17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsجواھر القرآن

Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور پھیر پھیر کر41 سمجھایا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ سوچیں اور ان کو زیادہ ہوتا ہے وہی بد کنا

41:۔ زجر ہے۔ مسئلہ توحید اور نفی شرک کو ہم قرآن میں مختلف پیرایوں میں بیان کرچکے ہیں تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں مگر الٹا ان کی نفرت میں اضافہ ہوا کیونکہ ضد وعناد کی وجہ سے وہ قرآن کو جادو، شعر اور کہانت کہتے تھے اس لیے قرآنی تعلیمات ان کے دلوں میں نہ اتر سکیں۔ وذلک لانھم اعتقدوا فی القران انہ حیلۃ و سحرو کھانۃ و شعر (قرطبی ج 10 ص 365) اس لیے جب ان کے سامنے مسئلہ توحید کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں حکم ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو کارساز اور شفیع غالب نہ سمجھو اور اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو نہ پکارو تو وہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ اگر ہوتے42 اس کے ساتھ اور حاکم جیسا یہ بتلاتے ہیں تو نکالتے صاحب عرش کی طرف راہ

42:۔ یہ ” ولا تجعل مع اللہ الھا اخر “ سے متعلق ہے اور مشرکین کا رد ہے۔ ھذا متصل بقولہ تعالیٰ ولا تجعل مع اللہ الھا اخر الخ (قرطبی) حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مشرکین کا خیال ہے کہ ان کے مزعومہ معبود الوہیت اور صفات کارسازی میں اللہ کے شریک ہیں۔ اور خدا کے یہاں ان کے سفارشی ہیں تو وہ خدا کے یہاں قرب حاصل کر کے سفارش سے پجاریوں کے کام کردیا کریں اور ان کے پجاری اپنی حاجات و مشکلات میں ان سے سفارش کرا کر خداوند تعالیٰ سے اپنے تمام کام حسب مرضی کرالیا کریں حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان کی تمام حاجتیں بر آئیں وقیل معناہ لطلبو الی ذی العرش سبیلا بالتقرب الیہ (معالم) عن مجاھد و قتادۃ ان المعنی اذا لطلبوالزفی الیہ تعالیٰ والتقرب الخ (روح ج 15 ص 77) ۔
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کی باتوں سے بےنہایت43

43:۔ مشرکین کے ان اقوال باطلہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور منزہ ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ اس کے سامنے کوئی شفیع غالب۔ ” تسبح لہ السموات الخ “ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اور کائنات کا ذرہ ذرہ زبان حال سے یا زبان قال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہے اور شرک سے اللہ کی تنزیہ بیان کرنے میں لگا ہوا ہے جب ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دے رہی ہے تو پھر اس کے لیے بیٹیاں تجویز کرنا اور شریک بنانا بہت بری بات اور شرمناک گستاخی ہے۔ جمادات کی تسبیح کے بارے میں دو قول ہیں بعض کا خیال ہے کہ حیوانات اور جمادات بھی زبان قال ہی سے تسبیح پڑھتے ہیں مگر ہم ان کی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ قال فرقۃ المراد بہ تسبیح الدلالۃ و کل محدث یشہد علی نفسہ بان اللہ عز وجل خالق قادر و قالت طائفۃ ھذا التسبیح حقیقۃ وکل شیء علی العموم یسبح تسبیحا لا یسمعہ البشر ولا یفقہہ الخ (قرطبی ج 10 ص 266) ۔
Ayahs 17:44–45

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

اس کی پاکی44 بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور کوئی چیز نہیں جو نہیں پڑھتی خوبیاں اس کی لیکن تم نہیں سمجھتے ان کا پڑھنا بیشک وہ ہے تحمل والا بخشنے والا

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تو پڑھتا ہے قرآن کردیتے ہیں ہم بیچ میں تیرے اور ان لوگوں کے جو نہیں مانتے آخرت کو ایک پردہ چھپا ہوا

44:۔ اللہ تعالیٰ ایسا حلیم اور معاف کرنے والا ہے کہ ساری مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور مشرکین اس کے لیے شرکاء اور شفعاء تجویز کرتے ہیں ایسی بڑی گستاخی پر بھی وہ انہیں جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اگر توبہ کرلیں تو معاف فرما دیتا ہے۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ہم رکھتے ہیں45 ان کے دلوں پر پردہ کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب ذکر کرتا ہے تو قرآن میں اپنے رب کا اکیلا کر کے بھاگتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر

45:۔ یہ مشرکین کے حق کو نہ ماننے اور مسئلہ توحید کا انکار کرنے کی علت ہے۔ جب آپ قرآن مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں تو آپ کے اور ان کے درمیان پردہ لٹکا دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قرآن سن ہی نہیں پاتے۔ پردہ سے ضد وعناد کا معنوہ پردہ مراد ہے مشرکین محض ضد و حسد اور تعصب وعناد کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، آپ سے دور رہتے اور نفرت کرتے تھے یہی معنوی پردہ درمیان میں حائل تھا جو انہیںحضور ﷺ کے قریب آنے نہیں دیتا تھا ” و جعلنا علی قلوبھم اکنۃ الخ “ ضد وعناد اور انکار و جحود کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان سے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے اس لیے اہل لسان ہونے کے باوجود قرٓان کو سمجھ نہیں سکتے۔ ” ان یفقہوہ ای کراھۃ ان یفقہوہ (قرطبی) “۔” و اذا ذکرت ربک الخ “ جب قرآن میں اللہ کی توحید کا ذکر آتا ہے اور آپ توحید کی آیتیں ان کو پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ نفرت سے دور بھاگتے ہیں وہ چاہتے کہ اللہ کے ساتھ ان کے معبودان باطلہ کا بھی ذکر کیا جائے۔ ای یحبون ان تذکر معہ الھتہم لانھم مشرکون فاذا سمعوا بالتوحید نفروا (مدارک ج 2 ص 244) ۔ جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” و اذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون “ (زمر رکوع 5) ۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں46 جس واسطے وہ سنتے ہیں جس وقت کان رکھتے ہیں تیری طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں جب کہ کہتے ہیں یہ بےانصاف جس کے کہے پر تم چلتے ہو وہ نہیں ہے مگر ایک مرد جادو کا مارا

46:۔ مشرکین بعض دفعہحضور ﷺ کی باتیں غور سے سنتے تاکہ ان سے قابل اعتراض اور طعن وتشنیع کے پہلو نکال سکیں آپ کی باتیں سن کر پھر باہم مشورے کرتے کہ اس پر کیا اعتراض کریں اور کیا طعن دھریں۔ آخر فیصلہ کیا کہ یہ شخص مسحور ہے یعنی اس پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ٹھکانے نہیں رہا اور بہکی بہکی باتیں کرتا ہے (العیاذ باللہ) اللہ نے فرمایا میں سب کچھ جانتا ہوں مجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ جس نیت اور مقصد سے وہ پیغمبر (علیہ السلام) کی باتیں غور سے سنتے ہیں اور مطاعن تراشنے کے لیے جو مشورے کرتے ہیں وہ سب مجھے معلوم ہیں اور ان تمام شرارتوں کی ان کو پوری پوری سزا دی جائے گی۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھ لے کیسے47 جماتے ہیں تجھ پر مثلیں اور بہکتے پھرتے ہیں سو راہ نہیں پاسکتے

47:۔ آپ کو کبھی جادوگر اور شاعر کہتے ہیں اور کبھی مسحور و مجنوں۔ ان کا یہ رویہ بھی قابل تعجب ہے کہ آپ پر طعن وتشنیع کی کوئی ایک راہ متعین نہیں کرسکتے وہ اپنے ہر طعن میں گمراہ اور صراط مستقیم سے دور ہیں۔ وہ مختلف مطاعن سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ایک بات پر مستقل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے (” فلا یستطیعون سبیلا “ ) ای حیلۃ فی صد الناس عنک (قرطبی ج 10 ص 273) ۔
Ayahs 17:49–50

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہوجائیں ہڈیاں اور چورا چورا48 پھر اٹھیں گے نئے بن کر

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

تو کہہ تم ہوجاؤ پتھر یا لوہا

48:۔ یہ شکوی ہے۔ آپ کو ساحر و شاعر اور جنون و مسحور کہنا اور آپ کے لائے ہوئے پیغام توحید کا انکار کرنا اور شرک کرنا تو قابل تعجب تھا ہی یہ لوگ تو حشر و نشر کا بھی انکار کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا پھر ہمیں دوبارہ پیدا کرلیا جائیگا۔ یہ تو بالکل ہی ناممکن بات ہے۔ ” قل کونوا حجارۃ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی مرنے کے بعد اگر تم پتھر یا لوہا بن جاؤ یا ان سے بھی کوئی سخت چیز بن جاؤ جس میں جان ڈالنا تمہیں بہت ہی مشکل نظر آتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرلے گا اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کرلیا اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کونسا دشوار ہے۔
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی خلقت جس کو مشکل سمجھو اپنے جی میں پھر اب کہیں گے49 کون لوٹا کر لائے گا ہم کو کہہ جس نے پیدا کیا تم کو پہلی بار پھر اب مٹکائیں گے تیری طرف اپنے سر اور کہیں گے کب ہوگا یہ تو کہہ شاید نزدیک ہی ہوگا

49:۔ تعجب سے سوال کریں گے کہ ایک بات نیست و نابود ہوجانے کے بعد ہمیں دوبارہ کون زندہ کریگا آپ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔ اس لیے جو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ فمن قدر علی الانشاء قدر علی الاعادۃ (خازن و معالم ج 4 ص 163) ” فسینغضون الیک رء وسھم الخ “ اس پر وہ استہزاء و تمسخر سے کہیں گے ارے بھائی وہ کب ہوگی ؟ ” قل عسی ان یکون قریبا “ دوبارہ جی اٹھنے کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ وقت قریب ہی ہے۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن تم کو پکارے گا50 پھر چلے آؤ گے اس کی تعریف کرتے ہوئے اور اٹکل کرو گے کہ دیر نہیں لگی تم کو مگر تھوڑی

50:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ یعنی جس وقت خدا کی طرف سے آواز دی جائے گی تو تمام مردے زندہ ہو کر زمین سے باہر آجائیں گے اور اس وقت ہر انسان اللہ تعالیٰ کا مطیع و منقاد ہوگا اور ہر ایک کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا جاری ہوگی اور جب اٹھیں گے تو ہزاروں سالوں کی مدت کو بہت کم سمجھیں گے۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور کہہ دے میرے بندوں کو کہ بات وہی کہیں جو بہتر ہو51 شیطان جھڑپ کرواتا ہے ان میں شیطان ہے انسان کا دشمن صریح

51:۔ شکوہ جواب شکوہ اور تخویف اخروی کے بعد طریق تبلیغ کی تعلیم دی گئی کہ مشرکین اگر سختی اور بد زبانی سے پیش آئیں تو بھی تم نرمی اختیار کرو کیونکہ شیطان بنی آدم کا علانیہ دشمن ہے وہ معمولی باتوں سے فساد بپا کرادے گا اور توحید کی تبلیغ و اشاعت میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔ اس لیے مسئلہ توحید اور حشر و نشر کو دلائل سے واضح کرتے وقت انداز گفتگو نرم اور ناصحانہ اختیار کرو۔ اذا اردتم ایرا الحجۃ علی المخالفین فاذکروا تلک الدلائل بالطریق الاحسن وھو ان لا یکون ذکر الحجۃ مخلوطا بالشتم والسب (کبیر ج 5 ص 603) ۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کو52 اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تم کو عذاب دے اور تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر ذمہ لینے والا

52:۔ اس میں التفات ہے غیبت سے خطاب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مراد مشرکین مکہ ہیں مگر تعمیم کے لیے صیغہ خطاب سے تعبیر کیا گیا کہ اے ایمان والو ! اور اے مشرکینِ مکہ ! تم سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
Ayahs 17:55–56

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور تیرا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں53 اور ہم نے افضل کیا ہے بعضے پیغمبروں کو بعضوں سے اور دی ہم نے داؤد کو زبور

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہہ پکارو جن کو تم سمجھتے ہو سوائے اس کے سو وہ اختیار نہیں رکھتے کہ کھول دیں تکلیف کو تم سے اور نہ بدل دیں

53:۔ یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ جب وہی عالم الغیب ہے تو مصائب و حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ ہم نے انبیاء (علیہم السلام) کو بزرگی عطا کی اور بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ” و اتینا داود زبورا “ اور داود (علیہ السلام) کو ہم نے زبور دی جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی دعاء اور پکار ہی کا ذکر تھا۔ الزبور کتاب لیس فیھا حلال ولا حرام ولا حدود انما ھو دعاء تحمید وتمجید (قرطبی ج 10 ص 278) ۔ بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بعض پر فضیلت دینے کے سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ زبور کا ذکر اس لیے فرمایا کیونکہ زبور میں آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر تھا۔ وخص داود بالذکر ھنا لانہ تعالیٰ ذکر فی الزبور ان محمد خاتم الانبیاء وان امتہ خیر الامم (بحر ج 6 ص 50) ۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں54 وہ خود ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب تک وسیلہ کہ کونسا بندہ بہت نزدیک ہے اور امید رکھتے ہیں اس کی مہربانی کی اور ڈرتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

54:۔ یہ دلیل مذکورہ کا ثمرہ ہے جب سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا کسی کو حاجات و مشکلات میں مت پکارو۔ اگر اطمینان نہ آئے تو جن کو تم نے اللہ کے سوا حاجت روا اور کارساز سمجھ رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی تمہاری موجودہ مصیبتیں دور کرنے اور آنے والی تکلیفوں کو روکنے کا ہرگز اختیار نہیں رکھتا۔ جن انبیاء و اولیاء اور ملائکہ (علیہم السلام) کو تم نے کارساز اور مختار و متصرف سمجھ رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی تمہاری موجودہ مصیبتیں دور کرنے اور آنے والی تکلیفوں کو روکنے کا ہرگز اختیار نہیں رکھتا۔ جن انبیاء و اولیاء اور ملائکہ (علیہم السلام) کو تم نے کارساز اور مختار و متصرف سمجھ رکھا ہے ان کا تو اپنا حال یہ ہے کہ ان میں سے جو جس قدر اللہ تعالیٰ کے زیادہ مقرب ہیں اسی قدر اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ نزدیکی تلاش کرتے ہیں، وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ترساں و لرزاں رہتے ہیں۔ ” ایھم “ میں ای موصولہ ہے اور ” یبتغون “ کی ضمیر فاعل سے بدل البعض ہے اور ” اولئک الذین الخ “ سے وہ انبیاء و ملائکہ (علیہم السلام) مراد ہیں جن کو مشرکین پکارتے تھے۔ ای اولئک الذین ای المعبودون یطلب من ھو اقرب منھم الوسیلۃ الی اللہ تعالیٰ بطاعتہ فکیف بالابعدالخ (روح ج 15 ص 92) ۔ یہ آیت حضرت عزیر، حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) اور ملائکہ کرام کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہود حضرت عزیر کو، عیسائی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کو اور مشرکین فرشتوں اور دیگر بزرگوں کو کارساز سمجھتے تھے ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ وھم الملائکۃ او عیسیٰ وعزیر الخ (مدارک ج 2 ص 245) ای دعوا الذین تعبدون من دون اللہ و زعمتم انھم الھۃ و قال الحسن یعنی الملائکۃ و عیسیٰ عزیرا (قرطبی ج 10 ص 279) ۔ قال ابن عباس فی عزیر والمسیح وامہ۔ والمعنی دعوھم فلا یستطیعون ان یکشفوا عنکم الضر من مرض او فقر او عذاب ولا ان یحولوہ من واحد الی واحد اخر او یبدلوہ (بحر ج 6 ص 51) تحقیق لفظ وسیلہ :۔ ” وسیلۃ “ نروزم فعیلہ سے اعمال صالحہ اور اطاعت خداوندی مراد ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ امام آلوسی اور ابو السعود فرماتے ہیں (الوسیلۃ) القربۃ بالطاعۃ والعبادۃ (روح ج 15 ص 98) ، ابو السعود ج 5 ص 601) ۔ حضرت قتادہ (رح) سے بھی یہی منقول ہے۔ والوسیلۃ ھی القربۃ کما قال قتادۃ (ابن کثیر ج 3 ص 47) قال قتادۃ ای تقربوا الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ (ایضا ج 2 ص 52) ۔ علامہ آلوسی دوسری جگہ فرماتے ہیں۔ ھی فعیلۃ بمعنی ما یتوسل بہ و یتقرب الی اللہ عز و جل من فعل الطاعات و ترک المعاصی من وسل الی کذا ای تقرب الیہ بشیء (روح ج 6 ص 124) ۔ قرآن مجید کی نصوص سے بھی یہ حقیقت واضح ہے کہ ایمان باللہ، ایمان بالرسول اور اتباع رسول قرب خداوندی کا وسیلہ ہے۔ ارشاد ہے ” ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان “ تا ” فاغفرلنا ذنوبنا و کفر عنا سیئاتنا الیۃ “ (آل عمران رکوع 20) ۔ دوسری جگہ ارشاد ہے ” انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا وارحمنا و انت خیر الرٰحمین “ (مومنون رکوع 6) ۔ ان دونوں آیتوں میں ایمان والوں کی دعا کا ذکر ہے جس میں وہ ایمان باللہ کو وسیلہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعا مانگ رہے ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے ” ربنا امنا بما انزلت و اتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشھدین “ (ال عمران رکوع 15) ۔ اس آیت میں حواریان عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایمان بالکتاب اور اتباع رسول کے وسیلہ سے دعا مانگی۔ حدیث میں آتا ہے گذشتہ زمانے میں تین آدمی سفر کر رہے تھے، بارش شروع ہوگئی تو بچاؤ کے لیے ایک غار میں داخل ہوگئے۔ ایک بھاری چتان نے لڑھک کر غار کا منہ بند کردیا تو تینوں نے اعمال صالحہ کے وسیلہ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے چٹان کو نیچے لڑھکا کر غار کا منہ کھول دیا۔ ومن ھذا الباب حدیث الثلثۃ الذین اصابتھم المطر فاو وا الی الغار وانطبقت علیہم الصخرۃ ثم دعو وا اللہ باعمالھم الصالحۃ ففرج عنہم۔ یہ حدیث کتب صحاح میں موجود ہے۔ اسی طرح اگر کسی زندہ بزرگ سے دعا کرائی جائے تو یہ بھی ایک قسم کا وسیلہ ہے اور جائز ہے۔ لیکن اگر بزرگ فوت ہوچکا ہو یا کہیں دور موجود ہو تو اس سے غائبانہ دعا کی درخواست کرنا اس خیال سے کہ وہ جانتا ہے یہ ہرگز جائز نہیں۔ الاستعانۃ بمخلوق وجعلوہ وسیلۃ بمعنی طلب الدعاء منہ لا شک فی جو ازہ ان کان المطلوب منہ حیا۔ واما اذا کان المطلوب منہ میتا او غائبا فلا یستریب عالم انہ غیر جائز وانہ من البدع التی لم یفعلھا احد من السلف۔ ولم یرو عن احد من الصحابۃ ؓ وھم احرص الناس علی کل خیر۔ انہ طلب من میت شیئا الخ (روح ج 6 ص 125) ۔ حدیثوں میں وارد ہے کہ لوگ حضرت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے دعا کی درخواست کیا کرتے تھے لیکنحضور ﷺ کی وفات کے بعد کسی ایک صحابی سے بھی صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں کہ اس نے آپ کی قبر مبارک پر جا کر دعا کی درخواست کی ہو۔ قرآن مجید کی آیت ” ولو انھم اذ طلموا انفسہم جاءوک فاستغفروا اللہ و استغفرلھم الرسول الایۃ “ سے زندگی میں دعا کرانا مقصود ہے۔ اہل بدعت نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ اور اولیاء کرم کی قبروں پر جا کر اور ان کو مخاطب کر کے ان کا وسیلہ پکڑنا جائز ہے۔ اگر اس طرح قبر پر جا کر وسیلہ پکڑنا جائز ہوتا تو حضرت عمر ؓ حضرت عباس ؓ کی دعا سے وسیلہ نہ پکڑتے بلکہ سیدھےحضور ﷺ کی قبر مبارک پر جا کر آپ سے دعا کی درخواست کرتے۔ صحیح بخاری میں ہے جب بارش نہ ہوتی تو حضرت عمر ؓ حضرت عباس ؓ کو باہر لے جاتے دوسرے مسلمان بھی ہوتے تو حضرت عمر اللہ سے التجا کرتے۔ اللھم انا کنا نتوسل الیک بنبیک ﷺ فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبیک فاسقنا فیسقون۔ اللہ پہلے ہم تیرے پیغمبر ﷺ کے توسل سے بارش مانگتے تھے تو تو بارش برساتا تھا اب ہم تیرے پیغمبر کے چچا کے توسل سے بارش کی دعا مانگتے ہیں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ کی دعا سے توسل اگر وفات کے بعد بھی جائز ہوتا تو صحابہ کرام ؓ اس اعلی توسل کو چھوڑ کر حضرت عباس ؓ کی دعاء سے توسل نہ کرتے۔ لو کان التوسل بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) بعد انتقالہ من ھذہ الدار لما عدلوا الی غیرہ الخ (روح ج 6 ص 426) ۔ حضرت عباس ؓ سے توسل کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعا کرتے تھے اور دوسرے لوگ آمین کہتے تھے۔ ان العباس کان یدعو وھم یومنون لدعائہ حتی سقوا (روح ج 6 ص 127) اسی طرح بحق فلاں دعا مانگنا بھی مکروہ تحریمی ہے کیونکہ اللہ پر کسی کا کوئی حق نہیں۔ البتہ یوں کہنا جائز ہے۔ اللھم انی اسئلک بمحبتی لہ وباتباعی ایاہ۔ اسی طرح توسل بالذات بھی ثابت نہیں۔ و انت تعلم ان الادعیۃ الماثورۃ عن اھل البیت الطاھرین وغیرھم من الئمۃ لیس یھا التوسل بالذات المکرمۃ ﷺ (روح ج 6 ص 126) توسل بالاموات پر بعض حدیثوں سے استدلال کیا جاتا ہے ان کی حقیقت بھی ملاحظہ ہو۔ پہلی حدیث :۔ جاء اعرابی الی قبر النبی ﷺ فرمی بنفسہ علی قبر النبی ﷺ فقال جئب لتستغفر لی فنودی من القبر انہ قد غفر لک یہ روایت صحیح نہیں بلکہ موضوع ہے اس کا ایک راوی ہیثم بن عدی طائی ہے جسے محدثین نے کذاب و وضاع کہا ہے۔ کان کذابا یضع الحدیث علی الثقات (تہذیب التہذیب) یحییٰ بن معین نے اس کے بارے میں کوفی لیس بثقۃ کان یکذب امام ابو داود نے کذاب امام ابو حاتم رازی، نسائی، دولابی، ازدی نے متورک الحدیث اور حاکم ابو احمد نے ذاھب الحدیث کہا (الصارم المنکی ص 310) ۔ ابن عبدالہادی نے اپنی کتاب الصارم المنکی میں لکھا ہے کہ کذاب راویوں نے ایک موضوع حدیث بیان کی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی قبر پر آ کر گناہوں کی بخشش کے لیے آپ کو مخاطب کر کے آپ کا وسیلہ پکڑا اس روایت میں ابو الجوازاء حضرت عائشہ ؓ سے راوی ہے لیکن ابو الجوزاء کا سماع، حضرت عائشہ ؓ سے ثابت نہیں۔ قال ابن عبد البر فی التمھید ابو الجوزاء لم یسمع من عائشۃ شیئا۔ دوسری حدیث :۔ طبرانی نے روایت کی ہے کہ عرہ بن زبیر حضرت صفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےحضور ﷺ کی وفات کے بعد کہا تھا۔ الا یارسول اللہ کنت رجاءنا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عروہ کا سماع حضرت صفیہ سے ثابت نہیں کیونکہ اس کی پیدائش ہی حضرت صفیہ کی وفات کے بعد ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ خطاب بیا ہمیشہ حاضر و ناظر کو نہیں ہوتا جس کے نظائر بہت ہیں۔ مثلاً ہر نماز میں پڑھا جاتا ہے السلام علیک ایھا النبی۔ اسی طرح قبرستان میں جا کر کہا جاتا ہے السلام علیکم یا اھل الدیار من المومنین۔ جبحضور ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات ہوئی تو آپ نے فرمایا انا بفراقک یا ابراہیم لمحزونون۔ حضرت عمر نے حجر اسود سے مخاطب ہو کر فرمایا انی لاعلم انک حجر الخ۔ ایک انصاری عورت نے حضرت عثمان بن مظعون کی وفت پر کہا تھا رحمۃ اللہ علیک یا ابا السائب۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ہلاکت کے بعد فرمایا۔ ” یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی۔ “ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی تباہی کے بعد ان سے خطاب کر کے فرمایا۔ ” لقد ابلغت رسالۃ ربی الخ “ علی ہذا یہ خطابات ہیں۔ یا ظبیات القاع قلن لنا یایھا اللیل الطویل۔ یا قبر معن کیف و اریت جودہ۔ جس طرح ان کطابات سے خطاب مقصود نہیں اسی طرح حضرت صفیہ کا مقصود بھی آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے سنانا نہیں۔ تیسری حدیث :۔ مستدرک حاکم کتاب الدعاء ص 519 ج 1 میں حضرت عثمان بن حنیف سے روایت کی ہے۔ ان رجلا ضریر البصر اتی النبی ﷺ فقال ادع اللہ ان یعافینی۔ اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک ﷺ نبی الرحمۃ۔ الحدیث ص 526 پر حاکم نے اس حدیث کی متابعات ذکر کی ہیں۔ یہ حدیث مسند احمد ج 4 ص 138 میں بھی ہے۔ حاکم نے اس حدیث کو علی شرط الشیخین کہا ہے۔ ان حدیثوں میںحضور ﷺ کی زندگی کا واقعہ مذکور ہے۔ لیکن بیہقی اور طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضرت عچمان بن عفان کے پاس آیا کرتا تھا لیکن وہ توجہ نہیں فرماتے تھے آخر وہ شخص عثمان بن حنیف کو ملا اور اپنا حال بیان کیا تو انہوں نے اس کو وہی دعا سکھائی جوحضور ﷺ نے اندھے کو سکھائی تھی اس دعاء میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے وسیلہ بنایا گیا ہے حالانکہ یہ واقعہحضور ﷺ کی وفات کا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس روایت کے ہر طریق میں ابو جعفر مدائنی واقع ہے اسی لیے امام ترمذی نے لکھا ہے ھذا الحدیث لانعرفہ الا من ھذا الوجہ من حدیث ابی جعفر و ھو غیر الخطمی (ج 2 ص 202) ۔ اما مسلم بن حجاج ابو جعفر مدائنی کو حدیثیں گھڑنے والوں میں شمار کرتے ہیں۔ کعبد اللہ بن مسور ابی جعفر المدائنی وغیرہ ممن اتھم بوضع الاحادیث وتولید الاخبار (خطبۃ صحیح مسلم ص 5) اسی طرح ص 16 پر فرماتے ہیں ان ابا جعفر الھاشمی المدنی کان یضع احادیث کلام حق ولیست من احادیث النبی ﷺ وکان یرویھا عن النبی ﷺ ۔ امام نووی فرماتے ہیں ابو جعفر مدینی ان ضعیف راویوں سے ہے جو جھوٹی حدیثیں بناتے ہیں۔ اما ابو جعفر ھذا ھو عبداللہ بن مسور المدائنی ابو جعفر المدنی تقدم فی اول الکتابفی الضعفاء الواضعین (شرح صحیح مسلم ج 2 ص 17) ۔ امام ذہبی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ روایت میں ثقہ نہیں، امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں اس کی حدیثیں موضوع ہیں میں نے اس سے روایت کرنا چھوڑ دیا ہے اور عبدالرحمن بن مہدی ہمیں عبداللہ بن مسور کی حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔ امام نسائی اور دار قطنی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن مسور متروک الحدیث ہے۔ امام رقبہ کہتے ہیں کہ اس نے آنحضرت ﷺ پر بہت سی حدیثیں وضع کی ہیں۔ عبداللہ بن المسور بن عون بن جعفر بن ابی طالب ابو جعفر الھاشمی المدائنی لیس بثقۃ، عن رقبۃ ان عبداللہ بن مسور المدائنی وضع احادیث علی رسول اللہ ﷺ ، قال احمد ترکت انا حدیثہ وکان ابن مھدی لا یحدثنا عنہ و قال النسائی والدارقطنی متروک (میزان الاعتدال ج 2 ص 504) ۔ امام نووی شرح مسلم ج 2 ص 17 پر لکھتے ہیں اما ابو جعفر ھذا فھو عبداللہ بن مسور المدائنی ابو جعفر المدنی تقدم فی اول الکتاب فی الضعفاء الواضعین۔ امام بخاری فرماتے ہیں ھو عبداللہ بن مسور بن جعفر بن ابی طالب ابو جعفر القرشی الھاشمی (تاریخ کبیر) ۔ ان حوالوں سے معلوم ہوگیا ائمہ جرح و تعدیل نے ابو جعفر کو کذاب و وضاع قرار دیا ہے۔ لہذا حاکم کا اس حدیث کو صحیح کہنا غلط اور اس کے تساہل مشہور سے ناشی ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) فرماتے ہیں آنحضرت ﷺ کی زندگی میں آپ سے استشفاع یعنی آپ سے دعا کرانے کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔ اور طبرانی کی جس روایت سے عموم استشفاع پر استدلال کرتے ہیں وہ ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی روح ہے جو ضعیف ہے۔ نیز وہ عثمان بن حنیف کی رائے ہے حضور ﷺ کا حکم نہیں۔ اور عثمان بن حنیف نے بھیحضور ﷺ کے الفاظ سے تبرک کے طور پر اس دعاء کی تلقین کی تھی نہ کہ بطور استغاثہ۔ در صواعق الہیہ است از ابن تیمیہ۔ در جواز استشفاع ازان حضرت ﷺ در حالت حیات نزاع نیست و در روایت طبرانی کہ عموم حکم استعمال این دعا ازان بیان کنند ضعیف است از جہت ضعف روح (نام راوی) و مع ہذا آن رائے عثمان بن حنیف اس بدون امر نبی ﷺ وآن نیز بقصد تبرک از الفاظ نبی ﷺ نہ بقصد استغاثہ۔ علاوہ ازیں حرف نداء سے ہر جگہ خطاب اور منادی کو سنانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ منادی غائب کو نصب العین کے طور پر یعنی حاضر فرض کر کے حرف ندا استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ حدیث دوم کے جواب میں اس کی متعدد مثالیں ذکر کی جا چکی ہیں۔ بعض دفعہ بطور حکایت حرف نداء کو استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ التحیات میں کہا جاتا ہے السلام علیک ایھا النبی الخ حضرت عثمان بن حنیف نے بھی اندھے کو بطور حکایت یا بطور نصب العین اس دعا کی تلقین کی تھی۔ یہ ساری بحث اس صورت میں ہے جبکہ اس روایت کو صحیح مان لیا جائے۔ لیکن علامہ آلوسی صاف لکھتے ہیں کہ حضرت نبی ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عثمان بن حنیف ؓ کے اندھے کو تلقین دعا کا واقعہ بالکل موضوع ہے۔ چوتھی حدیث :۔ توسل ادم بعلی و فاطمۃ والحسن والحسین ؓ (مجمع الزوائد) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) نے حضرات علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ کے وسیلہ سے دعا مانگی تھی۔ جواب :۔ اس روایت کی دار قطنی نے تخریج کی ہے اس میں عمرو بن ثابت بن ہرمز متفرد ہے جو غالی شیعہ اور کذاب و وضاع تھا۔ تفرد بھا عمرو بن ثابت بن ھرمز وھو من الشیعۃ الغلاۃ الکذابین الوضاعین۔ امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں لا تحدثوا عن عمرو ابن ثابت فانہ کان یسب السلف۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں ھو غیر ثقۃ۔ امام بخاری : لیس بالقوی۔ امام ابو داؤود : رافضی خبیث، کان من شرار الناس۔ امام نسائی : متروک لیس بثقۃ ولا مامون (تہذیب التہذیب) ۔ پانچویں حدیث :۔ اصابہم قحط فی زمن عمر فجاء رجل الی قبر النبی ﷺ فقال یا رسول اللہ استسق للامۃ فاتاہ رسول اللہ ﷺ فقال لہ ائت عمر فقل لہ ان الناس یسقون (بیھقی، ابن ابی شیبۃ) ۔ جواب :۔ اول تو یہی معلوم نہیں کہ قبر پر جانے والا کون ہے، وہ مجہول الحال والاسم ہے۔ معلوم نہیں ثقہ ہے غیر ثقہ ہے۔ دوم اگر یہ واقعہ صحیح ہوتا اورحضور ﷺ کی قبر مبارک پر اس طرح استشفاع جائز ہوتا تو حضرت عمر ؓحضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عباس ؓ کو باہر لیجا کر بارش کے لیے ان سے دعا نہ کراتے اور نہ یہ کہتے کہ ابحضور ﷺ ہم میں موجود نہیں ہیں اس لیے ہم آپ کے چچا عباس کی دعا سے توسل کرتے ہیں۔ سوم اس روایت کی سند میں سیف بن عمرو ضبی ہے جو باتفاق محدثین ضعیف اور متہم بالزندقہ ہے۔ وہ جھوٹی حدیثیں بنایا کرتا تھا۔ امام ذہبی کہتے ہیں ھو کالواقدی۔ امام ابو داود نے کہا لیس بشیء۔ ابو حاتم رازی نے کہا۔ متروک۔ ابن حبان، اتھم الزندقۃ۔ ابن عدی : عامۃ حدیثہ منکر۔ امام ابن نمیر : کان سیف یضع الحدیث وقداتھم بالزندقۃ (میزان الاعتدال) حافظ ابن تیمیہ فرماتے ہیں وفات کے بعد آنحضرت ﷺ کے مزار پر جا کر استشفاع جائز نہیں یہ کام سلف میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیا۔ اما دعاء الرسول وطلب الحوائج منہ ﷺ وطلب شفاعتہ عند قبرہ بعد موتہ فھو مالم یفعلہ احد من السلف (القاعدۃ الجلیلۃ ص 56) ۔ بعض صحابہ وتابعین سے جو یہ منقول ہے۔ اللھم انی اسئلک بنبیک محمد اس سے مراد ہے اسئلک بایمانی بنبیک محمد یعنی اس میں ایمان بالرسول کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ پانچویں حدیث۔ اذا اعیتکم الامور فعلیکم باھل القبور فاستعینوا باھل القبور جب تم مشکلات سے عاجز ہوجاؤ تو اہل قبور سے استمداد کرو۔ جواب :۔ یہ حدیث موضوع اور حضرت پیغمبر خدا ﷺ پر افتراء ہے۔ حدیث کی کسی معتبر کتاب میں اس کا نام و نشان نہیں۔ ھو حدیث مفتری علی رسول اللہ ﷺ باجماع العارفین بحدیثہ لم یروہ احد من العلماء ولا یوجد فی شیء من کتب الحدیث المعتمدۃ (روح ج 6 ص 128) البتہ بحرمت فلاں دعا مانگنے میں کوئی کلام نہیں یہ سب کے نزدیک جائز ہیں۔ مگر اس میں بھی تفصیل ہے جو حسب ذیل ہے :۔ اگر بحرمت فلاں کہنے والے کا عقیدہ یہ ہو کہ اولیاء کرام یا انبیاء (علیہم السلام) پکاریں سنتے ہیں اور حاجت روائی کرسکتے ہیں تو اس عقیدے والے کا یہ کہنا شرک ہے جائز نہیں۔ اور اگر اس کا عقیدہ شرکیہ نہ ہو اور اس کی تمام کتابیں تردید شرک و بدعت سے پر ہوں اور اس کی کسی کتاب میں یہ کلمات آگئے ہوں تو ان کی توجیہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق کرنی ضروری ہے۔ بعض لوگ یہ توجیہ کرتے ہیں اے اللہ میں گنہگار ہوں فلاں پیغمبر یا ولی تیرا پیارا ہے مجھے اس کی وجہ سے معاف کردے۔ یہ بالکل بےمعنی ہے کیونکہ فلاں پیغمبر یا ولی تو اللہ کے مقبول ہیں خدا مجرم کو کیوں معاف کردے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی قاتل سیشن جج سے کہہ دے میں مجرم ہوں اور یہ آپ کا پیارا بیٹا ہے مجھے آپ معاف کردیں۔ یہ توجیہ بالکل لغو ہے۔ اس کی توجیہ صحیح یہ ہے اے اللہ مجھے فلاں پیغمبر یا ولی سے محبت ہے اور میں اس کی اتباع کرتا ہوں یہ محبت فعل قلبی اور اتباع فعل جوارح ہے۔ گویا اپنے فعل قلب یا فعل اعضاء کو اللہ تعالیٰ کے آگے بطور وسیلہ پیش کرنا اپنے اعمالِ صالحہ کا وسیلہ ہونا قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے صاف ثابت ہے۔ سورة آل عمران میں وابتغاء الرسول فاکتبنا مع الشاھدین۔ اور سورة انعام میں پارہ ساتواں پہلے صفحہ میں ہے یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشاھدین۔ ان دونوں آیتوں میں اتباع اور ایمان کو وسیلہ بنایا گیا ہے معلوم ہوا کہ اتباع پیغمبر وسیلہ ہے اور اس طرح غار والی حدیث صحیح سے اعمال صالحہ کا وسیلہ بنانا معلوم ہوتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ قائل اس کا توحید و سنت پر پختہ ہو شرک اور بدعت سے بیزار ہو جیسا کہ شاہ ولی اللہ اور مولانا اسماعیل شہید اور مجدد الف ثانی وغیرہم۔ پس ایسے بزرگانِ دین سے جو ایسے کلمات منقول ہیں ان کی توجیہ کردی گئی ہے لہذا ان بزرگوں پر جو طعن دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ کیوں لکھا ہے بالکل غلط ہے جب ان کی عبارت کی توجیہ قرآن مجید اور سنت صحیحہ کے مطابق ہوسکتی ہے تو طعن کرنا بےمعنی ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ عوام الناس کو اس قسم کی عبارت کا سبق دینا بہتر نہیں ہے کہ یہ دور عام شرک اور بدعت کا ہے اس سے لوگ غلط فائدہ اٹھاتے ہیں نیز قرآن مجید کی تمام دائیں اور احادیث صحیحہ کی دعائیں ایسی عبادت سے خالی ہیں۔ ہذا تحقیق شیخی وسندی مولانا حسین علی مرحوم
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی بستی نہیں55 جس کو ہم خراب نہ کردیں گے قیامت سے پہلے یا آفت ڈالیں گے اس پر سخت آفت یہ ہے کتاب میں لکھا گیا ،

55:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ فیصلہ بالکل حتمی ہے اور لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے کہ قیامت سے پہلے ہم ہر بستی کو تباہ و برباد کریں گے یا سخت ترین عذاب میں مبتلا کرینگے تاکہ مشرکین کو معلوم ہوجائے اور مومنین کو شرح صدر اور اطمینان نصیب ہو کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ دینے والا اور مصیبتوں سے بچانیوالا نہیں اور جن کو مشرکین اپنی بستیوں کے محافظ اور پناہ دہندے تصور کرتے ہیں وہ عاجز ہیں حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں ” ہر شہر کے لوگ ایک بزرگ کو پوجتے ہیں کہ ہم اس کی رعیت ہیں کہ ہم اس کی پناہ میں ہیں سو وقت آنے پر کوئی پناہ نہیں دے سکتا “۔ لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے اس لیے56 موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے دی ثمود کو اونٹنی ان کے سمجھانے کو پھر ظلم کیا اس پر اور نشانیاں57 جو ہم بھیجتے ہیں سو ڈرانے کو

56:۔ ” و ما منعنا ان نرسل الخ “ یہ تیسری آیت معجزہ اور تخویف ہے اور ” سبحن الذی اسری بعبدہ الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین بار بار معجزے طلب کرتے ہیں مگر ہم معجزات اس لیے نہیں دکھاتے کہ معجزات تخویف کے لیے ہوتے ہیں اگر معجزہ دیکھ کر بھی وہ انکار کریں تو ہلاک کردئیے جائیں۔ جیسا کہ پہلی قوموں نے معجزات کے بعد بھی مسئلہ توحید کا انکار کیا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ چناچہ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ فلاں چٹان سے اونٹنی نکال دیں تو ہم آپ کو مان لیں گے اللہ تعالیٰ نے اس چٹان سے اونٹنی نکال دی مگر وہ اپنا فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں فوراً ہلاک کردیا گیا۔ اے مشرکین مکہ ! اب ہم نے معجزہ اسراء ظاہر کیا ہے اب اگر اس کے بعد بھی نہیں مانوگے تو ہلاک کردئیے جاؤ گے فان لم یومن قومک بعد ارسال الایات اھلکناھم لان من سنتنا فی الامم اذا سالوا الایات ثم لم یومنوا بعد اتیانھا ان نھلکھم ولا نمھلھم الخ (خازن ج 4 ص 165) ۔ 57:۔ الآیات سے معجزات مراد ہیں یعنی معجزات ڈراوے اور تخویف کے لیے ظاہر کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو ایمان نہ لانے کی صورت میں عذاب سے ڈرایا جائے۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور جب کہہ دیا ہم نے تجھ سے58 کہ تیرے رب نے گھیر لیا ہے لوگوں کو اور وہ دکھلاوا جو تجھ کو دکھلایا ہم نے سو جانچنے کو لوگوں کے اور ایسے ہی وہ درخت جس پر پھٹکار ہے قرآن میں اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو ان کو زیادہ ہوتی ہے بڑی شرارت

58:۔ ہم نے آپ سے کہہ دیا اب ان مشرکین پر عذاب آنے کو ہے کیونکہ وہ ایک عظیم الشان معجزہ اسراء دیکھ کر بھی ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے اس لیے ان کی ہلاکت کا وقت اب بہت قریب ہے۔ الرویا سے واقعہ معراج مراد ہے۔ واقعہ معراج چونکہ عالم بالا سے تعلق رکھتا ہے جو اس عالم دنیا کے اعتبار سے خواب اور رویا ہے اس لیے اسے رویا کہا گیا لہذا اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ معراج جسمانی نہیں تھا بلکہ روحانی تھا۔ محاورات عرب میں یہ استعمال موجود ہے کہ جو کچھ عالم بیداری میں آنکھوں سے دیکھا جائے اس پر رویا کا اطلاق کردیا جائے۔ عن ابن عباس قالھی رویا عین اریھا رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسری بہ الی بیت المقدس (قرطبی ج 10 ص 282) والعراب تقول رایت بعینی رویۃ و رویا (خازن) والمراد بالرویا ما عاینہ (علیہ الصلوۃ والسلام) لیلۃ المعراج من عجائب الارض والسماء جسما ذکر فی فاتحۃ السورۃ الکریمۃ والتعبیر عن ذلک بالرویا اما لانہ لا فرق بینھا و بین الرویۃ اولانھا وقعت باللیل الخ (ابو السعود ج 5 ص 607) ۔ یعنی معجزہ معراج ایک آزمائش تھی تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا۔ ” الشجرۃ الملعونۃ “ یعنی تھوہر کا درخت جس کا ذکر قرآن مجید میں دوسری جگہ موجود ہے۔ ” ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم کالمھل یغلی فی البطون “ (رکوع 2) ۔ وہ بھی لوگوں کیلئے ایک آزمائش ہے مومنین اس کے موجود ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور کفار معاندین کہتے ہیں کہ دوزخ میں درخت کس طرح پیدا ہوسکتا ہے جبکہ محمد ﷺ خود کہتا ہے کہ دوزخ کی آگ پتھروں کو بھی جلا دے گی۔ جعلوھا سخریۃ وقالوا ان محمد یزعم ان الجحیم تحرق الحجارۃ لم یقول ثبت فیہ الشجرۃ (مدارک ج 2 ص 247) ۔
Ayahs 17:61–62

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو59 سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر ابلیس بولا کیا میں سجدہ کروں ایک شخص کو جس کو تو نے بنایا مٹی کا

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

کہنے لگا بھلا دیکھ تو یہ شخص جس کو تو نے مجھ سے بڑھا دیا اگر تو مجھ کو ڈھیل دیوے قیامت کے دن تک تو میں اس کی اولاد کو ڈھانٹی دے لوں مگر تھوڑے سے

59:۔ قصہ آدم و ابلیس ذکر کر کے بتایا گیا کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اس لیے مکر و فریب سے خبردار رہنا، اس کی پیروی کر کے شرک میں مبتلا نہ ہوجانا معجزہ اسراء اس لیے ظاہر کیا گیا تاکہ تم مسئلہ توحید کو مان لو مگر دیکھنا شیطان سے ہوشیار رہنا مبادا وہ تمہارے دلوں میں وسوسے اور شبہات ڈال کر تمہیں راہ توحید سے بہکا دے ” قال ارایتک الخ “ اس سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے شیطان کی انتہائی دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا اے اللہ ! اگر تو مجھے قیامت تک مہلت عطا کرے تو میں یہ آدم جس کو تو نے مجھ پر برتری اور بزرگی دی ہے اس کی اولاد کو گمراہ کر کے اس کا ستیا ناس کردوں اور بہت ہی کم لوگ میرے مکر و فریب سے محفوظ رہیں۔ ” لاحتنکن لاستاصلنھم باغرائھم “ (مدارک) یعنی گمراہ کر کے انہیں تباہ کردوں۔
Ayahs 17:63–64

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

فرمایا جا60 پھر جو کوئی تیرے ساتھ ہوا ان میں سے سو دوزخ ہے تم سب کی سزا بدلہ پورا

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور گھبرا لے ان میں جس کو تو گھبرا سکے اپنی آواز سے اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے اور ساجھا کر ان سے مال اور اولاد میں اور وعدے دے ان کو اور کچھ نہیں وعدہ دیتا ان کو شیطان مگر دغا بازی

60:۔ اللہ نے فرمایا جا تجھے مہلت ہے لیکن تیری اور تیری پیروی کرنے والوں کی جزاء جہنم ہے ” واستفزز من استطعت الخ “ جا انہیں ہر طرح سے گمراہ کرنے کی کوشش کر دیکھ۔ ” بصوتک “ طبلہ سارنگی اور دیگر آلات لہو ولعب۔ مجاھد الغناء والمزامیر واللھو۔ الضحاک۔ صوت المزمار (قرطبی ج 10 ص 288) ۔ ان شیطانی اوزاروں سے ان کو پھسلا لے۔ ” و اجلب علیھم الخ “ اور اپنے پیادوں اور سواروں کیساتھ ان پر حملہ کرنے یعنی انہیں راہ ھق سے گمراہ کرنے کے لیے ہر وہ مکر و فریب استعمال کرلے جو تو کرسکتا ہے۔ فالمعنی اجمع علیھم کل ما تقدر علیہ من مکایدک (قرطبی) ” و شارکھم الخ “ اور ان کے مال و اولاد میں اپنا حصہ مقرر کرا کر انہیں شرک پر آمادہ کرنے کی کوشش کرلے مال میں شرک سے غیر اللہ کی نذریں نیازیں اور غیر اللہ کے نام کی تحری میں مراد ہیں اور اولاد میں شرکت یہ ہے کہ اولاد کے عطیہ کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جائے یہ چونکہ سب شیطانی اغواء سے ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کا حصہ قرار دیا گیا۔ حضرت شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں ” مال میں شرک کہ بتوں کی نیاز اپنے مال میں فرض سمجھتے ہیں اور اولاد میں یہ کہ ایک کو بتاتے ہیں فلانے کا بخشا ہے دوسرا فلانے کا بخشا “۔ حضرت ابن عباس قتادہ اور عطاء سے منقول ہے کہ شارکھم فی الاموال ھو ماکان المشرکون یحرمونہ من الانعام کالبحیرۃ والسائبۃ والوصیلۃ والحام وقال الضحاک وماکانوا یذبحونہ لالھتہم (مظہری ج 5 ص 456 وقرطبی) اور اولاد میں شرکت کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ھو تسمیۃ الاولاد عبدالحارث وعبد الشمس عبدالعزی عبد الدار ونحوھا (مظھری) ۔ ” و عدھم “ اور ان کو طرح طرح کے سبز باغ دکھا لے اور جھوٹی آرزوؤں اور بےاصل تمناؤں کے چکر میں انہیں ڈال لے۔ مثلاً یہ بزرگانِ دین جن کو تم پوجتے ہو اور جن کی نذریں نیازیں دیتے ہو قیامت کے دن یہ تمہارے کام آئیں گے اور اللہ کے عذاب سے تمہیں چھڑا لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ” و ما یعدھم الشیطان “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطانی وعدوں کی حقیقت کو ظاہر فرمایا کہ وہ سراسر سراب و فریب اور بےحقیقت ہیں اے اولادِ آدم ! ان پر بھروسہ نہ کربیٹھنا۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

وہ جو میرے بندے ہیں ان پر نہیں تیری حکومت اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے والاف 61

61:۔ اے ابلیس ! تو اولاد آدم کو گمراہ کرنے اور انہیں شرک میں مبتلا کرنے کے لیے اپنے سارے ہتھکنڈے استعمال کرلے اور مکر و فریب کے تمام جال پھیلا لے مگر یاد رکھ میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چل سکے گا۔ میں اپنے بندوں کے لیے کافی کارساز ہوں میرے جو بندے مجھ پر بھروسہ کرینگے اور تیرے مکر و فریب سے میری پناہ ڈھونڈیں گے میں انہیں تیرے دام تزویر سے محفوظ رکھوں گا۔
Ayahs 17:66–67

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے واسطے کشتی62 دریا میں تاکہ تلاش کرو اس کا فضل وہی ہے تم پر مہربان

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب آتی ہے تم پر آفت دریا میں بھول جاتے ہو جن کو پکارا کرتے تھے اللہ کے سوائے پھر جب بچا لایا تم کو خشکی میں پھرجاتے ہو اور ہے انسان بڑانا شکرا

62:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں تمہاری کشتیاں محض اپنی رحمت سے اللہ تعالیٰ ہی چلاتا اور طوفان سے بچا کر کنارے لگاتا ہے وہ تو ہر حال میں تم پر مہربان ہے۔ اور سمندروں اور دریاؤں میں وہی کارساز ہے تو خشکی میں بھی وہی کارساز ہے پھر اس کے سوا اوروں کو کیوں پکارتے ہو۔ ” واذا مسکم الضر “ یہ زجر ہے جب دریاؤں میں طوفان کا سامنا ہوتا ہے تو اپنے مزعومہ معبودوں کو چھوڑ کر خالص اللہ کو پکارتے ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ تمہیں صحیح سلامت کنارے پر پہنچا دیتا ہے تو پھر شرک کرنے اور معبودان باطلہ کو کارساز سمجھنے لگتے ہو۔ یہ کس قدر ناشکری ہے۔
Ayahs 17:68–69

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

سو کیا تم63 بےڈر ہوگئے اس سے کہ دھنسا دے تم کو جنگل کے کنارے یا بھیج دے تم پر آندھی پتھر برسانے والی پھر نہ پاؤ اپنا کوئی نگہبان

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا بےڈر ہوگئے ہو اس سے کہ پھر لے جائے تم کو دریا میں دوسری بار پھر بھیجے تم پر ایک سخت جھونکا ہوا کا پھر ڈبا دے تم کو بدلے میں اس ناشکری کے پھر نہ پاؤ اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا

63:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ خشکی میں تم مصائب و بلیات سے محفوظ اور اپنے خود ساختہ کارسازوں کی پناہ میں ہو مگر یاد رکھو اگر اللہ چاہے تو نیچے سے زمین کو چیر کر تم کو اس میں دھنسا دے یا اوپر سے تم پر پتھروں کی بارش برسا کر تمہیں نیست و نابود کردے تو اس وقت بھی تمہارا کوئی خود ساختہ کار ساز ہرگز تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔ ” ام امنتم ان یعیدکم الخ “ وہ یوں بھی کرسکتا ہے کہ تمہیں اپنی ضرورتوں کے تحت پھر سے بحری سفر پر گامزن کردے اور عین وسط سمندر میں ایک ہولناک طوفان باد بھیج کر تمہیں غرق کردے اس وقت بھی تم کسی کو اپنا غمخوار اور ناصر و مددگار نہیں پاؤ گے۔ یعنی لا تجدو ناصرا ینصرکم و یصونکم من عذاب اللہ۔۔ ولا تجدوا من یتبعنا بانکار ما زنل بکم بان یصرفہ عنکم (کبیر ج 5 ص 617) ۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور64 ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھا دیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر

64:۔ یہ دعوت توحید کو قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ اولاد آدم کو انعامات بےپایاں یاد دلا کر مسئلہ توحید ماننے کی ترغیب دی گئی۔ اے بنی آدم میں نے تمہیں ساری مخلوق پر فضیلت اور بزرگی عطا کی، خشکی اور تری پر تمہیں اقتدار عطا کیا اور پاکیزہ روزی کے بیشمار وسائل تمہیں دئیے اب تمہارا فرض ہے کہ میرا احسان مانو اور میرے انعامات کا شکر کرو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور میرے سوا کسی کو عبادت اور پکار کے لائق نہ سمجھو۔
Ayahs 17:71–72

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم بلائیں گے ہر فرقہ کو65 ان کے سرداروں کے ساتھ سو جس کو ملا اس کا اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں سو وہ لوگ پڑھیں گے اپنا لکھا اور ظلم نہ ہوگا ان پر ایک تاگے کا

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو کوئی رہا اس جہان میں اندھا سو وہ پچھلے جہان میں بھی اندھا ہے اور بہت دور پڑا ہوا راہ سے

65:۔ بشارت و تخویف اخری ہے۔ قیامت کے دن ہر گروہ اپنے پیشوا کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا۔ ہر امت کے نیک و موحد مومنین اپنے انبیاء (علیہم السلام) کیساتھ حاضر ہوں گے اور ہر امت کے مشرک اور بدکار اپنے مشرک پیشواؤں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ ” فمن اوتی کتابہ الخ “ یہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے یعنی مومنوں کو اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائینگے وہ انہیں پڑھ کر خوش ہوں گے اور انہیں ان کی تمام نیکیوں کی پوری پوری جزا دیجائیگی۔ ای ولا ینقصون من ثواب اعمالھم ادنی شیء (خازن ج 4 ص 171) ۔ ” ومن کان فی ھذہ اعمی الخ “ یہ اصحاب الیمین کے مقابلے میں اصحاب الشمال کا ذکر ہے اور جو دنیا میں اندھا رہا اور راہ توحید کو نہ دیکھا وہ آخرت میں راہ جنت سے اندھا ہوگا اور اس سے بہت دور ہوگا کیونکہ دنیا میں تو اس کے راہ راست پر آجانے کا امکان تھا مگر آخرت میں یہ امکان بھی ختم ہوجائے گا۔
Ayah 17:73

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ66 چاہتے تھے کہ تجھ کو بچلادیں اس چیز سے کہ جو وحی بھیجی ہم نے تیری طرف تاکہ جھوٹ بنا لائے تو ہم پر وحی کے سوا اور تب تو بنا لیتے تجھ کو دوست

66:۔ ” و ان کادوا “ تا ” ولا تجد لسنتنا تحویلا “۔ یہ چوتھی آیت معجزہ ہے اور ” سبحن الذی اسری “ سے متعلق ہے اور اس میں تین امور مذکر ہیں۔ امر اول شکوی۔ ” وان کادوا لیفتنونک “ قریب تھا کہ مشرکین اپنی پر فریب اور چکنی چپڑی باتوں سے آپ کو سیدھی راہ سے اور ہماری توحید سے ذرا سا ہٹا لیتے مگر ہم نے آپ کو راہ توحید پر ثبات و استقلال عطا فرمایا۔ مشرکین کی خواہش تھی کہ آپ ان کے خود ساختہ معبودوں کے بارے میں ذرا نرمی سے کام لیں، ان کی مذمت نہ کریں اور کم از کم صرف یہی کہہ دیں کہ ہر دین اچھا ہے جو جس دین پر ہے ٹھیک ہے۔ اگر آپ ایسا کرلیں تو وہ آپ کے گہرے دوست بن جائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” ودوا لو تدھن فیدھنون (القلم رکوع 2) “ مگر یہ میری ذات پر سراسر افتراء ہے کہ ہر دین اچھا ہے کیونکہ دین کو اچھا قرار دینا صرف میرا ہی کام ہے اس لیے جو شخص ہر دین کو اچھا کہتا ہے وہ مجھ پر افتراء کرتا ہے میں نے تو صرف اس توحید والے دین اسلام ہی کو اچھا اور سچا قرار دیا ہے۔
Ayahs 17:74–75

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھ کو سنبھالے رکھا تو تو لگ جاتا67 جھکنے ان کی طرف تھوڑا سا

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

تب تو ضرور چکھاتے ہم تجھ کو دونا مزہ زندگی میں اور دونا مرنے میں پھر نہ پاتا تو اپنے واسطے ہم پر مدد کرنے والا

67:۔ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ذرا سا ان کی طرف جھک جاتے لیکن اگر بفرض محال آپ ذرا بھی ان کی طرف جھک جاتے تو ہم دنیا و آخرت میں آپ کو عذاب کا مزہ چکھاتے اور کوئی آپ کی مدد نہ کرسکتا۔ یہ امر ثانی ہے اور آنحضرت ﷺ سے بطور زجر خطاب ہے۔
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور وہ تو چاہتے تھے کہ گھبرا دیں تجھ کو68 اس زمین سے تاکہ نکال دیں تجھ کو یہاں سے اور اس وقت نہ ٹھہریں گے وہ بھی تیرے پیچھے مگر تھوڑا

68:۔ یہ امر ثالث ہے۔ معجزہ معراج ظاہر کردیا گیا مگر مشرکین مکہ اس کے باوجود مسئلہ توحید کو ماننے پر تیار نہیں ہوئے بلکہ اب آپ کو مکہ سے نکالنے کے منصوبے بنائیں گے۔ مگر آپ کے بعد وہ بھی زیادہ عرصہ مکہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے کیونکہ ہماری سنت جاریہ یہی ہے کہ جب سرکش قوموں نے انبیاء (علیہم السلام) کو ستایا اور وطن سے نکالا تو خعد بھی چیں سے اپنے وطنوں میں نہ رہ سکے بلکہ جلد ہی ہلاک کردئیے گئے مکہ والوں سے بھی اب یہی سلوک کیا جائے گا۔ چناچہ ہجرت کے بعد دو سال بھی نہ گذرنے پائے تھے کہ جنگ بدر میں صنادید کفر اور اساطین شرک کو تہ تیغ کردیا گیا۔ ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت الخ “ (رکوع 12) ۔ اس کی ایک مثال آرہی ہے۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

دستور چلا آتا ہے69 ان رسولوں کا جو تجھ سے پہلے بھیجے ہم نے اپنے پیغمبر اور نہ پائے گا تو ہمارے دستور میں تفاوت

69:۔ ” سنۃ “ منصوب ہے اور سَنَّ مقدر کا مفعول مطلق ہے یعن مشرکین مکہ سے اللہ تعالیٰ وہی سلوک کریگا جو اس نے پہلی امتوں سے کیا ہے۔ ای سن اللہ سنۃ والمعنی ان کل قوم اخرجوا رسولھم من بین اظھرھم فسنۃ اللہ ان یھلکھم بعد اخراجہ ویستاصلھم ولا یقیمون بعدہ الا قلیلا (بحر ج 6 ص 67) ۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

قائم رکھ نماز کو سورج ڈھلنے سے70 رات کے اندھیرے تک اور قرآن پڑھنا فجر کا بیشک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے روبرو

70:۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس میں امر مصلح نماز اور تلاوت قرآن کا ذکر ہے۔ معجزہ اسراء کے بعد مشرکین مسئلہ توحید کو ماننے کے بجائے آپ کو مکہ سے نکالیں گے اس لیے آپ نماز قائم کریں گے قرآن مجید کی خاص طور سے تلاوت فرمائیں اور نماز تہجد کا التزام کریں کیونکہ یہ امور صبر و استقامت میں ممد ہیں۔ ان سے مصائب و بلیات میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ ” لدلوک الشمس الخ “ یعنی زوال آفتاب سے رات کو اندھیرا چھا جانے تک نماز قائم کرو ان دونوں وقتوں کے درمیان جس قدر نمازیں ہیں انہیں اپنے اپنے وقتوں میں قائم کرو اس میں چار نمازوں کا ذکر ہے ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ” و قرآن الفجر “ یعنی نماز فجر کو بھی قائم کرو۔ ” مشھودا “ یعنی نماز فجر میں رات اور دن کے فرشتے شریک ہوتے ہیں۔ یشھدہ ملائکۃ اللیل وملائکۃ النھار (ابو السعود ج 5 ص 636) ۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور کچھ رات71 جاگتا رہ قرآن کے ساتھ یہ زیادتی ہے تیرے لیے قریب ہے کہ کھڑا کر دے تجھ کو تیرا رب مقام محمود میں

71:۔ ” نافلۃ لک “ سے استدلال کیا گیا ہے کہ نماز تہجد پانچ نمازوں کے علاوہ امت کی نسبت زائد آپ پر فرض کی گئی جو امت پر فرض نہیں۔ ای نافلۃ لک ای زیادۃ لک یرید فریضۃ زائدۃ علی سائر الفرائض التی فرضھا اللہ علیک الخ (خازن ج 5 ص 174) ۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ نماز تہجد کا وجوب آپ پر سے منسوخ ہوگیا اور امت کی طرح آپ پر بھی اس کی نفلی حیثیت باقی رہی (خازن) ۔ مقام محمود شفاعت کبریٰ کا مقام ہے۔ قیامت کے دن جب تمام انبیاء (علیہم السلام) گنہگاروں کی شفاعت کرنے سے معذوری ظاہر کرینگے تو حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہاء حمد و ثنا کرینگے اور گڑ گڑا کر شفاعت کا اذن طلب کرینگے۔ آخر آپ کو شفاعت کا اذن مل جائیگا۔ یا محمد ارفع راسک اشفع تشفع۔ اس کے بعد آپ اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے مخلوق کو عذاب سے نجات دلائیں گے اس وقت ہر شخص آپ کی تعریف وثناء سے رطب اللسان ہوگا اور اللہ تعالیٰ بھی آپ کی تعریف فرمائے گا گو یا شان محمدیت کا پورا پورا ظہور اس وقت ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جس میں لواء الحمد (اللہ کی حمد کا جھنڈا) آپ کے مبارک ہاتھ میں ہوگا۔ (مدارک، کبیر وغیرہ) ۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور کہہ اے رب72 داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا اور عطا کر دے مجھ کو اپنے پاس سے حکومت کی مدد

72:۔ یہ امر ثالث یعنی ” و ان کادوا لیستفزونک الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین آپ کو مکہ سے نکالتے ہیں تو آپ غم نہ کریں اور مکہ سے نکلتے وقت یہ دعاء پڑھیں۔ ” رب ادخلنی مدخل صدق الخ “ میں آپ کے مکہ سے نکلنے اور مدینہ میں داخل ہونے کو آپ کے لیے دین اسلام اور مسلمانوں کے لیے سراسر باعث برکت بنا دوں گا اور آپ کو غلبہ اور شان و شوکت کے ساتھ پھر مکہ میں واپس لاؤں گا۔ یوسف گم گشتہ باز آید بکنعان غم مخور کلبہ احزان شود روزے گلستان غم مخور