14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsجواھر القرآن

Ayah 14:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

ال رٰ ۔ یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے اتاری تیری طرف کہ تو نکالے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف2 ان کے رب کے حکم سے راستہ پر اس زبردست خوبیوں والے

2:۔ یہ تمہید مع ترغیب ہے اس میں قرآن کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ قرآن ہم نے آپ پر اس لیے نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کو شرک و ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ہدایت کی روشنی سے ہمکنار کریں۔ ” لِتُخْرِجَ النَّاسَ “ کے بعد ” ببیان الوقائع “ مقدر ہوگا۔ یعنی دلائل بیان ہوچکے، تنبیہات کا ذکر ہوچکا اور شبہات کا ازالہ بھی ہوچکا اب آپ ان کے سامنے وقائع بیان کریں تاکہ اس طرح ہی وہ ظلمات سے نور کی طرف آجائیں۔ کیونکہ اس کے بعد اسی رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّامِ اللہِ “ یعنی اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالو اور ان کو وقائع امم ماضیہ یاد دلاؤ تاکہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں۔ اس لیے اس قرینے سے یہ ان ” ببیان الوقائع “ یا ” بتذکیر ایام اللہ “ مقدر ہوگا۔ ” بِاِذْنِہٖ “ یعنی اللہ کی توفیق اور اس کی مہربانی سے ” ای بتوفیقہ ایاھم و لطفہ بھم “ (قرطبی ج 9 ص 338) ۔ ” اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ “ یہ ” النور “ سے باعادہ جار بدل ہے۔
Ayah 14:2

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

اللہ کے جس کا ہے3 جو کچھ کہ موجود ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور مصیبت ہے کافروں کو ایک سخت عذاب4 سے

3:۔ قراءت رفع پر یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے ” ای ھُوَ اللہُ الَّذِیْ الخ “ اور قراءت جر پر ” اَلْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ “ کے لیے عطف بیان ہے (مدارک) اور یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ وقائع امم سابقہ بیان کر کے آپ اس غالب اور تمام صفات کمال کے مالک اللہ کے سیدے راستے کی طرف لوگوں کو دعوت دیں جو ساری کائناتِ ارضی وسماوی کا مالک اور اس میں مختار و متصرف ہے۔
Ayah 14:3

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

جو کہ پسند رکھتے ہیں زندگی دنیا کی آخرت سے اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی وہ راستہ بھول کر جا پڑے ہیں دورف 4

4:۔ یہ ان منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے جو امم سابقہ کے انجام بد سے عبرت حاصل نہیں کرتے اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے ہیں اور دین اسلام اور مسئلہ توحید میں طرح طرح کے شبہات نکال کر لوگوں کو اس سے بد راہ کرتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرنے والے مولوی اور پیر بھی اس وعید شدید میں داخل ہیں۔ جو اپنی خواہشات فاسدہ اور اغراض خبیثہ کی خاطر شریعت کے احکام کی من مانی تعبیریں کرتے ہیں۔ علامہ قرطبی نے اس آیت کے تحت آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث نقل کی ہے ” ان اخوف ما اخاف علی امتی الائمۃ المضلین “ یعنی مجھے اپنی امت کے لیے سب سے بڑا خطرہ گمراہ کرنے والے پیشواؤں کا ہے۔ اور ” یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ” ای یطلبون لھا زیغا و میلا لموا فقۃ اھوائہم و قضاء حاجاتہم و اغراضہم “ (قرطبی ج 9 ص 340) ۔
Ayah 14:4

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے پھر راستہ بھلاتا ہے اللہ جس کو چاہے اور راستہ دکھلاتا ہے جس کو چاہے اور وہ ہے زبردست حکمتوں والاف 5

5:۔ یہ ابتداء سورت یعنی ” کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ “ سے متعلق ہے یعنی آپ سے پہلے بھی ہم قوموں میں ان کے ہم زبان رسول بھیجتے رہے تاکہ وہ مسئلہ توحید خوب واضح کر کے ان کو سمجھا سکیں اور ان سے پہلی سرکش قوموں کی تباہی کا حال ان کو سنائی تاکہ وہ اس نصیحت کو سیکھیں۔ ” فَیضِلُّ اللہُ الخ “ اللہ کے پیغمبر بیان کرتے ہیں لیکن ہدایت صرف وہی لوگ پاتے ہیں جن کے دلوں میں انابت ہو ضدی اور معاند لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 14:5

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور بھیجا تھا ہم نے6 موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے کی طرف اور یاد دلا ان کو دن اللہ کے البتہ اس میں نشانیاں ہیں اس کو جو صبر کرنے والا ہے شکر گزار

6:۔ یہ تخصیص بعد تعمیم ہے اور یہ بھی ابتداء سورت ہی سے متعلق ہے یعنی دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو وقائع امم ماضیہ اور اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے اور کہا اگر تم شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ دے گا۔ اور اگر ناشکری کرو گے تو عذاب دے گا۔ اسی طرح آپ بھی اپنی قوم کو وقائع امم ماضیہ یاد دلا کر ڈرائیں۔
Ayahs 14:6–8

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو7 یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب چھڑا دیا تم کو فرعون کی قوم سے وہ پہنچاتے تھے تم کو برا عذاب اور ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تمہاری عورتوں کو اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی طرف سے بڑی

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب سنا دیا تمہارے رب نے اگر احسان مانو گے تو اور بھی دوں گا تم کو اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب البتہ سخت ہے

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے اگر کفر کرو گے تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے تو اللہ بےپروا ہے سب خوبیوں والا

7:۔ یہ اصل میں تھا واذکر بیان موسیٰ اذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ الخ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے وقائع بیان کیے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے آپ بھی اسی طرح بیان فرمائی۔ ” وَ اِذْ تَاَذَّنَ “ یہ ” نِعْمَۃَ اللہِ الخ “ پر معطوف ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ ” وَ قَالَ مُوْسیٰ “ یہ سب وقائع ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یاد دلائے۔
Ayah 14:9

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جو پہلے تھے تم سے8 قوم نوح کی اور عاد اور ثمود اور جو ان سے پیچھے ہوئے کسی کو ان کی خبر نہیں مگر اللہ کو7 آئے ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر پھر لوٹائے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں9 اور بولے ہم نہیں مانتے جو تم کو دے کر بھیجا10 اور ہم کو تو شبہ ہے اس راہ میں جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو خلجان میں ڈالنے والا

8:۔ یہ واقعہ اولیٰ ہے جو تخویف دنیوی پر مشتمل ہے یہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کے واقعات ہیں۔ ان کے پاس اللہ کے پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے مگر ان قوموں نے ان کا انکار کیا، پیغام توحید کو ٹھکرایا پیغمبروں پر بےجا اعتراضات کیے اور انہیں مختلف قسم کے طعنوں سے مطعون کیا۔ آخر یہ قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تباہ و برباد کردی گئیں۔ اقوام ماضیہ کے واقعات بیان کرنے سے مقصد موجودہ مشرکین کو عبرت دلانا ہے تاکہ وہ مومن و کافر کے دنیوی اناجم سے عبرت حاصل کر کے راہ راست پر آجائیں۔ ” و المقصود منہ انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) یذکرھم بامر القرون الماضیۃ والامم الخالیۃ والمقصود منہ حصول العبرۃ باحوال من تقدم وھلاکھم “ (خازن ج 4 ص 34) 9:۔ ” رَدُّوْا “ کی ضمیر مرفوع اور اس کے بعد دونوں مجرور ضمیریں کفار کی طرف عائد ہیں یعنی جب رسل (علیہم السلام) نے واضح دلائل وبراہین کے ساتھ مسئلہ توحید ان کے سامنے پیش کیا تو یہ مسئلہ چونکہ ان کے آبائی دین کے خلاف تھا اس لیے ان کی طبائع نے اسے قبول نہ کیا اور وہ غصے سے آگ بگولا ہوگئے اور شدت غیظ سے اپنی انگلیاں کاٹنے لگے۔ یہ حضرت ابن مسعود سے منقول ہے۔ ” عن ابی الاحوص عن عبداللہ فی قولہ تعالیٰ فَرَدُّوْا اَیْدِیَھُمْ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ قال عضو علیھا غیظا “ (قرطبی ج 9 ص 345) ۔ یا رَدُّوْا کا فاعل کفار ہیں اور اَیْدِیَھُمْ کی ضمیر مجرور بھی کفار کے لیے ہے لیکن اَفْوَاھِھِمْ کی ضمیر مجرور رسل کے لیے ہے یعنی کفار اپنے ہاتھ رسل (علیہم السلام) کے مونہوں پر رکھ دیتے تاکہ وہ توحید بیان نہ کریں۔ ” انہم وضعوا ایدیھم علی افواہ الرسل (علیہ السلام) منعا لھم من الکلام “ (روح ج 13 ص 193) ۔ 10:۔ مَا سے مسئلہ توحید مراد ہے یعنی جس مسئلہ توحید کے لیے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اس کی تبلیغ کے لیے اللہ نے تمہیں بھیجا ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ ” مِمَّا تَدْعُوْنَنَا “ یہاں بھی مَا سے مسئلہ توحید مراد ہے ” من الایمان باللہ والتوحید “ (مدارک ج 2 ص 197) ۔
Ayah 14:10

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

بولے ان کے رسول11 کیا اللہ میں شبہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین وہ تم کو بلاتا ہے تاکہ بخشے تم کو12 کچھ گناہ تمہارے اور ڈھیل دے تم کو ایک وعدہ تک جو ٹھہر چکا ہے کہنے لگے تم تو13 یہی آدمی ہو ہم جیسے تم چاہتے ہو کہ روک دو ہم کو ان چیزوں سے جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے، سو لاؤ کوئی سند کھلی ہوئی

11:۔ یہ پیغمبروں کا جواب ہے اور استفہام انکاری ہے، ” فِیْ اللہِ “ یعنی اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق ہے اس کی توحید میں تو شک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں کیونکہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ کائنات کا ذر ذرہ اس پر شاہد ہے ” استفہام معناہ الانکار ای لاشک فی اللہ ای فی توحیدہ قالہ قتادۃ “ (قرطبی ج 9 ص 346) ۔ 12:۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی شان رحمت دیکھو کہ وہ ہمارے ذریعے تم کو سچے دین کی دعوت دیتا ہے تاکہ تم اسے قبول کرلو اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ ” ثم انہ بعد ان اشیر الی ادلیل الدال علی تحقق ما ھم فی شک منہ نبہ علی عظم کرمہ ورحمتہ تعالیٰ فقیل یدعوکم الخ “ (روح ج 13 ص 195) ۔ 13:۔ مشرکین نے محض عناد و مکابرہ کے طور پر انبیاء (علیہم السلام) کو یہ طعن دیا کہ تم تو ہم جیسے بشر ہو تم میں کونسی فضیلت تھی کہ تمہیں نبوت مل گئی تم نے یہ ہمیں اپنے باپ دادا کے معبودوں کی عبادت سے روکنے کا محض ایک بہانہ تراش لیا ہے کہ اللہ نے تم کو نبوت دی ہے۔ اور اگر واقعی تم اللہ کے پیغمبر ہو اور واقعی اللہ نے تمہیں ان معبودوں کی عبادت سے روکنے کے لیے بھیجا ہے تو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے ہم جو بھی معجزہ طلب کریں ہمیں دکھا دو ۔ مشرکین کا یہ مطالبہ سراسر عناد اور ضد کی وجہ سے تھا کیونکہ جو بھی پیغمبر اللہ نے بھیجا ہے اس کو زمانہ حال کے مطابق معزے بھی دئیے ہیں مگر منکرین ان معجزوں کو دیکھ کر ایمان نہ لائے اور مزید معجزے لانے کا محض عنادًا مطالبہ کردیا ” و ھٰذَ الطلب کان بعد اتیانھم (علیہم السلام) لھم من الایات الظاھرۃ والبینات الباھرۃ ما تخر لہ الجبال الصم، اقدمھم علیہ العناد و المکابرۃ “ (روح ج 13 ص 198) ۔” عَمَّا “ میں ما موصولہ سے معبودانِ باطلہ مراد ہیں۔
Ayah 14:11

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

ان کو کہا14 ان کے رسولوں نے ہم تو یہی آدمی ہیں جیسے تم لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں جس پر چاہے اور ہمارا کام نہیں کہ لے آئیں تمہارے پاس سند مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ پر بھروسہ چاہیے ایمان والوں کو

14:۔ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے مذکورہ بالا طعن کے جواب میں فرمایا اس میں شک نہیں کہ ہم بشر ہیں اور بشریت اور لوازم بشریت میں تمہاری مانند ہیں مگر بشریت رسالت و نبوت کے منافی نہیں ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس بشر کو چاہے رسالت و نبوت کے شرف سے سرفراز فرما دے۔ رسالت و نبوت محض ایک وہبی عطیہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرما دیا ہے۔ باقی رہا معجزہ دکھانے کا مطالبہ تو یہ ہم پورا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ معجزہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر ہم کوئی معجزہ نہیں لاسکتے۔ ” والمعنی انا الاتیان بالایۃ التی قد اقترحوھا لیس الینا ولا فی استطاعتنا وانما ھو امر یتعلق بمشیئۃ اللہ تعالیٰ “ (مدارک ج 2 ص 168) ۔
Ayah 14:12

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور ہم کو کیا ہوا کہ بھروسہ نہ کریں اللہ پر15 اور وہ سمجھا چکا ہم کو ہماری راہیں اور ہم صبر کریں گے ایذاء پر جو تم ہم کو دیتے ہو اور اللہ پر بھروسہ چاہیے بھروسے والوں کو

15:۔ اللہ کے پیغمبروں نے منکرین کے جواب میں مزید فرمایا کہ تمہاری عداوت و ضد کے مقابلہ میں ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہم اللہ پر کیوں بھروسہ نہ کریں اور اس کے سوا اوروں کو کیوں پکاریں حالانکہ اسی نے ہم سب کو ہدایت کی توفیق دی اور صراط مستقیم (توحید) کی طرف ہماری اہنمائی فرمائی۔ اور ضد وعناد سے بےجا معجزات طلب کر کے تم ہمیں جو ایذا دے رہے ہو اس پر ہم اللہ کی توفیق سے صبر کریں گے۔ اور تمہارے ان ہتھکنڈوں سے ہمارے پائے ثبات میں تزلزل نہیں آئے گا اور ہم توحید کی تبلیغ و اشاعت کا کام ہرگز ترک نہیں کریں گے ” وَ عَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ “ دنیا میں بھروسہ اور اعتماد توکل کی لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اس لیے سب کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے اور حاجات و مشکلات میں صرف اسی ہی کو پکارنا چاہئے۔ ” وَ مَا لَنَا اَنْ لَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللہِ “ یہ توحید کا خلاصہ ہے اور اسم اعظم ہے۔
Ayah 14:13

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کہا16 کافروں نے اپنے رسولوں کو ہم نکال دیں گے تم کو اپنی زمین سے یا لوٹ آؤ ہمارے دین میں تب حکم بھیجا ان کو ان کے رب نے17 ہم غارت کریں گے ان ظالموں کو

16:۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں کے سامنے دعوت توحید پیش کی مگر انہوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور اسے نہ مانا اور الٹے معاندانہ سوالات کرنے لگے جب ان کے سوالات کے معقول اور متین جوابات دے دئیے گئے تو لاجواب ہو کر اور اپنی خفت مٹانے کے لیے تشدد پر اتر آئے جیسا کہ باطل پرست دنیا داروں کا دستور ہے کہ وہ ہر جائز و ناجائز حربے سے حق کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ متمردینِ کفار نے انبیاء (علیہم السلام) کو دھمکی دی اور کہا تم ہمارے دین میں آجاؤ اور ہماری طرح تم بھی ہمارے معبودوں کی عبادت کیا کرو اور انہیں حاجات میں پکارا کرو اور ہماری ہاں میں ہاں ملا لو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہم تمہیں اپنے گاؤں سے نکال دیں گے اور تمہیں شہر بدر کردیں گے۔ 17:۔ تو اللہ تعالیٰ نے رسل (علیہم السلام) کی طرف وحی کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ فکر مت کرو میں ان ظالموں کو ضرور ہلاک کروں گا جو تمہیں ہر طریقہ سے ایذائیں دیتے اور کی زمینوں کا تم کو مالک بناؤں گا۔ کیونکہ ہمارا دستور ہی یہ ہے کہ ہم انبیاء (علیہم السلام) کو بھیج کر لوگوں پر اپنی حجت تام کرتے ہیں جب لوگ توحید کو نہ ماننے پر اڑ جائیں اور ہمارے پیغمبروں کو ایذا پہنچانا بند نہ کریں تو ہم ان کو عذاب سے نیست و نابود کردیتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ” وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا “ (بنی اسرائیل رکوع 2) ۔
Ayah 14:14

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور آباد کریں گے تم کو اس زمین میں ان کے پیچھے یہ ملتا ہے اس کو جو ڈرتا ہے کھڑے ہونے سے میرے سامنے اور ڈرتا ہے میرے عذاب کے وعدہ سے18

18:۔ ظالموں کو ہلاک کر کے ان کی جگہوں میں ان لوگوں کو آباد کیا جائے گا جو قیامت کے حساب اور عذاب سے ڈر کر مسئلہ توحید کو مان لیں گے۔
Ayah 14:15

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور فیصلہ لگے مانگنے پیغمبر اور نامراد ہوا ہر ایک سرکش19 ضدی

19:۔ اس کا فاعل رسل (علیہم السلام) ہیں یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے ” رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ “ یا اس کا فاعل مشرکین ہیں۔ مشرکین نے بھی اپنے دین کو حق سمجھ کر پیغمبروں سے کہا تھ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ تاکہ ہمارے تمہارے درمیان آخری فیصلہ ہوجائے یا انہوں نے اللہ تعالیی سے دعا مانگی ہو کہ اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہمیں ہلاک کردے۔ ” قال الرسول انھم کذبونی فافتح بینی و بینھم فتحًا وقالت الامم ان کان ھؤلاء صادقین فعذبنا وعن ابن عباس ایضا نظیرہ ائتنا بِعَذَابِ اللہِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ “ (قرطبی ج 9 ص 349) ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو ہر معاند و سرکش نہایت ذلیل ہوا اور ماننے والے ذلت ورسوائی سے محفوظ رہے۔
Ayahs 14:16–17

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

پیچھے اس کے20 دوزخ ہے اور پلائیں گے اس کو پانی پیپ کا

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

گھونٹ گھونٹ پیتا ہے اس کو اور گلے سے نہیں اتار سکتا اور چلی آتی ہے اس پر موت ہر طرف سے اور وہ نہیں مرتا اور اس کے پیچھے عذاب ہے سخت

20:۔ یہ وقائع اخرویہ میں سے ہے یعنی دنیا میں ہلاکت اور ذلت و رسوائی کے علاوہ آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے جہاں انہیں نہایت ہی غلیظ اور متعفن پانی پینے کو دیا جائے جسے گلے سے نیچے اتارنا بھی مشکل ہوگا۔ ” وَ یَاتِیْہِ الْمَوْتُ “ موت سے اسباب موت یعنی گوناگوں عذاب مراد ہیں یعنی جہنم میں ہر طرف سے عذاب ہی عذاب ہوگا اور ہر عذاب ایسا شدید اور المناک ہوگا کہ انسان کی موت واقع ہوجائے مگر کفار جہنم میں اس عذاب سے مریں گے نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہیں گے تاکہ ہمیشہ عذاب الیم کا مزہ چکھتے رہیں۔ ” ای اسباب الموت من کل جہۃ وھذا تفظیع لما یصیبہ من الالام ای لوکان ثمۃ الموت لکان کل واحد منھا مھلکا “ (مدارک ج 2 ص 198) ۔
Ayah 14:18

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

حال ان لوگوں کا21 جو منکر ہوئے اپنے رب سے ان کے عمل ہیں جیسے وہ راکھ کہ زور کی چلے اس پر ہوا آندھی کے دن کچھ ان کے ہاتھ میں نہ ہوگا اپنی کمائی میں سے یہی ہے بہک کر دور جاپڑنا

21:۔ یہ مشرکین کے نیک اعمال کی مثال ہے ان کی نیکیاں رائیگاں اور محض باطل ہیں آخرت میں کچھ بھی کام نہ آئیں گی کیونکہ شرک تمام اعمال کو باطل کردیتا ہے۔ جیسا کہ راکھ پڑی ہو اور اوپر سے ہوا کا تیز و تند طوفان آجائے تو وہ تمام راکھ کو اڑا لے جائیگا اور کچھ بھی باقی نہیں چھوڑے گا۔ طوفان شرک کے سامنے مشرکین کے اعمال صالحہ کا یہی حال ہے۔ ” اراد بالاعمال الاعمال التی عملوھا فی الدنیا واشرکوا فیھا غیر اللہ فانھا لا تنفعھم لانھا صارت کالرماد الذی ذرتہ الریح و صار ھباء لا ینتفع بہ الخ “ (خازن ج 4 ص 38) ۔
Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

تو نے کیا نہیں دیکھا کہ اللہ نے بنائے آسمان اور زمین22 جیسی چاہیے23 اگر چاہے تم کو لے جائے اور لائے کوئی پیدائش نئی

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں

22:۔ دوسری عقلی دلیل برائے توحید۔ ” بِالْحَقِّ “ میں باء بمعنی لام ہے اور مجرور مضاف محذوف ہے اور حق سے توحید مراد ہے۔ ” ای لاظہار الحق “ یا باء اپنے اصل پر ہے اور ملابست کے لیے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو ایسی حکمت بالغہ سے پیدا فرمایا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید پر کھلی دلیل اور واضح برہان کا کام دے رہی ہے۔ 23:۔ تیسری بار وقائع کا ذکر۔ یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں ہلاک کردے اور تمہاری جگہ اور مخلوق پیدا کرلے اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام کام یکساں ہیں اس کی قدرت لا محدود کے سامنے آسان اور مشکل کی کوئی تقسیم نہیں یعنی ” ان الاشیاء تسھل فی القدرۃ لا یصعب علی اللہ شیء وان جل و عظم “ (معالم ج 4 ص 38) ۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور سامنے کھڑے ہوں گے اللہ کے سارے پھر کہیں گے کمزور24 بڑائی والوں کو ہم تو تمہارے تابع تھے سو بچاؤ گے ہم کو اللہ کے کسی عذاب سے کچھ وہ کہیں گے اگر ہدایت کرتا ہم کو اللہ تو البتہ ہم تم کو ہدایت کرتے اب برابر ہے ہمارے حق میں ہم بےقراری کریں یا صبر کریں ہم کو نہیں خلاصی

24:۔ وقائع کا چوتھی بار ذکر۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ اس میں قیامت کا ایک ہولناک منظر پیش کیا گیا ہے۔ میدانِ حشر میں جب مشرک راہنما اور ان کے پیرو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور سب کو اپنا انجام سامنے نظر آرہا ہوگا کہ ابھی جہنم کے المناک عذاب میں داخل کیے جائیں گے اس وقت کمزور لوگ یعنی وہ عوام جو دنیا میں مشرک پیشواؤں کے بہکانے سے اور اہل اقتدار مشرکوں کے ڈر سے شرک میں مبتلا رہے میدانِ حشر میں وہ اپنے پیشواؤں اور لیڈروں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے پیچھے چل کر گمراہ ہوئے اور تم نے ہمیں کئی سبز باغ دکھا کر شرک کی راہ پر ڈالا اور اللہ کے پیغمبروں کو ماننے اور ان کی تبلیغ سننے سے روکا تو کیا آج تم ہمارے کسی کام آسکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کا کچھ ہی عذاب ہم سے روک سکتے ہو ؟ ” قَالُوْا لَوْ ھَدٰنَا اللہُ الخ “ مشرک رؤسا اور پیشوا جواب دیں گے کہ ہم تو خود گمراہ تھے اس لیے تمہیں بھی غلط راستے پر ڈال دیا اگر اللہ تعالیٰ دنیا میں ہمیں ایمان و توحید قبول کرنے کی توفیق دیدیتا تو ہم تمہیں بھی راہ راست پر چلنے کی تلقین کرتے اس لیے ہمارے اور تمہارے لیے سوائے صبر کرنے کے کچھ نہیں عذاب الٰہی پر گھبراہٹ اور بےصبری ظاہر کریں یا صبر کے ساتھ اسے برداشت کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، بہر حال عذاب سے ہمیں چھٹکارا نہیں۔ ” اَلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا “ مذہبی پیشوا اور قومی راہنما جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی باتیں سننے اور اللہ کی توحید کو ماننے سے استکابر کیا اور غرور وتکبر کے ساتھ حق سے اعراض کیا اور اپنے ماتحتوں اور زیر دستوں کو ایمان و توحید سے روکا۔ ” استخبروا عن عبادۃ اللہ وحدہ لا شریک لہ و عن موافقۃ الرسل “ (ابن کثیر ج 2 ص 528) ” و ھم السادۃ والرؤساء الذین استغو وھم و صدوھم عن الاستماع الی الانبیاء (علیہم السلام) و اتباعہم “ (مدارک ج 9 ص 199) ۔ حاصل یہ کہ دنیا میں جن برے لوگوں کو اپنا راہنما بنایا آخرت میں ان کی پیروی کسی کام نہ آئی۔
Ayah 14:22

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور بولا شیطان25 جب فیصل ہوچکا سب کام بیشک اللہ نے تم کو دیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر جھوٹا کیا اور میری تم پر کچھ حکومت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے بلایا تم کو پھر تم نے مان لیا میری بات کو سو الزام دو اپنے آپ کو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچوں نہ تم میری فریاد کو پہنچو میں منکر ہوں جو تم نے مجھ کو شریک بنایا تھا اس سے پہلے البتہ جو ظالم ہی ان کے لیے ہے عذاب دردناک

25:۔ کفار و مشرکین جب جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے تو سب ابلیس پر لعن طعن کرنے لگیں گے۔ اس وقت ابلیس سب کو جواب دے گا۔ دیکھوں اللہ تعالیٰ نے تم سب سے ایک سچا وعدہ فرمایا تھا کہ اگر تم میرے پیغمبروں کی پیروی کروگے اور میری توحید کو مانو گے تو میں تمہیں آخرت میں لازوال نعمتوں سے سرفراز کروں گا اور ایک جھوٹا سا وعدہ میں نے بھی تم سے کیا تھا کہ زندگی بس یہی ہے اس کے بعد کوئی زندگی اور حساب کتاب نہیں اور اگر ہوا بھی تو یہ تمہارے معبودانِ باطلہ سفارش کر کے تمہیں چھڑا لیں گے (روح) مگر تم نے اللہ کے سچے وعدے پر اعتماد نہ کیا اور میری جھوٹ بات مان لی حالانکہ میں نے تم پر کوئی جبر و تشدد بھی نہیں کیا تھا اور اپنی جھوٹی بات پر میرے پاس کوئی دلیل وحجت بھی نہ تھی بس ایک زبانی بات تھی جسے تم نے جھٹ سے مان لیا اس لیے اب مجھے لعن طعن نہ کرو اور نہ مجھ پر الزام دھرو بلکہ اپنی جانوں کو مجرم ٹھہراؤ اور اپنے کو ملامت کرو کہ تم نے سوچے سمجھے بغیر میری باتوں کو کیوں مان لیا۔ آج نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم ہی مجھے اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہو۔ ” اِنِّ کَفَرْتُ الخ “ طرف ” اَشْرَکْتُمُوْنِ “ کے متعلق ہے (روح و مدارک) یعنی دنیا میں جو تم مجھے اعمال و افعال میں اللہ کا شریک بناتے رہے ہو اور میرے اغواء واضلال سے شرک کرتے رہے ہو آج مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں میں اس سے بری ہوں ” و معنی کفرہ باشراکھم تبرؤوہ منہ واستنکارہ لہ “ (مدارک ج 2 ص 200) ۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور داخل کیے گئے جو لوگ ایمان لائے تھے اور کام کیے تھے نیک26 باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اپنے رب کے حکم سے ان کی ملاقات ہے وہاں سلام

26:۔ یہ ایمان والوں اور اعمال خیر بجا لانیوالوں کے لیے بشارت اخروی ہے پہلے رؤساء مشرکین، و اعیان شرک، ان کے پیرؤوں، ابلیس اور اس کے متبعین کا المناک انجام بیان کیا گیا یہاں اہل توحید کا نیک انجام بتایا گیا کہ آخرت میں ان کا ابدی اور دائم ٹھکانا جنت میں ہوگا اور وہ ہر قسم کے سکون میں ہوں گے اور تمام آفات و بلیات سے محفوط ہوں گے اور فرشتوں کی طرف سے انہیں اسلام کا تحفہ ملے گا۔
Ayahs 14:24–26

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

تو نے دیکھا کیسی27 بیان کی اللہ نے ایک مثال بات ستھری جیسے ایک درخت ستھرا اس کی جڑ مضبوط ہے اور ٹہنے ہیں آسمان میں

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

لاتا ہے پھل اپنا ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ فکر کریں

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور مثال گندی بات کی جیسے درخت گندا اکھاڑ لیا اس کو زمین کے اوپر سے کچھ نہیں اس کو ٹھہراؤ

27:۔ یہ توحید پر پہلی دلیل نقلی ہے اجمالی از تمام انبیاء (علیہم السلام) و جملہ مؤمنین کلمہ طیبہ سے مراد توحید اور کلمہ خبیژہ سے مراد شرک ہے۔ توحید ایک ایسے درخت کی مانند ہے جو نہایت مضبوط ہے جس کی جڑیں بھی محکم اور اس کی ٹہنیاں بھی پائیدار اور دور دور تک پھیلی ہوئی اور اپنے اپنے وقت میں لوگ اس کے پھل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح توحید بھی محکم ہے جو تمام ادیان سابقہ میں محکم رہی ہے اور تمام انبیاء سابقین اپنے اپنے وقت میں توحید کی تبلیغ کرتے رہے ہیں اور ماننے والے اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اور شرک ایک ایسے کمزور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بالکل ناپائیدار ہوں اور یک معمولی سا جھٹکا بھی اسے اکھاڑ پھینکے اور اس کے لیے قرار و ثبات نہ ہو۔ شرک کا ناپائیدار پودا مشرکین نے لگا جسے اللہ کے پیغمبروں نے اکھاڑ پھینکا۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

مضبوط کرتا ہے اللہ ایمان والوں کو28 مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور بچلا دیتا ہے اللہ بےانصافوں کو اور کرتا ہے اللہ جو چاہے

28:۔ یہ بشارت دنیوی واخروی ہے۔ ” اَلْاٰخِرَۃَ “ سے عالم برزخ مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ اہل اخلاص مومنین کو دنیا میں اور قبر میں کلمہ توحید کی برکت سے ثابت قدم رکھتا ہے ای یثبتھم بالبقاء علی ذلک مدۃ حیاتھم تاحیات ان کو ایمان پر قائم رکھتا ہے وفی الاخرۃ فلا یتلعثمون اذا سئلوا عن معتقدھم ھناک ولا تدھشہم الاھوال (روح ج 13 ص 217) ۔ اور قبر میں سوال جواب میں گھبرائیں گے نہیں اس تقریر کے مطابق یہ آیت عذاب قبر کے ثبوت پر دلیل ہے۔ یا اس سے قیامت مراد ہے اس صورت میں اس کا متعلق محذوف ہوگا ای یجیزھم یعنی آخرت میں ان کو ثواب دے گا۔ اس طرح یہ ترکیب ” علفتھا تبناً و ماء بارداً “ کے قبیل سے ہوگی۔ ” و یُضِلُّ اللہُ الظّٰلِمِین “ اور کفار و مشرکین جو اپنی مرضی اور اپنے ارادے سے گمراہی اختیار کرتے ہیں اور ضد وعناد کی وجہ سے اس پر اڑجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اسی حال میں رکھتا اور ان کو ہدایت کی توفیق نہیں دیتا اور برزخ کے سوال وجاب میں ان کو ثابت قدمی عطا نہیں فرماتا اور آخرت میں ان کو عذاب شدید میں مبتلا کرتا ہے ” (وَ یُضِلُّ اللہُ الّٰلِمِیْنَ ) ای عن حجتھم فی قبورھم کما ضلوا فی الدنیا بکفرہم فلا یلقنھم کلمۃ الحق فاذا سئلوا فی قبرھم قالوا لا ندری الخ “ (قرطبی ج 9 ص 364) ” وَ یَفْعَلُ اللّٰہُ مَایَشَاءُ “ انابت کرنے والوں کو توفیق ہدایت سے ہمکنار کرتا ہے اور معاندین کو ہدایت سے محروم کر کے گمراہی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ ” (وَ یَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَاءُ ) عن تثبیت بعض واضلال بعض اخرین جسما توجبہ میشئتہ التابعۃ للحکم البالغۃ المقتضیۃ لذلک “ (ابو السعود ج 6 ص 338) ۔
Ayahs 14:28–29

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا ان کو جنہوں نے بدلہ کیا29 اللہ کے احسان کا ناشکری30 اور اتارا اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

جو دوزخ ہے داخل ہوں گے اس میں اور وہ برا ٹھکانا ہے

29:۔ پانچویں بار وقائع کا ذکر ہے۔ یہ تخویف اخروی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت توحید اور دیگر بیشمار مادی انعامات کی ناشکری کی، خود شرک کیا اور اپنی قوموں کو شرک کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو جھٹلایا اس طرح اپنی قوموں کو جہنم کا ایندھن بنایا۔ ” اَلَّذِیْنَ بَدَّلُوْ “ سے اقوام گذشتہ کے کفار و مشرکین اور ان کے پیشوا مراد ہیں اس صورت میں ” اَلَمْ تَرَ “ سے رویت قلبی مراد ہوگی اور اگر اس سے کفار مکہ مراد ہوں جیسا کہ حضرت علی اور ابن عباس سے منقول ہے تو رویت سے رویت بصری مراد ہوگی ” والمراد مشرکوا قریش وان الایۃ نزلت فیھم عن ابن عباس و علی ؓ “ (قرطبی ج 9 ص 364) ۔ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی مادی آسائش مہیا فرمائی اور بعثت محمدی کا ان کو شرف عطا فرمایا مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ناشکری اور کفر و عصیان سے مقابلہ کیا۔ ” اسکنھم اللہ حرمہ وجعلھم قام بیتہ واکرمہم بمحمد ﷺ فکفروا نعمۃ اللہ الخ “ (بحر ج 5 ص 424) ۔ 30:۔ یہ زجر ہے اور ” لِیُضِلُّوْا “ میں لام عاقبت کا ہے اور یہ ” وَ اَحَلُّوْا “ پر معطوف ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک بنائے جن کو اللہ کے سوا عبادت اور پکار کا مستحق سمجھا۔ اچھا چند روزہ دنیوی زندگی سے فائدہ اٹھا لو آخرت تمہارا ٹھکانا جہنم ہے آخرت میں تمہارے یہ خد ساختہ معبود تمہیں جہنم سے ہرگز نہیں چھڑا سکیں گے۔
Ayah 14:30

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ٹھہرائے اللہ کے لیے31 مقابل کہ بہکائیں لوگوں کو اس کی راہ سے تو کہہ مزا اڑا لو پھر تم کو لوٹنا ہے طرف آگ کے

31:۔ دفع عذاب کے لیے دو باتوں کا حکم فرمایا کہ اب وقت ہے شرک سے بچ جاؤ اور اللہ کے بندوں پر پوشیدہ اور علانیہ طور پر احسان کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو دنیوی اور اخروی عذاب سے بچ جاؤ گے۔ نماز بھی چونکہ خلاصی مصائب کا ایک ذریعہ اور امر مصلح ہے اس لیے اس کا بھی ذکر کیا گیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے ” وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ “ (بقرہ) ۔ ” یُقِیْمُوْا “ اصل میں صیغہ امر غائب ہے لام امر محذوف ہے اصل میں ” لِیُقِیْمُوْا “ تھا بقرینہ قُلْ ۔ کیونکہ پہلے امر کے قرینہ سے دوسرے امر سے حذف لام جائز ہے کما فی الرضی امام کسائی اور زجاج نے بھی لام امر کو مقدر مانا ہے۔ ” ذھب الکسائی و الزجاج و جماعۃ الی انہ مقول القول وھو مجزوم بلام امر مقدرۃ ای لیقیموا او ینفقوا الخ “ (روح ج 13 ص 221) ۔
Ayahs 14:31–33

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

کہہ دے میرے بندوں کو32 جو ایمان لائے ہیں قائم رکھیں نماز اور خرچ کریں ہماری دی ہوئی روزی میں سے پوشیدہ اور ظاہر پہلے اس سے کہ آئے دن جس میں نہ سودا ہے نہ دوستی

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتارا آسمان سے پانی پھر اس سے نکالی روزی تمہارے میوے اور کہنے میں کیا تمہارے کشتی کو کہ چلے دریا میں اس کے حکم سے اور کام میں لگایا تمہارے ندیوں کو

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور کام میں لگا دیا تمہارے سورج اور چاند کو ایک دستور پر برابر اور کام میں لگا دیا تمہارے رات اور دن کو

32:۔ یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے یہ دلیل تفصیلی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام عالم کا خالق ہے عالم علوی (اصمان، سورج، چاند) ۔ عالم سفلی (زمین، دریا، سمندر، حجر وشجر، بحر وبر) اور فضاء آسمانی میں جو کچھ ہے بادل بارش وغیرہ سب پر اللہ تعالیٰ کا قبضہ ہے اور ساری کائنات اس کے اختیار و تصرف میں اور اس کی مطیع فرمان ہے۔ زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا، بارش وہ برساتا اور پھل بھی وہی پیدا کرتا ہے، سمندروں میں بحری جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، دریا میں بحری جہاز اس کے حکم سے چلتے ہیں، دریا اور ندیاں اس کے تابع فرمان ہیں۔ سورج چاند اور دن رات ہمارے نفع کے لیے اس کے حکم سے اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ تو کیا پھر اللہ کے سوا کوئی اور کارساز اور مالک و مختار ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اہل بدعت اس آیت سے اولیاء اللہ کے متصرف و مختار ہونے پر استدلال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے یہ سب کچھ تمہارے تابع کردیا ہے۔ مگر یہ استدلال سراسر باطل ہے اول اس لیے کہ لَکُمْ میں ضمیر خطاب عام ہے جو تمام بنی آدم حتی کہ کفار کو بھی شامل ہے۔ دوم اس لیے کہ تسخیر سے یہ مراد نہیں کہ سب کچھ ان کے تابع فرمان کردیا گیا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنے حکم سے تمہارے فائدے کے کاموں میں لگا دیا ہے۔
Ayah 14:34

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور دیا تم کو33 ہر چیز میں سے جو تم نے مانگی اور اگر گنو احسان اللہ کے نہ پورے کرسکو بیشک آدمی بڑا بےانصاف ہے ناشکرا

33:۔ جو کچھ ہم اللہ سے مانگتے ہیں اور جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ ہمیں اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے یعنی ہمارے پاس جس قدر بھی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ کی ہی کی عطا کی ہوئی ہیں یہ مطلب نہیں کہ ہم جو کچھ بھی مانگیں وہ سب کچھ ہمیں دے دیتا ہے کیونکہ دینا نہ اس کے اختیار میں ہے اور اس کا فعل حکمت بالغہ پر مبنی ہے۔ البتہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے وہ سب اللہ ہی کا دیا ہوا ہے اور اتنا ہے کہ ہم اس کو شمار نہیں کرسکتے مگر اس کے باوجود انسان بڑا ناشکر گذار اور احسان فراموش ہے۔ نعمتیں اللہ تعالیٰ دیتا ہے مگر وہ ان کو غیر اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے مثلا بیٹا فلاں پیر نے دیا۔ شفا فلاں بزرگ کی نذر ماننے سے ہوئی اور مصیبت فلاں ولی اللہ کی نیاز دینے سے ٹلی ہے۔ وغیرہ وغیرہ نیز اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر انسان کو اس کے احکام کی اطاعت کی شکل میں ادا کرنا چاہئے تھا مگر وہ سراسر اللہ کا نافرمان ہے۔
Ayah 14:35

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور جس وقت کہا ابراہیم نے اے رب کر دے34 اس شہر کو امن والا اور دور رکھ مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم پوجیں مورتوں کو

34:۔ ” وَ اِذْ قَالَ “ تا ” یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ “ دوسری نقلی دلیل تفصیلی از حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اللہ تعالیٰ سے دعاء کی تھی کہ مجھ کو اور میری اولاد کو شرک سے محفوط رکھ۔ ” ھٰذَا الْبَلَدَ “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے اور ” اٰمِنًا “ نسبت کے لیے ہے ای ذا امن۔ یعنی شہر مکہ کو پر امن بنا اور اس کے باشندوں کو مال و جان میں سلامتی اور امن عطا فرما ” وَ جْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ “ مجھے اور میری اولاد کو شرک سے محفوط رکھ یعنی جس طرح ہم پہلے سے توحید اور ملت اسلام پر ہیں اسی طرح ہم کو اس پر قائم اور ثابت قدم رکھ ای ثبتنا علی ما نحن علیہ من التوحید و ملۃ الاسلام والبعد عن عبادۃ الاصنام فالانبیاء معصومون عن الکفر و عبادۃ غیر اللہ تعالیٰ (روح ج 13 ص 234) ۔
Ayah 14:36

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے رب انہوں نے گمراہ کیا35 بہت لوگوں کو سو جس نے پیروی کی میری سو وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہنا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے

35:۔ اضلال یعنی گمراہ کرنے کی نسبت اصنام کی طرف اس لیے کی گئی کہ وہ گمراہی کا سبب ہیں کیونکہ صلحائے عباد کے بتوں کے ساتھ جو مشرکانہ روایتیں وابستہ ہیں ان کی وجہ سے مشرکین کے دلوں میں ان کی پستش کا جذبہ پایا جاتا ہے اس طرح ان کے بت گمراہی کا سبب بعید ہیں اس لیے مجازاً گمراہی کی نسبت ان کی طرف کی گئی ہے۔ لما کانت سببا للاضلال اضاف الفعل الیھن مجازا ً (قرطبی ج 9 ص 268) یا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان اصنام کی عبادت کے سبب گمراہی اور فتنے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ” والمعنی انھم ضلوا بعباد تھا کما تقول فتنتھم الدنیا ای افتتنوا بھا واغتروا بسببھا “ (بحر ج 5 ص 431) ۔
Ayah 14:37

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے رب میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو میدان میں کہ جہاں کھیتی نہیں تیرے محترم گھر کے پاس اے رب ہمارے تاکہ قائم رکھیں نماز کو36 سو رکھ بعضے لوگوں کے دل کہ مائل ہوں ان کی طرف اور روزی دے ان کو میووں سے شاید وہ شکر کریں

36:۔ ” لِیُقِیْمُوْا “ اَسْکَنْتُ کے متعلق ہے۔ اور ” رَبَّنَا “ کا اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ یعنی میں نے اپنی اولاد کو یہاں اس لیے آباد کیا ہے تاکہ وہ تیرے عزت والے گھر کے پاس نماز قائم کریں اور تیرے گھر کو آباد کریں۔ ” تَھْوِیْ اِلَیْھِمْ ای تمیل الیھم “ اور لوگوں کے دلوں میں ان سے محبت و الفت پیدا کردے تاکہ وہ بھی یہاں آکر ان کے پاس آباد ہوجائیں۔ اور ان کے ارد گرد بستیاں آباد فرما دے جہاں کے لوگ اہل مکہ کے لیے پھل اور میوے اگائیں۔ ” وانما یکوان المراد عمارۃ القری بالقرب منھا لتحصیل تلک الثمار منھا “ (کبیر ج 5 ص 362) ۔
Ayah 14:38

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے رب ہمارے توُ تو جانتا ہے37 جو کچھ ہم کرتے ہیں چھپا کر اور جو کچھ کرتے ہیں دکھا کر اور مخفی نہیں اللہ پر کوئی چیز زمین میں نہ آسمان میں

37:۔ یہ اسم اعظم ہے یعنی تو سب کچھ جاننے والا ہے۔ اسی طرح ” اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَاءِ “ بھی اسم اعطم ہے جیسا کہ سورة بقرہ رکوع 15 میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ہے ” اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ “ یعنی تو ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ ہر پیغمبر جن کلمات سے اپنی دعوت توحید کا اظہار کرتا ہے وہی اسم اعظم ہوتا ہے۔ اس سے کبھی تو مخاطب کو دعوت توحید دینا مقصود ہوتا ہے اور کبھی اپنے علم اور عقیدہ کا اظہار مقصود ہوتا ہے یہاں دوسرا مقصد پیش نظر ہے ” وَ مَا یَخْفٰی عَلَی اللہِ مِنْ شَیْءٍ الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کلام سے متصل ہے۔
Ayahs 14:39–40

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

شکر ہے اللہ کا جس نے بخشا مجھ کو اتنی بڑی عمر میں38 اسماعیل اور اسحاق بیشک میرا رب سنتا ہے دعا کو

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے رب میرے کر مجھ کو قائم رکھوں نماز اور میری اولاد میں سے بھی اے رب میرے اور قبول کر میری دعا

38:۔ تمام صفات کارسازی اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں جس نے بڑھاپے میں مجھے دو بیٹے اسمعیل اور اسحاق عطا فرمائے۔ ” رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ “ میرے پروردگار ! مجھے بھی نماز کا پابند رکھ اور ہر زمانے میں میری اولاد میں ایسے لوگ پیدا کر جو نماز کے پابند ہوں اس سے نماز کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور حقیقت میں تقرب الٰہی کا اعمال میں سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے۔