Ayahs 18:35–3644:۔ جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور اس کی سرسبزی و شادابی اس کی خوبصورتی اور پھلوں کی کثرت کو دیکھا تو وہ حب دنیا اور حرص و آز کے خیالات میں کھو گیا اور بول اٹھا کہ جب تک میں زندہ ہوں اس وقت تک تو یہ باغ تباہ نہیں ہوگا۔ اور ہمیشہ اسی تازگی، شادابی اور رونق کے ساتھ برقرار رہے گا، اور میرا بھائی جس قیامت سے مجھے ڈراتا ہے اور جس آخرت کی آسائش و راحت کے لیے مجھے توحید اور اعمال حسنہ کی تلقین کرتا ہے، اول تو وہ قیامت آنے کی نہیں۔ ” و لئن رددت “ اور اگر بالفرض قیامت آ بھی گئی تو آخرت میں بھی میرا انجام اچھا ہوگا اور وہاں بھی مجھے مال و دولت اور عیش و عشرت کی زندگی نصیب ہوگی وہ اس شبہہ میں مبتلا تھا کہ اللہ کے یہاں اس کی بڑی قدر و منزلت ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا میں مال و دولت، جاہ و حشم اور شان و شوکت کی زندگی عطا فرمائی ہے اور وہ ان تمام انعامات کا مستحق ہے اس لیے آخرت میں اللہ کے نزدیک اس کی یہ قدر و منزلت اور اس کا استحقاق باقی رہے گا۔ اور اسے وہاں بھی ساری نعمتیں میسر ہوں گی (کبیر ج 5 ص 718) حضرت شیخ فرماتے ہیں وہ مشرک تھا جیسا کہ آخر میں خود اس نے اظہار ندامت کے طور پر کہا تھا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا وہ بزرگوں کو حاجت روا، مشکل کشا اور مانع و معطی سمجھا تھا، اس کا اعتقاد تھا کہ جن بزرگوں کے طفیل دنیا میں اسے دولت و شوکت حاصل ہے ان کی سفارش آخرت میں بھی کام دے گی اور وہاں بھی اسے ہر قسم کا عیش حاصل ہوگا۔ لعل ذلک الکافر مع کونہ منکرا للبعث کان عابد صنم الخ (کبیر ج 5 ص 719) ۔
Ayah 18:3745:۔ قطروس مشرک کے جواب میں اس کا مومن بھائی یہوذا اسے وعظ و نصیحت کرنے لگا۔ ” اکفرت بالذی الخ “ یہاں کفر سے مراد ذات خداوندی کا انکار نہیں کیونکہ قطروس خدا کا منکر نہیں تھا وہ وجود باری تعالیٰ کا قائل و معترف تھا جیسا کہ ” ولئن رددت الی ربی “ میں اس کا اقرار گذر چکا ہے بلکہ کفر سے یہاں شرک اور اللہ کی توحید کا انکار مراد ہے۔ اس کے مشرک ہونے کا اعتراف آگے آرہا ہے، الظاھر انہ کان مشرکا کما یدل علیہ قول صاحبہ تعریضا بہ (ولا اشرک بہ احدا) وقولہ (یلیتنی لم اشرک بربی احدا) ۔ فالمراد بقولہ (اکفرت) ء اشرکت۔ (روح ج 15 ص 277) ۔
Ayah 18:3846:۔ ” لکنا “ اصل لکن انا تھا، ہمزہ کو مع حرکت علی خلاف القیاس حذف کردیا گیا، دو نون جمع ہوگئے پہلا ساکن اور دوسرا متحرک، پہلے کو دوسرے میں ادغام کردیا گیا تو لٰکِنَّا ہوگیا، اس سے واضح ہوگیا کہ یہ واحد متکلم کا صیغہ ہے، جمع نہیں ہے (روح) اس جملے کی ترکیب اس طرح ہوگی۔ ” انا “ مبتدائے اول ” ھو “ ضمیر شان مبتدائے ثانی۔ ” اللہ “ مبتدائے ثالث، ” ربی “ اس کی خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ مبتدائے ثانی کی خبر ہوئی، مبتدائے ثانی اپنی خبر سے مل کر مبتدائے اول کی خبر ہوئی (بحر ج 6 ص 128) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں ” انا “ کے بعد ” اقول “ محذوف ہے اصل میں تھا لکن انا اقول ھو اللہ ربی (بحر) ۔ ” و لا اشرک الخ “ اس میں دوسرے بھائی کے مشرک ہونے کی طرف لطیف اشارہ اور تعریض ہے۔ تعریض باشراک صاحبہ (بحر) ۔ یعنی تم نے تو اللہ کے ساتھ شرک کیا اور غیر اللہ کو کارساز سمجھا لیکن میں اعلان کرتا ہوں کہ صرف اللہ ہی میرا مالک و کارساز اور پروردگار ہے اور میں کبھی اس کے ساتھ شرک نہیں کروں گا۔
Ayahs 18:39–4147:۔ قطروس جب باغ میں داخل ہوا وہ دولت کے نشے میں ایسا مدہوش تھا کہ خدا کو بھی بھول گیا اور قیامت کا بھی انکار کر بیٹھا اور اپنی دولت پر لگا اترانے، اس پر اس کے بھائی نے اسے نصیحت کی کہ جب تو باغ میں داخل ہوا تھا تجھے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا جس نے یہ سب نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں۔ ” ما شاء اللہ “ اور جو کچھ اس باغ میں ہے سب اللہ کی مہربانی اور اس کی مشیت سے ہے اور یہ سب کچھ اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے چاہے آباد رکھے چاہے برباد کردے۔ کل ما فیہا انما حصل بمشیۃ اللہ وان امرھا بیدہ ان شا 4 ترکہا عامرۃ وان شاء خر بھا (مدارک ج 3 ص 11) ۔ شاید قطروس نے مشیت میں اللہ کے ساتھ کسی اپنے معبود کو شریک کیا ہو جیسا کہ آج کل بھی جاہل لوگ کہتے ہیں ” جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے چاہا “۔ حالانکہ یہ کلمہ شرک ہے۔حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص کی زبان سے نکل گیا۔ کما شاء اللہ ورسولہ۔ اس پرحضور ﷺ نے اسے تنبیہ فرمائی اور فرمایا قولوا ماشاء اللہ وحدہ یوں کہا کرو۔ جس طرح صرف اللہ نے چاہا۔ لا قوۃ الا باللہ۔ نعمتیں عطا کرنے کے بعد چھین لینے کی طاقت و قوت صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن بزرگوں کو تو نے اللہ کا شریک بنایا ہوا ہے ان کے پاس کچھ نہیں جس اللہ نے تجھے یہ باغات اور یہ سامان تعیش عطا فرمایا ہے وہ اس کے چھین لینے اور اسے آن واحد میں تباہ و برباد کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔
48:۔ یہ سب یہوذا کا کلام ہے۔ ” حسباناً “ سے عذاب الہی مراد ہے۔ ” صعیدا زلقا “ چٹیل میدان جس میں کوئی روئیدگی نہ ہو۔ و حضا الانبات فیہ (مفردات ص 214) ۔ یعنی اگر تو کثرت مال اولاد پر فخر کر رہا ہے اور مجھے ان چیزوں کی کمی کی وجہ سے حقیر سمجھتا ہے تو سن لے کہ مال و اولاد چند روزہ دنیوی زندگی کی آنی فانی اور ناپائیدار زینت ہے، یہ فخر و مباہات کی چیز نہیں، اگر آج تو زر و جواہر میں کھیل رہا ہے اور اپنے باغوں پر اتراتا پھر رہا ہے اور میں مال اولاد میں تم سے کم ہوں تو جس خدائے بلندی و پستی نے تجھے دولت دی اور مجھے نہیں وہ ایسا بھی کرسکتا ہے کہ جو کچھ اس نے تجھے دیا ہے مجھے اس سے بھی زیادہ عطا فرما دے اور تیرے باغ کو طوفانِ برق وباد سے نیست نابود کردے یا زمین کا پانی خشک کردے اور تیرے باغات اور سرسبز و شاداب کھیت برباد ہوجائیں۔
Ayah 18:4249:۔ مومن نے جس خیال کا اظہار کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے کر دکھایا اور رات کے وقت ایسا عذاب بھیجا جس سے اس کے باغات اور دیگر اموال تباہ و برباد ہوگئے۔ اھلک اموالہ المعھودۃ من جنتیہ وما فیھما (ابو السعود ج 5 ص 710) ۔ ” فاصبح یقلب کفیہ الخ “ جب صبح کو باغوں کی تباہی کا منظر دیکھا تو جو کچھ باغوں کی دیکھ بھال پر خرچ کیا تھا اس پر کف افسوس ملنے لگا۔ ” و یقول یلیتنی الخ “ اب اسے بھائی کی نصیحت یاد آئی اور سخت نادم ہو کر بول اٹھا، کاش ! میں نے اپنے مالک اور پروردگار کے ساتھ شرک نہ کیا ہوتا۔ یہ اس پر قرینہ ہے کہ وہ مشرک تھا اور غیر اللہ کو کارساز اور حافظ و ناصر سمجھتا تھا۔
Ayahs 18:43–4450:۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو جس خاندانی جمعیت پر اسے ناز تھا اور جن معبودوں کو وہ اللہ کے سوا کارساز اور متصرف سمجھتا تھا ان میں سے اس آڑے وقت میں کوئی بھی اس کے کام نہ آیا اور نہ اپنے ہی قوت بازو سے اللہ کے عذاب سے اپنے باغوں کو بچا سکا۔ ” ھنالک الولایۃ للہ الحق “ اس واقعہ سے معلوم ہوگیا کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ اور اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کر رکھا۔
Ayahs 18:45–4651:۔ یہاں سے اصلاحِ منکرین کا دوسرا طریقہ شروع ہوتا ہے۔ یہاں بیان فرمایا کہ یہ مال و اولاد اور یہ دنیوی شان و شوکت نہایت حقیر اور ناپائیدار ہے، اس کی خاطر تم حق سے منہ موڑ کر اپنی ابدی زندگی اور اخروی حیات کو کیوں برباد کرتے ہو۔ اعلم ان المقصود اضرب مثلاً آخر یدل علی حقارۃ الدنیا وقلۃ بقائھا (کبیر ج 5 ص 722) ۔
Ayahs 18:47–4952:۔ یہ اصلاح منکرین کا تیسرا طریقہ ہے۔ یعنی دنیا کی خاطر دین کو چھوڑتے ہیں وہی دنیا ان کے لیے وبال جان ثابت ہوگی اور آخرت میں اس کی وجہ سے دردناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ” نسیر الجبال الخ “ پہاڑوں کو چلانے سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن پہاڑوں کو ان کی جگہوں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ بادلوں کی طرح فضائے آسمانی میں اڑا دئیے جائیں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمر مر السحاب “۔” بارزۃ “ ظاہر اور نظر آنے والی زمین کا جو حصہ پہاڑوں سے چھپا ہوا تھا وہ اب عریاں ہو کر صاف نظر آنے لگے گا۔ ” لا یغادر الخ “ مجرمین جب اپنا نامہ اعمال دیکیں گے تو سخت متحیر ہوں گے اور کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے ؟ اس نے تو نہ کوئی چھوٹی بات چھوری نہ بڑی اس میں تو ہماری ہر بدی لکھی ہوئی ہے۔ لا یغادر ای لایترک۔
Ayah 18:5053:۔ جواب شبہہ ثانیہ :۔ یہ دوسرے شب ہے کا جواب ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ اولیاء اللہ کی خانقاہوں اور قبروں پر واقع درخت وگیرہ کاٹنے سے نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیب دان اور متصرف فی الامور ہیں۔ اس کا جواب دیا کہ اولیاء اللہ کو تو اس کا بھی علم تک نہیں ہوتا کہ مشرک لوگ ان کی قبروں پر کیا کیا مشرکانہ اعمال و رسوم بجا لا رہے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں وارد ہے کہ وہ قیامت کے دن خدا کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ان کو لوگوں کے شرک کا علم نہیں تھا۔ ” فکفی باللہ شہیدا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغفلین۔ “ ( سورة یونس رکوع 3) اور سورة فاطر رکوع 2 میں ہے۔ ” ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم “ اس لیے یہ سب شیاطین کی شرارت ہے وہ لوگوں کے دلوں میں وساوس اور شبہات ڈال کر گمراہ کرتے اور ان سے شرک کراتے ہیں اور تعجب ہے کہ شیطان جو بنی آدم کا روز ازل سے بد ترین دشمن ہے، لوگ اس کے وسوسوں میں آخر کس طرح اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
54:۔ یہ انسانوں سے شیطان کی پرانی دشمنی کا بیان ہے۔ یہ شیطان وہی ہے جس نے تمام انسانوں کے جد اعلی حضرت آدم (علیہ السلام) کو حقارت کی نظر سے دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے باوجود اس کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس اصل میں جنات میں سے تھا لیکن کثرت عبادت کی وجہ سے ملائکہ میں شامل تھا۔ ” افتتخذونہ و ذریتہ اولیاء الخ “ ہمزہ استفہام انکار و تعجب کے لیے ہے۔ المزۃ للانکار والتعجب (روح ج 15 ص 294) یعنی تعجب ہے کہ ایسی قدیم دشمنی کے باوجود تم اس کو دوست رکھتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو۔ ” بئس للظلمین بدلا “ ظالموں اور مشرکوں نے اللہ کی عبادت اور اطاعت کی بجائے ابلیس اور اس کی ذریت کی اطاعت و عبادت اختیار کر رکھی ہے جو خدا کی اطاعت کا بہت برا بدل ہے۔ یعنی بئس ما استبدلوا طاعۃ ابلیس و ذریتہ بعبادۃ ربھم وطاعتہ (خازن ج 4 ص 176) ۔
Ayah 18:5155:۔ یہ ماقبل کی دلیل اور علت ہے یعنی ابلیس اور اس کی ذریت کو جو تم میری عبادت اور اطاعت میں شریک بناتے ہو تو کیا زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں یا خود ان کی اپنی پیدائش میں میں نے ان کو شریک کیا تھا ؟ یا اس کے بارے میں ان سے کوئی مشورہ لیا تھا ؟ ہرگز نہیں، میں نے ایسا نہیں کیا۔ اول تو مجھے کسی معاون یا مشیر کی ضرورت ہی نہیں اور اگر بالفرض ہوتی بھی تو میں ان ناپاک فطرت شیطانوں کو جن کا کام ہی میری مخلوق کو سیدھی راہ سے بھٹکانا ہے کبھی اپنا معاون و مددگار نہ بناتا۔ جب یہ شیاطین میرے کاموں میں اور میرے اختیارات و تصرفات میں میرے شریک نہیں تو میری عبادت اور اطاعت میں میرے شریک کس طرح بن سکتے ہیں ؟ بلکہ جس طرح تم میری عاجز مخلوق اسی طرح یہ بھی میری عاجز و بےبس مخلوق ہیں اور ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ ھؤلاء الذین اتخذتموھم اولیاء من دونی عبید امثالکم (ابن کثیر ج 3 ص 89) ۔
Ayah 18:5256:۔ خدا کی اطاعت میں ابلیس اور اس کی ذریت کو شریک بنانے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے، ان لوگوں نے شیطانی وسوسوں میں آخر غیر اللہ کی عبادت و پکار شروع کردی۔ اللہ کے نیک بندوں کو کارساز اور متصرف و مختار سمجھ کر حاجات و مشکلات میں غائبانہ طور پر پکارنے لگے اور ان کو خدا کے یہاں شفیع غالب سمجھ لیا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بطور تبکیت و توبیخ فرمائے گا کہ دنیا میں جن کو تم میرا شریک بناتے تھے اور ان کو سفارشی سمجھتے تھے، آج ان کو بلاؤ تاکہ وہ تمہیں میرے عذاب سے چھڑا لیں، اس پر مشرکین اپنی عادت قدیمہ کے مطابق اپنے معبودوں کو مدد کے لیے پکاریں گے مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ ادعوھم الیوم ینقذونکم مما انتم فیہ (ابن کثیر ج 3 ص 90) ھؤلاء المشرکین الذین اتخذوا من دون اللہ الھۃ کالملئکۃ و عیسیٰ دعوا ھؤلاء فلم یستجیبوا لھم (کبیر ج 5 ص 730) ۔ ” و جعلنا بینھم موبقا “ موبق، و بوق بمعنی ہلاکت سے اسم ظرف ہے یعنی جائے ہلاکت اور اس سے مراد جہنم ہے۔ ” بینھم “ کی ضمیر مشرکین اور ان معبودین کی طرف راجع ہے جو اپنی عبادت پر راضی تھے جیسے شیاطین اور جھوٹے پیر گدی نشین۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق عذاب جہنم میں شریک ہوں گے۔ ای مھلکا یشترکون فیہ وھو النار (روح ج 15 ص 298) ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ موبق جہنم میں ایک وادی کا نام ہے اور مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور معبودین (جو اپنی عبادت پر راضی نہیں تھے مثلا فرشتے، انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام) کے درمیان جہنم کی وادی حائل ہوجائے گی اور مشرکین اس میں گرادئیے جائیں گے۔ وحصل بین اولئک الکفار و بین الملئکۃ و عیسیٰ (علیہ السلام) ھذا الموبق وھو ذالک الوادی فی جھنم (کبیر ج 5 ص 730) ۔
Ayah 18:5357:۔ جب مشرکین اپنے سفارشیوں سے ناامید ہوجائیں گے تو اب ان کے سامنے جہنم کی آگ ہوگی جسے دیکھتے ہی انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس میں گر کر رہیں گے اور اب آگ سے بچ نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔
Ayah 18:5458:۔ یہ زجر ہے، ہم تو تمام انسانوں کی مصلحت اور ان کے فائدے کے لیے واضح اور کھلی مثالیں بار بار بیان کرتے ہیں مگر انسان ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کج بحثی اور جدال سے کام لے کر ہدایت سے اور دور ہوجاتا ہے۔
Ayah 18:5559:۔ یہ زجر مع تخویف اخروی ہے۔ ” الناس “ سے مشرکین قریش مراد ہیں۔ المراد بھم کفار قریش (روح ج 15 ص 300) ۔ ” ان یومنوا “ اس سے پہلے من مقدر ہے اور ان مصدریہ ہے ای من ایمانھم۔ ” اذ “ منع کے متعلق ہے اور ” الھدی “ سے قرآن مجید یا آنحضرت ﷺ مراد ہیں اور ھدی کا اطلاق دونوں پر بطور مبالغہ ہے یعنی وہ سراپا ہدایت ہیں۔ ” ویستغفروا ربھم “ یہ ” یومنوا “ پر معطوف ہے ” الا ان تاتیھم الخ “ اس سے پہلے مستثنی منہ، محذوف ای شیء۔ ” قبلا “ قبیل کی جمع ہے اور مراد عذاب کی مختلف انواع و اقسام ہیں یہ ” العذاب “ سے حال واقع ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے ہوگا کہ جب مشرکین کے پاس اللہ کی طرف سے ہدایت آگئی تو اللہ کی توحید پر ایمان لانے، شرک کو ترک کرنے اور اپنے گذشتہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگنے سے ان کو دو چیزوں کے سوا کسی چیز نے نہیں روکا۔ وہ اس انتظار میں رہے کہ یا تو ان سے وہی سلوک ہو جو پہلے زمانے میں مشرکین اور منکرینِ انبیاء سے ہوا یعنی ان کو ہلاک کردیا جائے اور ان کا استیصال ہوجائے۔ ” سنۃ الاولین “ سے یہی مراد ہے۔ المراد بھا الاھلاک بعذاب الاستیصال (روح) یا یہ کہ انہیں سرے سے ہلاک تو نہ کیا جائے بلکہ زندگی میں عذاب خداوندی مختلف صورتوں میں ان پر نازل ہوتا رہے۔ والمعنی انھم لا یقدمون علی الایمان الا عند نزول عذاب الاستیصال فیھلکوا وان یتواصل انواع العذاب والبلاء حال بقائھم فی الحیوۃ الدنیا (کبیر ج 5 ص 731) ۔
Ayahs 18:56–5760:۔ یہ سوال مقدر کا جواب ہے، مشرکین نے کہا جب ہم نہیں مانتے تو ہمیں فوری عذاب سے ہلاک کیوں نہیں کردیا جاتا تو فرمایا ہم رسول اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ ہمارے احکام کی تبلیغ کریں ماننے والوں کو خوشخبری سنائیں اور منکرین کو عذاب سے ڈرائیں تاکہ ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے اس کے بعد بھی نہ مانیں تو پھر عذاب آئے گا۔
61:۔ یہ کفار مجادلین پر زجر ہے، ” بالباطل “ میں با سببیہ ہے اور باطل سے شبہات واہیہ، شکوک باطلہ اور من گھڑت قصے مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ باطل شے پیش کر کے حق کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے میری آیتوں کو اور میری طرف سے عذاب و عقاب کی دھمکیوں کو محض استہزاء و تمسخر کا نشانہ بنا رکھا ہے، ” و ما انذروا “ میں واؤ بمعنی مع اور عائد محذوف ہے یعنی ” بہ “ اور ” ما انذروا بہ “ سے مراد عذاب ہے یا قرآن مجید اس صورت میں آیات سے مراد معجزات ہوں گے۔
Ayahs 18:58–5962:۔ یہ بھی زجر ہے۔ ” وربک الغفور ذو الرحمۃ الخ “ یعنی اللہ تعالیٰ غفور، اور ذو الرحمۃ بھی ہے، لیکن اگر لوگوں کی بد اعمالیوں پر ان کو پکڑ لے تو اس کے عذاب سے بھی ان کو کوئی نہیں چھڑا سکتا۔
63:۔ یہ دنیا کا عذاب تو معمولی عذاب ہے آخرت کا عذاب بڑا سخت اور اس سے بچنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ ” موئلا “ جائے پناہ اور جائے فرار، ” و تلک القری الخ “ کا اشارہ محسوس مبصر کی طرف نہیں بلکہ معہود فی الذہن کی طرف ہے اور ” القری “ سے پہلے مضاف مقدر ہے ای اھل القری۔ اور اس سے مراد عاد وثمود اور قوم لوط ہے۔ ان اقوال کی تباہی کی داستانیں عرب میں معروف ومعلوم تھیں اس لیے انہیں بمنزلہ محسوس قرار دے کر ” تلک “ سے ان کی طرف اشارہ فرمایا۔ والاشارۃ لتنزیلھم لعلمھم بہم منزلۃ المحسوس (روح ج 15 ص 306) ۔ اہل بدعت ما تقول فی ھذا الرجل الخ سے آنحضرت ﷺ کے قبر میں حاضر و ناظر ہونے پر استدلال کرتے ہیں۔ مذکورہ آیت سے ان کا استدلال باطل ہوجاتا ہے کہ کیونکہ مشار الیہ کے لیے محسوس مبصر ہونا ضروری نہیں۔ جس طرح ” تلک القری “ میں تلک سے معہود فی الذہن بستیوں کی طرف اشارہ ہے اسی طرح ھذا الرجل میں بھی معہود فی الذہن کی طرف ہی اشارہ ہے۔ ” موعدا “ یعنی وقت معین، مطلب یہ کہ ان قوموں نے جب ظلم کیا، شرک و کفر اور بد عملی سے باز نہ آئے تو ہم نے ایک معین وقت میں جو ان کی ہلاکت کے لیے مقدر تھا ان کو ہلاک کردیا اور ہمارا عذاب مقررہ وقت سے ایک پل بھی مقدم یا مؤخر نہیں ہوا۔
Ayah 18:6064:۔ جواب شبہہ ثالثہ :۔ یہ تیسرے شب ہے کا جواب ہے۔ شبہہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ وخضر (علیہما السلام) کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اگرچہ غیب داں نہ تھے لیکن حضرت خضر (علیہ السلام) تو غیب داں تھے کیونکہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو امور غیبیہ بتائے تھے۔ اس شبہہ کا جواب واقعہ کے آخر میں دیا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے خود اعتراف کیا تھا کہ ان امور کا ان کو کوئی علم نہیں تھا۔ انہیں ان باتوں کا علم اللہ تعالیٰ کے بتانے سے حاصل ہوا اور انہوں نے جو کچھ بھی کیا اللہ کے حکم سے کیا تھا ” وما فعلتہ عن امری “۔” لفتاہ “ فتی (نوجوان) سے یوشع بن نون مراد ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خادم تھا اور ان سے علم حاصل کرتا تھا، اس سفر میں وہ ان کے ہمراہ تھا۔ مجمع البحرین، دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ، دو دریاؤں سے بحیرہ روم اور بحیرہ فارس مراد ہیں جیسا کہ حضرت مجاہد اور قتادہ سے منقول ہے۔ و مجمع البحران قال مجاھد وقتادۃ ھو مجتمع بحر فارس و بحر الروم (بحر ج 6 ص 144، قرطبی ج 11 ص 9، روح ج 15 ص 212) ۔ ” حقباً “ اسم مفرد ہے اس کی جمع احقب اور احقاب ہے۔ حضرت ابن عباس اور کئی مفسرین سے منقول ہے کہ حقب کے معنی مطلق زمانے کے ہیں۔ یعنی زمان مبہم اور غیر محدود مراد زمان طویل یعنی مدتہا والمعنی حتی یقع اما بلوغی المجمع او مضی حقبا ای سیری زمانا طویلا۔ یعنی یا تو میں مجمع البحرین میں پہنچ جاؤں گا یا مدتوں چلتا رہوں گا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس سفر کا باعث یہ ہوا کہ جیسا کہ مفسرین نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ کون سا بندہ تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ فرمایا جو مجھے ہر وقت یاد رکھتا ہو اور کبھی نہیں بھولتا۔ پھر عرض کیا تیرے بندوں میں سب سے اچھا قاضی کون ہے ؟ فرمایا جو صحیح فیصلہ کرے اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرے۔ پھر عرض کیا تیرے بندوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ ارشاد فرمایا جو لوگوں سے ان کا علم حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے، اس خیال سے کہ اسے کوئی ایسی بات مل جائے جس سے وہ راہنمائی حاصل کرے یا وہ اپنے کو ہلاکت سے بچا لے۔ اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ اے اللہ، اگر تیرے بندوں میں کوئی بندہ مجھ سے بڑا عالم ہے تو مجھے اس کا پتہ بتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ سے زیادہ عالم ہمارا بندہ خضر ہے جو مجمع البحرین میں رہتا ہے، تم ایک مچھلی تل کر توشہ دان میں رکھ لو اور مجمع البحرین کی طرف روانہ ہوجاؤ جہاں مچھلی گم ہوجائے سمجھ لو کہ ہمارا بندہ وہیں رہتا ہے (کبیر ج 5 ص 735، روح ج 15 ص 313) ۔
Ayah 18:6165:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ہمسفر یوشع دنوں دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے تو وہاں ایک پتھر کے سایہ میں سستانے کے لیے رک گئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سو گئے اور حضرت یوشع بیدار تھے اسی اثنا میں انہوں نے دیکھا کہ مچھلی توشہ دان میں حرکت کرنے لگی یہاں تک کہ اس سے نکل کر دریا میں داخل ہوگئی، حضرت یوش نے سوچا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت آرام کی نیند سے بیدار نہ کریں جب وہ خود اٹھیں گے انہیں حقیقتِ حال سے آگاہ کردوں گا۔ ” فی البحر سربا “ مچھلی نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا اور اس میں گھس گئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مچھلی کے بارے میں پوچھنا یاد نہ رہا، اس سے معلوم ہوا کہ وہ غیب داں تھے۔
Ayahs 18:62–6466:۔ جب دونوں مجمع البحرین سے آگے نکل گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس سفر سے بہت تھک گئے ہیں اب کھانا لاؤ۔ ” نصبا “ تعبا یعنی تھکاوٹ اور تکلیف۔ ” قال ارءیت الخ “ ساتھی کو اب مچھلی کا واقعہ یاد آیا اور اس نے جواب میں کہا جب ہم نے پتھر کے سایہ میں آرام کیا تھا، اس وقت وہ مچھلی عجیب معجزانہ طور پر زندہ ہو کر توشہ دان سے نکل کر دریا میں گھس گئی تھی مگر آپ سے اس کا حال بیان کرنا بھول گیا۔ ” قال ذالک الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہماری منزل مقصود کی یہی تو علامت تھی چناچہ وہیں سے الٹے پاؤں واپس ہوئے۔ ” قصصا “ یہ مصدر ہے اور فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔ ای یقصان قصصا۔ یا مصدر بمعنی اسم فاعل ارتدا کے فاعل سے حال ہے، یعنی اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس مڑے جہاں سے مچھلی دریا میں داخل ہوئی جب وہاں پہنچے تو قریب ہی جزیر میں خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غیب دان تھے اگر غیب داں ہوتے تو انہیں حضرت خضر کی جگہ معلوم ہوتی اور وہ اس جگہ سے آگے نہ نکل جاتے۔
Ayahs 18:65–6767:۔ اس بندے سے قول مختار کے مطابق حضرت خضر (علیہ السلام) مراد ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے تکوینیات کا وہ علم عطا فرمایا تھا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس نہیں تھا جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علم شرائع حاصل تھا جو حضرت خضر (علیہ السلام) کے پاس نہیں تھا، چناچہ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت خضر نے کہا یموسا انا علی علم علمنی اللہ لا تعلمہ انت وانت علی علم علمک اللہ لا اعلمہ انا (کبیر ج 5 ص 734) ۔ حضرت خضر کے بارے میں بعض نے لکھا ہے کہ وہ فرشتہ تھا، بعض نے کہا ہے وہ ولی تھے، لیکن جمہور کا مسلک یہ ہے کہ وہ نبی تھے۔ حضرت خفر (علیہ السلام) کی نبوت پر خود قرآنی قرائن شاہد ہیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اتینہ رحمۃ من عندنا “ رحمت سے مراد وحی اور نبوت ہے اور یہ تعبیر انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ہی اختیار کی گئی ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ” یقوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من ربی و اتنی رحمۃ من عندہ “ ( سورة ہود رکوع 3) ۔ اور دوسری جگہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا قول نقل فرمایا ” یقوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من ربی و اتنی منہ رحمۃ “ ( سورة ہود رکوع 6) ۔ ان آیتوں میں ” رحمۃ “ سے مراد وحی اور نبوت ہے۔ والجمھور علی انھا الوحی والنبوۃ وقد اطلقت علی ذلک فی مواضع من القران (روح ج 15 ص 320) ۔ دوم یہ کہ معصوم بچے کے قتل کا واقعہ بھی شاہد کہ وہ نبی تھے کیونکہ ولی ہونے کی صورت میں بچے کو قتل کرنے کا اشارہ زیادہ سے زیادہ کشف والہام پر مبنی ہوسکتا ہے اور ولی کا کشف یا الہام ظنی چیز ہے اس سے قطع اور یقین کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کشف یا الہام کے اشارے ایک معصوم بچے کا قتل جائز نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ نبی تھے اور انہیں بچے کو قتل کرنے کا حکم وحی کے ذریعہ ہوا تھا یا کشف والہام سے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کا کشف اور الہام بھی وحی کی طرح قطعی ہوتا ہے۔
حیات خضر (علیہ السلام) :۔ علماء میں اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں۔ بعض علماء اور صوفیہ کا خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں، لیکن جمہور علمائے امت اور محققین صوفیائے ملت کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) فوت ہوچکے ہیں۔ ان کی وفات پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) سے فرداً فرداً یہ عہد لیا تھا کہ وہ اپنے بعد آنے والے ہر نبی کی تصدیق کریں اور اگر اس کا زمانہ پائیں تو اس کی مدد کریں اور اس کا ساتھ دیں، جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ ثم جاء کم ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ و لتنصرنہ “۔ اگر حضرت خضر زندہ ہوتے تو ان پر فرض تھا کہ وہحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، آپ پر ایمان لاتے اور ہر میدان جنگ میں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے، آپ کی اقتداء میں مازیں پڑھتے، جمعہ میں آپ کے ساتھ شریک ہوتے مگر کسی نماز میں یا کسی میدانِ جہاد میں ان کے حاضر ہونے کا کوئی ذکر اذکار نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے وہ خودحضور ﷺ کے زمانے میں بھی زندہ نہیں تھے۔ امام بخاری (رح) تعالیٰ سے کسی حضرت خضر اور حضرت الیاس (علیہما السلام) کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ زندہ ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا وہ کس طرح زندہ ہوسکتے ہیں جبکہ آنحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے تھوڑا سا پہلے فرمایا تھا۔ لا یبقی علی راس المائۃ ممن ھو الیوم علی ظھر الارض احد۔ یعنی اس وقت انسان زمین پر ہیں سو سال تک ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا۔ امام ابن تیمیہ نے فرمایا، کہ اگر حضرت خضر زندہ ہوتے تو ان پر فرض تھا کہ وہحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، آپ سے علم قرآن حاصل کرتے اور آپ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتے۔ اسی طرح امام ابراہیم بن اسحاق حربی امام شرف الدین محمد بن ابی الفضل مرسی، امام علی بن موسیٰ رضا اور ابو الحسین بن المنادی رحمہم اللہ تعالیٰ سے یہی منقول ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) فوت ہوچکے ہیں۔ (روح المعانی ج 15 ص 320) ۔ رہی یہ بات کہ بہت سے اولیاء اللہ کو حضرت خضر (علیہ السلام) کی حالت بیداری میں زیارت نصیب ہوئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے ان کی حیات پر استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ بعض کاملین اور محققین صوفیا نے فرمایا ہے۔ حضرت خضر کی زیارت عالم دنیا کی چیز نہیں بلکہ اس کا تعلق عالم مثال سے ہے، یعنی حضرت خضر (علیہ السلام) کی مثالی صورت بعض کاملین کو بیداری کی حالت میں نظر آتی ہے، چناچہ حضرت شیخ صدر الدین اسحاق قونوی (رح) اپنی کتاب تبصرۃ المبتدی و تذکرۃ المنتہی میں فرماتے ہیں۔ ان وجود الخضر (علیہ السلام) فی عالم المثال (روح ج 15 ص 326) ۔
Ayahs 18:68–7068:۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے ان کا مخصوص علم حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ رہنے کی درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ میرے علم کا تعلق تکوینیات سے ہے جس پر تم حاوی نہیں ہو اس لیے تم میرے ساتھ رہ کر میرے کاموں کو صبر و ضبط سے نہیں دیکھ سکو گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر و ضبط سے کام لینے اور ہر امر میں فرمانبرداری کرنے کا وعدہ کیا تو حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو میرے کسی کام پر اعتراض نہ کرنا جب تک کہ اس کی حقیقت میں خود بیان نہ کردوں۔ اس سے بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غیب دان ہونے کی نفی ہوتی ہے، اس معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی چیزوں کا علم ان کو نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ تین واقعے پیش آئے۔ تینوں سے یہ بات عیاں ہے۔
Ayahs 18:71–7369:۔ یہ پہلا واقعہ ہے، دورانِ سفر وہ کشتی میں سوار ہوئے حضرت خضر نے کشتی کا ایک تختہ توڑ دیا جس سے اس میں بڑا سا شگاف پڑگیا، شرعی طور پر بظاہر یہ حرکت ناجائز تھی اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا اور انہوں نے کہا کہ تم نے یہ کیا ناجائز حرکت کی ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے فرمایا میں نے جو کہا تھھا کہ تم ضبط سے کام نہیں لے سکو گے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول کا عذر کیا اور کہا کہ بھول کے بارے میں مجھ پر تنگی نہ کیجئے۔