16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsجواھر القرآن

Ayah 16:1

اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:1 in the Quran reader

آپہنچا2 حکم اللہ کا سو اس کی جلدی مت کرو وہ پاک3 ہے اور برتر ہے ان کے شریک بتلانے سے

2:۔ حصہ اول۔ نفی شرک فی التصرف۔ یہ مقصود سورت کا ذکر ہے۔ یعنی تم دعوت توحید کا انکار، پیغمبر خدا ﷺ کی تکذیب کرتے اور عذاب مانگتے ہو لو تیار ہوجاؤ عذاب الٰہی آنے کو ہے۔ ” اَمْرُ اللّٰهِ “ یعنی اللہ کا عذاب۔ وامر اللہ عقابہ لمن اقام علی الشرک و تکذیب رسولہ (قرطبی ج 10 ص 65) ۔ 3:۔ اللہ تعالیٰ شریکوں سے پاک ہے لہذا تم بھی اسے شریکوں سے پاک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ کیونکہ یہ شرک ہی عذاب کا سبب ہے۔ ” عَمَّا یُشْرِکُوْنَ “ میں مَا سے معبودانِ باطلہ مراد ہیں اور اس کے بعد ” فَلَا تُشْرِکُوْا بِهٖ اَحَدًا “ محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر شریک سے پاک ہے لہذا کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔
Ayah 16:2

یُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ Open ayah 16:2 in the Quran reader

اتارتا ہے فرشتوں کو4 بھید دے کر اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں کہ خبردار کر دو کہ کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو مجھ سے ڈرو5

4:۔ یہ دعوی توحید کا ذکر ہے جس کے انکار کی وجہ سے عذاب آیا ” الرُّوْحُ “ یعنی وحی یہاں اس سے مسئلہ توحید مراد ہے جیسا کہ ” اَنْ اَنْذِرُوْا “ سے اس کی تفسیر کی گئی ہے۔ یہی مضمون ایک دوسری آیت میں بھی مذکور ہے۔ ” یُلْقِی الرُّوْحَ عَلیی مَنْ یَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ “ (مؤمن رکوع 2) ۔ وحی کو روح اس لیے کہا گیا کہ اس سے مردہ دلوں کو حیات جاودانی حاصل ہوتی ہے اور مسئلہ توحید کو روح سے تعبیر کیا گیا کیونکہ توحید باری تعالیٰ دین میں بمنزلہ روح ہے۔ جس طرح روح پر بدن کی زندگی منحصر ہے اور روح کے بغیر بدن لاشہ مردار ہے اسی طرح توحید تمام احکام شرعیہ اور اعمال صالحہ کی جان ہے اور توحید کے بغیر تمام اعمال صالحہ رائیگاں اور تمام عبادات بیکار اور باطل محض ہیں۔ 5:۔ یہ ” اَلرُّوْحُ “ سے بدل ہے یا اس کی تفسیر ہے۔ یعنی جس روح یعنی وحی کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ یہ ہے (روح) اور انذار بمعنی اعلام ہے والمعنی اعلموا الناس قولی لا الہ الا انا فاتقون (مدارک ج 2 ص 216) ۔ یعنی لوگوں کو میری بات بتا دو کہ میرے سوا کوئی متصرف و کارساز اور مستحق نذر و نیاز نہیں۔ اس لیے میرے عذاب سے ڈرو اور شرک نہ کرو۔ چونکہ عذاب الٰہی آنے کا وقت قریب تھا، اس لیے دلائل عقلیہ، نقلیہ اور وحی سے مسئلہ توحید کو خوب واضح کردیا گیا کہ یہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ دعوی اولی دوسرے دعوے کے لیے بمنزلہ علت ہے اس لیے پہلے اس پر دلائل ذکر کیے گئے۔
Ayah 16:3

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 16:3 in the Quran reader

بنائے آسمان6 اور زمین ٹھیک ٹھیک وہ برتر ہے ان کے شریک بتلانے سے

6:۔ یہ نفی شرک فی التصرف پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اس دلیل میں جن امور کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب گیر خدا کی طاقت اور قدرت سے ماورا ہیں اور ان تمام امور کا خالق و فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے لہذا وہی متصرف و کارساز ہے اور صفات کارسازی میں وحدہ لا شریک ہے۔ ” بِالْحَقِّ “ یعنی یہ ساری کائنات اس نے پیدا ہی اس لیے کی ہے تاکہ وہ اس کی وحدانیت اور کمال قدرت پر دلالت کرے اور اس کے بندے اس میں غور و فکر کر کے سمجھ لیں کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ بالحق ای للدلالۃ علی قدرتہ وان لہ ان یتعبد العباد بالطاعۃ وان یحییٰ الخلق بعد الموت (قرطبی ج 10 ص 68) ۔ ” تَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ “ اس دلیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں وہ تنہا ہی متصرف و مختار ہے۔
Ayah 16:4

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:4 in the Quran reader

بنایا آدمی کو7 ایک بوند سے پھر جبھی ہوگیا جھگڑا کرنے والا بولنے والا

7:۔ انسان کی پیدائش بھی قدرت خداوندی کا ایک شاہکار ہے۔ مگر انسان ایسا جھگڑالو اور ناشکر گذار واقع ہوا ہے کہ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک خسیس اور حقیر نطفہ سے پیدا کر کے کس قدر شرف عطا فرمایا ہے بلکہ الٹا اللہ توحید اور حشر ونشر میں جھگڑتا ہے۔
Ayah 16:5

وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪ Open ayah 16:5 in the Quran reader

اور چوپائے بنادیے تمہارے واسطے ان میں جڑ اول ہے اور کتنے فائدے اور بعضوں کو کھاتے ہو8

8:۔ یہ چوپائے بھی اللہ ہی نے پیدا فرمائے جن کے بالوں سے تم گرم ملبوسات تیار کرتے ہو ان کے چمڑے اور دودھ سے فائدہ اٹھاتے ہو اور ان کا گوشت کھاتے ہو۔ چوپایوں کی پیدائش ایک طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے استحقاق عبادت میں وحدہ لا شریک ہونے پر روشن برہان ہے۔ جب متصرف و قادر بھی وہی ہے اور منعم و محسن بھی وہی ہے تو شکر بھی اسی کا لازم ہے لہذا ہر قسم کی عبادت کا مستحق بھی وہی ہے اور کارساز بھی وہی ہے۔
Ayahs 16:6–8

وَ لَكُمْ فِیْهَا جَمَالٌ حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَ حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ۪ Open ayah 16:6 in the Quran reader

اور تم کو ان سے عزت ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ھو9

وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِیْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ١ؕ اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 16:7 in the Quran reader

اور اٹھالے چلتے ہیں بوجھ تمہارے ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مار کر بیشک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

وَّ الْخَیْلَ وَ الْبِغَالَ وَ الْحَمِیْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَ زِیْنَةً١ؕ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:8 in the Quran reader

اور گھوڑے پیدا کیے اور خچریں اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے

9:۔ مذکورہ بالا فوائد کے علاوہ چوپائے تمہاری زینت اور شوکت و عزت کا نشان ہیں۔ جب اونٹوں کے گلے بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ اور گائے بھینسوں کے انبوہ صبح کو چرنے کے لیے باہر میدان کی طرف نکلتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں تو اس سے تمہاری دنیوی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔ ” حِیْنَ تَسْرَحُوْنَ “ اور جب چرانے لے جاتے ہو۔ ” وَ تَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ “ ان چوپایوں میں ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ ان سے تم باربرداری کا کام لیتے ہو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے یہ تمام چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں۔ ” وَ الْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ الخ “ گھوڑے، خچر اور گدھے تمہاری سواری اور زینت و آرائش کے لیے پیدا کیے۔ ” وَ زِیْنةً “ یہ مفعول لہ ہے اور ” لِتَرْکَبُوْھَا “ کے محل پر معطوف ہے (مدارک) یا یہ فعل مقدر کا مفعول بہ ہے ای و جعلھا زینۃ۔ یا فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے ای و لتتزینوا بھا زینۃ (روح) ۔
Ayah 16:9

وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَ مِنْهَا جَآئِرٌ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 16:9 in the Quran reader

اور اللہ تک پہنچتی ہے سیدھی راہ 10 اور بعضی راہ کج بھی ہے اور اگر وہ چاہے تو سیدھی راہ دے تم سب کو

10:۔ ” قَصْدٌ“ بمعنی قَاصِدٌ ہے یعنی سیدھا اور مستقیم۔ سیدھا راستہ یعنی توحید جو دلائل سے مدلل اور واضح ہوچکا ہے یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے۔ والمعنی ان قصد السبیل و مستقیمۃ موصل الیہ تعالیٰ وماعلیہ سبحانہ (روح ج 14 ص 103) ۔ ” وَ مِنْھَا جَائِرٌ“ سیدھا راستہ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ وہ تو صرف توحید کا راستہ ہے اس کے سوا باقی سب ٹیڑھے راستے ہیں۔ ” وَ لَوْشَاءَ لَھَدٰکُمْ الخ “ یعنی اگر وہ چاہتا تو جبرًا سب کو ہدایت پر جمع کردیتا مگر اس سے حکمت ابتلاء فوت ہوجاتی جیسا کہ فرمایا ” وَ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْمَا اٰتٰکُمْ الخ “ لیکن اللہ تعالیٰ نے دلائل سے حق کو واضح کردیا تاکہ جو بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر ایمان لائے نیز مطیع و عاصی اور مومن و معاند کے درمیان امتیاز قائم ہوجائے۔
Ayahs 16:10–11

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ Open ayah 16:10 in the Quran reader

وہی ہے جس نے اتارا11 آسمان سے تمہارے لیے پانی اس سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جس میں چراتے ہو

یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ النَّخِیْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:11 in the Quran reader

اگاتا ہے تمہارے واسطے سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کو جو غور کرتے ہیں

11:۔ دوسری عقلی دلیل :۔ پہلی دلیل میں انسان، زمین و آسمان اور چوپایوں کی پیدائش کا ذکر تھا اب دوسری دلیل میں بارش، زمین سے انواع و اقسام رزق کی پیدائش اور نظام شمسی کی تسخیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مینہ برسایا جو تمہارے پینے کے کام آتا ہے نیز اس سے زمین میں گھاس اور چارہ اگتا ہے جس میں تم اپنے مویشیوں کو چراتے ہو۔ ” یُنْبِتُ لَکُمْ بِهٖ الخ “ علاوہ ازیں بارش سے غلے، میوے اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ “ یہ تنبیہ ہے تاکہ سامعین ان امور میں غور و فکر کر کے ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر استدلال کریں۔ یعنی علامۃ دالۃ علی قدرتنا ووحدانیتا (خازن ج 4 ص 82) ۔
Ayahs 16:12–13

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَۙ Open ayah 16:12 in the Quran reader

اور تمہارے کام میں لگا دیا رات اور دن اور سورج اور چاند کو12 اور ستارے کام میں لگے ہیں اس کے حکم سے اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو سمجھ رکھتے ہیں

وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 16:13 in the Quran reader

اور جو چیزیں پھیلائیں تمہارے واسطے زمین میں رنگ برنگ کی اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیں

12:۔ سارا نظام شمسی بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار و تصرف میں ہے جسے اس نے اپنے حکم سے بنی آدم کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ نظام شمسی میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے دلائل کے انبار ہیں جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ ” وَ مَا ذَرَاَ لَکُمْ الخ “ زمین میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی پیدا کیا مثلاً انسان، حیوان، حجر و شجر وگیرہ سب کے رنگ مختلف ہیں خواص جداگانہ ہیں حالانکہ ہر چیز کی پیدائش مٹی اور پانی سے ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کی دلیل ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو کائنات کے گہرے مطالبہ سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ای یتعظمون و یعلمون ان فی تسخیرھذہ المکونات لعلامت علی وحدانیۃ اللہ تعالیٰ وانہ لا یقدر علی ذلک احد غیرہ (قرطبی ج 10 ص 85) ۔
Ayah 16:14

وَ هُوَ الَّذِیْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:14 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے کام میں لگادیا دریا کو کہ کھاؤ اس میں سے گوشت تازہ13 اور نکالو اس میں سے گہنا جو پہنتے ہو اور دیکھتا ہے تو کشتیوں کو چلتی ہیں پانی پھاڑ کر اس میں اور اس واسطے کہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ احسان مانو

13:۔ سمندر بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہے اور اس سے تم گوناگوں فوائد حاصل کرتے ہو۔ مچھلی کا تازہ گوشت اس سے حاصل کرتے ہو، سمندر سے قیمتی جواہرات نکال کر زیب تن کرتے ہو۔ سفر کی سہولتوں کے لیے سمندر میں جہاز رانی کرتے ہو اور بغرض تجارت دور دراز ملکوں میں میں سمندری راستوں سے اپنا مال لے جاتے ہو اور دوسرے ملکوں کی مصنوعات اپنے یہاں در آمد کرتے ہو۔ ” وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ “ یہ معطوف علیہ مقدر پر معطوف ہے۔ ای لتعتبروا و لعلکم تشکرون۔ یعنی یہ شب کچھ اس لیے بنایا تاکہ تم اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید پر استدلال کرو اور اس کی توحید اور اطاعت سے شکر نعمت کا حق ادا کرسکو۔ تقومون بحق نعمۃ اللہ تعالیٰ بالطاعۃ والتوحید (روح ج 14 ص 114) ۔
Ayahs 16:15–16

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور رکھ دیے زمین پر14 بوجھ کہ کبھی جھک پڑیں تم کو لے کر اور بنائیں ندیاں اور راستے تاکہ تم راہ پاؤ

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور بنائیں علامتیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں

14:۔ زمین میں پہاڑ رکھ دئیے تاکہ زمین میں حرکت و اضطراب پیدا نہ ہو اور دریا اور راستے بنائے یہ چیزیں اس لیے بنائیں تاکہ تمہیں راہنمائی حاصل ہو۔ ” لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ “ اگر صرف ” سُبُلًا “ کی مناسبت سے کہا گیا ہو تو مطلب واضح ہے۔ اور اگر اسے پہاڑوں اور دریاؤ کے ساتھ بھی متعلق مانا جائے تو بھی درست ہے کیونکہ پہاڑ اور دریا بھی مختلف ملکوں اور علاقوں کو ایک دوسرے جدا کرنے میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ اشیاء ابطال شرک میں ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔ ویجوز ان یکون تعلیلا بالنظر الی جمیع ما تقدم لان تلک الاثار العظام تدل علی بطلان الشرک (روح ج 14 ص 116) ۔ (” لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ “ ) الی مقاصدکم او الی توحید ربکم (مدارک ج 2 ص 218) ۔ ” وَ عَلٰمٰتٍ “ یہ بھی ” رَوَاسِیَ “ پر معطوف ہے یعنی راستوں کی علامتیں جن سے منزل مقصود کا صحیح راستہ متعین کیا جاسکے۔ ” و بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ “ اور رات کو جب ہر طرف گھپ اندھیرا ہو اور مسافر راستہ بھول جائے تو ستاروں کو دیکھ کر وہ اپنی منزل کا راستہ متعین کرسکتا ہے۔
Ayah 16:17

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

بھلا جو پیدا کرے برابر ہے اس کے جو کچھ نہ پیدا کرے کیا تم سوچتے نہیں15

15:۔ یہ پہلی دونوں عقلی دلیلوں پر متفرع اور ان کا نتیجہ ہے۔ مذکورہ بالا دونوں دلیلوں کی تفصیلات سے معلوم ہوگیا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اور مشرکین کے مزعومہ معبودوں نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا تو کیا ازر وئے عقل یہ ممکن ہے کہ جس نے سب کچھ پیدا کیا ہو اور جس نے کچھ بھی پیدا نہ کیا وہ دونوں برابر ہوں اور دونوں متصرف و مختار اور مستحق الوہیت ہوں ؟ نہیں ! نہیں ! ! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جو ساری کائنات کا خالق ہے وہی متصرف و کارساز اور مستحق الوہیت ہوسکتا ہے۔ ” اَ فَلَا تَذَکَّرُوْنَ “ یہ بات کس قدر واضح ہے مگر تم لوگ اس قدر واضح بیان کے بعد بھی سمجھنے اور نصیحت پکڑنے کی کوشش نہیں کرتے ہو۔
Ayah 16:18

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو نہ پورا کرسکو گے ان کو بیشک اللہ بخشنے والاف 16 مہربان ہے

16:۔ اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتوں میں سے اگر صرف ایک ہی میں غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قدرت و صفت میں اور استحقاق عبادت میں واحد و یکتا ہے۔ سارے جہاں میں نہ اس کے سوا کوئی متصرف و کارساز ہے، نہ عبادت اور پکار کے لائق ہے، چہ جائے کہ اس کی نعمتیں بےحد و حساب اور شمار سے باہر ہوں اور پھر وہ ایسا رحیم و کریم اور غفور و حلیم ہے کہ بندوں کو ان کی ناشکری پر فورًا نہیں پکڑتا اور کوتاہیوں سے درگذر فرماتا ہے اور بندوں کے کفران نعمت کی وجہ سے انعام و احسان کا دروازہ بند نہیں کرتا۔
Ayah 16:19

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو17

17:۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے اور اس سے نفی شرک فی العلم مقصود ہے۔ یعنی پوشیدہ اور ظاہر سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayahs 16:20–21

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوا18 کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

مردے ہیں جن میں جان نہیں اور نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے

18:۔ دونوں دعو وں پر تین دلائل ذکر کرنے کے بعد ان کا ثمرہ ذکر کیا گیا ” لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ ھُمْ یُخْلَقُوْنَ “ یہ پہلی دو دلیلوں پر متفرع ہے۔ ان دلیلوں سے معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مشرکین جن بندگانِ خدا کو بزعم خود متصرف و مختار سمجھ کر پکارتے ہیں پیدائش کائنات میں ان کا کوئی دخل نہیں بلکہ وہ خود ایک عاجز مخلوق ہیں۔” اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَاءٍ “ یہ تیسری دلیل پر متفرع ہے یعنی سب کچھ جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہے اور مشرکین کے مزعومہ معبود تو فوت ہوچکے ہیں، وہ ان کی دعاء اور پکار سے بیخبر ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ قبروں سے کب اٹھائے جائیں گے۔ ” اَلَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ سے عموم مجاز کے طور پر مشرکین کے تمام معبود مراد ہیں خواہ وہ جماد ہوں خواہ ذوی العقول ہوں۔ وجوز ان یکون المراد من المخبر عنہ بما ذکر ما یتناول جمیع معبوداتھم من ذوی العقول وغیرھم فیرتکب فی (اموات) عموم المجاز لیشمل ماکان لہ حیاۃ ثم مات کعزیر او سیموت کعیسی والملائکۃ علیھم الصلوۃ والسلام و ما لیس من شانہ الحیاۃ اصلا کالاصنام (روح ج 14 ص 120) ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) تعالیٰ موضح قرآن میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں۔ ” شایدیہ ان کو فرمایا جو مرے بزرگوں کو پوجتے ہیں “۔ علامہ شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں :۔ یعنی جن چیزوں کو خدا کے سوا پوجتے ہیں سب مردے (بےجان) ہیں۔ خواہ دواماً مثلا بت یا فی الحال مثلاً جو بزرگ مرچکے اور ان کی پوجا کی جاتی ہے یا انجام و مآل کے اعتبار سے مردہ ہیں مثلاً حضرت مسیح، روح القدس اور ملائکۃ اللہ جن کی بعض فرقے پرستش کرتے ہیں الخ (تفسیر عثمانی) لہذجب سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو پھر حاجات میں صرف اسی کو پکارو اور غیر اللہ کو مت پکارو۔
Ayahs 16:22–23

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

معبود تمہارا19 معبود ہے اکیلا سو جن کو20 یقین نہیں آخرت کی زندگی کا ان کے دل نہیں مانتے اور وہ مغرور ہیں

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

ٹھیک بات ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ نہیں پسند کرتا غرور کرنے والوں کو

19:۔ یہ اصل دعوی کا اعادہ ہے اور پہلے دونوں ثمروں پر متفرع ہے یعنی جب ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق اور سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تم سب کا معبود برحق اور کارساز صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور دعاء اور پکار کے لائق بھی صرف وہی ہے۔ (اِلٰھُکُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ) لا یشار کہ شیء فی شیء وھو تصریح بالمدعی و تمحیض للنتیجۃ عقب اقامۃ الحجۃ (ابو السعود ج 5 ص 448) ۔ 20:۔ ” فَالَّذِیْنَ لَایُوْمِنُوْنَ “ تا ” اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیْنَ “ زجر مع تخویف اخروی۔ جو لوگ مسئلہ توحید کو نہیں مانتے اور سرکشی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔
Ayahs 16:24–25

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب کہے21 ان سے کہ کیا اتارا ہے تمہارے رب نے تو کہیں کہانیاں ہیں پہلوں کی

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

تاکہ اٹھائیں بوجھ اپنے پورے دن قیامت کے اور کچھ بوجھ ان کے جن کو بہکاتے ہیں بلا تحقیق سنتا ہے برا بوجھ ہے جو اٹھاتے ہیں

21:۔ توحید پر تین عقلی دلیلوں اور ان کے متعلقات بیان کرنے کے بعد منکرین پر شکوی کیا گیا ہے کہ وہ قرآن کو کلام الٰہی ماننے کے بجائے اسے اگلوں کے قصے کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ ” لِیَحْمِلُوْا اَوْزَارَھُمْ الخ “ لام عاقبت کا ہے۔ اور یہ ان معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ وہ قرآن کو اگلے لوگوں کی کہانیاں کہتے ہیں۔ اچھا اس قول باطل کی عاقبت اور اس کا انجام آخرت میں یہ ہوگا کہ وہ اپنے اور جن کو انہوں نے اس قول باطل سے گمراہ کیا ہے ان کے گناہوں کا بوجھ پیٹھ پر اٹھا کر سیدھے جہنم میں جائیں گے۔
Ayah 16:26

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

البتہ دغا بازی کرچکے22 ہیں جو تھے ان سے پہلے پھر پہنچا حکم اللہ کا ان کی عمارات پر بنیادوں سے پھر گر پڑی ان پر چھت اوپر سے اور آیا ان پر عذاب جہاں سے ان کو خبر نہ تھی

22:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مشرکین مکہ سے پہلے سرکش قوموں نے انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف منصوبے بنائے مگر ان کے منصوبے خود ان کی اپنی ہلاکت کا باعث بنتے۔ ” فَاَتَی اللّٰهُ بُنْیَانَھُمْ الخ “ یہ اقوام گذشتہ کی تباہی و ہلاکت کی تمثیل ہے یعنی ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ستونوں پر ایک عمارت بنائیں اور اس کی چھت ستونوں پر سے گر پڑے اور بنانے والے اپنی ہی بنائی ہوئی چھت کے نیچے دب کر مرجائیں۔ کحال قوم بنوا بنیانًا و مدوہ بالاساطین فاتی البنیان من الاساطین بان ضعضعت فسقط علیھم السقف و ماتوا وھلکوا الخ۔
Ayah 16:27

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا23 ان کو اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن پر تم کو بڑی ضد تھی بولیں گے جن کو دی گئی تھی خبر بیشک رسوائی آج کے دن اور برائی منکروں پر ہے

23:۔ تخویف اخروی ہے۔ یعنی دنیا میں بھی انہیں حق کے خلاف منصوبہ بازی کی سزا دی گئی اور آخرت میں بھی انہیں سرِ محشر ذلیل و رسوا کیا جائے گا۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو رسوا کرنے، ان کی اور ان کے معبودوں کی بےبسی ظاہر کرنے کے لیے ان سے سوال کرے گا کہ آج وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کی وجہ سے تم میرے پیغمبروں سے جھگڑا کرتے تھے۔ ” قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْعِلْمَ الخ “ اہل علم سے انبیاء (علیہم السلام) اور مؤمنین مراد ہیں جو دنیا میں مشرکین کو دعوت توحید دیا کرتے تھے (روح) یعنی آج آخرت میں صرف وہی لوگ رسوا ہوں گے جو دنیا میں دعوت توحید کو رد کیا کرتے تھے اور غیر اللہ کو کارساز اور عندہ اللہ شفیع غالب سمجھتے تھے۔
Ayahs 16:28–29

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

جن کی24 جان نکالتے ہیں فرشتے اور وہ برا کر رہے ہیں اپنے حق میں تب ظاہر کریں گے اطاعت کہ ہم تو کرتے نہ تھے کچھ برائی کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے تھے

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

سو داخل ہو دروازوں میں دوزخ کے رہا کرو سدا اسی میں سو کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا

24:۔ یہ الکافرین کی صفت ہے اور یہاں سے لے کر ” فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ “ تک ادخال الٰہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے بیان فرمایا ہے کہ ظالموں یعنی مشرکوں کا یہ حال ہوگا۔ ” ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ “ یہ ” تَتَوَفّٰهُمْ “ کی ضمیر منصوب سے حال ہے یعنی یہ مشرکین شرک کی وجہ سے اپنے اوپر طلم کرتے رہے اور مرتے دم تک شرک پر ڈٹے رہے۔ ” تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰئِکَةُ “ سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے پر صرف ایک فرشتہ (عزرائیل) ہی مقرر نہیں بلکہ اس کام پر بہت سے فرشتے مامور ہیں جو عزرائیل کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس سے اہل بدعت کا یہ استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک عزرائیل فرشتہ ایک وقت میں ہزاروں جگہوں میں حاضر ہو کر لوگوں کی جانیں قبض کرسکتا ہے تو پھر حضور ﷺ بھی ہر جگہ حاضر و ناظر ہوسکتے ہیں۔ ” فَادْخُلُوْا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ الخ “ تخویف اخروی۔
Ayahs 16:30–32

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور کہا25 پرہیزگاروں کو کیا اتارا تمہارے رب نے بولے نیک بات جنہوں نے بھلائی کی اس دنیا میں ان کو بھلائی ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے اور کیا خوب گھر ہے پرہیزگاروں کا

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

باغ میں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ جائیں گے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ان کے واسطے وہاں ہے جو چاہیں ایسا بدلہ دے گا اللہ پرہیزگاروں کو

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

جن کی جان قبض کرتے ہیں فرشتے اور وہ ستھری ہیں کہتے ہیں فرشتے سلامتی تم پر جاؤ بہشت میں بدلہ ہے اس کا جو تم کرتے تھے

25:۔ کفار کا حال اور ان کے لیے تخویف اخروی ذکر کرنے کے بعد اب مؤمنین کا حال اور ان کے لیے بشارت دنیوی و اخروی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جب مؤمنین سے قرآن کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اسے سراپا خیر و برکت قرار دیتے ہیں۔ ” لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا “ خبر مقدم۔ ” حَسَنَةٌ“ مبتداء مؤخر۔ یہ بشارت دنیوی ہے ” وَلَدَارُ الْاٰخِرَةِ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ ” اَّلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمْ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ ” طَیِّبِیْنَ “ یہ ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی در آنحالیکہ وہ شرک کی نجاست سے پاک تھے۔
Ayahs 16:33–34

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

کیا کافر اب اس کے منتظر ہیں کہ آئیں ان پر فرشتے26 یا پہنچے حکم تیرے رب کا اسی طرح کیا تھا ان سے اگلوں نے اور اللہ نے ظلم نہ کیا ان پر لیکن وہ خود اپنا برا کرتے رہے

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام اور کٹ پڑا ان پر جو ٹھٹھا کرتے تھے

26:۔ تخویف دنیوی ہے۔ مسئلہ توحید کو ایسے ٹھوس عقلی دلائل سے واضح اور ثابت کردیا گیا ہے مگر اس کے باوجود یہ معاندین اسے نہیں مانتے بلکہ عذاب مانگتے ہیں کہ ہم نہیں مانتے جس عذاب سے تو ہمیں ڈراتا ہے بیشک وہ عذاب لے آ۔ ” کَذٰلِکَ فَعَلَ الخ “ گذشتہ سرکش اور معاند قوموں نے بھی ایسا ہی کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب نازل کر کے ہلاک کردیا اور یہ ان کے اپنے ہی اعمال کی سزا تھی۔ ” فَاَصَابَھُمْ الخ “ وہ انبیاء (علیہم السلام) کا انکار کرتے، دعوت توحید کو ٹھکراتے اور بطور استہزاء و تمسخر ان سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب مسلط کر کے ان کو ان کے مشرکانہ اعمال اور استہزاء و تمسخر کا دنیا ہی میں مزہ چکھا دیا۔ مشرکین مکہ بھی اگر یہی کچھ چاہتے ہیں تو جلدی نہ کریں اگر وہ اپنی موجودہ روش پر قائم رہے تو ہمارا عذاب آیا سمجھیں۔
Ayah 16:35

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:35 in the Quran reader

اور بولے شرک کرنے والے27 اگر چاہتا اللہ نہ پوجتے ہم اس کے سوا کسی چیز کو اور نہ ہمارے باپ اور نہ حرام ٹھہرا لیتے ہم بدون اس کے حکم کے کسی چیز کو اسی طرح کیا ان سے اگلوں نے سو رسولوں کے ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا صاف صاف

27:۔ ” وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا “ تا ” اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنُ “ شکوہ ہے۔ یعنی ہم نے اس قدر دلائل سے ثابت کردیا کہ غیر اللہ کی عبادت نہ کرو اور حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب غیر اللہ کو مت پکارو مگر یہ احمق ان دلائل قاطعہ کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ ہمیں غیر اللہ کی عبادت اور غیر اللہ کے لیے تحریمات نہ کرنے دیتا۔ اس سے پہلے نفی شرک فی التصرف پر دلائل ذکر کیے گئے اب یہاں سے اس کے ساتھ نفی شرک فعلی کا ذکر بھی کیا گیا۔ ” کَذٰلِکَ فَعَلَ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی یہ کوئی بات نہیں۔ ان سے پہلے مشرکین بھی بطور استہزاء یوں ہی کہا کرتے تھے۔
Ayahs 16:36–37

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 16:36 in the Quran reader

اور ہم نے اٹھائے ہیں28 ہر امت میں رسول کہ بندگی کرو اللہ کی اور بچو سرکشوں سے29 پھر کسی کو ان میں سے ہدایت کی اللہ نے اور کسی پر ثابت ہوئی گمراہی سو سفر کرو30 ملکوں میں پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 16:37 in the Quran reader

اگر تو طمع کرے ان کو راہ پر لانے کی تو اللہ راہ نہیں دیتا جس کو بچلاتا ہے اور کوئی نہیں ان کا مددگار

28:۔ یہ توحید پر دلیل نقلی اجمالی ہے نیز جواب شکوی ہے۔ ہم اس سے پہلے ہر امت میں رسول بھیج چکے ہیں اور ہر رسول کو ہم نے یہی وحی بھیجی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور غیر اللہ کی عبادت اور پکار سے اجتناب کرو۔ جب ہم نے ہر پیغمبر کے پاس اسی مضمون کی وحی بھیجی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو تو تمہارا یہ کہنا غلط ٹھہرا کہ اگر اللہ کی مرضی ہوتی تو ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرتے۔ کیونکہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی تھی کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے اور نہ اس کے سوا کسی اور کے لیے تحریمات کی جائیں۔ 29:۔ ” طَاغُوْت “ ہر وہ معبود ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔ الطاغوت وھو اسم کل معبود من دون اللہ (خازن و معالم ج 4 ص 90) المراد بہ اجتنبوا عبادۃ ما تعبدون من دون اللہ فسمی الکل طاغوتا (کبیر ج 5 ص 454) ۔ یا طاغوت سے شیطان اور ہر داعی ضلالت مراد ہے۔ الطاغوت ھو الشیطان و کل من یدعوا الی الضلالۃ (ابو السعود ج 5 ص 461) ۔ 30:۔ تخویف دنیوی ہے۔ یعنی پہلے مکذبین کا حال دیکھ لو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔ ” اِنْ تَحْرِصْ “ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ فرمایا ان کے دلوں پر ان کی مسلسل ضد اور عناد کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے اب آپ ان کے ایمان لانے کی کوئی امید نہ رکھیں۔
Ayahs 16:38–39

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ١ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:38 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی سخت قسمیں31 کہ نہ اٹھائے گا اللہ جو کوئی مرجائے کیوں نہیں وعدہ ہوچکا ہے اس پر پکا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ Open ayah 16:39 in the Quran reader

اٹھائے گا تاکہ ظاہر کر دے ان پر جس بات میں کہ جھگڑتے ہیں اور تاکہ معلوم کرلیں کافر کہ وہ جھوٹے تھے

31:۔ یہ بھی شکوہ ہے یعنی یہ مشرکین ایک طرف شرک کرتے اور غیر اللہ کو متصرف و کارساز جان کر غائبانہ پکارتے ہیں اور ساتھ ہی بڑے شد و مد کے ساتھ حشر و نشر کا بھی انکار کرتے ہیں۔ ” بَلیٰ وَعْدًا عَلَیْهِ الخ “ یہ مشرکین کے قول کا رد ہے فرمایا کیوں نہیں وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا وعدہ فرما چکا ہے جسے وہ لامحالہ پورا کرے گا۔ ” لِیُبَیِّنَ لَھُمْ الخ “ اس میں حشر و نشر اور بعثت اخروی کی حکمت بیان کی گئی ہے کہ حشر و نشر اس لیے ہوگا تاکہ حق و باطل کے اختلاف کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جاسکے کیونکہ جب اہل حق کو جنت میں اور اہل شرک کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا۔ تو اس وقت توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے میں مشرکین کو بھی اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ نیز قیامت کا دن اس لیے بپا ہوگا تاکہ مشرکین پر واضح ہوجائے کہ وہ انکار توحید اور انکار حشر میں جھوٹے تھے۔ اس میں کافروں کے لیے تخویف اخروی بھی ہے۔
Ayah 16:40

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 16:40 in the Quran reader

ہمارا کہنا کسی چیز کو32 جب ہم اس کو کرنا چاہیں یہی ہے کہ کہیں اس کو ہوجا تو وہ ہوجائے

32:۔ یہ مشرکین کے قول ” لَا یَبْعَثُ مَنْ یِّمُوْتُ الخ “ کا رد ہے یعنی ہمارے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں کیونکہ جب ہم کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ اعلمھم سہولۃ الخلق علیہ ای اذا ارادنا ان نبعث من یموت فلا تعب علینا ولا نصب فی احیائھم ولا فی غیر ذلک مما نحدثہ (قرطبی ج 10 ص 106) ۔