13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsجواھر القرآن

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

المر2 یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور جو کچھ اترا تجھ پر تیرے رب سے سو حق ہے لیکن بہت لوگ نہیں مانتے

2: حروف مقطعاتمتشابہات میں سے ہیں ان کی اصل مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ ” تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبَ الخ “ تمہید مع ترغیب۔ ” تلک “ سے اشارہ اس سورت کی طرف ہے اور اَلْکِتَاب سے قرآن مجید مراد ہے۔ ” وَالَّذِیْ الخ “ موصول مع صلہ مبتدا اور ” اَلْحَقُّ “ اس کی خبر ہے خبر کی تعریف مفید حصر ای ھو الحق (معالم) ۔ یہ سورت قرآن حکیم کی آیتیں ہیں اور وہ اس کتاب حکیم ہی کا ایک حصہ ہے اور جو قرآن ہم نے آپ پر نازل کیا ہے وہ حق ہے اور اس میں بیان کردہ عقائد و احکام اس قدر محکم، واضح اور ظاہر ہیں کہ ان میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ ھو الھق الذی لا شک فیہ (خازن ج 4 ص 2) ۔ مگر اس کے باوجود ضدی اور معاند لوگ نہیں مانتے ای مع ھذا البیان والجلاء والوضوح لا یومن اکثرھم لما فیھم من الشقاق والعناد والنفاق (ابن کثیر ج 2 ص 498) ۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے اونچے بنائے آسمان بغیر3 ستون دیکھتے ہو پھر قائم ہوا عرش پر اور کام میں لا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے وقت مقرر پر تدبیر کرتا ہے کام کی ظاہر کرتا ہے نشانیاں کہ شاید تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو

3:۔ پہلی عقلی دلیل۔ سورة یوسف میں مسئلہ توحید ہر پہلو سے واضح ہوگیا اور سورة یوسف میں دلیل نقلی تفصیلی سے ثابت کردیا گیا کہ کارساز اور عالم لغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے یہ مسئلہ اب بالکل بدیہی ہوچکا ہے۔ اب مسئلہ کو اور زیادہ کھولنے کے لیے سورة رعد میں مزید گیارہ دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ آٹھ عقلی، دو وحی اور ایک نقلی۔ یہ پہلی عقلی دلیل ہے۔ خبر کی تعریف مفید حصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کائنات دو حصوں میں منقسم ہے علویات اور سفلیات علویات سے وہ عالم مراد ہے جو کر ات عناصر سے ماورا ہے۔ آسمان، سورج اور چاند وغیرہ اور سفلیات سے کرہ ارضی کی مخلوق مراد ہے۔ یہاں ” بِلِقَاءِ رَبِّکُمْ تُوِْقِنُوْنَ “ تک علویات کا ذکر ہے اور اس کے بعد ” لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ “ تک سفلیات کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عالم علوی اور عالم سفلی پر اپنا کام قبضہ و اقتدار اور مکمل تصرف و اختیار بیان کر کے واضح فرمایا کہ ساری مخلوق کا کارساز اور ہر ایک کی پناہ گاہ بھی میں ہی ہوں میرے سوا اور کوئی کارساز نہیں ” بِغَیْرِ عَمَدٍ “ اس نے محض اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر تھام رکھا ہے ” ثُمَّ اسْتَویٰ عَلَی الْعَرْشِ “ محسوس طور پر تخت پر بیٹھنا مراد نہیں بلکہ سارے جہاں پر بلا شرکت غیرے اقتدار و سلطنت مراد ہے۔ استولی بالاقتدار و نفوذ السلطان (مدارک ج 2 ص 186) ۔ اس کی پوری تحقیق سورة اعراف کی تفسیر میں ملاحظہ ہو (حاشیہ نمبر ص 63) ۔ ” وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ “ سورج اور چاند کو اس نے جس کام پر لگا دیا ہے وہ باضابطہ اپنی ڈیوٹی دے رہیں گے۔ ” یُدَبِّرُ الْاَمْرَ “ ساری کائنات کا نظام اسی کی تدبیر سے چل رہا ہے اس میں کوئی اور دخیل نہیں۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پھیلائی زمین4 اور رکھے اس میں بوجھ اور ندیاں اور ہر میوے کے رکھے اس میں جوڑے دو دو قسم ڈھانکتا ہے دن پر رات کو اس میں نشانیاں ہیں ان کے واسطے جو کہ دھیان کرتے ہیں،

4:۔ یہ بھی پہلی دلیل ہی کا حصہ ہے اور اس میں عالم سفلی کا ذکر ہے مبتدا کے ساتھ خبر کی تعریف مفید حصر ہے۔ کلام کے بعض اجزا میں حصر ہو تو باقی اجزا بھی حصر پر محمول ہوتے ہیں۔ ” زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ “ اثنین، زوجین سے بدل ہے۔ پھلوں میں زوجین سے ذائقہ، رنگ اور حج کے اعتبار سے اس کی مختل اقسام و اصناف مراد ہیں۔ مثلاً سفید و سیادہ، کھٹا میٹھا، چھوٹا بڑا اور سرد و گرم وغیرہ۔ ” ای جعل من کل نوع من الانواع اثمرات الموجودۃ فی الدنیا ضر بین و صنفین اما فی اللون کالابیض والاسود او فی الطعم کالحلو والحامض او فی القدر کالصغیر و الکبیر او فی الکیفیۃ کالحار والبارد وما اشبہ ذلک (روح ج 13 ص 100) ۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور زمین میں5 کھیت ہیں مختلف ایک دوسرے سے متصل، اور باغ ہیں انگور کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی اور بعض بن ملی ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے اور ہم ہیں کہ بڑھا دیتے ہیں ان میں ایک کو ایک سے میووں میں ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان کو جو غور کرتے ہیں

5:۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک بین اور واضح ثبوت ہے کہ زمین کے ساتھ ساتھ واقع ٹکڑوں میں اس نے مختلف خاصیتیں ودیعت فرما دی ہیں کوئی زخریز ہے کوئی بجر، کوئی سخت ہے اور کوئی نرم۔ ” صنوان “ صنوٌ کی جمع ہے جس سے مراد وہ درخت ہے جس کی جڑ ایک ہو اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹ نکلیں۔ یہ بھی قدرت الٰہی کا کرشمہ ہے کہ ایک ہی زمین میں پیدا ہونے والے کھجور کے درخت بعض شاخدار ہوتے ہیں اور بعض غیر شاخدار پھر سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر ان کا پھل کم و بیش ہوتا ہے اور بو اور ذائقہ وغیرہ میں بھی مختلف ہوتا پہلی عقلی دلیل ختم ہوئی۔ دلیل کے تمام اجزاء میں حصر ہے یعنی یہ تمام امور صرف اللہ ہی کے قبضہ میں ہیں لہذا کارساز بھی وہی ہے۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تو عجیب بات چاہے6 تو عجب ہے ان کا کہنا کہ کیا جب ہوگئے ہم مٹی کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے وہی ہیں جو منکر ہوگئے اپنے رب سے اور وہی ہیں کہ طوق ہیں ان کی گردنوں میں اور وہ ہیں دوزخ والے وہ اسی میں رہیں گے برابر

6:۔ یہ شکوی ہے۔ ” عجب ای معجب “ یعنی اے پیغمبر اگر آپ مشرکین کی اس حرکت پر متعجب ہیں کہ وہ ایک بدیہی حقیقت کا انکار کرتے ہیں اور ایسے دلائل قاہرہ کی موجودگی میں اور یہ مانتے ہوئے کہ ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی وہ اللہ کی عاجز مخلوق کو کارساز اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو دوبارہ جی اٹھنے سے ان کا انکار کرنا بھی کوئی کم قابل تعجب نہیں۔ ” و ان تعجب من اتخاذ المشکرین مالا یضرھم ولا ینفعھم الیۃ یعبدونھا مع اقرار ھم بان اللہ تعالیٰ خالق السموات والارض وھو یضر و ینفع و قدرا وامن قدرۃ اللہ وما ضرب لھم بہ المثال ما راوا فعجب قولھم “ (خازن ج 4 ص 5) ۔ ” اولئک الاغلل الخ “ تخویف اخروی برائے منکرین توحید و بعث۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

اور جلد مانگتے ہیں تجھ سے برائی کو7 پہلے بھلائی سے اور گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے عذاب اور تیرا رب8 معاف بھی کرتا ہے لوگوں کو باوجود ان کے ظلم کے، اور تیرے رب کا عذاب بھی سخت ہے

7:۔ زجر مع شکوی۔ سیئہ سے عذاب اور حسنہ سے عافیت مراد ہے اور ” قَبْلَ الْحَسَنَۃ “ یعنی یہ لوگ عذاب ہی کا مطالبہ کرتے ہیں اور عافیت تو مانگتے ہی نہیں۔ مشرکین عناد و استہزاء کی وجہ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ فرمایا میرے عذاب سے ڈرو وہ مانگنے کی چیز نہیں تم سے پہلے تم جیسی مکذب اور معاند قوموں کو میں نے شدید ترین عذابوں سے ہلاک کیا ہے تمہارا بھی وہی حشر ہوگا۔ ” ان مشرکی مکۃ کانوا یطلبون العقوبۃ بدلا من العافیۃ استہزاء منھم الخ “ (مظہری ج 5 س 216) ۔ ” وَ قَدْ خَلَتْ الخ “ جملہ حالیہ ہے۔ ” والحال انہ مضت العقوبات الفاضحۃ النازلۃ علی امثالھم من المکذبین المستہزئین “ (روح ج 12 ص 106) ۔ 8:۔ باوجود اس کے کہ لوگ گناہ کرتے اور اللہ کی نافرمانی کرکے اپنی جانوں پر طلم کرتے ہیں مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ تائبین سے در گذر فرماتا ہے مگر اس کا عذاب بھی بڑا ہی دردناک ہے اور وہ عذاب دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ یہ بشارت اور تخویف اخروی ہے۔
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کافر کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب سے تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے9 اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا

9: یہ شکویٰ ہے۔ یہ ضدی اور معاند لوگ بات اس قدر واضح اور ظاہر ہونے کے باوجود نہیں مانتے اور ٓپ سے معجزہ طلب کرتے ہیں۔ ” اِنَّمَا اَنْتَ مُنْذِرٌ الخ “ جواب شکوی ہے۔ معجزہ لانا آپ کے اختیار میں نہیں۔ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں آپ کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام ان تک پہنچانا ہے جس طرح پہلے انبیاء اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام دیتے اور انہیں اللہ کی توحید کی طرف بلاتے رہے (وَ لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ) من الانبیاء یھدیھم الی الدین و یدعوھم الی اللہ الخ (مدارک ج 3 ص 187) ۔ پہلی عقلی دلیل دعوی اولیٰ (اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں) کے لیے تھی اور یہاں تک بشارتیں، تخویفیں، زجریں اور شکوے بھی سی دعوی سے متعلق تھے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے10 جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ اور جو سکڑتے ہیں پیٹ اور بڑھتے ہیں اور ہر چیز کا اس کے یہاں اندازہ ہے

10:۔ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اور دوسرے دعوے کو ثابت کر رہی ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اسرار و خفیات کا عالم ہے، اسے معلوم ہے کہ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، نر یا مادہ، کالا یا گورا، کامل یا ناقص، سعید یا شقی وغیرہ وغیرہ۔ ” مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ و َمَا تَزْدَادُ “ غاض اور ازداد، دونوں لازم بھی ہیں اور متعدی بھی یہاں دونوں بن سکتے ہیں۔ اگر دونوں لازم ہوں تو ما لامحالۃ مصدریہ ہے اور اگر متعدی ہوں تو ما مصدریہ ہوگا یا موصولہ یا موصوفہ (روح) رحموں کے گھٹانے اور بڑھانے سے یا تو بچوں کی تعداد میں کمی بیشی مراد ہے یا مدت حمل میں کمی بیشی۔ المراد عدد الولد فانھا تشتمل علی واحد واثنین و ثلٰثۃ واربعۃ و مدۃ الولادۃ فانھا تکون اقل من تسعۃ اشھر وازید علیھا (مدارک ج 2 ص 187) ۔
Ayahs 13:9–10

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کا11 سب سے بڑا برتر

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

برابر ہے تم میں جو آہستہ بات کہے اور جو کہے پکار کر اور جو چھپ رہا ہے رات میں اور جو گلیوں میں پھرتا ہے دن کو

11:۔ جو چیزیں انسانوں پر طاہر ہیں اور جو ان سے پوشیدہ ہیں اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہیں۔ اَلْکَبِیْرُ ایسا عطیم الشان کہ تمام صفات کمال اس میں موجود ہیں۔ ” اَلْمُتَعَالِ “ ہر چیز سے برتر اور صفات مخلوقات سے مبرا اور پاک۔ ” سَوَاءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ “ جو شخص آہستہ باتیں کرتا ہے اور جو شخص بلند آواز سے گویا ہوتا ہے یا جو شخص رات کی تاریکی میں چھپا بیٹھا ہے اور جو شخص دن کو راستہ میں چل رہا ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں ہیں اور وہ یکساں طور پر سب کو جانتا ہے۔ اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اس کو پہرے والے ہیں بندہ کے آگے12 سے اور پیچھے سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں اللہ کے حکم سے اللہ13 نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت جو جب تک وہ نہ بدلیں جو ان کے جیوں میں ہے، اور جب چاہتا ہے اللہ کسی قوم پر آفت پھر وہ نہیں پھرتی اور کوئی نہیں ان کا اس کے سوا مددگار

12:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ لَہٗ کی ضمیر کا مرجع مَنْ اَسَرَّ الخ ہے یعنی ہر انسان کی ھفاظت کے لیے محافظ فرشتے مقرر ہیں الضمیر راجع الی من تقدم ممن اسر بالقول و جھر بہ (روح ج 13 ص 111) ۔ یا ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ کے ایسے فرشتے بھی ہیں جو انسانوں کی حفاظت پر مقرر ہیں۔ ای للہ ملائکۃ یتعاقبون بالیل والنھار (خازن و معالم ج 4 ص 7 و قرطبی ج 9 ص 291) ۔ ” مُعَقِّبٰتٌ“ معقبۃ کی جمع ہے مراد فرشتوں کی جماعتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی حفاظت کے لیے مقرر کی ہوئی ہیں۔ ” مِنْ اَمْرِ اللہِ “ میں من سببیہ ہے یعنی وہ اللہ کے حکم سے انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ ” و من للسببیۃ ای یحفظونہ من المضار بسبب امر اللہ تعالیٰ لھم بذلک “ (روح ج 13 س 113) یحفظونہ من اجل امر اللہ تعالیٰ ایمن اجل ان اللہ امرھم بحفظہ۔ (مدارک ج 2 ص 187 ۔ 13:۔ پہلے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام اعمال سے واقف ہے پھر فرمایا اس نے بندوں پر محافظ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں اب بندوں کو لزوم طاعت اور اجتناب از معصیت کی تنبیہ فرمائی اور ساتھ نافرمانی اور معصیت کے وبال سے آگاہ فرمادیا (روح) ۔ ” مَابقَوْمٍ “ میں مَا موصوفہ ہے اور مراد نعمت و عافیت ہے۔ ” مَابِاَنْفُسِھِمْ “ میں بھی مَا موصوفہ ہے اور مراد احوال صالحہ ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو کسی نعمت و برکت سے نوازا ہو اس وقت تک ان سے اس کو سلب نہیں کرتا جب وہ لوگ اپنی بد اعمالیوں اور معصیتوں کی وجہ سے خود اپنا ستحقاق ضائع نہ کردیں۔ اور جب کسی قوم کی بد اعمالیوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے تباہ و برباد کرنے کا ارادہ فرما لے تو پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور نہ ان کو اس کے عذاب سے کوئی بچا سکتا ہے۔
Ayahs 13:12–13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے کہ تم کو دکھلاتا ہے بجلی ڈر14 کو اور امید کو اور اٹھاتا ہے بادل بھاری

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور پڑھتا ہے گرجنے والا خوبیاں اس کی اور سب فرشتے اس کے ڈر سے اور بھیجتا ہے کڑک بجلیاں پھر ڈالتا ہے جس پر چاہے اور یہ لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی آن سخت ہے

14:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے درمیان ” جَوۃ “ (فضا) پر اپنے اقتدار اعلیٰ اور تسلط کامل کا ذکر فرمایا ہے۔ بادل، بادلوں سے مینہ برسانا اور بادلوں کی گرج چمک سب اسی کے اختیار میں ہے۔ ” خَوْفًا وَّطَمَعًا “ جب بجلی چمکتی ہے تو لوگوں کے دلوں میں خوف اور طمع کے ملے جلے جذبات موجزن ہوتے ہیں خوف اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں بجلی گر کر تباہی نہ مچادے اور ساتھ ہی باران رحمت کے نزول کی امید بھی ہوتی ہے۔” وَیُسَبحُ الرَّعْدُ “ رعد اس فرشتے کا نام ہے جو بادلوں پر مؤکل ہے رعد فرشتہ اور اس کے علاوہ دیگر فرشتے اللہ تعالیٰ ہیبت سے اس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ جب وہ چاہتا ہے آسمانی بجلی بھیج دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس سے ہلاک کردیتا ہے۔ ” وَھُمْ یُجَادِلُوْنَ فِیْ اللہِ الخ “ زجر برائے مشرکین ہے اللہ تعالیٰ ایسے جلال وجبروت اور ایسی طاقت سطوت کا مالک ہے مگر معاندین پھر بھی صفات الوہیت میں اسے یکتا ویگانہ نہیں مانتے۔
Ayah 13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کا پکارنا سچ ہے15 اور جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں اس کے سوا16 وہ نہیں کام آتے ان کے کچھ بھی مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ آپہنچے اس کے منہ تک اور وہ کبھی نہ پہنچے گا اس تک اور جتنی پکار ہے کافروں کی سب گمراہی ہے

15:۔ یہ مذکورہ تین دلائل عقلیہ کا چمرہ ہے ظرف کی تقدیم مفید حصر ہے۔ ” دَعْوَۃُ الْحقّ “ سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی خالصپکار مراد ہے۔ ” قال علی ؓ دعوۃ الحق التوحید قال ابن عباس شہادۃ ان لا الہ الا اللہ “ (خازن و معالم ج 4 ص 11) ۔ یعنی دلائل بالا سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں تو پھر خوف ورجاء میں صرف اللہ ہی کو پکارو۔ ” قیل دعوۃ الحق دعاء ہ عند الخوف فانہ لا یدعی فیہ الا ایاہ کما قال ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ “ قال الماوردی وھو اشبہ بسیاق الایۃ (قرطبی ج 9 ص 300) ۔ 16:۔ یہاں ایک تمثیل سے سمجھایا کہ مشرکین جن معبودانِ باطلہ کو پکارتے ہیں ان کو پکارنا اور ان سے حاجت بر آری کی استدعاء کرنا بالکل بےسود اور رائیگاں ہے۔ غیر اللہ کو پکارنے کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک پیاسا پانی کو ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنی طرف بلائے تاکہ خود بخود اس کے منہ میں پہنچ کر اس کی پیاس بجھائے بعینہ یہی حال مشرک کا ہے جس طرح پانی کو بلانا بےفائدہ ہے اسی طرح غیر اللہ کو حاجات و مشکلات میں پکارنا بےسود ہے۔ جس طرح پانی میں بلانے والے کی آواز کا شعور نہیں اور نہ اس کی ضرورت و حاجت کا اھس اس ہے اسی طرح معبودان باطلہ بھی اپنے پکارنے والوں کی پکار اور ان کی حاجات و مصائب سے بیخبر ہیں۔ ” وَ مَا دُعَاءُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ “ کافروں کا غیر اللہ کو پکارنا سراسر گمراہی ہے اور بالکلیہ بےسود اور رائیگاں ہے۔
Ayah 13:15

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے17 جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی سے اور زور سے اور ان کی پرچھائیاں صبح اور شام

17:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے جو پہلے دعوے سے متعلق فرشتے اور جن و انس سب اللہ تعالیٰ ہی کے آگے جھکتے ہیں اور سب اسی کو سجدہ کرتے ہیں فرشتے اور مومنین رضا مندی اور رغبت سے اور کفار و مشرکین مجبورًا جب مصائب و شدائد میں گھر جائیں ” طوعا یعنی الملائکۃ والمومنین وکرھا یعنی المنافقین والکافرین فی حال اشدۃ والضیق “ (مدارک ج 2 ص 189) اور ان کے سائے بھی صبح و شام اسی کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں۔ جب ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد رہے اور سب اسی کے زیر تصرف و اقتدار ہیں تو معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کا کارساز بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Ayah 13:16

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

پوچھ کون ہے رب آسمان اور زمین کا18 کہہ دے اللہ ہے کہہ19 پھر کیا تم نے پکڑے ہیں اس کے سوا ایسے حمایتی جو مالک نہیں اپنے بھلے اور برے کے کہہ کیا برابر ہوتا ہے اندھا اور دیکھنے والا یا کہیں برابر ہے اندھیرا اور اجالا کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اللہ کے لیے شریک20 کہ انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے جیسے پیدا کیا اللہ نے پھر مشتبہ ہوگئی پیدائش ان کی نظر میں کہہ اللہ ہے پیدا کرنے والا ہر چیز کا اور وہی ہے اکیلا زبردست

18: یہ پانچویں عقلی دلیل ہے علی سبیل العتراف من الخصم اور یہ ماقبل سے اقوی ہے کیونکہ مشہور ہے صح الشہادات ما یشہد بہ الاعداء۔ مشرکین مانتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قُلِ اللہ “ یہاں یہاں ہمزہ استفہام تقریری محذوف ہے ” قل ءَ اللہ “ یعنی اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ 19:۔ یہ دلائل مذکورہ پر دوسرا ثمرہ ہے بطور زجر و الزام مذکورہ دلائل سے واضح اور ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق مالک اور متصرف اللہ تعالیٰ ہی مگر اس کے باوجود تم نے اللہ کی عاجز مخلوق اور اس کے بےبس بندوں کو کارساز اور حاجت روا بنا لیا جو تمہیں نفع و نقصان تو کیا پہنچائیں گے وہ تو اپنے نفع و نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ تم تو بالکل ہی عقل کے اندھے ہو۔ آپ فرما دیجیے کہ اندھا اور بینا برا نہیں ہوسکتے اور نہ اندھیرا اور روشنی برابر ہوسکتی ہے اَعمٰی (اندھے) مراد مشرک ہے جو وضوع دلائل کے باوجود توحید کو نہیں مانتے اور بَصِیْرٌ (بینا) سے مراد موحد ہے۔ اسی طرح ظلمات سے کفر و شرک کے اندھیرے اور نور سے توحید کی روشنی مراد ہے۔ 20:۔ کیا انہوں نے ایسوں کو اللہ کا شریک بنایا ہے جنہوں نے اللہ کی مخلوق کے مانند کوئی مخلوق پیدا کی ہے اس لیے ان پر معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے اور انہوں نے ان کو مستحق الوہیت سمجھ لیا ہے حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور جن کو انہوں نے اللہ کا شریک بنایا ہے ان کے بارے میں خود انہیں تسلیم ہے کہ انہوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔ لہذا وہ معبود اور الٰہ ہونے کا استحقاق بھی نہیں رکھتے۔
Ayah 13:17

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اتارا اس نے آسمان سے21 پانی پھر بہنے لگے نالے اپنی اپنی موافق پھر اوپر لے آیا وہ نالا جھاگ پھولا ہوا اور جس چیز کو دھونکتے ہیں22 آگ میں واسطے زیور کے یا اسباب کے اس میں بھی جھاگ ہے ویسا ہی یوں بیان کرتا ہے اللہ حق اور باطل کو سو وہ جھاگ تو جاتا رہتا ہے سوکھ کر اور وہ جو کام آتا ہے لوگوں کے سو باقی رہتا ہے زمین میں اس طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں

21 ۔ یہ چھٹی دلیل عقلی ہے۔ اس میں معبود برحق اور معبود باطل کی مثال بیان کی گئی ہے یعنی معبودان باطلہ مثل جھاگ کے ہیں جو فنا ہوجائیں گے اور معبود حق باقی رہے گا معبود حق کی مثال پانی اور سونے کی ہے اور معبود باطل کی مثال جھاگ کی ہے جب بارش برستی ہے اور وادیوں سے سیلاب گذرتا ہے تو پانی کے اوپر جھاگ آجاتی ہے پانی زمین میں ٹھہر جاتا ہے جس سے وہ زرخیز بن جاتی ہے اور جھاگ بیکار ہوجاتی ہے اسی طرح جب آگ پر سونا گلاتے ہیں تو سونا نیچے بیٹھ جاتا ہے اور میل کچیل اوپر آجاتی ہے جو پھینک دی جاتی ہے۔ یا یہ حق و باطل یعنی اسلام و کفر اور توحید و شرک کی مثال ہے۔ باطل کو بیکار جھاگ سے اور حق کو خالص پانی اور خالص دھاتوں سے تبشیہ دی گئی جو کار آمد اور پائیدار ہیں۔ ” ان المثلین ضربہما اللہ للحق فی ثباتہ والباطل فی اضمحلالہ “ (قرطبی ج 9 ص 305) ۔ 22:۔ ” وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ “ خبر مقدم ” زَبَدٌ مِّثْلُہٗ “ مبتدا مؤخر۔ جفاء، بیکار۔
Ayah 13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

جنہوں نے23 مانا اپنے رب کا حکم ان کے واسطے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر ان کے پاس ہو جو کچھ کہ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور تو سب دیویں اپنے بدلہ میں ان لوگوں کے لیے ہے برا حساب اور ٹھکانا ان کا دوزخ ہے اور وہ بری آرام کی جگہ ہے

23:۔ بشارت اخروی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ایمان قبول کرلیا اور توحید و رسالت کو مان لیا اجاب الی ما دعاہ اللہ من التوحید والنبوات (قرطبی) وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا الخ نہ ماننے والوں کے لیے تخویف اخروی۔
Ayah 13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا جو شخص جانتا ہے24 کہ جو کچھ اترا تجھ پر تیرے رب سے حق ہے برابر ہوسکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے سمجھتے وہی ہیں جن کو عقل ہے

24:۔ یہ بشارت اور تخوف مذکورہ پر لف و نشر مرتب متفرع ہے۔ یعنی جو شخص یقین رکھتا ہو کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے وہ سراپا حق ہے۔ یہ بشارت پر متفرع ہے کیا وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو دل کا اندھا اور مشرک ہو۔ یہ تخویف پر متفرع ہے۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ دونوں شخص ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ عقلمند اور بصیرت والے لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ وہ برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayahs 13:20–21

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں25 اللہ کے عہد کو اور نہیں توڑتے اس عہد کو

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کو اللہ نے فرمایا ملانا اور ڈرتے ہیں اپنے رب سے اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا

25:۔ یہ اولوا الالباب کی صفت ہے اور اس میں جماعت مبشرہ کے اوصاف مذکور ہیں۔ عَھْدَ اللہ سے اللہ تعالیی کی توحید اور اس کے احکام مراد ہیں ای بجمیع عھود اللہ وھی اوامرہ ونواھیہ التی وصی بھا عبیدہ (قرطبی ج 9 ص 307) ۔ یا اس سے توحید اور دین حق کے وہ دلائل مراد ہیں جو ان کی فطرتِ سلیمہ میں ودیعت ہیں۔ و عن القفال حملہ علی ما فی جبلتھم و عقولھم من دلائل التوحید والنبوات الی غیر ذلک (روح ج 13 ص 139) ۔ ابتغاء مفعول لہٗ ہے وہ مصائب و بلیات میں جزع فزع کا اظہار نہیں کرتے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبر و استقامت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ ” وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسنَۃِ السَّیِّئَۃَ “ وہ اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیتے بلکہ برائی کا بدلہ احسان سے دیتے ہیں۔
Ayahs 13:22–25

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا خوشی کو اپنے رب کی اور قائم رکھی نماز اور خرچ کیا ہمارے دیئے میں سے پوشیدہ اور ظاہر اور کرتے ہیں برائی کے مقابلہ میں بھلائی ان لوگوں کے لیے ہے آخرت کا گھر26

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

باغ ہیں رہنے کے داخل ہوں گے ان میں اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادوں میں اور جو روؤں میں اور اولاد میں اور فرشتے آئیں ان کے پاس ہر دروازے سے

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

کہیں گے سلامتی تم پر بدلے اس کے کہ تم نے صبر کیا، سو خوب ملا عاقبت کا گھر

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ توڑتے ہیں عہد اللہ کا مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو فرمایا اللہ نے جوڑنا اور فساد اٹھاتے ہیں ملک میں ایسے، لوگ ان کے واسطے ہے لعنت، اور ان کے لیے ہے برا گھر

26:۔ یہ بشارت اخروی اکا اعادہ ہے۔ وَمَنْ صَلَحَ الخ مذکورہ بالا اتقیاء کے جو رشتہ دار بحالت ایمان دنیا سے رخصت ہوئے مگر تقویٰ کے اس مقام پر نہ پہنچ سکے ان کی وجہ سے ان کو بھی اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائے گا۔ ” صَلَاحٌ“ سے ایمان و تصدیق مراد ہے ” قَالَ ابن عباس ھذا الصلاح الایمان باللہ والرسول (قرطبی ج 9 ص 312) معنی صلح صدق و اٰمن ووحد “ (خازن ج 4 ص 19) ۔ ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ سے پہلے ” یَقُوْلُوْنَ “ مقدر ہے۔
Ayah 13:26

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ کشادہ کرتا ہے روزی27 جس کو چاہے اور تنگ کرتا ہے اور فریفتہ ہیں دنیا کی زندگی پر اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں آخرت کے آگے مگر متاع حقیر

27:۔ یہ مستحق وعید جماعت کے اوصاف ہیں جو پہلی جماعت کی ضد ہے۔ ” اُولٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ الخ “ یہ تخویف اخروی کا اعادہ ہے۔
Ayah 13:27

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کافر28 کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب سے کہہ دے اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع ہوا

28:۔ یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ روزی کی کمی بیشی بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کے پاس دولت وافر آجائے تو یہ اس کا کمال نہیں بلکہ محض اللہ کی دین ہے اس پر اسے مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ ” وَ فَرِحُوْا الخ “ دنیوی مال و دولت کی وجہ سے وہ خوش ہیں اور دولت کے غرور میں حق کا انکار کر رہے ہیں اور اخرت کی پروا نہیں کرتے حالانکہ دنیوی ساز و سامان اور مال و متاع آخرت کے مقابلے میں نہیں حقیر اور قلیل ہے۔ مَتَاعٌ کی تنوین تقلیل و تحقیر ہے۔
Ayahs 13:28–29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور چین پاتے ہیں ان کے دل اللہ کی یاد سے29 سنتا ہے ! اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں دل

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے اچھے خوشحالی ہے ان کے واسطے اور اچھا ٹھکانا

29:۔ یہ پہلے مذکورہ شکوی کا اعادہ ہے۔ یعنی اس پیغمبر پر ہمارا طلبیدہ معجزہ کیوں نہیں نازل کیا جاتا یہ کفار کی انتہائی ضد اور ہٹ دھرمی تھی کہ بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور مزید معجزوں کا مطالبہ محض عند و مکابرہ کی وجہ سے کرنے لگے۔ ” قُلْ اِنَّ اللہَ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی تمہیں مزید معجزہ دکھانے سے کوئی فائدہ نہیں تم ضدی اور معاند ہو تم پھر بھی نہیں مانو گے ہدایت صرف وہی لوگ پاتے ہیں جن میں انابت ہو اور وہ ہدایت پانے کا سچا جذبہ رکھتے ہوں۔
Ayah 13:30

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طرح30 تجھ کو بھیجا ہم نے ایک امت میں کہ گزر چکی ہیں اس سے پہلے بہت امتیں تاکہ سناوے تو ان کو جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف اور وہ منکر ہوتے ہیں رحمان سے تو کہہ وہی رب میرا ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف آتا ہوں رجوع کر کے

30:۔ یہ ” مَنْ اَنَابَ “ کی صفت ہے۔ ” اَلَا بِذِکْرِ اللہِ “ ادخال الٰہی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ بشارت اخروی ہے۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ہوا ہوتا31 کہ چلیں اس سے پہاڑ یا ٹکڑے ہو وے اس سے زمین یا بولیں اس سے مردے تو کیا ہوتا بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں سو کیا خاطر جمع نہیں32 ایمان والوں کو اس پر اگر چاہے اللہ تو راہ پر لائے سب لوگوں کو اور برابر پہنچتا رہے گا33 منکروں کو ان کے کرتوت پر صدمہ یا اترے گا ان کے گھر سے نزدیک جب تک کہ پہنچے وعدہ اللہ کا بیشک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ

31:۔ یہ پہلی دلیل دی ہے اور کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی یہ ہمارا کمال ہے کہ ہم نے آپ کو ایسے لوگوں میں مبعوث فرمایا ہے جن سے پہلے کئی امتیں گذر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو ہمارا وہ پیغام سنا دیں جو ہم نے بذریعہ وحی آپ پر نازل کیا ہے اور وہ پیغام یہ ہے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ “ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں ” وَ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ “ کفر سے کفران نعمت مراد ہے یعنی خدائے رحمان نے ان کے پاس پیغمبر بھیجا اور اس پر قرآن نازل کیا جس میں ان کی دنیوی اور دینی سعادت تھی مگر انہوں نے اس نعمت عظمیٰ کا شکر ادا کیا اور نہیں نہ مانا (روح) یا کفر سے انکار مراد ہے یعنیوہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمٰن کا انکار کرتے ہیں حضرت ابن عباس فرماتے ہیںحضور ﷺ نے مشرکین سے فرمایا رحمن کو سجدہ کرو وہ بولے رحمٰن کون ہے جسے ہم سجدہ کریں۔ قال لھم النبی ﷺ اسجدوا للرحمن قالوا واما لرحمن فنزلت قل ھو ربی لا الہ الا ھو (قرطبی ج 9 ص 318) ۔ 32:۔ یہ زجر ہے اور شکوی مذکورہ سے متعلق ہے لَوْ ا جواب کُلِّمَ بِہٖ الْمَوْتٰی کے بعد لَایُوْمِنُونَ محذوف ہے یہ کفار ضد وعناد اور مکابرہ کی اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ کسی معجزہ کا ان پر اثر نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اگر قرا ان کی تاثیر سے پہاڑ چل پڑیں یا زمین میں شگاف پڑجائیں یا مردے زندہ ہو کر باتیں کرنے لگیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ضد وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان سے توفیق ہدایت سلب کی جا چکی ہے۔ ھذا متصل بقولہ لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رِّبِّہٖ (قرطبی) ۔ 33:۔ ” یَیْئَسُ “ بمعنی ” یَعْلَمُ “ ہے قشیری نے حضرت ابن عباس سے، فراء نے کلبی سے اور جوہری نے صحاح میں نقل کیا ہے ای افلم یعلموا (خازن و قرطبی و غیرہما) ۔ یعنی ہدایت دینا نہ دینا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے لیکن وہ محل دیکھتا ہے قلب منیب کو ہدایت کی توفیق دیتا ہے اور معاندین کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت قبول کرنے پر مجبور کردیتا مگر یہ اس کی حکمت بالغہ کے خلاف ہے اس طرح امتحان و ابتلاء کا موقع ختم ہوجاتا ہے۔ ” لَھَدَی النَّاسَ جَمِیْعًا “ کے بعد ” وَ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْمَا اٰتٰکُمْ “ (مائدہ رکوع 7) ۔
Ayah 13:32

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور ٹھٹھا کرچکے ہیں 34 کتنے رسولوں سے تجھ سے پہلے سو ڈھیل دی میں نے منکروں کو پھر ان کو پکڑ لیا سو کیسا تھا میرا بدلہ

34: یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے کفار مکہ مراد ہیں۔ ” بِمَا صَنَعُوْا “ کفر وعناد اور انکار و طغیان کی وجہ سے ” قَارِعَۃٌ“ دل ہلا دینے والی مصیبت ” الذین کفروا من اھل مکۃ علی ما روی عن مقاتل تصیبھم بما صنعوا بسبب ما صنعوا من الکفر والتمادی فیہ قارعۃ الرزیۃ التی تقرع قلب صاحبھا “ (روح ج 13 ص 158) مشرکین مکہ پر موت سے پہلے ان کے ضد وعناد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت آتی رہے گی یا ان کے سروں پر منڈلاتی رہے گی جس سے وہ ہر وقت خوف زدہ اور ہراساں رہیں گے۔ مثلاً مسلمانوں کے خوف سے یا کسی دوسرے دشمن کے ڈر سے مرعوب رہیں گے۔ او تحل القارعۃ قریبًا منھم فیفزعون و یتطایر علیھم ررھا و یتعدی الیھم شرورھا (مدارک ج 2 193) ۔
Ayah 13:33

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

بھلا35 جو لیے کھڑا ہے ہر کسی کے سر پر جو کچھ اس نے کیا ہے اور مقرر کرتے ہیں اللہ کے لیے شریک کہہ ان کا نام لو36 یا اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں یہ نہیں بلکہ بھلے سجھا دیے ہیں منکروں کو ان کے فریب اور وہ روک دیئے گئے ہیں راہ سےاور جس کو گمراہ کرے اللہ سو کوئی نہیں اس کو بتانے والا

35:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ یعنی آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے بھی استہزاء و تمسخر کیا گیا ہے میں اپنی حکمت بالغہ کے تحت کافروں کو مہلت دیتا ہوں اور پھر اچانک ان کو پکڑ لیتا ہوں، آپ بےفکر رہیں آپ کے دشمنوں کا انجام نہایت دردناک ہوگا۔ 36:۔ یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے جو دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ آخر میں کمن لیس کذلک خبر محذوف ہے اور استفہام انکار کیلئے ہے (مدارک) یعنی اللہ تعالیٰ جو ہر ایک کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے جیسا کہ فرمایا ” اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ شَھِیْدٌ“ (حم سجد رکوع 6) وہ ان معبودان باطلہ کی مانند نہیں ہوسکتا جو نہ عالم الغیب ہیں نہ حاضر ناظر۔ ” وَجَعَلُوْا لِلّہِ شُرَکَاءَ “ زجر ہے مگر اس کے باوجود مشرکین صفاتِ کارسازی سے عاری اور عاجز مخلوق کو خدا کے شریک بناتے ہیں۔ ” قُلْ سَمُّوْھُمْ “ یعنی ان خود ساختہ معبودوں کے وہ کمالات تو بیان کرو جن کی وجہ سے تم انہیں الوہیت کا درجہ دیتے ہو۔ ” قل اذکروا صفاتھم وانظرو ھل فیھا ما یستحقون بہ العبادۃ ویستاھلون الشرکۃ “ (روح ج 13 ص 161) ۔
Ayah 13:34

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان کو مار پڑتی ہے37 دنیا کی زندگی میں اور آخرت کی مار تو بہت ہی سخت ہے اور کوئی نہیں ان کو اللہ سے بچانے والا

37:۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایک چیز کی اطلاع دیتے ہو جس کے وجود کا خود اسے علم نہیں ہے یعنی تم اللہ کو بتاتے ہو کہ زمین میں اس کے شریک موجود ہیں حالانکہ اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب اللہ کا کوئی شریک نہیں تو اس کا علم کیسے ہو کیونکہ شریک باری تعالیٰ معدوم محض ہے اگر ہوتا تو اللہ کے علم میں ہوتا۔ ” اَمْ بِظَاھِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ “ یا ویسے ہی بکواس کرتے ہیں اور ظاہری طور پر اپنے ٹھاکروں کو معبود کہتے ہیں اگرچہ وہ صفات معبودیت سے عاری ہیں۔ ” بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ الخ “ بلکہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے ان کو اپنی تمام مشرکانہ اور معاندانہ چالیں اچھی معلوم ہوتی ہیں اور اس طرح توفیق ہدایت سے محروم ہوچکے ہیں۔ اب ان کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔
Ayah 13:35

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

حال جنت کا جس کا وعدہ ہے پرہیزگاروں سے بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں میوہ اس کا ہمیشہ ہے اور سایہ بھی یہ بدلہ ہے ان کا جو ڈرتے رہے اور بدلہ منکروں کا آگ ہے38

38:۔ یہ مذکورہ بالا معاندین کے لیے دنیوی اور اخروی تخویف ہے۔ ” مَثَلُ الْجَنَّۃِ الخ “ یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 13:36

وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ Open ayah 13:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جن کو ہم نے دی ہے کتاب خوش ہوتے ہیں اس سے جو نازل ہوا تجھ پر اور بعضے فرقے نہیں مانتے اس کی بعضی بات کہہ39 مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ بندگی کروں اللہ کی اور شریک نہ کروں اس کا، اسی کی طرف40

39:۔ یہ مومنین اہل کتاب سے نقلی دلیل ہے۔ اہل کتاب کے علماء جو کتب سابقہ کے عالم ہیں وہ ہر اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی یہ بھی اس کی سچائی کی ایک دلیل ہے علماء اہل کتاب قرآن کی تصدیق اس لیے کرتے ہیں کہ اس تمام بیانات کتب سابقہ کے عین مطابق ہیں۔ مراد اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے اور احزاب سے علماء اہل کتاب قرآن کی تصدیق اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے تمام بیانات کتب سابقہ کے عین مطابق ہیں۔ مراد اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے اور احزاب سے مراد یہود و صاریٰ ہیں ان میں اسے اکثر لوگ نہیں مانتے۔ (روح) یا ” اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ “ سے صحابہ کرام مراد ہیں اور احزاب سے مشکرین مکہ اس سے صورت میں اَلْکِتَابَ سے قرا ان مراد ہوگا (قرطبی) 40:۔ یہ دوسری دلیل وحی ہے۔ یعنی مجھے اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے حکم دیتا ہے کہ میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کروں، صرف اسی کو پکاروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں۔ اس لیے میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی توحید ہی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہوں اور آخر اسی کے پاس جانا ہے۔
Ayahs 13:37–38

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ Open ayah 13:37 in the Quran reader

اور اسی طرح اتارا ہم نے یہ کلام حکم عربی زبان میں41 اور اگر تو چلے ان کی خواہش کے موافق بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچ چکا کوئی نہیں تیرا اللہ سے حمایتی اور نہ بچانے والا

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ Open ayah 13:38 in the Quran reader

اور بھیج چکے ہیں ہم کتنے رسول تجھ سے پہلے41 اور ہم نے دی تھیں ان کو جو روئیں اور اولاد اور نہیں ہوا کسی رسول سے کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے اذن سے ہر ایک وعدہ ہے لکھا ہوا

41:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یہ ماقبل کے تمام دلائل سے متعلق ہے۔ یعنی مذکورہ دلائل وبراہین کے ساتھ ہم نے یوں قرٓان کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ ” وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاءَھُمْ “ یہ زجر ہے جو دلائل مذکورہ پر متفرع ہے یعنی جب آپ کے پاس عقل ونقل اور وحی کے دلائل کے ساتھ مسئلہ توحید کی سچائی کا علم الیقین آگیا اب بھی اگر آپ نے مشرکین کی طرف میلان کیا تو پھر ہمارے عذاب سے دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں بچا سکتی۔ خطاب آنحضرت ﷺ سے اور مقصود امت کی تعلیم ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر بفرض محال آپ ان دلائل کے ہوتے ہوئے مشرکین کی بات مان لی تو آپ بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
Ayah 13:39

یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ Open ayah 13:39 in the Quran reader

مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب42

42:۔ دلائل و تمثیلات سے مسئلہ واضح کرنے کے بعد مشرکین کے چار سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ سوال مقدر اول کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے یہ عجب پیغمبر ہے کہ اس کے بیوی بھی ہے اور بچے بھی فرمایا آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے بھی بیوی بچے تھے اس لیے یہ کوئی وجہ انکار نہیں۔ ” مَاکَانَ لِرَسُوْلٍ الخ “ یہ سوال مقدر دوم کا جواب ہے۔ کوئی معجزہ لاؤ پھر پم مانیں گے فرمایا معجزہ لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں جب اللہ چاہتا ہے اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر فرما دیتا ہے۔ ” لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ“ یہ سوال مقدر سوم کا جواب ہے۔ جب ہم نہیں مانتے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ فرمایا ہمارے یہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے اس لیے اگر تم انکار پر اڑے رہے تو عذاب ضرور آئے گا مگر اپنے وقت پر۔ ” یَمْحُوْ اللہُ مَایَشَاءُ وَ یُثْبِتُ “ یہ سوال مقدر چہارم کا جواب ہے۔ جب عذاب لا محالہ آئے گا تو ماننے سے کیا فائدہ ؟ فرمایا محو و اثبات ہمارے اختیار میں ہے اگر مان لوگے تو عذاب ٹل جائے گا۔
Ayah 13:40

وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ Open ayah 13:40 in the Quran reader

اور اگر دکھلائیں ہم تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم نے کیا ہے ان سے یا تجھ کو اٹھا لیویں43 سو تیرا ذمہ تو پہنچا دینا ہے اور ہمارا ذمہ ہے حساب لینا

43: تخویف دنیوی ہے آپ ﷺ نے اپنا فریضہ تبلیغ ادا کردیا اگر وہ نہیں مانتے اور ضد و انکار پر قائم ہیں تو ہم انہیں سخت عذاب دیں گے خواہ آپ کی زندگی میں خواہ آپ کی وفات کے بعد۔ آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو عبرت ناک سزا دی اسی طرح آپ کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ باقی ماندہ دشمنانِ اسلام کو مبتلائے عذاب کیا۔ آپ کا کام ہے تبلیغ اور ہمارا کام ہے دنیا وآخرت میں تکذیب و انکار پر ان کا محاسبہ کرنا۔