20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 20:1–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

اس واسطے نہیں اتارا ہم نے تجھ پر قرآن کہ تو محنت میں پڑے

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

مگر نصیحت کے واسطے اس کی جو ڈرتا ہے6

6 یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرتے رہیئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم ﷺ شب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و ریاضت دیکھ کر کہتے کہ قرآن کیا اترا بیچارے محمد ﷺ سخت تکلیف اور محنت میں پڑگئے، اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا کہ فی الحقیقت قرآن محنت و شقاء نہیں، رحمت و نور ہے، جس کو جتنا آسان ہو اسی قدر نشاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ ۔
Ayah 20:4

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

اتارا ہوا ہے اس کا جس نے بنائی زمین اور آسمان اونچے7

7 اس لیے ضروری ہے کہ مخلوق نہایت خوشی کے ساتھ اس کو اپنے سر آنکھوں پر رکھے اور شہنشاہانہ احکام کی خلاف ورزی نہ کرے۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا8

8 استواء علی العرش کا مفصل بیان سورة " اعراف " کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔ " عرش " کے متعلق نصوص سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پائے ہیں اور خاص فرشتے اٹھانے والے ہیں اور آسمان کے اوپر قبہ کی طرح ہے۔ صاحب روح المعانی نے " عرش " اور " استواء علی العرش " پر اس آیت کے تحت میں نہایت مبسوط کلام کیا ہے۔ من شاء فلیراجعہ۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان اور نیچے گیلی زمین کے9

9 یعنی وہ ہی ایک خدا بلا شرکت غیرے آسمانوں سے زمین تک اور زمین سے تحت الثریٰ تک تمام کائنات کا مالک و خالق ہے۔ اسی کی تدبیر و انتظام سے کل سلسلے قائم ہیں۔ (تنبیہ) آسمان و زمین کی درمیانی مخلوق سے یا تو کائنات جوّ مراد ہیں جو دائماً دونوں کے درمیان ہی رہتی ہیں۔ مثلاً ہوا، بادل وغیرہ اور یا وہ چیزیں بھی اس میں شامل ہوں جو اکثر ہوا میں پرواز کرتی ہیں جیسے پرند جانور اور " ثریٰ " (گیلی زمین) سے زمین کے نیچے کا طبقہ مراد ہے جو پانی کے قرب و اتصال کی وجہ سے تر رہتا ہے۔
Ayah 20:7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تو بات کہے پکار کر تو اس کو تو خبر ہے چھپی ہوئی بات کی اور اس سے بھی چھپی ہوئی کی10

10 پہلے عموم قدرت و تصرف کا بیان تھا۔ اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا تذکرہ ہے۔ یعنی جو بات زور سے پکار کر کہی جائے، وہ اس علام الغیوب سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ جس کو ہر کھلی چھپی بلکہ چھپی سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کی خبر ہے۔ جو بات تنہائی میں آہستہ کہی جائے، اور جو دل میں گزرے ابھی زبان تک نہ آئی ہو اور جو ابھی دل میں بھی نہیں گزری آئندہ گزرنے والی ہو، حق تعالیٰ کا علم ان سب کو محیط ہے۔ اسی لیے بلا ضرورت بہت زور سے چلاّ کر ذکر کرنے کو بھی علمائے شریعت نے منع کیا ہے۔ جن مواقع میں ذکر با آواز بلند منقول ہے یا بعض مصالح معتبرہ کی بناء پر تجربہ کاروں کے نزدیک نافع سمجھا گیا ہے، وہ عموم نہی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی اسی کے ہیں سب نام خاصے1

1 آیات بالا میں جو صفات حق تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں۔ (یعنی اس کا خالق الکل، مالک علی الاطلاق، رحمان، قادر مطلق اور صاحب علم محیط ہونا) انکا اقتضاء یہ ہے کہ الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو بجز اس کے کسی دوسرے کے آگے سر عبودیت نہ جھکایا جائے۔ کیونکہ نہ صرف صفات مذکورہ بالا بلکہ کل عمدہ صفات اور اچھے نام اسی کی ذات منبع الکمالات کے لیے مخصوص ہیں۔ کوئی دوسری ہستی اس شان و صفت کی موجود نہیں جو معبود بن سکے۔ نہ ان صفتوں اور ناموں کے تعدد سے اس کی ذات میں تعدد آتا ہے۔ جیسا کہ بعض جہال عرب کا خیال تھا کہ مختلف ناموں سے خدا کو پکارنا دعوائے توحید کے مخالف ہے۔
Ayah 20:9

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور پہنچی ہے تجھ کو بات موسیٰ کی2

2 یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ سامعین سمجھ جائیں کہ نبی کریم ﷺ کی طرف قرآن کی وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس طرح پیشتر موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی مل چکی ہے، آپ ﷺ کو بھی ملی، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی توحید وغیرہ کی تعلیم پر مشتمل تھی، آپ ﷺ کی وحی میں بھی ان ہی اصول پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق میں جو صعوبات و شدائد برداشت کیں، آپ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور جس طرح ان کو آخرکار کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا اور دشمن مقہور و مخذول ہوئے آپ ﷺ بھی یقینا غالب و منصور ہوں گے اور آپ ﷺ کے دشمن تباہ و ذلیل کیے جائیں گے چونکہ سورت کا آغاز انزال قرآن کے ذکر سے کیا گیا تھا اس کے مناسب نبوت موسوی کے آغاز کا قصہ بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 20:10–11

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب اس نے دیکھی ایک آگ تو کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس اس میں سے سلگا کر یا پاؤں آگ پر پہنچ کر راستہ کا پتہ

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر جب پہنچا آگ کے پاس آواز آئی اے موسیٰ3

3 اس قصہ کے مختلف اجزاء سورة قصص، سورة طہٰ اور سورة اعراف میں سے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں مدین سے مصر کی طرف واپسی کا واقعہ مذکور ہے۔ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تھا۔ کئی سال وہاں مقیم رہنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر جانے کا ارادہ کیا، حاملہ بیوی ہمراہ تھی رات اندھیری تھی، سردی کا شباب تھا، بکریوں کا گلہ بھی ساتھ لے کر چلے تھے۔ اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں متفرق ہوگئیں اور بیوی کو درد زہ شروع ہوگیا۔ اندھیرے میں سخت پریشان تھے سردی میں تاپنے کے لیے آگ موجود نہ تھی۔ چقماق مارنے سے بھی آگ نہ نکلی۔ ان مصائب کی تاریکیوں میں دفعتاً دور سے ایک آگ نظر آئی۔ وہ حقیقت میں دنیاوی آگ نہ تھی۔ اللہ کا نور جلال تھا یا حجاب ناری تھا (جس کا ذکر مسلم کی حدیث میں آیا ہے) موسیٰ (علیہ السلام) نے ظاہری آگ سمجھ کر گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو۔ میں جاتا ہوں شاید اس آگ کا ایک شعلہ لا سکوں، یا وہاں پہنچ کر کوئی راستہ کا پتہ بتلانے والا مل جائے۔ کہتے ہیں کہ اس پاک میدان میں پہنچ کر عجیب نظارہ دیکھا۔ ایک درخت میں زور شور سے آگ لگ رہی ہے۔ اور آگ جس قدر زور سے بھڑکتی ہے درخت اسی قدر زیادہ سرسبز ہو کر لہلہاتا ہے۔ اور جوں جوں درخت کی سرسبزی و شادابی بڑھتی ہے آگ کا اشتعال تیز ہوتا جاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کے قریب جانے کا قصد کیا کہ درخت کی کوئی شاخ جل گرے تو اٹھا لائیں لیکن جتنا وہ آگے سے نزدیک ہونا چاہتے آگ دور ہٹتی جاتی اور جب گھبرا کر ہٹنا چاہتے تو آگ تعاقب کرتی۔ اسی حیرت و ہشت کی حالت میں آواز آئی " اِنِّی اَنَارَبُّکَ " الخ گویا وہ درخت بلاتشبیہ اس وقت غیبی ٹیلیفون کا کام دے رہا تھا۔ امام احمد نے وہب سے نقل کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب " یاموسیٰ " سنا تو کئی بار " لبیک " کہا اور عرض کیا کہ میں تیری آواز سنتا ہوں اور آہٹ پاتا ہوں مگر یہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں ہے۔ آواز آئی " میں تیرے اوپر ہوں، تیرے ساتھ ہوں، تیرے سامنے ہوں، تیرے پیچھے ہوں، اور تیری جان سے زیادہ تجھ سے نزدیک ہوں۔ " کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہر جہت سے اور اپنے ایک ایک بال سے اللہ کا کلام سنتے تھے۔
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں ہوں تیرا رب سو اتار ڈال اپنی جوتیاں تو ہے پاک میدان طویٰ میں4

4 " طویٰ " اس میدان کا نام ہے۔ شاید وہ میدان پہلے سے متبرک تھا یا اب ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ناپاک تھیں اس لیے اتروا دی گئیں۔ باقی موزہ یا جوتا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں پورا مسئلہ فقہ میں دیکھنا چاہیے۔
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تجھ کو پسند کیا ہے سو تو سنتا رہ جو حکم ہو5

5 " پسند کیا ہے " یعنی تمام جہان میں سے نبوت و رسالت اور شرف مکالمہ کے لیے چھانٹ لیا۔ اس لیے آگے جو احکام دیئے جائیں انھیں غور و توجہ سے سنو۔
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

میں جو ہوں اللہ ہوں کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو میری بندگی کر اور نماز قائم رکھ میری یادگاری کو6

6 اس میں خالص توحید اور ہر قسم کی بدنی و مالی عبات کا حکم دیا۔ نماز چونکہ اہم العبادات تھی اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا اور اس پر بھی متنبہ فرما دیا گیا کہ نماز سے مقصود اعظم خدا تعالیٰ کی یادگاری ہے۔ گویا نماز سے غافل ہونا خدا کی یاد سے غافل ہونا ہے اور ذکر اللہ (یاد خدا) کے متعلق دوسری جگہ فرما دیا۔ (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ ) 18 ۔ الکہف :24) یعنی کبھی بھول چوک ہوجائے تو جب یاد آجائے اسے یاد کرو۔ یہ ہی حکم نماز کا ہے کہ وقت پر غفلت و نسیان ہوجائے تو یاد آنے پر قضا کرلے۔ " فَلْیُصَلِّہَا اِذَاذَکَرَہَا "
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت بیشک آنے والی ہے میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں اس کو7 تاکہ بدلہ ملے ہر شخص کو جو اس نے کمایا ہے8

7 یعنی اس کے آنے کا وقت سب سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں، حتی کہ اگر خود اپنے سے چھپانا ممکن ہوتا تو اپنے سے بھی مخفی رکھتا، لیکن یہ ممکن ہی نہیں۔ وفیہ من المبالغۃ کما فی الحدیث (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ ) 18 ۔ الکہف :24) وکما قال الشاعر (غیرت از چشم برم روئے تو دیدن نہ دہم۔ گوش رانیز حدیث توشنیدن نہ دہم) اور اگر بہت سی مصالح باعث اظہار نہ ہوتیں تو جتنا اجمالی اظہار کیا گیا یہ بھی نہ کیا جاتا۔ 8 یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کے نیک و بد کا بدلہ ملے اور مطیع و عاصی میں کوئی التباس و اشتباہ باقی نہ رہے یہ توحید و عبادت کے بعد عقیدہ معاد کی تعلیم ہوئی۔
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

سو کہیں تجھ کو نہ روک دے اس سے وہ شخص جو یقین نہیں رکھتا اس کا اور پیچھے پڑ رہا ہے اپنے مزوں کے پھر تو بھی ٹپکا جائے9

9 نہ روک دے اس سے یعنی قیامت پر یقین رکھنے سے یا نماز سے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کس شمار میں ہے۔ کذافی الموضح۔ غرض یہ ہے کہ دنیا پرست کافر کی چاپلوسی یا زیادہ نرمی اور مداہنت اختیار نہ کی جائے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی بلند مقام سے نیچے پٹک دیا جائے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 20:17

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور یہ کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسیٰ10

10 یہاں سے منصب رسالت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ چونکہ معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجے جانے والے تھے اس لیے اولاً معجزہ عصا کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ سوال کہ تیرے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔ اس غرض سے تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کی حقیقت اور اس کے منافع کو خوب مستحضر کرلیں تاکہ جو خارق عادت چیز پیش آنے والی تھی اس کا معجزہ ہونا پوری طرح واضح، مستحکم اور اوقع فی النفس ہو۔ یعنی اس وقت خوب دیکھ بھال کر اور جانچ تول کر بتلاؤ، تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟ مبادا سانپ بن جانے پر وہم کرنے لگو کہ شاید میں غلطی سے ہاتھ میں لاٹھی نہ لایا ہوں کچھ اور لے آیا ہوں۔
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

بولا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں پر اور میرے اس میں چند کام ہیں اور بھی11

11 یعنی اس میں شبہ کیا ہے۔ وہ لاٹھی ہے جسے ہمیشہ ہاتھ میں رکھتا ہوں، اس پر ٹیک لگاتا ہوں، بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، دشمن کو اور موذی جانوروں کو دفع کرتا ہوں اور بہت سی ضرورتوں میں لاٹھی کا کام لیتا ہوں۔
Ayahs 20:19–20

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا ڈال دے اس کو اے موسیٰ

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو اس کو ڈال دیا پھر اسی وقت وہ تو سانپ ہوگیا دوڑتا ہوا12

12 یعنی لاٹھی کا زمین پر ڈالنا تھا کہ لاٹھی کی جگہ ایک اژدہا نظر آیا جو پتلے سانپ کی طرح تیزی سے دوڑتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناگہاں یہ انقلاب دیکھ کر بمقتضائے بشریت خوفزدہ ہوگئے۔
Ayah 20:21

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا پکڑلے اس کو اور مت ڈر ہم ابھی پھیر دیں گے اس کو پہلی حالت پر13

13 یعنی ہاتھ میں آکر پھر لاٹھی ہوجائے گی۔ کہتے ہیں ابتداء میں موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی آخر کپڑا ہاتھ میں لپیٹ کر پکڑنے لگے۔ فرشتہ نے کہا " موسیٰ کیا خدا اگر بچانا نہ چاہے تو یہ چیتھڑا تجھے بچا سکتا ہے ؟ موسیٰ نے کہا " نہیں، لیکن میں کمزور مخلوق ہوں، اور ضعف سے پیدا کیا گیا ہوں۔ " پھر حضرت موسیٰ نے ہاتھ سے کپڑا ہٹا کر اژدھے کے منہ میں دے دیا۔ ہاتھ ڈالنا تھا کہ وہی لاٹھی ہاتھ میں دیکھی۔
Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور ملا لے اپنا ہاتھ اپنی بغل سے کہ نکلے سفید ہو کر بلا عیب1 یہ نشانی دوسری

1 یعنی ہاتھ گریبان میں ڈال کر اور بغل سے ملا کر نکالو گے تو نہایت روشن سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔ اور یہ سفیدی برص وغیرہ کی نہ ہوگی جو عیب سمجھی جائے۔
Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ دکھاتے جائیں ہم تجھ کو اپنی نشانیاں بڑی2

2 یعنی عصا اور یدبیضا کے معجزے ان بڑی نشانیوں میں سے دو ہیں جن کا دکھلانا تم کو منظور ہے۔
Ayahs 20:24–25

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

جا طرف فرعون کے کہ اس نے بہت سر اٹھایا

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

بولا اے رب کشادہ کر میرا سینہ3

3 یعنی حلیم و بردبار اور حوصلہ مند بنا دے کہ خلاف طبع دیکھ کر جلد خفا نہ ہوں اور ادائے رسالت میں جو سختیاں پیش آئیں ان سے نہ گھبراؤں بلکہ کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کروں۔
Ayah 20:26

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور آسان کر میرا کام4

4 یعنی ایسا سامان فراہم کر دے کہ یہ عظیم الشان کام آسان ہوجائے۔
Ayahs 20:27–28

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور کھول دے گرہ میری زبان سے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

کہ سمجھیں میری بات5

5 زبان لڑکپن میں جل گئی تھی (جس کا قصہ تفاسیر میں ہے) صاف نہ بول سکتے تھے۔ اس لیے یہ دعا کی۔
Ayahs 20:29–30

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والا میرے گھر کا

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہارون میرا بھائی6

6 یہ عمر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑے تھے۔
Ayahs 20:31–32

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے مضبوط کر میری کمر

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور شریک کر اس کو میرے کام میں7

7 یعنی دعوت و تبلیغ کے کام میں ایک دوسرے کا معین و مددگار ہوں۔
Ayahs 20:33–34

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

کہ تیری پاک ذات کا بیان کریں ہم بہت سا

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور یاد کریں ہم تجھ کو بہت سا8

8 یعنی دونوں مل کر دعوت و تبلیغ کے موقع پر بہت زور شور سے تیری پاکی اور کمالات بیان کریں اور مواضع دعوت سے قطع نظر جب ہر ایک کو دوسرے کی معیت سے تقویت قلب حاصل ہوگی، تو اپنی خلوتوں میں نشاط و طمانیت کے ساتھ تیرا ذکر بکثرت کرسکیں گے۔
Ayah 20:35

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو تو ہے ہم کو خوب دیکھتا9

9 یعنی ہمارے تمام احوال کو خوب دیکھ رہا ہے اور جو دعاء میں کر رہا ہوں یہ بھی تجھے خوب معلوم ہے کہ اس کا قبول فرمانا ہمارے لیے کہاں تک مفید ہوگا۔ اگر تجھے ہمارے حال و استعداد کی پوری خبر نہ ہوتی تو نبوت و رسالت کے لیے ہم کو منتخب ہی کیوں کرتا اور ایسے سخت دشمن (فرعون) کی طرف کیوں بھیجتا۔ یقینا جو کچھ آپ نے کیا خوب دیکھ بھال کر کیا ہے۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسیٰ10

10 یعنی جو کچھ تم نے مانگا، خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو دیا گیا۔
Ayah 20:37

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور احسان کیا تھا ہم نے تجھ پر ایک بار اور بھی11

11 یعنی ہم تو پہلے ایک مرتبہ بےمانگے تجھ پر بڑا بھاری احسان کرچکے ہیں، پھر اب ایک مناسب چیز مانگنے پر کیوں نہ دیں گے۔
Ayah 20:38

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب حکم بھیجا ہم نے تری ماں کو جو آگے سناتے ہیں12

12 یعنی خواب میں یا بیداری میں بطور الہام کے یا اس زمانہ کے کسی نامعلوم الاسم نبی کی زبانی تیری ماں کو وہ حکم بھیجا۔ جس کا بھیجا جانا مناسب تھا (اس کی تفصیل آگے مذکور ہے۔ " اَنِ اقْذِفِیْہِ " الخ) (تنبیہ) لفظ " ایحاء " سے حضرت موسیٰ کی والدہ کا نبیّہ ہونا ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ تقریر بالا سے ظاہر ہے۔ نبی وہ ہے جس کی طرف احکام کی وحی آئے اور ان کی تبلیغ کا مامور ہو۔ یہاں یہ تعریف صادق نہیں آتی۔
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ ڈال اس کو صندوق میں پھر اس کو ڈال دے دریا میں پھر دریا اس کو لے ڈالے کنارے پر اٹھالے اس کو ایک دشمن میرا اور اس کا13 اور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے14 اور تاکہ پرورش پائے تو میری آنکھ کے سامنے15

13 یعنی موسیٰ کو (جو اس وقت نوزائیدہ بچہ تھے) صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دے، دریا کو ہمارا حکم ہے کہ اسے بحفاظت تمام ایک خاص کنارہ پر لگائے گا جہاں سے اس کو وہ شخص اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس بچہ کا بھی، واقعہ یہ ہے کہ فرعون اس سال نجومیوں کے کہنے سے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو چن چن کر قتل کر رہا تھا۔ جب موسیٰ پیدا ہوئے ان کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعون کے سپاہی خبر پائیں گے تو بچہ کو مار ڈالیں گے اور والدین کو بھی ستائیں گے کہ ظاہر کیوں نہیں کیا۔ اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے یہ تدبیر الہام ہوئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے صندوق نہر میں ڈال دیا۔ دریا کی ایک شاخ فرعون کے باغ میں گزرتی تھی اس میں سے ہو کر صندوق کنارے جا لگا۔ فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے (جو نہایت پاکباز اسرائیلی خاتون تھی) بچہ کو اٹھا کر فرعون کے سامنے پیش کیا کہ آؤ ہم تم اسے بیٹا بنالیں۔ فرعون کو بھی دیکھ کر محبت آئی۔ گو اس نے بیٹا بنانے سے انکار کیا (جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے) مگر آسیہ کی خاطر اسے بیٹوں کی طرح پرورش کیا اور اس طرح حق تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت کا ظہور ہوا۔ (تنبیہ) فرعون کو خدا کا دشمن اس لیے کہا کہ وہ حق کا دشمن تھا اور خدا کے بالمقابل خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور موسیٰ کا دشمن اس لیے فرمایا کہ فی الحال تمام اسرائیلی بچوں کے ساتھ سخت دشمنی کر رہا تھا۔ اور آئندہ چل کر خاص موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اعلانیہ دشمنی کا اظہار کرنے والا تھا۔ 14 یعنی ہم نے اپنی طرف سے اس وقت مخلوق کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی کہ جو دیکھے محبت اور پیار کرے یا اپنی ایک خاص محبت تجھ پر ڈال دی کہ تو محبوب خدا بن گیا۔ پھر جس سے خدا محبت کرے بندے بھی محبت کرنے لگتے ہیں۔ 15 یعنی لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دینا اس غرض سے تھا کہ ہماری نگرانی و حفاظت میں تیری پرورش کی جائے۔ ایسے سخت دشمن کے گھر میں تربیت پاتے ہوئے بھی کوئی تیرا بال بیکا نہ کرسکے۔
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب چلنے لگی تیری بہن اور کہنے لگی میں بتاؤں تم کو ایسا شخص جو اس کو پالے پھر پہنچا دیا ہم نے تجھ کو تیری ماں کے پاس کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غم نہ کھائے1 اور تو نے مار ڈالا ایک شخص کو پھر بچا دیا ہم نے تجھ کو اس غم سے2 اور جانچا ہم نے تجھ کو ایک ذرا جانچنا3 پھر ٹھہرا رہا تو کئی برس مدین والوں میں پھر آیا تو تقدیر سے اے موسیٰ4

1 پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ صندوق نہر میں چھوڑنے کے بعد بمقتضائے بشریت بہت غمگین اور پریشان تھیں کہ بچہ کا کیا حشر ہوا ہوگا، معلوم نہیں زندہ ہے یا جانوروں نے کھالیا۔ حضرت موسیٰ کی بہن کو کہا کہ خفیہ طور پر پتہ لگا۔ ادھر مشیت ایزدی سے یہ سامان ہوا کہ حضرت موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ بہت سی انائیں بلائی گئیں، کامیابی نہ ہوئی۔ موسیٰ کی بہن جو تاک میں لگی ہوئی تھی بولی کہ میں ایک عورت کو لاسکتی ہوں، امید ہے کہ کسی طرح دودھ پلا کر بچہ کو پال سکے گی۔ حکم ہوا بلاؤ۔ وہ موسیٰ کی والدہ کو لے کر پہنچی۔ چھاتی سے لگاتے ہی بچہ نے دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون کے گھر بڑی خوشیاں منائی جانے لگیں۔ موسیٰ کی والدہ نے کہا کہ میں یہاں نہیں رہ سکتی اجازت دو کہ اپنے گھر میں لے جاؤں اور پوری حفاظت و اہتمام سے بچہ کو پرورش کروں۔ آخر فرعون کی طرف سے بطور دایہ کے بچہ کی تربیت پر مامور ہو کر اپنے گھر لے آئیں اور شاہانہ اعزازو اکرام کے ساتھ موسیٰ کی تربیت میں لگی رہیں۔ 2 یہ پورا قصہ سورة قصص میں آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جوان ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا تھا، موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے کہ دنیا میں پکڑا جاؤں گا اور آخرت میں بھی ماخوذ ہوں گا۔ دونوں قسم کی پریشانی سے خدا تعالیٰ نے نجات دی، اخروی پریشانی سے اس طرح کہ توبہ کی توفیق بخشی جو قبول ہوگئی اور دنیاوی سے اس طرح کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکال کر مدین پہنچا دیا جہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔ 3 یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو کئی طرح جانچا۔ جس میں تم کھرے ثابت ہوئے (تنبیہ) اس موقع پر مفسرین نے حدیث الفتون کے عنوان سے ایک نہایت طویل روایت ابن عباس ؓ کی نقل کی ہے جس کے متعلق حافظ ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں " وہو موقوف من کلام ابن عباس ولیس فیہ مرفوع الاقلیل منہ وکانہ تلقاہ ابن عباس ؓ ممّا ابیح نقلہ من الاسرائیلیات من کعب بن الاحبار وغیرہ واللہ اعلم وسمعت شیخنا الحافظ ابا الحجاج المزی یقول ذلک ایضًا " 4 یعنی اب مدین سے نکل کر راستہ بھولا اور تقدیر سے یہاں پہنچ گیا جس کا تجھے وہم و گمان بھی نہ تھا، سچ ہے خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے