی لٹریچر میں معروف ہے اور پھر عبداللہ بن مسعود ؓ اسرائیلیات بیان کرنے میں معروف بھی نہیں ہیں۔
3 داؤد اور سلیمان ؑ دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ ان کا اجتہاد تھا، کیونکہ اگر وہ وحی سے ہوتا تو داؤد ؑ کے فیصلے کے بعد اور فیصلے کی گنجائش نہ ہوتی۔ انبیاء بھی اجتہاد فرماتے ہیں مگر ان کے اجتہاد اور دوسرے لوگوں کے اجتہاد میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کے اجتہاد میں اگر کوئی خطا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کردیتا ہے، جیسا کہ یہاں سلیمان ؑ کے فیصلے کے ساتھ اس کی اصلاح فرما دی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم ﷺ کو فرمایا : (عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ ۚ لِمَ اَذِنْتَ) [ التوبۃ : 43 ] ”اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی۔“ اور فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ) [ التحریم : 1 ] ”اے نبی ! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے ؟“ اگر کسی بات پر اللہ تعالیٰ خاموشی اختیار فرمائے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی موافقت کی وجہ سے حق ہوتی ہے اور وحی کا حکم رکھتی ہے، یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : (وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ۭاِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) [ النجم : 3، 4 ] کا۔ انبیاء ؑ کے سوا کسی مجتہد کی خطا کی بذریعہ وحی اصلاح نہیں ہوتی، اس لیے ان کے اجتہادات شریعت میں حجت نہیں ہیں۔
3 مسئلہ : اگر کسی کے جانور دن کے وقت کسی دوسرے کے کھیت یا باغ کو چر جائیں تو جانور والے پر کوئی تاوان نہیں ہے اور اگر رات کے وقت چر جائیں تو جس قدر نقصان ہو اس قدر تاوان جانور والے کے ذمے ہوگا، جیسا کہ براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میری ایک اونٹنی تھی جو بہت نقصان کیا کرتی تھی، ایک دفعہ وہ ایک باغ میں داخل ہوگئی اور وہاں نقصان کردیا۔ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا : ”دن کے وقت باغات کی نگرانی اور حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانوروں کی نگرانی ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت جانور جو نقصان کر جائیں تو وہ ان کے مالکوں کے ذمے ہے (کہ اسے پورا کریں)۔“ [ أبو داوٗد، الإجارۃ، باب المواشی تفسد زرع قوم : 3570۔ ابن ماجہ : 2332۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 1؍237، ح : 238 ] بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جانور والے پر کسی صورت تاوان نہیں ہے اور دلیل میں ”اَلْعَجْمَاءُ جُرْحُھَا جُبَارٌ“ (جانور کا کسی کو زخمی کردینا معاف ہے) پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس حدیث میں صرف زخم کے معاف ہونے کا ذکر ہے، کھیت کے نقصان کے معاف ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا براء بن عازب ؓ والی حدیث میں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ہے کہ براء ؓ کی حدیث کو منسوخ کہا جائے۔ (قرطبی)
3 اس آیت سے اس حدیث کی تائید ہوتی ہے جو عمرو بن العاص ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَہٗ أَجْرَانِ وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَھَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَہٗ أَجْرٌ) [ بخاري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب أجر الحاکم إذا اجتھد۔۔ : 7352 ] ”جب حاکم فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر درست فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جب وہ فیصلہ کرے اور پوری کوشش کرے، پھر خطا کر جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔“ یہاں اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ”ڎفَفَهَّمْنٰهَا سُلَيْمٰنَ“ (ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا) کہہ کر سلیمان ؑ کے فیصلے کی تائید فرمائی، مگر داؤد اور سلیمان دونوں کے متعلق فرمایا : (ۚ وَكُلًّا اٰتَيْنَا حُكْمًا وَّعِلْمًا) کہ ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا۔
3 ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سلیمان ؑ کے کمال فہم و ذکاوت کا ایک اور واقعہ روایت کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : (کَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَھُمَا ابْنَاھُمَا جَاء الذِّءْبُ فَذَھَبَ بابْنِ إِحْدَاھُمَا فَقَالَتْ صَاحِبَتُھَا إِنَّمَا ذَھَبَ بابْنِکِ ، وَقَالَتِ الْأُخْرَی إِنَّمَا ذَھَبَ بابْنِکِ ، فَتَحاکَمَتَا إِلٰی دَاوٗدَ فَقَضَی بِہِ لِلْکُبْرٰی، فَخَرَجَتَا عَلٰی سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوٗدَ عَلَیْھِمَا السَّلاَمُ فَأَخْبَرَتَاہٗ فَقَالَ اءْتُوْنِيْ بالسِّکِّیْنِ أَشُقُّہُ بَیْنَھُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرٰی لاَ تَفْعَلْ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ، ھُوَ ابْنُھَا، فَقَضَی بِہِ لِلْصُّغْرٰی) [ بخاري، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ : (ووھبنا لداوٗد سلیمان۔۔) : 3427۔ مسلم : 1720۔ نسائی : 5405 ] ”دو عورتیں تھیں جن کے پاس ان کے بیٹے تھے۔ بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بیٹے کو لے گیا۔ وہ اپنی ساتھی عورت سے کہنے لگی کہ وہ تو تمہارا بیٹا لے گیا ہے۔ دوسری کہنے لگی، وہ تمہارا بیٹا ہی لے گیا ہے۔ چناچہ وہ دونوں فیصلے کے لیے داؤد ؑ کے پاس گئیں۔ انھوں نے اس کا فیصلہ بڑی کے حق میں کردیا۔ دونوں جاتے ہوئے سلیمان بن داؤد ؑ کے پاس سے گزریں تو انھیں یہ بات بتائی، انھوں نے فرمایا : ”میرے پاس چاقو لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان چیر دوں۔“ تو چھوٹی نے کہا : ”ایسا نہ کریں، اللہ آپ پر رحم کرے، یہ اسی کا بیٹا ہے۔“ چناچہ انھوں نے اس کا فیصلہ چھوٹی کے حق میں کردیا۔“ امام نسائی نے اس حدیث پر باب باندھا ہے کہ حاکم کے لیے گنجائش ہے کہ جو کام اس نے نہیں کرنا، اس کے متعلق کہے کہ میں ایسا کرتا ہوں، تاکہ حق واضح ہوجائے۔
3 اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات بیٹا باپ سے زیادہ بات سمجھ لیتا ہے، اس میں کفار عرب کے لیے بھی سبق ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی کے باوجود آبا و اجداد کی رسوم چھوڑنے پر تیار نہ تھے اور ان مقلدین کے لیے بھی جنھوں نے چار اماموں کے بعد اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند کردیا ہے۔ بتائیے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی توہین اور کیا ہوگی ؟
وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ : اس سے پہلے ابراہیم اور نوح ؑ کی خاطر آگ اور پانی کو مسخر کرنے کا ذکر فرمایا تھا۔ اب داؤد اور سلیمان ؑ دونوں پر مشترکہ نعمت حکم و علم کا ذکر کرنے کے بعد دونوں کو عطا کردہ نعمتیں الگ الگ ذکر فرمائیں۔ چناچہ داؤد ؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر اور پابند کردیا اور انھیں اتنی خوبصورت آواز عطا فرمائی کہ جب وہ اللہ کی کتاب زبور پڑھتے یا تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے۔ سورة سبا میں فرمایا : (يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَالطَّيْرَ) [ سبا : 10 ] ”اے پہاڑو ! اس کے ساتھ تسبیح کو دہراؤ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا)۔“ سورة صٓ میں فرمایا : (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙوَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً ۭ كُلٌّ لَّهٗٓ اَوَّابٌ) [ ص : 18، 19 ] ”بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ہمراہ مسخر کردیا، وہ دن کے پچھلے پہر اور سورج چڑھنے کے وقت تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی، جب کہ وہ اکٹھے کیے ہوتے، سب اس کے لیے رجوع کرنے والے تھے۔“ سبحان اللہ ! وہ کیسا حسین منظر ہوگا جب اللہ کے نبی داؤد ؑ کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی مصروف تسبیح ہوتے ہوں گے۔ بعض لوگوں نے پہاڑوں کی تسبیح کا مطلب داؤد ؑ کی بلند اور سریلی آواز سے ان کا گونج اٹھنا اور پرندوں کی تسبیح سے مراد ان کا ٹھہر جانا قرار دیا ہے، مگر درحقیقت یہ پہاڑوں اور پرندوں کی ان کے ہمراہ تسبیح کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز داؤد ؑ پر خاص نعمت کے طور پر ذکر فرمائی ہے، پہاڑوں کی گونج تو ہر بلند آواز سے پیدا ہوتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں داؤد ؑ کی خصوصیت کیا ہوئی ؟ اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ پہاڑ اور پرندے فی الواقع ان کے ہمراہ تسبیح کرتے تھے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (44)۔rnۭ وَكُنَّا فٰعِلِيْنَ : یعنی تعجب مت کرو کہ وہ پہاڑ اور پرندے کیسے بولتے اور تسبیح کرتے تھے، یہ سب کچھ ہمارے کرنے سے ہوتا تھا۔ (کبیر)
Ayah 21:80وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ۔۔ : ”لَبُوْسٍ“ اور ”لِبَاسٌ“ ایک ہی ہے جو موقع کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، چناچہ لڑائی کا لباس زرہ ہے۔ یہ داؤد ؑ پر تیسرا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہمراہ پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کرنے کے علاوہ ان کے لیے لوہے کو بھی نرم کردیا اور انھیں اس کی تاروں اور حلقوں سے زرہیں بنانے کا ہنر سکھایا۔ چناچہ اتنی ہلکی اور عمدہ زرہیں بنانے کے موجد وہی ہیں۔ انھی سے دوسروں نے یہ فن سیکھا۔ یہ نعمت صرف انھی پر نہیں تھی، بلکہ قیامت تک تمام لڑنے والوں کے لیے نعمت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر لازم ہے، تو کیا تم شکر کرنے والے ہو ؟ یہ سوال دراصل شکر کے حکم کی تاکید ہے۔ داؤد ؑ کے متعلق مزید دیکھیے سورة سبا (10، 11) اور سورة صٓ (17 تا 26)۔
Ayah 21:81وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ عَاصِفَةً : اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا تو اس نے نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو چھوڑ کر ان کی ساری قوم کو غرق کردیا۔ آگ کو حکم دیا تو وہ ابراہیم ؑ پر برد وسلام بن گئی۔ داؤد ؑ کے ساتھ تسبیح کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا، فرمایا : (وَّسَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ) [ الأنبیاء : 79 ] مگر پانی یا آگ کو نوح یا ابراہیم ؑ کے تابع فرمان نہیں کیا، نہ پہاڑوں یا پرندوں کو داؤد ؑ کے حکم کا پابند کیا، مگر سلیمان ؑ کا خاصہ یہ ہے کہ ہوا ان کے حکم کے تابع کردی گئی، فرمایا : (تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖٓ) کہ وہ اس کے حکم سے چلتی تھی۔
عَاصِفَةًکا معنی ہے ”شَدِیْدَۃُ الْھُبُوْبِ“ بہت سخت تیز چلنے والی ہوا۔ سورة ص میں فرمایا : (فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَاۗءً حَيْثُ اَصَابَ) [ ص : 36 ] ”تو ہم نے اس کے لیے ہوا کو تابع کردیا، جو اس کے حکم سے بہت نرم چلتی تھی، جہاں کا وہ ارادہ کرتا تھا۔“ اور سورة سبا میں فرمایا : (وَلِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ) [ سبا : 12 ] ”اور (ہم نے) ہوا کو سلیمان کے (تابع کردیا) پہلے پہر اس کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور پچھلے پہر اس کا چلنا بھی ایک ماہ کا۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ ایک جگہ اس کو تند و تیز بتایا، دوسری جگہ نہایت نرم ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس ہوا میں دونوں خوبیاں موجود ہوتی تھیں، تند و تیز اتنی کہ صبح کے وقت چند گھنٹوں میں ایک ماہ کا سفر طے کرلیتی، اسی طرح پچھلے پہر بھی چند گھنٹوں میں اتنا ہی سفر طے کرلیتی اور نرم اور ہموار اتنی کہ سلیمان ؑ اور ان کے ہمراہیوں کو کوئی تکلیف یا جھٹکا محسوس نہ ہوتا۔
تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖٓ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا : قرآن مجید میں ارض مبارک شام کو کہا گیا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل۔ اس آیت میں سلیمان ؑ کے اپنے کسی بھی سفر سے ان کے دار الحکومت شام کی طرف واپسی کا ذکر ہے، کیونکہ بعض اوقات آدمی سفر میں جاتے ہوئے بہت دور پہنچ جاتا ہے اور واپسی اس کے لیے مشکل ہوتی ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہوا سلیمان ؑ کے حکم سے ارض مبارک کی طرف چلتی تھی۔ رہا سلیمان ؑ کا دوسرے مقامات کی طرف جانا، تو اس کا ذکر سورة ص (36) میں ہے کہ ہوا ان کے حکم سے اسی طرف چل پڑتی تھی جہاں ان کا ارادہ ہوتا، جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا ہے۔
ہوا کو سلیمان ؑ کے لیے مسخر کرنے سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین نے اس سے ہوا کا ان کے بحری بیڑوں کے موافق چلنا مراد لیا ہے، کیونکہ اس زمانے میں بحری جہازوں کا چلنا موافق ہوا پر موقوف تھا۔ یہ حضرات بائبل کا حوالہ دیتے ہیں۔ بعض تابعین نے کہا کہ سلیمان ؑ اور ان کی افواج لکڑی کے بہت لمبے چوڑے چبوترے پر بیٹھ جاتے تو سلیمان ؑ کے حکم سے ہوا انھیں اٹھا کر ان کی منزل مقصود کی طرف چل پڑتی۔ بعض نے اس طرح کے ایک مربع میل قالین کا ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی صاحب بھی موقع پر موجود نہیں تھا اور نہ انھوں نے اپنی معلومات کا کوئی ذریعہ بیان کیا ہے۔ رہی بائبل، تو اس کی حیثیت مقدمے میں تفصیل سے بیان ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة ص میں ذکر فرمایا ہے کہ سلیمان ؑ نے دعا کی تھی : (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ) [ صٓ : 35 ] ”اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ اس دعا کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہوا ان کے تابع کردی کہ ان کے حکم سے وہ جہاں کا ارادہ کرتے چل پڑتی تھی۔ آج کل انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں میں ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے کر رہا ہے، اگر سمندری سفر کی تیزی ہی مراد ہو تو یہ وہ سلطنت تو ہرگز نہیں جو سلیمان ؑ کے بعد کسی کے لائق ہی نہیں۔ کیونکہ ہوائی جہاز سمندر ہی نہیں خشکی کو بھی عبور کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ تقریباً ہر ملک میں موجود ہیں۔ اس لیے ماننا پڑے گا کہ ان کے لیے ہوا کی وہ تسخیر ہوائی جہازوں اور اس قسم کے آلات کی محتاج نہ تھی، بلکہ وہ اس سے بہت اعلیٰ چیز تھی جس کی بدولت وہ ہوا کے ذریعے سے سمندروں اور خشکی پر مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے ہوئے جہاں چاہتے چلے جاتے تھے۔ اس کی تفصیل اگر انسان کی سمجھ میں آسکتی یا اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ بیان فرما دیتا، ہمیں اتنا ہی کافی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا۔
وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عٰلِمِيْنَ : یہ اس سوال کا جواب ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تند و تیز ہوا نہایت نرمی سے چلتی ہوئی سلیمان ؑ کو لے کر مہینوں کا سفر پہروں میں طے کرلے ؟ فرمایا، ہم ہمیشہ سے ہر چیز کا علم رکھتے ہیں اور ہمارے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔