Ayah 19:8156:۔ یہ زجر ہے۔ ” عِزًّا “ سے مراد اعوان و انصار ہیں۔ جو دنیا وآخرت کے ہر میدان میں ان کے کام آئیں۔ ای لیعتزوا بالھتھم و یکونوا لھم شفعاء و انصارا ینقذونھم من العذاب (مدارک ج 3 ص 35) ۔ اس آیت میں مشرکین کے شرک کی اصل غرض وغایت بیان فرما دی کہ انہوں نے اللہ کے سوا جو معبود بنا رکھے ہیں اور جن کی عبادت کرتے اور جن کے نام کی نذریں منتیں دیتے ہیں اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان کی مدد کریں اور خدا کے یہاں ان کی سفارش کریں۔ یہ اس حصے کی مرکزی آیت ہے اور اس میں سورت کی ایک خصوصیت کا بیان ہے۔
Ayah 19:8257:۔ یہ مشرکین کا رد ہے کہ جس غرض کے لیے انہوں نے اللہ کے نیک بندوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے۔ وہ غرض انہیں کبھی میسر نہیں ہوگی۔ اللہ کے بندے ان کی عبادت پر خوش ہونے کے بجائے قیامت کے دن ان کی عبادت اور پکار کا انکار کریں گے اور ان مشرکین کے خلاف ہوجائیں گے۔ یہ آیت انبیاء علیہم السلام، اولیاء کرام اور فرشتوں کے حق میں ہے۔
Ayahs 19:83–8458:۔ ہم نے ان پر شیاطین کو مسلط کر رکھا ہے۔ جو انہیں گناہوں کی ترغیب دیتے اور انہیں کفر و شرک پر اکساتے رہتے ہیں۔ ” تؤزھم ازا “ ای تغریھم و تھیجھم علی المعاصی (روح ج 16 ص 134) ۔ ” فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْھِمْ “ آنحضرت ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ یہ خیال نہ فرمائیں کہ ان کے تمرد وعناد اور ان کے معاصی کے پیش نظر تو انہیں اب تک عذاب خداوندی سے ہلاک ہوجانا چاہئے تھا۔ ” اِنَّمَا نَعُدُّ لَھُمْ عَدًّا الخ “ یہ ماقبل کی علت یعنی اب ان کی ہلاکت و تباہی کا وقت بالکل قریب آچکا ہے اور معدودے چند ایام باقی رہ گئے ہیں۔
Ayahs 19:85–8659:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” وَفْدًا “ ای رکبانا (روح) ۔ یعنی قیامت کے دن متقی اور شرک سے بچنے والوں کو عزت و احترام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر کیا جائے گا۔ ” وَ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ الخ “ یہ تخویف اخروی۔
Ayah 19:8760:۔ یہ سورت کی خصوصیت کا بیان ہے اور اس سے شفاعت قہری کی نفی مقصود ہے۔ ” اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا “ شفاعت وہی کرسکے گا، جسے اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ لیکن شفاعت قہری کی اجازت تو کسی کو نہیں ہوگی۔ یا ” عھدا “ سے عہد توحید مراد ہے۔ یعنی قیامت کے دن صرف ان گنہگاروں کے حق میں شفاعت قبول ہوگی جو اہل توحید ہوں گے۔ قال ابن عباس العھد لا الہ الا اللہ۔ اس صورت میں اس سے مراد مشفوع لہ ہے یا یہ شافعین کے حق میں ہے۔ یعنی گنہگاروں کی سفارش صرف وہی لوگ کرسکیں گے جنہوں نے دنیا میں شرک نہیں کیا اور ان کا خاتمہ توحید پر ہوا۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس اور مقاتل کا قول ہے۔ وقال مقاتل و ابن عباس ایضا لا یشفع الا من شھد ان لا الہ الا اللہ و تبرا من الحول والقوۃ الا للہ ولا یرجوا الا اللہ تعالیٰ (قرطبی ج 11 ص 154) ۔
Ayahs 19:88–9261:۔ یہ شکوی ہے۔ سورة کہف کی ابتداء میں فرمایا ” ویُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا “ یعنی ان لوگوں کو زجر و تخویف سنائی جو اللہ کے سوا اوروں کو نائب و متصرف سمجھتے تھے اس کے بعد سورة کہف اور مریم میں مشرکین کے شبہات کا ازالہ کیا گیا اب آخر میں ازالہ شبہات کے بعد سورة کہف والے شکوے کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں اور اللہ کے سوا اوروں کو متصرف اور کارساز سمجھنا بہت بڑا جرم ہے اور ولد سے یہاں ولد حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ نائب اور سفارشی مراد ہے جیسا کہ ” اتخذ “ کی تعبیر بتا رہی ہے۔ ” لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا “ سے ” اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا “ تک مشرکین کے قول مذکور کی شناعت و قباحت کو نہایت زور دار الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ” شَیْئًا اِدًّا “ بہت بڑی بھاری بات۔ المنکر العظیم۔ ” ھَدًّا “” تَخِرُّ “ کا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ ” اَنْ دْعُوْا “ سے پہلے لام تعلیلیہ مقدر ہے ای لان دعوا۔ حاصل یہ کہ انہوں نے ایسی شنیع اور گستاخانہ بات منہ سے نکالی ہے کہ اسے سن کر اگر آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں تو کچھ بعید نہیں۔ اس گستاخانہ بات پر اگر غضب الٰہی بھڑک اٹھے تو سارا نظام عالم درہم برہم ہوجائے۔
Ayah 19:9362:۔ اس میں مشرکین کے قول فظیع کا رد ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے اور اس کے سامنے عاجز و منقاد ہے۔ جن کو مشرکین اللہ تعالیٰ کے ولد قرار دیتے ہیں۔ یعنی فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام وہ بھی اللہ کے مملوک، اس کے مطیع و فرمانبردار اور اس کے عاجز بندے ہیں۔ اس لیے وہ معبود ہونے اور صفات کارسازی میں اللہ کے نائب ہونے کے لائق نہیں ہوسکتے۔ والمراد انہ ما من معبود لھم فی السموات والارض من الملئکۃ والناس الا وھو یاتی الرحمن ای یاوی الیہ ویلتجی الی ربوبیتہ عبدا منقادا مطیعا خاشعا راجیا کما یفعل العبید (کبیر ج 5 ص 830) ۔
Ayahs 19:94–9563:۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہیں ان کے تمام حالات کو جانتا ہے۔ ” وَ کُلُّھُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا “ قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے سامنے اکا و تنہا حاضر ہوگا اور اس کیساتھ کوئی سفارشی اور یار و مددگار نہیں ہوگا۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہر عابد و معبود ایک دوسرے سے جدا ہوگا۔ ای کل واحد من اھل السموات والارض العابدین والمعبودین اتیہ عزو جل منفردا عن الاخر فینفرد العابدون عن الالھۃ التی زعموا انھا انصارا و شفعاء والمعبودون عن الاتباع الذین عبدوھم الخ (روح ج 16 ص 142) ۔
Ayah 19:96ف 64:۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اپنی محبت ڈال دے گا یا خود ان سے محبت کریگا۔ یا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے گا۔
Ayah 19:9765:۔ یہ تمام سورت سے متعلق ہے اور اس آیت میں نہایت اختصار سے اس مضمون کو ذکر کیا گیا ہے جو سورة کہف کی ابتدائی آیتوں میں مذکور ہے۔ یعنی شرک سے بچنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف اتخاذ ولد کی نسبت سے احتراز کرنے والوں کو خوشخبری سنانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف ولد اور نائب کی نسبت کرنے والے مشرکین کو ڈر سنانا۔ یہاں پہلی جماعت کو المتقین سے اور دوسرے فریق کو ” قَوْمًا لُّدًّا “ سے تعبیر کیا گیا۔
Ayah 19:9866:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ تخویف مشرکین کے ضمن میںحضور ﷺ سے ان کی ہلاکت کا وعدہ بھی ہے۔ یعنی اس سے قبل ایسے بیشمار معاندین کو ہلاک کرچکے ہیں جن کا دنیا سے نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اور ان کا ذکر اذکار بالکلیہ محو ہوچکا ہے، آپ کے دشمنوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔ والمعنی اھلکنھم بالکلیۃ واستصلنا ھم بحیث لاتری منھم احدا ولا تسمع منھم صوتا خفیا فضلا عن غیرہ (روح ج 16 ص 144) ۔
سورة مریم میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ” کٓهٰیٰعٓصٓ۔ ذِکْرُ رَحْمَتِ رَبِّکَ عَبْدَهٗ زَکَرِیَّا “ الی آخر الایات۔ نفی تصرف از زکریا علیہ السلام۔
2 ۔ ” اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا “ (رکوع 2) ۔ جبریل (علیہ السلام) متصرف نہ تھے محض پیغام رساں تھے۔
3 ۔ ” مَا کَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ “ تا ” کُنْ فَیَکُوْنُ “ نفی شرک فی التصرف
4 ۔ ” وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ “ تا ” فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ بَیْنِھِمْ “ مسئلہ توحید تو بالکل واضح ہے لیکن مشرک پیشواؤں نے اس میں اختلاف ڈال دیا۔
5 ۔ ” وَاذْکُرق فِیْ الْکِتٰبِ اِبْرَاھِیْمَ “ (رکوع 3) تا ” خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُکِیًّا “ (رکوع 4) ۔ نفی الوہیت از انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام۔
6 ۔ ” فَخَــلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ “ (رکوع 4) مسئلہ توحید میں مشرک گدی نشینوں اور راہنماؤں نے اختلاف ڈالدیا۔
7 ۔ ” وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ “ تا ” وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا “ (رکوع ) ۔ نفی الوہیت از ملائکہ۔
8 ۔ ” رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “ تا ” ھَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا “ نفی شرک فی التصرف۔
9 ۔ ” وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِھَةً “ تا ” وَ یَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ یہ آیت بزرگوں کی الوہیت کی نفی کر رہی ہے۔
10 ۔ ” لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا “ (رکوع 6) نفی شفاعت قہری۔
11 ۔ ” وَ قَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا “ تا ” اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا “ نفی شرک فی التصرف۔ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ مشرک شرک کرکے نظام کائنات کو بگارنے کی کوشش کرتا ہے۔
12 ۔ ” اِنْ کُلُّ مَنْ فیِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّا اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا “ نفی الوہیت از انبیاء (علیہم السلام) و اولیاء واولیاء وملائ کہ کرام۔
سورة مریم ختم ہوئی