Ayah 20:80يٰبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنٰكُمْ۔۔ : یہ تین آیتیں موسیٰ ؑ کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے دو آیات (55، 56) گزر چکی ہیں۔ اس آیت میں موسیٰ ؑ کے زمانے کے بنی اسرائیل مخاطب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے یہود کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کروائی جا رہی ہوں، جیسا کہ : (يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ) [ البقرۃ : 40، 47، 122 ] میں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تین نعمتیں یاد دلائیں۔ سب سے پہلے غلامی سے نجات کی عظیم نعمت، اس کے بعد طور پر بلا کر دینی احکام پر مشتمل کتاب عطا کرنے کی نعمت اور آخر میں بلامشقت من وسلویٰ کا پاکیزہ اور لذیذ ترین رزق عطا کرنے کی نعمت۔ من وسلویٰ کی تفسیر کے لیے دیکھیں سورة بقرہ (57)۔
وَوٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ۔۔ : اس واقعہ کا ذکر سورة بقرہ (52) میں بھی ہے اور اس کی تفصیل سورة اعراف (142 تا 147) میں ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہاڑ کی دائیں جانب سے مراد کیا ہے ؟ کیونکہ پہاڑ کی ہر جانب ہی کھڑے ہونے والے شخص کے لحاظ سے دائیں بھی ہوسکتی ہے اور بائیں بھی۔ جواب اس کا یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت اور اسلام میں جغرافیہ اور محل وقوع میں جہتوں کے تعین کے لیے مشرق کو اصل قرار دیا گیا ہے، چناچہ یمن اور شام کے نام اسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں کہ کعبہ سے مشرق کی طرف رخ کریں تو دائیں طرف یمن ہے، جس کا معنی دایاں ہے اور بائیں طرف شام۔ امرؤ القیس نے بھی ایک بادل کے برسنے کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے
عَلٰی قَطَنٍ بالشَّیْمِ أَیْمَنُ صَوْبِہِ
وَ أَیْسَرَہُ عَلَی السِّتَارِ فَیَذْبُلِ
”غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔“
اس صورت میں اگر ”الْاَيْمَنَ“ سے مراد دائیں جانب لیں تو موسیٰ ؑ کے طور کی مغربی جانب اس کی طرف رخ کرکے کھڑے ہونے پر پہاڑ کی دائیں طرف (جنوب) مراد ہوگی، جیسا کہ مدین سے مصر کو آتے ہوئے پہلی وحی کے وقت وہ پہاڑ کی مغربی جانب میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : (وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَآ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِيْنَ) [ القصص : 44 ] ”اور اس وقت تو مغربی جانب میں نہیں تھا جب ہم نے موسیٰ کی طرف حکم کی وحی کی۔“ اور اگر ”الْاَيْمَنَ“ کو ”یَمِیْنٌ“ (دائیں) کے بجائے ”یُمْنٌ“ (برکت) سے اسم تفضیل مانیں تو دائیں بائیں کی تعیین کی ضرورت ہی نہیں بلکہ طور کی جانب ایمن (بابرکت جانب) اور اس سورت کی آیت (12) : (اِنَّكَ بالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى) میں مذکور وادی مقدس دونوں سے مراد وادی طویٰ ہوگی۔ (ابن عاشور)
Ayah 20:81وَلَا تَطْغَوْا فِيْهِ : طغیانی کا معنی حد سے بڑھنا ہے۔ رزق میں حد سے تجاوز یہ ہے کہ دوسرے کا حق کھاجائے، ناشکری یا فضول خرچی کرنے لگے، نعمت پر اترانے لگے، رزق میں واجب حقوق ادا نہ کرے، اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرنے لگے، یا جس جگہ یا جس وقت اسے جوڑ کر رکھنے سے منع کیا گیا ہے وہاں جوڑنے کے پیچھے پڑجائے۔ غرض حکم یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ کی حدود سے تجاوز اور نافرمانی کا ذریعہ مت بناؤ۔
فَقَدْ هَوٰى : ”ھَوٰی یَھْوِيْ“ (ض) اونچی جگہ سے گرنا۔ چونکہ ایسا گرنا جس کے بعد اٹھنا نہ ہو، ہلاک ہونے کی صورت ہی میں ہوتا ہے، اس لیے یہاں ”هَوٰى“ کا معنی ”ہلاک ہوگیا“ کرتے ہیں۔
Ayah 20:82وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ۔۔ : نافرمانی اور طغیانی کی وعید کے بعد توبہ کی ترغیب دی۔ معلوم ہوا مغفرت کے لیے چار چیزیں شرط ہیں، ایک توبہ یعنی کفر و شرک اور نافرمانی سے باز آجانا، دوسری ایمان یعنی اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ ﷺ ، یوم آخرت اور دوسری ایمانیات پر صدق دل سے اعتقاد رکھنا، تیسری عمل صالح یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ہدایات کے مطابق نیک عمل کرنا اور چوتھی آخر دم تک سیدھے راستے پر قائم رہنا۔ ”اهْتَدٰى“ سے یہی مراد ہے اور یہی چیز سب سے مشکل ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ ”ثُمَّ“ (پھر) کے بعد ذکر فرمایا، جیسا کہ : (ۭثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِ) [ البلد : 17 ] میں ہے۔ گویا یہ آیت سورة حم السجدہ کی آیات (30 تا 32) کی ہم معنی ہے۔
Ayah 20:83وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يٰمُــوْسٰى : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور موسیٰ ؑ سے طور کے دائیں جانب میں آنا اور موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کرنا طے فرمایا۔ موسیٰ ؑ نے خود قوم کے ساتھ آنے کے بجائے ہارون ؑ کو اپنا جانشین مقرر کرکے انھیں طور کی طرف سفر جاری رکھنے کا حکم دیا اور خود اپنے رب سے کلام اور ملاقات کے شوق میں نہایت تیزی کے ساتھ وعدے کے مقام پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے مناجات اور تورات عطا کرنے کے بعد پوچھا کہ موسیٰ ! تجھے کیا چیز تیری قوم سے جلدی لے آئی ؟
Ayah 20:84قَالَ هُمْ اُولَاۗءِ عَلٰٓي اَثَرِيْ : یہاں ایک سوال ہے کہ موسیٰ ؑ نے جواب میں جلدی کی وجہ بتانے کے بجائے کہ پروردگار ! میں تجھے راضی کرنے کے لیے جلدی آگیا، یہ کیوں ضروری سمجھا کہ پہلے یہ عرض کریں کہ قوم کے لوگ میرے پیچھے میرے نشان قدم پر آ رہے ہیں، یعنی نشان مٹنے سے بھی پہلے وہ اس پر چلے آ رہے ہیں، یعنی میں کوئی زیادہ جلدی نہیں آیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بیخبر نہ تھا کہ وہ کیوں جلدی آگئے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عتاب قوم کے ساتھ نہ آنے پر تھا اور یہ سوال اپنے کلیم کی تربیت کے لیے تھا کہ تمہارا پہلے آنا مناسب نہ تھا، بلکہ غلامی سے تازہ تازہ نکلی ہوئی قوم کے ساتھ رہنا ضروری تھا، تاکہ کتاب ملنے سے پہلے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کرتے اور ان کی غلطیوں پر سرزنش کرتے۔ ویسے بھی کسی قوم کے رئیس کا حق یہ ہے کہ وہ ان کے پیچھے رہ کر ان کے ہر فرد کا خیال رکھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے لوط ؑ کو اہل و عیال سمیت رات کو نکلنے کا حکم دیتے ہوئے یہ ادب سکھایا : (وَاتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ) [ الحجر : 65 ] ”اور خود ان کے پیچھے پیچھے چل۔“ اور جیسا کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے رسول کریم ﷺ کے متعلق ذکر فرمایا : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِیْرِ فَیُزْجِي الضَّعِیْفَ وَیُرْدِفُ وَیَدْعُوْ لَھُمْ) [ أبوداوٗد، الجہاد، باب في لزوم الساقۃ : 2639۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : 2120 ] ”رسول اللہ ﷺ سفر میں پیچھے رہتے، کمزور (کی سواری) کو ہانکتے اور (پیدل کو) پیچھے بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔“ موسیٰ ؑ کا وفور شوق میں جلدی آنا اگرچہ بری بات نہ تھی مگر بادشاہوں کے حضور پیش ہونے کے کچھ آداب ہوتے ہیں اور شاہوں کے شاہ کا ادب تو سب سے بڑھ کر ہے۔ اس کی ایک مثال ابوبکرہ ؓ کی جلدی ہے کہ وہ مسجد میں پہنچے تو نبی ﷺ رکوع میں تھے، انھوں نے صف میں ملنے سے پہلے ہی رکوع کرلیا، نبی ﷺ سے اس بات کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا : (زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ) [ بخاري، الأذان، باب إذا رکع دون الصف : 783 ] ”اللہ تعالیٰ تمہاری حرص زیادہ کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ [ قاسمی، بقاعی، ابن عاشور ]
Ayah 20:85قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ۔۔ : یہ فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی تمہارا قوم کو چھوڑ کر چلے آنا اور مفسدوں کے لیے موقع فراہم کردینا اس کا باعث بنا کہ تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انھیں گمراہ کردیا۔ یہاں ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ انھیں بچھڑا بنا کر سامری نے گمراہ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت بھی فرما دی کہ انھیں سامری نے گمراہ کردیا، مگر تمام اسباب کا خالق چونکہ اللہ تعالیٰ ہے اور تمام دل اس کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے آزمائش میں ڈالنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی۔
مِنْۢ بَعْدِكَ : موسیٰ ؑ اپنی قوم کو تیس دنوں کے اعتکاف کا بتا کر گئے تھے، جسے اللہ تعالیٰ نے چالیس دنوں کے ساتھ مکمل فرمایا تو قوم اس سے بیخبر تھی، انھیں معلوم نہ تھا کہ موسیٰ ؑ کب آئیں گے ؟ اس مدت سے فائدہ اٹھا کر سامری نے کیا جو کچھ کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ”بَعْدِكَ“ سے پہلے مِنْ ‘ کا لفظ زیادہ فرمایا، جو ”بعض“ کے معنی میں ہے، یعنی تمہارے بعد کے عرصے میں سے کچھ عرصے میں سامری نے انھیں گمراہ کردیا۔ (بقاعی)
Ayah 20:86فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۔۔ : ”غَضْبَانَ“ مبالغہ کے وزن پر ہے، اس لیے ”غصے سے بھرا ہوا“ ترجمہ کیا ہے۔ ”اَسِفًا“ ”أَسِفَ یَأْسَفُ“ (ع) سے صفت کا صیغہ ہے، اس کا معنی سخت غم و افسوس کرنے والا بھی ہے اور غصے والا بھی۔ (قاموس) یہاں ”غَضْبَانَ“ کے بعد افسوس زیادہ مناسب ہے۔ حرف ”فاء“ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے مکالمہ اور کتاب دینے کے آخر میں انھیں قوم کے گمراہ ہونے کی اطلاع دی۔ ”فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ“ تو یہ خبر سنتے ہی موسیٰ ؑ اپنی قوم کی طرف واپس روانہ ہوگئے۔
قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَـنًا : اس وعدے سے مراد توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد اس پر استقامت اختیار کرنے والے کے لیے مغفرت کا وعدہ، طور کی جانب ایمن پر موسیٰ ؑ سے کلام اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے تورات عطا کرنے کا وعدہ اور من وسلویٰ نازل کرنے کا وعدہ ہے۔ (طبری)
اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ۔۔ : ”الْعَهْدُ“ کا معنی ہے وصیت، کسی آدمی سے کوئی بات طے کرلینا، پختہ وعدہ، قسم، حرمت کا خیال رکھنا، امان، ذمہ، ملاقات، پہچان، زمانہ، وفا، اللہ تعالیٰ کی توحید وغیرہ۔ (قاموس) یہاں ملاقات بھی معنی ہوسکتا ہے اور مدت بھی کہ کیا تمہیں میری ملاقات کو بہت لمبی مدت ہوچکی تھی کہ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی ؟ تیس دنوں سے دس دن ہی تو زیادہ گزرے تھے، یہ کون سی لمبی مدت تھی کہ تم نے مجھ سے کیے ہوئے سب وعدے توڑ ڈالے۔ وعدہ خلافی سے مراد ان کا طور کے دامن تک جانے کے لیے موسیٰ ؑ کے پیچھے چلتے رہنے کے بجائے راستے میں ٹھہر جانا، بچھڑے کی پرستش اور مجاوری پر اڑ جانا اور ہارون ؑ کے انھیں چلتے رہنے کی تاکید اور بچھڑے کی عبادت ترک کرنے کی نصیحت پر یہ کہنا کہ ”لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ“ یعنی ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس آئیں۔ یہ تمام باتیں وعدے کی خلاف ورزی تھیں۔ (طبری)
Ayah 20:87قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا : انھوں نے وعدہ خلافی کا نہایت ہی بودا عذر پیش کیا کہ اس وعدہ خلافی میں ہمارا کوئی اختیار ہی نہ تھا۔ سامری نے ہمیں پھسلایا ہی اس طرح کہ ہم میں نیک و بد کی پہچان ہی نہ رہ گئی۔ کوئی پوچھے کہ سامری نے تم پر کوئی فوج کشی کی تھی یا تلوار تان رکھی تھی کہ تمہارا اختیار ختم ہوگیا تھا ؟ قیامت کے دن ہر مجرم اپنے آپ کو بےقصور اور بےاختیار ٹھہرائے گا اور اپنے تمام جرائم کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرائے گا مگر وہ صاف کہہ دے گا کہ میں نے تم پر کوئی فوج کشی نہیں کی تھی، صرف دعوت دی تھی، تم نہ مانتے تو میں تمہارا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (22)۔
وَلٰكِنَّا حُمِّلْنَآ اَوْزَارًا۔۔ : اس آیت کی تفسیر اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے فرعون کی قوم کے لوگوں سے ان کے زیورات ادھار مانگ لیے تھے، بعض نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ یہ کام انھوں نے موسیٰ ؑ کے کہنے پر کیا تھا۔ اب وہ ان کے لیے بوجھ بن گئے تھے، کیونکہ وہ مال غنیمت کے حکم میں تھے اور پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہ تھی۔ چناچہ ہارون ؑ یا سامری کے کہنے پر کہ ان زیورات کو اپنے پاس رکھنا گناہ ہے، سب زیور ایک گڑھے میں پھینک کر انھیں آگ لگا دی گئی اور سامری نے اس سے فائدہ اٹھا کر اس سونے یا چاندی سے بچھڑا بنادیا۔ بعض نے یہ لکھا ہے کہ فرعون کی قوم جب غرق ہوئی اور ان کی لاشیں کنارے پر آئیں تو بنی اسرائیل نے ان کے زیور اتار لیے، اس زمانے میں عورتوں کی طرح مرد بھی سونے چاندی کے کنگن اور زیور وغیرہ پہنتے تھے۔ ”زِيْنَةِ الْقَوْمِ“ سے قوم فرعون کے زیور مراد ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ اصرار ہے کہ یہ سلف کی تفسیر ہے اور اس سے انحراف سلف سے انحراف ہے۔ مگر قرآن و حدیث سے یا کسی صحابی سے صحیح سند کے ساتھ اس کی طرف معمولی اشارہ بھی نہیں ملتا کہ ہجرت کے وقت پوری قوم کو، حتیٰ کہ موسیٰ ؑ کو دھوکے سے قوم فرعون کے زیورات حاصل کرنے کی فکر پڑی ہوئی تھی، نہ آیات ہی میں کوئی اشارہ ہے کہ ”زِيْنَةِ الْقَوْمِ“ میں ”القوم“ سے مراد قوم فرعون ہے۔ دراصل یہ بات تورات اور پہلے صحیفوں سے لی گئی ہے، جن میں یہود نے اتنی تحریف کردی ہے کہ انبیاء پر تہمتیں لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ داؤد اور لوط ؑ پر ان کی تہمتیں معروف ہیں۔ اس واقعہ میں بھی انھوں نے ہارون ؑ پر تہمت لگائی ہے کہ بچھڑا بنا کر لوگوں کو اس کی عبادت پر لگانے والے وہ تھے۔ [ نَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ ھَفَوَاتِھِمْ ] اس کے برعکس قرآن مجید میں دوسرے مقام پر تصریح ہے کہ وہ تمام زیور بنی اسرائیل کے اپنے تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : (وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ) [ الأعراف : 148 ] ”اور موسیٰ کی قوم نے اس کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا جو ایک جسم تھا، جس کی گائے جیسی آواز تھی۔“ ”مِنْ حُلِيِّهِمْ 0“ (اپنے زیوروں سے) کی تصریح کے باوجود انھیں قوم فرعون کے زیور قرار دینا عجیب بات ہے۔
اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس زمانے میں نوٹ وغیرہ تو تھے نہیں، نقدی سونے یا چاندی ہی کی صورت میں ہوتی تھی، جسے زیورات کی صورت میں لوگ پہن لیتے یا گھروں میں محفوظ رکھتے، ان کا کافی بوجھ بن جاتا تھا، خصوصاً جب ان کے ساتھ تانبے وغیرہ کی آمیزش اور پہننے کے لیے چمڑے، دھاگے یا لوہے کی زنجیریں وغیرہ بھی ساتھ ہوتیں۔ اس لیے اس سفر میں ذمہ داریاں تقسیم کرتے وقت ہر ایک کے اپنے اپنے بوجھ اٹھانے کے بجائے کچھ لوگوں کے ذمے اسے اٹھانے کی ذمہ داری لگائی گئی۔ ظاہر ہے کہ اتنی اہم ذمہ داری قوم کے سربر آور دہ لوگوں ہی کی ہوسکتی تھی۔ موسیٰ ؑ بھی انھی لوگوں سے مخاطب تھے، کیونکہ وہ ایک وقت میں ساری قوم کے ہزاروں، یا بقول بعض لاکھوں لوگوں سے تو بات نہیں کرسکتے تھے۔ انھوں نے یہ وجہ بتائی کہ ہم پر لوگوں کے زیوروں کا بوجھ تھا، ہم نے اسے جس قدر ہو سکے ہلکا کرنے کے لیے آگ میں پھینکا کہ زائد چیزیں جل جائیں اور خالص سونے اور چاندی کی اینٹیں بنا لی جائیں اور منزل پر پہنچ کر ہر ایک کو اس کے نام لکھے ہوئے کے مطابق اس کے حصے میں آنے والا خالص چاندی یا سونا دے دیا جائے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر سامری نے اس سے بچھڑے کا مجسمہ بنادیا۔
3 اللہ تعالیٰ نے سونے اور چاندی میں یہ وصف رکھا ہے کہ یہ بطور قیمت شروع سے مقرر چلے آ رہے ہیں۔ دینار و درہم بھی ان کے بنتے تھے اور یہی فطری طریقہ تھا جس سے ہر شخص کا مال خود اس کے پاس ہوتا تھا۔ چالاک یہودیوں نے بینک بنا کر لوگوں کا سونا چاندی اپنے پاس جمع کرلیا اور انھیں رسیدیں جاری کردیں کہ جب چاہو یہ دکھا کر اپنا سونا چاندی لے لو۔ لوگوں نے صرف اتنی سہولت کی خاطر کہ بوجھ نہ اٹھانا پڑے، ان رسیدوں سے لین دین شروع کردیا، جس نے آگے نوٹوں کی صورت اختیار کرلی۔ اب صرف بوجھ سے بچنے کی خاطر سارا کاروبار یا تو نوٹ پر چلتا ہے یا بینک کے چیکوں پر۔ لوگوں کے پاس کاغذ کے ایک ٹکڑے کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس کاغذ کی حیثیت یہ ہے کہ حکومتیں جب چاہتی ہیں اس کی قیمت کبھی آدھی کم کردیتی ہیں، کبھی چوتھا حصہ۔ جو شخص ایک کروڑ روپے کے سونے کا مالک تھا، صرف ایک اعلان کے بعد پچاس لاکھ کے وعدے والے کاغذ کے سوا اس کے پاس کچھ نہیں رہتا اور اگر نئے نوٹ جاری ہوجائیں اور یہ بر وقت نہ بدلوا سکے تو بالکل ہی خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ بینک دیوالیہ ہوجائے تو اس کا چیک کسی کام کا نہیں رہتا اور ساری رقم ہی برباد ہوجاتی ہے۔ ضروری بوجھ سے جان چھڑانے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس کے مخلص بندے یہود کے شکنجے کو توڑ کر سود اور بینکوں کو ختم کرکے سونے یا چاندی کے سکے جاری کریں گے، تاکہ کوئی کسی کا حق نہ مار سکے۔ یہاں مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ بوجھ سے جان چھڑانے میں بنی اسرائیل کو کتنا نقصان ہوا اور اب مسلم اور غیر مسلم صرف بوجھ اٹھائے پھرنے سے بچنے کی خاطر کتنے بڑے خسارے میں پڑے ہوئے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں درحقیقت کچھ بھی نہیں، سب یہودی سود خوروں یا ان کے گماشتوں کے پاس ہے۔ ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مالیت سونے چاندی کی صورت میں محفوظ رکھے، صرف اتنا بیچ لے جتنے استعمال کی ضرورت ہے۔ سونے کی قیمت ہمیشہ ایک رہی ہے اور رہے گی۔ دیکھیے صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ایک دینار میں بکری خریدنا منقول ہے، ہجرت کو چودہ سو تیس سال گزرنے کے باوجود آج بھی بکری کی قیمت یہی ہے۔
Ayah 20:88فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْــلًا۔۔ : مصری لوگ ہندوؤں کی طرح گائے کی پرستش کرتے تھے اور اس کی تقدیس کے قائل تھے۔ بنی اسرائیل میں بھی مسلمان ہونے کے باوجود قبطی مشرکوں کی غلامی اور ان سے میل جول کی وجہ سے یہ عقیدہ سرایت کر گیا تھا، جس کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا تھا، جیسا کہ اس وقت ہوا جب موسیٰ ؑ نے انھیں کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ دیکھیے سورة بقرہ (67) اب موسیٰ ؑ کی عدم موجودگی میں سامری نے بنی اسرائیل کے زیوروں سے گائے کا بچھڑا بنایا جو بےجان تھا، مگر ایسی کاری گری سے بنایا گیا تھا کہ اس میں رکھے گئے سوراخوں کی وجہ سے خود بخود گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ وہ لوگ جنھوں نے سمندر سے پار ہوتے ہی چند بت پرستوں کے پاس سے گزرتے ہوئے موسیٰ ؑ سے ان کے معبودوں جیسا معبود بنانے کا مطالبہ داغ دیا تھا، انھی جاہلوں نے فوراً اسے اپنا معبود تسلیم کرلیا اور کہنے لگے، تمہارا اور موسیٰ کا اصل معبود تو یہ ہے، موسیٰ بھول میں پڑگئے جو طور پر کسی معبود سے کلام کے لیے گئے ہیں۔ ہمارے بعض صوفی حضرات بھی تصور شیخ کے شرک میں اس حد تک بڑھ گئے کہ جو محبت اپنے رب سے کرنی تھی اور جس طرح ہر وقت اسی کو اپنے سامنے رکھنا تھا، وہ محبت اور یاد شیخ کی نذر کردی اور یہاں تک کہہ دیا
اے قوم بحج رفتہ کجائید کجائید معشوق
درینجا ست کجائید کجائید
”اے حج کو گئے ہوئے لوگو ! تم کہاں ہو، تم کہاں ہو ؟ معشوق تو یہاں ہے، تم کہاں ہو، تم کہاں ہو ؟“
جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ۔۔ : بعض مفسرین نے یہ تک لکھ دیا ہے کہ وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں، بلکہ وہ محض دھات کا بنا ہوا ایک بےجان مجسمہ تھا۔ ”خُوَارٌ“ گائے کی آواز۔
Ayah 20:89اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِعُ اِلَيْهِمْ قَوْلًا۔۔ : یہ وہی دلیل ہے جو ابراہیم ؑ نے اپنے والد اور قوم کے سامنے پیش کی تھی : (يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَـيْــــــًٔــا) [ مریم : 42 ] ”اے میرے باپ ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے۔“ موسیٰ ؑ کے پیش کردہ اکثر دلائل وہی ہیں جو ان کے جد امجد ابراہیم ؑ نے پیش کیے تھے، دیکھیے سورة شعراء۔ بنی اسرائیل کی عجائب پرستی دیکھیے کہ دھات کے بنے ہوئے بچھڑے کے بےجان مجسمے کو صرف آواز کی وجہ سے معبود، حاجت روا اور مشکل کشا مان بیٹھے۔ مجسمہ بھی اس جانور کا جسے تمام جانوروں سے سادہ لوح سمجھا جاتا ہے اور جو خود انسان کا خدمت گار اور اس کی خوراک ہے۔ یہ نہ سوچا کہ اس مجسمے سے تو وہ خود ہزار گنا بااختیار ہیں کہ بول سکتے ہیں، اپنی مرضی سے چل پھر سکتے ہیں اور بقدر استطاعت کچھ نہ کچھ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں، جب کہ بت بچھڑے کا ہو یا انسان کا، بات کرنے، چلنے پھرنے، سننے دیکھنے، ہر چیز سے عاری ہے۔ سورة اعراف کی آیات (194، 195) میں یہ بات نہایت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔
Ayah 20:90وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ۔۔ : موسیٰ ؑ کے آنے سے پہلے ہارون ؑ نے نہایت اچھے طریقے سے نصیحت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہارون ؑ کے خطاب کا ذکر ”انما“ (بلاشبہ یقینا) کے ساتھ شروع فرمایا، اس میں بائبل کا رد ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ بچھڑا ہارون ؑ نے بنایا تھا۔ فرمایا، یقینی بات یہ ہے کہ ہارون ؑ نے تو اپنی قوم کو اس کی عبادت سے منع فرمایا تھا۔ ہارون ؑ کے خطاب کا حسن دیکھیے کہ سب سے پہلے یہ کہہ کر انھیں اپنا اور ان کا باہمی تعلق بتایا کہ ”يٰقَوْمِ“ (اے میری قوم !) یعنی اپنے ایک فرد کی بات سنو، جو تمہارا ایک فرد ہے اور تم سب کی اس سے رشتہ داری ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم سے فرمایا : (لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى) [ الشوریٰ : 23 ] ”میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، مگر رشتہ داری کی وجہ سے دوستی۔“ پھر باطل معبود کی نفی کے بعد صرف معبود برحق ”رحمان“ کو اپنا رب ماننے کی تاکید فرمائی جو ہر حال میں انسان پر رحم فرماتا ہے، جیسا کہ ”لا الٰہ الا اللہ“ میں پہلے ہر معبود کی نفی اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کا اثبات ہے۔ آخر میں اپنی نبوت اور موسیٰ ؑ کی خلافت کی وجہ سے اپنے پیچھے چلنے اور اپنا حکم ماننے کی تلقین فرمائی۔ نصیحت کی یہ بہترین ترتیب ہے۔
3 یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ شیعہ حضرات رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ابوبکر ؓ کے بجائے علی ؓ کے خلیفہ ہونے کی دلیل کے طور پر ایک حدیث بڑے زور و شور سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا : (أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلاَّ أَنَّہُ لَا نَبِيَّ بَعْدِیْ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب ؓ : 31؍2404، عن سعد بن أبي وقاص ؓ ] ”تم مجھ سے اسی مقام پر ہو جو ہارون ؑ کا موسیٰ ؑ سے تھا، سوائے اس بات کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ ان حضرات کو دیکھنا چاہیے کہ اپنے مخالفین کے اتنے بڑے مجمع میں، جو ہارون ؑ کے قتل تک پر تیار تھا، ہارون ؑ نے تقیہ اختیار نہیں کیا، بلکہ سب لوگوں کے سامنے واضح الفاظ میں حق بیان فرمایا اور لوگوں کو اپنے اتباع اور اطاعت کی دعوت دی اور دوسروں کی پیروی اور اطاعت سے منع فرمایا، تو اگر امت محمد ﷺ ابوبکر ؓ کو خلیفہ بنانے میں خطا پر ہوتی تو علی ؓ پر لازم تھا کہ وہی کرتے جو ہارون ؑ نے کیا تھا اور کسی بھی تقیہ اور خوف کے بغیر اپنی خلافت کا اعلان کرتے اور صاف الفاظ میں کہتے ”فَاتَّبِعُوْنِيْ وَاَطِيْعُوْٓا اَمْرِيْ“ تو جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ امت کا فیصلہ درست تھا۔ (رازی)
Ayah 20:91قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ۔۔ : ”عَکَفَ یَعْکُفُ عُکُوْفًا“ (ن) کا معنی عبادت اور تقرب کے ارادے سے کسی جگہ بیٹھ رہنا ہے۔ ہارون ؑ نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت چھوڑنے اور اپنے ساتھ موسیٰ ؑ کے پیچھے طور کی طرف جانے کے لیے کہا تو انھوں نے نہایت ڈھٹائی سے ان کی دونوں باتوں کا انکار کردیا کہ موسیٰ ؑ کے واپس آنے تک ہم نہ تمہارے ساتھ جائیں گے اور نہ بچھڑے کی مجاوری چھوڑیں گے۔
Ayahs 20:92–93قَالَ يٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ۔۔ : آیت (86) سے (89) تک موسیٰ ؑ کی شدید غصے اور افسوس کے ساتھ واپسی اور قوم کو ڈانٹنے اور ان سے سوال جواب کا ذکر ہے۔ اس کے بعد دو آیات میں اس عرصے میں ہارون ؑ کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی اور قوم کے ان کی کوئی بھی بات نہ ماننے کا ذکر ہے، جس سے مقصود ہارون ؑ کا دامن ہر کوتاہی سے پاک قرار دینا ہے۔ موسیٰ ؑ نے قوم کو بچھڑے کی عبادت کرتے دیکھا تھا، انھیں ہارون ؑ کی اصلاح کی کوشش اور نصیحت کا علم نہ تھا، اس لیے قوم کو ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ہی انھوں نے شدید غصے کی حالت میں تورات کی تختیوں کو پھینک دیا اور ہارون ؑ کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے (اعراف : 150، 151) اور کہنے لگے کہ جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تمہیں کس چیز نے روکا کہ میرے پیچھے چلے آؤ اور آ کر مجھے ان کے گمراہ ہونے کی خبر دو ، تو کیا تم نے میرا حکم نہیں مانا ؟
Ayah 20:94قَالَ يَبْنَـؤُمَّ لَا تَاْخُذْ۔۔ : ”يَبْنَـؤُمَّ“ اصل میں ”یَا ابْنَ أُمِّیْ“ تھا، یاء کو الف سے بدلنے کے بعد حذف کردیا۔ ہارون ؑ نے موسیٰ ؑ کا دل نرم کرنے کے لیے انھیں ماں کا بیٹا کہہ کر مخاطب کیا، کیونکہ ماں کی جانب والی قرابت باپ کی جانب والی قرابت سے زیادہ شفقت، نرمی اور پیار کا تقاضا کرتی ہے۔ (شنقیطی)
اِنِّىْ خَشِيْتُ۔۔ : ہارون ؑ نے سفر جاری نہ رکھنے کا یہ عذر بیان کیا کہ یہ لوگ راستے میں بچھڑا بنا کر وہیں بیٹھ رہنے پر اڑ گئے تھے، اگر میں توحید پر قائم لوگوں کو لے کر آپ کی طرف آتا تو قوم دو حصوں میں بٹ جاتی اور اگر میں انھیں لے کر بچھڑا پوجنے والوں سے لڑتا تو پھر بھی دو دھڑے بن جاتے، جن کی ایک دوسرے کو قتل کرنے کی وجہ سے نہ مٹنے والی شدید دشمنی بن جاتی۔ غالب دھڑا بچھڑے والوں کا تھا اور وہ اس قدر قوت میں تھے کہ انھوں نے مجھے بالکل کمزور سمجھا اور قریب تھے کہ مجھے قتل کردیتے، اس لیے میں نے آپ کے آنے کا انتظار کیا، تاکہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا، کیونکہ آپ کے احسانات اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ معجزات کی وجہ سے آپ کی ہیبت اور آپ کا اکرام ان کے دلوں میں موجود ہے۔ مجھے امید تھی کہ آپ آ کر انھیں سنبھال لیں گے۔
فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بعض صلح کل سیاسی حضرات، جو ووٹ لینے کی خاطر بدعتی اور مشرک لوگوں کے سامنے شرک کی تردید سے اجتناب کرتے ہیں، بلکہ قبروں پر چادریں بھی چڑھا دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے اگر شرک کو برداشت کرنا پڑے تو وہ بھی کرلینا چاہیے، مگر پھوٹ ڈال کر سیٹ ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔ ان حضرات نے غور نہیں کیا کہ ہارون ؑ نے شرک کے مقابلے میں کسی نرمی یا سمجھوتے سے کام نہیں لیا، بلکہ انھوں نے صاف الفاظ میں شرک کی تردید، توحید کی تبلیغ اور اپنی اتباع و اطاعت کی تاکید فرمائی۔ دیکھیے آیت (90) اگر وہ شرک کی تردید نہ کرتے تو قوم کو ان کے قتل کے درپے ہونے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہاں انھوں نے حالات کو دیکھ کر موسیٰ ؑ کی آمد تک علیحدہ ہونے یا لڑنے کے بجائے ان کے فرمان کا انتظار ضروری سمجھا اور اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ : اس سے معلوم ہوا کہ ہارون ؑ کی ڈاڑھی تھی، کیونکہ وہ اگر ڈاڑھی منڈے ہوتے تو انھیں ڈاڑھی پکڑنے کا کیا خوف تھا۔ قرآن مجید کی دوسری آیت ساتھ ملانے سے امت مسلمہ کے ہر فرد پر ڈاڑھی رکھنا فرض ثابت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ) [ الأنعام : 84 ] ”اور اس (ابراہیم) کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو (ہم نے ہدایت دی)۔“ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کئی اور پیغمبروں اور ان کے آباء، اولاد اور بھائیوں میں سے ہدایت یافتہ لوگوں کا ذکر کرکے فرمایا : (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ) [ الأنعام : 90 ] ”یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“ نبی ﷺ کو ہارون ؑ اور دوسرے انبیاء کی پیروی کا حکم آپ کی امت کے لیے بھی پیروی کا حکم ہے۔ دیکھیے سورة صٓ (24) ڈاڑھی بڑھانا فطرت ہے، کسی نبی سے ڈاڑھی منڈوانا یا کتروانا ثابت نہیں۔ یہود و نصاریٰ ڈاڑھی منڈواتے ہیں تو صرف ہمارے رسول ہی کی نہیں، اپنے پیغمبر کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عَشْرٌ مِّنَ الْفِطْرَۃِ : قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاء اللِّحْیَۃِ وَالسِّوَاکُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَ قَصُّ الْأظْفَارِ وَ غَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَ نَتْفُ الإِْبِطِ وَ حَلْقُ الْعَانَۃِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ ، قَالَ زَکَرِیَّاءُ قَالَ مُصْعَبٌ وَ نَسِیْتُ الْعَاشِرَۃَ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَ الْمَضْمَضَۃَ) [ مسلم، الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ : 261 ] ”دس چیزیں فطرت میں سے ہیں : 1 مونچھیں کترنا۔ 2 ڈاڑھی بڑھانا۔ 3 مسواک کرنا۔ 4 ناک میں پانی ڈالنا۔ 5 ناخن کاٹنا۔ 6 پوروں کو دھونا۔ 7 بغلوں کے بال اکھیڑنا۔ 8 زیر ناف صفائی کرنا۔ 9 پانی سے استنجا کرنا۔“ زکریا نے کہا کہ حدیث کے راوی مصعب نے کہا کہ میں دسویں چیز بھول گیا، شاید وہ کلی کرنا ہو۔“ مرد اور عورت کے درمیان فرق کی سب سے بڑی ظاہری نشانی ڈاڑھی ہے۔ کسی مرد کے خصیے نکال دیے جائیں تو اس کی ڈاڑھی بھی معدوم ہوجائے گی۔ یہ خلق اللہ (اللہ کی پیدائش) میں شامل ہے، جس کے متعلق شیطان نے قسم کھا کر کہا تھا کہ میں بنی آدم کو حکم دوں گا تو وہ اللہ کی پیدا کردہ شکل کو بدل ڈالیں گے۔ ڈاڑھی بڑھانے کے حکم کی احادیث معروف ہیں : ”أَعْفُوا اللُّحٰی، أَرْخُوا اللُّحٰی، وَفِّرُوا اللُّحٰی، أَوْفُوا اللُّحٰی“ اور ”لَا تُشَبِّھُوْا بالْمَجُوْسِ“ اس کے متعلق بہت سی تصانیف موجود ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی گھنی ڈاڑھی تھی۔ [ مسند أحمد : 1؍89، ح : 687، عن علی بن أبي طالب و حسنہ شعیب الأرنؤوط ] جو آپ کے بےمثال حسن کا حصہ تھی۔ آپ سے ساری زندگی اس کا ایک بال کاٹنا بھی ثابت نہیں۔ صحابہ کرام اور تابعین، جنھوں نے قیصر و کسریٰ کے خزانے فتح کیے اور زمین کے مشرق و مغرب کو اپنا تابع فرمان بنایا، ان میں کوئی ڈاڑھی منڈا نہ تھا۔ افسوس ہے ان مسلمانوں پر ! جن کی فطرت اس حد تک مسخ ہوچکی کہ وہ شیطان کے پیچھے لگ کر انبیاء اور صحابہ و تابعین کی وضع اور مردانگی کے اس عظیم شرف سے محروم ہی نہیں ہوئے بلکہ مرد ہوتے ہوئے عورتوں اور مخنثوں والا حلیہ بنا کر اس پر فخر کرنے لگے اور الٹا ڈاڑھی کا مذاق اڑانے لگے، جیسے ناک کٹے لوگ ناک والے کو نکو کہنا شروع کردیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے پیغمبر کی اطاعت کی طرف پلٹنے اور اپنی گم کردہ عظمت و مردانگی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 20:95قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يٰسَامِرِيُّ : ہارون ؑ سے جس زبانی اور عملی شدت کے ساتھ سوال ہوا تھا سامری سے سوال کرتے ہوئے وہ شدت نظر نہیں آتی، کیونکہ اپنوں پر غصہ زیادہ آتا ہے اور ان کے معقول عذر بیان کرنے پر غصہ ہی نہیں دل کا ملال بھی ختم ہوجاتا ہے، بلکہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔ چناچہ ہارون ؑ کی بات سن کر موسیٰ ؑ نے دعا کی : (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ) [ الأعراف : 151 ] ”اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلے اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم والا ہے۔“
اس کے برعکس سامری کی بدطینتی پہلے ہی معلوم تھی، سو سوال میں وہ شدت نہیں مگر اس کا عذر گناہ سن کر، جو بدتر از گناہ تھا، اسے ایسی سزا سنائی جو شاید کسی کو بھی نہ دی گئی ہو۔ اس کی مثال جنگ تبوک میں تین مخلص مسلمانوں کے لشکر سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ان سے بائیکاٹ ہے، جس کا نتیجہ ان کے اخلاص و امانت کی بدولت ان کی توبہ کی قبولیت اور قرآن میں ہمیشہ کے لیے ذکر خیر کی صورت میں نکلا۔ اس کے برعکس منافقین کا عذر بظاہر قبول کرلیا جاتا ہے، مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں کسی جنگ میں ساتھ لے جانے، ان کا جنازہ پڑھنے، ان کی قبر پر کھڑا ہونے سے منع کردیا جاتا ہے اور آخرت کے بدترین عذاب کی نوید سنا دی جاتی ہے۔
Ayah 20:96قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ۔۔ : میں نے اس آیت کی تفسیر کے لیے بہت زیادہ تفاسیر کا مطالعہ کیا، کئی اہل علم سے بھی پوچھا، جو کچھ تفاسیر میں لکھا ہے، میں وہ نقل کرتا ہوں۔ حافظ ابن کثیر ؓ فرماتے ہیں : ”بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ“ (میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی) یعنی میں نے جبریل ؑ کو دیکھا، جب وہ فرعون کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تو ”فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ“ (سو میں نے رسول کے پاؤں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھا لی) یعنی جبریل ؑ کی گھوڑی کے پاؤں کے نشان سے۔ یہی بات بہت سے مفسرین یا زیادہ تر مفسرین کے ہاں مشہور ہے۔“ (ابن کثیر) جیسا کہ حافظ ابن کثیر ؓ نے ذکر فرمایا، اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے، بلکہ بعض نے تو اس کے علاوہ کسی تفسیر کو سلف کی تفسیر سے انحراف قرار دیا ہے، یعنی سامری نے مٹی کی وہ مٹھی بچھڑے کے مجسمے میں ڈالی تو اس سے گائے کی آواز آنے لگی۔ مگر اس تفسیر کی قرآن، حدیث یا آیات کے سیاق میں کوئی دلیل نہیں۔ شروع سورت سے یہاں تک جبریل ؑ کا کوئی ذکر نہیں کہ الف لام عہد کا مان کر جبریل ؑ مراد لیے جائیں۔ نہ پورے قرآن میں جبریل ؑ کے متعلق ”الرَّسُوْلِ“ (معرف باللام) آیا ہے کہ ان کا لقب مان لیا جائے۔ پھر گھوڑی کا تو دور دور تک کچھ پتا نہیں۔ بعض تابعین کے اقوال یہاں دلیل نہیں بن سکتے، کیونکہ نہ وہ موقع پر موجود تھے اور نہ انھوں نے بتایا کہ یہ تفسیر انھوں نے کہاں سے لی۔ اگر انھوں نے پہلی کسی کتاب سے لی ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، تو ہم اس پر یقین نہیں کرسکتے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی تصدیق یا تکذیب دونوں سے منع فرمایا ہے۔ شک والی بات علم نہیں ہوسکتی اور نہ قرآن مجید (جس میں کوئی شک نہیں) کی تفسیر شک والی بات کے ساتھ کرنا علم تفسیر ہے۔ اس تفسیر سے پیدا ہونے والے سوالات، مثلاً تمام لوگوں میں سے سامری نے جبریل ؑ کو کیسے پہچانا ؟ اسے کیسے معلوم ہوا کہ اس مٹھی میں کیا کرشمہ ہے وغیرہ، سب کے جوابات کے لیے مزید کہانیاں درج کی گئی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں۔
کئی مفسرین نے ابومسلم اصفہانی (معتزلی) کی تفسیر اختیار کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مفسرین نے جو کچھ فرمایا قرآن میں اس کی صراحت نہیں ہے۔ چناچہ اس کی اور توجیہ ہوسکتی ہے کہ ”الرَّسُوْلِ“ سے مراد موسیٰ ؑ ہیں اور رسول کے پاؤں کے نشان سے ایک مٹھی پکڑنے سے مراد یہ ہے کہ میں نے ان کی سنت اور ان کے طریقے سے کچھ حصہ اخذ کیا۔ بعض اوقات آدمی کہتا ہے : ”فَلَانٌ یَقْفُوْ أَثَرَ فُلَانٍ وَ یَقْتَصُّ أَثَرَہُ“ ”فلاں شخص فلاں کے نشان قدم کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے نشان قدم کے پیچھے جاتا ہے۔“ جب وہ اس کے طریقے پر چلتا ہو۔ مطلب یہ ہوگا کہ موسیٰ ؑ نے جب سامری کو ملامت کی اور اس سے قوم کو گمراہ کرنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ”بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ“ یعنی مجھے معلوم ہوگیا کہ تم لوگ جس راہ پر ہو وہ حق نہیں تو ”فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ (وَقَدْ کُنْتُ)“ اس سے پہلے اے رسول ! میں نے آپ کے دین اور طریقے کا کچھ حصہ اختیار کیا تھا، ”فَنَبَذْتُهَا“ پھر میں نے اس طریقے کو پھینک دیا اور اسے چھوڑ کر بچھڑے کی پرستش میرے نفس نے میرے لیے خوشنما بنادی۔ اس پر موسیٰ ؑ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب کی اطلاع دی اور اس نے رسول کو غائب کے صیغے سے اسی طرح ذکر کیا جیسے آدمی اپنے سردار سے گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ امیر صاحب اس بارے میں کیا فرماتے ہیں اور امیر صاحب کیا حکم دیتے ہیں ؟ رہا اس کا موسیٰ ؑ کی رسالت کا منکر ہونے کے باوجود انھیں رسول کہنا، تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول ذکر فرمایا : (وَقَالُوْا يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ) [ الحجر : 6 ] ”اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے ! بیشک تو تو دیوانہ ہے۔“ حالانکہ وہ لوگ آپ پر نصیحت کا نزول تسلیم نہیں کرتے تھے۔ رازی لکھتے ہیں کہ ابومسلم نے جو ذکر کیا ہے وہ تحقیق کے زیادہ قریب ہے اور اس میں (پہلے) مفسرین کی مخالفت کے سوا کوئی خرابی نہیں۔ پھر رازی نے اس کی تائید میں کئی چیزیں ذکر کی ہیں۔ بہت سے بعد میں آنے والے مفسرین نے بھی یہ تفسیر اختیار کی ہے، مگر ”بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ“ کے بعد ”فَقَبَضْتُ قَبْضَةً“ کی تفسیر ”وَقَدْ کُنْتُ قَبَضْتُ“ کے ساتھ کرنا تکلف ہے، اسی طرح کسی کی پیروی کے لیے ”یَقْفُوْ“ اور ”یَقْتَصُّ أَثَرَہُ“ تو معروف ہے مگر اس مفہوم کے لیے ”یَقْبِضُ قَبْضَۃً مِنْ أَثَرِہِ“ کے استعمال کی لغت عرب میں کوئی نظیر نہ ابومسلم نے پیش کی ہے، نہ رازی نے اور نہ بعد میں آنے والے کسی بزرگ نے۔ پہلی تفسیر پر ابومسلم کا اعتراض کہ اس کی قرآن میں تصریح نہیں، اس تفسیر پر بھی وارد ہوتا ہے کہ اس کی تصریح بھی قرآن میں نہیں، محض کھینچ کھانچ کر یہ مطلب نکالا گیا ہے۔
ایک اردو مفسر نے یہ بات نکالی ہے کہ سامری ایک فتنہ پرداز شخص تھا۔ اس نے بچھڑا بنا کر اس میں کسی تدبیر سے بچھڑے کی سی آواز پیدا کردی۔ پھر مزید جسارت یہ کی کہ خود موسیٰ ؑ کے سامنے ایک پر فریب داستان گھڑ کر رکھ دی، اس نے دعویٰ کیا کہ مجھے وہ کچھ نظر آیا جو دوسروں کو نظر نہ آیا تھا اور ساتھ ہی یہ افسانہ بھی گھڑ دیا کہ رسول کے نقش قدم کی ایک مٹھی بھر مٹی سے یہ کرامت صادر ہوئی ہے۔ رسول سے مراد ممکن ہے جبریل ہی ہوں، یا اس نے رسول کا لفظ خود موسیٰ ؑ کے لیے استعمال کیا تھا تو یہ اس کی ایک اور مکاری تھی، وہ اس طرح موسیٰ ؑ کو ذہنی رشوت دینا چاہتا تھا۔ (ملخص) مگر ساری قوم کے سامنے اس کے جھوٹ پر موسیٰ ؑ جیسے پر جلال پیغمبر کا ذہنی رشوت لے کر خاموش رہنا اور صرف اسے سزا سنانے پر اکتفا کرنا اور قوم کے سامنے اس کے جھوٹ اور فریب کو واضح نہ کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔
ایک اور عقلی بزرگ نے ”بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ“ کی یہ توجیہ کی ہے کہ اس نے کہا کہ مجھے کشفی مشاہدہ ہوا جو صرف مجھی کو ہوا کہ جبریل ؑ کے آتے ہی میں نے ان کے (یا ان کے گھوڑے کے) نقش قدم سے ایک مٹھی خاک اٹھالی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس میں ڈال دی ہے، جس سے وہ بولنے لگا، مگر اب آپ کے ڈانٹنے سے معلوم ہوا کہ یہ محض میرے نفس کا دھوکا تھا۔ (ملخص) تعجب ہوتا ہے کہ یہ حضرات بات بناتے بناتے کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دیکھنے کی تفسیر کشفی مشاہدہ قادیانی طرز تفسیر کے سوا کچھ نہیں۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ موسیٰ ؑ قوم کے سامنے اس فریب کا پردہ چاک نہ کریں ؟ مجھے تو سلامتی اسی میں نظر آتی ہے کہ جس آیت کی تفصیل قرآن مجید کے الفاظ سے واضح نہ ہو اور نہ رسول اللہ ﷺ سے آئی ہو، اہل کتاب کی کسی روایت پر یقین کرنے یا زبردستی کوئی مطلب نکالنے کے بجائے متشابہات میں سے سمجھ کر اس پر مجمل ایمان رکھا جائے اور اس کی تفصیل اللہ کے سپرد کردی جائے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ۭ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاۗءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاۗءَ تَاْوِيْلِهٖ څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ) [ آل عمران : 7 ] ”وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔“ آخر ہم حروف مقطعات، اللہ تعالیٰ کی صفات، سد ذوالقرنین، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج اور قرآن مجید کی کتنی ہی باتوں کی تفصیل نہیں جانتے، مگر ہمارا ان پر ایمان ہے۔ سامری کے جواب کی تفصیل میں اگر ہمارا کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور ذکر فرما دیتا۔ سو ہمارا ایمان ہے کہ اگرچہ ہم تفصیل نہیں جانتے مگر جو ہمارے رب نے فرمایا وہ حق ہے۔
Ayah 20:97قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ۔۔ :”مِسَاسَ“ ”قَاتَلَ یُقَاتِلُ مَقَاتَلَۃً وَ قِتَالًا“ کی طرح باب مفاعلہ کا مصدر ہے جس میں مشارکت پائی جاتی ہے، یعنی ایک دوسرے کو چھونا، ہاتھ لگانا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ زندگی بھر کے لیے ایسی بیماری اور عذاب میں مبتلا ہوا کہ وہ کسی کو ہاتھ لگاتا یا کوئی اسے ہاتھ لگاتا، دونوں صورتوں میں اسے شدید تکلیف ہوتی، جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ وہ اس سے بچنے کے لیے خود ہی کہتا پھرتا کہ نہ میں تمہیں ہاتھ لگاتا ہوں اور نہ تم مجھے ہاتھ لگاؤ۔ بعض تابعین نے کہا ہے کہ ہاتھ لگنے کی صورت میں سامری اور دوسرے شخص دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا، مگر انھوں نے اس خبر کا ذریعہ نہیں بتایا۔ زندگی ہی میں تمام انسانوں سے اس کا تعلق کاٹ دیا گیا اور وہ تنہائی کے بدترین عذاب میں مبتلا ہوگیا۔ اس کے عمل سے سزا کی مناسبت اہل علم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ گائے کی آواز والا بچھڑا بنا کر اسے معبود کی صورت میں پیش کرنے سے اس کا مقصد شہرت اور لوگوں کو اپنے گرد جمع کرنے کی خواہش تھی، اللہ تعالیٰ نے ایسی سزا دی کہ کسی ایک شخص سے بھی نہ مل سکے۔
وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ : مراد موت، قبر اور آخرت کا عذاب ہے۔
وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰهِكَ الَّذِيْ۔۔ : ”ظَلْتَ“ ”ظَلَّ یَظَلُّ“ (ع) سے واحد مذکر حاضر ہے، جو اصل میں ”ظَلِلْتَ“ تھا (پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ) ، بولنے میں دشواری ختم کرنے کے لیے پہلا لام حذف کردیا گیا۔ وزن ”فَعِلْتَ“ کے بجائے ”فَلْتَ“ رہ گیا۔ ”ۭ لَنُحَرِّقَنَّهٗ“ جلانے میں شدت کے اظہار کے لیے باب تفعیل استعمال ہوا ہے۔ ”نَسَفَ یَنْسِفُ نَسْفًا“ (ض) اڑانا، بکھیرنا۔ ”الْيَمِّ“ نمکین سمندر اور میٹھے دریا دونوں معنوں میں آتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ سونے یا چاندی کے بچھڑے کو آگ میں جلانے سے وہ دھات اڑانے اور بکھیرنے کے قابل تو نہیں ہوتی بلکہ زیادہ خالص اور مضبوط ہوجاتی ہے۔ اس کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، مقصد یہ تھا کہ ہم اسے ذبح کرکے اچھی طرح جلا کر دریا یا سمندر میں اڑا کر بکھیر دیں گے، مگر گوشت پوست کا بچھڑا بننے کی بات بالکل بےاصل ہے۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ہم اسے خوب گرم کریں گے، تاکہ وہ نرم ہوجائے، پھر ریتی کے ساتھ اسے ذرہ ذرہ کر کے دریا میں بکھیر دیں گے، مگر قرآن مجید میں ریتی کا ذکر نہیں۔ اس لیے بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”حَرَقَ یَحْرُقُ“ کا معنی پیسنا بھی آتا ہے اور باب تفعیل میں مزید مبالغہ ہوگیا۔ یہ جواب بھی زبردستی پر مبنی ہے، کیونکہ ”تَحْرِیْقٌ“ کا معنی جلانا ہی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے مجھے اس کا بالکل واضح جواب مل گیا، وہ یہ کہ حکیم جس دھات کا چاہتے ہیں کشتہ بنا لیتے ہیں، جو راکھ کی صورت میں اتنا باریک ہوجاتا ہے کہ پھونک سے اڑ جاتا ہے۔ اطباء کو انبیاء کے کمال سے تو کوئی نسبت ہی نہیں، لہٰذا ان کے لیے دھات کو راکھ بنانا کیا مشکل ہے ؟
3 موسیٰ ؑ کا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے جو چیز بھی استعمال ہو رہی ہو اسے مسمار کرنا، جلانا اور اس کا نام و نشان مٹا دینا لازم ہے، خواہ وہ کوئی بت ہو یا درخت یا قبر۔ ابوالہیاج الاسدی (علی ؓ کے داماد) فرماتے ہیں کہ مجھے علی ؓ نے فرمایا : (أَلَا أَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَہٗ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّیْتَہٗ) [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر : 969 ] ”کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا ؟ وہ یہ ہے کہ کسی مجسمے کو نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو اور کسی اونچی قبر کو نہ چھوڑو جسے برابر نہ کر دو۔“ اللہ کی شان دیکھیے، اونچی قبریں برابر کرنے پر علی ؓ کو مقرر فرمایا جنھیں تمام قبر پرست، اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی کا باعث اہل کتاب کی پیروی میں قبر پرستی اور شرک کی دوسری صورتوں میں مبتلا ہونا اور توحید سے منہ موڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنی توحید کی طرف پلٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) ”لَنُحَرِّقَنَّهٗ“ اور ”لَنَنْسِفَنَّهٗ“ میں لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ اور پھر ”نَسْفًا“ مفعول مطلق کے ساتھ تاکید کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر صورت اسے جلائیں گے اور ہر صورت دریا میں اڑا کر بکھیریں گے۔ کسی طرح ایسا کرنے سے نہیں ٹلیں گے، خواہ کوئی مقابلے پر آجائے، یا منت و سماجت کرے، یا اپنے اس معبود کے غیظ و غضب سے ڈراتا رہے، یہ کام ہو کر رہے گا۔
Ayah 20:98اِنَّمَآ اِلٰــهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ ۭ۔۔ : یہ موسیٰ ؑ کا کلام ہے جنھوں نے سامری سے خطاب کے بعد اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب فرمایا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دو دلیلیں بیان ہوئی ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ اس صفت میں ساری صفات آجاتی ہیں، تفصیل اس کی علم کلام کی کتابوں میں ”لا الٰہ الا اللہ“ کی تشریح میں مذکور ہے۔ دوسری دلیل خاص صفت علم ہے جس کے گھیرے سے کوئی چیز باہر نہیں۔ ”وَسِعَ“ کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ گھیرا ڈالنے والی چیز میں اس کے اندر والی چیز سے زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ (ابن عاشور) جو ”كُلَّ شَيْءٍ“ سے بھی وسیع ہے، اس کی وسعت کا اندازہ کون کرسکتا ہے ؟
Ayah 20:99كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ۔۔ : یعنی جیسے ہم نے آپ کو موسیٰ ؑ ، بنی اسرائیل، فرعون اور اس کی قوم کے حالات بتائے ہیں، ایسے ہی ہم آپ کو ان چیزوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں جو آپ سے پہلے گزر چکیں۔ جنھیں نہ آپ نے دیکھا تھا اور نہ آپ کو یا آپ کی قوم کو ان کا علم تھا۔ دیکھیے ہود (49) ان سے مقصود محض وقت گزاری یا لطف اٹھانا نہیں بلکہ مقصود نصیحت ہے اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو یہ عظیم نصیحت عطا کی ہے۔ اس عظیم نصیحت سے مراد وحی الٰہی کے ذریعے سے نازل ہونے والی کتاب و حکمت (قرآن و سنت) ہے۔ اس کے سوا بڑے سے بڑے آدمی کی بات نہ اللہ کے پاس سے ہے اور نہ اس پر عمل کی اجازت ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (3) ”ذِكْرًا“ کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”عظیم نصیحت“ کیا ہے اور ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ خبریں“ کیا ہے، تمام خبریں سننے کی نہ ضرورت ہے اور نہ سنی جاسکتی ہیں۔ ”مَا“ اکثر غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے، اس لیے ترجمہ ان لوگوں کے بجائے ”ان چیزوں کی کچھ خبریں“ کیا گیا ہے، ”ان احوال کی کچھ خبریں“ بھی ترجمہ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 20:100–101مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ۔۔ : منہ پھیرنے سے مراد اس نصیحت پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے۔ ”وِزراً“ پر تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، بڑا بوجھ، بھاری بوجھ۔ ”حِمْلًا“ بمعنی ”مَحْمُوْلٌ“ ہے، جیسے ”ذِبْحٌ“ بمعنی ”مَذْبُوْحٌ“ ہے، اٹھایا ہوا (بوجھ)۔ ”سَاءَ“ فعل ذم ہے، جس کا فاعل ضمیر مبہم ”ھُوَ“ ہے اور جس کے ابہام کی توضیح ”حِمْلًا“ تمیز کے ساتھ کی گئی ہے۔
Ayah 20:102ۙيَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ۔۔ : یہ پچھلی آیات میں مذکور ”يَوْمَ الْقِيٰمَةِ“ سے بدل ہے جو قیامت کے دن کی وضاحت کر رہا ہے۔ ”الصُّوْرِ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة انعام (73) اور کہف (99)۔ ”زُرْقًا“ ”أَزْرَقُ“ کی جمع ہے، جس کا معنی نیلے رنگ والا ہے۔ یہاں اس کے دو معنی مراد ہوسکتے ہیں، ایک نیلے جسم اور نیلے چہروں والے، مراد سیاہ رنگ والے، کیونکہ جلی ہوئی جلد نیلگوں کالی ہوجاتی ہے۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (106)۔ دوسرا معنی ”اندھے“ ہے، کیونکہ بہت نیلی آنکھ اندھے آدمی کی ہوتی ہے، یعنی قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے، اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (124، 125)۔ طبری نے صرف یہی معنی بیان فرمایا ہے۔
Ayah 20:103ښيَّتَخَافَتُوْنَ بَيْنَهُمْ۔۔ : اسمائے عدد میں قاعدہ ہے کہ تین سے دس تک کی گنتی میں اگر کوئی چیز مذکر ہو تو عدد مؤنث آئے گا اور اگر کوئی چیز مؤنث ہو تو عدد مذکر ہوگا، جیسا کہ فرمایا : (سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ۙ حُسُوْمًا) [ الحاقۃ : 7 ] ”اس نے اس (آندھی) کو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔“ اس لیے یہاں ”عَشْراً“ کا معنی دس راتیں ہوگا۔ ”تَخَافُتْ“ (تفاعل) کا معنی خوف وغیرہ کی وجہ سے آہستہ آواز سے بات کرنا ہے۔ ان کی یہ حالت قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ہوگی۔
Ayah 20:104نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ۔۔ : ”اَمْثَلُ“ بمعنی ”أَفْضَلُ“ ہے۔ ”اَلْمَثَالَۃُ“ یعنی ”اَلْفَضْلُ۔“ ”طَرِيْقَةً“ سب سے اچھے طریقے والا سے مراد یہاں سب سے اچھی رائے والا ہے۔ اسے زیادہ اچھی رائے والا اور عقل مند اس لیے فرمایا کہ اس نے دنیا کے عارضی اور ختم ہونے کو اور آخرت کے ہمیشہ اور باقی رہنے کو دوسروں سے زیادہ سمجھا، اس لیے اس نے کہا کہ دس راتیں کہاں، تم تو ایک دن سے زیادہ دنیا میں نہیں ٹھہرے۔ طبری نے فرمایا کہ قیامت کی ہولناکی انھیں دنیا کا عیش و عشرت ایسا بھلائے گی کہ وہ دنیا میں رہنے کی صحیح مدت بھی نہیں بتاسکیں گے۔ دیکھیے سورة مومنون (112 تا 114) اور روم (55)۔
Ayahs 20:105–106ۧوَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ۔۔ : قرطبی نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جہاں بھی کسی سوال کا ذکر آیا ہے اس کے لیے جواب میں ”قُلْ“ کا لفظ آیا ہے۔ صرف اس مقام پر فاء کے ساتھ ”فَقُلْ“ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے تمام مقامات پر ان سوالات کا جواب ہے جو ہوچکے تھے، یہاں فاء اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ ہونے والے سوال کا جواب دیا کہ ”فَإِنْ سَأَلُوْکَ فَقُلْ۔۔“ یعنی اگر وہ تجھ سے پوچھیں تو کہہ دینا۔۔ یعنی فاء دلیل ہے کہ اس سے پہلے شرط محذوف ہے۔
فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا۔۔ : صور پھونکنے کے ساتھ قیامت قائم ہونے اور تمام لوگوں کے جمع کرنے کے ذکر پر منکرین قیامت کی طرف سے سوال آنے والا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب پہلے ہی دے دیا کہ ان کے خیال میں اتنے بلند و بالا اور محکم پہاڑوں کو ان کی جگہ سے کوئی ہلا نہیں سکتا، اس لیے وہ پوچھیں گے کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ پوچھیں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔ ”يَنْسِفُهَا“ کی تاکید ”نَسْفًا“ کے ساتھ فرمائی، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ”یَنْسِفُ“ اپنے اصل معنی میں نہیں ہے بلکہ مجاز ہے۔ یعنی فی الحقیقت اللہ تعالیٰ انھیں ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ پہاڑوں پر گزرنے والی حالتوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نبا (20) کی تفسیر۔ ”قَاعًا“ میدان۔ ”صَفْصَفًا“ ہموار۔
Ayah 20:107ۙلَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا : ”عِوَجًا“ کجی، مراد نیچی جگہ ہے۔ ”اَمْتًا“ معمولی ابھری ہوئی جگہ، یعنی ہر بلندی اور پستی، حتیٰ کہ سمندروں کی گہرائی اور پہاڑوں کی بلندی ختم ہو کر پوری زمین بالکل ہموار ہوجائے گی، جس میں ذرہ برابر نیچی یا اونچی جگہ دکھائی نہ دے گی۔