18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 18:74–76

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ملے ایک لڑکے سے70 تو اس کو مار ڈالا موسیٰ بولا کیا تو نے مار ڈالی ایک جان ستھری بغیر عوض کسی جان کے بیشک تو نے کی ایک چیز نامعقول

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

بولا میں نے تجھ کو نہ کہا تھا کہ تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

کہا اگر تجھ سے پوچھیں کوئی چیز اس کے بعد تو مجھ کو ساتھ نہ رکھیو تو اتار چکا میری طرف سے الزام

70:۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جب کشتی سے اتر کر آگے چلے تو ایک لڑکا ملا حضرت خضر (علیہ السلام) نے اس لڑکے کو قتل کردیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پھر بول اٹھے کہ تم نے ایک معصوم اور بےگناہ بچے کو قتل کرکے بہت برا فعل کیا ہے۔ اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے پھر ان کو ان کا سابقہ عہد یاد دلایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں کہا، اب اگر میں تم پر اعتراض کروں تو بیشک آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں کیونکہ آپ کے پاس مجھے جدا کرنے کا معقول عذر ہوگا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مقتول چھوٹا لڑکا نہیں تھا بلکہ نوجوان آدمی تھا اور ” غلٰم “ کے معنی نوجوان کے بھی آتے ہیں۔ وقیل کان بالغا شابا (روح ج 15 ص 338) ۔ وقیل کان رجلا (خازن ج 4 ص 282) ۔
Ayahs 18:77–78

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک گاؤں کے لوگوں تک71 کھانا چاہا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے نہ مانا کہ ان کو مہمان رکھیں پھر پائی وہاں ایک دیوار جو گرا چاہتی تھی اس کو سیدھا کردیا بولا موسیٰ اگر تو چاہتا تو لے لیتا اس پر مزدوری

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

کہا اب جدائی ہے میرے اور تیرے بیچ اب جتائے دیتا ہوں تجھ کو پھیر ان باتوں کا جس پر تو صبر نہ کرسکا

71:۔ یہ تیسرا واقعہ ہے، دونوں ایک گاؤں میں پہنچے، بھوک لگ چکی تھی اس لیے گاؤں والوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو بہت پرانی تھی اور ایک طرف جھکی ہوئی تھی گویا کہ گرنا چاہتی ہے حضرت (علیہ السلام) نے وہ دیوار درست کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خیال آیا کہ گاؤں والوں نے کھانا تو ان کو کھلایا نہیں، دیوار بنانے کی مزدوری ہی لے لی ہوتی، یہ بات انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) سے کہہ دی۔ اس پر انہوں نے کہا بس اب میری اور تمہاری جدائی کا وقت آگیا ہے اور اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ ان تینوں واقعات کی حقیقت کیا جس کو نہ جاننے کی وجہ سے تم ان کو دیکھ کر صبر وضبط سے کام نہیں لے سکے۔
Ayahs 18:79–81

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

وہ جو کشتی تھی72 سو چند محتاجوں کی جو محنت کرتے تھے دریا میں سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور ان کے پرے تھا ایک بادشاہ جو لے لیتا تھا ہر کشتی کو چھین کر

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ تھے ایمان والے پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ ان کو عاجز کر دے زبر دستی اور کفر کر کر

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پھر ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں

72:۔ یہ پہلے واقعہ کی حکمت ہے، حضرت خضر (علیہ السلام) نے کہا، اس کشتی کے مالک بہت غریب اور مسکین اور یہی کشتی ان کا ذریعہ معاش تھی، وقت کا بادشاہ زبردست تھا جو ہر اچھی اور بےعیب کشتی جبراً چھین لیتا تھا اس لیے میں نے اس کشتی کو توڑ کر عیب دار کردیا تاکہ بادشاہ اسے چھین نہ لے۔ ” واما الغلم الخ “ یہ دوسرے واقعہ کی حکمت ہے، یعنی میں نے اس غلام (لڑکا یا نوجوان) کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بدکردار اور کافر ہونے والا تھا یا وہ بالفعل بدکردار اور کافر تھا لیکن اس کے والدین نیک اور صالح تھے اور مومن تھے تو ہمیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر وہ زندہ رہا تو کفر اور سرکشی سے ان کو تنگ کرے گا۔ اس لیے ہم نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کے بدلے اس سے اچھا فرزند عطا کرے جو دین داری کے اعتبار سے اور والدین پر شفقت اور مہربانی کے لحاظ سے اس سے کہیں زیادہ بہتر ہو۔ ” و اما الجدار الخ “ یہ تیسرے واقعہ کی حکمت ہے۔ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی تھی جن کا باپ بہت نیک تھا، اس دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔ اگر دیوار گر جاتی تو خزانہ ظاہر ہوجاتا جسے لوگ لوٹ کرلے جاتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ دونوں بچے بڑے ہو کر اپنا خزانہ اپنے استعمال میں لائیں اس لیے مجے دیوار درست کرنے کا حکم دیا۔
Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے مال گڑا تھا ان کا اور ان کا باپ تھا نیک پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچ جائیں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا مال گڑا ہوا مہربانی سے تیرے رب کی اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے73 یہ ہے پھیر ان چیزوں کا جن پر تو صبر نہ کرسکا

73:۔ ان تینوں حادثوں میں میں نے جو کچھ کیا ہے۔ اپنی مرضی اور اختیار سے نہیں اور نہ ان باتوں کا مجھے بذات خود علم تھا بلکہ ان باتوں کا اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا اور میں نے جو کچھ کیا ہے سب اللہ کے حکم سے کیا ہے۔ یہ ہے ان واقعات کی اصل حکمت اور حقیقت جس کو نہ جاننے کی وجہ سے تم صبر و ضبط سے کام نہ لے سکے۔ ” و ما فعلتہ عن امری ای عن رایی واجتھادی “ (روح ج 16 ص 14) ۔ یہ تیسرے شب ہے کا اصل جواب ہے۔
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تجھ سے پوچھتے ہیں74 ذوالقرنین کو کہہ اب پڑھتا ہوں تمہارے آگے اس کا کچھ احوال

74: شبہہ رابعہ کا جواب :۔ یہ چوتھے شب ہے کا جواب ہے، شبہہ یہ تھا کہ ذو القرنین کو اللہ تعالیٰ نے بڑی قدرت اور طاقت عطا فرمائی تھی جیسا کہ خود قرآن میں بھی فرمایا۔ ” انا مکنا لہ فی الارض واتینہ من کل شیء سببا “ اس پر شبہہ ہوتا تھا کہ ذو القرنین متصرف فی الامور تھا تو اس کا جواب دیا کہ اس کو جو طاقت دی گئی تھی وہ صرف ظاہری اسباب کے تحت تھی اور وہ بھی بقدر ضرورت، لیکن مافوق الاسباب امور میں سے وہ کسی چیز پر قادر نہیں تھا اور اسباب ظاہری کے اعتبار سے بھی ہر طرف سے عاجز آگیا۔ مشرق میں بوجہ گرمی اور مغرب میں دلدل کی وجہ سے اور شمال میں یاجوج ماجوج کی وجہ سے۔ ” یسئلونک “ وہ آپ سے سوال کرتے ہیں بظاہر ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ذو القرنین کے بارے میں بھی آپ سے سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں یہ آیتیں نازل ہوئی اور اگر واقعہ میں سوال نہیں ہوا تو مطلب یہ ہوگا ” و ان یسئلوک “ یعنی اگر وہ آپ سے ذو القرنین کے بارے میں سوال کریں تو آپ اس کا یہ جواب دیں۔
Ayahs 18:84–85

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو جمایا تھا ملک میں75 اور دیا تھا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

پھر پیچھے پڑا ایک سامان کے

75:۔ ہم نے اس کو زمین میں قدرت اور طاقت دی اور اسے سلطنت عطا فرمائی ” من کل شیء سببا “ یہاں کل استغراق حقیقی کے لیے نہیں بلکہ استغراق اضافی کے لیے ہے اور اس سے صرف وہ ملکی مہمات اور مقاصد مراد ہیں جن کو سر کرنے کا ذو القرنین نے ارادہ کیا تھا اور وہ امور جن کی ملکی اصلاح کے سلسلے میں اس کو ضرورت تھی من کل شیء سببا ارادہ من مھمات ملکہ و مقاصدہ المتعلقۃ بسلطان۔ (روح ج 16 ص 31) ۔ اور اسباب سے اسباب عادیہ مراد ہیں۔ والمراد بذلک الاسباب العادیۃ (روح) تو اس سے معلوم ہوگیا کہ ذو القرنین کو نہ کلی طور پر اختیار و تصرف حاصل تھا اور نہ اسے مافوق الاسباب امور پر قدرت و طاقت حاصل تھی۔
Ayahs 18:86–89

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا سورج ڈوبنے کی جگہ پایا کہ وہ76 ڈوبتا ہے ایک دلدل کی ندی میں اور پایا اس کے پاس لوگوں کو ہم نے کہا اے ذوالقرنین77 یا تو تو لوگوں کو تکلیف دے اور یا رکھ ان میں خوبی

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

بولا جو کوئی ہوگا بےانصاف سو ہم اس کو سزا دیں گے پھر لوٹ جائے گا اپنے رب کے پاس وہ عذاب دے گا اس کا برا عذاب

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو کوئی یقین لایا اور کیا اس نے بھلا کام سو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر لگا ایک سامان کے پیچھے

76:۔ یہ ذو القرنین کی مغربی مہم کا ذکر ہے۔ وہ مغرب کی جانب اس قدر دور نکل گیا کہ اب مزید آگے بڑھنے سے دلدل کے ایک طویل و عریض سمندر نے اسے روک دیا اور جانب مغرب میں گویا وہ زمین کے منتہی پر پہنچ گیا کیونکہ اس دلدل کو عبور کر کے آگے نکلنا ناممکن تھا جب سورج غروب ہوتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ وہ دلدل میں چھپ رہا ہے۔ ” حمئۃ “ ای ذات حماۃ۔ حماۃ کے معنی کیچڑ کے ہیں۔ ” عین حمئۃ “ یعنی کیچر والا چشمہ، مراد دلدل ہے۔ ایک قوم اس دلدلی سمندر کے کنارے آباد تھی۔ 77:۔ ذوالقرنین کی نبوت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح ایک بادشاہ اور نبی تھے اور بعض کا قول ہے کہ وہ ولی تھے۔ پہلی صورت میں یہ خطاب بذریعہ وحی ہے اور دوسری صورت میں بذریعہ الہام۔ ” من ظلم “ جس نے میری دعوت قبول نہ کی اور شرک پر اڑا رہا۔ لم یقبل دعوتی و اصر علی ماکان علیہ من الظلم العظیم الذی ہو الشرک (روح ج 16 ص 34) ۔
Ayahs 18:90–92

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا سورج نکلنے کی جگہ78 پایا اس کو کہ نکلتا ہے ایک قوم پر کہ نہیں بنا دیا ہم نے ان کے لیے آفتاب سے ورے کوئی حجاب

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

یونہی ہے اور ہمارے قابو میں آچکی ہے اس کے پاس کی خبر

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر لگا ایک سامان کے پیچھے

78:۔ یہ مشرقی مہم کا بیان ہے جب ذوالقرنین منتہائے مشرق میں پہنچ گیا جس سے آگے جانا ممکن نہ تھا، وہاں اس نے ایک ایسی قوم دیکھی جو تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھی اور ان میں لباس پہننے اور مکان بنانے کا دستور نہ تھا۔ سردی اور گرمی سے بچنے کے لیے غاروں میں پناہ لیتے ہوں گے ” و قد احطنا الخ “۔ ذوالقرنین کے پاس جو لشکر اور ساز و سامان اور آلات جنگ تھے، ہمارا علم ان تمام چیزوں پر حاوی ہے، یہ سب کچھ ہم نے اسے دیا تھا، جو کچھ ہم نے اس کو دیا اس کے پاس صرف وہی کچھ تھا اور اسی میں وہ متصرف تھا اس کے علاوہ اسے کوئی تصرف یا قدرت حاصل نہ تھی۔
Ayah 18:93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا دو پہاڑوں کے بیچ79 پائے ان سے ورے ایسے لوگ جو لگتے نہیں کہ سمجھیں ایک بات

79:۔ یہ ذوالقرنین کی تیسری مہم کا بیان ہے، اس کے متعلق عام مفسرین کی رائے یہی ہے کہ یہ سفر شمال کی جانب تھا۔ ” السدین “ (دو دیواروں) سے مراد وہ پہاڑ ہیں جن کے درمیان درہ تھا اور جس سے یاجوج ماجوج بیرونی علاقے میں آکر فساد کرتے تھے۔ ” من دونھما “ ان دونوں پہاڑوں سے ورے ایک قوم آباد تھی جن کی زبان بالکل علیحدہ تھی۔ وہ ذوالقرنین کی کوئی بات سمجھ نہیں سکتے تھے۔ نہ ذوالقرنین ان کی زبان سے آشنا تھے۔ قال ابن عباس لا یفہمون کلام احد ولا یفھم الناس کلامھم (خازن ج 4 ص 187) ۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

بولے اے ذوالقرنین80 یہ یاجوج و ماجوج دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں سو تو کہے تو ہم مقرر کردیں تیرے واسطے کچھ محصول اس شرط پر کہ بنا دے تو ہم میں ان میں ایک آڑ

80:۔ یہ گفتگو ترجمان کے ذریعہ ہوئی۔ ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یاجوج ماجوج کی شکایت کی کہ یہ ان پہاڑوں کی دوسری جانب رہتے ہیں اور اس درے سے اس طرف نکل آتے ہیں اور فساد مچاتے ہیں، قتل و غارت گری کرتے ہیں اور سر سبز و شاداب کھیتوں اور باغوں کو تباہ و برباد کرجاتے ہیں۔ ہم ساری قوم سے چندہ لے کر ایک کثیر رقم جمع کر کے آپ کے حوالے کرتے ہیں۔ آپ ایک مضبوط آہنی دیوار بنا کر اس درے کو بند کردیں تاکہ یہ فسادی قوم اس طرف آنے نہ پائے۔ خرجا ای جعلا من اموالنا (روح ج 16 ص 39) ۔
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

بولا جو مقدور دیا مجھ کو81 میرے رب نے وہ بہتر ہے سو مدد کرو میری محنت میں بنادوں تمہارے ان کے بیچ ایک دیوار موٹی

81:۔ ذو القرنین نے جواب دیا کہ مجھے دولت کی ضرورت نہیں جو دولت اللہ نے مجھے عطا فرمائی ہے، وہی کافی ہے تم لوگ صرف قوت بازو اور کام سے میری مدد کرو، میں اپنے خرچ سے ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔ ” ردما “ بہت بڑی اور مضبوط دیوار۔ ای حاجزا حصینا و حجابا متینا (روح ج 16 ص 40) ۔ بعض لوگ کہتے ہیں۔ اس سے دیوار چین مراد ہے۔ جو بارہ کوس لمبی ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

لادو مجھ کو تختے82 لوہے کے یہاں تک کہ جب برابر کردیا دونوں پھانکوں تک پہاڑ کی کہا دھونکو یہاں تک کہ جب کردیا اس کو آگ کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا

82:۔ ” زبر “ زبرۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد لوہے کے ٹکڑے ہیں۔ ” الصدفین “ الصدف کا تثنیہ ہے۔ جس سے مراد پہاڑ کی ایک جانب ہے۔ یعنی جب دونوں پہاڑوں کی درمیانی فضا میں تعمیر شدہ دوہری دیوار دونوں پہاڑوں کی چوٹیوں کے برابر ہوگئی۔ ” قال انفخوا “ تو ذو القرنین نے کہا کہ اب لوہا پگھلاؤ۔ جب وہ لوہا پگھل گیا تو اس میں تانبہ شامل کردیا۔ ” قطرا “ یعنی تانبہ۔
Ayahs 18:97–98

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر نہ چڑھ سکیں اس پر83 اور نہ کرسکیں اس میں سوراخ

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی پھر جب آئے وعدہ میرے رب کا گرا دے اس کو ڈھا کر اور ہے وعدہ میرے رب کا سچا

83:۔ جب لوہے اور تانبے سے دونوں دیواروں کا درمیانی حصہ پر کردیا گیا۔ تو ذو القرنین نے کہا کہ یہ دیوار اس قدر مضبوط ہوگئی ہے کہ اب یاجوج ماجوج نہ تو اس کو پھاند سکتے ہیں اور اور نہ اس میں سوراخ کر کے تمہارے علاقے میں داخل ہوسکیں گے۔ ” فاذا جاء وعد ربی الخ “ لیکن جب میرے پروردگار کے وعدے کے مطابق قیامت آگئی۔ تو پہاڑوں کی طرح یہ دیوار بھی ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ یاجوج ماجوج کے بارے میں مفسرین اور مؤرخین نے مختلف باتیں لکھی ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج چند ایسے قبائل کا مجموعہ ہے جو جسمانی اور معاشرتی لحاظ سے عجیب و غریب زندگی کے حامل تھے۔ مثلا بالشت ڈیڑھ بالشت یا زیادہ سے زیادہ ایک ذراع کے قد رکھتے تھے اور بعض غیر معمولی طور پر طویل القامت تھے اور ان کے دونوں کان اتنے بڑے تھے کہ ایک بچھونے کا اور دوسرا اوڑھنے کا کام دے سکتا تھا۔ بعض نے ان کو ایک برزخی مخلوق قرار دیا ہے۔ یعنی وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے نطفے سے تو ہیں لیکن حضرت حواء کے بطن سے نہیں ہیں۔ لیکن محققین کے نزدیک یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ چنانہ مورخ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ ھو قول حکاہ الشیخ ابو زکریا النووی فی شرح مسلم وغیرہ ضعفوہ وھو جدیر بذلک اذ لا دلیل علیہ بل ھو مخالف لما ذکرناہ من ان جمیع الناس الیوم ذریۃ نوح بنص القرآن (البدایۃ والنہایۃ ج 2 ص 110) ۔ اس لیے صحیح وہی ہے جو محققین نے لکھا ہے کہ یاجوج ماجوج، یافث بن نوح کی اولاد ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں ویاجوج و ماجوج قبیلتان من ولد یافث بن نوح الخ (فتح البار ج 6 س 297) ۔ اسی طرح علامہ آلوسی نے وہب بن منبہ اور دیگر ائمہ سے نقل کیا ہے۔ ان یاجوج و ماجوج قبیلتان من ولد یافث بن نوح (علیہ السلام) و بہ جزم وھب بن منبہ وغیرہ واعتمدہ کثیر من المتاخرین (روح المعانی ج 16 ص 36) ۔ منگولین (تاتاری) قبائل یاجوج ماجوج کی اولاد ہیں اور انہی میں سے بعض قبائل کے سامنے ذو القرنین نے دیوار بنائی تھی جس کا یہاں زکر کیا گیا ہے حاصل یہ کہ یاجوج ماجوج دنیا کی عام انسانی آبادی کی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور یاجوج ماجوج منگولیا (تاتار) کے ان وحشی قبائل کو کہا جاتا ہے جو یورپ اور روس کی قوم کے منبع و منشا ہیں۔ یہ وحشی قبائل کا کیشیا کے انتہائی علاقوں میں رہتے تھے اور قفقاز کے پہاڑوں میں درہ واریال سے نکل کر میدانی علاقوں میں بسنے والوں لوگوں پر لوٹ مار مچاتے تھے۔ اسی درہ واریال کے درمیان ذوالقرنین نے دیوار بنائی تھی تاکہ یاجوج ماجوج کے وحشی وہاں سے گذر کر پہاڑوں کے اس طرف نہ آسکیں۔ یہ دیوار شمال میں بحر خزر کے کنارے واقع ہے۔
Ayahs 18:99–100

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور چھوڑ دیں گے ہم خلق کو84 اس دن ایک دوسرے میں گھستے اور پھونک ماریں گے85 صور میں پھر جمع کر لائیں گے ہم ان کو

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور دکھلادیں ہم دوزخ اس دن کافروں کو سامنے

84:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ مشرکین کے چاروں شبہات کا جواب دینے کے بعد ان مشرکین کے لیے تخویف اخروی کا ذکر کیا گیا۔ جنہوں نے دنیا میں اللہ کے ذکر اور اس کی توحید سے آنکھیں بند کرلیں۔ اور اللہ کی توحید سننے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو یاجوج ماجوج سے متعلق کیا ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو محققین نے بیان کیا ہے کہ بعضھم کی ضمیر سے لوگ مراد ہیں اور یموج، موج سے ہے اور اس سے بےچینی اور اضطراب مراد ہے، یعنی جب دوسری بار صورت پھونکا جائے گا تو لوگ قبروں سے گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوں گے اور شدت ہول کی وجہ سے بےچین و مضطرب ہوں گے۔ والموج مجاز عن الاضطراب ای یضطربون اضطراب البحر یختلط انسھم وجنھم من شدۃ الھول (روح ج 16 ص 43) وترکنا وجعلنا بعضھم بعض الخق یومئذ یموج یختلط فی بعض ای یضطربون و یختلطون انسھم و جنھم حیاری (مدارک ج 3 ص 21) ْ 85:۔ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ کیونکہ اس کا مابعد اس پر دلالت کرتا ہے۔ الظاھر ان المراد النفخۃ الثانیۃ لانہ المناسب لما بعد (روح ج 6 ص 66) ۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھوں پر86 پردہ پڑا تھا میری یاد سے اور نہ سن سکتے تھے

86:۔ یہ مشرکین کے اللہ کی توحید سے شدت اعراض سے کنایہ ہے۔ والمراد منہ شدۃ انصرافھم عن قبول الحق (کبیر ج 5 ص 758) ۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

اب کیا سمجھتے ہیں87 منکر کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی ہم نے تیار کیا ہے دوزخ کو کافروں کی مہمانی

87:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں سے آخر تک مذکورہ بالا چاروں شبہات پر متفرع ہے۔ ” ان یتخزوا عبادی من دونی اولیاء “ یہ شبہہ اولیٰ کے جواب پر متفرع ہے۔ بالذات، اور شبہہ ثانیہ کے جواب پر بالتبع بطور لف و نشر مرتب یعنی اللہ کے نیک بندے اور اولیاء اللہ متصرف و کارساز نہیں ہیں، تو شیاطین میں بطریق اولی یہ صلاحیت نہیں ہے۔
Ayahs 18:103–106

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

تو کہہ ہم بتائیں تم کو کن کا کیا ہوا گیا بہت اکارت88

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی کوشش بھٹکتی رہی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھتے رہے کہ خوب بناتے ہیں کام

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی نشانیوں سے اور اس کے ملنے سے سو برباد گیا ان کا کیا ہوا پھر نہ کھڑی کریں گے ہم ان کے واسطے قیامت کے دن تول

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ بدلہ ان کا ہے دوزخ اس پر کہ منکر ہوئے اور ٹھہرایا میری باتوں اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا

88:۔ یہ مشرکین کے انجام بد اور حال شر کا بیان ہے کہ آخرت میں وہ سب سے زیادہ خسارہ اور نقصان میں ہوں گے۔ ان کے تمام اعمال برباد اور رائیگاں ہیں۔ دنیا میں وہ مشرکانہ اعمال بجالاتے ہیں۔ غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھ کر غائبانہ حاجات میں پکارتے اور ان کے نام کی نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ اور ان تمام اعمال و افعال کو عین کار ہائے ثواب اور اعمال صالحہ سمجھتے ہیں۔ ” اولئک الذین کفروا الخ “ یہ لوگ چونکہ اللہ تعالیٰ کی آیت توحید اور قیامت کے منکر ہیں۔ اس لیے ان کے تمام اعمال ضائع اور بےفائدہ ہیں۔ اور آخرت میں ان کے اعمال کو تولا تک نہیں جائے گا۔ کیونکہ وزن سے نیکیوں اور برائیوں کا اندازہ کرنا مقصود ہوگا۔ اور مشرکین کے پہلے نیکی تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ ان کی تمام عبادتیں، ان کی نمازیں، روزے اور حج اور دیگر اعمال صالحہ تو شرک کی وجہ سے دنیا ہی میں ضائع ہوچکے ہیں۔ لان المیزان انما یوضع لاھل الحسنات و السیئات من الموحدین لتمییرز مقدار الطاعات ومقدار السیات (کبیر ج 5 ص 760) ۔
Ayahs 18:107–108

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ89 ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام ان کے واسطے ہے ٹھنڈی چھاؤں کے باغ مہمانی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

رہا کریں ان میں نہ چاہیں وہاں سے جگہ بدلنی

89:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور شرک سے بچے ان کے لیے جنت الفردوس ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

تو کہہ اگر دریاف 90 سیاہی ہو کر لکھے میرے رب کی باتیں بیشک دریا خرچ ہوچکے ابھی نہ پوری ہوں میرے رب کی باتیں اور اگرچہ دوسرا بھی لائیں ہم ویسا ہی اس کی مدد کو

90:۔ یہ شبہہ ثالثہ کے جواب پر بالذات اور شبہہ رابعہ کے جواب پر بالتبع متفرع ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے وسعت معلومات کا ذکر کیا گیا ہے کلمات اللہ سے اللہ تعالیٰ کے معلومات اور اس کی حکمت مراد ہے۔ قالہ قتادۃ (روح) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے معلومات کو لکھنے کے لیے اگر دنیا کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو وہ بھی ختم ہوجائیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کا احاطہ نہیں ہوسکے گا۔ جب یہ ثابت ہوگیا کہ غیب دان صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کو صرف اتنا ہی معلوم ہے۔ جتنا اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کو بتایا۔ اسی طرح اولیاء اللہ کو بھی صرف اتنا ہی علم ہے جتنا ان کو عطا کیا گیا جیسا کہ ذو القرنین کو۔ تو جب انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام غیب داں اور حاضر و ناظر نہیں۔ تو متصرف و کارساز بھی نہیں ہوسکتے۔
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

تو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں91 جیسے تم۔ حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا92 ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سو وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو

91:۔ یہاں آنحضرت ﷺ سے اعلان کرایا کہ میں غیب دان اور کارساز نہیں ہوں۔ بلکہ ایک انسان ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے اعلی ترین رتبہ نبوت پر سرفراز فرمایا ہے اور میرے پاس اللہ کی وحی آتی ہے۔ یہ اعلان اس لیے کرایا کہ کہیں لوگ آپ کو غیب داں اور خدا کا شریک نہ سمجھ بیٹھیں۔ 92:۔ آخر میں مسئلہ توحید کا ذکر فرما دیا۔ جس کے بارے میں شبہات کا جواب دیا گیا۔ ” فمن کان یرجوا الخ “ جو شخص مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے لقا کی توقع رکھتا ہے۔ اسے تو چاہئے کہ وہ نیک اعمال بجا لائے اور اپنے رب کی عبادت اور پکار میں کسی قسم کا شرک نہ کرے نہ جلی جیسا کہ مشرکین کیا کرتے تھے اور اصحاب کہف، فرشتوں جنوں اور پیغمبروں کو متصرف و کارساز سمجھ کر پکارتے اور ان کے ناموں کی نذریں منتیں دیتے تھے اور نہ خفی یعنی ریاکاری سے اپنے اعمال کو بچائے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر کام کرے۔ سورة ہف میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب “ تا ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “ تمام صفاتِ کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہی متصرف و کارساز ہے اور اس کا کوئی نائب نہیں۔ 2 ۔ ” و ربطنا علی قلوبھم اذا قاموا “ تا ” ویھیئ لکم من امرکم مرفقا “ (رکوع 2) نفی تصرف از اولیاء اللہ (اصحاب کہف) 3 ۔ ” و کذلک بعثنھم لیتساء لوا بینھم “ تا ” ربکم اعلم بما لبثتم “ (رکوع 3) نفی علم غیب از اصحاب کہف۔ 4 ۔ ” ولا تقولن لشیء انی فاعل ذالک غداً الایۃ “ (رکوع 4) ۔ نفی تصرف و اختیار از آنحضرت ﷺ ۔ 5 ۔ ” قل اللہ اعلم بما لبثوا “ تا ” ولا یشرک فی حکمہ احدا “ (رکوع 4) نفی علم غیب از غیر اللہ۔ 6 ۔ ” واتل ما اوحی الیک “ تا ” و کان امرہ فرطا “ نفی شرک فی التصرف۔ 7 ۔ ” لکنا ھو اللہ ربی “ تا ” لا قوۃ الا باللہ “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 8 ۔ ” ھنالک الولایۃ للہ الحق “ (رکوع 5) ۔ نفی شرک فی التصف۔ 9 ۔ ” افتتخذونہ و ذریتہ اولیاء “ تا ” وما کنت متخذ المضلین عضدا “ (رکوع 7) ۔ نفی شرک اعتقادی و نفی نائب برائے خدا تعالی۔ 10 ۔” نسیا حوتھما “ تا ” فانی نسیت الحوت “ (رکوع 9) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی سے علم غیب کی نفی اور ان کی احتیاج کا اثبات۔ 11 ۔ ” قال لہ موسیٰ ھل اتبعک “ تا ” ما لم تحط بہ خبرا “ (رکوع 9) ۔ نفی علم غیب از موسیٰ (علیہ السلام) ۔ 12 ۔ ” قال لا تؤاخذنی بما نسیت “ تا ” قد بلغت من لدنی عذرا “ (رکوع 10) ۔ نفی علم غیب از حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ 13:۔ ” و ما فعلتہ عن امری “۔ نفی تصرف اختیار از خضر علیہ السلام۔ 14:۔ ” انا مکنا لہ فی الارض “ (رکوع 11) ۔ ذو القرنین کو مافوق الاسباب قدرت حاصل نہ تھی ہم نے ظاہری اسباب مہیا کردئیے تھے۔ 15 ۔ ” افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیاء “ نفی شرک فی التصرف۔ 16 ۔ قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی۔ الایۃ۔ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس کا علم لا محدود ہے۔ 17 ۔ ” قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی الایۃ “۔ نفی علم غیب از آنحضرت ﷺ ۔ سورة کہف ختم ہوئی