19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsجواھر القرآن

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں ابراہیم کا31 بیشک تھا وہ سچا نبی

31:۔ جواب شبہہ ثالثۃ :۔ یہ تیسرے شبہہ کا جواب ہے یہود و نصاریٰ اور مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کارساز سمجھ کر پکارتے تھے تو اس کا جواب دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو انبیاء (علیہم السلام) کے جد امجد ہیں وہ خود اپنے باپ سے کہہ رہے ہیں کہ غیر اللہ کو مت پکارو۔ وہ تمہیں نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس لیے وہ کس طرح متصرف و مختار اور معبود بن سکتے ہیں ؟ حضرت زکریا (علیہ السلام) صرف یہود اور عیسیٰ اور مریم (علیہم السلام) کو تو صرف نصاریٰ پکارتے تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب متصرف سمجھ کر پکارتے تھے۔ اس لیے اب ان کی الوہیت کی نفی کا شبہہ دور فرمایا۔
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جب کہا اپنے باپ کو32 اے باپ میرے کیوں پوجتا ہے اس کو جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ کام آئے تیرے کچھ

32:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تارح اور لقب آزر تھا۔ جو نہ صرف بت پرست تھا۔ بلکہ بت تراش بھی تھا وہ بت بنا کر فروخت کیا کرتا تھا۔ اس کی زیادہ تحقیق سورة انعام رکوع 9 کی تفسیر میں گذر چکی ہے اور مزید تحقیق سورة شعراء کے آخری رکوع کی تفسیر میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالی۔ ” لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بغیر کسی تمہید کے مسئلہ توحید کا منفی پہلو (جو نسبتا زیادہ ناگوار گذرتا ہے) اپنے باپ کے سامنے پیش فرما دیا۔ یہ غالباً تبلیغ کا آخر موقع تھا۔ اس سے قبل توحید کا مثبت پہلو کئی بار بیان فرم اچکے تھے۔ اس میں انہوں نے معبودانِ باطلہ کے تین نقائص بیان فرمائے ہیں۔ اول یہ کہ پکارنے والے کی دعاء اور پکار کو سن نہیں سکتے دوم یہ کہ وہ اپنے پکارنے والے کا خشوع و خضوع اور اس کا عجز و انکسار دیکھ نہیں سکتے۔ سوم یہ کہ وہ کسی کام نہیں آسکتے نہ وہ مشکلکشائی کرسکتے ہیں نہ حاجت روائی۔
Ayahs 19:43–45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے باپ میرے مجھ کو آئی ہے33 خبر ایک چیز کی جو تجھ کو نہیں آئی سو میری راہ چل دکھلادوں تجھ کو راہ سیدھی

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے باپ میرے مت پوج شیطان کو بیشک شیطان ہے رحمان کا نافرمان

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے باپ میرے ڈرتا ہوں کہیں آلگے تجھ کو ایک آفت رحمان سے پھر تو ہوجائے شیطان کا ساتھی

33:۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل ہے یعنی میرے پاس اللہ کی وحی کے ذریعے ایسا علم ہے، جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ اس لیے تم میرا اتباع کرو اور توحید کو مان لو۔ درا صل یہی سیدھی راہ ہے۔ ” لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰن الخ “ معبودان باطلہ کی عبادت کو شیطان کی عبادت اس لیے فرمایا کہ شیطان ہی انسان کو گمراہ کر کے اس سے شرک کراتا ہے، یا اس لیے کہ شیطان بزرگوں کی صورت اختیار کر کے مشرکین کو اپنی پوجا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ” یَا اَبَتِ اِنِّیْ اَخَافُ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

وہ بولا کیا تو پھرا ہوا ہے34 میرے ٹھاکروں سے اے ابراہیم اگر تو باز نہ آئے گا تو تجھ کو سنگسار کروں گا اور دور ہوجا میرے پاس سے ایک مدت

34:۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کو باپ کی طرف سے دھمکی ہے کہ تو میرے معبودوں کے اس قدر خلاف ہے خبردار اگر تم اس روش سے باز نہ آئے تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔ اس لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم یہاں سے اپنی عزت بچا کر چلے جاؤ۔ ” مَلِیًّا “ ای اعتزلنی سالم العرض لا یصیبک منی معرۃ قالہ ابن عباس (قرطبی ج 11 ص 111) ۔ بعض نے ” مَلِیًّا “ کی تفسیر دھرا طویلا سے کی ہے یعنی طویل عرصہ تک مجھ سے دور رہو۔
Ayahs 19:47–48

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

کہا تیری سلامتی رہے35 میں گناہ بخشواؤں گا تیرے اپنے رب سے بیشک وہ ہے مجھ پر مہربان

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور چھوڑتا ہوں تم کو اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سواء اور میں بندگی کروں گا اپنے رب کی امید ہے کہ نہ رہوں گا اپنے رب کی بندگی کر کے محروم

35:۔ یہ سلام تحیہ نہیں۔ بلکہ سلام متارکت ہے۔ والجمھور علی ان المراد بسلامہ المسالمۃ التیھی المتارکۃ لا التحیۃ (قرطبی) ۔ ” حَفِیًّا “ مہربان۔ ” اَعْتَزِلُکُمْ الخ “” سَاَسْتَغْفِرُ “ پر معطوف ہے یعنی میں تمہارے پاس سے اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان سے دور چلا جاؤں گا۔ اور اپنے پروردگار کو پکاروں گا اور مجھے امید ہے کہ وہ مجھے خائب و خاسر نہیں فرمائے گا اور تمہاری جدائی کا نعم البدل عطا فرمائے گا۔
Ayahs 19:49–50

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر جب جدا ہوا ان سے36 اور جن کو وہ پوجتے تھے اللہ کے سواء بخشا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب اور دونوں کو نبی کیا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور دیا ہم نے ان کو اپنی رحمت سے اور کیا ان کے واسطے سچا بول اونچا

36:۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے اور ان کے معبودوں سے کنارہ کش ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ سے فرزند کے لیے دعا کی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹا اسحاق عطا فرمایا اور اسحاق کو یعقوب عطا کیا۔ علیہم الصلوۃ والسلام اور ان دونوں کو نبوت عطا فرمائی اور ان کی اولاد کو برکت دی۔ ” لِسَانَ صِدْقٍ الخ “ لسان سے مجازاً کلام مراد ہے اور مرکب اضافی سے لوگوں کی مدح و ثنا مراد ہے۔ یعنی ہم نے دنیا میں ان کا اچھا ذکر ان کی یادگار بنادیا۔ کہ دنیا کہ تمام لوگ ہر زمانے میں ان کو اچھائی سے یاد کرتے ہیں۔ لسان الصدق الثناء الحسن الباقی علیھم اخر الابد قالہ ابن عباس (بحر ج 6 ص 194) ۔
Ayahs 19:51–52

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں موسیٰ کا37 بیشک وہ تھا چنا ہوا اور تھا رسول نبی

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور پکارا ہم نے اس کو داہنی طرف سے طور پہاڑ کی اور نزدیک بلایا اس کو بھید کہنے کو

37:۔ تین انبیاء (علیہم السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد تین کا بالاختصار ذکر فرمایا۔ حضرت موسی، حضرت اسمعیل اور حضرت ادریس (علیہم السلام) یعنی یہ تمام ہمارے سامنے عاجزی کر رہے ہیں۔ لہذا جو خود عاجز اور محتاج ہوں وہ دوسروں کے کارساز اور متصرف کیونکر ہوسکتے ہیں۔ ہاں یہ ہمارے برگزیدہ اور مکرم بندے تھے لیکن متصرف نہیں تھے۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، نصاری حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اور مشرکین حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو پکارتے تھے ان آیتوں میں اس کی نفی کی گئی کہ یہ برگزیدہ پیغمبر کارساز نہ تھے۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے اس کو38 اپنی مہربانی سے بھائی اس کا ہارون نبی

38:۔ یہ تمام انعامات ہم نے ان کو عطا کیے تھے وہ خود مختار و متصرف نہیں تھے۔
Ayahs 19:54–55

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں اسماعیل کا وہ تھا وعدہ کا سچا39 اور تھا رسول نبی

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور حکم کرتا تھا اپنے گھر والوں کو نماز کا اور زکوٰۃ کا اور تھا اپنے رب کے یہاں پسندیدہ

39:۔ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) وعدے کے سچے اور اللہ کے رسول تھے۔ ” وَ کَانَ یَامُرُ الخ “ وہ اللہ تعالیٰ کے اس قدر فرمانبردار تھے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں بجا لانے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ جو خود اس حد تک اللہ کا فرمانبردار ہو۔ وہ کس طرح متصرف ہوسکتا ہے۔
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں ادریس کا40 وہ تھا سچا نبی

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور اٹھا لیا ہم نے اس کو ایک اونچے مکان پر

40:۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) بھی بہت ہی سچے اور اللہ کے نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ لیکن وہ متصرف و کارساز نہ تھے۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں41 جن پر انعام کیا اللہ نے پیغمبروں میں آدم کی اولاد میں اور ان میں جن کو سوار کرلیا ہم نے نوح کے ساتھ اور ابراہیم کی اولاد میں اور اسرائیل کی اور ان میں جن کو ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا جب ان کو سنائے آیتیں رحمان کی گرتے سجدہ میں اور روتے ہوئے

41:۔ یہ اشارہ مذکورہ چھ پیغمبروں کی طرف ہے۔ یعنی ان تمام پیغمبروں کو اللہ تعالیٰ نے انعام و اکرام سے نوازا۔ حضرت آدم کی اولاد سے جیسا کہ ادریس (علیہ السلام) اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے آباء و اجداد کو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ طوفان سے بچایا جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور کچھ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے یعنی اسمعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد سے یعنی حضرت زکریا، عیسیٰ اور موسیٰ علیہم السلام، اس آیت میں چھ طریقوں سے ان انبیاء (علیہم السلام) سے الوہیت کی نفی کی گئی ہے۔ اول ” اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْھِمْ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے انعامات سے نوازا۔ دوم ” مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ الخ “ یہ سب اولاد آدم ہیں۔ سوم ” ھَدَیْنَا “ ہم نے ان کی صراط مستقیم (راہ توحید) کی طرف راہنمائی کی۔ چہارم ” وَ اجْتَبَیْنَا “ ہم نے ان کو دوسروں پر فوقیت دی اور بلند مراتب عطا کیے۔ پنجم و ششم ” وَ اِذَا تُتْلیٰ عَلَیْھِمْ الخ “ جب ہماری آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ اظہار عجز کے طور پر سجدے میں گر جاتے اور ہمارے خوف سے روتے رہتے۔ حاصل یہ ہوا کہ یہ سب ہمارے برگزیدہ بندے تھے۔ ہم نے ان کو سیدھی راہ دکھائی جب ان کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جاتیں۔ تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ اللہ کے آگے سجدے میں گر پڑتے اور اسی کو پکارتے اور اسی سے سب کچھ مانگتے تھے۔ تو جو لوگ اپنے ماں باپ کی اولاد ہوں۔ اور اپنے وجود میں دوسروں کے محتاج ہوں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی ہو۔ اور جن کو دوسروں سے بلند شان عطا کی ہو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور زاری کر رہے ہوں وہ کسی طرح بھی متصرف و کارساز نہیں ہوسکتے۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کی جگہ آئے ناخلف42 کھو بیٹھے نماز اور پیچھے پڑگئے مزوں کے سو آگے دیکھ لیں گے گمراہی کو

42:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) صرف اللہ ہی کو متصرف جان کر پکارتے تھے تو پھر ان کو کیوں متصرف سمجھ کر پکارا گیا۔ تو اس کا جواب دیا گیا کہ ان کے بعد برے لوگوں نے ان کے دین اور توحید کو ضائع کردیا اور اللہ کی پکار کو چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارنے لگے یہ حق اور مسئلہ توحید سے باغیوں کی جماعت تھی۔ ” خَلْفٌ“ ناخلف اور برے لوگ۔ الخلف الردی (مفردات) ۔ ان ناخلف لوگوں نے نماز جیسی اہم اور تمام عبادات کی جامع عبادت کو چھوڑ دیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی میں منہمک ہوگئے۔ اضاعت صلوۃ سے یا تو ترک نماز مراد ہے یا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خالص اللہ کی دعا اور پکار کو ضائع کر کے غیر اللہ کو پکارنا شروع کردیا۔ ” فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا “ اس میں تخویف اخروی ہے۔ ” غَیًّا اي ضلٰلا “ یعنی گمراہی لیکن یہاں مضاف محذوف ہے۔ جسے حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ ای جزاء الغی قالہ الزجاج (کبیر ج 5 ص 814) یعنی وہ گمراہی کی سزا پائیں گے۔
Ayahs 19:60–63

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی43 اور یقین لایا اور کی نیکی سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں اور ان کا حق ضائع نہ ہوگا کچھ

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

باغوں میں بسنے کے جن کا وعدہ کیا ہے رحمان نے اپنی بندوں سے ان کے بن دیکھے بیشک ہے اس کے وعدہ پر پہنچنا

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

نہ سنیں گے وہاں بک بک سوائے سلام اور ان کے لئے ہے ان کی روزی وہاں صبح اور شام

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ وہ بہشت ہے جو میراث دیں گے ہم اپنے بندوں میں جو کوئی ہوگا پرہیزگار

43:۔ یہاں سے لے کر ” مَنْ کَانَ تَقِیًّا “ تک بشارت اخروی ہے۔ یہ مستثنی منقطع ہے اور الا بمعنی لکن ہے۔ ” مَنْ تَابَ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا ہے اور ” فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الخ “ جملہ اس کی خبر ہے۔ ” تِلْکَ الْجَنَّةُ الخ “ سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے۔ یعنی قیامت کے دن اہل جنت سے یہ بات کہی جائے گی۔ ” تَقِیًّا “ یعنی جو شرک سے بچتا رہا۔ اور اللہ کی توحید پر قائم رہا۔ اخرج ابن ابی حاتم عن داود ابن ابی ھندانہ الموحد فتذکرو لا تغفل (روح ج 16 ص 113) ۔ من کان تقیا عن الشرک (مدارک ج 3 ص 32)
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور ہم نہیں اترتے44 مگر حکم سے تیرے رب کے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے45 اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے بیچ میں ہے اور تیرا رب نہیں ہے بھولنے والا

44:۔ جواب شبہہ رابعہ :۔ یہ فرشتوں کے بارے میں شبہہ کا جواب ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا حال تو تم نے سن لیا کہ وہ سب عاجز اور خدا کے محتاج تھے۔ اب فرشتوں کا حال بھی سن لو۔ جن کو تم مختار و متصرف سمجھتے ہو وہ تو اللہ کے حکم کے اس قدر پابند ہیں۔ کہ اس کے حکم کے بغیر زمین پر بھی نہیں آسکتے تو متصرف کس طرح بن سکتے ہیں۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب مشرکین نے آنحضرت ﷺ سے اصحاب کہف، ذو القرنین اور روح کے بارے میں سوال کیا۔ تو اس کے جواب میں آپ نے کل آئندہ جواب دینے کا وعدہ فرمایا۔ مگر اس کے ساتھ آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ اللہ کی طرف سے وحی کی آمد کا سلسلہ کئی روز کے لیے رک گیا۔ جب عرصہ دو ہفتے کے بعد جبریل امین نازل ہوئے۔ تو آپ نے اس سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ دریافت فرمائی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ حضرت جبریل (علیہ السلام) کے قول کی حکایت ہے۔ یعنی ہم اپنی مرضی سے نہیں آسکتے بلکہ ہم امر الٰہی کے پابند ہیں۔ جب حکم ہوتا ہے آجاتے ہیں۔ ولکنی عبد مامور اذا بعثت نزلت و اذا حبست احتبست (روح) ۔ 45:۔ ” مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا “ (جو کچھ ہمارے سامنے ہے) سے زمان مستقبل ” وَ مَا خلْفَنَا “ (جو کچھ ہمارے پیچھے ہے) سے زمان ماضی اور ” وَ مَا بَیْنَ ذٰلِکَ “ (اور جو کچھ اس کے درمیان ہے) سے زمانہ حال مراد ہے۔ تمام زمانے اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں اس لیے ہم کسی وقت بھی اللہ کے سوا دم نہیں مار سکتے۔ ” لَهٗ “ ظرف کی مبتدا پر تقدیم حصر کے لیے ہے۔ ” لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا الخ “ ای لا لنا۔ ” وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا “ یعنی اللہ تعالیٰ کسی چیز سے بیخبر نہیں وہ غیب داں ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

رب آسمانوں کا اور زمین کا46 اور جو ان کے بیچ ہے سو اسی کی بندگی کر اور قائم رہ اس کی بندگی پر کسی کو پہچانتا ہے تو اس کے نام کا

46:۔ شبہات دور کرنے کے بعد دعوی سورت کو بیان فرمایا کہ زمین و آسمان یعنی ساری کائنات کا مالک و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لہذا اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی ہی کو پکارو۔ ” وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ “ اور اسی کی عبادت اور پکار پر پابند ہوجاؤ۔ کیونکہ متصرف اور کارساز وہی ہے۔ اور کوئی نہیں۔ ” ھَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا “ یعنی ہم صفت اور مثل۔ استفہام انکار کے لیے ہے یعنی وہ اپنی صفات کارسازی میں یکتا اور بےمثل ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayahs 19:66–67

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور کہتا ہے آدمی47 یا جب میں مرجاؤں تو پھر نکلوں گا زندہ ہو کر

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا یاد نہیں رکھتا آدمی کہ ہم نے اس کو بنایا ہے پہلے سے اور وہ کچھ چیز نہ تھا

47:۔ حصہ دوم :۔ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے پہلے حصے میں چاروں شبہات کا جواب دینے کے بعد اس حصے میں شکوے، زجریں، تخویفیں، بشارتیں اور تسلی برائے آنحضرت ﷺ ذکر کی گئی ہے۔ یہ شکوی ہے۔ یعنی نادان انسان کہتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔ ” اَوَلَا یَذْکُرُ الْاِنْسَانُ “ یہ شکوے کا جواب ہے، یعنی انسان کو یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ نہیں تھا، نیست اور معدوم تھا، تو ہم نے اسے نیست سے ہست اور معدوم سے موجود کردیا تو کیا اب ہم اس کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتے۔
Ayahs 19:68–69

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

سو قسم ہے تیرے رب کی ہم گھیر بلائیں گے ان کو48 اور شیطانوں کو پھر سامنے لائیں گے گرد دوزخ کے گھٹنوں پر گرے ہوئے

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر جدا کرلیں گے ہم ہر ایک فرقہ میں سے جونسا ان میں سے سخت رکھتا تھا رحمان سے اکڑ

48:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” الشیاطین “ اس سے شیاطین الجن والانس مراد ہیں۔ یعنی جنوں کے علاوہ وہ مولوی اور پیر جو ان کو گمراہ کرتے رہے یا ان کے ہمزاد جو انہیں گمراہ کیا کرتے تھے۔ یعنی کفار و مشرکین اپنے ہمزادوں کے ساتھ میدانِ حشر میں لائے جائیں گے۔ والمعنی انھ یحشرون مع قرنائہم من الشیاطین الذین اغو وھم یقرنون کل کافر مع شیطان فی سلسلۃ (قرطبی ج 11 ص 132) ۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد جمع کیا جائے گا۔ ” ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ الخ “ پھر تمام سرکش جماعتوں کو کفر و انکار اور سرکشی کے اعتبار سے اس طرح مرتب کریں گے کہ ہر جماعت کے سب سے زیادہ سرکش اور معاندین کو پہلی صف میں کھڑا کیا جائے گا۔ اس کے بعد ان سے کم سرکش لوگوں کو درجہ بدرجہ کھڑا کیا جائے گا۔ ” عِتِیًّا “ انتہائی سرکشی۔ ان معنی ثم لننزعن من کل شیعۃ ثم لننزعن من کل فرقۃ الاعتی فالاعتی کانہ یبتدا بالتعذیب باشدھم عتیا ثم الذی یلیہ وھذا نص کلام ابی اسحاق فی معنی الایۃ (قرطبی ج 11 ص 134) ۔
Ayahs 19:70–71

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم کو خوب معلوم ہے49 جو بہت قابل ہیں اس میں داخل ہونے کے

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا اس پر ہوچکا یہ وعدہ تیرے رب پر لازم مقرر

49:۔ ” ثُمَّ “ تعقیب ذکری کے لیے ہے۔ یعنی ہمیں معلوم ہے کہ ان میں سب سے پہلے جہنم میں داخل کیے جانے کا مستحق کون ہے۔ ” وَ اِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا الخ “ ورود سے یہاں دخول مراد نہیں بلکہ اس سے پلصراط پر سے گذرنا مراد ہے جو دوزخ کے اوپر ہوگی۔ عن الھسن الورود المرور علیھا من غیر دخول وروی ذلک عن قتادۃ وزلک المرور علی الصراط الموضوع علی متنھا الخ (روح ج 16 ص 122) ۔ الورود الممر علی الصراط وروی عن ابن عباس وابن مسعود و کعب الاحبار والسدی (قرطبی ج 11 ص 136) ۔
Ayahs 19:72–73

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر بچائینگے ہم ان کو جو ڈرتے رہے50 اور چھوڑ دیں گے گناہ گاروں کو اس میں اوندھے گرے ہوئے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب سنائے ان کو ہماری آیتیں کھلی ہوئی کہتے ہیں جو لوگ کہ منکر ہیں ایمان والوں کو دونوں فرقوں میں کس کا مکان بہتر ہے اور کس کی اچھی لگتی ہے مجلس

50:۔ ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے کیونکہ یہ مطلب نہیں کہ جب سب لوگ جہنم کے اوپر سے گذریں گے اس سے کچھ عرصہ بعد متقین کو نجات دی جائیگی بلکہ یہ کام گذرنے سے بالکل متصل ہوگا لہذا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے بعد پھر یہ بات بھی سن لو کہ جو لوگ شرک سے بچتے رہے ان کو جہنم سے بچالیں گے۔ اور مشرکین کو گھٹنوں کے بل آتش جہنم میں چھوڑ دیں گے۔ ” و اِذَ اتُتْلیٰ الخ “ یہ شکوی ہے۔ ” نَدِیًّا اي مجلسا و مجتمعا “ یعنی مشرکین کو جب قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو وہ جواب میں کہتے ان مسلمانوں نے ان آیتوں کو مان کر کیا حاصل کیا ہے۔ ہماری محفلیں کس قدر پرشوکت اور شاہانہ ہیں اور دنیا میں جاہ و جلال حاصل ہے مگر مسلمان ہمارے مقابلے میں فقیر اور مفلس ہیں۔ دنیا میں کن کی محفلیں پرشوکت اور شاہانہ ہیں۔
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور کتنی ہلاک کرچکے ہم51 پہلے ان سے جماعتیں وہ ان سے بہتر تھے سامان میں اور نمود میں

51:۔ تخویف دنیوی۔ ” اَثَاثًا “ سازو سامان۔ ” رِءْيًا “ منظر۔ یہ دنیوی شان و شوکت پر ناز کرنے والے مشرکین مغرور نہ ہوں۔ ہم ان سے بھی زیادہ مال و دولت اور شان و شوکت والے قرنوں کے قرن تباہ و برباد کرچکے ہیں یہ بیچارے ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

تو کہہ جو رہا بھٹکتا52 سو چاہیے اس کو کھینچ لے جائے رحمان لمبا یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ ہوا تھا ان سے یا آفت اور یا قیامت سو تب معلوم کرلیں گے کس کا برا ہے مکان اور کس کی فوج کمزور ہے

52:۔ یہ زجر ہے۔ جو لوگ دنیوی مال و جاہ پر مغرور ہو کر گمراہی اور ضد وعناد میں منہمک ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ڈھیل دے دیتا ہے یہاں تک کہ وعدہ کے مطابق اللہ کا عذاب آجائے۔ یا قیامت قائم ہوجائے۔ ” فَسَیَعْلَمُوْنَ الخ “ اب تو نہیں مانتے۔ لیکن اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ فریقین (مومنین اور کفار) میں سے برا ٹھکانا کس کا ہے اور کس کے انصار و اعوان کمزور ہیں دنیا میں مشرکین جن بزرگوں کو متصرف و کارساز سمجھ کر پوجتے اور پکارتے ہیں۔ ان کے بارے میں انکا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر آڑے وقت میں ان کے کام آئیں گے۔ لیکن خدا کا عذاب آنے پر کوئی کام نہیں آتا۔ اللہ کے سوا تمام سہارے بیکار اور کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ وانما ذکر ذلک ردا لما کانوا یزعمونہ من ان لھم اعوانا من شرکاءھم (روح ج 16 ص 127) ۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور بڑھاتا جاتا ہے اللہ سوجھنے والوں کو (سوجھے ہو وں کو سجھائے ہو وں کو) سوجھ53 اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر رکھتی ہیں تیرے رب کے یہاں بدلہ اور بہتر پھرجانے کو جگہ

53:۔ اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق سے ایمان پر ثبات و استقلال عطا فرماتا ہے، و یثبت اللہ المومنین علی الھدی ویزیدھم فی النصرۃ الخ (قرطبی ج 11 ص 144) ۔ ” وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ “ مشرکین اور کفار دنیوی مال و زر پر مغرور اور ظاہری جاہ و جلال پر نازاں ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں فانی اور زوال پذیر ہیں۔ البتہ ایمان اور اعمال صالحہ باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔ آخرت میں جن کا اچھا بدلہ ملے گا۔ اور نیک انجام ہوگا۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تو نے دیکھا54 اس کو جو منکر ہوا ہماری آیتوں سے اور کہا مجھ کو مل کر رہے گا مال اور اولاد

54:۔ شکوی مع تخویف۔ ائمہ ستہ نے حضرت خباب ؓ سے روایت کیا ہے کہ عاص بن وائل کے ذمہ ان کی کچھ مزدوری تھی وہ ایک دن اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرنے کے لیے گئے تو عاص نے کہا۔ جب تک تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر نہیں کرے گا اور خدا کے ساتھ شریک نہیں بنائے گا۔ اس وقت تک میں تمہیں مزدوری نہیں دوں گا۔ جوابا حضرت خباب نے کہا میں تو کبھی کفر نہیں کروں گا۔ اگرچہ کہ تو مرجائے اور پھر دوبارہ زندہ ہوجائے۔ عاص بول اٹھا۔ کیا مرنے کے بعد مجھے پھر زندہ کیا جائے گا ؟ اگر ایسا ہے تو میں وہیں تمہارا قرض ادا کردوں گا۔ کیونکہ یہاں کی طرح وہاں بھی میرے پاس آل و اولاد اور مال و زر کی کثرت ہوگی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 19:78–80

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا جھانک آیا ہے غیب کو55 یا لے رکھا ہے رحمان سے عہد

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

یہ نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور بڑھاتے جائیں گے اس کو عذاب میں لمبا

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور ہم لے لیں گے اس کے مرنے پر جو کچھ وہ بتلا رہا ہے اور آئے گا ہمارے پاس اکیلا

55:۔ ” اَطَّلَعَ “ اصل میں ” ءَ اِطْتَلَعَ “ بروزن افتعل تھا۔ فائے افتعال کے مقابلے میں طاء واقعہ ہونے کی وجہ سے تائے افتعال کو طاء سے بدل دیا گیا۔ اور اول کو ثانی میں ادغام کردیا گیا۔ اور ہمزہ وصل مابین سے ساقط ہوگیا۔ تو ” اَطَّلَعَ “ ہوگیا۔ یعنی جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ اگر قیامت آئی تو اس وقت بھی اس کے پاس دولت بکثرت ہوگی۔ کیا وہ غیب جانتا ہے کہ اسے یہ بات معلوم ہے یا خدا سے اس نے کوئی اس بات کا عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی اس لیے اس کا دعوی غلط ہے۔ ” سَنَکْتُبُ مَا یَقُوْلُ “ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ہم اسے لکھوا رہی ہیں اور کفر و انکار کے علاوہ ہمارے احکام سے استہزاء اور تمسخر کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کیا جائے گا اور جس مال و اولاد کا اسے گھمنڈ ہے۔ وہ سب کچھ ہم اس سے سلب کرلیں گے اور قیامت کے دن تن تنہا ہمارے پاس حاضر ہوگا اس کے ساتھ نہ اولاد ہوگی، نہ قبیلہ، نہ دولت، ای منفردا لا مال لہ ولا ولد ولا عشیرۃ تنصرہ (قرطبی ج 11 ص 148) ۔