Ayahs 20:40–41”اِذْ تَمْشِيْٓ اُخْتُكَ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (11 تا 13) اور ”وَقَتَلْتَ نَفْسًا“ سے آخر آیت تک کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة قصص (14 تا 28)۔
وَفَتَنّٰكَ فُتُوْنًا : ”فُتُوْنًا“ ”فَتَنَ یَفْتِنُ“ کا مصدر ہے، جیسا کہ ”قُعُوْدٌ“ اور ”خُرُوْجٌ“ وغیرہ ہیں۔ اس کی تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور ہم نے تجھے آزمایا، خوب آزمانا۔“ اس آزمائش میں شاہ زادگی کی آسائشوں کے بعد ان کے ہاتھوں قبطی کا نادانستہ قتل، پھر اپنے قتل ہونے کا خوف، پھر بےسروسامانی میں فوری ہجرت، بھوکے پیاسے اور شدید خوف کی حالت میں کئی دن رات کا سفر، پردیس اور دس سالہ مزدوری سب شامل ہیں، جن سب میں زبردست تربیت کا سامان تھا۔ حافظ ابن کثیر نے ایک لمبی حدیث ”حدیث فتون“ مکمل ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے۔
ثُمَّ جِئْتَ عَلٰي قَدَرٍ يّٰمُوْسٰى : یعنی تمہارا راہ بھول کر وادی طویٰ میں آنا اور میرے ساتھ کلام اور نبوت و رسالت سے سرفراز ہونا، کسی طے شدہ منصوبے کے بغیر اور اچانک نہیں تھا، بلکہ عین میرے مقرر کردہ وقت اور فیصلے کے مطابق تھا۔ اگرچہ ہر کام ہی اللہ کی تقدیر سے ہے، مگر اس ”قَدَرٍ“ سے مراد خاص طور پر طے کرنا ہے، جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ) ”صَنَعَ یَصْنَعُ“ کا معنی بنانا ہے، ”اِصْطَنَعَ“ باب افتعال سے ہے، صاد کی مناسبت سے تاء کو طاء سے بدل دیا اور حروف کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی میں نے تجھے خاص طور پر اپنے کام یعنی رسالت و نبوت کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ تمام احسانات کا خلاصہ ہے۔
Ayah 20:42اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰيٰتِيْ : یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے موسیٰ ؑ کی پرورش فرعون کے گھر میں اور پھر مدین میں کی گئی، چونکہ اس وقت وہاں ہارون ؑ موجود نہیں تھے، اس لیے موسیٰ ؑ کو مصر پہنچ کر انھیں ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ ”بِاٰيٰتِيْ“ یعنی تم فرعون کے پاس خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے بلکہ میری نشانیاں عصا اور ید بیضا تمہارے پاس ہوں گی، اس لیے بلاجھجک جاؤ اور میرا پیغام پہنچاؤ۔
وَلَا تَنِيَا فِيْ ذِكْرِيْ : ”وَلَا تَنِيَا“ ”وَنٰی یَنِيْ وَنْیًا“ بروزن ”وَعَدَ یَعِدُ“ سستی کرنا، کوتاہی کرنا، تھک کر رہ جانا۔ یعنی میری یاد میں کمی نہ کرنا، اس سے تمہارا عزم قوی اور قدم ثابت رہے گا، کیونکہ جب تم مجھے یاد کرو گے تو میرے بیشمار عظیم احسانات تمہارے سامنے رہیں گے، جس سے ادائے رسالت میں کوئی ضعف نہیں آئے گا۔ (طبری) اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دشمن کے مقابلے کے وقت اپنے ذکر کثیر کا حکم دیا (دیکھیے انفال : 45) اور ہر حال میں ذکر کرنے والوں کی تعریف فرمائی اور انھیں ”اُوُلُوْا الْبَابِ“ قرار دیا۔ دیکھیے سورة آل عمران (190)۔
Ayah 20:43اِنَّهٗ طَغٰى : ”طُغْیَانٌ“ کا اصل معنی حد سے بڑھ جانا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ) [ الحاقۃ : 11 ] ”بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کر گیا، تمہیں کشتی میں سوار کیا۔“ فرعون کی طغیانی اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر ذکر فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار تھا۔ (نازعات : 24) وہ بلاشرکت غیرے معبود (الٰہ) ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ (قصص : 38) اس نے بنی اسرائیل کو یہ باتیں نہ ماننے کی وجہ سے غلامی اور بدترین عذاب کا نشانہ بنا رکھا تھا، ان کے بیٹے نہایت بےرحمی سے قتل کرتا، عورتوں کو زندہ رکھ کر اپنی اور اپنی قوم کی زیادتیوں کا نشانہ بناتا اور مردوں سے بےگارلیتا تھا۔ (قصص : 4) جسے چاہتا انکار پر جیل میں ڈال دیتا تھا۔ (شعراء : 29)
Ayah 20:44فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون ؑ کو حکم دیا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت نرم بات کہیں، جس میں ترغیب ہو، اسے غصہ دلانے والی نہ ہو۔ ہر داعی کو یہی اسلوب اختیار کرنا لازم ہے، کیونکہ دعوت الی اللہ سے مقصود مخاطب کی ہدایت اور اصلاح ہوتی ہے نہ کہ اپنی برتری ثابت کرنا، یا سخت کلامی سے دل کا غصہ نکالنا۔ دیکھیے سورة نحل (125) اور آل عمران (159) اللہ تعالیٰ نے وہ نرم بات بھی خود ہی سکھا دی، جیسا کہ آگے آیت (47) میں آ رہا ہے اور دیکھیے سورة نازعات (18، 19) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَا عَاءِشَۃُ ! إِنَّ اللّٰہَ رَفِیْقٌ یُحِبُّ الرِّفْقَ وَیُعْطِيْ عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا یُعْطِيْ عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لاَ یُعْطِيْ عَلٰی مَا سِوَاہٗ) [ مسلم، البر والصلۃ، باب فضل الرفق : 2593، عن عائشۃ ] ”اے عائشہ ! بیشک اللہ تعالیٰ بہت نرمی والا ہے، نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا کرتا ہے جو نہ سختی پر عطا کرتا ہے اور نہ اس (نرمی) کے سوا کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔“ اور یہ بھی فرمایا : (إِنَّ الرِّفْقَ لَایَکُوْنُ فِيْ شَيْءٍ إِلَّا زَانَہُ وَلاَ یُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَہٗ) [ مسلم، أیضًا : 2594 ] ”نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس سے بھی نکال لی جائے اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔“ ہاں اگر کہیں نرمی بالکل ہی بےاثر ٹھہرے اور کوئی شخص ہٹ دھرمی اور تکبر سے کسی طرح باز نہ آئے تو اس سے حق بات سختی کے ساتھ کہنے کی بھی اجازت ہے، کیونکہ وہاں ”حکمت“ کا تقاضا یہی ہے، جیسا کہ سورة عنکبوت (46) میں ہے اور زیر تفسیر آیات میں آیت (48) میں موسیٰ ؑ کا قول ہے۔
لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى : ”لَعَلَّ“ کا لفظ ترجی (امید کرنے) کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں امید کا ذکر آئے تو وہ بات یقینی ہوتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ فرعون نصیحت یا ڈرنے سے محروم رہے گا، پھر ”لَعَلَّ“ کا لفظ کیوں فرمایا ؟ اس کی دو توجیہیں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ ”لَعَلَّ“ موسیٰ اور ہارون ؑ کی نسبت سے ہے کہ تم اس سے نرم بات اس امید کے ساتھ کہو کہ وہ نصیحت حاصل کرے گا، یا ڈر جائے گا۔ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے، کیونکہ موسیٰ ؑ کو تو علم نہیں تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ اسی طرح مخاطب کتنا بھی سرکش ہو، داعی کو ہمیشہ امید کا چراغ دل میں روشن رکھنا لازم ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ ”لَعَلَّ“ کا لفظ ”امید ہے“ کے علاوہ ”کَیْ“ یعنی ”تاکہ“ کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے سورة بقرہ (21) میں فرمایا : (لَعَلَّکُم تَتَّقُوْنَ) ”تاکہ تم بچ جاؤ۔“ ”يَتَذَكَّرُ“ نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئے یا کم از کم ڈر کر ظلم سے باز آجائے، کیونکہ ایک سرکش آدمی سے یہی امید کی جاسکتی ہے۔
Ayah 20:45قَالَا رَبَّنَآ اِنَّنَا نَخَافُ۔۔ : موسیٰ ؑ نے مصر پہنچ کر ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور دونوں بھائیوں نے اپنی بےسرو سامانی اور فرعون کی سرکشی، حاکمانہ تسلط اور ظلم و ستم پر غور کیا تو انسانی فطرت کے مطابق ڈرے اور اپنے رب سے اس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہم تو ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرتے ہوئے ہمیں قید یا قتل نہ کر دے، یا کوئی اور خوف نا ک سزا نہ دے، یا اس کی سرکشی اور بڑھ جائے اور وہ کفر اور گمراہی میں مزید بڑھ جائے، یا تیری ذات وصفات کے بارے میں کوئی نامناسب بات کہہ گزرے، جس سے ہمیں ہر تکلیف سے زیادہ تکلیف پہنچے۔
Ayah 20:46اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ : بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں، اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ ہے، فرمایا : (وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ) [ الحدید : 4 ] ”اور وہ تمہارے ساتھ ہے، تم جہاں کہیں بھی ہو۔“ مگر یہاں اس سے مراد خاص معیت (ساتھ) ہے، یعنی میں تمہاری ہر طرح سے حفاظت و نصرت کروں گا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا تھا : (لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا) [ التوبۃ : 40 ] ”غم نہ کر، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ غور کیجیے پورے مصر کے وسائل کے مالک، بےپناہ فوج کے پہرے میں رب اور معبود ہونے کے دعوے دار کے پاس مقہور و مجبور اور غلام قوم کے دو آدمی جاتے ہیں، جن کے پاس بظاہر ایک لاٹھی کے سوا کچھ نہیں، نہ انھیں کوئی پہرے دار روک سکتا ہے اور نہ فوج کو روکنے کی جرأت ہوتی ہے۔ وہ سیدھے فرعون کے بھرے دربار میں بلاخوف و خطر جا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے ہر سوال کا جواب دیتے ہیں اور اس کے ہر مغالطے کا پردہ چاک کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ لاجواب ہو کر قید کی دھمکی دیتا ہے، مگر اسے نہ قید کرنے کی جرأت ہوتی ہے اور نہ کسی اور زیادتی کی، اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کا مظاہرہ اور کیا ہوگا ؟
اَسْمَعُ وَاَرٰى : میں دوسرے بھیجنے والوں کی طرح نہیں جو اپنا قاصد بھیج کر نہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس کی بات سن سکتے ہیں، بلکہ میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری اور سب کی ہر بات سن رہا ہوں اور ہر عمل دیکھ رہا ہوں۔ ایسی کوئی بات اور ایسا کوئی کام نہ ہونے دوں گا جس کا تمہیں خوف ہے۔
Ayah 20:47فَاْتِيٰهُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے فرعون کو تین چیزوں کی دعوت پہنچانے کا حکم دیا، ایک دعوت توحید کہ رب تو نہیں بلکہ وہ ہے جو تیرا بھی رب ہے اور جب وہ تیرے جیسے رب کہلانے والوں کا رب ہے تو باقی تمام مخلوق کا رب ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ دوسری دعوت رسالت کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس کا پیغام لے کر تیرے پاس آئے ہیں اور تیسری قوم کی آزادی کا مطالبہ کہ رب تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان کی دعوت کے بعد خاص تیری طرف یہ پیغام بھی لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو آزادی دے کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ اللہ کی زمین میں جہاں آزاد رہ سکیں چلے جائیں اور یہ کہ انھیں ان مختلف قسم کے عذابوں سے رہا کر دے جن سے تو نے انھیں دو چار کر رکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام کی دعوت میں غلام اور مظلوم اقوام کو غلامی سے نجات دلانا بھی شامل ہے۔ یہ کہنا کہ یہ جہاد فی سبیل اللہ نہیں، غلط ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (246 تا 252)۔
قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ : یہ اس بات کی تفصیل ہے کہ ”ہم تیرے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں“ یعنی یقین جانو کہ ہم تمہارے رب کی طرف سے اپنی رسالت کی نشانی اور دلیل بھی لے کر آئے ہیں، اگر تم اسے دیکھے بغیر ہی ایمان لے آؤ تو بہت ہی اچھا ہے، ورنہ ہم وہ بھی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وَالسَّلٰمُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى : اس میں ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ فرعون کو بھی سلام ہے، اگر وہ ہدایت قبول کرلے۔ معلوم ہوا کہ اگر وہ ہدایت قبول نہ کرے تو اسے کوئی سلام نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی کافر بادشاہوں قیصر و کسریٰ وغیرہ کو جو خط لکھے ان میں یہی لکھا : (اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی) [ بخاري : 6260 ] ”سلام ہو اس شخص پر جو اسلام کو قبول کرے“ یعنی ایمان نہ لانے والوں کے لیے نہ سلامتی کی دعا ہے اور نہ ان کے لیے اللہ کی گرفت سے سلامتی کی کوئی صورت ہے۔ آپ ﷺ نے ان سب کو لکھا : (أَسْلِمْ تَسْلَمْ) [ بخاري : 7 ] ”مسلمان ہوجاؤ تو سلامت رہو گے۔“
Ayah 20:48اِنَّا قَدْ اُوْحِيَ اِلَيْنَآ۔۔ : توحید و رسالت اور بنی اسرائیل کو اپنے ظلم و ستم اور غلامی سے آزاد کرنے کی دعوت کے ساتھ ہی خوش خبری بھی سنائی کہ جو ہدایت کی پیروی کرے گا سلامت رہے گا۔ اس آیت میں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیا کہ ہمیں وحی کے ذریعے سے بتایا گیا ہے کہ جو جھٹلائے گا اور منہ پھیرے گا اس پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ اس ڈرانے میں بھی نرم سے نرم الفاظ، جو ممکن تھے، ملحوظ رکھے، یہ نہیں فرمایا کہ تم پر عذاب نازل ہوگا۔ اس سلامتی اور عذاب دونوں کو عام رکھا، اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی سلامتی اور عذاب شامل ہیں۔ یہ مضمون سورة نازعات (30 تا 39) اور سورة قیامہ (31 تا 35) وغیرہ میں بھی بیان ہوا ہے۔
Ayah 20:49قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى : یعنی وہ کون ہے جسے تم نے مجھے چھوڑ کر رب بنا رکھا ہے ؟ واضح رہے کہ فرعون اپنے رب اعلیٰ ہونے کا دعوے دار تھا (نازعات : 24) اور اپنے ”الٰہ“ یعنی معبود ہونے کا بھی۔ (قصص : 38)
Ayah 20:50قَالَ رَبُّنَا الَّذِيْٓ اَعْطٰي كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ : یعنی صرف یہی نہیں کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے، بلکہ اس نے ہر چیز کو پیدا کرتے ہوئے اسے اس کی حسب ضرورت اور حسب حال شکل و صورت عطا فرمائی۔ چلنے والے، اڑنے والے اور تیرنے والے ہر جاندار کو، ہر درخت، پہاڑ اور دریا کو اور زمین و آسمان غرض ہر مخلوق کو ایسی شکل و صورت عطا فرمائی کہ کوئی دوسرا نہ اسے بنا سکتا ہے، نہ کوئی نقص یا عیب نکال سکتا ہے اور نہ اس سے بہتر شکل پیش کرسکتا ہے۔ دیکھیے سورة سجدہ (7) اور سورة ملک (3)۔
ثُمَّ هَدٰى : یعنی اس کے حسب حال شکل و صورت عطا فرما کر اسے زندگی گزارنے اور اپنی بناوٹ سے کام لینے کا راستہ بھی بتایا ہے، چناچہ پرندے کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے، بطخ کا بچہ تیرنے لگتا ہے، جبکہ جانور اور انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینے لگتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ سکھاتا تو کون سکھا سکتا تھا ؟ الغرض اس کائنات میں ہر چیز جو بھی کام کر رہی ہے اس کی دی ہوئی ہدایت اور تعلیم ہی سے کر رہی ہے۔ موسیٰ ؑ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا رب تو نہیں بلکہ وہ بزرگ و برتر اللہ ہے جس کی یہ اور یہ صفات ہیں۔ موسیٰ ؑ نے عموماً وہی دلائل پیش کیے جو ان کے جد امجد ابراہیم ؑ نے پیش کیے تھے۔ دیکھیے سورة شعراء (23 تا 29)
Ayah 20:51قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى : یہ سوال پوچھنے کی تین وجہیں ہوسکتی ہیں اور موسیٰ ؑ کے جواب میں سب کا حل موجود ہے۔ پہلی وجہ شاہ عبد القادر ؓ کے الفاظ میں یہ ہے : ”فرعون شاید دہریہ مزاج تھا۔ آدمیوں کی پیدائش کو سمجھتا تھا جیسے برسات کا سبزہ، نہ اول کسی نے پیدا کیا، آپ ہی پیدا ہوگیا، نہ آخر باقی رہا، گل کر مٹی ہوگیا۔ جب سنا کہ سب کے سر پر ایک رب ہے تب یہ پوچھا کہ اگلی خلق کہاں گئی ؟ بتایا ان کا حساب لکھا ہوا موجود ہے کہ ایک ایک آدمی پھر حاضر ہوگا۔“ (موضح) دوسری وجہ اس کے یہ پوچھنے کی کہ پھر پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، یہ ہوسکتی ہے کہ وہ یہ کہلوانا چاہتا تھا کہ جو لوگ سیکڑوں برس سے نسلاً بعد نسل دوسروں کو اپنا رب سمجھتے اور ان کی بندگی کرتے رہے ہیں، وہ سب گمراہ اور مستحق عذاب تھے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ جب موسیٰ ؑ ان کو گمراہ اور مستحق عذاب قرار دیں گے تو ان کے خلاف تمام لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور وہ ان کی دعوت سے متنفر ہوجائیں گے۔ اہل حق کے خلاف اہل باطل جاہلوں کو مشتعل کرنے کا یہ ہتھکنڈا ہمیشہ سے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی اسے کارگر حربہ سمجھتے ہیں۔ سورة شعراء کی آیات (23 تا 29) کی روشنی میں یہ مطلب سب سے واضح نظر آتا ہے۔ موسیٰ ؑ نے اس معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیا، چناچہ فرعون کا وار خالی گیا۔
تیسری وجہ یہ کہ فرعون یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ رسول تو عالم الغیب ہوتے ہیں، اگر تم واقعی رسول ہو تو پہلے یہ بتاؤ کہ پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے، ان کا حال ہمیں بتاؤ۔ مقصد یہ تھا کہ جب نہیں بتاسکیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ کیسا رسول ہے جو پہلے زمانوں کے لوگوں کے احوال بھی نہیں جانتا ؟ جواب یہ دیا کہ یہ جاننا رسولوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ رب تعالیٰ کا کام ہے۔
Ayah 20:52قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ : یعنی مجھے ان کے حال سے کوئی بحث نہیں۔ وہ اپنے اس رب کے پاس پہنچ گئے جس کے پاس ان کے تمام اعمال اور نیتوں کا ریکارڈ موجود ہے، جیسے ان کے اعمال ہوں گے ویسا ہی بدلہ ان کو مل جائے گا۔ ہمیں فکر اپنے حال کی ہونی چاہیے کہ ہم کس طرح اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ہونے سے بچا سکتے ہیں ؟ یہ نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے، جو صحیح بھی ہے اور اس سے فرعون بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔
فِيْ كِتٰبٍ ۚ لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى : چونکہ لکھی ہوئی بات زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے کراماً کاتبین مقرر فرمائے، جو ہر ایک کی کتاب تیار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی آگاہ فرما دیا کہ کتاب میں لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ غلطی یا بھول سے بچنے کے لیے لکھنے کا محتاج ہے، نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ ہر نقص کی طرح ان دونوں نقصوں سے بھی پاک ہے۔ اس میں ایک چوٹ بھی ہے، کیونکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ہر چیز کا خالق و ہادی نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے، دراصل یہ فرعون سے کہا جا رہا ہے کہ تو، جس کی سرشت میں بھٹکنا اور بھولنا رکھ دیا گیا ہے، کیا تجھے رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آئی ؟ سبحان اللہ
بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی
Ayahs 20:53–54الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا۔۔ : یہ دونوں آیات موسیٰ ؑ کا کلام بھی ہوسکتی ہیں، جسے نقل کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے زمین سے مختلف نباتات نکالنے کا ذکر آنے پر اپنے لیے غائب کے صیغوں کے بعد جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرما دیا، یعنی ”فَاَخْرَجْنَا بِهٖٓ اَزْوَاجًا“ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ ؑ کا کلام ”وَلَایَنْسیٰ“ پر ختم ہوگیا ہو اور ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مقام کی مناسبت سے اپنی مزید نعمتیں بیان فرمائی ہوں۔ اس صورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا ذکر غائب کے صیغے سے فرمایا اور ”فَاَخْرَجْنَا“ میں اپنی عظمت کے اظہار کے لیے جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا۔
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار نعمتیں ذکر فرمائی ہیں، پہلی نعمت زمین کو انسان کے لیے بچھونا بنانا۔ اس کا ذکر کئی آیات میں فرمایا۔ دیکھیے سورة زخرف (9، 10) ، سورة نبا (6) ، ذاریات (48) اور رعد (3) وغیرہ۔ دوسری نعمت زمین میں راستے بنانا سکھایا۔ دیکھیے سورة زخرف (9) ، انبیاء (31) ، نوح (19) اور نحل (15) تیسری نعمت آسمان سے پانی اتارنا، اس کا ذکر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ہے۔ چوتھی نعمت بنی آدم اور ان کے مویشیوں کے لیے بیشمار قسم کی کھانے اور استعمال کی چیزیں اگانا۔ دیکھیے سورة سجدہ (27) ، نازعات (31 تا 33) ، عبس (25 تا 32) اور سورة نحل (10)۔ (شنقیطی)
”شَتّٰی“ ”شَتِیْتٌ“ کی جمع ہے، مختلف، جیسا کہ ”مَرِیْضٌ“ کی جمع ”مَرْضٰی“ ہے۔ ”النُّھٰی“ ”نُھْیَۃٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی عقل ہے، کیونکہ عقل انسان کو نامناسب کاموں سے منع کرتی ہے۔ ”نَھٰی یَنْھٰی“ کا معنی ہے منع کرنا۔
Ayah 20:55مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ۔۔ : یعنی تم سب کے باپ آدم ؑ کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمہاری غذائیں اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جو موت تک چلتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ موت کے بعد دوبارہ مٹی میں جاؤ گے، پھر کوئی انسان قبر میں دفن ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کے اجزا مٹی میں جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں قیامت کے دن انھی اجزا کو دوبارہ روح پھونک کر زندہ کردیا جائے گا، فرمایا : (قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَفِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ) [ الأعراف : 25 ] ”فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔“ بعض روایات میں دفن کے وقت مٹی کی پہلی مٹھی ڈالتے ہوئے ”مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ“ ، دوسری مٹھی ڈالتے ہوئے ”وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ“ اور تیسری مٹھی ڈالتے وقت ”وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى“ پڑھنے کا ذکر ہے، مگر وہ روایات ضعیف ہیں، البتہ آیت پڑھے بغیر تین مٹھی مٹی ڈالنا مسنون ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے : (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی جِنَازَۃٍ ثُمَّ أَتٰی قَبْرَ الْمَیِّتِ فَحَثٰی عَلَیْہِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِہٖ ثَلاَثًا) [ ابن ماجہ، الجنائز، باب ما جاء في حثو التراب في القبر : 1565، صحیح ] ”رسول اللہ ﷺ نے ایک جنازے پر نماز پڑھی، پھر میت کی قبر پر آئے اور اس کے سر کی طرف (مٹی کی) تین مٹھیاں ڈالیں۔“
Ayah 20:56وَلَقَدْ اَرَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا۔۔ : یہ آیت موسیٰ ؑ اور فرعون کی باہمی گفتگو ذکر کرنے کے بعد موسیٰ ؑ کے قصہ کو دوبارہ آگے بیان کرنے سے پہلے جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یعنی فرعون کفر میں اتنا پکا تھا کہ ہماری تمام نشانیاں دیکھنے اور موسیٰ ؑ کو دل سے سچا سمجھنے کے باوجود ایمان نہیں لایا، حتیٰ کہ اس نے آخری نشانی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی کہ سمندر پھٹ گیا اور اس کے پانی کا ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا۔ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل ان راستوں سے بخیریت گزر گئے (شعراء : 63 تا 66) ، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لایا، بلکہ اپنے رب ہونے کے جھوٹے دعوے کو سچا ثابت کرنے کے لیے پوری فوج کو لے کر سمندر میں داخل ہو کر غرق ہوا، مگر غرق ہونے سے پہلے تک وہ جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا۔ دیکھیے سورة قمر (41، 42) اور یونس (90 تا 92)۔
Ayah 20:57قَالَ اَجِئْتَنَا۔۔ : فرعون نے یہ بات تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد نہیں کہی، کیونکہ اگر ایسا ہو تو جادوگروں سے ہونے والا یہ مقابلہ طوفان، جراد، قمل وغیرہ حتیٰ کہ سمندر پھٹنے کے واقعہ کے بعد ماننا پڑے گا، کیونکہ ”اٰیٰتِنَا کُلَّھَا“ میں یہ سب شامل ہیں۔ اس لیے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی صراحت کے مطابق فرعون نے موسیٰ ؑ کا عصا اور ید بیضا والا معجزہ دیکھ کر یہ بات کہی۔ دیکھیے سورة اعراف (106 تا 126) اور شعراء (30 تا 51)۔ (ابن عاشور)
لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا : ہر باطل پرست اور جابر و ظالم حکمران جب داعی حق کے سامنے لاجواب ہوجاتا ہے تو اس کی دعوت ٹھکرانے کے لیے یہی ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے، یعنی اسے اقتدار کا بھوکا ہونے کا طعنہ دیتا ہے، گویا اقتدار پر قابض رہنا اس کا تو پیدائشی حق ہے مگر کسی دوسرے کے لیے اس کے قریب پھٹکنا بھی جائز نہیں۔
”بِسِحْرِكَ“ میں ”جادو“ کی اضافت موسیٰ ؑ کے لیے آنے والی ضمیر (کاف) کی طرف کرنے میں ان معجزوں کی تحقیر مراد ہے کہ تو اپنے اس بےقدر و قیمت جادو کے ذریعے سے ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ تیرے اس جادو کی ہمارے کامل اور ماہر فن جادوگروں کے جادو کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے ؟
Ayah 20:58فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا۔۔ : ”مَوْعِدًا“ ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے، مکان بھی اور مصدر میمی بھی، یعنی ہمارے ساتھ وہ وقت بھی طے کرلو جس میں مقابلہ ہوگا اور جگہ بھی، البتہ جگہ ایسی ہونی چاہیے جو قبطیوں اور بنی اسرائیل دونوں کے لیے برابر ہو، تاکہ کسی کو آنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”مَكَانًا سُوًى“ کا مطلب برابر اور ہموار زمین ہے، جہاں سب مقابلہ دیکھ سکیں۔
Ayah 20:59قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ۔۔ : ”ضُـحًي“ وہ وقت جب سورج نکلنے کے بعد اس کی حرارت کا آغاز ہوتا ہے۔ موسیٰ ؑ تو خود چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں، تاکہ ان تک حق کا پیغام پہنچے اور وہ معجزات الٰہی کو اور حق کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ چناچہ ”يَوْمُ الزِّيْنَةِ“ اور دوپہر کا وقت مقرر کردیا گیا، تاکہ لوگ چھٹی کی وجہ سے فارغ ہوں اور دوپہر تک تمام علاقوں سے ہر شخص آسانی سے پہنچ جائے، دن کی روشنی زیادہ سے زیادہ ہو اور اگر مقابلہ طول پکڑ جائے تو مغرب تک لمبا وقت مل جائے۔ ”يَوْمُ الزِّيْنَةِ“ مصریوں کے ہاں معروف دن تھا، یہ اس دن منایا جاتا جب نیل کی طغیانی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اور دور تک پانی پھیل جاتا، جس کے بعد فصلوں کی کاشت کا آغاز ہوتا۔ ابن عاشور ؓ نے اس کا اندازہ پندرہ ستمبر لگایا ہے۔ تفصیل ”التحریر والتنویر“ میں دیکھیں۔ موسیٰ ؑ نے جگہ کا ذکر نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”يَوْمُ الزِّيْنَةِ“ میں تمام لوگوں کا جشن منانے کے لیے کسی خاص جگہ جمع ہونا معروف تھا، جیسا کہ حکومتوں نے بڑے بڑے سٹیڈیم بنا رکھے ہوتے ہیں، اس لیے زینت کا دن اور وقت طے کرنے کے بعد جگہ کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔
Ayah 20:60فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ۔۔ : یعنی فرعون نے مجلس برخاست کردی اور پھر اپنے سرداروں سے مشورے اور سب کے اتفاق کے بعد پوری کوشش سے ایک طرف تو سلطنت کے ہر علاقے سے ماہر جادوگر جمع کرلیے اور انھیں انعام و اکرام اور قرب شاہی کا وعدہ کر کے مقابلے کے لیے تیار کیا اور دوسری طرف عام لوگوں کو دیکھنے کی ترغیب دی کہ مقابلہ دیکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ پھر فرعون سب کچھ ساتھ لے کر میدان مقابلہ میں آگیا۔ دیکھیے سورة اعراف (109، 110) ، شعراء (34، 35) اور نازعات (22، 23)۔
Ayah 20:61وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا : ”وَيْلَكُمْ“ ”تمہاری بربادی ہو“ نصیحت کرتے ہوئے سختی کا لفظ بھی استعمال ہوسکتا ہے اور محبت اور بےتکلفی کا بھی، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبصیر ؓ کو فرمایا تھا : (وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرَ حَرْبٍ) [ بخاری، الشروط، باب الشروط في الجھاد۔۔ : 2731، 2732]”اس کی ماں مرے ! یہ تو لڑائی بھڑکانے والا ہے۔“ موسیٰ ؑ نے پہلے فرعون کو نصیحت کی تھی، اب اس کے امراء اور جادوگروں کو بھی نصیحت کرنا ضروری تھا، چناچہ انھیں سمجھایا بھی اور ڈرایا بھی۔
فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ : ”أَسْحَتَ یُسْحِتُ“ أَیْ ”اِسْتَأْصَلَ“ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔ ”عذابٍ“ کی تنوین تنکیر کے لیے ہو تو ”کسی عذاب کے ساتھ“ ترجمہ ہوگا اور تعظیم کے لیے ہو تو ”بڑے عذاب کے ساتھ“ ہوگا۔
Ayah 20:62فَتَنَازَعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ۔۔ : نصیحت بعض پر مؤثر ہوئی، بعض پر نہیں۔ چناچہ وہ آپس میں چپکے چپکے جھگڑنے لگے، تاکہ فرعون یا موسیٰ یا عوام میں سے کسی کو ان کے باہمی اختلاف کی خبر نہ ہونے پائے۔ ”النَّجْوٰى“ آپس کی خفیہ بات، سرگوشی۔ ”اَسَرُّوا“ انھوں نے پوشیدہ کیا۔ ”النَّجْوٰى“ (سرگوشی) خود پوشیدہ ہوتی ہے، پھر ”اَسَرُّوا“ سے اس کی مزید پوشیدگی کا اندازہ کریں اور اس سے پہلے ”بَيْنَهُمْ“ (آپس میں) کا لفظ بتاتا ہے کہ اس جھگڑے کی خبر اس محدود گروہ کے درمیان ہی رہی، باہر نہیں نکلی۔ (ابن عاشور) کوئی کہنے لگا، موسیٰ جادوگر ہے اور کوئی کہنے لگا، یہ چہرہ جادوگر کا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 20:63قَالُوْٓا اِنْ ھٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ۔۔ : یہ ”اِنْ“ اصل میں ”إِنَّ“ حرف تاکید ہے، جس کی علامت خبر ”لَسٰحِرٰنِ“ پر لام تاکید ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”إِنَّ“ اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، اس لیے ”ھٰذٰىنِ“ کے بجائے ”ھٰذَیْنِ“ ہونا چاہیے تھا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ ”إِنَّ“ کے نون کو جزم دینے کے بعد اس کا عمل ختم کردیا گیا اور ”ھٰذٰىنِ“ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، دوسرا یہ کہ ”اِنْ“ (نون ساکن کے ساتھ) ”إِنَّہُ“ یعنی ”إِنَّ“ اور ضمیر شان کی جگہ آیا ہے، چناچہ ”اِنْ“ کا اسم ضمیر شان تھی اور ”ھٰذیٰن“ اگلے جملے کا مبتدا ہے اور وہ جملہ ”اِنپ“ کی خبر بن رہا ہے۔ (ابن جزی) مزید جواب لمبی تفسیروں میں دیکھیں۔ ”الْمُثْلٰى“ ”أَمْثَلُ“ اسم تفضیل کا مؤنث ہے، بمعنی ”أَفْضَلُ“ سب سے اچھا۔
3 آخر باہمی مشورے کے بعد مال و دولت اور جاہ ومنصب کی حرص نے ان سب کو مقابلے پر متفق کردیا اور فیصلہ یہ ٹھہرا کہ یہ دونوں یقیناً جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرکے تمہیں تمہارے وطن سے نکال دیں اور تمہارے دین و مذہب کو، جو سب سے اچھا ہے اور تمہاری عیش و عشرت والی بہترین زندگی کو حکومت پر قبضہ کرکے ختم کردیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا ذِءْبَانِ جَاءِعَانِ أُرْسِلاَ فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَھَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرْفِ لِدِیْنِہٖ)”دو بھوکے بھیڑیے، جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اس قدر برباد کرنے والے نہیں جس قدر آدمی کی مال اور بلند مرتبہ (شہرت) کی حرص اس کے دین کو برباد کرنے والی ہے۔“ [ ترمذی، الزھد، باب حدیث ما ذئبان جائعان۔۔ : 2376۔
ابن حبان : 3228، عن کعب بن مالک ؓ ، صحیح ]
Ayah 20:64فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ۔۔ : ”جَمَعَ یَجْمَعُ“ (ف) جمع کرنا اور ”أَجْمَعَ“ (افعال) پختہ کرنا، پختہ ارادہ کرنا، اتفاق کرنا۔ لہٰذا ”فَاَجْمِعُوْا“ (افعال) کا ترجمہ ”جمع کرو یا اکٹھا کرو“ درست نہیں۔ یعنی یہ تذبذب اور اختلاف چھوڑو کہ موسیٰ (ؑ) کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے، تم اپنا ارادہ اور اپنی خفیہ تدبیر پختہ اور مستحکم کرو اور پھر صف کی صورت میں اکٹھے ہو کر میدان میں آؤ، تاکہ سب پر تمہارا رعب پڑے اور دفعتاً ایسا حملہ کرو کہ حریف کے قدم اکھڑ جائیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جادوگر بہت بڑی تعداد میں تھے اور انھوں نے ایک بےہنگم ہجوم کی صورت میں سامنے آنے کے بجائے باقاعدہ فوجی ترتیب سے آگے پیچھے صفیں باندھ کر اپنی ہیبت اور شان و شوکت کے اظہار کا فیصلہ کیا۔ ”فَاَجْمِعُوْا“ یہاں جنس کے معنی میں ہے اور اس سے ایک صف مراد نہیں، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ صَفًّا) [ النبا : 38 ] ”جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے۔“ فرعون کے حکم سے مصر کے تمام شہروں میں سے ہر ماہر جادوگر وہاں لایا گیا تھا، اس لیے مراد کئی صفیں ہیں۔
وَقَدْ اَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى : ”اسْتَعْلٰى“ ”عَلَا یَعْلُوْ“ سے استفعال ہے۔ زائد حروف مبالغے کے لیے ہیں، یعنی آج کے مقابلے کی اتنی اہمیت ہے کہ جس نے اس میں واضح اور نمایاں غلبہ حاصل کرلیا اس کا سکہ ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا اور جو اس میں رہ گیا پھر کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔
Ayah 20:65قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ۔۔ : فرعون نے موسیٰ ؑ کے عصا کو سانپ بنتے ہوئے دیکھا تو لوگوں کی نگاہ میں اسے بےوقعت بنانے کے لیے اسے جادو قرار دے کر کہا کہ ہم بھی مقابلے میں ایسا ہی جادو لائیں گے، چناچہ اس کے مطابق جادوگروں نے لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بننے کے شعبدے کی تیاری کی اور میدان میں آ کر یہ پیش کش کی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اس پیش کش کے الفاظ سے اپنے جادو پر ان کے اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے اور اس بات کا بھی کہ اگر تم پہل پر تیار نہیں ہو تو ہم اس کے لیے بالکل تیار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے جس خیال سے بھی یہ پیش کش کی ہو اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت پوشیدہ تھی کہ ان کے جادو کا سارا کمال لوگوں کے سامنے آنے کے بعد اسے حق کے مقابلے میں بےحقیقت ثابت کیا جائے، جیسا کہ اس سے پہلے خود فرعون کے منہ سے موسیٰ ؑ کو اختیار دلوایا گیا کہ مقابلے کا مقام اور دن وہ مقرر کریں۔
Ayahs 20:66–70فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ۔۔ : ”اچانک“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسی زبردست تیاری کر رکھی تھی کہ ان کے لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکنے کے بعد ان کے دوڑنے اور حرکت کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔ صف در صف کھڑے ہوئے جادوگروں کی بیک وقت پھینکی ہوئی لاٹھیوں اور رسیوں سے میدان دوڑتے ہوئے سانپوں کی شکل میں بدل گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ان کے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور ان کے جادو کو سحر عظیم قرار دیا ہے۔ اس آیت سے لے کر آیت (76) تک کی تفسیر کے لیے سورة اعراف کی آیت (115) سے (126) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں چند مختصر سے اشاروں پر اکتفا کیا گیا ہے۔
Ayah 20:71اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۚ : یعنی یہ تمہارا ”گرو“ ہے اور تم اس کے چیلے ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم آپس میں طے کرکے آئے ہو کہ پہلے چیلے ایک شعبدہ دکھائیں گے، پھر وہ سب کے سامنے ”گرو“ سے شکست کھا لیں گے، تاکہ دیکھنے والے ان کے ”گرو“ کا کہنا مان لیں اور اس کے معتقد بن جائیں۔ فرعون نے یہ شبہ اسی وقت پیدا کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام بھی ان کے متبع ہوجائیں۔
فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ۔۔ : شبہ پیدا کرنے کے بعد اوپر سے دھمکی بھی دے دی، تاکہ ان کو ایمان پر قائم رہنے سے پھیر دیا جائے اور دوسرے لوگ بھی مرعوب ہوجائیں۔
فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ : ”النَّخْلِ“ ”جِذْعٌ“ (جیم کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے ”تنے۔“ سولی دینے کے لیے اونچے سے اونچا میسر کھمبا اس وقت کھجور کا تنا تھا۔ ظاہر ہے کہ سولی تنے کے اوپر دی جاتی ہے، مگر یہاں ”فِيْ جُذُوْعِ النَّخْلِ“ (کھجوروں کے تنوں میں) فرمایا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ ”فِيْ“ ”عَلٰی“ کے معنی میں ہے، مگر ”فِيْ“ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ تمہیں کھجوروں کے تنوں کے اوپر لے جا کر کیلوں یا رسیوں کے ساتھ تنوں میں پیوست کر دوں گا اور اس طرح تم عبرت ناک انجام کو پہنچو گے۔ سولی کی تفصیل سورة اعراف (115 تا 126) میں دیکھیں۔
وَلَتَعْلَمُنَّ اَيُّنَآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰي : یعنی وہ عذاب جس سے موسیٰ (ؑ) نے تمہیں مقابلے سے پہلے ڈرایا تھا کہ ”وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ“ وہ زیادہ سخت اور دیرپا ہے یا میرا عذاب ؟ فرعون حقیقت حال سے واقف تھا، مگر اپنی شکست فاش پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ دھمکیاں دے رہا تھا۔
Ayahs 20:72–73قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰي مَا جَاۗءَنَا۔۔ : مگر جادوگروں کا ایمان تو ایک لمحہ میں اس قدر پختہ ہوگیا تھا کہ نہ ان کے دل میں مال و دولت اور دنیوی جاہ و منصب کی کچھ قدر باقی رہ گئی، جس کے لیے انھوں نے یہ مقابلہ کیا تھا اور نہ اب فرعون کی دھمکیوں کا ان پر کچھ اثر ہوا۔ چناچہ انھوں نے کہا کہ تو اس سے زیادہ کیا کرسکتا ہے کہ ہماری چند روزہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ کر دے ؟ سو ہمیں اس کی پروا نہیں۔ مگر آج ایک شخص ساٹھ سال قرآن پڑھ کر بھی حقیر دنیا کے بدلے اپنے ایمان کو فروخت کردیتا ہے۔
Ayah 20:74لَا يَمُوْتُ فِيْهَا وَلَا يَحْيٰي : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَمَّا أَہْلُ النَّارِ الَّذِیْنَ ہُمْ أَہْلُہَا، فَإِنَّہُمْ لاَ یَمُوْتُوْنَ فِیْہَا وَلاَ یَحْیَوْنَ ، وَلٰکِنْ نَاسٌ مِنْکُمْ أَصَابَتْہُمُ النَّارُ بِذُنُوْبِہِمْ فَأَمَاتَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِمَاتَۃً ، حَتّٰی إِذَا کَانُوْا فَحْمًا أُذِنَ بالشَّفَاعَۃِ ، فَجِيْءَ بِہِمْ ضَبَاءِرَ ضَبَاءِرَ ، فَبُثُّوْا عَلَی أَنْہَارِ الْجَنَّۃِ ، ثُمَّ قِیْلَ ! یَا أَہْلَ الْجَنَّۃِ ! أَفِیْضُوْا عَلَیْہِمْ ، فَیَنْبُتُوْنَ نَبَاتَ الْحِبَّۃِ تَکُوْنُ فِيْ حَمِیْلِ السَّیْلِ) [ مسلم، الإیمان، باب إثبات الشفاعۃ و إخراج الموحدین من النار : 185، عن أبي سعید الخدري ؓ ]”آگ والے، جو اسی میں رہنے والے ہیں، وہ تو اس میں نہ مریں گے اور نہ جییں گے اور لیکن کچھ لوگ، جنھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ لگ جائے گی تو اللہ تعالیٰ انھیں ایک طرح کی موت دے دے گا، یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہوجائیں گے تو شفاعت کا اذن ہوجائے گا۔ سو انھیں ڈھیروں کی صورت میں لایا جائے گا اور وہ جنت کی نہروں (کے کناروں) پر بکھیر دیے جائیں گے، پھر کہا جائے گا کہ اے جنتیو ! ان پر پانی انڈیلو، تو وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب کی لائی مٹی میں جڑی بوٹیوں کے بیج (فوراً) اگ آتے ہیں۔“ ”نہ مرے گا اور نہ جیے گا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة فاطر (36) ، ابراہیم (15 تا 17) ، نساء (56) ، اعلیٰ (11 تا 13) اور زخرف (77)۔
Ayahs 20:75–76فَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰي۔۔ : ”الْعُلٰي“ ”عُلْیَا“ کی جمع ہے، جو اسم تفضیل ”أَعْلٰی“ کی مؤنث ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فِي الْجَنَّۃِ ماءَۃُ دَرَجَۃٍ مَا بَیْنَ کُلِّ دَرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلاَھَا دَرَجَۃً وَمِنْھَا تُفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ الْأَرْبَعَۃُ وَمِنْ فَوْقِھَا یَکُوْنُ الْعَرْشُ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنۃ : 2531، عن عبادۃ بن الصامت ؓ ] ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگا کرو۔“ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ أَھْلَ الْجَنَّۃِ یَتَرَاءَوْنَ أَھْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِہِمْ کَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَیْنَھُمْ ، قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! تِلْکَ مَنَازِلُ الْأَنْبِیَاءِ لَا یَبْلُغُھَا غَیْرُھُمْ ؟ قَالَ بَلٰی وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ ! رِجَالٌ آمَنُوْا باللّٰہِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِیْنَ) [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ : 3256، عن أبي سعید الخدري ؓ ]”جنت والے اپنے سے اوپر بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم اس چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو جو آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں باقی رہ گیا ہو، ان کے ایک دوسرے سے درجات زیادہ ہونے کی وجہ سے۔“ لوگوں نے کہا : ”یا رسول اللہ ! یہ انبیاء کے مقام ہوں گے کہ ان کے سوا کوئی ان تک نہیں پہنچ سکے گا ؟“ آپ نے فرمایا : ”کیوں نہیں ؟ مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ وہ آدمی ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة محمد (15)۔
Ayah 20:77وَلَقَدْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓى ڏ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰى۔۔ : فرعون کے جادوگروں کے مقابلے میں ناکام ہونے اور ان کے ایمان قبول کرلینے کے بعد ایک لمبی مدت گزری، جس میں بنی اسرائیل پر ظلم کے کئی پہاڑ ٹوٹتے رہے، ساتھ ہی فرعون اور اس کی قوم پر قحط، طوفان، ٹڈی دل، جوؤں، مینڈکوں اور خون کی صورت میں معجزے کے طور پر کئی عذاب آئے، جن میں سے ہر عذاب آنے پر وہ لوگ اپنے ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کرتے مگر عذاب ٹل جانے پر صاف مکر جاتے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو راتوں رات بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ اس کا ذکر سورة اعراف (130 تا 135) میں تفصیل سے ہے۔ یہاں وہ ساری بات حذف کرکے فرعون کا انجام ذکر فرما دیا۔ اس لیے اس آیت کا عطف آیت (56) (وَلَقَدْ اَرَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَاَبٰى) پر ہے کہ فرعون کے تمام آیات (نشانیوں) کو جھٹلانے اور انکار کا انجام کیا ہوا ؟ اس کا عطف موسیٰ ؑ اور جادوگروں کے مقابلے کے واقعہ پر نہیں۔ (بقاعی)
اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ۔۔ : یہ قصہ تفصیل کے ساتھ سورة شعراء (52 تا 66) اور یونس (90 تا 92) میں مذکور ہے۔ یہاں ”فَاجْعَلْ لَہُمْ طَرِیْقًا“ (پس ان کے لیے راستہ بنا) کے بجائے ”فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا“ (پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ مار) فرمایا، مقصود لمبی بات کو مختصر کرنا ہے، یعنی ”اِجْعَلْ لَھُمْ بِضَرْبِ الْبَحْرِ بِعَصَاکَ طَرِیْقًا“ (سمندر پر اپنی لاٹھی مارنے کے ساتھ ان کے لیے اس میں خشک راستہ بنا)۔ گویا ”اِضْرِبْ“ میں ”اِجْعَلْ“ کا معنی سمو دیا ہے، اسے تضمین کہتے ہیں۔
لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰى : ”وَّلَا تَخْشٰى“ کا مفعول ذکر نہیں فرمایا، تاکہ وہ عام رہے۔ معنی یہ ہوگا کہ نہ تو پکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ کسی بھی دوسری چیز سے ڈرے گا، مثلاً غرق ہونے، راستہ بھول جانے، بھوک پیاس سے ہلاک ہونے یا کسی اور دشمن کے حملے سے، غرض کسی بھی خطرے کا تجھے ڈر نہیں ہوگا۔ بعض مفسرین نے اس کا مفعول ”غَرْقًا“ محذوف مانا ہے، یعنی تو غرق ہونے سے نہیں ڈرے گا، مگر محذوف مفعول مقام کی مناسبت سے کوئی بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے عام رکھنا بہتر ہے اور پھر اس میں غرق ہونا بھی آجاتا ہے۔
Ayah 20:78فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ : یعنی ان کو سمندر سے ایسی عظیم چیز نے ڈھانپ لیا جو انسانی بیان میں نہیں آسکتی اور اگر اللہ تعالیٰ اسے اس طرح بیان فرمائے جس طرح اسے بیان کرنے کا حق ہے تو انسان کی کوتاہ عقل میں وہ سما نہیں سکتی، اس لیے اس کی تفصیل مت پوچھو۔ مراد ان سب کا سمندر میں غرق ہونا، پانی کی راہ سے آگ کا ایندھن بننا اور مرتے وقت اور بعد میں فرشتوں کی مار بےحساب و بیشمار ہے جو بیان سے باہر ہے۔ دیکھیے سورة مومن (45، 46) اس کی مزید مثالیں یہ ہیں : (ۭاِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) [ النجم : 16 ] اور : (وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى 53ۙفَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى) [ النجم : 53، 54 ] اور : (فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى) [ النجم : 10 ]
Ayah 20:79وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَمَا هَدٰى : یہاں ایک سوال ہے کہ ”اَضَلَّ“ (گمراہ کیا) اور ”مَا هَدٰى“ (سیدھے راستے پر نہ ڈالا) دونوں کا مطلب ایک ہی ہے تو تکرار کا کیا فائدہ ؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں، ایک تو یہ کہ یہ تاکید کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَاۗءٍ) [ النحل : 21 ] ”مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں۔“ دوسرا یہ کہ ”فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا“ میں امکان تھا کہ اگر بعض چیزوں میں اس نے اپنی قوم کو غلط راستے پر ڈالا تو بعض میں درست سمت پر بھی چلایا ہو، چلو دنیا ہی کا کچھ فائدہ پہنچایا ہو۔ فرمایا، نہیں ! کسی چیز میں بھی درست راستے پر نہیں ڈالا، بلکہ انھیں اتنا بیوقوف اور بےوقعت بنادیا کہ وہ اس کی سراسر حماقتوں میں بھی اس کے پیچھے ہی چلتے رہے۔ (زخرف : 45) (بقاعی) جیسا کہ آج کل دہریہ ملک چین میں حکومت کے حکم پر ایک یا دو بچوں سے زیادہ بچے پیدا ہونے پر عموماً انھیں ہسپتال ہی میں زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا جاتا ہے اور اگر کوئی اپنا بچہ مرنے سے بچا لے تو اس کا پیدائش کے رجسٹر میں اندراج ہوسکتا ہے نہ اسے رجسٹرڈ شہری کی مراعات حاصل ہوسکتی ہیں۔ کوئی اولاد والا ہی اس دردناک کیفیت کا ادراک کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود پوری قوم خوشی یا بےبسی سے ان احکام کے پیچھے چل رہی ہے، اس سے بڑھ کر ”وَمَا هَدٰى“ کیا ہوگا ؟
تیسرا جواب یہ کہ دراصل یہ فرعون کے اس دعویٰ پر طنز ہے جو اس نے کیا تھا : (مَآ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَآ اَرٰى وَمَآ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ) [ المؤمن : 29 ] ”میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتارہا ہوں۔“ اور زیر تفسیر سورت کی آیت (63) میں بھی اس کے چیلوں نے اپنے طریقے کو سب سے افضل قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فرمایا کہ ”فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور انھیں سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔“ (زمخشری)