Ayahs 15:80–8327:۔ یہ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ ہے۔ ” اَلْحِجْرُ “ ایک وادی کا نام ہے جس میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود آباد تھی۔ قال المفسرون الحجر اسم واد کان یسکنہ ثمود (کبیر) ۔ قوم ثمود کے پاس بھی ہم نے اپنا پیغام بھیجا مگر انہوں نے ماننے کے بجائے اس سے اعراض کیا۔ وہ پہاڑوں کو کاٹ کر رہنے کے لیے مکان بنا لیتے تھے اور نہایت پر امن اور چین کی زندگی بسر کر رہے تھے مگر مسئلہ توحید کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عتاب کے مورد ٹھہرے۔
Ayah 15:8428:۔ ” مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ “ سے شرک اور اعمال مشرکانہ (معبودان باطلہ کو پکارنا وغیرہ) اور افعال خبیثہ مراد ہیں۔ ” مَا کَانُوْا یکسبون من الشرک والاعمال الخببیثة “ (معالم و خازن ج 4 ص 72) یعنی جب ہمارا عذاب آگیا تو غیر اللہ کی پکار سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور نہ ان کے مزعونہ کارسازوں نے ان کی مدد اور دستگیری کی مشرکین مکہ ! تمہارا بھی یہی حشر ہوگا اور جن کو تم نے خدا کے سوا کارساز اور متصرف سمجھ رکھا ہے آڑے وقت میں ان میں سے کوئی بھی تمہارے کام نہیں آئے گا۔ یہی مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہے۔ مثلاً ” فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِھَتُھُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ الخ “ (ھود رکوع 9) اور دوسری جگہ ارشاد ہے ” وَ لَوْلَا نَصَرَھُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِھَةً “ (الاحقاف رکوع 4) ۔
Ayahs 15:85–8629:۔ تخویف دنیوی کے تین نمونے ام سابقہ سے بیان کرنے کے بعد دوسری مختصرف عقلی دلیل کا ذکر فرمایا۔ یعنی ہم نے زمین و آسمان کو اظہار حق اور اثبات توحید کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہماری قدرت کاملہ پر شہادت دے ” وَ اِنَّ السَّاعَةَ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلِ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پہلی تسلی ہے کہ معاندین استہزاء کرتے ہیں تو آپ درگذر فرمائیں استہزاء کا بدلہ ہم ان کو دے دیں گے۔” ھُوَ الْخَلَّاُقُ الْعَلِیْمُ “ الخلاق مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی ساری کائنات کو پیدا کرنا اس پر کوئی دشوار نہیں اس کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ ساری کائنات کو پیدا کرنا اور ایک جان کو پیدا کرنا اللہ کے لیے یکساں ہے چناچہ ارشاد ہے۔ ” مَا خَلْقُکُمْ وَ لَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ “ (لقمان رکوع 3) ۔
Ayah 15:8730:۔ یہ دوسری تسلی ہے۔ ” سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ “ سے سورة فاتحہ مراد ہے اور ” الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ “ کا عطف تفسیری ہے اور اس سے بھی سورة فاتحہ مراد ہے جیسا کہ ایک مرفوع حدیث میں ہے۔ قال رسول اللہ ﷺ الحمد للہ رب العلمینھی السبع من المثانی والقران العظیم الذی اوتیتہ۔ اخرجہ البخاری (روح ج 14 ص 79) یعنی ہم نے آپ پر سورة فاتحۃ جیسا عظیم الشان انعام فرمایا ہے اس لیے آپ کافروں کی دنیوی ٹھاٹ کی طرف توجہ نہ دیں۔ یا عطف تفسیر کے لیے ہے اور ” القران العظیم “ سے قرا ان مجید مراد ہے۔ ” لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ الخ “ یہ زجر ہے۔ متعلق بما قبل ازواجا ای اصنافا من الکفار کالیھود والنصاریٰ والمجوس (مدارک ج 2 ص 214) ۔ یعنی ہم نے آپ کو سورة فاتحۃ اور قرآن ایسی نعمت عظمیٰ عطا فرمائی ہے اس لیے کفار کی مختلف جماعتوں کو ہم نے جو دنیوی دولت و ثروت دے دی ہے اس کی طرف آپ نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں کیونکہ یہ دنیوی ساز و سامان محض چند روزہ ہے قد اغنیتک بالقران عما فی ایدی الناس (قرطبی ج 10 ص 56) ۔ یعنی ہم نے آپ کو سورة فاتحہ اور قرآن ایسی نعمت عظمی عطا فرمائی ہے اس لیے کفار کی مختلف جماعتوں کو ہم نے جو دنیوی دولت و ثروت دے دی ہے اس کی طرف آپ نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں کیونکہ یہ دنیوی ساز و سامان محض چند روزہ ہے قد اغنیتک بالقران عما فی ایدی الناس (قرطبی ج 10 ص 56) جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا ” لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ الْبِلَادِ “ (اٰل عمران رکوع 20) ۔
Ayahs 15:88–8931:۔ یہ تیسری تسلی ہے فرط رحمت و شفقت کی وجہ سے آپ کی خواہش تھی کہ تمام مشرک ایمان لے آئیں دوزخ سے بچ جائیں اس لیے بطور تسلی آپ سے فرمایا کہ آپ مشرکین کے متواتر انکار اور مسلسل عناد کی وجہ سے بھی آپ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ آپ کا کام تبلیغ رسالت ہے جسے آپ نے احسن طریق سے انجام دے دیا ہے اگر وہ نہیں مانتے تو یہ ان کی بدبختی ہے۔ ” وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْھِمْ “ حیث انھم لم یؤمنوا وکان ﷺ یود ان یومن کل من بعث الیہ و یشق علیہ (علیہ السلام) لمزید شفقتہ بقاء الکفرۃ علی کفرھم (روح ج 14 ص 80) ۔
32:۔ آپ نہ کافروں کی ظاہری شان و شوکت اور دنیوی مال و دولت کی طرف دیکھیں اور نہ ان کے ایمان نہ لانے پر غم کریں بلکہ آپ اپنی توجہ مومنوں کی طرف رکھیں اور ان سے نرمی کا برتاؤ فرمائیں۔ اور جو معاندین معجزات طلب کرتے ہیں ان سے صاف صاف فرما دیں کہ معجزات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں میرے قبضہ میں نہیں ہیں میں تو کھلا کھلا ڈڑ سنانے والا ہوں اور نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی سے خبردار کرنے والا ہوں کہ اگر نہیں مانوگے تو ہلاک کر دئیے جاؤ گے۔
Ayah 15:90ف 33: یہ تخویف دنیوی کا چوتھا نمونہ ہے جس میں مشرکین کی ایک جماعت کی ہلاکت کا ذکر ہے۔ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ (بانٹنے والا) یہ مشرکین مکہ کے حسب ذیل سولہ آدمی تھے جو موسم حج میں مکہ مکرمہ کے دروازوں کو آپس میں تقسیم کر کے ان پر بیٹھ جاتے اور باہر سے آنے والے لوگوں کو آنحضرت ﷺ سے متنفر اور بظن کرتے تاکہ وہ آپ کے پاس نہ جائیں اور آپ سے قرٓان نہ سن پائیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن ہشام، ابو قیس بن الولید، قیس بن الفاکہ، زہیر بن امیہ، ہلال بن عبدالاسود، سائب بن صیفی، نضر بن ھارث، ابو البختری بن ہشام، زمعہ بن حجاج، امیہ بن کلف، اور اوس بن مغیرہ (روح ج 14 ص 81) ان کا لیڈر ولید بن مغیرہ تھا۔ جو ان سب کو مکہ مکرمہ کے مختلف راستوں پر متعین کرتا اور خود بھی ایک مورچہ سنبھال لیتا۔ یہ ہر آنے والے کو آنحضرت ﷺ پر شاعر، جادوگر، مجنون وگیرہ بہتان لگا کر آپ سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے۔ قال مقاتل والفراء ھم ستۃ عشر رجلا بعثھم الولید بن المغیرۃ ایام الموسم فاقتسموا اعقاب مکۃ وانقابھا و فجاجھا یقولون لمن سلکھا الاتغتروا بھذا الخارج فینا یدعی النبوۃ فانہ مجنون و ربما قالوا سٰحر و ربما قالوا شاعر و ربما قالوا کا ھن (قرطبی ج 41 ص 58) ۔ ان معاندین کو اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں اور اس سے پہلے آفات و بلیات سے ہلاک کردیا۔
Ayahs 15:91–9434:۔ یہ ” اَلْمُقْتَسِمِیْنَ “ کی صفت کاشفہ ہے انہوں نے قرآن مجید کے بھی حصے بخرے کر رکھے تھے۔ کبھی کہتے یہ جاو ہے، کبھی شاعری بتاتے اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں کہہ دیتے۔ ” فَلَنَسْاَلَنَّھُمْ “ یہ ان کے لیے تخویف اخروی ہے۔ ” فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ “ صَدْعٌ کے معنی اظہار کے ہیں یعنی جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ اس کو علانیہ اور برملا بیان کریں۔ اور مشرکین کے استہزاء و تمسخر کی پروا نہ کریں۔ یا صدع الزجاجۃ سے ماخوذ ہے یعنی جس طرح شیشے کو توڑ کر اس کے اجزاء کو الگ الگ کردیا جاتا ہے آپ مسئلہ توحید کو اس طرح واضح کر کے بیان کریں کہ حق و باطل الگ الگ ہوجائیں (روح) ۔
Ayahs 15:95–9635:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے چوتھی بار تسلی کا ذکر اور تخویف دنیوی کا پانچواں نمونہ ہے۔ ” اَلْمُسْتَھْزِءِیْنَ “ سے مشرکین مکہ کے وہ پانچ یا کم و پیش آدمی مراد ہیں جو ہر وقت قرآن اور حضور ﷺ کے استہزاء و تمسخر کی نئی نئی صورتیں نکالتے رہتے تھے اور آپ کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن مطلب، ابو زمعہ، اسود بن عبد یغوث (بحر ج 5 ص 470) مقتسمین اور مستہزئین کی تعداد اور ان کے ناموں کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ یہ لوگ مختلف طریقوں سے آپ کو ستاتے اور آپ سے تمسخر کرتے تھے۔ کبھی راستہ میں کانٹے بچھاتے، کبھی اوپر سے کوڑا کرکٹ پھنکواتے کبھی گندگی اٹھا کر عین حالت نماز آپ کے اوپر ڈال دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان خبثاء کو ہلاک کرنے کا وعدہ فرمایا کہ آپ اپنا کام کیے جائیں ان کی پرواہ نہ کریں ان سے میں خود نمٹ لوں گا۔ چناچہ ان کو مختلف تکلیفوں میں مبتلا کر کے ہلاک کردیا گیا۔ ” اَلَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ “ یہ ” اَلْمُسْتَھْزِءِیْنَ “ کے لیے صفت کاشفہ ہے۔ ان بدبختوں نے صرف استہزاء پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ اللہ کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔ انہم لم یقتصروا علی الاستہزاء بہ ﷺ بل اجترء وا علی العطیمۃ التیھی الاشراک بہ سبحانہ (روح ج 14 ص 86) ۔
Ayahs 15:97–9936:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے پانچویں تسلی ہے۔ اس تعبیر میں کس قدر محبت کا اظہار ہے میرے پیغمبر ہمیں خوب معلوم ہے ان مشرکین کے مشرکانہ کلمات اور ان کے استہزاء سے آپ آزردہ خاطر اور دل برداشت ہوجاتے ہیں۔ مگر آپ ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں اور ان پر غم نہ کریں ان سے میں خود حساب کرلوں گا۔ ” فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ الخ “ آپ اپنا معاملہ خدا کے سپرد کردیں، دن رات شرک سے اس کی پاکیزگی بیان کرنے اور اس کی حمد و ثنا میں لگے رہیں، اسی کے سامنے جھکیں، ہر قسم کی عبادت (زبانی، بدنی اور مالی) اسی کے لیے بجا لائیں۔ حاجات و مشکلات میں اسی کو پکاریں رکوع و سجود بھی اسی کے سامنے کریں، نذریں منتیں بھی اسی کے نام کی اور اسی کی خوشنودی کے لیے دیں۔ ” حَتّٰی یَاتِیَکَ الْیَقِیْنُ “ الیقین سے موت مراد ہے یعنی آپ تادم آخریں اسی عقیدے اور عمل پر قائم رہیں۔ المراد منہ واعبد ربک فی زمان حیاتک ولا تخل لحظۃ من لحظات الحیاۃ عن ھذہ العبادۃ (کبیر ج 5 ص 420) ۔ ان آخری دو آیتوں میں مقصودی مسئلہ بالاختصار ذکر کردیا گیا ہے۔
سورة الحجر میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ” رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ “ (رکوع 1) ۔ خصوصیت سورت، وقائع امم سابقہ سے عبرت حاصل کر کے مسئلہ مان لو ورنہ پچھتاؤ گے۔
2 ۔ ” وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوْجًا “ تا ” مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ “ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم۔
3 ۔ ” اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ (رکوع 4) ۔ نفی علم غیب ابراہیم علیہ السلام۔
4 ۔ ” اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَا اِنَّھَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ “ (رکوع 4) ۔ نفی تصرف و اختیار از لوط علیہ السلام۔
5 ۔ ” قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ “ (رکوع 5) ۔ نفی علم غیب از لوط علیہ السلام۔
6 ۔ ” فَمَا اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ “ (رکوع 6) ۔ نفی اختیار و تصرف از معبودان باطلہ۔
7 ۔ ” وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اِلَّا بِالْحَقِّ “ (رکوع 6) ۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کاملہ پر شاہد ہے۔
8 ۔ ” فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ ۔ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاتِیَکَ الْیَقِیْنُ “ (رکوع 6) ۔ نفی استحقاق انواع عبادت از غیر اللہ، دعاء، سجدہ، نذر و منت تمام اقسام و انواع عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
9 ۔ اس سورت میں تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے گئے ہیں۔ تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔
10 ۔ آنحضرت ﷺ کو پانچ طریقوں سے تسلی دی گئی ہے۔
سورة الحجر ختم ہوئی