Ayah 18:13:۔ ” الحمد للہ “ سورة فاتحہ کی تفسیر میں بالتفصیل گذر چکا ہے کہ قرآن مجید جہاں کہیں یہ جملہ (الحمد للہ) واقع ہوا ہے۔ وہاں حمد (تعریف) سے اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت یا بالفاظ دیگر صفاتِ کارسازی مراد ہیں۔ مثلا ً خالق ومالک اور رزق ہونا، عالم الغیب کارساز اور متصرف و مختار ہونا۔ مافوق الاسباب حاجت روا اور مشکلکشا ہونا وغیرہ تو اس جملے کا حاصل یہ ہے۔ کہ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کی ذات مفیض برکات کے ساتھ خاص ہیں اور ان میں سے کوئی ایک صفت بھی اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سے کسی ایک میں بھی نہیں پائی جاتی۔ اور ” من فی السموات والارض “ (آسمان میں رہنے والوں، زمین بسنے والوں اور زیر خاک فروکش ہونے والوں) میں سے کوئی بھی ان صفات میں اس کا شریک نہیں۔ ” الحمد للہ “ میں جو دعوی کیا گیا ہے اس کا ماحصل دو جملوں میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب اور وہی متصرف و مختار ہے۔
4:۔ ” الذی “ مو صول مع صلہ ماقبل کے لیے علت ہے یعنی صلہ کی صورت میں جو بات ذکر کی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مستحق حمد ہونے کی دلیل ہے۔ وفی وصفہ تعالیٰ بالموصول اشعار بعلیۃ ما فی حیز الصلۃ الستحقاق الحمد (روح ج 15 ص 600) ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ صلہ میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی ہے۔ جس میں دونوں خوبیاں ہیں۔ (1) اس میں عِوَج (کجی) ۔ اس کا بیان بالکل واضح اور نکھرا ہوا ہے۔ اس کے الفاظ و معانی میں اصول فصاحت و بلاغت اور دعوت حق سے ذرہ بھر انحراف نہیں ای شیئا من العوج باختلال اللفظ من جھۃ الاعراب و مخالفۃ الفصاحۃ وتناقض المعنی و کونہ مشتملا علی ما لیس بحق او داعیا لغیر اللہ تعالیٰ (روح ج 15 ص 185) ۔ (2) اس کتاب کے مضامین پختہ اور ہر لحاظ سے ایسے جامع اور مکمل ہیں کہ ان سے منکرین کے تمام شبہات بھی دور ہوجاتے ہیں۔ قیما ای مستقیما کما اخرجہ ابن المنذر عن الضحاک وروی ایضا عن ابن عباس (روح) ۔ ایسی خوبیوں والی کتاب نازل کرنا صرف اسی ذات سے ممکن ہوسکتا ہے جس کا علم محیط کل ہو اور وہ عالم الغیب ہو۔ اس سے دعوائے مذکور کا ایک حصہ ثابت ہوگیا۔ اس کے بعد قرآن نازل کرنے کی غرض وغایت بیان فرمائی۔” لینذر باسا شدیدا “ قرآن اس لیے نازل کیا تاکہ منکرین کو آخرت کے عذاب دردناک سے ڈرایا جائے اور ماننے والوں کو آخرت میں ملنے والے انعامات کی خوشخبری سنائی جائے اس سے اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و تصرف کا پتہ چلتا ہے یہ دعوے کے دوسرے جزو کی دلیل ہے۔
Ayahs 18:2–45:۔ یہ منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” لینذر باسا شدیدا الخ “ میں لام ” انزل “ سے متعلق ہے۔ قرآن مجید نازل کرنے کے یہاں دو مقصد بیان کیے گئے ہیں۔ اول تخویف وانذار۔ دوم تبشیر۔ پہلے ” لینذر “ سے تخویف۔ پھر ” یبشر “ سے بشارت اس کے بعد پھر ” وینذر “ سے تخویف کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے تخویف کے بیان میں مفعول (منکرین) کا ذکر نہیں کیا گیا اور عذاب شدید کا ذکر کیا گیا ہے بشارت کے سلسلے مفعول (المومنین) اور اجر دونوں مذکور ہیں۔ اس سورت میں چونکہ مقصود منکرین کے شبہات کا ازالہ ہے اس لیے بعد عہد کی وجہ سے ” و ینذر “ کا اعادہ کر کے منکرین کا ذکر کیا گیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ وہ کون سے منکرین ہیں جن کا یہاں انذار مقصود ہے اور جن کے شبہات کا ازالہ کرنا ہے۔ چناچہ فرمایا ” الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا “ ان لوگوں کا انذار مقصود ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے ولد تجویز کرتے ہیں قرآن مجید میں مشرکین کے اس قول کو اتخاذِ ولد سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی بیٹا یعنی متبنی بنانے کے ہیں۔ عربی محاورات میں یہ ترکیب اسی مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ جیسا کہ حضرت آسیہ زوجہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اور عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے متعلق کہا تھا ” عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا “ (قصص رکوع 1 اور یوسف رکوع 3) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی بیٹا تجویز نہیں کرتے تھے۔ نفی اتخاذ الولد ظاھر فی التبنی (روح ج 15 ص 195) بلکہ ان کا مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندوں، انبیاء علیہم السلام، اولیاء اور ملائکہ کرام کو اپنے متبنی اور نائب بنایا ہوا ہے اور ان کو بعض مافوق الاسباب امور میں تصرف واختیار دے دیا ہے، جیسا کہ باپ اپنے بیٹوں کو بعض اختیارات سونپ دیتا ہے اس طرح لفظ ولد یہاں حقیقی بیٹے کے معنوں میں نہیں بلکہ نائب متصرف کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں۔ ومنھم من اعتقد ان اللہ ھو السید وھو المدبر لکنہ قد یخلع علی بعض عبیدہ لباس الشرف والتالہ ویجعلہ متصرفا فی بعض الامور الخاصۃ و یقبل شفاعتہ فی عبادہ بمنزلۃ ملک الملوک یبعث علی کل قطر ملکا یقلد تدبیر المملکۃ فیما عدا الامور العظام ہی فیتلجلج لسانہ ان یسمیھم عباد اللہ فیسویہم وغیرہم فعدعن ذلک الی تسمیتہم ابناء اللہ ومحبو بے اللہ (حجۃ اللہ البالغہ ج 1 ص ص 48) اور کچھ مشرکین ایسے ہیں جن کا اعتقاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا ہے اور وہی مدبر عالم ہے لیکن وہ کبھی اپنے بعض مقرب بندوں کو بزرگی اور الوہیت کی خلعت سے سرفراز فرما کر ان کو بعض خاص امور میں متصرف بنا دیتا ہے اور دوسروں کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے جیسا کہ دنیا کا ایک شہنشاہ ہر علاقے پر ایک چھوٹا بادشاہ مقرر کر کے اس کا انتظام اس کے سپرد کردیتا ہے باستثنائے امور عظیمہ۔ اب ان کی زبان ان مقربین کو اللہ کے بندے کہتے ہوئے لڑکھڑاتی ہے۔ کیونکہ اس طرح مقربین اور عوام میں کوئی فرق نہیں رہتا اس لیے وہ ان کو اللہ کے بندے کہنے کی بجائے اللہ کے بیٹے اور اللہ کے محبوب کہہ دیا کرتے ہیں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کا اللہ کے نیک بندوں کو ابناء اللہ (اللہ کے بیٹے) کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اللہ کے حقیقی بیٹے ہیں ان کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ کے محبوب اور اسکے پیارے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بعض امور میں تصرف کا اختیار دے رکھا ہے۔
Ayah 18:56:۔ یہ ان کے قول باطل کا رد ہے ” بہ “ میں ضمیر مجرور ان کے قول مذکور کی طرف راجع ہے۔ یعنی ان کا قول سراسر جہالت سے ناشی ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے نہ ان کے باپ دادا کے پاس اس دعوی کی کوئی دلیل تھی۔ جن سے ان مشرکوں نے یہ غلط بات سیکھی اور جن کی تقلید میں وہ بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا ناپاک افترا کرنے لگے۔ و ذکر الاباء لان تلک المقالۃ قد اخذوھا عنھم وتلقوھا منہم (بحر ج 6 ص 97) ۔ ” ابآء “ (باپ دادا) سے مراد عام ہے خواہ جسمانی ہوں یا روحانی اس طرح یہ لفظ ان غلط کار عالموں اور پیروں کو بھی شامل ہوجائے گا۔ جنہوں نے انہیں اس گمراہی اور شرک کی راہ پر ڈالا۔ ولا لابائھم ای اسلافہم (قرطبی ج 10 ص 353، ابن کثیر ج 3 ص 70) ۔
7:۔ ” کبرت کلمۃ الخ “ کلمۃ منصوب ہے۔ اور ” کبرت “ کی ضمیر سے تمییز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کے لیے ولد اور نائب متصرف تجویز کرنا بہت سنگین بات ہے اور کفر و افترا کے اعتبار سے بہت بڑی ہے۔ تعجب ہے کہ ایسی بری اور ناپاک بات ان کی زبان پر کس طرح آتی ہے۔ ” ان یقولون الا کذبا “ یہ جملہ ماقبل ہی کی تاکید اور قول مذکر کی مزید قباحت وشناعت بیان کرنے کے لیے لایا گیا ہے یعنی ان کا قول صریح جھوٹ اور خلاف واقعہ ہے اور اس میں سچائی اور واقعیت کا شائبہ تک نہیں۔ ای ما یقولون فی ذالک الشان الا قولا کذبا لا یکاد یدخل تحت امکان الصدق اصلا (روح ج 15 ص 204، ابو السعود ج 5 ص 676) ۔
Ayah 18:68:۔ یہ آں حضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ ” لعل “ یہاں ترجی کے لیے نہیں بلکہ اشفاق کے لیے ہے۔ کیونکہ لعل محبوب چیز کے ساتھ ترجی کے لیے ہوتا ہے اور محذور (یعنی جس سے مخاطب کو ڈرانا اور روکنا منظور ہو) کے ساتھ اظہار شفقت کے لیے۔ یہاں دوسری شق ہے اللہ تعالیٰ نے آں حضرت ﷺ کو مشرکوں کے پیچھے جان مارنے سے منع فرمایا ہے (بحر ج 6 ص 97) ۔ آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا۔ کہیں آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک نہ کرلیں۔ ” اسفا “ یہ ” باخع “ کا مفعول لہ ہے اور اسف کے معنی شدت غم کے ہیں۔ آپ کی خواہش تھی کہ مشرکین کفر و انکار سے باز آجائیں اور ایمان لے آئیں اور مسئلہ توحید کو مان لیں۔ مگر آپ کی امکانی کوششوں اور دعوت و تبلیغ کے انتہائی ناصحانہ اور موثر انداز کے باوجود کفر و انکار اور آپ کی مخالفت میں اور آگے بڑھ گئے۔ اس سے آپ کو محض ازراہ شفقت بہت زیادہ افسوس اور رنج و غم دامنگیر ہوا۔ یہاں تک کہ آپ ہر وقت متفکر اور غمگین رہنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسلی کیلئے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ اور آپ کو تسلی دی کہ آپ نے فریضہ تبلیغ و انذار وتبشیر کا حق ادا کردیا۔ اور میرا پیغام توحید احسن طریق سے مشرکین تک پہنچا دیا۔ اب اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو آپ اس کا غم نہ کریں کیونکہ دولت ایمان سے ان کو سرفراز کرنا یہ نہ آپ کا فریضہ ہے نہ آپ کے اختیار وقدرت میں ہے المقصود ان یقال للرسول لا یعطم حزنک و اسفک بسبب کفرھم فنا بعثنک منذرا و مبشرا فاما تحصیل الایمان فی قلوبھم فلا قدرۃ لک علیہ والغرض تسلیۃ الرسول ﷺ عنہ (کبیر ج 5 ص 677) ۔
Ayah 18:79:۔ ” انا جعلنا الخ “ مشرکین کیوں نہیں مانتے ؟ محض اس لیے کہ ان کے پاس دولت ہے۔ باغات اور محلات ہیں۔ تو انہیں اس دنیوی شان و شوکت پر مغرور نہیں ہوجانا چاہئے۔ زمین پر ہم نے جو کچھ پیدا کیا ہے۔ سونا، چاندی، زر و جواہر، حیوانات کی انواع و اقسام، سرسبز و شاداب کھیتیاں، رنگارنگ پھول اور میوے یہ سب زمین کے لیے چند روزہ زینت ہے اور سب کچھ محض بنی آدم کی آزمائش و امتحان کے لیے پیدا کیا ہے کہ کون اس دنیوی ساز و سامان کو معرفت خالق اور ادائے حقوق شریعت کا ذریعہ بناتا ہے اور کون اس کو شہواتِ نفسانیہ اور اغراض فاسدہ کی تکمیل میں صرف کرتا ہے (من الروح ج 15 ص 207) ۔ حضرت شیخ نے فرمایا کہ ” زینۃ “ میں تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے یعنی یہ زینت چند روزہ اور فانی ہے۔
Ayah 18:810:۔ ” صعیدا “ مٹی۔ ” جرزا “ ایسا میدان جس میں کوئی سبزہ نہ ہو۔ یعنی زمین کی یہ رونق وزینت ہمیشہ رہنے والی نہیں اسے ایک دن (قیامت کے دن) ہم تباہ کردیں گے۔ اور زمین بالکل صاف چٹیل میدان ہوجائے گی۔ اس لیے یہ بھروسے کی چیز نہیں نہ اس پر اس قدر مغرور ہونا چاہیے۔ یہاں تک تمہید ختم ہوگئی اس کے بعد چار شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayahs 18:9–1211:۔ پہلے شبہ کا جواب :۔ یہاں سے لے کر احصی لما لبثوا امدا تک پہلے شبہ کا اجمالی رد ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ اصحاب کہف عرصہ دراز تک غار میں سوئے رہے اس دوران میں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچی۔ یہاں تک کہ اس عرصہ میں دھوپ بھی ان پر نہیں پڑی۔ سورج جب غار کے سامنے آتا تو رخ بدل لیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ متصرف فی الامور اور مختار تھے۔ اس بنا پر لوگوں نے ان کو کارساز اور غیب داں سمجھ کر پکارنا اور ان کے نام کی نذریں نیازیں دینا شروع کردیا۔ چناچہ وہ سات روٹیاں ان کے نام پر اور ایک ان کے کتے کے نام پر دیتے ہیں۔ ان آیتوں میں کئی طریقوں سے مذکورہ شبہہ کا جواب دیا گیا ہے۔
اول و دوم ” کانوا من ایتنا عجبا “۔” ام حسبت “ میں استفہام انکار کے لیے ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ آپ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے اصحاب کہف کا واقعہ بہت ہی عجیب اس لیے کہ کافروں نے اس واقعہ کو آپ کی صداقت کا معیار قرار دیا ہے ایسا نہیں ہے بلکہ ہماری قدرت کی بہت سی نشانیاں اس سے کہیں زیادہ عجیب ہیں۔ قال الطبری تقریر لہ (علیہ السلام) علی حسبانہ ان اصحب الکہف کانوا عجبا بمعنی انکار ذلک علیہ ان لا یعظ ذلک بحسب ماعظم علیک السائلون من الکفرۃ فان سار ایات اللہ اعظم من قصتھم (بحر ج 6 ص 101) ۔ استفہام انکار سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں تو اصحاب کہف کے قصہ سے کہیں زیادہ عجیب اور عظیم الشان ہیں نادان لوگ اسی واقعہ کو دیکھ کر اصحاب کہف کو غیب داں اور کارساز سمجھ بیٹھے نیز اس سے معلوم ہوا کہ اصحاب کہف کا واقعہ قدرت خداوندی کی ایک نشانی تھی۔ ان کا غار میں سینکڑوں برس خیر و عافیت سے سوئے رہنا، دھوپ کا ان پر نہ پڑنا اور ھر عرصہ دراز کے بعد ان کا بیدار ہونا یہ سب کچھ محض اللہ کی قدرت اور اس کے تصرف سے ہوا تھا اس میں اصحاب کہف کا کوئی دخل یا اختیار نہیں تھا۔
سوم :۔ ” اذ اوی الفتیۃ الخ “۔ جب اصحاب کہف اپنا دین و ایمان بچا کر شہر سے نکل بھاگے تو ایک غار میں ناہ گزین ہوئے۔ یہ ان کے عجز و بیچارگی کی واضح دلیل ہے اگر وہ متصرف و کارساز ہوتے تو انہیں بھاگ کر غار میں پناہ لینے کی کیا ضرورت تھی۔ چہارم :۔ ” فقالوا ربنا اتنا الخ “ جب وہ غار میں پناہ گزین ہوچکے تو اللہ سے بصد عجز و نیاز دعا کی ” ربنا اتنا من لدنک رحمۃ “ رحمۃ میں میں تنوین تعظم کے لیے ہے۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنی طرف سے اپنی خاص رحمت سے نوا۔ رحمت سے مراد عام ہے۔ یعنی معرفت حق، توحید پر ثبات، استقلال، رزق اور دشمنوں سے حفاظت وغیرہ۔ وھی الھدایۃ بالمعرفۃ والصبر والرزق والامن من الاعداء (کبیر ج 5 ص 681) ۔ ” وھیئ لنا من امرنا رشدا “ اور ہمارے اس معاملہ ہجرت میں ہماری صحیح راہنمائی فرما۔ اصحاب کہب تو خود اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب متصرف و کارساز اور خزائن رحمت کا مالک سمجھ کر اس سے دعائیں مانگ رہے ہیں اور اس کے سامنے اپنی بےکسی اور بےبسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ بھلا وہ کس طرح الہ (معبود) بننے کے لائق ہوسکتے ہیں۔ پنجم :۔ ” فضربنا علی اذانھم الخ “ جب وہ غار میں داخل ہوئے اور سستانے کی غرض سے لیت گئے تو ہم نے ان پر نیند طاری کردی اور ان کو سینکڑوں برس اسی حالت میں پڑا رہنے دیا۔ اصحاب کہف کو اس بات کا خیال تک نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ایسا عجیب و غریب واقعہ پیش آنے والا ہے اور انہیں تین سو سال تک حالت خواب میں رہنا ہوگا اس سے بھی ان کے متصرف و کارساز ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ ششم :۔ ” ثم بعثنھم الخ “ عرصہ دراز کے بعد ہم نے ان کو بیدار کیا۔ انہیں بیدار ہونے کا اختیار نہیں تھا۔ ہفتم :۔ ” لنعلم ای الحزبین الخ “ اللہ تعالیٰ کا علم چونکہ محیط کل ہے اور ماضی، حال اور مستقبل کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس لیے علم سے یہاں اظہار مراد ہے تسمیۃ للسبب باسم المسبب۔ ” الحزبین “ سے اصحاب کہف کی دو جماعتیں مراد ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے کہا تھا کہ ہم تو ایک دن سے بھی کم سوئے ہیں دوم وہ جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ ہی جانتا ہے ہم کتنا عرصہ سوئے ہیں۔ وھم القائلون لبثنا یوما او بعض یوم۔ والقائلون (ربکم اعلم بما لبثتم) (روح ج 5 ص 213) ۔ ہم نے کئی سو سال بعد ان کو بیدار کیا۔ تاکہ ہم ظاہر کریں کہ ان میں سے کس کو ٹھہرنے کی صحیح مدت یاد رہی۔ اصحاب کہف تو خود اپنے حال سے بیخبر تھے اور انہیں حالت خواب کی صحیح مدت بھی یاد نہ رہی تو وہ غیب داں کیونکر ہوسکتے ہیں۔
12:۔ ” اصحب الکہف والرقیم “ کہف پہاڑ میں اس غار یا کھوہ کہ کہتے ہیں جو فراخ ہو۔ الکہف النقب المتسع فی الجبل (قرطبی ج 1 ص 356) ۔ ” الرقیم “ میں مفسرین کے اقول بہت مختلف ہیں۔ دو قول زیادہ مشہور ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ الرقیم سے مراد وہ پتھر کی تختی ہے جو ان کے غار پر نصب کردی گئی تھی جس پر ان کے نام کندہ تھے۔ قیل نسبو الی حجر رقم فیہ اسماءھم (مفردات راغب ص 301) ۔ قال الفراء الرقیم لوح کان فیہ اسماءھم وصفاتھم (کبیر ج 5 ص 280) اس صورت میں الرقیم بمعنی المرقوم فیہ ہوگا۔ بعض کہتے ہیں الرقیم اصحاب کہف کے گاؤں کا نام تھا۔ زعم کعب انھا قریۃ خرجوا منھا (قرطبی ) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایک مشرک بادشاہ دقیانوس نامی تھا جو خود بھی بت پرست تھا اور رعیت کو بھی بت پرستی پر مجبور کرتا تھا۔ اصحاب کہف کا واقعہ اسی دور میں پیش آیا۔ چند نوجوان جو خوشحال اور میر گھروں کے چشم و چراغ تھے۔ انھم اولاد عظماء تلک المدینہ (قرطبی ص 365) ۔ بلکہ دقیانوسکے درباریوں اور خواص امراء کی اولاد تھے۔ وکانوا من خواص دقیانوس (مدارک ج 3 ص 4) ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نور بصیرت عطا فرمایا وہ شرک سے بیزار ہوگئے اور صرف خدائے واحد کی عبادت کرنے لگے۔ اگرچہ انہوں نے اخفاء حال سے کام لیا مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح کچھ لوگوں کو ان کا حال معلوم ہوگیا۔ اور انہوں نے بادشاہ سے ان کی شکایت کردی۔ بادشاہ نے ان موحد نوجوانوں کو دربار میں طلب کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس کے دین کا اتباع کریں۔ اس کے معبودوں کی عبادت کریں، اور ان کے ناموں کی نذریں نیازیں دیا کریں۔ اور ساتھ ہی انہیں دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اس کے دین سے سرتابی کی تو انہیں قتل کردیا جائیگا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کو دولت استقامت سے مالا مال فرمادیا۔ اور وہ سر دربار بول اٹھے ” ربنا رب السموت والرض الایۃ “ ہمارا رب اور معبود تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ومالک ہے۔ ہم تو اس کے سوا کسی اور کو ہرگز نہیں پکاریں گے یہ سن کر بادشاہ نے ان نوجوانوں کو مہلت دی اور کہا ابھی تم عقل کے خام ہو۔ اس لیے اپنے معاملہ میں غور وفکر کرلو۔ نوجوانوں نے اس مہلت کو گنیمت سمجھا اور اپنا دین و ایماب چانے کیلئے شہر سے نکل کر کہیں چل دئیے۔ راستے میں انہیں ایک چرواہا ملا جو ان کی طرح موحد تھھا۔ وہ بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ چرواہے کا کتا بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ یہاں تک کہ وہ ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے جب وہ سستانے کیلئے لیٹے تو اللہ تعالیٰ نے عرصہ دراز کے لیے ان پر نیند کو مسلط فرما دیا۔ کئی سو سال کے بعد وہ بیدار ہوئے تو ایساتھی کو کھانا لانے کیلئے بازار بھیجا۔ جب دکاندار کو رقم ادا کی تو وہ پرانے سکے دیکھ کر حیران ہوا اور خود اس آدمی کی شکل و صورت بھی ایسی اجنبی سی معلوم ہوئی۔ چناچہ بادشاہ وقت بیدروس کے سامنے پیش کردیا گیا جو مومن اور موحد تھا۔ جب اس نوجوان کے بتانے سے بادشاہ کو معلوم ہوا کہ یہ انہیں نوجوانوں میں سے ہے جو دقیانوس کے زمانے میں روپوش ہوگئے تھے تو وہ بہت خوش ہوا اور بہت سے شہریوں کو ساتھ لے کر اس نوجوان کے ہمراہ غار پر پہنچا اور باقی نوجوانوں سے ملاقات کی جب نوجوانوں کو معلوم ہوا کہ بادشاہ اور بہت سی رعایا توحید قبول کرچکے ہیں تو بہت مسرور ہوئے۔ اس کے بعد اصحاب کہف اسی غار میں خلوت گزیں ہوگئے اور وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔ من القرطبی وغیرہ۔
Ayahs 18:13–1513:۔ اب یہاں سے اصحاب کہف کے واقعہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے گویا کہ پہلے شبہہ اولیٰ کا اجمالی جواب ذکر کیا گیا اور یہاں اسے تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ شروع فی تفصیل ما اجمل فیما سلف ای نحن نخبرک بتفصیل خبرھم الذی لہ شان و خطر (روح ج 5 ص 216 ابو السعود ج 5 ص 685) ۔
14:۔ پہلے اجمالی ذکر میں اصحاب کہف کے مومن و موحد ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ یہاں ان کے ایمان، توحید پر ان کی استقامت اور شرک سے ان کی بیزاری کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس تفصیل میں چار چیزیں مذکور ہیں۔ (1) ۔ ” امنوا بربھم “ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے۔ (2) ۔ ” و زدنھم ھدی “ انہیں ایمان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے کر ان کو ہدایت میں اور ترقی دیدی۔ (3) ۔ ” و ربطنا علی قلوبہم اذا قاموا “۔ ظرف ” ربطنا “ سے متعلق ہے۔ جب ظالم و جابر اور مشرک بادشاہ کی طلبی پر وہ اس کے دربار میں اس کے سامنے کھڑے ہوئے اور بادشاہ نے ان کو دین توحید چھوڑنے اور بت پرستی اختیار کرنے کا حکم دیا اور بصورت دیگر انہیں قتل کی دھمکی دی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط ومطمئن کردیا۔ اور انہیں اپنے دین پر ثابت قدمی اور استقامت عطا فرمائی۔ اذ قامو بین یدی الجبار وھو دقیانوس۔ چناچہ انہوں نے سر دربار علی رؤوس الاشہاد توحید کا اعلان اور شرک سے بیزاری کا اظہار کردیا اور صاف کہہ دیا ” ربنا رب السموات والارض “ ہمارا پروردگار اور مالک وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ومالک ہے۔ ” لن ندعوا من دونہ الھا “ جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہو وہی ساری کائنات کا خالق ومالک ہوسکتا ہے اور وہی عبادت و پکار کا مستحق ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہم اللہ کے سوا کسی خود ساختہ معبود اور کسی جھوٹے ٹھاکر کو کبھی پکارنے کے لیے تیار نہیں ہیں ” لقد قلنا اذا شططا “ کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو یہ نہایت ہی بےجا اور حد سے بڑھی ہوئی بات ہوگی۔ (4):۔ ” ھؤلاء قومنا الخ “ ہماری قوم کے ان مشرکوں نے خود ساختہ ٹھاکروں کو اللہ کے معبود بنا رکھا ہے۔ اگر ان کے پاس کوئی واضح ثبوت ہے۔ تو کیوں پیش نہیں کرتے۔ ” فمن اظلم من افتری علی اللہ کذبا “ بھلا شرک جیسی بری اور قبیح لذاتہ بات کے حق میں کیا ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے جو شخص خدا کے ساتھ کسی کو شریک بناتا ہے۔ وہ خدا پر افترا کرتا ہے۔ اور وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اصحاب کہف کے ایمان و اعتقاد کی اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ وہ تو خود اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مالک و کارساز سمجھتے تھے۔ اس کی عبادت کرتے اور اسی کے نام کی نذریں دیتے۔ اور اسے ہی پکارتے تھے۔ وہ شرک اور غیر اللہ کی عبادت اور پکار سے سخت بیزار تھے۔ وہ اپنے اس ایمان پر اتنے مضبوط تھے کہ ایک ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے بھی انہوں نے اس کا اعلان کردیا۔ بھلا جن کا اپنا یہ حال ہو، پھر ان کی عبادت کرنا، ان کو پکارنا اور ان کے تنام کی نذریں نیازیں دینا سراسر حماقت اور عقل کے خلاف ہے۔
Ayah 18:1615:۔ یہ ” اذ اوی الفتیۃ الخ “ کی تفصیل ہے اصحاب کہف کے رئیس یملیخا یا مکسلمینا نے ان سے کہا۔ جب تم ان مشرکوں سے اور ان کے ان ٹھاکروں سے علیحدہ ہوجاؤ۔ جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں تو کسی غار میں گھس جاؤ۔ ھو من قول رئیسھم یملیخا فیما ذکر ابن عطیۃ وقال الغزنوی رئیسھم مکسلمینا (قرطبی ج 10 ص 367) ۔ ” ینشر لکم ربکم من رحمتہ “ یہ ” ربنا اتنا من لدنک رحمۃ “ سے متعلق ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا۔ اور تمہارے اس کام میں آرام اور آسانی کا سامان بہم پہنچا دے گا۔ ” مرفقا “ مفعلا کے وزن پر مصدر ہے۔ جس کے معنی رفق اور آسانی کے ہیں۔ قال ابو زید ھو مصدر کالرفق علی مفعل (بحر ج 6 س 107) ۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اصحاب کہف خود باطل معبودوں اور ان کے پوجاریوں کے پاس سے بھاگنے کی تدبیریں سوچ رہے ہیں مگر اس کے باوجود نادان لوگوں نے ان کو معبود بنا رکھا ہے اور پھر اصحاب کہف وہاں سے بھاگ کر غار میں پناہ لینے کی ٹھان چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و توفیق اور آرام و کشائش کے امیدوار اور متمنی ہیں۔ جس سے ان کی اپنی عاجزی، درماندگی اور حاجت مندی ظاہر ہورہی ہے تو جو خود محتاج اور عاجز و لاچار ہو۔ وہ دوسروں کا حاجت روا اور کارساز کس طرح بن سکتا ہے۔
Ayah 18:1716:۔ یہاں سے لے کر ” ذلک من ایت اللہ “ تک ” کانوا من ایتنا عجبا “ کی تفصیل ہے۔ ” وتری “ سے خطاب ہر مخاطب سے ہے ” تزٰور “ اصل میں تتز اور تھا۔ ایک تا تخفیفا حذف کردی گئی۔ تزاورای تمیل۔ ایک طرف ہوجاتا ہے۔ تقرضھم ای تعدل عنھم یعنی غار کے دھانے سے کترا کر گذرتا ہے۔ ” فجوۃ “ ای متسع من الکہف۔ غار کے اندر فراخ جگہ۔ دونوں جملوں کا حاصل یہ ہے کہ غار کچھ اس طرح واقع تھا کہ غار کے اندر سونے والوں پر دن کے کسی وقت بھی دھوپ نہیں پڑ سکتی۔ مگر تازہ ہوا ہر وقت پہنچ سکتی تھی۔ تو غار میں عرصہ دراز تک سوئے رہنا اور ہر قسم کی تکلیف اور گزند سے محفوط رہنا۔ یہاں تک کہ اس اثنا میں ان پر سورج کی کرن تک نہیں پڑی اس میں اصحاب کہف کی قدرت اور ان کے اختیار و تصرف کو کوئی دخل نہیں تھا۔ بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے کیا اور یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے واضح نشانات ہیں۔
17:۔ اللہ تعالیٰ نے تو توحید کے دلائل واضح فرما دئیے ہیں۔ اب ہدایت اور ایمان کی توفیق صرف اسی کو ملے گی جو طلب صادق سے راہ ہدایت کا متلاشی ہوگا اور جو جان بوجھ کر عنادا گمراہی اختیار کرتے گا۔ اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔
Ayah 18:1818:۔ یہ ” فضربنا علی اذانھم الخ “ سے متعلق ہے اس آیت میں اصحاب کہف کے غار میں سونے کی کیفیت اور گار کے اندرونی ہیبتناک منظر کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ جب وہ غار میں سو رہے تھے۔ اس وقت اگر ان کو کوئی دیکھتا۔ تو نیند کی ظاہری آثار نہ پا کر ان کو بیدار سمجھ لیتا۔ حالانکہ ان پر نیند طاری ہوچکی تھی۔ اور اگر کوئی شخص غار میں ان پر جھانکتا تو ان کے رعب و جلال کی تاب نہ لا کر الٹے پاؤں بھاگ کھڑا ہوتا جب وہ سو رہے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ ان کی کروٹیں بدلتا رہا۔ تاکہ بدن کے تمام حصوں کو تازہ ہوا لگتی رہے اور وہ گزند سے مھفوط رہیں۔ مگر اس دوران میں اصحاب کہف کا اپنا حال یہ تھا کہ وہ اپنے حال و ماحول سے بالکلک بیخبر اور دنیا ومافیہا سے کلیۃ غافل پڑے تھے۔ تو وہ کس طرح معبود بننے اور عبادت و پکار لائق ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 18:19–2019:۔ یہ ” ثم بعثناھم الخ “ کی تفصیل ہے۔ حضرت شیخ (رح) نے فرمایا ” کذلک “ میں کاف تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی اس قدرت طویل عرصہ کے بعد یوں ہم نے ان کو بیدار کیا۔ یہ ہماری قدرت کا کمال تھا اس میں ان کے اختیار و تصرف کا دخل نہیں تھا۔ ” لیتساء لوا “ میں لام ” بعثنا “ سے متعلق ہے۔ یعنی ہم نے ان کو عرصہ دراز کے بعد بیدار کیا۔ تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ انہیں سوئے ہوئے کتنی مدت ہوئی۔ چناچہ جب وہ بیدار ہوئے تو رئیس بولا ” کم لبثتم “ باقیوں نے کہا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تم کتنا عرصہ سوتے ہو۔ اس سوال و جواب سے معلوم ہوا کہ اصحاب کہف اپنی مدت خواب کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں جانتے تھے۔ جب ان کے اپنے حالات کے بارے میں ان کی لاعلمی کا یہ حال تھا تو وہ دوسروں کی پکاریں اور فریادیں کیونکر سن سکتے تھے۔
نکتہ :۔ حبر الامۃ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ اصحاب کہف سات نفر تھے۔ وہ فرماتے ہیں۔ ” قال کم لبثتم “ سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک نے سوال کیا ” قالوا لبثنا الخ “ اس سے پتہ چلا۔ جنہوں نے پہلا جواب دیا تھا وہ کم از کم تین تھے۔ کیونکہ قالوا جمع ہے اور عربی جمع کا اقل رتبہ تین ہے۔ ” قالوا ربکم اعلم “ یہاں بھی قالوا جمع ہے اس سے معلوم ہوا کہ دوسرا جواب دینے والے بھی کم از کم تین تھے۔ اس طرح کل سات ہوئے۔ (مدارک ج 3 ص 5 6) ۔
20:۔ یہ بھی ماقبل ہی سے متعلق ہے۔ ماقبل سے اصحاب کہف کے غیب داں ہونے کی نفی کی گئی۔ یہاں اس کے ساتھ ان کے مختار و متصرف ہونے کی نفی بھی کی گئی ہے۔ بیدار ہو کر انہوں نے ایک ساتھی کو شہر میں کھانا خرید کر لانے کے لیے بھیجا۔ معلوم ہوا۔ وہ تو خود کھانے پینے کے محتاج ہیں دوسروں کی کیا حاجت بر آری کریں گے۔ ” فلینظر ایھا ازکی طعاما “ انہوں نے اپنے ساتھی کو ہدایت کی کہ کھانا دیکھ بھال کر خریدے کہیں کسی مشرک کے ہاتھ کا ذبیحہ نہ لے آئے کیونکہ وہ اپنے طواغیت کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے تھے۔ عن ابن عباس فی قولہ ازکی طعاما قال احل ذبیحۃ وکانوا یذبحون للطواغیت (الدر المنثور ج 4 ص 216) اصحاب کہف غیر اللہ کے ذبیحوں سے دور بھاگتے تھے۔ تو وہ اپنے لیے کس طرح نذریں نیازیں پسند کرسکتے تھے۔ اسی طرح اگر بازار میں جانے والا نوجوان غیب داں ہوتا تو بھیجنے والوں کو یہ اندیشہ کبھی نہ ہوتا کہ وہ حرام گوشت خرید لائے گا۔ ” ول یتلطف ولا یشعرن بکم احدا “ اسے یہ بھی ہدایت کی کہ وہ خریدو فروخت میں دکاندار سے نرمی کا برتاؤ کرے کہیں جھگڑے کی صورت پیدا ہو کر ہمارا راز منکشف نہ ہوجائے۔ اگر خدانخواستہ اس کا راز فاش ہوجائے تو وہ دوسروں کا حال کسی کو نہ بتائے۔ ” انھم ان یظھرو علیکم “ یہاں ” ان “ تعلیلیہ ہے کیونکہ اگر لوگوں کو تمہارا علم ہوگیا۔ تو وہ تمہیں جان سے مار ڈالیں گے۔ یا پھر تمہیں دوبارہ اپنے دین شرک میں لوٹا لیں گے۔ اصحاب کہف کا یہ خوف و ہراس ان کے عجز کی واضح دلیل ہے۔ اس لیے وہ کارساز بننے کے لائق نہیں ہیں۔
Ayah 18:2121:۔ یہاں بھی کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ یعنی ہم نے اس زمانہ میں اصحاب کہف پر قرب و جوار کے لوگوں کو مطلع کیا۔ تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اس کی آمد میں کوئی شک نہیں جس وقت اصحاب کہف بیدار ہوئے۔ اس زمانے کے لوگ ایک مسئلہ پر دو فریق ہوچکے تھے۔ اس وقت کا بادشاہ مومن و موحد تھا وہ اور اس کے طرف دار کہتے تھے کہ قیامت ضرور آئے گی لیکن مشرکین قیامت کے منکر تھے۔ اصحاب کہف کے سینکڑوں برس سونے کے بعد بیدار ہونے کا واقعہ یش آگیا۔ جس سے بادشاہ اور اس کے ہم خیال لوگ بہت خوش ہوئے کیونکہ انہیں اپنے دعوی پر ایک دلیل مشاہدہ ہاتھ آگئی۔ اس سے ایک طرف ان کے اپنے ایمان و یقین میں قوت اور مضبوطی پیدا ہوگئی۔ دوسری طرف انہوں نے مشرکین کو لاجواب کردیا۔
22:۔ یہ آیت اصحاب کہف کے دوبارہ غار میں واپس جا کر عبادت و ریاضت میں مصروف ہوجانے کے بعد سے متعلق ہے۔ قرآن مجید چونکہ قصوں کو محض قصوں کی حیثیت سے ذکر نہیں کرتا بلکہ استشہاد کے لیے ذکر کرتا ہے اس لیے قرآن کا دستور یہ ہے کہ وہ قصوں کے اصل مسئلہ سے غیر متعلق حصوں کو حذف کردیتا ہے۔ چناچہ جب اصحاب کہف دوبارہ غار میں چلے گئے تو اس کے بعد ان پر کیا گذری قرآن نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ جب اصحاب کہف دوبارہ غار میں پہنچ کر عبادت اور یاد الٰہی میں مصروف ہوگئے تو لوگوں میں ان کے غار پر یادگار تعمیر کرنے کے بارے میں اختلاف ہوگیا کہ کس قسم کی عمارت بنائی جائے اور کس طرح ان کی یادگار قائم کی جائے۔ چناچہ اس مسئلہ پر لوگوں میں دو رائیں ہوگئیں مشرکین کہنے لگے کہ اصحاب کہف چونکہ ابتداء میں ہمارے مذہب پر تھے اس لیے ہم اس غار پر ان کا مندر یا ان کی یادگاری سرائے بنائیں گے۔ ان الکفار قالوا انھم کانوا علی دیننا فنتخذ علیھم بنیانا (کبیر ج 5 ص 700) وروی ان طائفۃ کافرۃ قالت نبنی بیعۃ او مضیفا (قرطبی ج 10 ص 379) ۔ مگر مسلمانوں نے جو اپنے مشن میں غالب ہوئے تھے۔ کہا کہ ہم تو غار پر مسجد بنا کر اس میں اللہ کی عبادت کریں گے۔ اصحاب کہف سے اور ان کی جگہ سے تبرک حاصل کریں گے اور اس کے ذریعے سے ان کے آثار و نشانات کی یادگار قائم کریں گے۔ یصلی فیہ المسلموں ویتبرکون بھم (مظہری ج 6 ص 23) یصلی فیہ المسلمون و یتبرکون بمکانھم (مدارک ج 3 ص 6) ۔ لنتخذن علیھم مسجدا نعبد اللہ فیہ و نستبقی اثار اصحاب الکھف بسب ذلک المسجد (کبیر ج 5 ص 701) ۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہاں شرک ہونے لگا۔ لوگوں نے اصحاب کہف کی عبادت و پوجا شروع کردی۔ ان کے نام کی نذریں منتیں دینے لگے اور ان کو متصرف و کارساز سمجھ کر غائبانہ پکارنے لگے۔
23:۔ اس سے مراد اس وقت کے مسلمان ہیں۔ ای من المسلمین و ملکھم (مدارک) ۔
Ayah 18:2224:۔ ” س “ استقبال کے لیے ہے اور ” یقولون “ کی ضمیر آنحضرت ﷺ کے ہم عصر یہود کی طرف راجع ہے اس سے اصحاب کہف کی تعدداد میں علماء یہود کے اختلاف کا ذکر مقصود ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ جس واقعہ کو انہوں نے بطور امتحان پیش کیا ہے اس کی پوری حقیقت سے وہ خود بھی آگاہ نہیں ہیں۔ الضمیر فیہ وفی الفعلین بدہ کما اکتارہ ابن عطیۃ و بعض المحققین للیھود المعاصرین لہ ﷺ الخائضین فی قصۃ اصحاب الکھف (روح ج 15 ص 240) یعنی جب آپ اصحاب کہف کا واقعہ بیان کریں گے۔ تو یہود کے بعض علماء ان کی تعداد کتے کے علاوہ تین بتائیں گے۔
25:۔ یہ ” سیقولون “ پر معطوف ہے۔ اور بعض ان میں سے اصحاب کہف کی تعداد کتے کے علاوہ پانچ بتائیں گے۔ ” رجما بالغیب “ لیکن یہ سب اندھیرے کے تیر ہیں صحیح بات کا ان میں سے کسی کو علم نہیں۔ ” و یقولون سبعۃ الخ “ اور کچھ لوگ ان کی تعداد کتے کے علاوہ سات بتائیں گے۔ اس ” یقولون “ کا فاعل یا تو علماء یہود ہی کی ایک جماعت ہے۔ یا اس سے مراد مسلمان ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی اطلاع سے مسلمان یہ تعداد بتائیں گے۔ ” قل ربی اعلم بعدتھم “ آپ فرما دیجیے۔ ان کی صحیح صحیح تعداد اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ ” ما یعلمھم الا قلیل “ ان کی صحیح صیح گنتی کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ میں بھی ان قلیل میں سے ہوں، جو ان کی صحیح صحیح تعداد جانتے ہیں وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ قال (ابن عباس) حین وقعت الواو انقطعت العدۃ ای لم یبق بعدھا عدۃ عاد یلتفت الیھا و ثبت انھم سبعۃ و ثامنھم کلبھم علی القطع والبتات (روح ج 15 ص 242) ۔ تیسرے قول کی صحت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ پہلے دونوں اقوال کے بعد ” رجما بالغیب “ فرمایا اور تیسرا قول اس کے بعد ذکر فرمایا تو اس سے معلوم ہوا کہ پہلے دونوں قول اندھیرے کے تیر ہیں اور محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں۔ اور تیسرا قول یقینی اور شک و شبہہ سے بالا تر ہے۔ (کبیر ج 5 ص 700) ۔
26:۔ آپ اصحاب کہف کی تعداد اور ان کے واقعہ کی بابت اہل کتاب سے سرسری بحث کے سوا زیادہ بحث و تمحیص نہ کریں۔ بس صرف وحی کے مطابق پورا واقعہ بیان فرما دیں۔ اور اس سے خود بخود غلط اقوال کی تردید ہوجائے گی۔ ” ولا تستفت فیھم الخ “ اور اصحاب کہف کے بارے میں اہل کتاب سے کسی قسم کا سوال نہ کریں۔ کیونکہ وحی کے ذریعے ہم نے ان سے متعلق تمام ضروری باتیں بیان کردی ہیں۔
Ayah 18:2327:۔ یہ جملہ معترضہ ہے ہر واعظ اور ناصح حکیم کا یہ طریقہ ہے کہ اگر وعظ کے دوران میں وعظ کے کسی حصہ پر کوئی ایسی ضروری بات متفرع ہوسکے جو سامعین سے متعلق ہو۔ تو وہ سلسلہ وعظ کو بند کر کے سامعین کو اس ضروری بات کی طرف متوجہ کرتا ہے تاکہ اسے خوب یاد رکھ لیا جائے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے فرمایا کہ جو کام آپ کو کل کے دن کرنا ہو۔ اسے آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے متعلق فرما دیا کریں۔ اور اس کے ساتھ انشاء اللہ ضرور کہا کریں۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علی ہو سلم سے یہ بھول ہوگئی تھی۔ کہ جب مشرکین قریش نے بطور امتحان آپ سے تین باتیں پوچھیں تو آپ نے کل کو جواب دینے کا وعدہ فرمایا۔ اور انشاء اللہ نہ کہا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد یاد دہانی فرمائی کہ انسان اپنے دل میں کچھ ارادہ کرتا ہے مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو اور جو کچھ ہوتا ہے محض اللہ کے ارادے اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے چناچہ اصحاب کہف جب غار میں داخل ہوئے تو ان کا ارادہ یہ تھا کہ تھوڑی دیر آرام کر کے پھر اٹھیں گے مگر ان کے ارادے کے خلاف اللہ تعالیٰ نے ان کو تین سو نو سال سلائے رکھا۔ اسی طرح انہوں نے اپنے ساتھی کو اس ارادے سے شہر میں بھیجا کہ وہ کھانا خرید کر لائے۔ مگر ان کے ارادے کے برعکس کچھ اور ہی رونما ہوگیا۔ علی ھذا آپ ﷺ کا ارادہ یہ تھا کہ آج یا کل وحی کے ذریعے قریش کے سوالوں کا جواب مل جائے گا تو کل ان کو بتا دوں گا مگر اس کے برعکس ہوا یہ کہ پورے پندرہ یوم تک وحی نہ آئی اس لیے آپ ہر معاملے کو مشیت الٰہی کے سپرد فرمادیا کریں۔
Ayah 18:2428:۔ یہاں نسیان کا حکم بیان فرمایا کہ اگر کبھی ” انشاء اللہ “ کہنا بھول جائیں تو اس کے بعد جب یاد آجائے اس وقت کہہ لیا کریں خواہ کتنے ہی عرصہ کے بعد یاد آئے اس سے اللہ کے نام سے ترک تبرک کا تدارک تو ہوجائے گا۔ باقی رہا تغیر حکم کے لیے انشاء اللہ کہنا تو اس کا کلام سے متصل ہونا ضروری ہے۔ وھذا محمول علی تدارک التبرک بالاستثناء فاما الاستثناء المغیر حکما فلا یصح الا متصلا (مدارک ج 3 ص 8 ۔ ) ۔
29:۔ آئندہ زمانے میں مجوزہ ہر کام کو اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی مشیت سے معلق فرمایا کریں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کریں کہ جو کام میں آئندہ کرنا چاہتا ہوں شاید اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ اچھی تدبیر سجھا دے اور اس میں پوری کامیابی عطا فرما دے۔ یا مطلب یہ ہے کہ آپ کو یہ کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہ شاید اللہ تعالیٰ مجھ کو ایسے دلائل و معجزات عطا فرما دے جو اصحاب کہف کے واقعہ سے کہیں زیادہ حیرت انگیز اور میری نبوت ور سالت پر حجت قاطعہ ہوں۔ (کبیر ج 5 ص 706) ۔
Ayah 18:2530:۔ یہ امر متفرع ذکر کرنے کے بعد اصل واقعہ کی طرف عود ہے جو چیز پہلے ” فضربنا علی اذانہم فی الکہف سنین عددا “ میں بالاجمال ذکر کی تھی یہاں اس کی تفصیل کردی۔ یعنی اصحاب کہف نیند کی حالت میں غار میں تین سو نو برس ٹھہرے۔ قال مجاھد ھو بیان لمجمل قولہ تعالیٰ فضربنا علی اذانھم فی الکہف سنین عددا (بحر ج 6 ص 116) ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ” لبثوا الخ “ بھی ” یقولون “ کے تحت داخل ہے اور اس سے بھی بعض لوگوں کا قول نقل کرنا مقصود ہے۔ مگر یہ خیال سراسر غلط ہے قرآن کا اسلوب نظم اس کی تائید نہیں کرتا کیونکہ دونوں مضمونوں کے درمیان دو تین مختلف مضامین کا فاصلہ حائل ہے۔ ” قل اللہ اعلم بما لبثوا الخ “ ازالہ شبہہ کے بعد واقعہ اصحاب کہف پر چھ امور متفرع کیے گئے۔ یہ پہلا امر متفرع ہے۔ آپ فرما دیجئے کہ اصحاب کہف کے ٹھہرنے کی صحیح مدت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اس لیے صحیح مدت وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ یعنی تین سو نو سال ای ھو اعلم من الذین اختلفوا فیہم بمدۃ لبثھم والحق ما اخبرک بہ (مدارک ج 3 ص 9) ۔ اصحاب کہف کا قصہ یہاں ختم ہوا۔ اس کا آخری جملہ قصے کا ثمرہ ہے۔ یعنی اصحاب کہف غار میں کتنا عرصہ سوئے۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ خود اصحاب کہف کو بھی اس مدت کا علم نہیں۔ تو جو لوگ خود اپنے حال سے بیخبر ہیں وہ دوسروں کے کارساز اور حاجت روا کس طرح بن سکتے ہیں۔
Ayah 18:2631:۔ ثمرہ واقعہ :۔ اصحاب کہف کے واقعہ سے مشرکین کو ان کے غیب داں اور مختار ہونے کا شبہہ ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے واقعہ بیان کر کے اس کے ہر پہلو سے مشرکین کے شبہہ کو رد فرمایا۔ اب آخر میں پورے واقعہ کا ثمرہ اور نتیجہ صراحت سے بیان فرما دیا کہ اس واقعہ کی تفصیل سے ثابت ہوا۔ کہ اصحاب کہف نہ غیب داں ہیں نہ مالک و مختار، عالم الغیب بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مالک و مختار بھی وہی ہے۔ ” لہ “ خبر کو مقدم کر کے حصر کے ساتھ دعوی فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور کسی کو نہیں۔ ” ابصر بہ واسمع “ یہ دونوں فعل تعجب کے صیغے ہیں یعنی وہ ایسا دیکھنے والا اور ایسا سننے والا ہے کہ زمین و آسمان کی کوئی چیز اور کوئی بات اس کے علم سے باہر اور اس سے پوشیدہ نہیں۔ یہاں تک نتیجے کا ایک جزو بیان ہوا۔ کہ غیب داں صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اصحاب کہف غیب داں نہیں ہیں۔
32:۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) ” ولی “ کا ترجمہ لفظ مختار سے کرتے ہیں۔ یہ نتیجہ کے دوسرے جزو کا بیان ہے یعنی ساری مخلوق کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کارساز اور مختار نہیں اللہ ہی سب کا مددگار اور کارساز ہے اور اس نے کسی کو مختار نہیں بنایا۔ نہ اصحاب کہف کو نہ کسی اور کو جیسا کہ مشرکین نے سمجھ رکھا تھا۔ ” ولا یشرک فی حکمہ احدا “ اللہ تعالیٰ اپنے اختیار و تصرف اور اپنے حکم و قضا میں منفرد و لا شریک ہے۔ اور کوئی اس کا شریک نہیں نہ کوئی نبی یا ولی نہ کوئی فرشتہ یا جن اور نہ اصحاب کہف انہ تعالیٰ ھوالذی لہ الخلق والامر الذی لا معقب لحکمہ و لیس لہ وزیر ولا نصیر ولا شریک ولا مشیر تعالیٰ و تقدس (ابن کثیر ج 3 ص 80) ۔ بعض مفسرین نے حکم سے علم غیب مراد لیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب میں کسی کو شریک نہیں کرتا وقیل الحکم ھھنا بمعنی علم الغیب ای لا یشرک فی علم غیبہ احدا (مظہری ج 6 ص 28) اس صورت میں یہ آیت علم غیب عطائی کی نفی پر دلیل ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے مختص علم غیب یعنی ماکان ومایکون کا کلی تفصیلی علم کسی کو عطا نہیں فرمایا۔
Ayah 18:2733:۔ دلیل وحی :۔ اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اس کا ثمرہ بیان فرمایا۔ جس میں دو باتیں واضح کی گئیں اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عالم الغیب اور حاضر و ناظر نہیں دوم یہ کہ اللہ کے سوا کوئی مختار و متصرف نہیں۔ گویا کہ یہ ایک دعوی ہے جو دو شقوں پر مشتمل ہے اب یہاں سے اس پر دلیل وحی پیش کی گئی ہے۔ ” اتل “ امر ایجاد فعل کے لیے نہیں بلکہ ابقاء فعل کے لیے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ اللہ کی وحی سے دلائل توحید پڑھ کر سنانا شروع کردیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وحی اور اللہ کی کتاب سے جس طرح آپ پہلے مسئلہ توحید بیان کر رہے تھے اسی طرح اب بھی کرتے رہیں اور اس سلسلے کو جاری رکھیں۔ ای لازم تلاوۃ ذلک علی اصحابک (روح ج 15 ص 257) امرہ (علیہ السلام) بالمداومۃ علی دراستہ (ابو السعود ج 5 ص 702) ۔
34:۔ اللہ تعالیٰ کے کلمات اور اس کی آیات جن میں مسئلہ توحید بیان کیا گیا ہے وہ اٹل اور محکم ہیں اور انہیں کوئی بدل نہیں سکتا۔ ” و لن تجد من دونہ ملتحدا “ واؤ تعلیل کے لیے ہے اور یہ جملہ ماقبل کی علت ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔ اور اس کے سوا کوئی مختار و متصرف نہیں تو اس کی آیات کو بھی کوئی بدلنے والا نہیں۔ ” ملتحدا “ کے معنی جائے پناہ اور ملجا و ماوی کے ہیں یعنی اگر بالفرض آپ یا کوئی اور اللہ کے کلمات میں تبدل و تغیر کا ارادہ کرے تو اسے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ کے سوا کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ ای ملجا تعدل الیہ ان ہممت بذالک (مدارک ج 3 ص 9) ۔
Ayah 18:2835:۔ یہ تیسرا امر متفرع ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے یعنی آپ صبر و استقامت کے ساتھ مسئلہ توحید کی اشاعت کرتے رہیں اور جو لوگ مسئلہ توحید مان چکے اور محض اللہ کی رضا کے طلبگار ہیں صبح و شام حاجات و مشکلات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتے۔ آپ ان کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ حاصل یہ کہ آپ اپنے دعوے پر قائم رہیں اور ان لوگوں کے ساتھ مجلس کریں جو محض اللہ کی بندگی کرتے اور صرف اسی کو پکارتے ہیں اور شرک نہیں کرتے۔ ” الذین یدعون ربھم “ میں حصر ہے یعنی وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے۔ یہاں اگرچہ کوئی کلمہ حصر موجود نہیں لیکن مفہوم حصر کے لیے کلمات حصر کا وجود ضروری نہیں جیسا کہ علمائے نحو نے تصریح کی ہے بلکہ بعض دفعہ قرائن اور سیاق وسباق سے بھی حصر کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ چناچہ یہاں حصر پر قرینہ موجود ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے سے مشرکین بھی منکر نہیں تھے بلکہ وہ بھی اپنی حاجات میں اللہ تعالیٰ کو پکارتے تھے مگر وہ اللہ تعالیٰ کی پکار میں اوروں کو بھی شریک کرتے تھے اور صرف صرف ایک اللہ کو نہیں پکارتے تھے۔ اس لیے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو ان لوگوں کی رفاقت و معیت کا حکم دیا جا رہا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے اور اس کی پکار میں کسی اور کو شریک نہیں کرتے تھے۔
36:۔ یہ چوتھا امر متفرع ہے۔ ” ترید “ جملہ ” عینک “ کے سے حال ہے۔ والجملۃ علی القراء ۃ المتواترۃ حال من کاف (عینک) وجازت الحال منہ لانہ جزاء المضاف الخ (روح ج 15 ص 263) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیوی منافع کی خاطر توحید کو ماننے والوں سے آپ اپنی نگاہیں ہرگز نہ پھیریں ” ولا تطع من اغفلنا “ یہ پانچواں امر متفرع ہے۔ اور جن لوگوں کے دل اللہ کی توحید سے خالی اور اس کی یاد سے غافل ہیں اور جو اللہ کی عبادت کے بجائے دنیا کی دولت جمع کرنے میں مشغول ہیں آپ ان کی پیروی نہ کریں۔ ای شغل عن الدین وعبادۃ ربہ بالدنیا (ابن کثیر ج 3 ص 81) ۔ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ سے خطاب ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ امت کو تعلیم ہے۔
Ayah 18:2937:۔ یہ چھٹا امر متفرع ہے۔ ” الحق “ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے اصل میں تھا ” ھو الحق “ اور اس سے مراد بقول امام ضحاک مسئلہ توحید ہے، امام مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن۔ قال الضحاک ھو التوحید وقال مقاتل ھو القرآن (بحر ج 6 ص 120) ۔ یعنی آپ اعلان کردیں کہ یہ مسئلہ توحید اور اللہ کے کلمات و آیات جن میں مسئلہ توحید اور دیگر احکام بیان کیے گئے ہیں سب حق ہیں اور اللہ کی جانب سے نازل شدہ ہیں۔ ” فمن شاء فلیومن الخ “ یہ تہدید اور شان استغناء کا اظہار ہے مطلب یہ کہ ہم نے تو مسئلہ توحید کو اپنے پیغمبر کے ذریعے واضح کردیا ہے۔ اور اس کی سچائی پر عقلی اور نقلی دلائل بھی قائم کردئیے ہیں، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے اور جس کا جی چاہے اس کا انکار کر کے شرک پر اڑا رہے، جو مان لے گا وہ ہمارا کچھ نہیں سنوارے بلکہ اس کا اپنا فائدہ ہے اور جو انکار کرے گا وہ ہماری کچھ نہیں بگاڑ سکے گا بلکہ اپنی ہی عاقبت خراب کرے گا۔ وفیہ من التھدید والاستغناء عن متابعتھم (روح ج 15 ص 266) ۔ 38:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ مسئلہ توحید کا انکار کرنے والوں کے لیے ” سرادق “ (قنات) جس طرح قناتیں آدمیوں کے گرد گھیرا ڈال لیتی ہیں، اسی طرح جہنم کی آگ کے شعلے جہنمیوں کو گھیر لیں گے، ” المھل “ (تیل کی تلچھٹ) جہنم میں جب ان کو پیاس لگے گی اور وہ پانی مانگیں گے، تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی، جو تیل کی تلچھٹ کیطرح گندا اور اس قدر گرم ہوگا کہ ان کے مونہوں کو بھون ڈالے گا۔
Ayahs 18:30–3139:۔ یہ مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ مشرکین کے شبہات کا مدلل رد کرنے کے بعد منکرین کے لیے تخویف اخروی اور مومنین کے لیے بشارتِ اخروی نازل ہوئی۔ واعلم انہ تعالیٰ لما وصف الکفر والایمان والباطل و الحق اتبعہ بذکر الوعید علی الکفر والاعمال الباطلۃ وبذکر الوعد علی الایمان والعمل الصالح (کبیر ج 5 ص 714) ۔ ” سندس “ باریک ریشم اور ” استبرق “ موٹے ریشم کو کہتے ہیں۔ السندس الرقیق من الدیباج والاستبرق الغلیظ منہ (مفردات ص 227) ۔
Ayah 18:3240:۔ جو لوگ دنیوی شان و شوکت اور کثرت مال و دولت پر مغرور ہو کر حق اور توحید کو ٹھکرا دیتے اور زر و جواہر کے خزانوں پر فخر و مباہات کا اظہار کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ اور کمال رحمت کے تحت تین طریقوں سے نصیحت فرماتا ہے تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ اول دولت کے دنیا ہی میں موجب عذاب ہونے کا اظہار فرما کر، دوم دنیوی مال و دولت کی قلت اور حقارت بیان فرما کر، سوم دولت دنیا کے آخرت میں بھی موجب عذاب ہونے کا ذکر فرما کر۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو اسرائیلی بھائیوں قطروس مشرک اور یہودا مومن کا قصہ بیان کر کے پہلے طریقہ کے مطابق پند و نصیحت فرمائی ہے۔ یہ واقعہ دنیوی مال و متاع کے بےثباتی، اور دولت دنیا پر مغرور ہو کر اللہ کی توحید کو چھوڑنے کے بد انجام کا واضح ثبوت اور شاہد ہے کہ قطروس مشرک اپنے باغات، مال و اولاد اور اپنے کنبے پر اس قدر مغرور تھا کہ اللہ کی توحید کو پس پشت ڈال دیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیج کر اس کے باغات کو تباہ و برباد کردیا اور جن بزرگوں اور پیروں کی نصرت و یاری اور جس خاندانی جمعیت کی طاقت پر اس کو بھروسہ تھا ان میں سے کچھ بھی اس کے کام نہ آیا۔ المقصود من ھذا ان الکفار افتخروا باموالھم وانصارھم علی فقراء المسلمین فبین اللہ تعالیٰ ان ذلک مما لایوجب الافتخار ولاحتمال ان یصیر الفقیر غنیا والغنی فقیرا اما الذی یجب حصول المفاخرۃ بہ فطاعۃ اللہ وعبادتہ (کبیر ج 5 ص 711) ۔
41:۔ ان دونوں بھائیوں میں سے ایک (قطروس مشرک) کے انگور کے دو باغ تھے جن کے گرد کھجور کے درخت تھے اور جو زمین دونوں باغوں کے درمیان واقع تھی اس میں غلے اور سبزی کے کھیت لہلہا رہے تھے۔ حاصل یہ کہ اس کی زمین ہر قسم کے میووں، پھلوں اور غلوں کے لیے نہایت موزوں اور اعلی درجہ کی زرخیز تھی اور پھر باغوں اور کھیتوں کی ترتیب نہایت عمدہ اور خوشنما تھی۔ جعلناھا ارضا جامعۃ للاقوات والفوا کہ ووصف العمارۃ بانہا متواصلۃ متشابکۃ لم یتوسطھا ما یقطعھا مع الشکل الحسن والترتیب الانیق (مدارک ج 3 ص 10) ۔
Ayah 18:3342:۔ یہاں طلم کے معنی کم کرنے کے ہیں، ولم تظلم منہ شیئا ای لم تنقص (مفردات ص 318) ان باغوں کا معاملہ دوسرے باغوں سے بالکل جدا گانہ تھا عام طور پر پھلدار درخت ایک سال زیادہ پھل دیتے ہیں اور ایک سال کم، مگر قطروس کے باغوں کے درخت اور پودے ہر سال بکثرت پھل اور میوے پیدا کرتے تھے (روح ج 15 ص 274) ۔
Ayah 18:3443:۔ باغوں اور کھیتوں کا محل وقوع، حسن ترتیب اور زمینوں کی زرخیزی بیان کرنے کے بعد ان کے مالک کا غرور و استکبار بیان فرمایا کہ کس طرح وہ اپنے باغوں اور کھیتوں کی شادابی اور اپنی نفی پر غرور کرتا اور اپنے غریب اور مومن بھائی کو کس قدر ذلیل و حقیر سمجھتا تھا۔ ” انا اکثر منک الخ “۔ قطروس مشرک نے فخر و غرور سے کہا کہ میرے پاس تم سے دولت بھی زیادہ ہے اور میرے اعوان وانصار بھی طاقت ور ہیں۔ ” ظالم لنفسہ “ وہ شرک اور غرور کر کے اپنی جان پر ظلم کر رہا تھا۔