15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsجواھر القرآن

Ayah 15:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

ا لر۔ یہ آیتیں کتاب کی2 اور واضح قرآن کی

2:۔ یہ اصل مقصد کے لیے توطئہ و تمہید ہے اور اس میں ترغیب دلائی گئی ہے کہ اس سورت میں جو بیان ہوگا وہ معمولی باتیں نہیں ہوں گی، وہ بہت ضوری اور اہم ہوں گی اس لیے ان کو غور سے سننا۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا جس سورت کی ابتداء میں ” تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتَابِ “ وارد ہو وہاں الکتاب بمعنی المکتوب سے وہ سورت مراد ہوگی یا قرآن اور اگر یہ الفاظ کسی سورت کے درمیان آجائیں تو اس سے بقرینہ مقام تورات و انجیل یا دیگر کتب سماویہ یا قرآن مراد ہوگا۔ قاعدہ تو یہی ہے لیکن سورة حجر کی ابتداء میں الکتاب کے ساتھ لفظ قرآن بھی آیا ہے اس لیے الکتاب سے تورات و انجیل مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کے بعض بیانات پہلی کتابوں میں نازل ہوچکے ہیں مثلاً تخویف دنیوی کے پہلے تین نمونے اور کچھ باتیں ایسی ہیں جن کا ذکر کتب سابقہ میں نہیں آیا اور وہ صرف قرآن ہی میں مذکور ہیں مثلاً تخویف دنیوی کے آخری دو نمونے۔ ” قال مجاھد و قتادۃ الکتاب ھنا ما نزل من الکتب قبل القران الخ “ (روح ج 5 ص 444) ۔
Ayah 15:2

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

کسی وقت آرزو کریں گے یہ لوگ جو منکر ہیں3 کیا اچھا ہوتا جو ہوتے مسلمان

3:۔ تمہید کے بعد اصل مقصود کا ذکر کیا گیا۔ سورة ابراہیم میں وقائع امم سابقہ زکر کردئیے گئے ہیں تاکہ تم ان سے عبرت حاصل کرو اور عذاب کے ڈر سے مسئلہ مان لو اس لیے اب وقت ہے ضد و انکار سے باز آجاؤ اور مسئلہ قبول کرلو ورنہ پچھتاؤ گے جیسا کہ بہت بار ایسا ہوچکا ہے اقوام گذشتہ کے کفار و مشرکین جب دیکھتے کہ کفر و انکار اور ضد وعناد کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے اور ایمان والے اس سے بچ گئے ہیں تو وہ حسرت و افسوس سے کہنے لگتے کاش ہم نے بھی مسئلہ توحید مان لیا ہوتا تو آج ہم بھی اس عذاب سے بچ جاتے مگر اس وقت کے پچھتانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 15:3

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

چھوڑ دے ان کو کھالیں اور برت لیں اور4 امید میں لگے رہیں سو آئندہ معلوم کرلیں گے

4:۔ مقصود اصلی بیان کرنے کے بعد ” و ما یستاخرون “ تک زجر اور تخویف دنیوی کا زکر کیا گیا کہ اس کا تعلق سورة ابراہیم کے دعوے سے ہے یعنی ان کو وقائع امم سابقہ سناؤ تاکہ وہ ان سے ڈر کر شرک سے توبہ کرلیں۔ اب تخویف دنیوی سنائی گئی کہ اچھا اگر وہ ان وقائع سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور ضد وعناد پر اڑے ہوئے ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھور دو وہ دنیوی ساز و سامان اور انواع اکل و شرب سے خوب فائدہ اٹھا لیں اور باطل امیدوں میں ڈوب کر حق سے خوب غافل ہو لیں جب اچانک ہمارا عذاب ان کو آلیگا۔ تو انہیں حقیقت حال معلوم ہوجائے گی۔
Ayahs 15:4–5

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور کوئی بستی ہم نے غارت نہیں کی5 مگر اس کا وقت لکھا ہوا تھا مقرر

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

نہ سبقت کرتا ہے کوئی فرقہ اپنے وقت مقرر سے اور نہ پیچھے رہتا ہے

5:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہم نے آج تک کسی قوم کو مبتلائے عذاب نہیں کیا جب تک کہ ہم پیغمبر بھیج کر ان پر اپنی حجت قائم نہ کردیں اس لیے ہر قوم کی ہلاکت کے لیے ایک وقت مقرر کردیا گیا کہ اگر وہ نہیں مانیں گے تو انہیں مہلت دی جائے گی تاکہ وہ سوچ بچار سے کام لے کر راہ راست پر آنے کا موقع پا سکیں۔ لیکن جب وہ اجل مسمی تک انکار وعناد پر ڈٹے رہے تو ان کو ہلاک کردیا گیا۔ آج تک کسی قوم کو اجل مقررہ سے پہلے ہلاک نہیں کیا گیا اور نہ کسی قوم کو اس کے بعد مہلت دی گئی۔ یخبر تعالیٰ انہ ما اھلک قریۃ الا بعد قیام الحجۃ علیھا وانتھاء اجلھا وانہ لا یؤخر امۃ حان ھلاکھم عن میقاتہم ولا یتقدمون عن مدتھم (ابن کثیر ج 2 ص 547) ۔ یہ اہل مکہ کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ انکار وعناد سے باز آجائیں ورنہ ان کا بھی ایسا ہی حشر ہوگا۔ وھذا تنبیہ لاھل مکۃ و ارشاد لھم الی الاقلاع عماھم علیہ من الشرک والعناد ولالحاد الذی یستحقون بہ الھلاک (ایضاً ) ۔
Ayahs 15:6–8

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور لوگ کہتے ہیں اے وہ شخص کہ تجھ پر اترا ہے قرآن6 تو بیشک دیوانہ ہے

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس فرشتوں کو اگر تو سچا ہے

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

ہم نہیں اتارتے فرشتوں کو مگر کام پورا کرے اور اس وقت نہ ملے گی ان کو مہلت

6:۔ یہ شکوی ہے۔ مشرکین ماننے کے بجائے الٹا آنحضرت ﷺ سے استہزاء کرتے اور آپ کو دیوانہ ہونے کا طعن دیتے اور پھر ازراہ عناد آپ سے مطالبہ کرتے کہ آپ کی تصدیق کرنے کے لیے فرشتے آئیں جو بآواز بلند آپ کی صداقت و رسالت کا اعلان کریں۔ ” مَانُنَزِّلُ الْمَلٰئِکَةَ “ یہ جواب شکوی ہے۔ فرشتوں کا اتارنا ہماری حکمت بالگہ کے ما تحت ہوتا ہے اور فرشتوں کے نازل نہ ہونے ہی میں تمہارا بھلا ہے کیونکہ جب فرشتوں کی آمد کے بعد بھی تم نہ مانو گے تو پھر فوراً ہلاک کردئیے جاؤ گے اور ہرگز مہلت نہ ملے گی۔ ای لو تنزلت الملائکۃ تشھد لک فکفروا بعد ذلک لم ینظروا۔ (قرطبی ج 10 ص 4) ۔
Ayahs 15:9–13

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

ہم نے اَپ اتاری ہے یہ نصیحت7 اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور ہم بھیج چکے تجھ سے پہلے اگلے فرقوں میں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول مگر کرتے رہیں ہیں اس سے ہنسی

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح بٹھا دیتے ہیں ہم اس کو دل میں گنہگاروں کے

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

یقین نہ لائیں گے اس پر اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی

7:۔ ” اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا “ تا ” سُنَّةَ الْاَوَّلِیْنَ “ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَ لذِّکْرَ “ سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” نَسْلُکُهٗ “ کی ضمیر منصوب استہزاء کی طرف عائد ہے جو ” یَسْتَھْزِءُوْنَ “ کے ضمن میں مذکور ہے یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے اور ہم قیامت تک ہر قسم کی تبدیل و تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ قرآن آپ اپنے پاس سے نہیں بنا کرلے آئے۔ مشرکین اس ماننے اور آپ کی تصدیق کرنے کے بجائے الٹا آپ کو مجنون کہتے اور آپ سے استہزاء اور تمسخر کرتے ہیں۔ ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا الخ “ اور یہ کوئی نئی بات نہیں آپ سے پہلی قوموں میں بھی ہم نے اپنے پیگمبر بھیجے اور ان پر اپنی کتابیں اور صحیفے نازل کیے ” وَ مَا یَا تِیْھِمْ الخ “ اور ان قوموں کے سرکش اور ضدی لوگوں نے اسی طرح پیغمبروں سے استہزاء کیا۔ ” کَذٰلِکَ نَسْلُکُهٗ الخ “ پیگمبروں کے ذریعہ مسئلہ توحید واضح اور ہماری حجت تام ہوجانے کے بعد بھی جو لوگ ضد وعناد کی وجہ سے نہ مانیں ان کے دلوں پر ہم مہر جباریت ثبت کردیتے اور ان میں کفر و شرک اور استہزاء و تمسخر کو جاگزیں کردیتے ہیں اس لیے وہ ایمان لانے کے بجائے ہٹ دھرمی سے کام لے کر انکار کرتے اور پیغمبروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ” وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ “ اور پہلے منکرین و معاندین کے بارے میں ہمارا دستور نافذ ہوچکا ہے کہ انہیں دنیا میں شدید ترین عذاب سے ذلیل و رسوا کر کے ہلاک کیا جاتا ہے۔ اس لیے مشرکین مکہ اگر ضد وعناد اور کفر و انکار سے باز نہ آئے تو وہ بھی ایسے ہی انجام سے دو چار ہوں گے۔ مضت طریقتھم التی سنھا اللہ فی اھلاکھم حین کذبوا رسلہ وھو وعید لاھل مکۃ علی تکذیبہم (مدارک ج 2 ص 208) ۔
Ayah 15:14

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اور اگر ہم8 کھول دیں ان پر دروازہ آسمان سے اور سارے دن اس میں چڑھتے رہیں

8:۔ یہ زجر ہے جو شکوہ مذکورہ سے متعلق ہے اس میں مشرکین مکہ کے انتہائی عناد و الحاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ مشرکین کا مطالبہ تھا کہ اگر فرشتے محمد ﷺ کی رسالت کی تصدیق کردیں تو ہم مان لیں گے فرمایا فرشتوں کا نازل کرنا بےسود ہے کیونکہ ان معاندین کا عناد اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ فرشتے نازل کرنا تو ایک طرف اگر ہم آسمان میں ایک دروازہ کھول دیں اور یہ مشرکین اس میں سے اوپر چرھ جائیں اور ملکوت سمٰوات کا اپنے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں، وہاں فرشتوں کو دیکھ لیں اور پوری حقیقت واضح اور روشن ہو کر ان کے سامنے آجائے تو بھی یہ لوگ نہیں مانیں گے اور فرط تعصب وعناد کی وجہ سے پھر بھی یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے کہ ہمیں یہ ساری چیزیں نظر آرہی ہیں حالانکہ حقیقت میں کچھ نہیں۔ لقالوا الفرط عنادھم و غلوھم فی المکابرۃ الخ (روح ج 14 ص 20) ۔ جیسا کہ سورة رعد رکوع 4 میں مشرکین کے عناد و مکابرہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ” وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰی اي لا یؤمنون “۔
Ayah 15:15

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو بھی یہی کہیں گے کہ باندھ دیا ہے ہماری نگاہ کو9 نہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو ہوا ہے

9:۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا۔ تسکیر سے مراد ہے نظر بندی کرنا یعنی کسی چیز پر ایسا اثر ڈالنا جس سے دیکھنے والوں کو وہ چیز اپنی حقیقت کے خلاف نطر آئے مثلاً رسی یا لاٹھی جو نظر بندی کی وجہ سے تمام دیکھنے والوں کو سانپ نظر آئے۔ اور جادو سے مراد یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص کی آنکھوں پر اثر ڈالا جائے جس سے اس شخص کو مثل سانپ کے نظر آئے لیکن باقی لوگوں کو اصلی صورت میں نظر آئے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے پھر ترقی کر کے کہا کہ ایسا نہیں بلکہ خاص ہم پر جادو کردیا گیا یا ” سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا “ سے آنکھوں پر جادو کرنا اور ” مَسْحُوْرُوْنَ “ سے عقل و فہم پر جادو کرنا مراد ہے یعنی نہ صرف ہماری آنکھوں پر بلکہ ہماری عقلوں پر بھی جادو کردیا گیا ہے کہ (عیاذًا باللہ) یہ بےحقیقت چیزیں ہمیں ٹھوس اور واقعی حقائق دکھائی دے رہی ہیں۔ ویجئ قولہ بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ انتقالا الی درجۃ عظمی من سحر العقل (بحر ج 5 ص 449) اور ” اِنَّمَا سُکِّرَتْ “ میں ” اِنَّمَا “ معنی ” مَا اِلَّا “ نہیں بلکہ یہ مطلق تحقیق و تاکید کے لیے ہے کیونکہ اگر حصر کیلئے مانیں تو مطلب ہو ” ما سکرت الا ابصارنا “ حالانکہ یہ مطلب صحیح نہیں کیونکہ ” اَبْصَارُنَا “ کے مقابلے میں دوسرا کوئی صحیح احتمال موجود ہی نہیں اس لیے حصر بےفائدہ ہوجاتا ہے۔
Ayahs 15:16–20

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج10 اور رونق دی اس کو دیکھنے والوں کی نظر میں

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور محفوظ رکھا ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر جو چوری سے سن بھاگا سو اس کے پیچھے پڑا انگارہ چمکتا ہوا

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور رکھ دیے اس پر بوجھ اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور بنا دیے تمہارے واسطے اس میں معیشت کے اسباب اور وہ چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے

10:۔ ” وَلَقَدْ جَعَلْنَا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ توحید پر مفصل عقلی دلیل ہے ” اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ “ مستچنیٰ منقطع ہے اس دلیل سے دو دعوے ثابت کیے گئے۔ اول یہ کہ سب کچھ کرنے والا اور ساری کائنات میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہ ابتداء دلیل سے ” وَ نَحْنُ الْوَارِثُوْنَ “ تک میں مذکور ہے۔ فرمایا اوپر ہم نے آسمان پیدا کیا اور ملا اعلی کے رازوں کو شیاطین سے محفوط کردیا نیچے زمین پیدا کی، اس میں پہاڑ بنائے اور اس میں ہر چیز اندازے سے پیدا کی اور اس میں تمام انسانوں کے لیے بیشمار وسائل رزق مہیا کیے۔ ” وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ “ وہ معذور لوگ، غلام، اہل و عیال اور جانور مراد ہیں۔ ان سب کے رازق تم نہیں ہو بلکہ سب کو اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے۔
Ayahs 15:21–23

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں11 اور اتارتے ہیں ہم اندازہ معین پر

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور چلائیں ہم نے ہوائیں اوس بھری پھر اتارا ہم نے آسمان سے پانی پھر تم کو وہ پلایا اور تمہارے پاس نہیں اس کا خزانہ

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور ہم ہی ہیں جلانے والے اور مارنے والے اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے

11:۔ حرف نفی اور حرف استثناء مفید حسر ہے۔ یعنی ہر چیز کے خزانے اور ذخیرے ہمارے ہی علم میں اور ہمارے ہی اختیار و تصرف میں ہیں، بارش، رزق، تندرستی، دولت، اولاد، آرام و راحت غرضیکہ ہر چیز ہمارے تصرف میں ہے اور ان خزانوں میں سے ہم اپنی حکمت بالغہ کے مطابق جتنا چاہتے اور جس پر چاہتے ہیں نازل کرتے ہیں اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ ” وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ الخ “ ہم ہوائیں بھیجتے ہیں جو اپنے جوف میں پانی سے لبریز بادل اٹھائے ہوتی ہیں ان سے بارش برسا کر ہم تمہیں، تمہارے چوپایوں اور تمہاری زمینوں کو سیراب کرتے ہیں۔ و ارسلنا الریح حوامل بالسحاب لانھا تتحمل السحاب فی جو فھا (مدارک ج 2 ص 209) ۔ ” وَ مَا اَنْتُمْ الخ “ خطاب جنس مخلوق سے ہے یعنی اے انسانو ! فرشتو ! اور جنو ! تم میں سے کوئی بھی پانی کا خازن اور اس کو اتارنے والا نہیں۔ ” وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ “ پیدا کرنا اور ہمارے ہی اختیار میں ہے اور جب تمام مخلوق ختم ہوجائے گی اس وقت صرف ذات خداوندی ہی باقی ہوگی۔ اس آیت میں ” نَحْنُ “ ضمیر فصل حصر کا فائدہ دے رہی ہے۔ ان مزکورہ بالا تمام باتوں سے معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
Ayahs 15:24–27

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور ہم نے جان رکھا ہے آگے بڑھنے والوں کو12 تم میں سے اور جان رکھا ہے پیچھے رہنے والوں کو

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور تیرا رب وہی اکٹھا کر لائے گا ان کو بیشک وہی ہے حکمتوں والا خبردار

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍۚ Open ayah 15:26 in the Quran reader

اور بنایا ہم نے آدمی کو کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے

وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ Open ayah 15:27 in the Quran reader

اور جان کو بنایا ہم نے اس سے پہلے لو کی آگ سے

12:۔ یہ دوسرا دعوی ہے یعنی سب کچھ جاننے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں کیونکہ ” اَلْمُسْتَقْدِمِیْنَ “ اور ” اَلْمُسْتَاخِرِیْنَ “ جمیع ماکان ومایکون سے کنایہ ہے۔ اس میں بھی حصر ہوگا کیونکہ دلیل کے پہلے حصوں میں حصر ہے۔ ” وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ الخ “ یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اے انسان ! ذرا اپنی حقیقت کو تو دیکھ کہ تجھے ہم نے ایک متعفن کیچڑ سے پیدا کیا اور تمام ظاہری اور باطنی انعامات کی تجھ پر بارش کردی مگر پھر بھی تو سرکشی کرتا ہے توحید سے منہ موڑتا اور پیغمبروں کا انکار کرتا ہے۔ اور جن شیاطین کے بہکانے سے تو شرک کرتا اور توحید کو نہیں مانتا ان کی پیدائش بھی دیکھ کہ یہ سب جن ہیں اور انہیں آتش سوزاں سے پیدا کیا گیا۔ یہ شیاطین ابلیس کی ذریت و اولاد ہیں جو تمہارا پرانا اور جدی دشمن ہے اس لیے اس کی پیروی نہ کرو۔ تمہیں عقل و فکر جیسی نعمتیں دی ہیں اور ہر قسم کے دلائل بھی بیان کردئیے ہیں اس لیے ذرا غور تو کرو تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ اللہ کی توحید ایک برحق مسئلہ ہے۔ ” نَارِ السَّمُوْمِ “ میں اضافت بیانیہ ہے۔ السموم وہ آگ جو نہایت شدید گرم ہو اور جس کی حرارت بدن کے مسامات میں فورًا نٖفوز کر جائے۔ من نار الحر الشدید النافذ فی المسام الخ (ابو السعود ج 5 ص 393) ۔ یا یہ اضافت موصوف بصفت ہے یعنی آتش سوزاں۔
Ayahs 15:28–29

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:28 in the Quran reader

اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناؤں گا13 ایک بشر کھنکھاتے سنے ہوئے گارے سے

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 15:29 in the Quran reader

پھر جب ٹھیک کروں اس کو اور پھونک دوں اس میں اپنی جان سے تو گر پڑیو اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے

13:۔ اس قصہ سے آدم اور اولاد آدم (علیہ السلام) سے ابلیس اور اس کی ذریت کی پرانی دشمنی کو بیان کرنا مقصود ہے تاکہ اولاد آدم ان کو اپنا دشمن سمجھیں اور ان کے بہکانے اور ورغلانے میں نہ آسکیں یہ قصہ آگے بھی جہاں کہیں مذکور ہوگا اس سے یہی مقصود ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا میں آدم کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کے جسمانی نقوش اور اس کے اعضاء کو مکمل کرلوں اور اس میں جان ڈال دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔ روح اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو بدن کی حیات کا سبب عادی ہے، روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اظہار شرف کے لیے ہے۔ والروح جسم لطیف اجری اللہ العادۃ بان یخلق الحیوۃ فی البدن مع ذلک الجسم و حقیقتہ اضافۃ خلق الی خالق فاروح خلق من خلقہ اضافہ الی نفسہ تشریفا و تکریماً (قرطبی ج 10 ص 24) ۔
Ayahs 15:30–32

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 15:30 in the Quran reader

تب سجدہ کیا ان فرشتوں نے سب نے مل کر14

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:31 in the Quran reader

مگر ابلیس نے نہ مانا کہ ساتھ ہو سجدہ کرنے والوں کے

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 15:32 in the Quran reader

فرمایا اے ابلیس کیا ہوا تجھ کو کہ ساتھ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں کے

14:۔ تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اس لیے آدم کے ساتھ اس کی دشمنی ظاہر ہے۔ ” اِلَّا اِبْلِیْسَ “ مستثنیٰ منقطع ہے کیونکہ ابلیس فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے ” کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ “ اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر ابلیس فرشتہ نہیں تھا تو سجدہ نہ کرنے سے نافرمان کیوں ٹھہرا کیونکہ سجدہ کا حکم تو فرشتوں کو دیا گیا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابلیس چونکہ فرشتوں میں رہتا تھا اور زہد و عبادت کی وجہ سے مرتبہ میں فرشتوں سے بھی بلند تھا اس لیے تغلیباً اسے بھی فرشتوں میں شمار کیا گیا اس طرح فرشتوں کے ساتھ وہ بھی مامور تھا۔ کان جن یا مفردا مغمورا بالوف من الملائکۃ فعد منھم تگلیبا (روح ج 14 ص 46) ۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں ابلیس کو بھی سمجدہ کا باقاعدہ حکم ہوا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” یَا اِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ لَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ “ (اعراف رکوع 2) ۔ لیکن یہاں تعبیر میں اس کا ذکر ترک کردیا گیا ہے جیسا کہ کوئی واعظ کہے میں نے فلاں شہر والوں کو مسئلہ توحید سنایا تو انہوں نے مان لیا مگر فلاں شہر والوں کو وعظ کرنے کا ذکر حذف کردیا اسی طرح یہاں ابلیس کو سجدہ کرنے کا حکم تعبیر میں ھذف کردیا گیا ہے۔
Ayahs 15:33–38

قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ Open ayah 15:33 in the Quran reader

بولا میں وہ نہیں کہ سجدہ کروں ایک بشر کو15 جس کو تو نے بنایا کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۙ Open ayah 15:34 in the Quran reader

فرمایا تو تو نکل یہاں سے تجھ پر مار ہے

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ اللَّعْنَةَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 15:35 in the Quran reader

اور تجھ پر پھٹکار ہے اس دن تک کہ انصاف ہو

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 15:36 in the Quran reader

بولا اے رب تو مجھ کو ڈھیل دے اس دن تک کو مردے زندہ ہوں

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 15:37 in the Quran reader

فرمایا کہ تو تجھ کو ڈھیل دی

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 15:38 in the Quran reader

اسی مقرر وقت کے دن تک

15:۔ ابلیس نے جواب دیا کہ جس بشر کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے اسے سجدہ کرنا میرے شایانِ شان نہیں تھا کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم کو مٹی سے اور آگ بہرحال مٹی سے افضل و اعلیٰ ہے۔ اراد ابلیس انہ افضل من ادم لان ادم طینی الاصل وابلیس ناری الاصل والنار افضل من الطین (خازن ج 4 ص 66) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابلیس سب سے پہلا شخص ہے جس نے بشر کو حقارت کی نظر سے دیکھا اس کے بعد ہر زمانہ میں اس نے مشرکین کو بہکایا اور بشر کے حقیر ہونے کا خیال ان کے دلوں میں ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو نافرمانی اور تحقیر بشر کی یہ سزا دی کہ اس کا نام فرشتوں کی فہرست سے خارج کر کے تاقیامت اس کو ملعون و مغضوب کردیا۔
Ayahs 15:39–40

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:39 in the Quran reader

بولا اے رب16 جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھو دیا میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین سے اور راہ سے کھودوں گا ان سب کو

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 15:40 in the Quran reader

مگر جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں

16:۔ ” بِمَا اَغْوَیْتَنِیْ “ میں مَا مصدریہ ہے۔ ابلیس نے کہا میرے پروردگار ! تو نے مجھے راندہ بارگاہ تو کردیا ہے اب میں بھی تیرے بندوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا اور برے اعمال، ناجائز اور بےحیائی کے کاموں کو نہایت خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کروں گا کہ وہ خود بخود ان کی طرف مائل ہوجائیں۔ ” اِلَّا عِبَادَکَ الخ “ البتہ تیرے ان مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکوں گا جن کو تو نے اپنی خالص عبادت و اطاعت کے لیے چن لیا ایک قراءت میں ” اَلْمُخْلِصِیْنَ “ بصیغہ اسم فاعل ہے یعنی جو خالص تیری رضا جوئی کے لیے نیک کام کریں گے اور ان کے اعمال جلی اور خفی شرک سے پاک ہوں گے۔ ای الذین اخلصو العمل لک ولم یشرکوا معک فیہ احدا (روح ج 14 ص 50) ۔