15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 15:41–42

قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ Open ayah 15:41 in the Quran reader

فرمایا یہ راہ ہے مجھ تک سیدھی17

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 15:42 in the Quran reader

جو میرے بندے ہیں تیرا ان پر کچھ زور نہیں مگر جو تیری راہ چلا بہکے ہوؤں میں

17:۔ ” ھٰذَا “ سے اخلاص کی طرف اشارہ ہے جو المخلصین بصیہ اسم فاعل کے ضمن میں مذکور ہے یعنی عبادت اور عمل میں اخلاص اور شرک و ریاکاری سے تبری ہی وہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچا سکتی ہے اور جو ابلیس اور اس کی ذریت کے اغواء واضلال سے میرے بندوں کو حفظ و اماں میں رکھ سکتی ہے۔ اس صورت میں علی بمعنی الی ہوگا وقال الحسن معنی علی الی (بحر ج 5 ص 454) قال الحسن معناہ ھذا صراط الی مستقیم (خازن ج 4 ص 67) والمعنی ان الاخلاص طریق ویؤدی الی کر امتی و رضوانی (ایضا) ۔ ہذا سے مضمون مذکور کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ میرا دستور ہے جس کی میں رعایت کروں گا کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کرسکے گا اور تجھے ان پر گلبہ نصیب نہیں ہوگا۔ یہ معنی پہلی قراءت یعنی المخلصین بصیگہ اسم مفعول کی صورت میں ہوں گے۔ والاشارۃ الی ما تضمنہ الاستثناء وھو تخلیص المخلصین من اغوائہ (ابو السعود ج 5 س 401) ۔
Ayahs 15:43–44

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ Open ayah 15:43 in the Quran reader

اور دوزخ پر18 وعدہ ہے ان سب کا

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ۠ Open ayah 15:44 in the Quran reader

اس کے ساتھ دروازے ہیں ہر دروازہ کے واسطے ان میں سے ایک فرقہ ہے بانٹا ہوا

18:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ابلیس، اس کی ذریت اور اولاد آدم میں سے جو ان کی پیروی کریں گے ان سب کا جہنم ہی ٹھکانا ہوگا۔ یعنی ابلیس و من اتبعہ (قرطبی ج 10 ص 30) ۔
Ayahs 15:45–48

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍؕ Open ayah 15:45 in the Quran reader

پرہیزگار ہیں باغوں میں اور چشموں میں19

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ Open ayah 15:46 in the Quran reader

کہیں گے ان کو جاؤ ان میں سلامتی سے خاطر جمع (بےکھٹکے) سے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 15:47 in the Quran reader

اور نکال ڈالی ہم نے جو ان کے جیوں میں تھی خفگی بھائی ہوگئے

لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ Open ayah 15:48 in the Quran reader

تختوں پر بیٹھے آمنے سامنے نہ پہنچے گی ان کو وہاں کچھ تکلیف اور نہ ان کو وہاں سے کوئی نکالے

19:۔ یہ شرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ ” اُدْخُلُوْھَا الخ “ اس سے پہلے ” یقال لھم “ محذوف ہے یعنی ان سے کہا جائے گا کہ جنات میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ ” وَ نَزَعْنَا الخ “ مومنین کے درمیان دنیا میں جو لڑائی جھگڑے ہوئے اور ان کی وجہ سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بغض اور ناراضی کے جو جذبات پیدا ہوگئے جنت میں ان کے دلوں کو ایسے تمام جذبات بغض و عداوت سے پاک و صاف کردیا جائے گا اور وہ بھائیوں کی طرح آمنے سامنے بیٹھ کر پیار اور محبت سے باتیں کریں گے۔ ” لَایَمَسُّھُمْ الخ “ دنیا مومن کے لیے محنت و مشقت اور امتحان و آزمائش کی جگہ ہے لیکن اس کیلئے جنت سراسر آرام و آسائش اور سراپا عیش و راحت کا مقام ہوگا اور وہاں کوئی تکلیف اس کے نزدیک بھی نہیں آئے گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی بھی نکالے نہیں جائیں گے۔
Ayahs 15:49–50

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 15:49 in the Quran reader

خبر سنادے میرے بندوں کو کہ میں ہوں اصل بخشنے والا مہربان20

وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ Open ayah 15:50 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ میرا عذاب وہی عذاب دردناک ہے

20:َ میرے بندوں کو خبردار کردو کہ وہ مایوس نہ ہوں کیونکہ میں معاف کنندہ اور مہربان ہوں لیکن انہیں یہ بھی بتا دو کہ وہ مایوس نہ ہوں اور مغفرت کے پیش نظر میری نافرمانیوں پر دلیر نہ ہوجائیں کیونکہ میں عذاب بھی دے سکتا ہوں اور میرا عذاب شدید ترین عذاب ہوگا۔
Ayahs 15:51–56

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 15:51 in the Quran reader

اور حال سنادے ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا21

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ Open ayah 15:52 in the Quran reader

جب چلے آئے اس کے گھر میں اور بولے سلام وہ بولا ہم کو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 15:53 in the Quran reader

بولے ڈر مت ہم تجھ کو خوشخبری سناتے ہیں ایک ہوشیار لڑکے کی

قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ Open ayah 15:54 in the Quran reader

بولا کیا خوشخبری سناتے ہو مجھ کو جب پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا اب کا ہے پر خوشخبری سناتے ہو

قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ Open ayah 15:55 in the Quran reader

بولے ہم نے تجھ کو خوشخبری سنائی سچی سو مت ہو تو ناامیدوں میں

قَالَ وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ Open ayah 15:56 in the Quran reader

بولا اور کون آس توڑے اپنے رب کی رحمت سے مگر جو گمراہ ہیں

21:۔ یہ ابتداء سورت کے ساتھ متعلق ہے۔ ابتداء سورت میں فرمایا مسئلہ مان لو ورنہ میرا عذاب آجائے گا اور معاندین امم سابقہ کی طرح پچھتاؤ گے اب یہاں سے تخویف دنیوی کے پانچ نمونے بیان کیے جا رہے ہیں تین امم سابقہ سے اور دو مشرکین مکہ سے۔ یہ نمونہ اول کی تمہید ہے۔ ” قَالَ اِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُوْنَ “ سے پہلے ادماج ہے یعنی فرشتوں نے آکر سلام کہا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً اٹھ کر اندر چلے گئے اور مہمانوں کے لیے بچھڑا ذبح کر کے اور تل کرلے آئے جب دیکھا کہ کھانے کے لیے وہ ہاتھ نہیں بڑھا رہے تو فرمایا ہم تو تم سے ڈر رہے ہیں الخ جیسا کہ مسلسل قصہ سورة اور ذاریات وگیرہ میں مذکور ہے۔ القصہ فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو فرزند کی خوشخبری دی تو اس پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ اس بڑھاپے میں فرزند ؟ ” قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ الخ “ فرشتوں نے کہا ہم آپ کو پختہ بات کی خوشخبری دے رہے ہیں اور ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔
Ayahs 15:57–66

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 15:57 in the Quran reader

بولا پھر کیا مہم ہے تمہاری22 اے اللہ کے بھیجے ہوؤ

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:58 in the Quran reader

بولے ہم بھیجے ہوئے آئے ہیں ایک قوم گناہگار پر

اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 15:59 in the Quran reader

مگر لوط کے گھر والے ہم ان کو بچالیں گے سب کو

اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ۠ Open ayah 15:60 in the Quran reader

مگر ایک اس کی عورت ہم نے ٹھہیرا لیا وہ ہے رہ جانے والوں میں

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلُوْنَۙ Open ayah 15:61 in the Quran reader

پھر جب پہنچے لوط کے گھر وہ بھیجے ہوئے

قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ Open ayah 15:62 in the Quran reader

بولا تم لوگ ہو اوپرے

قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 15:63 in the Quran reader

بولے نہیں پر ہم لے کر آئے ہیں تیرے پاس وہ چیز جس میں وہ جھگڑتے تھے

وَ اَتَیْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 15:64 in the Quran reader

اور ہم لائے ہیں تیرے پاس پکی بات اور ہم سچ کہتے ہیں

فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ وَّ امْضُوْا حَیْثُ تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 15:65 in the Quran reader

سو لے نکل اپنے گھر کو کچھ رات رہے سے اور تو چل ان کے پیچھے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے کوئی اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم ہے

وَ قَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 15:66 in the Quran reader

اور مقرر کردی ہم نے اس کو یہ بات کہ ان کی جڑ کٹے گی صبح ہوتے

22:۔ ” قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ “ تا ” اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ “ رکوع 5) ۔ یہ تخویف دنیوی کا پہلا نمونہ ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اپنی واقعی ترتیب کے ساتھ سورة ہود میں مذکور ہے یہاں قصہ کی مختلف کڑیوں میں تقدیم و تاخیر ہے ” فَلَمَّا جَاءَ اٰلَ لُوْطِ نِ الْمُرْسَلُوْنَ “ یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے حذف ہے ای ماجئنٰک لضرک۔ یعنی ہم تیرے پاس تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچانے نہیں آئے بلکہ ہم تیری سرکش قوم کے لیے وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس سے تم ان کو ڈراتے رہے ہو اور جس کی آمد میں وہ شک کرتے رہے ہیں۔” فَاَسْرِ بِاَھْلِکَ “ لہذا تم اپنے اہل و عیال اور مؤمنین کو لے کر راتوں رات شہر سے باہر چلے جاؤ کیونکہ صبح ہوتے ہی اس سرکش قوم کو ہلاک کردیا جائے گا۔ فرشتوں کا یہ جواب اور یہ کلام ترتیب قصہ میں متاخر ہے کیونکہ فرشتوں نے اس بات کا اظہار قوم کی شرارت کے بعد کیا تھا ” وَ قَضَیْنَا اِلَیْهِ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔
Ayahs 15:67–71

وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 15:67 in the Quran reader

اور آئے شہر کے لوگ خوشیاں کرتے23

قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِۙ Open ayah 15:68 in the Quran reader

لوط نے کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھ کو رسوا مت کرو

وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ Open ayah 15:69 in the Quran reader

اور ڈرو اللہ سے اور میری آبرو مت کھوؤ

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 15:70 in the Quran reader

بولے کیا ہم نے تجھ کو منع نہیں کیا جہان کی حمایت سے

قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِیْۤ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَؕ Open ayah 15:71 in the Quran reader

بولا یہ حاضر ہیں میری بیٹیاں اگر تم کو کرنا ہے

23:۔ واؤ مطلق جمع کے لیے ہے یہاں سے ” یَعْمَھُوْنَ “ تک ترتیب واقعہ میں ” قَالُوْا بَلْ جِئْنٰکَ الخ “ سے پہلے ہے۔ ” اَ وَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ “ جب فرشتوں کو خوبصورت نوجوانوں کی شکلوں میں دیکھ کر قوم کے بدمعاش لوگ بری نیت سے ان کی طرف بڑھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا خدا سے ڈرو اور شرم کرو، یہ میرے مہمان ہیں اور مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کر رکھا کہ تم لوگوں کو پناہ دے کر ہم سے بچانے کی کوشش نہ کیا کرو۔ لہذا ان کی حمایت مت کرو اور ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ۔ ای عن اجازۃ احد منھم و حیلولتک بیننا وبینھم الخ (روح ج 14 ص 72) ۔
Ayah 15:72

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 15:72 in the Quran reader

قسم ہے تیری جان کی24 وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں

24:۔ یہ ادخال الٰہی ہے۔ جملہ قسمیہ ہے ” لَعَمْرُکَ “ مبتدا ہے اور قسمی اس کی خبر وجوبًا محذوف ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ کی زندگانی کی قسم کھائی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے زیادہ مکرم و محترم کوئی شخصیت پیدا نہیں فرمائی اورحضور ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ ماخلق اللہ تعالیٰ و ما ذرا و ما برا نفساً اکرم علیہ من محمد ﷺ وما سمعت اللہ سبحانہ اقسم بحیاۃ احد غیرہ (روح) میرے پیغمبر مجھے تیری زندگانی کی قسم وہ اپنی گمراہی میں مست اور سرگرداں تھے یا یہ فرشتوں کا قول ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے خطاب ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا مقسم بہ یعنی جس چیز کی قسم کھائی جائے اس کے اعتبار سے قسم کی چار قسمیں ہیں۔ (1) یہ کہ مقسم بہ کو عالم الغیب اور قادر و متصرف سمجھ کر اس کی قسم کھائے اور یہ عقیدہ ہو کہ وہ میرے حال سے واقف ہے اگر میں نے اس قسم کو توڑا تو وہ مجھے ضرر اور نقصان پہنچانے پر قادر ہے غیر خدا کی اس نیت سے قسم کھانا شرک ہے۔حضور ﷺ نے غیر اللہ کی اسی نوع کی قسم کو شرک قرار دیا ہے۔ من حلف بغیر اللہ فقد اشرک۔ (2) وہ قسم جس میں مقسم بہ کو بطور دلیل و شاہد پیش کرنا مقصود ہو قرا ان مجید کی اکثر و بیشتر قسمیں اسی نوع کی ہیں مثلاً ” وَ الْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ “ مندرجہ ذیل مصرع میں بھی اسی نوع کی قسم ہے۔ ع۔ قسم بلب مے گون تو وزلف شبگونِ تو کہ تو محبوب دلربائی۔ یہ قسم غیر اللہ کی جائز ہے۔ (2) یہ کہ مثلاً یوں کہے کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فلاں نعمت چھین لے۔ جیسا کہ حضرت حسان بن ثابت ؓ نے مشرکین کے مقابلے میں فرمایا تھا۔ ثکلت بنیتی ان لم تروھا۔ تثیر النقع من طرفی کداء۔ (ترجمہ میری بیٹی مرے اگر تم ان (ہمارے گھوڑوں کو کداء پہاڑ کی جانب سے گرد اڑاتے ہوئے (مکہ کو فتح کرنے کے لیے مکہ پر حملہ آور ہوتے ہوئے) نہ دیکھو) ۔ چناچہ فتح مکہ کے دنحضور ﷺ نے فرمایا فوج اسلام کداء پہاڑ کی جانب سے مکہ میں داخل ہو تاکہ حسان کی قسم پوری ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ نے ثکلت بنیتی کو قسم کقرار دیا ہے۔ (4) یہ کہ قسم سے دعاء مقصود ہو مثلاً کوئی شخص اپنے محبوب کو اعتماد میں لینے کے لیے یوں کہنے کے بجائے کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے تجھ ایسا دلربا محبوب چھین لے، اس طرح قسم کھائے کہ مجھے تیری زندگانی کی قسم میں سچ کہہ رہا ہوں یعنی خدا کرے تو زندہ رہے اور تیری زندگانی مجھے بہت محبوب ہے۔ ” لَعَمْرُکَ “ اسی نوع کی قسم ہے۔
Ayahs 15:73–77

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِیْنَۙ Open ayah 15:73 in the Quran reader

پھر آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت25

فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ Open ayah 15:74 in the Quran reader

پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے اور برسائے ان پر پتھر کھنکر (کنکر) کے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیْنَ Open ayah 15:75 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو

وَ اِنَّهَا لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 15:76 in the Quran reader

اور وہ بستی واقع ہے سیدھی راہ پر

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 15:77 in the Quran reader

البتہ اس میں نشانی ہے ایمان والوں کو

25:۔ ترتیب قصہ میں یہ ” مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ “ کے بعد ہے۔ ” مُشْرِقِیْنَ “ یہ ” اَخَذْتُھُمْ “ میں ضمیر مفعول سے حال ہے یعنی عذاب نے ان کو سورج چمکنے تک اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عذاب کی ابتداء صبح صادق سے ہوئی اور سورج چمکنے تک ان کا کام تمام کردیا گیا۔ قیل اول العذاب کان عند الصبح وامتد الی شروق الشمس فکان تمام الہلاک عند ذلک (قرطبی ج 10 ص 42) ۔ ” اَلْمُتَوَسِّمِیْنَ اي الْمُتَفَکِّرِیْنَ “ یعنی دھیان دینے اور غور و فکر کرنے والے اصل میں اس کے معنی ہیں الناظرین الی سمۃ الشیء۔ یہاں سوچ بچار سے کنایہ ہے۔ ” سَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ “ شاہراہ عام جرنیلی سڑک، قائم اور ثابت راستہ جو ابھی تک موجود ہے اور لوگ اس پر آمد و رفت رکھتے اور قوم لوط کی ہلاکت کے آثار دیکھتے ہیں۔ (” لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ “ ) ثابت یسل کہ الناس لم یندرس بعدوھم یبصرون تلک الاثار وھو تنبیہ لقریش الخ (مدارک ج 2 ص 213) ۔ اہل مکہ ! دیکھ لو قوم لوط نے ہمارا پیغام نہ مانا تو ہم نے ان کا کیا حشر کیا تم ان کی بستی کے پاس سے گذرتے ہوئے ان کی تباہی کے آثار اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو اور عناد و الحاد سے باز آجاؤ۔
Ayahs 15:78–79

وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ لَظٰلِمِیْنَۙ Open ayah 15:78 in the Quran reader

اور تحقیق تھے بن کے رہنے والے26 گناہ گار

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ١ۘ وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیْنٍؕ۠ Open ayah 15:79 in the Quran reader

سو ہم نے بدلہ لیا ان سے اور یہ دونوں بستیاں واقع ہیں کھلے راستہ پر

26:۔ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ ” اَصْحٰبُ الْاَیْکَةِ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔ ” اَلْاَیکَةَ “ درختوں کے جھرمٹ کو کہتے ہیں یہ درختوں کے جھرمٹوں میں آباد تھے اس لیے اس نام سے موسوم کیے گئے اصحاب الایکة ھم قوم شعیب (علیہ السلام) (کبیر ج 5 ص 412) ان لوگوں نے بھی پیغام توحید کی تکذیب کی اور ہلاک کردئیے گئے یہ دونوں آبادیاں (یعنی قوم لوط اور قوم شیعب کی) شاہراہ اعظم پر واقع ہیں تم اپنے سفروں میں ان کے پاس سے گذرتے ہو پھر عبرت کیوں نہیں پکڑتے۔