Ayahs 20:1–36 یعنی قرآن کریم اس لیے اتارا گیا ہے کہ جن کے دل نرم ہوں اور خدا سے ڈرتے ہوں، وہ اس کے بیانات سے نصیحت حاصل کریں اور روحانی فیوض و برکات سے محروم نہ رہیں۔ یہ غرض نہیں کہ قرآن نازل کر کے خواہ مخواہ تم کو کسی محنت شاقہ اور تکلیف شدت میں مبتلا کیا جائے۔ نہ وہ ایسی چیز ہے جس کا حامل و عامل کبھی محروم و ناکام رہے۔ آپ تکذیب کرنے والوں کی باتیں سن کر ملول اور تنگدل نہ ہوں۔ نہ ان کے پیچھے پڑ کر زیادہ تکلیف اٹھائیں۔ حق کا علمبردار ہی آخر کامیاب ہو کر رہے گا۔ آپ توسط کے ساتھ عبادت کرتے رہیئے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابتداء نبی کریم ﷺ شب کو نماز میں کھڑے ہو کر بہت زیادہ قرآن پڑھتے تھے۔ کفار آپ کی محنت و ریاضت دیکھ کر کہتے کہ قرآن کیا اترا بیچارے محمد ﷺ سخت تکلیف اور محنت میں پڑگئے، اس کا جواب ان آیات میں دیا گیا کہ فی الحقیقت قرآن محنت و شقاء نہیں، رحمت و نور ہے، جس کو جتنا آسان ہو اسی قدر نشاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔ فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ ۔
Ayah 20:47 اس لیے ضروری ہے کہ مخلوق نہایت خوشی کے ساتھ اس کو اپنے سر آنکھوں پر رکھے اور شہنشاہانہ احکام کی خلاف ورزی نہ کرے۔
Ayah 20:58 استواء علی العرش کا مفصل بیان سورة " اعراف " کے فوائد میں دیکھ لیا جائے۔ " عرش " کے متعلق نصوص سے اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پائے ہیں اور خاص فرشتے اٹھانے والے ہیں اور آسمان کے اوپر قبہ کی طرح ہے۔ صاحب روح المعانی نے " عرش " اور " استواء علی العرش " پر اس آیت کے تحت میں نہایت مبسوط کلام کیا ہے۔ من شاء فلیراجعہ۔
Ayah 20:69 یعنی وہ ہی ایک خدا بلا شرکت غیرے آسمانوں سے زمین تک اور زمین سے تحت الثریٰ تک تمام کائنات کا مالک و خالق ہے۔ اسی کی تدبیر و انتظام سے کل سلسلے قائم ہیں۔ (تنبیہ) آسمان و زمین کی درمیانی مخلوق سے یا تو کائنات جوّ مراد ہیں جو دائماً دونوں کے درمیان ہی رہتی ہیں۔ مثلاً ہوا، بادل وغیرہ اور یا وہ چیزیں بھی اس میں شامل ہوں جو اکثر ہوا میں پرواز کرتی ہیں جیسے پرند جانور اور " ثریٰ " (گیلی زمین) سے زمین کے نیچے کا طبقہ مراد ہے جو پانی کے قرب و اتصال کی وجہ سے تر رہتا ہے۔
Ayah 20:710 پہلے عموم قدرت و تصرف کا بیان تھا۔ اس آیت میں علم الٰہی کی وسعت کا تذکرہ ہے۔ یعنی جو بات زور سے پکار کر کہی جائے، وہ اس علام الغیوب سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہے۔ جس کو ہر کھلی چھپی بلکہ چھپی سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کی خبر ہے۔ جو بات تنہائی میں آہستہ کہی جائے، اور جو دل میں گزرے ابھی زبان تک نہ آئی ہو اور جو ابھی دل میں بھی نہیں گزری آئندہ گزرنے والی ہو، حق تعالیٰ کا علم ان سب کو محیط ہے۔ اسی لیے بلا ضرورت بہت زور سے چلاّ کر ذکر کرنے کو بھی علمائے شریعت نے منع کیا ہے۔ جن مواقع میں ذکر با آواز بلند منقول ہے یا بعض مصالح معتبرہ کی بناء پر تجربہ کاروں کے نزدیک نافع سمجھا گیا ہے، وہ عموم نہی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
Ayah 20:81 آیات بالا میں جو صفات حق تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں۔ (یعنی اس کا خالق الکل، مالک علی الاطلاق، رحمان، قادر مطلق اور صاحب علم محیط ہونا) انکا اقتضاء یہ ہے کہ الوہیت بھی تنہا اسی کا خاصہ ہو بجز اس کے کسی دوسرے کے آگے سر عبودیت نہ جھکایا جائے۔ کیونکہ نہ صرف صفات مذکورہ بالا بلکہ کل عمدہ صفات اور اچھے نام اسی کی ذات منبع الکمالات کے لیے مخصوص ہیں۔ کوئی دوسری ہستی اس شان و صفت کی موجود نہیں جو معبود بن سکے۔ نہ ان صفتوں اور ناموں کے تعدد سے اس کی ذات میں تعدد آتا ہے۔ جیسا کہ بعض جہال عرب کا خیال تھا کہ مختلف ناموں سے خدا کو پکارنا دعوائے توحید کے مخالف ہے۔
Ayah 20:92 یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ سامعین سمجھ جائیں کہ نبی کریم ﷺ کی طرف قرآن کی وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس طرح پیشتر موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی مل چکی ہے، آپ ﷺ کو بھی ملی، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی توحید وغیرہ کی تعلیم پر مشتمل تھی، آپ ﷺ کی وحی میں بھی ان ہی اصول پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق میں جو صعوبات و شدائد برداشت کیں، آپ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور جس طرح ان کو آخرکار کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا اور دشمن مقہور و مخذول ہوئے آپ ﷺ بھی یقینا غالب و منصور ہوں گے اور آپ ﷺ کے دشمن تباہ و ذلیل کیے جائیں گے چونکہ سورت کا آغاز انزال قرآن کے ذکر سے کیا گیا تھا اس کے مناسب نبوت موسوی کے آغاز کا قصہ بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 20:10–113 اس قصہ کے مختلف اجزاء سورة قصص، سورة طہٰ اور سورة اعراف میں سے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں مدین سے مصر کی طرف واپسی کا واقعہ مذکور ہے۔ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تھا۔ کئی سال وہاں مقیم رہنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر جانے کا ارادہ کیا، حاملہ بیوی ہمراہ تھی رات اندھیری تھی، سردی کا شباب تھا، بکریوں کا گلہ بھی ساتھ لے کر چلے تھے۔ اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں متفرق ہوگئیں اور بیوی کو درد زہ شروع ہوگیا۔ اندھیرے میں سخت پریشان تھے سردی میں تاپنے کے لیے آگ موجود نہ تھی۔ چقماق مارنے سے بھی آگ نہ نکلی۔ ان مصائب کی تاریکیوں میں دفعتاً دور سے ایک آگ نظر آئی۔ وہ حقیقت میں دنیاوی آگ نہ تھی۔ اللہ کا نور جلال تھا یا حجاب ناری تھا (جس کا ذکر مسلم کی حدیث میں آیا ہے) موسیٰ (علیہ السلام) نے ظاہری آگ سمجھ کر گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو۔ میں جاتا ہوں شاید اس آگ کا ایک شعلہ لا سکوں، یا وہاں پہنچ کر کوئی راستہ کا پتہ بتلانے والا مل جائے۔ کہتے ہیں کہ اس پاک میدان میں پہنچ کر عجیب نظارہ دیکھا۔ ایک درخت میں زور شور سے آگ لگ رہی ہے۔ اور آگ جس قدر زور سے بھڑکتی ہے درخت اسی قدر زیادہ سرسبز ہو کر لہلہاتا ہے۔ اور جوں جوں درخت کی سرسبزی و شادابی بڑھتی ہے آگ کا اشتعال تیز ہوتا جاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کے قریب جانے کا قصد کیا کہ درخت کی کوئی شاخ جل گرے تو اٹھا لائیں لیکن جتنا وہ آگے سے نزدیک ہونا چاہتے آگ دور ہٹتی جاتی اور جب گھبرا کر ہٹنا چاہتے تو آگ تعاقب کرتی۔ اسی حیرت و ہشت کی حالت میں آواز آئی " اِنِّی اَنَارَبُّکَ " الخ گویا وہ درخت بلاتشبیہ اس وقت غیبی ٹیلیفون کا کام دے رہا تھا۔ امام احمد نے وہب سے نقل کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب " یاموسیٰ " سنا تو کئی بار " لبیک " کہا اور عرض کیا کہ میں تیری آواز سنتا ہوں اور آہٹ پاتا ہوں مگر یہ نہیں دیکھتا کہ تو کہاں ہے۔ آواز آئی " میں تیرے اوپر ہوں، تیرے ساتھ ہوں، تیرے سامنے ہوں، تیرے پیچھے ہوں، اور تیری جان سے زیادہ تجھ سے نزدیک ہوں۔ " کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہر جہت سے اور اپنے ایک ایک بال سے اللہ کا کلام سنتے تھے۔
Ayah 20:124 " طویٰ " اس میدان کا نام ہے۔ شاید وہ میدان پہلے سے متبرک تھا یا اب ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ناپاک تھیں اس لیے اتروا دی گئیں۔ باقی موزہ یا جوتا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں پورا مسئلہ فقہ میں دیکھنا چاہیے۔
Ayah 20:135 " پسند کیا ہے " یعنی تمام جہان میں سے نبوت و رسالت اور شرف مکالمہ کے لیے چھانٹ لیا۔ اس لیے آگے جو احکام دیئے جائیں انھیں غور و توجہ سے سنو۔
Ayah 20:146 اس میں خالص توحید اور ہر قسم کی بدنی و مالی عبات کا حکم دیا۔ نماز چونکہ اہم العبادات تھی اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا اور اس پر بھی متنبہ فرما دیا گیا کہ نماز سے مقصود اعظم خدا تعالیٰ کی یادگاری ہے۔ گویا نماز سے غافل ہونا خدا کی یاد سے غافل ہونا ہے اور ذکر اللہ (یاد خدا) کے متعلق دوسری جگہ فرما دیا۔ (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ ) 18 ۔ الکہف :24) یعنی کبھی بھول چوک ہوجائے تو جب یاد آجائے اسے یاد کرو۔ یہ ہی حکم نماز کا ہے کہ وقت پر غفلت و نسیان ہوجائے تو یاد آنے پر قضا کرلے۔ " فَلْیُصَلِّہَا اِذَاذَکَرَہَا "
Ayah 20:157 یعنی اس کے آنے کا وقت سب سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں، حتی کہ اگر خود اپنے سے چھپانا ممکن ہوتا تو اپنے سے بھی مخفی رکھتا، لیکن یہ ممکن ہی نہیں۔ وفیہ من المبالغۃ کما فی الحدیث (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ ) 18 ۔ الکہف :24) وکما قال الشاعر (غیرت از چشم برم روئے تو دیدن نہ دہم۔ گوش رانیز حدیث توشنیدن نہ دہم) اور اگر بہت سی مصالح باعث اظہار نہ ہوتیں تو جتنا اجمالی اظہار کیا گیا یہ بھی نہ کیا جاتا۔
8 یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کے نیک و بد کا بدلہ ملے اور مطیع و عاصی میں کوئی التباس و اشتباہ باقی نہ رہے یہ توحید و عبادت کے بعد عقیدہ معاد کی تعلیم ہوئی۔
Ayah 20:169 نہ روک دے اس سے یعنی قیامت پر یقین رکھنے سے یا نماز سے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کس شمار میں ہے۔ کذافی الموضح۔ غرض یہ ہے کہ دنیا پرست کافر کی چاپلوسی یا زیادہ نرمی اور مداہنت اختیار نہ کی جائے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی بلند مقام سے نیچے پٹک دیا جائے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 20:1710 یہاں سے منصب رسالت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ چونکہ معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجے جانے والے تھے اس لیے اولاً معجزہ عصا کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ سوال کہ تیرے ہاتھ میں کیا چیز ہے۔ اس غرض سے تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کی حقیقت اور اس کے منافع کو خوب مستحضر کرلیں تاکہ جو خارق عادت چیز پیش آنے والی تھی اس کا معجزہ ہونا پوری طرح واضح، مستحکم اور اوقع فی النفس ہو۔ یعنی اس وقت خوب دیکھ بھال کر اور جانچ تول کر بتلاؤ، تمہارے ہاتھ میں کیا چیز ہے ؟ مبادا سانپ بن جانے پر وہم کرنے لگو کہ شاید میں غلطی سے ہاتھ میں لاٹھی نہ لایا ہوں کچھ اور لے آیا ہوں۔
Ayah 20:1811 یعنی اس میں شبہ کیا ہے۔ وہ لاٹھی ہے جسے ہمیشہ ہاتھ میں رکھتا ہوں، اس پر ٹیک لگاتا ہوں، بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، دشمن کو اور موذی جانوروں کو دفع کرتا ہوں اور بہت سی ضرورتوں میں لاٹھی کا کام لیتا ہوں۔
Ayahs 20:19–2012 یعنی لاٹھی کا زمین پر ڈالنا تھا کہ لاٹھی کی جگہ ایک اژدہا نظر آیا جو پتلے سانپ کی طرح تیزی سے دوڑتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) ناگہاں یہ انقلاب دیکھ کر بمقتضائے بشریت خوفزدہ ہوگئے۔
Ayah 20:2113 یعنی ہاتھ میں آکر پھر لاٹھی ہوجائے گی۔ کہتے ہیں ابتداء میں موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی آخر کپڑا ہاتھ میں لپیٹ کر پکڑنے لگے۔ فرشتہ نے کہا " موسیٰ کیا خدا اگر بچانا نہ چاہے تو یہ چیتھڑا تجھے بچا سکتا ہے ؟ موسیٰ نے کہا " نہیں، لیکن میں کمزور مخلوق ہوں، اور ضعف سے پیدا کیا گیا ہوں۔ " پھر حضرت موسیٰ نے ہاتھ سے کپڑا ہٹا کر اژدھے کے منہ میں دے دیا۔ ہاتھ ڈالنا تھا کہ وہی لاٹھی ہاتھ میں دیکھی۔
Ayah 20:221 یعنی ہاتھ گریبان میں ڈال کر اور بغل سے ملا کر نکالو گے تو نہایت روشن سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔ اور یہ سفیدی برص وغیرہ کی نہ ہوگی جو عیب سمجھی جائے۔
Ayah 20:232 یعنی عصا اور یدبیضا کے معجزے ان بڑی نشانیوں میں سے دو ہیں جن کا دکھلانا تم کو منظور ہے۔
Ayahs 20:24–253 یعنی حلیم و بردبار اور حوصلہ مند بنا دے کہ خلاف طبع دیکھ کر جلد خفا نہ ہوں اور ادائے رسالت میں جو سختیاں پیش آئیں ان سے نہ گھبراؤں بلکہ کشادہ دلی اور خندہ پیشانی سے برداشت کروں۔
Ayah 20:264 یعنی ایسا سامان فراہم کر دے کہ یہ عظیم الشان کام آسان ہوجائے۔
Ayahs 20:27–285 زبان لڑکپن میں جل گئی تھی (جس کا قصہ تفاسیر میں ہے) صاف نہ بول سکتے تھے۔ اس لیے یہ دعا کی۔
Ayahs 20:29–306 یہ عمر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑے تھے۔
Ayahs 20:31–327 یعنی دعوت و تبلیغ کے کام میں ایک دوسرے کا معین و مددگار ہوں۔
Ayahs 20:33–348 یعنی دونوں مل کر دعوت و تبلیغ کے موقع پر بہت زور شور سے تیری پاکی اور کمالات بیان کریں اور مواضع دعوت سے قطع نظر جب ہر ایک کو دوسرے کی معیت سے تقویت قلب حاصل ہوگی، تو اپنی خلوتوں میں نشاط و طمانیت کے ساتھ تیرا ذکر بکثرت کرسکیں گے۔
Ayah 20:359 یعنی ہمارے تمام احوال کو خوب دیکھ رہا ہے اور جو دعاء میں کر رہا ہوں یہ بھی تجھے خوب معلوم ہے کہ اس کا قبول فرمانا ہمارے لیے کہاں تک مفید ہوگا۔ اگر تجھے ہمارے حال و استعداد کی پوری خبر نہ ہوتی تو نبوت و رسالت کے لیے ہم کو منتخب ہی کیوں کرتا اور ایسے سخت دشمن (فرعون) کی طرف کیوں بھیجتا۔ یقینا جو کچھ آپ نے کیا خوب دیکھ بھال کر کیا ہے۔
Ayah 20:3610 یعنی جو کچھ تم نے مانگا، خدا تعالیٰ کی طرف سے تم کو دیا گیا۔
Ayah 20:3711 یعنی ہم تو پہلے ایک مرتبہ بےمانگے تجھ پر بڑا بھاری احسان کرچکے ہیں، پھر اب ایک مناسب چیز مانگنے پر کیوں نہ دیں گے۔
Ayah 20:3812 یعنی خواب میں یا بیداری میں بطور الہام کے یا اس زمانہ کے کسی نامعلوم الاسم نبی کی زبانی تیری ماں کو وہ حکم بھیجا۔ جس کا بھیجا جانا مناسب تھا (اس کی تفصیل آگے مذکور ہے۔ " اَنِ اقْذِفِیْہِ " الخ) (تنبیہ) لفظ " ایحاء " سے حضرت موسیٰ کی والدہ کا نبیّہ ہونا ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ تقریر بالا سے ظاہر ہے۔ نبی وہ ہے جس کی طرف احکام کی وحی آئے اور ان کی تبلیغ کا مامور ہو۔ یہاں یہ تعریف صادق نہیں آتی۔
Ayah 20:3913 یعنی موسیٰ کو (جو اس وقت نوزائیدہ بچہ تھے) صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دے، دریا کو ہمارا حکم ہے کہ اسے بحفاظت تمام ایک خاص کنارہ پر لگائے گا جہاں سے اس کو وہ شخص اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس بچہ کا بھی، واقعہ یہ ہے کہ فرعون اس سال نجومیوں کے کہنے سے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو چن چن کر قتل کر رہا تھا۔ جب موسیٰ پیدا ہوئے ان کی والدہ کو خوف ہوا کہ فرعون کے سپاہی خبر پائیں گے تو بچہ کو مار ڈالیں گے اور والدین کو بھی ستائیں گے کہ ظاہر کیوں نہیں کیا۔ اس وقت حق تعالیٰ کی طرف سے یہ تدبیر الہام ہوئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے صندوق نہر میں ڈال دیا۔ دریا کی ایک شاخ فرعون کے باغ میں گزرتی تھی اس میں سے ہو کر صندوق کنارے جا لگا۔ فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے (جو نہایت پاکباز اسرائیلی خاتون تھی) بچہ کو اٹھا کر فرعون کے سامنے پیش کیا کہ آؤ ہم تم اسے بیٹا بنالیں۔ فرعون کو بھی دیکھ کر محبت آئی۔ گو اس نے بیٹا بنانے سے انکار کیا (جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے) مگر آسیہ کی خاطر اسے بیٹوں کی طرح پرورش کیا اور اس طرح حق تعالیٰ کی عجیب و غریب قدرت کا ظہور ہوا۔ (تنبیہ) فرعون کو خدا کا دشمن اس لیے کہا کہ وہ حق کا دشمن تھا اور خدا کے بالمقابل خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور موسیٰ کا دشمن اس لیے فرمایا کہ فی الحال تمام اسرائیلی بچوں کے ساتھ سخت دشمنی کر رہا تھا۔ اور آئندہ چل کر خاص موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اعلانیہ دشمنی کا اظہار کرنے والا تھا۔
14 یعنی ہم نے اپنی طرف سے اس وقت مخلوق کے دلوں میں تیری محبت ڈال دی کہ جو دیکھے محبت اور پیار کرے یا اپنی ایک خاص محبت تجھ پر ڈال دی کہ تو محبوب خدا بن گیا۔ پھر جس سے خدا محبت کرے بندے بھی محبت کرنے لگتے ہیں۔
15 یعنی لوگوں کے دلوں میں تیری محبت ڈال دینا اس غرض سے تھا کہ ہماری نگرانی و حفاظت میں تیری پرورش کی جائے۔ ایسے سخت دشمن کے گھر میں تربیت پاتے ہوئے بھی کوئی تیرا بال بیکا نہ کرسکے۔
Ayah 20:401 پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ صندوق نہر میں چھوڑنے کے بعد بمقتضائے بشریت بہت غمگین اور پریشان تھیں کہ بچہ کا کیا حشر ہوا ہوگا، معلوم نہیں زندہ ہے یا جانوروں نے کھالیا۔ حضرت موسیٰ کی بہن کو کہا کہ خفیہ طور پر پتہ لگا۔ ادھر مشیت ایزدی سے یہ سامان ہوا کہ حضرت موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ بہت سی انائیں بلائی گئیں، کامیابی نہ ہوئی۔ موسیٰ کی بہن جو تاک میں لگی ہوئی تھی بولی کہ میں ایک عورت کو لاسکتی ہوں، امید ہے کہ کسی طرح دودھ پلا کر بچہ کو پال سکے گی۔ حکم ہوا بلاؤ۔ وہ موسیٰ کی والدہ کو لے کر پہنچی۔ چھاتی سے لگاتے ہی بچہ نے دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون کے گھر بڑی خوشیاں منائی جانے لگیں۔ موسیٰ کی والدہ نے کہا کہ میں یہاں نہیں رہ سکتی اجازت دو کہ اپنے گھر میں لے جاؤں اور پوری حفاظت و اہتمام سے بچہ کو پرورش کروں۔ آخر فرعون کی طرف سے بطور دایہ کے بچہ کی تربیت پر مامور ہو کر اپنے گھر لے آئیں اور شاہانہ اعزازو اکرام کے ساتھ موسیٰ کی تربیت میں لگی رہیں۔
2 یہ پورا قصہ سورة قصص میں آئے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جوان ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک قبطی مارا گیا تھا، موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے کہ دنیا میں پکڑا جاؤں گا اور آخرت میں بھی ماخوذ ہوں گا۔ دونوں قسم کی پریشانی سے خدا تعالیٰ نے نجات دی، اخروی پریشانی سے اس طرح کہ توبہ کی توفیق بخشی جو قبول ہوگئی اور دنیاوی سے اس طرح کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکال کر مدین پہنچا دیا جہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے ان کا نکاح ہوگیا۔ پورا قصہ دوسری جگہ آئے گا۔
3 یعنی اللہ تعالیٰ نے تم کو کئی طرح جانچا۔ جس میں تم کھرے ثابت ہوئے (تنبیہ) اس موقع پر مفسرین نے حدیث الفتون کے عنوان سے ایک نہایت طویل روایت ابن عباس ؓ کی نقل کی ہے جس کے متعلق حافظ ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں " وہو موقوف من کلام ابن عباس ولیس فیہ مرفوع الاقلیل منہ وکانہ تلقاہ ابن عباس ؓ ممّا ابیح نقلہ من الاسرائیلیات من کعب بن الاحبار وغیرہ واللہ اعلم وسمعت شیخنا الحافظ ابا الحجاج المزی یقول ذلک ایضًا "
4 یعنی اب مدین سے نکل کر راستہ بھولا اور تقدیر سے یہاں پہنچ گیا جس کا تجھے وہم و گمان بھی نہ تھا، سچ ہے خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے