17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsجواھر القرآن

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

پاک ذات ہے2 جو لے گیا اپنے بندے کو3 راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے تاکہ4 دکھلائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے وہی ہے سننے والا دیکھنے والاف 5

2:۔ اس آیت میں معجزہ اسراء کا ذکر ہے۔ معجزہ اسراء یعنی معجزہ معراج کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ روحانی تھا کہ جسمانی۔ بعض صحابہ ؓ اور بعض تابعین سے منقول ہے کہ معراج روحانی تھا یعنی آنحضرت ﷺ کو یہ سیر خواب میں کرائی گئی اور تمام ملکوت کا آپ نے حالت خواب میں مشاہدہ فرمایا۔ لیکن جمہور صحابہ ؓ اور جمہور امت کا متفقہ فیصلہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معراج بجسد عنصری تھا اور حالت بیداری میں تھا۔ مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے لے کر ساتوں آسمانوں کے اوپر جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ کو عجائب ملکوت کا بجسد عنصری بحالت بیداری بشم سر مشاہدہ کرایا۔ وذھب معظم السلف والمسلمین الی انہ کان اسراء بالجسد و فی الیقظۃ الخ (قرطبی ج 10 ص 208) والاصح بل الصحیح ان الاسراء فی الیقظۃ بعد البعثۃ مرۃ واحدۃ الخ ( جامع البیان ص 241) ۔ معراج کے دو حصے ہیں ایک مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصی تک دوم مسجد اقصی سے لے کر الی ماشاء اللہ معراج کا پہلا حصہ یہاں مذکور ہے اور دوسرا حصہ سورة النجم اور احادیث صحیحہ میں مذکور ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ معراج کے دونوں حصے ایک وقت میں واقع نہیں ہوئے بلکہ پہلی بار مسجد حرام سے مسجد اقصی تک ہوا پھر دوسری بار دوسرے وقت میں مکہ مکرمہ سے آسمانوں تک ہوا۔ مگر جمہور کا قول یہی ہے کہ مسجد حرام سے لے کر آسمانوں تک کا سارا واقعہ مسلسل ایک ہی وقت میں پیش آیا۔ وانہ رکب البراق بمکۃ ووصل الی بیت المقدس و صلی فیہ ثم اسری بجسدہ الخ (قرطبی) واقعہ معراج کو اس لیے ذکر کیا گیا کہ مشرکین مکہ بطور تمسخر آنحضرت ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط سالی کا عذاب مسلط کردیا جو کئی سال تک جاری رہا جیسا کہ سورة نحل میں مذکور ہوچکا ہے۔ مگر اس عذاب کو دیکھ کر بھی وہ ایمان نہ لائے بلکہ معجزہ کا مطالبہ کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے واقعہ معراج ظاہر کر کے ان کو ایک بہت بڑا معجزہ دکھایا کہ اگر اس کے بعد بھی نہ مانو گے تو ہلاک کردئیے جاؤ گے چناچہ جنگ بدر کبریٰ میں ان منکرین کو قتل کردیا گیا۔ ” سبحن الذی الخ “ سبحانا تسبیحا کے معنوں میں ہے، اور وہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ای سبحوا سبحانا الذی الخ یعنی ہر عیب سے پاک سمجھو جس طرح کہ پاک سمجھنے کا حق ہے اس ذات پاک کو جس نے توحید بیان کرنے والے اپنے بندہ خاص کو سیر کرائی تسبیح کے معنی ہر عیب اور برائی سے پاک اور منزہ کہنے کے ہیں۔ ومعناہ التنزیہ والبراءۃ للہ عز وجل من کل نقص الخ (قرطبی ج 10 ص 204) ۔ شرک ایک بہت بڑا عیب ہے جو ذات باری تعالیٰ کے لائق نہیں اور اس کی ذات اس سے پاک ہے جیسا کہ فرمایا ” سبحن اللہ عما یشرکون “ اور ” سبحنہ و تعالیٰ عما یشرکون “ اس طرح اس میں دعوی سورت کا ذکر ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اور اسے ہر شریک سے پاک سمجھو۔ نیز یہ دلیل وحی ہے یعنی میں تمہیں اللہ کی وحی سنا رہا ہوں کہ اللہ کو شرک سے پاک سمجھو یہ پہلی آیت معجزہ بھی ہے جس میں معجزہ معراج کا ذکر کیا گیا ہے آیات معجزہ سے مقصود تخویف ہے یعنی اگر یہ معجزہ دیکھ کر بھی مسئلہ توحید نہیں مانو گے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔ 3:۔ عبد سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ واقعہ معراج آنحضرت ﷺ کے لیے بہت بڑا شرف ہے جو کسی اور پیغمبر کو نصیب نہیں ہوا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نےحضور ﷺ کو ایسے نام یعنی عبد سے یاد فرمایا جو اسے سب سے زیادہ پسند تھا۔ قال العلماء لو کان للنبی ﷺ اسم اشرف منہ لسماہ بہ فی تلک الحالۃ العلیۃ (قرطبی ج 41 ص 205) ۔ نیز آپ کی امت کو تواضع کا سبق دینا تھا اور یہ بتانا تھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بایں شرف و اعزاز اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور صفت بندگی کسی حال میں ان سے جدا نہیں ہوسکتی۔ ” لَیْلًا “ کی تنکیر تقلیل کے لیے ہے یعنی ہم نے رات کے تھوڑے سے حصے میں اپنے بندے کو سیر کرائی۔ 4:۔ لام عاقبت کے لیے ہے۔ اور ” من ایتنا “ سے وہ عجائب قدرت مراد ہیں جو آپ کو اس سیر کے دوران میں دکھائے گئے۔ من عجائب قدرتنا و قد رای ھناک الانبیاء والایات الکبری (معالم ج 4 ص 128) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ ” من ایاتنا “ سے مشکین کی ہلاکت مراد ہے۔ یعنی ہم یہ عظیم معجزہ معراج اپنے بندہ خاص کو اس لیے دکھایا تاکہ اس کے بعد اگر مشرکین مکہ مسئلہ توحید کا انکار کریں تو ہم ان معاندین کی ہلاکت میں آپ کو اپنی قدرت کا ایک عظیم اور حیرت انگیز نشان دکھائیں۔ چناچہ جب مشرکین نے معجزہ اسراء کے بعد بھی مسئلہ توحید کو نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں بےساز و سامان مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کے مسلح اور کئی گنا بڑے لشکر کو ذلت و خواری کے ساتھ معجزانہ طور پر شکست دی۔ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا ” لنریک من ایاتنا الکبری “ (طہ رکوع 2) ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ والسلام کو پیغام توحید دیا۔ ” اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی “ اس کے بعد اس مسئلہ توحید کی خاطر معجزہ عصا اور ید بیضا عطا فرمایا کہ قوم فرعون کے سامنے مسئلہ توحید پیش کرو، اپنی سچائی اور مسئلہ کی حقانیت ظاہر کرنے کے لیے یہ معجزات دکھاؤ۔ اگر انہوں نے ان معجزات کے بعد بھی مسئلہ نہ مانا تو ہم فرعون اور اس کی قوم کو آپ کے سامنے اس طرح ہلاک کریں گے کہ ان کی ہلاکت بھی ہماری قدرت کا ایک عجیب کرشمہ اور اعجاز ہوگی چناچہ قوم فرعون کو سمندر کے خشک راستوں میں جو بنی اسرائیل کی سلامتی کے لیے معجزانہ طور پر بنائے گئے تھے، داخل کر کے ہلاک کیا گیا۔ چناچہ جبحضور ﷺ نے صبح اٹھ کر واقعہ معراج کا پہلا حصہ مشرکین کے سامنے بیان کیا کہ میں آج رات بیت المقدس سے ہو کر آگیا ہو تو سب نے تعجب کیا اور نہ مانا۔ مشرکین میں سے ایک شخص دوڑتا ہوا حضرت ابوبکر کے پاس پہنچا اور کہنے لگا اے ابوبکر ! کیا اب بھی محمد کو مانو گے ؟ فرمایا بات کیا ہے ؟ اس نے کہا محمد کہتے ہیں کہ میں آج رات بیت المقدس کی سیر کر آیا ہوں تو حضرت صدیق ؓ نے فرمایا اس میں کونسی تعجب کی بات ہے آپ نے سچ فرمایا ہے ہم تو آپ کی آسمانوں والی باتیں مان لیتے ہیں تو زمین والی کیوں نہ مانیں گے۔ مشرکین نے آزمائش کے لیے آپ سے بیت المقدس کی نشانیاں پوچھیں اس سے آپ کو بہت غم ہوا کیونکہ آپ بیت المقدس کی نشانیاں یاد کرنے کے لیے تو وہاں نہیں گئے تھے جو لوگ سالہا سال کسی جگہ رہیں اس جگہ کی ساری علامتیں تو انہیں بھی معلوم نہیں ہوتیں لیکن اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کا نقشہ آپ کے سامنے حاضر کر کے آپ کا غم دور فرمادیا۔ چناچہ مشرکین نے جو بات پوچھی آپ نے صحیح بتا دی۔ راستہ میں آپ کو جو قافلے ملے ان کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا وہ بھی بالکل درست ثابت ہوا (خازن و معالم ج 4 ص 137، 138) مگر ان تمام باتوں کے باوجود مشرکین مکہ نے اس اعجاز قدرت کو جادو کہہ کر رد کردیا اور نہ مانا آخر جنگ بدر میں عذاب قتل سے ہلاک کیے گئے۔ 5:۔ ” انہ ھو السمیع البصیر “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ ھو ضمیر فصل اور خبر کا معرفہ ہونا افادہ حصر کے لیے ہے یعنی بیشک وہی سب کچھ سننے والا اور وہی سب کچھ دیکھنے والا ہے اس کے سوا کوئی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا نہیں لہذا عبادت میں، دعاء اور پکار میں اس کا شریک بھی کوئی نہیں۔ انہ ھو السمیع لاقوال جمیع خلقہ البصیر بافعالھم (خازن ج 4 ص 128) ۔
Ayah 17:2

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

اور دی ہم نے موسیٰ کو6 کتاب اور کیا اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے کہ نہ ٹھہراؤ میرے سوا کسی کو کار ساز

6:۔ توحید پر پہلی نقلی دلیل۔ اس میں دعوی توحید پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات سے نقلی دلیل پیش کی گئی ہے۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے دستور ہدایت مقرر کیا اس میں ہم نے ان کو حکم دیا کہ اللہ کے سوا کسی اور کو کارساز مت بناؤ اور اللہ کے سوا کسی کو حاجات میں غائبانہ مت پکارو۔ ” وکیلا “ کارساز، تمام کاموں میں جس پر بھروسہ کیا جائے اور اپنے معاملات جس کے سپرد کیے جائیں ای و یاتکلون امورکم الیہ (کبیر ج 5 ص 547) ای و یاتکلون الیہ امورکم (مدارک ج 2 ص 237) ربا یتوکلون علیہ فی امورھم (قرطبی ج 10 ص 213) ۔ وقال الشیخ روح اللہ روحہ ای لاتبدوا الا اللہ ولا تدعوا غیرہ فی الحوائج غائبا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تورات کی تعلیم کا خلاصہ یہی تھا کہ اللہ کے سوا کسی کو کارساز مت بناؤ تو اس سے دعوی سورت کی سچائی واضح اور ثابت ہوگئی۔
Ayah 17:3

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

تم جو اولاد ہو ان لوگوں کی جن کو7 چڑھایا ہم نے نوح کے ساتھ بیشک وہ تھا بندہ حق ماننے والا

7:۔ یہ منادی ہے اور اس سے قبل حرف نداء محذوف ہے۔ ای یا ذریۃ الخ اس کا مقصود بالنداء محذوف ای اشکروا یعنی اے اولاد نوح شکر گزار بنو اور اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی شکر گذار بندے تھے وہ شرک نہیں کرتے تھے جنہوں نے ساڑھے نو سو سال لوگوں کو اللہ کی توحید سنائی اور توحید کی خاطر تکلیفیں اٹھائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو طوفان سے اس لیے بچایا کہ وہ اللہ کے شکر گذار اور توحید کو ماننے والے تھے جب کہ ناشکر گذاروں اور مشرکوں کو غرق کردیا گیا۔ پس تم بھی اے مشرکین عرب مانند نوح شکور اور موحد بنو اللہ کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور اگر ناشکری کرو گے تو قوم نوح کی طرح ہلاک کردئیے جاؤ گے۔ فکانہ قیل کونوا موحدین شاکرین لنعم اللہ مقتدین بنوح الذی انتم ذریۃ من حمل معہ (بحر ج 6 ص 7) ۔ یہاں تک تینوں آیتیں بظاہر غیر مربوط معلوم ہوتی ہیں چناچہ ان کے ظاہر کو دیکھ کر کئی مفسرین کو تطبیق میں سخت اشکال پیش آیا، کیونکہ پہلے واقعہ معراج کا ذکر ہے اس کے بعد ” و اتینا موسیٰ الکتب “ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دینے کا ذکر ہے پھر اس کے بعد ” ذریۃ من حملنا مع نوح “ نوح میں ایک نئی بات مذکور ہے لیکن ہماری مذکورہ بالا تقریر سے یہ آیتیں بالکل باہم مربوط ہوجاتی ہیں اور بےربطی کا کوئی اشکال نہیں رہنتا۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ” سبحن الذی الخ “ میں فرمایا اس اللہ کو شرک سے پاک سمجھو جس نے مسئلہ توحید منوانے کے لیے معجزہ اسراء دکھایا اس کے علاوہ عقل سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اللہ ہر شرک سے پاک ہے کیونکہ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے اور ساتھ ہی کتب سابقہ مثلاً تورات کی بھی یہی تعلیم ہے لہذا اے اہل مکہ ہم تمہیں بھی حکم دیتے ہیں کہ اس مسئلہ کو مان لو جو دلیل وحی اور دلائل عقل و نقل سے ثابت ہے۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو8 کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی

8:۔ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ بنی اسرائیل کو ہم نے تورات میں بتادیا تھا کہ تم دو بار زمین میں شر و فساد بپا کرو گے پہلی بار تم پر ایک سخت گیر اور جابر قوم کو مسلط کر کے تمہیں ذلیل کریں گے اس کے بعد تم پر انعام کریں گے اس کے بعد اگر تم نے پھر فساد کیا تو دنیا و آخرت میں سخت عذاب دیں گے۔ اے مشرکین مکہ اسی طرح پہلے ہم نے تم پر قحط مسلط کیا پھر قحط اٹھا کر تم پر مہربانی کی مگر تم شرک سے باز نہ آئے تو پھر معجزہ معراج دکھایا گیا اس لیے اگر اب بھی شرک سے باز نہ آؤ گے اور توحید سے اعراض کروگے تو دنیا و آخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کیے جاؤ گے۔ ” لتفسدن فی الارض الخ “ فساد فی الارض سے احکام تورات کی مخالفت مراد ہے یرید المعاصی و خلاف احکام التوراۃ (کبیر ج 5 ص 548) ۔
Ayahs 17:5–6

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

پھر جب آیا9 پہلا وعدہ بھیجے ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے پھر پھیل پڑے شہروں کے بیچ اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

پھر ہم نے پھیر دی تمہاری باری ان پر اور قوت دی تم کو مال سے اور بیٹوں سے اور اس سے زیادہ کردیا تمہارا لشکر

9:۔ پہلی بار جب بنی اسرائیل نے احکام تورات کی مخالفت کی، توحید کو چھوڑ کر شرک کرنے لگے، محرمات کو حلال کر ڈالا اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر مجوسی بادشاہ کو مسلط کردیا جس نے چالیس یا ستر ہزار اسرائیلی قتل کردئیے، باقیوں کو اپنے ساتھ لے گیا اور بیت المقدس کو مسمار کردیا۔ ” فجاسوا “ یعنی بخت نصر کا لشکر اسرائیلیوں کے گھروں کے اندر گھس گیا اور خوب خون خرابہ کیا (کبیر) ” ثم رددنا لکم الکرۃ الخ “ اس کے بعد حضرت داؤود (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہم نے تمہیں غلبہ عطا کیا اور مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد میں خوب اضافہ کیا۔ ” ان احسنتم الخ “ اب اگر تم نیک کام کرو گے تو ان کا فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا اور اگر برے کام کروگے تو ان کی سزا بھی تم ہی بھگتو گے۔ فلھا ای فعلیھا اساء تھا (خازن) ۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا اور اگر برائی کی تو اپنے لیے پھر جب پہنچا10 وعدہ دوسرا بھیجے اور بندے کہ اداس کردیں تمہارے منہ اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے پہلی بار اور خراب کردیں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی

10:۔ دوسری بار جب بنی اسرائیل نے شر و فساد بپا کیا، حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کو قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فردوس شاہ بابل کو ان پر مسلط کردیا جس نے لشکر بھیج کر بخت نصر کی طرح بنی اسرائیل میں خون خرابہ کیا (قرطبی) ۔ ” لیسواء “ مقدر کے متعلق ہے ” ای بعثنا علیکم عبادا لنا لیسواءا لخ “۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

بعید نہیں تمہارے رب11 سے کہ رحم کرے تم پر اور اگر پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے اور کیا ہے ہم نے دوزخ کو کافروں کا قید خانہ

11:۔ اس کے بعد اگر تم ٹھیک راہ پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی فرمائے گا اور تمہیں دنیا میں اقتدار اور غلبہ دے گا لیکن اگر پھر تم نے راہ فساد اختیار کی تو پھر دنیا میں ویسا ہی عذاب دیں گے اور آخرت میں جہنم میں قید کیے جاؤ گے۔ یہ یہودی کب باز آنے والے تھے چناچہ اس کے بعد حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کی، آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، آپ پر جادو کرنے کی کوشش کی اور کھانے میں آپ کو زہر دیا تو دنیا میں یہ سزا ملی کہ کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور باقیوں نے ذلت سے جزیہ دینا قبول کیا۔ وعاد بنو قریظۃ و بنو النضیر و اشباھہم فارادوا قتل النبی ﷺ وسحروہ و جعلوا السلم فی طعامہ و حاربہ فعاد اللہ علیہم بالانتقام فقتل بنی قریظۃ واجلی بنی النضیر و ضرب علیہم الجرزیۃ یودونھا عن یدوھم صاغرون (مظھری ج 5 ص 418) ۔
Ayahs 17:9–10

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

یہ قرآن12 بتلاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے کہ ان کے لیے ہے ثواب بڑا

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور یہ کہ جو نہیں مانتے آخرت کو ان کے لیے تیار کیا ہے ہم نے عذاب دردناک

12:۔ یہ دوسری آیت مجزہ ہے معجزہ اسراء کی طرح یہ قرآن بھی ایک معجزہ ہے جو آنحضرت ﷺ کو دیا گیا اور اس میں وہی مسئلہ توحید کھول کر بیان کیا گیا جس کی خاطر معجزہ اسراء دکھایا گیا۔ لہذا اب مسئلہ توحید پر ایمان نہیں لاؤ گے تو سخت ترین عذاب میں گرفتار کیے جاؤ گے اور اگر مان لو گے اور اس کے مطابق عمل بھی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہت بڑا اجر دے گا۔ اس طرح یہ آیت دعوی توحید کو ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی اور دعوی توحید کا انکار کرنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” ویبشر المومنین “ بشارت اور ” و ان الذین لا یومنون الخ “ تخویف۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور مانگتا ہے آدمی13 برائی جیسے مانگتا ہے بھلائی اور ہے انسان جلد باز

13:۔ شکوی ہے، معجزہ اسراء دکھایا گیا تاکہ مشرکین مسئلہ توحید مان لیں ورنہ اللہ کا عذاب آئے گا مگر وہ کیسے احمق اور عجلت پسند ہیں کہ مسئلہ ماننے کے بجائے الٹا کہتے ہیں لاؤ ناں وہ عذاب۔ اس میں دیر کیوں ہو رہی ہے۔ دعاءہ منصوب بنزع الخافض ای کدعاء ہ۔ انسان سے کافر انسان مراد ہے کہ وہ نادانی سے اللہ کا عذاب اس طرح مانگتا ہے جس طرح اللہ کی رحمت مانگنی چاہیے جیسا کہ نضر بن حارث کے بارے میں ابن عباس ؓ سے منقول ہے اس نے کیا تھا کہ اے اللہ اگر یہ قرآن، مسئلہ توحید اور محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم پر عذاب نازل کر کے ہلاک کردے۔ عن ابن عباس ؓ ھو النضر بن الحارث قال اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عند الایۃ فاجیب فضربت عنقہ ؟ ؟ (مدارک ج 2 ص 638) ۔ انسان کیسا جلد باز ہے کہ جلدی عذاب آنے کا مطالبہ کرتا ہے حالانکہ عذاب تو ضرور آئے گا مگر اپنے مقررہ وقت پر۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

اور ہم نے بنائے رات اور دن14 دو نمونے پھر مٹا دیا رات کا نمونہ اور بنا دیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب اور سب چیز سنائی ہم نے کھول کر

14:۔ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ ہم نے رات اور دن کو اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے لیے دلیل بنایا۔ رات دن کو ایک دوسرے سے اس طرح ممتاز کیا کہ رات میں سورج نہیں ہوتا اور دن کو سورج چمکتا ہے تاکہ تم دن کے اجالے میں اپنا کاروبار جاری رکھ سکو اور رات دن کی آمد و رفت سے سالوں کی گنتی اور اپنے معاملات کا حساب کتاب کھ سکو۔ یہ رات دن کا نظام ہمارے اپنے قبضہ و تصرف میں ہے جو ہماری قدرت کاملہ اور وحدانیت کی واضح دلیل ہے۔ ای علامتین علی وحدانیتنا ووجودنا و کمال علمنا وقدرتنا (قرطبی ج 10 ص 237) یہ تمام چیزیں ہم ہی نے تمہارے نفع کے لیے پیدا کی ہیں ہمارے سوا کوئی اور خالق نہیں۔ ” ھل من خالق غیر اللہ “ تو پھر اوروں کو کیوں کارساز سمجھتے اور حاجات میں پکارتے ہو۔ ؟
Ayahs 17:13–14

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

اور جو آدمی ہے15 لگا دی ہے ہم نے اس کی بری قسمت اس کی گردن سے اور نکال دکھائیں گے اس کو قیامت کے دن ایک کتاب کہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

پڑھ لے کتاب اپنی تو ہی بس ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا

15:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” طائرہ “ اعمالنامہ قیامت کے دن ہر شخص خود ہی اپنا اعمالنامہ پڑھے گا اور خود ہی اپنی نیکیوں اور برائیوں کا حساب کرلے گا۔ ” من اھتدی الخ “ جو شخص دنیا میں راہ ہدایت اختیار کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور جس نے گمراہی اختیار کی اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا اور کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو کوئی راہ پر آیا تو آیا اپنے ہی بھلے کو اور جو کوئی بہکا رہا تو بہکا رہا اپنے ہی برے کو اور کسی پر نہیں پڑتا بوجھ دوسرے کا اور ہم نہیں ڈالتے بلا16 جب تک نہ بھیجیں کوئی رسول

16:۔ تخویف دنیوی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ یہ ہے کہ جب تک وہ بندوں کے پاس اپنا رسول بھیج کر اپنی حجت قائم نہ کرلے اس وقت تک وہ ان کو دنیا میں عذاب نہیں دیتا۔ جب اللہ کا رسول آجائے وہ لوگوں کو اللہ کا پیغام سنائے اور دلائل سے ان پر اللہ کی حجت قائم کر دے لیکن وہ پھر بھی تکذیب کریں تو ان پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ احکام شریعت میں تنہا عقل کافی نہیں اور وحی کے بغیر تنہا عقل سے حجت خداوندی قائم نہیں ہوتی۔ (حتی نبعث رسولا) لاقامۃ الحجۃ و قطعا للعذر و فیہ دلیل علی ان ما وجب انما وجب بالسمع لا بالعقل (خازن و معالم ج 4 ص 153) ۔
Ayahs 17:16–17

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب17 ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو پھر انہوں نے نافرمانی کی اس میں تب ثابت ہوگئی ان پر بات پھر اکھاڑ مارا ہم نے ان کو اٹھا کر

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور بہت غارت کردیے ہم نے قرن نوح کے پیچھے اور کافی ہے تیرا رب اپنے بندوں کے گناہ جاننے والا دیکھنے والا

17:۔ یہ ماقبل ہی سے متعلق ہے۔ یعنی جب ہم کسی قوم میں اپنا رسول بھیجتے ہیں اور ہمارا رسول مسئلہ توحید اور دیگر احکام ان تک پہنچا دیتا ہے اور دلائل واضحہ کے ساتھ موعظہ حسنہ سے ان کو خوب سمجھا سمجھا کر ان پر حجت خداوندی قائم کردیتا ہے مگر وہ اپنی سرکشی اور انکار و عصیان میں سر مست رہتے ہیں اور ہدایت پر نہیں آتے تو ہم انہیں ڈھیل دیدیتے ہیں تاکہ اجل معین تک وہ دل کھول کر فسق و فجور کرلیں پھر مقررہ وقت پر انہیں تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔ ” امرنا مترفیھا الخ “ یعنی ہم نے ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ہر بستی کے دولت مند طبقہ کو نیک کاموں کا حکم دیا مگر انہوں نے پیغمبروں کی تبلیغ پر کان نہ دھرا اور فسق و فجور اور ظلم وعصیان میں منہمک ہوگئے ای امرناھم بالطاعۃ اعذار وانذار و تخویفا و وعیداً ففسقا ای فخرجوا عن الطاعۃ عاصین لنا (قرطبی ج 10 ص 234) ۔ دیکھ لو نوح (علیہ السلام) سے لے کر اب تک کتنی ہی سرکش اور نافرمان قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کو جھٹلایا، مسئلہ توحید کو نہ مانا اور ان معجزات کا انکار کیا۔ اے مشرکین مکہ اگر تم نے یہ معجزات باہرہ اور آیات قاہرہ دیکھ کر بھی مسئلہ توحید کو نہ مانا تو اقوام سابقہ کے سے انجام کے لیے تیار رہو۔
Ayahs 17:18–19

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو کوئی چاہتا ہو18 پہلا گھر جلد دے دیں ہم اس کو اسی میں جتنا چاہیں جس کو چاہیں پھر ٹھہرایا ہے ہم نے اس کے واسطے دوزخ داخل ہوگا اس میں اپنی برائی سن کر دھکیلا جا کر

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جس نے چاہا پچھلا گھر اور دوڑ کی اس کے واسطے جو اس کی دوڑ ہے اور وہ یقین پر ہے سو ایسوں کی دوڑ ٹھکانے لگی ہے

18:۔ یہ مشرکین کے ایک شبہہ کا جواب ہے۔ شبہ یہ تھا کہ اگر یہ مسئلہ توحید حق ہوتا تو دنیا میں اللہ تعالیٰ ہمیں مال و دولت اور یہ انواع و اقسام رزق کیوں دیتا حالانکہ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ جواب فرمایا کہ دنیا میں ہم عطاء اور داد و دہش کا دروازہ کسی پر بند نہیں کرتے۔ دنیا میں روزی سب کو دیتے ہیں خواہ فرمانبردار ہوں خواہ نافرمان۔ ہاں جو شخص آخرت پر دنیا کو ترجیح دے اور دنیا کا طالب اور خواہشمند ہو تو ہم اس کو دنیا میں دولت دیدیتے ہیں لیکن آخرت میں ذلت، رحمت خدا سے محرومی اور عذاب جہنم کے سوا اس کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ ” ومن اراد الاخرۃ “ بشارت اخروی۔ لیکن جو لوگ آخرت کے متلاشی ہیں اور تلاش آخرت کے جذبہ صادقہ کے تحت وہ نیک اور بھلے کام کر کے آخرت کے لیے کوشش بھی کرتے ہیں اور ساتھ اللہ کی توحید اور دیگر ضروریات دین پر ان کا ایمان بھی ہے تو ان کی کوشش کامیاب اور بار آور ہوگی۔ ” و سعی لھا سعیھا “ اس کے لیے کماحقہ کوشش کی یعنی اللہ کے اوامر کو بجالایا اور منہیات سے باز رہا اور دین میں اختراع اور واحداث سے اجتناب کیا۔ ای السعی اللائق بھا وھو الاتیان بما امر والان تھا عما نہی لا التقرب بما یخترعون بارائھم (ابو السعود ج 70 ص 565) ۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہر ایک کو ہم پہنچائے جاتے ہیں ان کو19 تیرے رب کی بخشش میں سے اور تیرے رب کی بخشش کسی نے نہیں روک لی

19:۔ طالبان دنیا ہوں یا طالبانِ آخرت اللہ کے رزق سے سب اپنا اپنا حصہ پائیں گے دنیا میں رزق سے کوئی بھی محروم نہیں رکھا جائے گا۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھ20 کیسا بڑھا دیا ہم نے ایک کو ایک سے اور پچھلے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت

20:۔ یہ آخرت کی ترغیب ہے۔ جواب شبہ کے بعد آخرت کے لیے کوشش کرنے کی ترغیب فرمائی۔ دنیا میں مومن و کافر کے درمیان مال و دولت کے اعتبار سے بہت تفاوت تفاضل ہے مگر یہ کچھ معتبر نہیں اصل فضیلت کا مدار تو درجات آخرت پر ہے اور درجات آخرت اعمال صالحہ سے متعلق ہیں اس لیے اعمال صالحہ کے ذریعہ درجات آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ دنیا میں کافر اگرچہ اکثر اوقات مومن سے کثرت دولت میں بازی لے جاتا ہے لیکن درجات آخرت مومن کے ساتھ مختص ہیں اور کافر ان سے محروم ہوگا۔ المراد ان الاخرۃ اعظم واشف من الدنیا والمعنی ان المومنین یدخلون الجنۃ والکافرین یدخلون النار فیظہر فضل امومنین علی الکافرین (کبیر ج 5 ص 567) ۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

مت ٹھہرا21 اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم پھر بیٹھ رہے گا تو الزام کھا کر بیکس ہو کر

21:۔ جواب شہبہ اور ترغیب الی الاخرہ کے بعد دعوی توحید کا اعادہ کیا گیا۔ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے اور مراد ساری مخلوق ہے یا خطاب ہر سامع سے ہے بقاعدہ خطاب خاص و مراد عام۔ قرآن مجید میں بہت سی جگہوں میں ایسا ہے۔ والخطاب فی لا تجعل للسامع غیر الرسول وقال الطبری وگیرہ الخطاب لمحمد ﷺ ولمراد لجمیع الخلق (بحر ج 6 ص 22) ۔ ” فتقعد مذموما مخذولا “ تخویف دنیوی یا اخریوی ہے اور یہ نہی کا جواب ہے یعنی اگر تو اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا کارساز اور حاجت روا بنائے گا تو دنیا میں ذلت کے ساتھ کس مپرسی کی زندگی گذارے گا اور جن کو تو نے اپنے مددگار سمجھا ہے وہ تیری مدد نہیں کرسکیں گے (کشاف) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں ذلیل و خوار اور بےیارو مددگار ہوگا۔ ای لا ناصر لک ولا ولیا (قرطبی) ج 10 ص 236) ۔ من اشرک باللہ کان مذموما مخذولا۔ لانہ لما باثبت شریکا للہ تعالیٰ استحق ان یفوض امرہ الی ذالک الشریک فلما کان ذلک الشریک معدوما بقی بلا ناصر و لا حاظ و لا معین و ذلک عین الخذلان (کبیر ج 5 ص 568) ۔
Ayahs 17:23–24

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور حکم کرچکا تیرا رب کہ نہ پوجو22 اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو23 اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو24 ایک ان میں یا دونوں تو نہ کہہ ان کو ہوں اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کر نیاز مندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم کر جیسا پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا

22:۔ ” و قضی ربک “ تا ” عند ربک مکروھا “ (رکوع 4) ۔ چونک معجزہ اسراء کے بعد انکار توحید پر عذاب الٰہی آنے والا تھا اس لیے اب یہاں دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا ذکر کیا گیا یعنی شرک نہ کرو، احسان کرو اور طلم نہ کرو۔ ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ میں امر اول کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کی عبادت اور پکار میں کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ یہ دلائل ماقبل کا ثمرہ بھی ہے یعنی مزکورہ بالا دلائل عقل و نقل اور وحی سے ثابت ہوگیا کہ کارساز اور متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا اس کے سوا کسی نبی مرسل، کسی ملک مقرب اور کسی ولی کامل کے لیے کسی قسم کی عبادت بجا نہ لاؤ اور نہ اس کے سوا حاجات و مصائب میں مافوق الاسباب کسی کو پکارو۔ اگر اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو۔ 23:۔ ” و بالوالدین احسانا “ یہ امر ثانی ہے یعنی عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے دوسرا کام یہ کرو کہ مخلوق خدا کے ساتھ احسان کرو چار جماعتوں کو احسان کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اول والدین۔ دوم باقی تمام رشتہ دار۔ سوم مساکین و غربا اور چہارم مسافر پردیسی ان چاروں میں تقریباً سب ہی آجاتے ہیں۔ والدین کا حق چونکہ سب پر فائق اور مقدم تھا اس لیے ان کا ذکر مقدم کیا گیا نیز ان کے حقوق و آداب قدرے تفصیل سے ذکر کیے گئے۔ ” احسانا “ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ای احسنوا بالوالدین احسانا (مدارک ج 2 ص 240) ۔ یعنی والدین کے ساتھ کما حقہ احسان کرو، حسن سلوک اور ادب و احترام سے پیش آؤ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے توحید کے ساتھ متصل بلا فصل والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ان کے حقوق بیان فرمائے ہیں اور سورة لقمان رکوع 2 میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کا شکر کرنے کا حکم فرمایا ہے ” ان اشکر لی ولوالدیک الی المصیر “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں باپ کے حقوق اور ان سے حسن معاشرت کس قدر ضروری اور اہم ہے۔ 24:۔ والدین کے حقوق و آداب کی قدرے تفصیل ہے۔ فرمایا اگر تمہاری زندگی میں ماں یا باپ یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو اب وہ تمہارے بہترین اور نرم سلوک کے مستحق ہیں اس عمر میں ذرا ذرا سی بات سے ان کا دل آزردہ اور دکھی ہوسکتا ہے اس لیے بڑھاپے میں ان سے بات کرتے وقت بہت نرمی اور پیار سے کام لینا ہوگا ” فلا تقل لھما اف “ یعنی ان سے کوئی ایسی بات مت کرو جس میں ذرا بھی تکلیف اور ایذاء کا کوئی پہلو نکل سکتا ہو تاکہ اس بڑھاپے میں ان کے دل کو تکلیف نہ پہنچے۔ ” ولا تنھرھما “ اور ان سے ڈانٹ کر اور جھڑک کر بات مت کرو ” و قل لھما قولا کریما “ بلکہ نہایت نرمی اور ادب و احترام کے ساتھ ان سے بات کرو۔ ” واخفض لھما الخ “ یہ شفقت اور مہربانی سے کنایہ ہے۔ ھذہ استعارۃ فی الشفقۃ والرحمۃ بھما (قرطبی ج 10 ص 243) ۔ اور والدین کے ساتھ بالکل اسی طرح شفقت اور مہربانی سے پیش آؤ جس طرح وہ تمہارے ساتھ بچپن میں شفقت اور مہربانی کیا کرتے تھے۔ ” و قل رب ارحمھما کما “ میں کاف تشبیہ کے لیے ہے یا تعلیل کے لیے اور والدین کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ اے اللہ میرے ماں باپ پر مہربانی اور رحمت فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں شفقت سے میری تربیت کی تھی مطلب یہ ہے ان پر رحمت فرما اس لیے کہ انہوں نے بچپن میں رحمت و شفقت سے میری تربیت کی تھی اور اب میں ان کی اس شفقت کے شکر کے طور ان کے لیے دعا مانگ رہا ہوں۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جانتا ہے25 جو تمہارے جی میں ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشتا ہے

25:۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ جو شخص اخلاص اور صدق نیت سے والدین کے حقوق ادا کرتا ہے وہ اسے بھی جانتا ہے اور جو شخص محض ریاکاری کے لیے یا بعض دنیوی منافع کی خاطر ایسا کر رہا ہے اس کی نیت بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اگر تم صدق نیت سے اور دلی محبت و احترام سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں اور ہر کام میں اس کی رضامندی ڈھونڈنے والوں کی تقصیروں اور غیر ارادہ لغزشوں کو معاف کرنے والا ہے ایک شخص نیک نیتی سے والدین کے حقوق ادا کرتا ہے اگر غلطی سے نادانستہ اس سے اداء حقوق میں کوئی کوتاہی ہوگئی تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ غفورا لما وقع منھم نوع تقصیر او اذیۃ فعلیۃ او قولیۃ (ابو السعود ج 5 ص 574) ۔ والدین خواہ مسلمان ہوں خواہ کافر دعاء کے علاوہ باقی تمام مذکورہ حقوق سب کے یکساں ہیں۔ کافر والدین سے حسن سلوک فرض ہے البتہ اگر وہ شرک کرنے کو کہیں تو اس میں ان کی پیروی جائز نہیں۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور دے قرابت والے26 کو اس کا حق اور محتاج کو اور مسافر کو اور مت اڑا بےجا

26:۔ والدین کے علاوہ باقی تمام رشتہ داروں پر بھی احسان کرو۔ صلہ رحمی کرو اگر وہ محتاج ہوں تو ان کی مالی امداد کرو۔ غریبوں اور مسکینوں پر صدقہ کرو، اگر کوئی مسافر بحالت سفر تمہاری اعانت کا مستحق ہو تو اس سے ہمدردی کرو اور اس کی ضرورت پوری کرو۔ ” ولا تبذر تبذیرا “ اور فضول اور بیجا خرچ نہ کرو بلکہ جائز مصارف میں خرچ کرو اس سے اجر ملے گا اور ناجائز مصارف میں خرچ کرنے سے عذاب ہوگا۔ تبذیر یہ ہے کہ مال ایسے مصرف میں خرچ کیا جائے جہاں خرچ کرنا شرعا جائز نہ ہو۔ مثلا شرک و بدعت کی اشاعت میں، رقص و سرود، شراب و کباب، عیاشی سینما بینی ایسے کاموں میں خرچ کرنا تبذیر میں داخل ہے۔ سئل عن ابن مسعود عن التبذیر فقال انفاق مال فی غیر حقہ (مظھری ج 5 ص 434) ۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

بیشک اڑانے والے27 بھائی ہیں شیطانوں کے اور شیطان ہے اپنے رب کا ناشکرا

27:۔ کیونکہ مال و دولت کو ناجائز اور خلاف شریعت کاموں میں خرچ کرنے والے شیطان ہیں جس طرح شیاطین کا کام ہے شر و فساد پھیلانا اسی طرح مبذرین بھی شرک اور فواحش و منکرات کو عام کر کے ملک میں شر و فساد بپا کرتے ہیں اذ المبذر ساع فی افساد کا لشیاطین (قرطبی ج 10 ص 248) ۔ شیطان اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی احسان فراموش اور ناشکر گذار ہے اس لیے اس کی پیروی نہ کرو وہ تمہیں کفران و طغیان ہی کی راہ دکھائیگا۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر کبھی تغافل کرے28 تو ان کی طرف سے انتظار میں اپنے رب کی مہربانی کے جس کی تجھ کو توقع ہے تو کہہ دے ان کو بات نرمی کی

28:۔ اگر آدمی کی مالی حالت کمزور ہو اور وہ رشتہ داروں، غریبوں اور دیگر مستحقین کی مالی امداد کرنے سے قاصر ہو اور وہ رحمت خداوندی کا امیدوار اور فراخی رزق کا منتظر ہو (یہ بات تقریبا ہر شخص میں پائی جاتی ہے) تو اسے چاہئے کہ وہ مستحقین کو درشتی اور کج خلقی سے جواب نہ دے بلکہ نرمی سے بات کرے اور اچھے طریقہ سے اپنا عذر پیش کرے۔ القول المیسور ھو الرد بالطریق الاحسن (کبیر ج 5 ص 577) قولا میسوار سھلا لینا و عدھم وعدا جمیلا من یسر الامر (ابو السعود ج 5 ص 576) ۔
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور نہ رکھ29 اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اس کو بالکل کھول دینا پھر تو بیٹھ رہے الزام کھایا ہارا ہوا

29:۔ خرچ کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسے کنجوس اور بخیل بھی نہ بنو کہ غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مند رشتہ داروں کی حالت پر تمہیں بالکل ہی رحم نہ آئے اور پھوٹی کوڑی بھی ان پر خرچ نہ کرو اور نہ اس قدر فراخی اور دریا دلی سے خرچ کرو کہ سب کچھ ہی دے ڈالو اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہنے دو اور آخر خالی ہاتھ ندامت و حسرت سے کف افسوس ملتے رہو بالکل خیر الامور اوسطہا کے مطابق دونوں حدوں یعنی افراط وتفریط کے درمیان رہو۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

تیرا رب کھول دیتا ہے30 روزی جس کے واسطے چاہے اور تنگ بھی وہی کرتا ہے وہی ہے اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا

30: یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ رزق کی تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کوئی شخص اپنی عقل و دانش اور محنت و کاوش کے بل پر دولتمند نہیں بن سکتا۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں سے پورا پورا باخبر اور ان کے تمام اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اپنے بندوں میں رزق تقسیم فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جو سب کا رازق ومالک ہے اور پھر سب کچھ جاننے اور دیکھنے والا بھی ہے و ہی سب کا کارساز ہے لہذا اسی عبادت کرو، اسی کی نذریں منتیں دو اور حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور نہ مار ڈالو31 اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے ہم روزی دیتے ہیں ان کو اور تم کو بیشک ان کا مارنا بڑی خطا ہے

31:۔ دفع عذاب کے لیے امر سوم کا ذکر یعنی مخلوق خدا پر ظلم نہ کرو یہاں چھ امور ظلم ذکر کیے گئے ہیں۔ یہ پہلا ظلم ہے یعنی تنگدستی اور تنگی رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو اولاد کو قتل کرنا بہت بڑا کبیر گناہ ہے۔ آخر تم بھی رزق کھا کر ہی جی رہے ہو تمہیں روزی کون دیتا ہے جب میں تمہیں روزی دے رہا ہوں تو انہیں بھی دوں گا اس لیے تنگی رزق کا اندیشہ نہ کرو۔ عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عورت چونکہ روزی نہیں کما سکتی اور والدین پر اس کی پرورش بوجھ بن جاتی ہے اس لیے وہ شروع ہی میں اسے ٹھکانے لگا دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اس ظالمانہ حرکت سے منع فرمایا۔ خاندانی منصوبہ بندی بھی ایک معنی میں قتل اولاد کے تحت داخل ہے اس لیے یہ آیت اس کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ظلم ہے۔ علی ہذا جس طرح اولاد کا جسمانی قتل ظلم ہے اسی طرح روحانی قتل بھی ظلم ہے۔ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو موجودہ اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم دلوانا اسلامی علوم و فنون سے بےبہرہ رکھ کر ان کو غیر اسلامی فنون اور غیر اسلامی تہذیب سکھانا اور انہیں بےحیائی اور فواحش کی تعلیم دینا اولاد کا روحانی قتل ہے جو بہت بڑا ظلم ہے۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور پاس نہ جاؤ زنا کے32 وہ ہے بےحیائی اور بری راہ ہے

32:۔ یہ دوسرا ظلم ہے۔ یہ بھی ظلم ہے کیونکہ ولد الزنا کو یا تو مار ڈالیں گے یا پھر وہ مادر و پدر کی مشفقانہ پرورش سے محروم رہے گا۔ ” ولا تقربوا الزنا “ (زنا کے قریب بھی مت جاؤ) کی تعبیر میں ” لا تزنوا “ (زنا نہ کرو) کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے تمام کاموں سے بھی دور رہو جو زنا کا پیش خیمہ ہوں مثلاً غیر محرم عورتوں سے آزادانہ میل جول، بےتکلف گفتگو، بری نگاہ وغیرہ۔ ای لا تاتوا بدواعیھا من العزم علیہ او علی بعض مقدما تھا فضلا ان تباشروہ (مظہری ج 5 ص 436) ۔
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور نہ مارو اس جان کو33 جس کو منع کردیا ہے اللہ نے مگر حق پر اور جو مارا گیا ظلم سے تو دیا ہم نے اس کے وارث کو زور سو حد سے نہ نکل جائے قتل کرنے میں اس کو مدد ملتی ہے

33:۔ یہ تیسرا ظلم ہے۔ کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ ” و من قتل مظلوما الخ “ مقتول کا قصاص لینے کے بارے میں اولیائے مقتول کو ہدایت کی گئی کہ قصاص لینے میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو مثلاً ایک کے بدلے ایک سے زیادہ کو قتل نہ کرو اور نہ مقتول کو بےحرمت کرو جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور پاس نہ جاؤ34 یتیم کے مال کے مگر جس طرح کہ بہتر ہو جب تک کہ وہ پہنچے اپنی جوانی کو اور پورا کرو عہد کو بیشک عہد کی پوچھ ہوگی

34:۔ یہ چوتھا ظلم ہے۔ یتیموں کا مال ناحق اور ناجائز طریق سے مت کھاؤ البتہ اگر کوئی شخص یتیم کے مال میں تجارت کرے یا اس کی زمین میں زراعت کرے اور اپنی محنت کا حق اس میں سے وصول کرلے تو یہ جائز ہے۔ لیکن بلا وجہ یتیم کا مال غصب کرلینا اور ناحق اس پر قبضہ جمالینا صریح ظلم ہے۔ ” و اوفوا بالعہد “ اور اپنے عہد پورے کرو جو تم نے بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھے ہیں یعنی اس کے اوامر کی پیروی کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو۔ واوفوا بالعھد باوامر اللہ تعالیٰ ونواھیہ (مدارک ج 2 ص 342) ۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور پورا بھر دو35 ناپ جب ناپ کردینے لگو اور تو لو سیدھی ترازو سے یہ بہتر ہے اور اچھا ہے اس کا انجام

35:۔ یہ پانچواں ظلم ہے۔ تجارتی لین دین کرتے وقت ناپ تول میں کمی بیشی کرکے لوگوں کا حق نہ مارو یہ بھی ظلم ہے بلکہ پورا پورا تولو اور صحیح صحیح ناپو یہ دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے بہتر ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہاری روزی حرام کے شبہہ سے پاک ہوگی۔ تمہارے کارو بار میں برکت ہوگی اور دیانت و امانت کی وجہ سے لوگوں کا تم پر اعتماد قائم رہے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پاؤ گے۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور نہ پیچھے پڑ36 جس بات کی خبر نہیں تجھ کو بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہوگی

36:۔ یہ چھٹا ظلم ہے جس چیز کے بارے میں پورا علم نہ ہو اس میں محض ظن وتخمین پر عمل نہ کرو اور بلا تحقیق کسی مسلمان کو تکلیف نہ دو اور محض سنی سنائی باتوں پر اعتماد کر کے کسی کو نشانہ ظلم نہ بناؤ۔ وقال القتبی لا تتبع الحدس والظنون (قرطبی ج 10 ص 357) جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” اجتنبوا کثیر امن الظن ان بعض الظن اثم “ (حجرات رکوع 2) ۔ آدمی کو چاہئے کہ بلا تحقیق کوئی بات نہ کرے اللہ تعالیٰ نے دل و دماغ، آنکھیں اور کان دئیے ہیں ان سے کام لینا چاہئے۔ سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔ ان سنی یا ان دیکھی باتوں کو سنی یا دیکھی بنانا یا جس کا علم نہ ہو اس کو جاننے کا دعوی کرنا یہ سب اس آیت کے تحت ممنوع ہیں۔ ” ان السمع والبصر الخ “ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سوچنے سمجھنے اور دیکھنے سننے کے لیے حواس عطا فرمائے ہیں ان کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا کہ ان سے ہم نے کیا کام لیا اور ان کو بےموقع تو استعمال نہیں کیا۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور مت چل زمین پر37 اتراتا ہوا تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کر

37:۔ جب دنیوی مال و دولت اور جاہ و حشم کی وجہ سے انسان میں غرور وتکبر پیدا ہوجاتا ہے تو پھر وہ ہر قسم کے ظلم و ستم اور عصیان و طغیان پر آمادہ ہوجاتا ہے اس لیے غرور و استکبار سے منع فرمایا کہ اپنی حقیقت دیکھو تم ایک عاجز اور بےبس انسان سے زیادہ کچھ نہیں ہو۔ نہ تم زمین کو پاؤں کی ٹھوکر سے پھاڑ سکتے ہو اور نہ گردن اونچی کر کے اور سینہ تان کر پہاڑوں کے برابر ہوسکتے ہو اس لیے اس عجز و کم مائیگی کے باوجود اکڑ اکڑ کر اور سینہ تان کر چلنے سے کیا فائدہ ؟
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

یہ جتنی باتیں ہیں38 ان سب میں بری چیز ہے تیرے رب کی بیزاری

38:۔ مذکورہ بالا کاموں میں سے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے اور جن سے منع کیا گیا ہے ان کے کرنے میں اس کی ناراضی ہے۔ مذکورہ برائیوں کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ سب گناہ ہیں ان سے کلی اجتناب کرو اور ان کے نزدیک بھی نہ جاؤ۔
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ ہے ان باتوں میں39 سے جو وحی بھیجی تیرے رب نے تری طرف عقل کے کاموں سے اور نہ ٹھہرا اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی پھر پڑے تو دوزخ میں الزام کھا کر دھکیلا جا کر

39:۔ مذکورہ بالا احکام کی طرف اشارہ ہے یعنی احکام مذکورہ سراپا حکمت الٰہی پر مبنی ہیں اور ان کی پیروی ہی میں انسانوں کی بہتری اور بھلائی ہے۔ ” ولا تجعل مع اللہ الخ “ دفع عذاب کے لیے امور ثلثہ کے ذکر سے پہلے بھی دعوی توحید کا ذکر کیا گیا ” لا تجعل مع اللہ الھا اخر فتقعد مذموما مخذولا “ اور پھر امور ثلثہ کے بعد بھی دعوی توحید کا اعادہ کیا گیا اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان تمام تکالیف سے اصل مقصود اور اصلی مدعا توحید ہے۔ مخلوق خدا پر احسان کرنا بہت اچھا ہے اور مخلوق خدا پر ظلم کرنا بہت برا ہے لیکن تمام اعمال خیر کی بنیاد توحید پر ہے اور تمام اعمال شر سے شرک ایک بدترین شر ہے۔ کر رہ لانہ المقصود و التوحید راس کل حکمۃ (جامع البیان ص 245) انہ تعالیٰ بدا فی ھذہ التکالیف بالامر بالتوحید والنھی عن الشرک و ختمھا بعین ھذا المعنی والمقصود منہ التنبیہ علی ان اول کل عمل وقول وفکر وذکر یجب ان یکون ذکر التوحید واخرہ یجب ون یکون ذکر التوحید تنبیھا علی ان المقصود من جمیع التکالیف ھو معرفۃ التوحید والاستغراق فیہ الخ (کبیر ج 5 ص 593) ۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

کیا تم کو چن کر دے40 دیے تمہارے رب نے بیٹے اور اپنے لیے کرلیا فرشتوں کو بیٹیاں تم کہتے ہو بھاری بات

40:۔ یہاں سے لے کر ” فلا یستطیعون سبیلا “ (رکوع 5) تک زجریں ہیں ان مشرکین پر جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو خدا کے یہاں شفیع غالب سمجھتے تھے۔ مشرکین خود تو بیٹیوں سے نفرت کرتے تھے مگر فرط تعنت وعناد کی وجہ سے اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے تھے وہ فرشتوں کو خدا کے یہاں شفیع غالب سمجھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس طرح بیٹیاں باپ کو بہت محبوب ہوتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اور وہ ان کی سفارش رد نہیں فرماتا۔ فرمایا اے مشرکین تم یہ بہت ہی بری بات کہتے ہو۔