Ayah 13:4144:۔ تخویف دنیوی ہے۔ اَلْاَرْضَ سے ارض کفر و شرک مراد ہے۔ یعنی ارض الشرک۔ قال اکثر المفسرین المراد منہ فتح دار الشرک فان مازاد فی دار الاسلام فقد نقصد فی دار الشرک (خاذن ج 4 ص 29) ۔ کیا مشرکین نہیں دیکھ رہے کہ دنیا میں توحید پھیلتی جا رہی ہے اور شرک و کفر مٹتا جا رہا ہے، مشرکین کے زیر قبضہ علاقے فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آرہے ہیں اس طرح اہل اسلام سے ہم نے وعدے کیے تھے وہ سچے ثابت ہو رہے، کیا اب بھی انکار کی کوئی گنجائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل اور محکم ہے اسے کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو سربلند کرنے اور دشمنان پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کو مقہور و مغلوب کرنے کا فیصلہ فرما چکا ہے اس لیے ایسا ہو کر رہے گا۔ وقد حکم لک ولاتباعک بالعز والاقبال وعلی اعدائک و مخالفیک بالقھر والاذلال حسب ما یشاھدہ ذو و الابصار الخ (روح ج 13 ص 174) ۔
Ayah 13:4245:۔ امم سابقہ کے کافروں نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کئی مکر و فریب کیے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے مکر و فریب سے بچا لیا ” فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا “ ثم فسر ذلک بقولہ یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ ۔ (مدارک ج 2 ص 190) ۔
Ayah 13:4346:۔ یہ شکوی ہے۔ کفار مکہ محض عناداً و مکابرۃً کہتے کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں حالانکہ وہ آپ کی صداقت کے دلائل قاہرہ اور آپ کی رسالت و نبوت پر معجزات واضحہ کا مشاہدہ کرچکے تھے۔ ” قُلْ کَفٰی بِاللہِ شَھِیْدًا الخ “۔” وَ مَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ “ سے علماء اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) مراد ہیں جو اسلام لا چکے تھے۔ ان کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ مشرکین مکہ ان پر اعتماد کرتے تھے۔ ” کانت شھادتھم قاطعۃ لقول الخصوم وھوم مؤمنوا اھل الکتب کعبداللہ بن سلام و سلمان الفارسی و تمیم الداری والنجاشی و اصحابہ قالہ قتادۃ و سعید بن جبیر “ (قرطبی ج 19 ص 335) ۔ یعنی اگر مشرکین مکہ آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں تو آپ فرما دیں تمہارے انکار سے کیا ہوتا ہے میری صداقت پر خداوند تعالیٰ شاہد ہے اور اہل کتاب کے وہ علماء جن کی باتوں پر تم اعتماد کرتے ہو وہ بھی میری رسالت و نبوت کے شاہد عدل ہیں۔ اس لیے اب تمہارے انکار کی کوئی گنجائش نہیں تم محض ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کر رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ اس نے قرٓان میں آپ ﷺ کی صداقت کے واضح دلائل نازل فرما دئیے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ” لٰکِنِ اللہُ یَشْھَدُ بِمَا اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ الایۃ “ (نساء ع 23) ۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔
سورة رعد میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات
1 ۔ ” اَللہُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ کُلُّ اُنْثی “۔ تا۔ ” سَارِبٌ بِالنَّھَارِ “۔ نفی علم غیب از غیر اللہ۔
2 ۔ ” وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ “ تا ” وَھُوَ شَدِیْدُ الْمِحَال “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف۔
3 ۔ ” لہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ “ تا ” وَ مَا دُعاءُ الْکٰفِرین اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک اعتقادی (شرک فی التصرف و شرک فی الدعاء)
4 ۔ وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ تا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصال (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف
5 ۔ ” قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ “۔ تا۔” وَھُوَ الْوَاحِدُ الْقَھَارِ “ (رکوع 6) نفی شرک فی التصرف۔
6 ۔ ” اَللہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَاءُ وَ یَقْدِرُ “ (رکوع 3) نفی شرک فی التصرف
7 ۔ ” قُلْ اِنَّمَا اُمِرْتُ “ تا ” وَاِلَیْہِ مَاٰب “ (رکوع 5) نفی شرک اعتقادی (شرک فی الدعاء)
8 ۔ ” وَمَاکَانَ لِرَسُوْلٍ “ تا ” لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ“ (رکوع 6) ۔ نفی تصرف و اختیار از رسل علیہم السلام۔
9 ۔ اس سورت میں اس پر تنبہات مذکور ہیں کہ عالم الغیب اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے حاجت و مشکلات میں صرف اسی کو پکارو۔
10 ۔ اللہ کے سوا جن کو مشرکین کارساز سمجھ کر پکارتے ہیں ان کو پکارنا بےسود ہے جیسا کہ پانی کو اپنے پاس آنے کو کہا جائے۔
11 ۔ مسئلہ توحید کا ہر پہلو واضح دلائل کے ساتھ ثابت اور روشن ہوچکا ہے لیکن ضدی اور معاند لوگ ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگرچہ پہاڑ لا کر ان کے سامنے رکھ دئیے جائیں۔ وہ الٹے عناد کی وجہ سے بےت کے اور بےڈھنگے سوالا کریں گے۔
12 ۔ مسئلہ توحید کو صرف وہی لوگ مانیں گے جن کے دلوں میں انابت اور تلاش حق کا جذبہ موجود ہو۔
سورة رعد ختم ہوئی