19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsجواھر القرآن

Ayah 19:1

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص3

3:۔ حروف مقطعات متشابہات میں سے ہیں اور ان کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس کی مفصل تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے ملاحظہ ہو ص 18 حاشیہ 2 ۔
Ayahs 19:2–3

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

یہ مذکور ہے تیرے رب کی رحمت کا اپنے بندہ زکریا پر رف 4

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب پکارا اس نے اپنے رب کو چھپی آواز سے

4:۔ یہ پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ اس پورے واقعہ سے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا عجز و احتیاج ظاہر ہوتا ہے۔ وہ بیٹے کے لیے انتہائی عجز و نیاز سے دعا کر رہے ہیں۔ اس لیے وہ متصرف و کارساز نہیں ہوسکتے۔ ” رحمۃ “ مصدر اپنے فاعل کی طرف مضاف ہے اور ” عبدہ زکریا “ مبدل منہ اور بدل مل کر اس کا مفعول ہے یہ مجموعہ مل کر ” ذکر “ کا مضاف الیہ ہے اور مرکب اضافی مبتدا محذوف ھذا کی خبر ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ رحمت جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی تھی۔ یہ اس کا ذکر ہے۔ ” نداء خفیا “ یعنی آہستہ اور چھپ کر یہ ” نادی “ کا مفعول مطلق ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعاء اخفاء اور آہستگی سے کی کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے جہر و اخفاء برابر ہے تو دعا میں اخفاء بہتر ہے جو ریاء سے ابعد اور اخلاص سے اقرب ہے۔ راعی سنۃ اللہ فی اخفاء دعوۃ لان الجھر والاخفا عند اللہ سیان فکان الاخفاء اولی لانہ ابعد عن الریاء وادخل فی الاخلاص (کبیر ج 5 ص 764) ۔
Ayah 19:4

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

بولا اے میرے رب5 بوڑھی ہوگئیں میری ہڈیاں اور شعلہ نکلا سر سے بڑھاپے کا اور تجھ سے مانگ کر اے رب میں کبھی محروم نہیں رہا

5:۔ یہ ماقبل کا بیان ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے دعا میں اپنی جسمانی کمزوریاں بیان کی ہیں اول یہ کہ ان کا بدن بالکل کمزور ہوچکا ہے۔ دوم یہ کہ بڑھاپے کی وجہ سے ان کے سر کے بال سفید ہوچکے ہیں۔ جو شخص اس قدر عاجز ہو کہ ان کمزوریوں سے اپنے آپ کی حفاطت نہ کرسکے وہ کسی طرح دوسروں کا کارساز نہیں ہوسکتا۔ ” و لم اکن بدعائک “ با سببیہ ہے اور مصدر مفعول کی طرف مضاف ہے فاعل محذوف ہے اصل میں تھا بدعائی ایاک یعنی میں اس وجہ سے بدبخت نہیں ہوں کہ صرف تجھ ایک ہی کو پکارتا ہوں۔ بدبخت وہ ہے جو تیرے سوا غیروں کو بھی پکارتا ہے۔
Ayahs 19:5–7

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں ڈرتا ہوں6 بھائی بندوں سے اپنے پیچھے اور عورت میری بانجھ ہے سو بخش تو مجھ کو اپنے پاس سے ایک کام اٹھانے والا

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری جگہ بیٹھے اور یعقوب کی اولاد کی اور کر اس کو اے رب من مانتا

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ہم تجھ کو خوشخبری سناتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام ہے یحییٰ نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی

6:۔ موالی سے ان کی عصبات اور بنو العم مراد ہیں۔ یہ لوگ بےدین تھے اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نیک فرزند کے لیے دعا کی تاکہ وہ ان کے بعد دعوت دین کے کام کو جاری رکھے۔ انما کان موالیہ مھملین للدین فخاف بموتہ ان یضیع الدین فطلب ولیا یقوم بالدین بعدہ (قرطبی ج 11 ص 78) ۔ ” یرثنی و یرث من ال یعقوب الخ “ یہاں وراثت سے وراثت علم نبوت مراد ہے نہ کہ وراثت مال کیونکہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کا ترکہ قومی ملکیت ہوتا ہے۔ ای یرثنی من حیث العلم والدین والنبوۃ فان الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لا یورثون المال قال ﷺ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ماتکرناہ صدقۃ (ابو السعود ج 5 ص 767) ۔ اگر یہاں وراثت مال مراد ہوتی۔ جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں۔ تو پھر من آل یعقوب کہنے کی کیا ضرورت تھی کیونکہ آل یعقوب کے مال کے وارث اور بہت سے موجود تھے۔ اس لیے مطلب یہ ہے کہ ایسا بیٹا عطا کر جو میرے اور آل یعقوب کے علوم نبوت کا وارث ہو۔ ” سمیا “ یعنی ہم نام یا ہم صفت اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) کو خوشخبری دی میں تمہیں ایک فرزند عطا کروں گا جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے اس نام کا کوئی آدمی نہیں ہوا یا ایسی خوبیوں والا کوئی نہیں گذرا۔
Ayahs 19:8–9

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

بولا اے رب7 کہاں سے ہوگا مجھ کو لڑکا اور میری عورت بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہوگیا یہاں تک کہ اکڑ گیا

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

کہا یونہی ہوگا فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے اور تجھ کو پیدا کیا میں نے پہلے سے اور نہ تھا تو کوئی چیز

7:۔ زکریا (علیہ السلام) کو جب بیٹے کی خوشخبری ملی۔ تو سخت متعجب ہوئے اور کہنے لگے۔ میرے لڑکا کس طرح پیدا ہوگا۔ حالانکہ میری بیوی بانجھ اور ناقابل اولاد ہے۔ اور میں خود بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں ” قال کذلک “ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسی طرح ہی ہوگا۔ تم دونوں میاں بیوی کے انہی حالات میں تمہارے یہاں بیٹا پیدا ہوگا۔ میرے لیے یہ بات بہت آسان ہے زکریا ! تعجب کیوں کرتے ہو۔ ایک وقت تھا کہ تم معدوم تھے۔ تو میں نے تجھے موجود کردیا اب بھی ایسا ہی ہوگا۔
Ayah 19:10

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

بولا اے رب ٹھہرا دے میرے لیے8 کوئی نشانی فرمایا تیری نشانی یہ کہ بات نہ کرے تو لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست

8:۔ اب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے درخواست کی۔ کوئی علامت مقرر کی جائے۔ جس سے ان کو بیوی کے امید سے ہونے کا پتہ چل جائے تاکہ وہ اس نعمت کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کرسکیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جب تمہاری بیوی امید سے ہوجائے گی۔ تب تم تندرست اور چنگا بھلا ہونے کے باوجود تین دن بات نہیں کرسکو گے۔ ” سویا “ تندرست، گونگا پن سے محفوظ۔ سوی الخلق سلیم الجوارح مابک شائبۃ بکم ولا خرس (ابو السعود ج 5 ص 776) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے ورنہ انہیں علامت مقرر کرانے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور جو غیب داں نہ ہو، وہ کارساز اور متصرف فی الامور نہیں ہوسکتا۔
Ayah 19:11

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر نکلا اپنے لوگوں کے پاس حجرہ سے9 تو اشارہ سے کہا ان کو کہ یاد کرو صبح اور شام

9:۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جب قدرت خداوندی سے حمل قرار پا گیا۔ تو زکریا (علیہ السلام) سے قوت گویائی سلب ہوگئی۔ اور جب وہ اپنی محراب (عبادت گاہ) سے نکل کر لوگوں کے سامنے ہوئے تو زبان سے کچھ بول نہ سکے اس لیے ہاتھ کے اشارے سے انہیں فرمایا کہ تم سب شکر نعمت کے طور پر صبح شام اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہو۔ ولعلہ (علیہ السلام) کان مامورا بان یسبح شکرا ویامر قومہ (روح ج 16 ص 71) ۔
Ayahs 19:12–13

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ10 اٹھا لے کتاب زور سے اور دیا ہم نے اس کو حکم کرنا لڑکپن میں

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور شوق دیا اپنی طرف سے اور ستھرائی اور تھا پرہیزگار

10:۔ اس سے پہلے اندماج ہے کیونکہ یہ حکم تو ان کے پیدا ہونے کے بعد ہی دیا جاسکتا تھا۔ ای فلما ولد و بلغ سنا یومر مثلہ فیہ قلنا ییحی (روح) الکتاب میں الف لام عہد کے لیے ہے اور اس سے مراد تورات ہے۔ کتاب کو قوت سے پکڑنے سے اس پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ ” و اتینہ الحکم صبیا “۔ الحکم سے حکمت یعنی دین کی سمجھ یا عقل یا نبوت مراد ہے انہ الحکمۃ وھو الفہم فی التوراۃ والفقہ فی الدین والثانی قول معمر انہ العقل والثالث انہ النبوۃ و ذلک لان اللہ تعالیٰ بعث یحییٰ و عیسیٰ علیھما السلام و ھما صبیان لا کما بعث موسیٰ و محمدا علیھما السلام۔ وقد بلغا الاشد (کبیر باختصار ج 5 ص 774) ۔ ” حنانا “ یہ ” الحکم “ پر معطوف ہے۔ یعنی رحمت و شفقت۔ ” و زکوۃ “ یہ بھی ” الحکم “ پر معطوف ہے اور اس سے برکت یا طہات اخلاق مراد ہے مطلب یہ کہ ہم نے بچپن ہی میں اس کو دین کی سمجھ یا دانائی یا نبوت عطا کردی۔ اور اسے شفیق و مہربان اور مبارک بنایا۔
Ayah 19:14

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور11 نیکی کرنے والا اپنے ماں باپ سے اور نہ تھا زبردست خود سر

11:۔ گناہوں سے بالکلیہ اجتناب کرنے والے حدیث میں ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اپنی زندگی بھر میں کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ گناہ کرنے کا ارادہ ہی کیا۔ ” و برا بوالدیہ “ ماں باپ دونوں پر احسان کرنے والا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے چونکہ ماں باپ دونوں تھے۔ اس لیے دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 19:15

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور سلام ہے اس پر12 جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے اور جس دن اٹھ کھڑا ہو زندہ ہو کر

12:۔ سلام سلامتی اور امان یحییٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ولادت کے وقت مس شیطان سے، موت کے وقت وحشت موت سے اور آخرت میں ہول قیامت سے محفوظ رکھا۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ سلام سے مراد تحیہ متعارفہ ہے۔ یعنی ان تینوں حالتوں میں تشریف و تکریم کے طور پر اللہ تعالیٰ ان پر تحیہ نازل فرمائے گا۔ یہاں تین مختلف حالتیں بیان کی گئی ہیں۔ 1 ۔ ولادت۔ اس وقت سے جو زندگی شروع ہوتی ہے۔ اسے دنیوی زندگی کہتے ہیں۔ 2 ۔ موت اس پر دنیوی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور برزخی زندگی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ 3 ۔ بعث بعد الموت اس پر برزخی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور اخروی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
Ayahs 19:16–18

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں مریم کا13 جب جدا ہوئی14 اپنے لوگوں سے ایک شرقی مکان میں

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ پھر بھیجا ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ پھر بن کر آیا اس کے آگے آدمی پورا

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

بولی مجھ کو رحمان کی پناہ تجھ سے اگر ہے تو ڈر رکھنے والا

13:۔ یہ حضرت مریم صدیقہ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہ کا جواب ہے۔ حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھلوں کا موجود ہونا شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید یہ خارج عادت امر ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے خارق عادت امور کا ظاہر ہونا، جن کا ذکر سورة آل عمران رکوع 5 میں کیا گیا ہے۔ شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید وہ بھی متصرف و مختار ہوں۔ نیز انجیل میں ان کے لیے لفظ ابن اللہ کا وارد ہونا (انجیل کی زبان میں جس کے معنی اللہ کے پیارے اور برگزیدہ کے ہیں) ۔ اس سے بھی وہم پڑتا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات ان کے حوالے کردئیے ہوں یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ بیان کر کے دونوں شبہوں کا رد کردیا گیا۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ 14:۔ ای تنحت وتباعدت (قرطبی ج 11 ص 90) یعنی اپنے گھر سے نکل کر دور مشرق کی جانب کسی جگہ چلی گئی۔ ” فارسلنا الیھا روحنا “ روح سے حضرت جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو نہایت خوبصورت آدمی کی شکل میں حضرت مریم کے سامنے نمودار ہوئے۔ جب حضرت مریم نے ایک غیر محرم کو اپنے سامنے دیکھا تو خیال کیا کہ شاید برے ارادے سے آیا ہے تو فوراً بول اٹھیں ” انی اعوذ الخ “۔ ” ان کنت تقیا “ کی جزاء محذوف ہے۔ ای فانی عائذہ بالرحمن منک یعنی اگر تو پرہیز گار اور متقی ہے تو بھی میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ بعض نے فاذھب اور بعض نے تتعظ جزا مقدر کی ہے۔ یعنی اگر تو نیک ہے تو میرے سامنے سے چلا جا یا میرے استعاذے سے سبق حاصل کر اور مجھ سے کسی قسم کا تعرض نہ کر (کلہ من الروح ج 16 ص 77) ۔
Ayah 19:19

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

بولا میں تو15 بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کا کہ دے جاؤں تجھ کو ایک لڑکا ستھرا

15:۔ فرشتے نے جواب دیا۔ کہ میں بشر نہیں ہوں۔ میں فرشتہ ہوں۔ اور تیرے پاس رب کا پیغام لے کر آیا ہوں تیرے رب نے فرمایا اے مریم میں نے تیرے پاس یہ فرشتہ اس لیے بھیجا ہے تاکہ تجھے فرزند عطا کروں۔ ” لاھب لک “ اللہ تعالیٰ کے پیغام کی حکایت ہے۔ اور اصل میں عبارت اس طرح ہے۔ ای ربک الذی قال ارسلت ھذا الملک لاھب لک (قرطبی ج 11 ص 11، روح ج 16 ص 77) ۔ یا ہبہ فرزند کی نسبت فرشتے کی طرح مجازی ہے۔ کیونکہ وہ اس کا سبب بن رہا ہے ای لاکون سببا فی ھبتہ بالنفخ فی الدرع (روح) ۔ اس سے اہل بدعت کا یہ شبہہ رفع ہوگیا کہ غیر اللہ بھی اولاد دے سکتا ہے جیسا کہ یہاں فرشتہ نے کہا تھا کہ میں تمہیں بیٹا دینے آیا ہوں حاصل یہ کہ یہ قول فرشتے کا اپنا نہیں۔ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول جسے فرشتہ حضرت مریم صدیقہ تک پہنچا رہا ہے۔
Ayahs 19:20–21

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

بولی کہاں سے ہوگا16 میرے لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار کبھی نہیں تھی

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

بولا یونہی ہے فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے اور اس کو ہم کیا چاہتے ہیں لوگوں کے لیے نشانی اور مہربانی اپنی طرف سے اور ہے یہ کام مقرر ہوچکا

16:۔ فرشتے کی باتیں سن کر حضرت مریم کو سخت حیرت ہوئی۔ اور اس سے پوچھنے لگیں کہ میرے بیٹا کس طرح پیدا ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی بشر نے نہ نکاح سے ہاتھ لگایا ہے نہ میں بدکار ہی ہوں۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ تیرے رب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مس بشر کے بغیر بیٹا پیدا کرنا میرے لیے مشکل نہیں۔ بلکہ یہ ایک آسان کام ہے اور میں اس طرح بغیر باپ بیٹا پیدا کر کے اسے اپنی قدرت کا اعجاز بناؤں گا۔ اور وہ ایمان والوں کے لیے باعث رحمت ہوگا اور یہ بات لوح محفوط میں مقدر ہوچکی ہے یا ازل میں اس کا فیصلہ ہوچکا ہے (امرا مقضیا) محکما قد تعلق بہ قضاءنا الازلی او قد رو وسطر فی اللوح لبد من جریانہ علیک البتۃ (ابو السعود ج 9 ) ۔ ” لنجعلہ ایۃ “۔ ایۃ سے یہاں معجزہ مراد ہے یا ایۃ سے علامت مراد ہے یعنی بغیر باپ اس کی پدائش کو اپنے کمال قدرت کی علامت اور دلیل بنادوں ای ولنجعل وھب الغلام ایۃ لھم و برھانا یستدلون بہ علی کمال قدرتنا (ابو السعود ج 5) ۔ مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت مریم صدیقہ کو معلوم نہ ہوسکا کہ یہ فرشتہ ہے۔ جو انسانی شکل میں ان کے سامنے آیا ہے نیز بیٹا پیدا ہونے کیفیت کا علم بھی نہیں تھا۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ غیب داں نہ تھیں۔ اس لیے وہ متصرف و مختار بھی نہیں ہوسکتیں۔
Ayahs 19:22–23

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

پھر پیٹ میں لیا اس کو17 پھر یکسو ہوئی اس کو لے کر ایک بعید مکان میں

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر لے آیا اس کو درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں بولی کسی طرح میں مرچکتی اس سے پہلے اور ہوجاتی بھولی بسری

17:۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک مارا جس سے وہ فوراً حاملہ ہوگئیں۔ ” فانتبذت بہ “ اور اس کے بعد ” فاجاءھا المخاض “ یعنی وہ اس کے فوراً بعد ایک دور جگہ چلی گئی اور پھر فورا درد زہ ایک کھجور کے سایہ میں لے آیا۔ ان پر فاء کا دخول جو تراخی بلا مہلت پر دلالت کرتی ہے اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کے فورا بعد بچے کی پیدائش ہوگئی تھی اور مدت حمل لمبی نہیں ہوئی (قرطبی ج 11 ص 92) ۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور دیگر مفسرین کا قول ہے کہ مدت حمل ممتد تھی۔ جس طرح عام عورتوں کی ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس سے نوماہ، عطا، ابو العالیہ اور ضحاک سے سات ماہ اور بعض سے ماہ منقول ہیں۔ (کبیر ج 5 ص 784، روح ج 16 ص 79)
Ayah 19:24

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

پس آواز دی18 اس کو اس کے نیچے سے کہ غمگین مت ہو کردیا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ

18:۔ ” نَادٰي “ کا فاعل حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ جیسا کہ ابن عباس سے منقول ہے۔ ” مِنْ تحْتِھَا “ یعنی حضرت مریم سے نیچے ” سَرِیَّا “ چھوٹی سی نالی جس میں وہاں سے پھوٹنے والے چشمہ کا پانی بہہ رہا تھا۔ ” وَ ھُزِّيْ اِلَیْکِ الخ “ جب حضرت مریم کو درد زہ کی تکلیف شروع ہوئی تو وہ ایک ایسی جگہ چلی گئیں جو آس پاس کی زمین سے کچھ بلند تھی۔ وہاں کھجور کا دخت تھا اور نیچے پانی کی نہر تھی۔ جب وہ اپنی اس حالت پر اور تکلیف پر وہاں مغموم بیٹھی تھیں۔ اس وقت حضرت جبریل (علیہ السلام) نے نیچے کھرے ہو کر ان سے یہ گفتگو کی۔ کہ غم مت کرو۔ دیکھو تمہارے پاؤں تلے چشمہ ابل رہا ہے اوپر کھجور کا درخت ہے۔ درخت کو جھٹکے سے ہلاؤ اس سے کھجوریں گریں گی وہ کھاؤ اور چشمہ سے پانی پیو اور اس طرح اپنا غم غلط کرو۔
Ayahs 19:25–26

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور ہلا اپنی طرف کھجور کی جڑ اس سے گریں گی تجھ پر19 پکی کھجوریں

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

اب کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو دیکھے کوئی آدمی تو کہیو میں نے مانا ہے رحمان کا روزہ سو بات نہ کروں گی آج کسی آدمی سے

19:۔ ” تَسَّاقَطْ “ کا فا عل ” النخله “ ہے اور وہ ” ھُزِّيْ “ امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ” فَکُلِيْ وَ اشْرَبِیْ “ علامہ آلوسی نے یہاں ایل لطیف نکتہ زکر کیا ہے۔ یہاں بیان میں پانی کا ذکر کھجور کے ذکر سے مقدم کیا گیا ہے۔ کیونکہ کھانے کی نسبت پانی کی ضرورت اشد ہے۔ لیکن دونوں چیزوں کو استعمال کرنے کے موقع پر کھانے کو پینے پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ عادۃ کھانا پینے پر مقدم ہے (روح ج 16 ص 85) ۔ ” فَاِمَّا تَرَیِنَّ “ یہ بھی حضرت جبریل امین کا کلام ہے۔ اس میں انہوں نے حضرت مریم صدیقہ کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے نو زائیدہ بچے کو لے کر اپنے گھر کو روانہ ہوں، تو راستہ میں اگر کوئی شخص ملے اور تجھ سے بیٹے کے بارے میں سوال کرے تو اشارے سے اسے کہہ دینا کہ میں نے اللہ کی نذر کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ اس لیے کسی سے بات نہیں کرسکتی۔ اس وقت کی شریعت میں روزے کی حالت میں مفطراتِ ثلثہ (کھانا، پینا، جماع) کے علاوہ کلام کرنے سے بھی پرہیز لازم تھا۔ یعنی جس طرح روزے میں کھانا، پینا اور مباشرت جائز نہیں تھی۔ اسی طرح بحالتِ روزہ کسی آدمی سے بات کرنا بھی جائز نہیں تھا۔ لیکن ہماری شریعت میں ایسا روزہ جائز نہیں۔ بعض جاہل پیر اور ان کے اندھے مرید کسی سے بات نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ انہوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، یہ ہماری شریعت میں ہرگز جائز نہیں۔ المراد بہ الصوم عن المفطرات المعلومۃ وعن الکلام وکانوا لایتکلمون فی صیامہم وکان قربۃ فی دینھم فیصح نذرہ و قد نھی النبی ﷺ عنہ فھو منسوخ فی شرعنا کما ذکرہ الجصاص فی کتاب الاحکام وروی عن ابی بکر ؓ انہ دخل علی امراۃ قد نذرت ان لاتتکلم فقال ان الاسلام ھدم ھذا فتکلمی (روح ج 16 ص 86) ۔
Ayahs 19:27–28

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر لائی اس کو20 اپنے لوگوں کے پاس گود میں وہ اس کو کہنے لگے اے مریم تو نے کی یہ چیز طوفان کی

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے بہن ہارون کی نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار

20:۔ ” فَرِیًّا “ بہت بری بات۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوگئی تو حضرت مریم انہیں لے کر اپنے گھر آئیں تو ان کی قوم کے لوگ یہ ماجرا دیکھ کر بول اٹھے کہ اے مریم تو نے یہ کس قدر بری حرکت کی ہے۔ ” یَا اُخْتَ ھٰرُوْنَ الخ “ ہارون حضرت مریم کا باپ کی طرف سے بھائی تھا۔ اور بہت نیک، پارسا اور عابد و زاہد تھا۔ وکان اخا ھا من ابیھا ومن افضل بنی اسرائیل (مدارک ج 3 ص 62) ۔ یعنی اے مریم ! تو تو ہارون جیسے نیکو کار اور پارسا کی بہن ہے، تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا نہ تیری ماں بدکار تھی تو نے یہ کیا کر ڈالا۔
Ayah 19:29

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

پھر ہاتھ سے بتلایا21 اس لڑکے کو بولے ہم کیونکر بات کریں اس شخص سے کہ وہ ہے گود میں لڑکا

21:۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو چونکہ جبریل امین نے بوقت بشارت بتا دیا تھا کہ ان کے جو بچہ پیدا ہوگا وہ عہد شیر خوارگی میں باتیں کرے گا۔ جیسا کہ سورة آل عمران رکوع 5 میں ہے ” وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِیْ الْمَھْدِ وَ کَھْلًا “ اس لیے انہوں نے بچے کی طرف اشارہ کر کے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے کی حقیقت اس سے پوچھیں۔ ” قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ الخ “ اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم اس شیر خوار بچے سے کس طرح باتیں کریں کبھی اس عمر کے بچوں نے بھی باتیں کی ہیں۔
Ayah 19:30

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

وہ بولا میں بندہ ہوں اللہ کا22 مجھ کو اس نے کتاب دی ہے اور مجھ کو اس نے نبی کیا

22:۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فوراً بول اٹھے کہ میں تو اللہ بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے نبی بنایا اور مجھے کتاب بھی دی ہے اور مجھے بابرکت کیا ہے اور جب تک میں زندہ رہوں۔ مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم فرمایا ہے۔ ” و بَرًّا بِوَالِدَتِیْ الخ “ اور مجھے اس نے والدہ سے حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سخت طبیعت اور سنگ دل نہیں بنایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ بغیر باپ صرف والدہ ہی سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان پر ” بَرًّا بِوَالِدَتِیْ “ کے الفاظ جاری فرمائے اور والدہ کے ساتھ والد کا ذکر نہیں ہے۔
Ayahs 19:31–32

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور بنایا مجھ کو برکت والا جس جگہ میں ہوں اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ23

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور سلوک کرنے والا اپنی ماں سے اور نہیں بنایا مجھ کو زبردست بدبخت

23:۔ یہاں مرزائی اعتراض کرتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر زندہ ہیں تو وہ وہاں نماز کس طرح پڑھتے ہیں اور زکوۃ کس طرح دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی سے یہاں مطلق زندگی مراد نہیں بلکہ متعارف زندگی مراد ہے یعنی وہ زندگی جو روئے زمین پر بسر کی جائے۔ وانت تعلم انالظاھر المتبادر من المدۃ المذکورۃ مدۃ کونہ (علیہ الصلوۃ والسلام) حیا فی الدنیا علی ما ھو المتعارف و ذلک لا یشمل مدۃ کونہ (علیہ السلام) فی السماء (روح ج 16 ص 90) ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ نماز تو وہ آسمان پر بھی پڑھ سکتے ہیں اس میں کوئی استحالہ نہیں۔ باقی رہا زکوۃ کا سوال تو وہ ان پر فرض ہی نہیں کیونکہ آسمان پر ان کے پاس دولت کہاں ؟
Ayah 19:33

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور سلام ہے24 مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر

24:۔ یہاں بھی بدستور تین مختلف زمانوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ یعنی (1) ولادت کے بعد (2) موت کے بعد اور (3) بعث بعد الموت کے بعد۔ ولادت سے دنیوی زندگی شروع ہوتی ہے جو موت پر ختم ہوجاتی ہے اور موت سے برزخی زندگی شروع ہوجاتی ہے جو دوبارہ جی اٹھنے تک ہے اس کے بعد اخروی زندگی ہے۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا25 سچی بات جس میں لوگ جھگڑتے ہیں

25:۔ ” ذلک “ سے مذکورہ حالات کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات یہ ہیں کہ وہ خود محتاج تھے اور ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے تو وہ کس طرح متصرف و مختار ہوسکتے ہیں۔
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

اللہ ایسا نہیں26 کہ رکھے اولاد وہ پاک ذات ہے جب ٹھہرالیتا ہے کسی کام کا کرنا سو یہی کہتا ہے اس کو کہ ہو وہ ہوجاتا ہے

26:۔ یہ زجر ہے نصاریٰ کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف ولد کی نسبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ولد اور نائب ہیں فرمایا یہ غلط ہے۔ اس کا کوئی ولد اور نائب نہیں اور نہ اسے نائب کی ضرورت ہے وہ تو ایسا قادر ہے کہ جو چاہے لفظ کن سے پیدا کرلے۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور کہا بیشک اللہ ہے رب میرا اور رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو27 یہ ہے راہ سیدھی

27:۔ یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے اور ” اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰه “ پر معطوف ہے۔ یعنی میں تو اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ ہی میرا اور تم سب کا رب اور کارساز ہے۔ اس لیے صرف اسی ہی کو پکارو اور صرف اسی کے نام کی نذریں اور منتیں دو ۔ ” ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ“ سے ما قبل کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت اور پکار کا مسئلہ ہی صراط مستقیم اور سیدھی راہ ہے۔ ھذا ما ذکر من التوحید (روح ج 16 ص 92) ۔ (ھذا) الذی ذکرت (صراط مستقیم) فاعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا (مدارک ج 3 ص 27) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اعلان کر رہے ہیں کہ صرف اللہ ہی کو پکارو اس لیے وہ خود پکارے جانے کے لائق نہیں ہوسکتے۔
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر جُدی جدی راہ اختیار کی فرقوں نے28 ان میں سے سو خرابی ہے منکروں کو29 جس وقت دیکھیں گے ایک دن بڑا

28:۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچپن ہی میں توحید کا اعلان کردیا اور مذکورہ بیان سے حضرت مریم (علیہا السلام) کی الوہیت کی بھی نفی ہوتی ہے تو پھر ان دونوں کو حاجات و مشکلات میں غائبانہ کیوں پکارا گیا تو اس کا جواب دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع کے بعد نصاریٰ میں اختلاف پیدا ہوگیا اور نصاریٰ کے علماء سوء نے توحید کے خلاف شرک کی تبلیغ شروع کردی اور خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ اور نائب متصرف سمجھ کر پکارنے لگے۔ قالت النسطوریۃ منھم ھو ابن اللہ والملکانیۃ ثالث ثلٰثۃ وقالت الیعقوبیۃ ھو اللہ (قرطبی ج 11 ص 108) ۔
Ayahs 19:38–39

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن آئیں گے ہمارے پاس پر بےانصاف آج کے دن صریح بہک رہے ہیں

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ڈر سنا دے ان کو اس پچتاوے کے دن کا جب فیصل ہوچکے گا کام اور وہ بھول رہے ہیں اور وہ یقین نہیں لاتے

29:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَسْمِعْ بِھِمْ وَ اَبْصِرْ الخ “ یہ دونوں فعل تعجب کے صیغے ہیں۔ یعنی یہ مشرکین آج تو شرک و کفر کی گمراہی میں اندھے اور بہرے ہورہے ہیں۔ لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور ان کی قوت سامعہ تیز ہوجائے گی۔ ” وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ الخ “ قیامت کے دن کو یوم الحسرت (افسوس کا دن) فرمایا۔ کیونکہ اس دن منکرین کو سخت افسوس ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا۔ اور غفلت اور لاپرواہی میں رہے۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم وارث ہوں گے زمین کے30 اور جو کوئی ہے زمین پر اور وہ ہماری طرف پھر آئیں گے

30:۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نفخہ اولیٰ کے وقت سارا نظام عالم اور پوری دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اور اللہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ پھر نفخہ ثانیہ کے بعد تمام انسانوں کی خداوند تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگی۔ مشرکین اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا اس لیے وہ ہرگز پکارے جانے کے لائق نہیں ہیں۔