20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsجواھر القرآن

Ayah 20:1
2:۔ یہ حروف مقطعات میں سے ہیں ان کی اصل مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayahs 20:2–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

اس واسطے نہیں اتارا ہم نے تجھ پر قرآن کہ تو محنت میں پڑے3

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

مگر نصیحت کے واسطے اس کی جو ڈرتا ہے

3:۔ یہ پہلی آیت تشجیع ہے۔ یعنی ہم نے آپ پر قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑیں اور اس کی وجہ سے مصائب و مشکلات میں مبتلا ہوجائیں۔ اس لیے آپ لوگوں کے نہ ماننے سے غم نہ کریں اور تذکیر و تبلیغ کرتے رہیں۔ ” لِتَشْقٰی “ لتتعب لفرط تاسفک علیھم وعلی کفرھم وتحسرک علی ان لا یؤمنوا (مدارک ج 3 س 37) جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ” فَلَعَلَّکَ بَاخَعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰ آٰثَارِھِم “ (کہف رکوع 1) ۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہحضور ﷺ کثرت صلوۃ میں اس قدرتکلیف اٹھاتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ واقعہ اگرچہ اپنی جگہ درست ہے لیکن آیت کی تفسیر کے مناسب وہی بات ہے جو ہم پہلے بیان کی ہے۔ لیکن اس کی تبلیغ وا شاعت میں اگر کوئی مصیبت اور تکلیف آ بھی جائے۔ تو کوئی بات نہیں اسے مردانہ وار برداشت کریں۔ کیونکہ یہ حکم نامہ اس شہنشاہ کا ہے جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے اگر اس کی راہ میں کوئی تکلیف آجائے تو کیا ہوا (شعر) ہر کہ عاشق شد اگرچہ نازنین عالم است ناز کی کے راست آید بار می باید نشید
Ayahs 20:4–5

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

اتارا ہوا ہے اس کا4 جس نے بنائی زمین اور آسمان اونچے

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا

4:۔ یہ پہلی آیت توحید ہے۔ یہاں دو دعوے مذکور ہیں۔ پہلا یہ کہ ساری کائنات میں متصرف و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسرا یہ کہ عالم الغیب بھی صرف وہی ہے۔ لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو۔ ” تَنْزِیلًا “ نُزِّلَ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ” اَلرَّحْمٰنُ عَلیَ الْعَرْشِ اسْتَوٰي “ زمین و آسمان کو اسی نے پیدا کیا اور تخت شاہی پر بھی وہ خود ہی متمکن ہے۔ تمام کائنات عالم اسی کے تصرف وا ختیار میں ہے اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا۔ استواء علی العرش حکومت و سلطنت سے کنایہ ہے۔ جعلوہ کنایۃ عن الملک وقالوا استوی فلان علی العرش ای ملک (مدارک ج 3 ص 38) استواء علی العرش کی مفصل تحقیق سورة اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ ملاحظہ حاشیہ نمبر 63 ۔
Ayahs 20:6–7

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں5 اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان اور نیچے گیلی زمین کے

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تو بات کہے پکار کر تو اس کو تو خبر ہے چھپی ہوئی بات کی اور اس سے بھی چھپی ہوئی کی

5:۔ یہ ماقبل ہی کی توضیح وتائید ہے۔ تمام نظام عالم اسی کے قبضے میں ہے۔ ” وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ الخ “ وہ سب کچھ جانتا ہے۔ ظاہر و باطن اور سر و علانیہ اس کو یکساں طور پر معلوم ہے۔ سب کی دعائیں اور پکاریں وہی سنتا ہے۔ ” و ان تجهر “ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ اور ” فانه یعلم السر واخفی “ جملہ ماقبل کی علت اور جواب محذوف کے قائم مقام ہے فانہ الخ قائم مقام بجواب الشرط ولیس الجواب فی الحقیقۃ والاصل عند البعض وان تجھر بالقول فاعلم ان اللہ یعلمہ فانہ یعلم السر واخفی الخ ّ (روح ج 16 ص 147) ۔
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

اللہ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی6 اسی کے ہیں سب نام خاصے

6:۔ ” لَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنیٰ “ ماقبل کی علت ہے اور تقدیم ظرف افادہ حصر کے لیے ہے یعنی اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں اس لیے اسی کو پکارو کیونکہ اسی کی صفتیں بیشمار ہیں۔ جس صفت سے چاہو، اس کو پکارو اللہ تعالیٰ کا اسم ذاتی تو ایک ہے یعنی اللہ۔ البتہ اس کے صفاتی نام لاتعداد ہیں۔ ” الاسماء الحسنی “ (بہت ہی اچھے نام) سے یہاں صفاتی نام ہی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے جب بھی دعا مانگی جائے اس کے انہی ناموں کے واسطے اور وسیلے سے مانگنی چاہئے۔ جیسا کہ سورة اعراف رکوع 22 میں ہے ” وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَاءُ الْحُسنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا “۔
Ayah 20:9

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور پہنچی ہے تجھ کو7 بات موسیٰ کی

7:۔ یہ دوسری آیت تشجیع ہے اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلایا کہ دیکھو مسئلہ توحید کی تبلیغ کے لیے انہوں نے کسی قدر مصائب اٹھائے۔ لہذا آپ بھی اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر جس قدر تکلیفیں آئیں ان پر صبر کریں۔ مسوق لترغیب النبی ﷺ فی الائتساء بموسی (علیہ السلام) فی تحمل اعباء النبوۃ والصبر علی مقاساۃ الخطوب فی تبلیغ احکام الرسالۃ۔ (روح ج 16 ص 164) ۔
Ayahs 20:10–12

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب اس نے دیکھی ایک آگ8 تو کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس اس میں سے سلگا کر یا پاؤں آگ پر پہنچ کر راستہ کا پتہ

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

پھر جب پہنچا آگ کے پاس آواز آئی اے موسیٰ

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں ہوں تیرا رب سو اتار ڈال اپنی جوتیاں تو ہے پاک میدان طویٰ میں

8:۔ یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ابتدا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی زوجہ مطہرہ کے ساتھ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر مصر کو روانہ ہوئے تو راستہ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ کہ ایک اندھیری رات میں بیوی صاحبہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ سردی شدت کی تھی۔ اور اندھیرا بھی تھا ایسے وقت میں آگ اور روشنی کی اشد ضرورت تھی۔ ایک طرف آگ دیکھی تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا۔ تم ٹھہرو میں وہاں سے آگ لاتا ہوں۔ جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ آگ ایک درخت کے سبز پتوں سے نکل رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود پتے سر سبز ہیں۔ جب کسی طریقے سے آگ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس درخت سے ایک غائبانہ آواز آئی ” اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ “ اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں۔ جوتیاں اتار دے کیونکہ تو ایک پاکیزہ جگہ میں ہے۔ ” طُوي “ یہ اس وادی کا نام ہے۔
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تجھ کو پسند کیا ہے9 سو تو سنتا رہ جو حکم ہو

9:۔ میں نے تمہیں رسالت و نبوت کے لیے چن لیا ہے لہذا اب میری باتوں پر کان دھر اور ان کو غور سے سن۔
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

میں جو ہوں اللہ ہوں10 کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو میری بندگی کر اور نماز قائم رکھ میری یادگاری کو

10:۔ یہ توحید کی دوسری آیت ہے۔ وہ پیغام جس کی تبلیغ کے لیے تمہیں رسالت سے سرفراز کیا گیا ہے کہ میرے سوا اور کوئی متصرف و کارساز نہیں۔ لہذا میری ہی عبادت کرنا اور صرف مجھے ہی پکارنا ” وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِکْرِيْ “ اس میں امر مصلح نماز کا ذکر ہے۔ لذکری، یہ اقم کے متعلق ہے یعنی توحید کے بعد میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ ای حافظ بعد التوحید علی الصلوۃ (قرطبی جلد 11 ص 177) یا لام اجلیہ ہے ای اقم الصلوۃ لاجل توحیدی۔ یعنی تبلیغ توحید پر ثبات و استقلال کی خاطر نماز قائم کرو کیونکہ نماز مصائب و شدائد برداشت کرنے میں ممد و معاون ہے۔
Ayahs 20:15–16

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت بیشک آنے والی ہے11 میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں اس کو تاکہ بدلہ ملے ہر شخص کو جو اس نے کمایا ہے

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

سو کہیں تجھ کو نہ روک دے اس سے وہ شخص جو یقین نہیں رکھتا اس کا اور پیچھے پڑ رہا ہے اپنے مزوں کے پھر تو بھی ٹپکا جائے

11:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَ کَادُ اُخْفِیھَا “ حضرت عبداللہ بن عباس اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے۔ اکاد اخفیھا من نفسی فکیف یعلمہا مخلوق کو کیف اظھرھا لکم (خازن ج 4 ص 215، قرطبی ج 11 ص 185 وغیرہ) ۔ یعنی اگر ممکن ہوتا تو قیامت کے معین وقت کا علم میں اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھتا۔ اس لیے مخلوق میں سے اسے کوئی نہیں جان سکتا۔ یہ محاورہ ہے جب کسی بات کے کتمان میں مبالغہ مقصود ہو تو اس وقت یہ محاورہ بولتے ہیں۔ وھذا محمول علی ما جرت بہ عادۃ العرب من ان احدھم اذا اراد المبالغۃ فی کتمان الشیء قال کدت اخفیہ من نفسی (روح ج 16 ص 156)
Ayahs 20:17–21

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور یہ کیا ہے12 تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسیٰ

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

بولا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں پر اور میرے اس میں چند کام ہیں اور بھی

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا ڈال دے اس کو اے موسیٰ

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو اس کو ڈال دیا پھر اسی وقت وہ تو سانپ ہوگیا دوڑتا ہوا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا پکڑلے اس کو اور مت ڈر ہم ابھی پھیر دیں گے اس کو پہلی حالت پر

12:۔ اس سے مقصود لاٹھی کی تعیین کرانا ہے کہ یہ وہی لاٹھی ہے جس سے تم یہ کام لیتے ہو کہا وہی ہے تو فرمایا ” اَلْقٰهٰا “ اسے زمین پر ڈال دو ۔ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ وہ اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ حکم ہوا ڈرو مت اسے پکڑ لو۔ ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ یہ ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا۔
Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور ملا لے اپنا ہاتھ13 اپنی بغل سے کہ نکلے سفید ہو کر بلا عیب یہ نشانی دوسری

13:۔ یہ دوسرا معجزہ تھا۔ یعنی اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر باہر نکالو۔ وہ روشن اور سفید ہوگا۔ ان دونوں معجزوں کا تجربہ وہیں وادی طوی میں کرادیا۔ تاکہ ان کو پہلے سے ان کی حقیقت کا عین الیقین حاصل ہوجائے۔ اور جب ضرورت پیش آئے تو وہ بلا جھجک انہیں پیش کرسکیں۔
Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ دکھاتے جائیں ہم تجھ کو14 اپنی نشانیاں بڑی

14:۔ یہ فعل مقدر کے متعلق ہے ای فعلنا ما فعلنا لنریک (روح) ۔ ” مِنْ اٰیٰتِنَا “ اس سے دریائے نیل میں بارہ راستوں کا نمودار ہونا، بنی اسرائیل کا ان سے صحیح سلامت گذر جانا اور فرعون کا مع لاؤ لشکر غرق ہوجانا مراد ہے۔ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

جا طرف فرعون کے کی15 اس نے بہت سر اٹھایا

15:۔ ” طَغٰی الخ “ طغیان سے ہے جس کے معنی انتہائی سرکشی کے ہیں۔ فرعون کی سرکشی کی انتہا یہ تھی کہ اس نے خود خدائی کا دعوی کر رکھا تھا چناچہ ” اَنَا رَ بُّکُمُ الْاَعْلٰی “ اور ” مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِيْ “ اس کا اعلان تھا۔
Ayahs 20:25–26

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

بولا اے رب16 کشادہ کر میرا سینہ

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور آسان کر میرا کام

16:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ انہیں بہت بڑے کام پر بھیجا جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ سے اسباب کی تسہیل اور اس کام کی تکمیل کے سلسلے میں پانچ درخواستیں کیں (1) ” رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِيْ “۔ شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ ان کے سینے کو نور سکینہ و طمانیت سے معمور کردیا جائے تاکہ وہ بتقاضائے بشریت اس کام سے بیدل نہ ہوں اور کبھی نہ اکتائیں۔ اور شدائد و مصائب کی وجہ سے ان کے دل میں اضطراب اور بےچینی پیدا نہ ہو۔ (2) ” وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْريْ “ اور یہ تبلیغ رسالت کا کام میرے لیے آسان فرما دے۔
Ayahs 20:27–28

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور کھول دے گرہ17 میری زبان سے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

کہ سمجھیں میری بات

17:۔ یہ تیسرے درخواست ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بچپن میں فرعون کی گود میں تھے تو انہوں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ اور اس کی داڑھی کے بال بھی نوچ ڈالے اس پر فرعون نے برہم ہو کر کہا کہ یہ تو میرا دشمن ہوگا اور ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ فرعون کی بیوی آسیہ نے کہا وہ نادان بچہ ہے جو آگ اور جواہرات میں بھی تمیز نہیں کرسکتا۔ چناچہ فوراً دہکتے کوئلوں کا ایک طشت اور جواہرات کا ایک طشت لا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے رکھ دئیے گئے۔ انہوں نے ہاتھ جواہرات کی طرف بڑھایا۔ جبریل (علیہ السلام) نے ان کا ہاتھ آگ کے طشت میں رکھ دیا۔ انہوں نے ایک دہکتا ہوا کوئلہ منہ میں رکھ لیا۔ جس سے زبان جل گئی اور اس کی وجہ سے ان کی زبان میں گرہ پڑگئی اور وہ ہکلا کر بات کرتے تھے۔ یہاں اس گرہ کے کھولنے کی دعا کی (قرطبی، روح وغیرہ) ۔
Ayahs 20:29–33

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والاف 18 میرے گھر کا

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہارون میرا بھائی

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے مضبوط کر میری کمر

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور شریک کر اس کو میرے کام میں

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

کہ تیری پاک ذات کا بیان کریں ہم بہت سا

18:۔ یہ چوتھی درخواست ہے۔ میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی اس مہم میں میرا شریک بنا دے تاکہ دونوں مل کر اس کام کو سرانجام دے سکیں ” اُشْدُدْ بِهٖ اَزْرِيْ “ ،” اَزر “ کے معنی قوت کے ہیں۔ الازر القوۃ الشدیدۃ (مفردات ص 15) ۔ یعنی میرے بھائی کو میرے کام میں شریک کر کے میری قوت کو مضبوط کردے۔ یا ازر کے معنی ظہر (کمر) ہے۔ یعنی میری کمر مضبوط فرما (” اُشْدُدْ بِهٖ اَزْرِيْ “ ) ای ظہری (قرطبی ج 11 ص 193) ۔ ” وَ اَشْرِکْهُ فِیْ اَمْرِيْ “ یہ پانچویں درخواست ہے یعنی ہارون کو نبوت اور تبلیغ میں میرا شریک بنا دے۔
Ayahs 20:34–35

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور یاد19 کریں ہم تجھ کو بہت سا

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو تو ہے ہم کو خوب دیکھتا

19:۔ یہ مذکورہ دعاؤں کی غایت ہے تسبیح اور ذکر سے اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت مراد ہے۔ والمراد ما یکون منھما فی تضاعیف اداء الرسالۃ و دعوۃ المردۃ العتاۃ الی الحق (روح ج 16 ص 185) ۔
Ayahs 20:36–38

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا ملا تجھ کو20 تیرا سوال اے موسیٰ

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور احسان کیا تھا ہم نے تجھ پر ایک بار اور بھی

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب حکم بھیجا ہم نے تری ماں کو جو آگے سناتے ہیں

20:۔ اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دعا قبول ہونے کی خوشخبری سنائی اور ان کی پانچ درخواستوں کے جواب میں پانچ انعامات کا ذکر فرمایا جو ان پر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیے تھے۔ ” اِذْ اَوْحَیْنَا الخ “ یہ پہلا انعام ہے۔ فرعون نے حکم دے رکھا تھا کہ اسرائیلیوں کے یہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی۔ آپ کی والدہ متفکر تھیں کہ اگر فرعون کے آدمیوں کو میرے بچے کا پتہ چل گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ تدبیر ڈال دی کہ وہ بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں پھینک دے۔ ” اوحینا “ یعنی ہم نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے محل کے قریب وہ صندوق کنارے لگا دیا۔ اور ملازموں نے صندوق پکڑ کر فرعون کے سامنے پیش کردیا۔
Ayah 20:39

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

کہ ڈال اس کو صندوق میں پھر اس کو ڈال دے دریا میں پھر دریا اس کو لے ڈالے کنارے پر اٹھالے اس کو ایک دشمن میرا اور اس کا اور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے21 اور تاکہ پرورش پائے تو میری آنکھ کے سامنے

21:۔ یعنی میں نے ہر ایک کے دل میں تمہاری محبت ڈال دی اور ہر ایک تجھ سے محبت کرنے لگا۔ ” وَلِتُصْنَع عَلیٰ عَیْنِیْ “۔ اپنی نگرانی میں تیری تربیت ہو۔
Ayah 20:40

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب چلنے لگی تیری بہن22 اور کہنے لگی میں بتاؤں تم کو ایسا شخص جو اس کو پالے پھر پہنچا دیا ہم نے تجھ کو تیری ماں کے پاس کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غم نہ کھائے اور تو نے مار ڈالا ایک شخص کو23 پھر بچا دیا ہم نے تجھ کو اس غم سے اور جانچا ہم نے تجھ کو ایک ذرا جانچنا پھر ٹھہرا رہا تو کئی برس24 مدین والوں میں پھر آیا تو تقدیر سے اے موسیٰ

22:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا انعام ہے۔ جب بچے کو دودھ پلانے کے لیے بہت سی عورتیں بلائی گئیں تو انہوں نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ یہاں تک کہ آپ کی ہمشیرہ نے یہ صورت حال دیکھ کر کہا کہ میں بھی تمہیں ایک عورت بتاتی ہوں اسے لاؤ۔ شاید یہ بچہ اس کا دودھ پی لے۔ چناچہ ان کی والدہ کو بلایا گیا تو انہوں نے فورًا اس کا دودھ پینا شروع کردیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی والدہ کی گود میں واپس کرنے کا سامان مہیا فرما دیا۔ 23:۔ یہ اللہ کا تیسرا انعام ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک دن باہر تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ ایک قبطی اور ایک اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی۔ تو انہوں نے آگے بڑھ کر قبطی پر ایسا ہاتھ چھوڑا کہ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ جب اس واقعہ کی اطلاع حکام کو پہنچی۔ تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قطبی کے بدلے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب ان کو اس بات کا علم ہوا تو وہ راتوں ہی رات مدین کو روانہ ہوگئے۔ اس طرح اللہ نے ان کو قتل سے محفوظ فرمایا۔ 24:۔ یہ اللہ تعالیٰ کا چوتھا انعام ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے مدین پہنچے تو وہاں ان کا کوئی واقف اور شناسا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسباب مہیا فرمائے تو ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) سے شناسائی اور پھر ان کی دامادی کا شرف حاصل ہوگیا۔ اور ایک عرسہ تک وہاں رہنے کے بعد واپس مصر آئے۔