12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 12:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الرٰ2 یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھ لو

2:۔ یہاں سے ” لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ “ تک تمہید ہے۔ ” اَلْکِتَاب “ سے قرا ان مراد ہے یا یہ سورت جیسا کہ ارشاد ہے ” صُحُفًا مُّکَرَّمَۃً فِیھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃً “ (البینہ) ۔ یہاں ” کُتُبٌ“ صحفیوں کے حصوں کو فرمایا۔ ” اَلْمُبِیْن “: یہ اشارہ ہے کہ اس سورت میں دلیل نقلی ذکر کی جائے گی۔ ” قُرْاٰنًا “: حال مؤطئہ ہے ” عَرَبِیًّا “ کے لیے یہ حال ہے اور ” عَرَبِیًّا “ اس کی صفت ہے (مظہری) ۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم بیان کرتے ہیں تیرے پاس3 بہت اچھا بیان اس واسطے کہ بھیجا ہم نے تیری طرف یہ قرآن اور تو تھا اس سے پہلے البتہ بیخبروں میں4

3:۔ علماء یہود نے مشرکین سے کہا کہ محمد سے پوچھو آل یعقوب شام سے مصر کیسے منتقل ہوئی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کیا قصہ ہے اس پر یہ سورت نازل ہوئی (بیضاوی) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی کہ آپ ہمیں کوئی عبرت آموز قصہ سنائیں اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف نازل فرمائی (خازن) ۔ ” اَحْسَنَ الْقَصَصِ “ اس قصے کو احسن القصص اس لیے کہا گیا کہ اس سے دو نہایت اہم مسئلے واضح ہوجاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی متصرف و مختار ہے اور ساری مخلوق اس کی قضاء وقدر کے سامنے عاجز اور بےبس ہے۔ و قد افادت انہ لا دافع لقضاء اللہ تعالیٰ و لا مانع من قدرہ وانہ سبحانہ اذا قضی لانسان بخیر و مکرمۃ فلو ان اھل العالم اجتمعوا علی دفع ذلک لم یقدروا (روح ج 12 ص 176) ۔ یا ” اَحسَنَ الْقَصَص “ اس لیے فرمایا کہ یہ واقعہ جس فصاحت و بلاغت اور حسن اداء سے بیان کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یا یہ عبرتوں، نصیحتوں اور حکمتوں سے لبریز ہونے کی وجہ سے احسن القصص ہے۔ کونہ احسن القصص لما فیہ من العبر و النکت والحکم والعجائب التی لیست فی غیرھا (کبیر ج 18 ص 85) ۔ 4: یہ قصہ بیان کرنے سے پہلے آپ کو اس کی تفصیلات کا علم نہ تھا۔ ” اِنْ کُنْتَ “ میں ” اِنْ “ مخففہ من المثقلہ ہے اور ضمیر شان محذوف ہے۔ ان مخففۃ من الثقیلۃ واللام فارقۃ بینھا وبین النافیۃ یعنی وان الشان (مدارک ج 2 ص 161) ۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جس وقت5 کہا یوسف نے اپنے باپ سے اے باپ میں نے دیکھا خواب میں گیارہ ستاروں کو6 اور سورج کو اور چاند کو دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے

5:۔ یہاں سے قصے کی ابتداء ہوتی ہے اور یہ پندرہ احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” اِذْ “ ظرف ہے جس کے لیے متعلق کا ہونا ضروری ہے۔ تفسیر عباسی میں ہے کہ ” اِذْ “ بمعنی قَدْ ہے اس صورت میں اسے متعلق کی ضرورت ہی نہیں۔ اور بعض مفسرین اِذْ کا عامل متعلق اُذْکُرْ مقدر مانتے ہیں۔ اُذْکُرْ چونکہ فعل متعدی ہے اور مفعول کو چاہتا ہے اس لیے اَلْقِصّۃَ مفعول مقدر ہوگا ای اذکر القصۃ اذقال الخ۔ لیکن اس پر یہ اشکا ہے کہ جب یہ قصہحضور ﷺ کو معلوم ہی نہ تھا تو قصہ بیان کرنے کا حکم کس طرح دیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وحی کے ذریعہ آپ کو قصہ معلوم ہوگیا اس لیے بیان کرنے کا حکم دینا درست ہے۔ نیز رضی نے کہا ہے کہ ” اُذْکُرْ “ کے معنی غور و فکر کرنے کے ہیں یعنی اس قصے میں غور و فکر کرو اور اس سے عبرت حاصل کرو۔ بعض نے ظرف کو ” الْغٰفِلِیْنَ “ اور بعض نے ” نَقُصُّ “ کے متعلق قرار دیا ہے (روح) حضرت شیخ (رح) تعالیٰ نے فرمایا نحویوں کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ ظروف کے متعلقات ان سے مؤخر بھی ہوسکتے ہیں اس لیے بہتر یہ ہے کہ ” اِذْ “ کا متعلق ” قَالَ یٰبُنَیَّ “ مؤخر ہو۔ معنی یہ ہوں گے کہ جب یوسف نے اپنا خواب اپنے باپ سے بیان کیا تو انہوں نے کہا الخ۔ 6:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بچپن میں خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کے سامنے جھک گئے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب اپنے والد بزرگوار حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ذکر کیا وہ اس کی تعبیر سمجھ گئے اور اس سے اپنے بیٹے کے آئندہ فضل و کمال کا اندازہ لگا لیا۔ تعبیر میں گیارہ ستاروں سے گیارہ بھائی اور شمس (سور ج) سے والد اور قمر (چاند) سے خالہ مراد ہیں کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ حضرت راحیل فوت ہوچکی تھیں۔ عن السدی ان القمر خالتہ لان امہ راحیل قد ماتت (روح ج 12 ص 180) ۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

کہا اے بیٹے7 مت بیان کرنا خواب اپنا اپنے بھائیوں کے آگے پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب، البتہ شیطان ہے انسان کا صریح دشمن

7:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کے خواب سے اندازہ لگا لیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے حکمت و نبوت سے سرفراز فرمائے گا اور اسے دنیا و آخرت میں شرف و فضیلت کے مقام بلند پر فائز کرے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بعض قرائن سے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے یوسف اور بنیامین سے حسد رکھتے ہیں اس لیے یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے سامنے اپنا خواب بیان کرنے سے منع فرما دیا جس کی تعبیر یہ تھی کہ سب بھائی ان کے سامنے جھکیں گے کیونکہ وہ اس کی تعبیر سمجھ جائیں گے اور مبادا تمہارے ہلاک کرنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ ان یعقوب (علیہ السلام) کان شدیدا الحب لیوسف و اخیہ فحسدہ اخوتہ لھذا السبب و ظھر ذلک المعنی لیعقوب (علیہ السلام) بالامارات الکثیرۃ فلما ذکر یوسف (علیہ السلام) ہذہ الرؤیا وکان تاویلھا ان اخوتہ وابویہ یخضعون لہ فقال لا تخبرھم برؤیاک فانھم یعرفون تاویلھا فیکیدوا لک کیداً (کبیر ج 18 ص 89) وانما قال لہ ذلک لما انہ (علیہ السلام) عرف من رؤیاہ ان سیبلغہ اللہ تعالیٰ مبلغا جلیلا من الحکمۃ ویصطفیہ للنبوۃ وینعم علیہ بشرف الدارین فخاف علیہ حسدا لاخوۃ الخ (روح ج 12 ص 181) ۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح8 برگزیدہ کرے گا تجھ کو تیرا رب اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا اور پورا کرے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھر پر جیسا پورا کیا ہے تیرے دو باپ دادوں پر اس سے پہلے ابراہیم اور اسحاق پر البتہ تیرا رب خبردار ہے حکمت والا

8:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ ” وَ یُعَلِّمُکَ “ اور ” وَ یُتِمُّ نِعْمَتَہٗ “ الخ ” یَجْتَبِیْکَ “ کی تفسیر ہے۔ ” مِنْ تَاوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ “ میں من بعضیہ ہے۔ تاویل الاحادیث سے امام مجاہد اور سدی کے نزدیک خوابوں کی تعبیر مراد ہے، حسن بصری کے نزدیک معاملات کے انجام اور امام زجاج کے نزدیک کتب سماویہ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی احادیث کے معانی کا بیان مراد ہے (خازن، مدارک، روح) ۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں یہ نبوت کی طرف اشارہ ہے اور اس سے کتب سابقہ اور دلائل توحید کا بیان مراد ہے۔ ای احادیث الامم والکتب و دلائل التوحید ھفو اشارۃ الی النبوۃ (قرطبی ج 9 ص 129) اور تمام نعمت سے دینی اور دنیوی نعمتوں کا عطا کرنا مقصود ہے۔ بان وصل لھم نعمۃ الدنیا بنعمۃ الاخری ای جعلھم انبیاء فی الدنیا وملوکا و نقلھم عنھا الی الدرجات العلی فی الجنۃ (مدارک ج 2 ص 162) ۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

البتہ ہیں یوسف کے قصے میں اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں پوچھنے والوں کے لیے9

9:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے اس قصے میں سوال کرنیوالوں کے لیے عبرت اور اطمینان کی نشانیاں ہیں۔ سائلین سے یا تو وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے یہود مدینہ کے کہنے پرحضور ﷺ سے سوال کیا تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی آل و اولاد ملک شام سے مصر میں کس طرح منتقل ہوئی۔ اس طرح یہ آنحضرت ﷺ کی صداقت پر بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ نے وحی کے ذریعے یہ قصہ پورا پورا صحیح تفصیلات کے ساتھ بیان فرما دیا۔ یا سائلین سے معترضین مراد ہیں جو توحید پر اعتراض کرتے تھے اس قصے میں ان کے لیے بھی بہت بڑی عبرت و نصیحت ہے کیونکہ قصے کی ہر کڑی سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نبی، ولی یا فرشتہ عالم الغیب، متصرف و مختار اور کارساز نہیں۔
Ayahs 12:8–9

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب کہنے لگے البتہ یوسف10 اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے اور ہم ان سے قوت والے لوگ ہیں، البتہ ہمارا باپ صریح خطا پر ہے

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

مار ڈالو یوسف کو یا پھینک دو کسی ملک میں کہ خالص رہے تم پر توجہ تمہارے باپ کی اور ہو رہنا اس کے بعد نیک لوگ

10:۔ یہ قصے کی دوسری کڑی ہے۔ براران یوسف نے آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف اور بنیامین کو ہمارے والد بزرگوار ہم سے زیادہ چاہتے ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں مگر اس کے باوجود محترم اباجان ہمیں اتنی اہمیت نہیں دیتے معلوم نہیں کہ وہ کس بھول میں ہیں۔ ” اُقْتُلُوْا یُوْسُفَ الخ “ اس لیے یوسف کو راستہ سے ہٹٓنے کے لیے یا تو اسے قتل کردیا جائے یا اسے کسی دور دراز علاقے میں چھوڑ دیا جائے جہاں سے اس کی کوئی خبر نہ آئے تاکہ ہم ہی والد بزرگوار کی محبت و شفقت کا مرکز بن جائیں اور بعد میں اس گناہ سے توبہ کرلیں۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

بولا ایک بولنے والا ان میں11 مت مار ڈالو یوسف کو اور ڈال دو اس کو گم نام کنوئیں میں کہ اٹھالے جائے اس کو کوئی مسافر اگر تم کو کرنا ہے

11:۔ یہ ” اِذْ قَالُوْا “ کا متعلق ہے لہذا اس سے پہلے ” اُذْکُرْ “ مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ یعنی جب بھائیوں نے مذکورہ بالا مشورہ کیا اس وقت ان میں سے ایک نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اسے جنگل میں سر راہ کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو کوئی گذرنے والا قافلہ اسے نکال کر کسی دوسرے علاقے میں لے جائے اس طرح تمہار مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور یوسف کی جان بھی بچ جائے گی۔ اکثر مفسرین کی رائے میں یہ قائل یہودا تھا جو سب سے بڑا تھا۔ آخر سب نے اتفاق کیا کہ یوسف کو قتل کرنے کے بجائے کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیا جائے جیسا کہ آئندہ تفصیلات سے پتہ چلتا ہے۔ بھائیوں نے مل کر یہ پروگرام بنایا مگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اس کا کوئی علم نہیں۔ اس سے ان کے غیب داں ہونے کی نفی ہوتی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرزندان یعقوب (علیہ السلام) کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ ان کے والد گرامی غیب نہیں جانتے تھے کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی یہی تعلیم تھی کہ اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں۔ ورنہ وہ ایسا کوئی منصوبہ نہ بناتے۔
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

بولے اے باپ کیا بات ہے12 کہ تو اعتبار نہیں کرتا ہمارا یوسف پر اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

بھیج اس کو ہمارے ساتھ کل کو خوب کھائے اور کھیلے اور ہم تو اس کے نگہبان ہیں

12:۔ یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے جدا کرنے کا پروگرام بنا کر والد گرامی کی خدمت میں آئے اور کہا کہ یوسف کے بارے میں آپ ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا عزیز بھائی ہے اور ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ آپ اسے ہمارے ساتھ بھیجیں باہر سیر و تفریح سے دل بہلائے گا اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔
Ayahs 12:13–14

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

بولا مجھ کو غم ہوتا ہے13 اس سے کہ تم اس کو لے جاؤ اور ڈرتا ہوں اس سے کہ کھا جائے اس کو بھیڑیا اور تم اس سے بیخبر رہو

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

بولے اگر کھا گیا اس کو بھیڑیا اور ہم ایک جماعت ہیں قوت ور تو تو ہم نے سب کچھ گنوا دیا

13:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا اس کی جدائی میرے لیے باعث غم ہے نیز مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا تمہاری غفلت سے اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے بھیڑئیے کی تخصیص اس لیے کی کہ اس علاقے میں بھیڑئیے بکثرت پائے جاتے تھے۔ وخصہ بالذکر لان الارض علی ما قیل کانت مذئبۃ (روح ج 12 ص 195) ۔ ” قَالُوْا لَاِنْ اَکَلَہٗ الخ “۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب لے کر چلے اس کو14 اور متفق ہوئے کہ ڈالیں اس کو گمنام کنوئیں میں اور ہم نے اشارہ کردیا اس کو کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے

14:۔ ” اَجْمَعُوْا “ یعنی یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں پھینکنے پر متفق ہوگئے یہ ” ذَھَبُوْا “ پر معطوف ہے اور ” لَمَّا “ کی جزاء محذوف ہے ای فعلوا بہ ما فعلوا من الاذی (مدارک ج 2 ص 164) ۔ ” وَ اَوْحَیْنَا اِلَیْہِ الخ “ حسن، مجاہد، ضحاک اور قتادہ کے نزدیک وحی نبوت مراد ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو صغر سن ہی میں نبوت مل گئی تھی۔ امام مجاہد نے ایک قول میں اور دیگر مفسرین نے وحی سے الہام مراد لیا ہے یعنی ہم نے یوسف کے دل میں یہ بات ڈال دی۔ جیسا کہ شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا ” وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ “ (قرطبی و روح) ۔
Ayahs 12:16–17

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور آئے اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے15

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے اے باپ ہم لگے دوڑنے آگے نکلنے کو اور چھوڑا یوسف کو اپنے اسباب کے پاس پھر اس کو کھا گیا بھیڑیا اور تو باور نہ کرے گا ہمارا کہنا اور اگرچہ ہم سچے ہوں

15:۔ رات کو سب بھائی روتے ہوئے گھر پہنچے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے یوں بہانہ کرنے لگے کہ ہم دوڑتے ہوئے آگے نکل گئے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھور گئے واپس آئے تو اسے بھیڑیا کھاچکا تھا۔ ” وَجَاءُوْا عَلیٰ قَمِیْصِہٖ الخ “۔” کَذِب “ ای مکذوب فیہ او ذی کذب اور ” بِدَمٍ “ میں باء تعدیہ کے لیے ہے۔ یعنی وہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر ایسا خون لگا کرلے آئے جو ان کا نہ تھا وہ بکری کا بچہ یا ہرن ذبح کر کے اس کے خون میں یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ لت پت کر کے لے آئے مگر ان سے یہ چوک ہوگئی کہ کرتہ پھاڑنا بھول گئے۔ (مدارک، قرطبی) ۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور لائے اس کے کرتے پر لہو لگا کر جھوٹ بولا یہ ہرگز نہیں بلکہ بنا دی ہے تم کو تمہارے جیوں نے ایک بات16 اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو تم ظاہر کرتے ہو

16:۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کرتہ دیکھ کر فرمایا یوسف کو بھیڑئیے نے نہیں کھایا تم نے یوسف کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہیں غائب کردیا ہے۔ بھلا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا جائے اور اس کا کرتہ صحیح و سلامت رہے۔ قال سعید بن جبیر لما جاء وا علی قمیصہ بدم کذب وما کان متخرقا قال کذبت لو اکلہ الذئب لخر قمیصہ الخ (کبیر ج 18 ص 103) ۔ ” مَاتَصِفُوْنَ “ ای علی احتمال ما تصفون۔ یعنی جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس کا غم واندوہ برداشت کرنے پر اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے۔ لختِ جگر چند میلوں کے فاصلے پر ایک کنویں میں پڑا ہے مگر اس کا انکو علم نہیں۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور آیا ایک قافلہ17 پھر بھیجا اپنا پانی بھرنے والا، اس نے لٹکایا اپنا ڈول ' کہنے لگا کیا خوشی کی بات ہے یہ ہے ایک لڑکا اور چھپا لیا اس کو تجارت کا مال سمجھ کر اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور بیچ آئے اس کو بھائی نقص قیمت کو گنتی کی چونیاں اور ہو رہے تھے اس سے بیزار

17:۔ یہ قصے کا تیسرا حال ہے۔ ” یٰبُشْرٰی “ اصل میں یا للبشریٰ تھا (رضی) لام کو بعض اوقات گرا دیتے ہیں۔ معنی یوں ہوگے واہ خوشی۔ کنویں کے پاس سے تاجروں کا ایک قافلہ گذرا، انہوں نے پانی کے لیے اپنا آدمی بھیجا اس نے جب ڈول کنویں میں لٹکایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) ڈول سے لٹک گئے جب اس نے نہایت حسین و جمیل لڑکا ڈول کے ساتھ چمٹا ہوا دیکھا تو اپنے ساتھیوں کو اس کی خوشخبری سنائی۔ ” وَ اَسَرُّوْہُ بِضَاعَۃً “ انہوں نے قافلے کے دوسرے لوگوں سے یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ یہ کہہ کر چھپا دیا کہ کنویں والوں نے یہ غلام ہمیں دیا ہے تاکہ ہم اسے بیچ کر رقم ان کو واپس کردیں۔ قال مجاھد اسرہ مالک بن دعر و اصحابہ عن التجار الذین معہم فی الرفقۃ وقالوا ھو بضاعۃ استبضعنا ھا بعض اھل الشام او اھل ھذا الماء الی مصر وانما قالوا ھذا خیفۃ الشرکۃ (قرطبی ج 9 ص 154) ۔ ” وَ شَرَوْہُ بِثَمَنٍ الخ “” شَرَوْہُ “ ای باعوہ۔ مصر پہنچ کر انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اونے پونے داموں فروخت کردیا اور ان میں بےرغبتی کا مظاہرہ کیا اصل میں وہ یہ چاہتے تھے کہ اس کے جتنے بھی دام وصول ہوجائیں غنیمت ہے ایسا نہ ہو کہ مالک یا وارث آجائے اور اسے فروخت کرنے سے پہلے ہی ان سے چھین لے۔
Ayah 12:21

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور کہا جس شخص نے خرید کیا اس کو18 مصر سے اپنی عورت کو آبرو سے رکھ اس کو شاید ہمارے کام آئے یا ہم کرلیں اس کو بیٹا اور اسی طرح جگہ دی ہم نے یوسف کو19 اس ملک میں اور اس واسطے کہ اس کو سکھائیں کچھ ٹھکانے پر بٹھانا باتوں کا اور اللہ طاقتور رہتا ہے اپنے کام میں و لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

18:۔ یہ چوتھا حال ہے۔ قافلے والے یوسف (علیہ السلام) کو معمولی داموں میں مصر میں بیچ کر چلے گئے۔ جس نے قافلہ والوں سے خریدا تھا اس سے شاہ مصر ریان بن ولید کے وزیر خزانہ قطفیر ملقب بعزیز نے خریدا۔ بعض نے لکھا ہے کہ عزیز مصر قطفیر نے براہ راست قافلہ والوں سے خریدا تھا۔ قال ابن عباس انما اشتراہ قطفیر وزیر ملک مصر۔ واکان ھذا العزیز الذی اشتری یوسف علی خزائن الملک (قرطبی ج 9 ص 158) ۔ عزیز مصر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید کر گھر لے گیا اور بیوی سے کہا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور کھانے، پینے اور پہننے کو اچھا دینا ممکن ہے یہ بڑا ہو کر ہمارے کسی کام آئے یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے۔ کیونکہ ان کے کوئی اولاد نہ تھی۔ 19:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے۔ ” وَ لِنُعَلِّمَہٗ “ کا معطوف علیہ محذوف ہے ای لنکرمہ۔ یعنی یوں ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کے گھر عزت و اکرام کی جگہ دی تاکہ ہم اسے عزت دیں اور تاکہ اسے تعبیر رؤیا کا علم عطا کریں۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب پہنچ گیا اپنی قوت کو20 دیا ہم نے اس کو حکم اور علم اور ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی والوں کو

20:۔ یہ پانچواں حال ہے ” اَشُدَّ “ کی تفسیر میں اقوال مختلف ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے تینتیس سال سے اس کی تفسیر فرمائی ہے۔ امام رازی کے نزدیک یہی راضح ہے (کبیر ج 18 ص 110) ۔ ” حُکْمًا وَّ عِلْمًا “ حکم سے نبوت اور علم سے شریعت مراد ہے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے عن ابن عباس ان الحکم النبوۃ والعلم الشریعۃ (روح ج 3 ص 209) ۔ وقال مجاھد العقل والفہم والنبوۃ۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

پھسلایا اس کو اس کی21 عورت نے جس کے گھر میں تھا اپنا جی تھامنے سے اور بند کردیے دروازے اور بولی شتابی کر کہا خدا کی پناہ22 عزیز مالک ہے میرا اچھی طرح رکھا ہے مجھ کو، بیشک بھلائی نہیں پاتے جو لوگ کہ بےانصاف ہوں

21:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) حسن و جمال میں یگانہ روزگار اور یکتائے زمانہ تھے، عزیز مصر کی بیوی جس کے گھر میں وہ رہتے تھے ان پر فریفتہ ہوگئی اور انہیں گناہ پر اکسانے میں لگ گئی۔ ” عَنْ نَّفْسِہٖ “ ، ” رَاوَدَتْ “ کے متعلق ہے یعنی اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) سے ان کے نفس کا مطالبہ کیا۔ مراد جماع کا مطالبہ ہے ای طلبت یوسف ان یواقعہا (مدارک ج 2 ص 166) ۔ ” غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ “ گھر کے تمام دروازے بند کرلئے۔ قرآن سے دروازوں کو تالے لگانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ” ھَیْتَ لَکَ “ یہ اسم فعل ہے بمعنی تعال و اسرع یعنی جلدی کر۔ 22:۔ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل محذوف ای اعوذ معاذ اللہ۔ ” رَبِّیْ “ سے عزیز مصر مراد ہے جس نے ان کو ناز و نعم سے روکھنے کا حکم دیا تھا یا رب حقیق مراد ہے جس نے یہ اسباب مہیا فرمائے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس عورت کے جواب میں فرمایا میں اس فعل سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تو میرے آقا کی بیوی ہے جس نے مجھ پر بےپایاں احسانات کیے۔ اس لیے اس کی عزت کو ہاتھ ڈالنا بہت بڑی نمک حرامی ہے میں یہ کام ہرگز نہیں کروں گا۔ یا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ کنویں سے نکال کر اس آرام و راحت کی جگہ پہنچایا تو اب میں کیونکر اس کی ناشکری کروں۔
Ayahs 12:24–25

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور البتہ عورت نے فکر کیا23 اس کا اور اس نے فکر کیا عورت کا اگر نہ ہو ہوتا یہ کہ دیکھے قدرت اپنے رب کی24 یوں ہی ہوا تاکہ ہٹائیں ہم اس سے برائی25 اور بےحیائی البتہ وہ ہے ہمارے برگزیدہ بندوں میں

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور دونوں دوڑے دروازے کو26 اور عورت نے چیر ڈالا اس کا کرتہ پیچھے سے اور دونوں مل گئے عورت کے خاوند سے دروازے کے پاس بولی اور کچھ سزا نہیں ایسے شخص کی جو چاہے تیرے گھر میں برائی مگر یہی کہ قید میں ڈالا جائے یا عذاب دردناک

23:۔ زلیخا چونکہ برے کام کا پختہ ارادہ کرچکی تھی اس لیے اس کے ارادے کو لام اور قد تاکید کے دو حرفوں کے ساتھ بیان کیا گیا لیکن حضرت یوسف نے فعل بد کا ارادہ ہی نہیں کیا کیونکہ انہوں نے عظمت خداوندی کا نشان دیکھ لیا تھا اسی لیے ان کے ارادے کو برہان پر معلق فرمایا یعنی زلیخا تو ارادہ کرچکی تھی اور یوسف (علیہ السلام) بھی اگر برہانِ رب نہ دیکھتے تو ارادہ کرلیتے۔ امام ابو عبیدہ فرماتے ہیں اس میں تقدیم وتاخیر ہے۔ ” لَوْلَا اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ “ شرط مؤخر ہے اور ” ھَمَّ بِھَا “ جزاء مقدم ہے قال ابو عبیدۃ ھذا علی التقدیم والتاخیر کانہ ارادو لَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ ولولا ان را برھان ربہ لھم بھا (قرطبی ج 9 ص 166) ۔ 24:۔ برہان کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ زلیخا نے کونے میں رکھے ہوئے ایک بت پر پردہ ڈالا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کا سبب پوچھا وہ بولی یہ میرا معبود ہے فعل بد کرتے ہوئے اس سے شرم آتی ہے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تو اس بےحس و بےشعور خدا سے شرماتی ہے تو میں اپنے علیم وخبیر خدا سے کیوں نہ شرماؤں اس لیے انہوں نے برے کام کا ارادہ بھی نہ فرمایا (قرطبی) بعض نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) متمثل ہو کر سامنے آگئے تھے۔ یہ بات کمزور اور بےدلیل ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں برہان سے استقامت اور ربط القلب مراد ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو صلاح وتقویٰ پر اس قدر محکم و مستقیم فرما دیا کہ ان کے دل میں گناہ کا ارادہ بھی پیدا نہ ہوا۔ 25:۔ ” لِنَصْرِفَ “ کا متعلق محذوف ہے ای کذلک ثبتناہ لنصرف یعنی ہم نے یوسف کو یوں ثابت قدم رکھا تاکہ اپنے آقا کی خیانت اور اپنے خالق کی معصیت سے اس کو محفوظ رکھیں کیونکہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا۔ ” اَلسُّوْءُ “ خیانت ” اَلْفَحْشَاء “ زنا (مدارک) ۔ ” اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ “ جملہ تعلیل برائے ماقبل۔
Ayahs 12:26–27

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف بولا اسی نے خواہش کی مجھ سے کہ نہ تھاموں اپنے جی کو اور گواہی دی ایک گواہ نے عورت کے لوگوں میں سے27 اگر ہے کرتہ اس کا پھٹا آگے سے تو عورت سچی ہے اور وہ ہے جھوٹا

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر ہے کرتا اس کا پھٹا پیچھے سے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے

27:۔ یہ شاہد چھوٹا بچہ نہیں تھا جیسا کہ مشہور ہے کیونکہ یہ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔ صحیحین کی روایت میں جن تین بچوں کا مہد میں کلام کرنا ثابت ہے ان میں اس شاہد کا کوئی ذکر نہیں۔ حضرت حسن، عکرمہ، قتادہ اور مجاہد ؓ کا قول ہے کہ شاہد یوسف شیر خوار بچہ نہیں تھا بلکہ ایک دانا آدمی تھا۔ امام سدی فرماتے ہیں وہ زلیخا کا چچازاد بھائی تھا۔ قال الحسن و عکرمۃ وقتادۃ و مجاھد لم یکن صبیا ولکنہ کان رجلاً حکیماً ذا رای وقا ھو ابن عمر المراۃ فحکم (خازن ومعالم ج 3 ص 278) ۔ اس شخص نے اس معاملے میں غور وفکر کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یوسف بےقصور ہے کیونکہ اس کا کرتہ پیچھے پھٹا ہوا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس گناہ سے بچنے کے لیے بھاگا مگر زلیخا نے دوڑ کر اسے پیچھے سے پکڑنے کی کوشش کی ہے اس لیے پیچھے سے اس کا کرتہ پھٹ گیا ہے۔ اگر وہ مجرم ہوتا اور زلیخا اس سے بچنے کی کوشش کرتی تو ہا تھا پائی میں یوسف کا کرتہ آگے سے پھٹنا چاہیے تھا۔ چناچہ اسی بنیاد پر اس نے اپنا فیصلہ دیا۔ ” شَھِدَ “ یہاں بمعنی حَکَمَ ہے۔ و حکم حاکم (خازن و معالم) ۔
Ayahs 12:28–29

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب دیکھا عزیز نے کرتا اس کا پھٹا ہوا پیچھے سے کہا بیشک یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا البتہ تمہارا فریب بڑا ہے28

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف جانے دے اس ذکر کو اور عورت تو بخشوا اپنا گناہ بیشک تو ہی گناہ گار تھی

28:۔ عزیز مصر نے جب دیکھا کہ اس دانا آدمی کے قول کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے پھٹا ہوا ہے تو سمجھ گیا کہ قصور میری بیوی کا ہے اور اپنی بیوی سے خطاب کر کے صاف کہہ دیا کہ تم عورتیں بڑی مکار ہوتی ہو اور اپنا گناہ دوسروں کے سر تھوپنے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتی ہو۔ ساتھ ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ بیشک تم بےقصور ہو مگر اب جانے دو اور اس معاملے کو طول نہ دو یہ میری عزت کا سوال ہے اور اپنی بیوی سے کہا کہ تم قصور وار ہو ایک تو تم نے برے فعل کا ارادہ کیا اور پھر ایک پاکدامن پر تہمت لگائی اس لیے ان گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔ اللہ تعالیٰ نے خود عزیز مصر کی زبان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت اور پاکدامنی کا اعلان کرادیا۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور کہنے لگیں عورتیں اس شہر میں29 عزیز کی عورت خواہش کرتی ہے اپنے غلام سے اس کے جی کو فریفتہ ہوگیا اس کا دل اس کی محبت میں، ہم تو دیکھتے ہیں اس کو صریح خطا پر

29:۔ یہ پندرہ احوال میں سے چھٹا حال ہے۔ زلیخا کے اس واقعہ کی خبر آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی اور مصر کی ہر عورت کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ عزیز مصر کی بیوی اپنے غلام کو برائی پر اکسانے کی کوشش کرتی ہے اور اس پر دل و جان سے فریفتہ ہوچکی ہے۔ ” قَدْ شَغَفَھَا حُبًّا “ یوسف کی محبت زلیخا کے دل کے پردے کو چاک کر کے اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکی ہے۔ خرق حبہ شغاف قلبھا حتی وصل الی الفؤاد (مدارک ج 2 ص ص 168) ۔ ” لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ “۔ وہ نری بےعقل اور صریح غلطی میں ہے۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب سنا30 اس نے ان کا فریب بلوا بھیجا ان کو اور تیار کی ان کے واسطے ایک مجلس اور دی ان کو ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری اور بولی یوسف نکل آ ان کے سامنے پھر جب دیکھا اس کو ششدر رہ گئیں اور کاٹ ڈالے اپنے ہاتھ اور کہنے لگیں حاشا للہ نہیں یہ شخص آدمی یہ تو کوئی فرشتہ ہے بزرگ

30:۔ زلیخا کو جب معلوم ہوا کہ عورتیں اس کو بدنام کر رہی ہیں تو اس نے شہر کی چیدہ عورتوں کو دعوت پر بلایا تاکہ وہ ان کے سامنے اپنا عذر پیش کرسکے۔ نیز اس کا منصوبہ یہ تھا کہ کسی تدبیر سے وہ بھی یوسف (علیہ السلام) پر فریفتہ ہوجائیں اور اس کی ملامت سے باز آجائیں۔ انھا لما سمعت انھن ہلمنھا علی تلک المحبۃ المفرطۃ ارادت ابداء عذرھا فاتخذت مائدۃ ودعت جماعۃ من اکابرھن الخ (کبیر ج 18 ص 127) ۔ زلیخا نے دعوت میں چالیس منتخب عورتوں کو مدعو کیا اور نہایت اعلی سجے ہوئے کمرے میں ان کے لیے جگہ بنائی اور تکیے لگا دئیے۔ اور ہر ایک ہاتھ میں پھل وغیرہ کاٹنے کے لیے ایک ایک چھری تھما دی اور یوسف (علیہ السلام) کو اچانک ان کے کمرے میں داخل ہونے کا حکم دیا عورتوں نے جوں ہی ان کے پیکر حسن و جمال چہرے کو دیکھا حواس باختہ اور مدہوش ہوگئیں اور پھلوں کے بجائے اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ ” اَکْبَرْنَہٗ “ اعظمنہ وھبنہ۔ ابن عباس (قرطبی) یعنی انہیں دیکھ کر دہشت زدہ ہوگئیں۔ ” قُلْنَ حَاشَ لِلّٰہِ “ اور سب عورتیں بول اٹھیں معاذاللہ یہ تو بشر اور انسان ہے ہی نہیں یہ تو کوئی بڑا ہی معزز و مکرم فرشتہ ہے۔ ایسے حسن و جمال اور محاسن صفات کا مالک انسان نہیں ہوسکتا اس لیے لا محالہ یہ تو کوئی بڑا ہی بلند مرتبہ فرشتہ ہے۔ نفین منہ البشریۃ لغرابۃ جمالہ واثبتن لہ الملکیۃ و ؟ ؟ ؟ بھا الحکم لما رکز فی الطباع ان لا احسن من الملک الخ (مدارک ج 2 ص 169) والمقصود من ھذا اثبات الھسن العظیم المفرط لیوسف لانہ قد رکز فی النفوس ان لا شیء احسن من الملک (خازن ج 3 ص 280) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں اس سے ان کا مقصد حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت و براءت کو ظاہر کرنا ہے کہ ایسا بےمثل حسن و جمال، ایسی بھر پور جوانی اور بےخطر خلوت ان حالات میں جو کوئی شخص برائی سے بچتا ہے وہ بلا شبہ فرشتہ ہے۔ لان الجمع بین الجمال الرائق والکمال الفائق والعصمۃ البالغۃ من خواص الملائکۃ (مظہری ج 5 ص 159) ۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

بولی یہ وہی ہے31 کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے واسطے اور میں نے لینا چاہا تھا اس سے اس کا جی پھر اس نے تھام رکھا اور بیشک اگر نہ کریگا جو میں اس کو کہتی ہوں تو قید میں پڑے گا اور ہوگا بےعزت

31:۔ زلیخان نے جب عورتوں کی فریفتگی اور وارفتگی دیکھی تو فورًا بول اٹھی کہ دیکھا یوسف کو دیکھ کر تم خود مبہوم و مدہوش ہوگئی ہو اور یہی میری قصور ہے جس پر تم مجھے ملامت کرتی ہو۔ ” وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّہٗ “ اس میں شک نہیں کہ میں نے یوسف کے اسی بےمثال حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر اسے ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ ” فَاسْتَعْصَمْ “ لیکن وہ صاف بچ گیا ہے اور گناہ سے محفوظ و معصوم رہا ہے۔ یہ زلیخا کی زبان سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور پاکدامنی کی شہادت ہے۔ ” وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ “ اب تک تو یوسف میرے کہنے میں نہیں آیا لیکن یاد رکھے اگر وہ میری بات نہیں مانے گا تو اسے قید کردیا جائے گا اور اس طرح جیل میں اسے چوروں، ڈاکوؤوں اور دیگر جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ ذلت ورسوائی برداشت کرنا پڑے گی۔ یہ زلیخا کی طرف سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ایک دھمکی تھی کہ شاید وہ اس طرح نرم پڑجائیں مگر اللہ کے برگزیدہ پیغمبر نے قید کو گناہ پر ترجیح دی۔
Ayahs 12:33–35

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف بولا32 اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف مجھ کو بلاتی ہیں اور اگر تو نہ دفع کرے گا مجھ سے ان کا فریب تو مائل ہوجاؤں گا ان کی طرف اور ہوجاؤں گا بےعقل

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

سو قبول کرلی اس کی دعا اس کے رب نے پھر دفع کیا اس سے ان کا فریب البتہ وہی ہے سننے والا خبردار

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر یوں سمجھ میں آیا لوگوں کی ان نشانیوں کے دیکھنے پر کہ قید رکھیں اس کو ایک مدت تک

32:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی، میرے آقا ! جس گناہ کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اس سے مجھے قید ہوجانا زیادہ پسند ہے، میرے اللہ ! اگر تو نے ان مکار عورتوں کے فریب سے مجھے نہ بچایا تو میرے دل میں ان کی رغبت پیدا ہوجائے گی اور میں نادانوں میں سے ہوجاؤں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) قادر و متصرف نہ تھے اسی لیے وہ گناہ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دستگیری کی محتاج تھے۔ ” فَا سْتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ الخ “ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے مکر سے ان کو بچا لیا۔ ” ثُمَّ بَدَا لَھُمْ الخ “ یہ ” فَصَرَفَ عَنْہُ کَیدَھُنَّ “ کا بیان ہے۔ عزیز مصر نے جب شہر کی ہوا دیکھی تو اس نے اپنی بدنامی سے بچنے کے لیے کچھ عرصہ تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قید کردینے ہی میں مصلحت سمجھی۔ ” اَلْاٰیٰتِ “ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت کے دلائل و شواہد یا شہری ماحول اور حالات۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) زلیخا کے کہنے کے مطابق قید تو کردئیے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے قید خانے میں ان کو ذلت و رسوائی سے محفوط رکھا۔ وہ اپنی خداداد خوبیوں، محاسن اخلاق، ظاہری اور باطنی کمالات کی وجہ سے جیل میں بھی عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ داروغہ جیل نے ان سے کہہ دیا کہ میں آپ کو رہا کرنے کا اختیار نہیں رکھت اس کے علاوہ جو بھلائی بھی مجھ سے ہوسکے گی میں کروں گا اور جیل میں آپ پر کوئی پابندی نہیں آپ ہر جگہ آجاسکتے ہیں قال لہ عامل السجن یا فتی لو استطعت خلیت سبیلک ولکن ساحسن جو ارک فکن فی ای بیوت السجن شئت (روح ج 12 ص 240) ۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور داخل ہوئے قید خانہ میں اس کے ساتھ دو جوان کہنے لگا ان میں سے ایک میں دیکھتا ہوں کہ میں نچوڑتا ہوں شراب اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اٹھا رہا ہوں اپنے سر پر روٹی کہ جانور کھاتے ہیں اس میں سے، بتلا ہم کو اس کی تعبیر ہم دیکھتے ہیں تجھ کو نیکی والاف 33

33:۔ یہ ساتواں حال ہے۔ اسی اثناء میں شاہ مصر ریان بن ولید اپنے باورچی اور ساقی پر ناراض ہوگیا۔ وجہ یہ تھی کہ شاہ مصر کے دشمنوں نے اسے ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا اور شاہ کے باورچی اور ساقی کو رشوت دے کر کھانے اور شراب میں زہر ملا کر شاہ کو پلانے پر آمادہ کرلیا۔ بعد میں ساقی نادم ہوا اور اس نے زہر دینے سے انکار کردیا لیکن باورچی اپنے عہد پر قائم رہا۔ جب کھانا اور شراب شاہ کے سامنے حاضر کیا گیا تو ساقی نے شاہ سے کہا کہ یہ کھانا مت کھائیے کیونکہ وہ زہر آلود ہے۔ اور باورچی نے شراب کے بارے میں یہی الفاظ کہہ دئیے۔ شاہ نے دونوں کو جیل بھیج کر تحقیقات کا حکم دے یا۔ ساقی نے خواب دیکھا کہ وہ انگور نچوڑ کر شراب بنا رہا ہے اور باورچی نے خواب دیکھا کہ وہ سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے اور پرندے روٹیاں نوچ رہے ہیں۔ دونوں نے دیکھا کہ جیل کے قیدی حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اپنے خواب بیان کرتے ہیں اور وہ نہایت عمدہ تعبیر بیان فرماتے ہیں اس لیے انہوں نے بھی اپنا اپنا خواب ان کے سامنے بیان کیا اور کہا آپ بہت نیک دل اور صالح مرد معلوم ہوتے ہیں آپ ہمارے خوابوں کی بھی تعبیر بیان فرمائیں (روح و قرطبی وغیرہ) ۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

بولا نہ آنے پائے گا تم کو 34 کھانا جو ہر روز تم کو ملتا ہے مگر بتا چکوں گا تم کو اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے یہ علم ہے کہ مجھ کو سکھایا میرے رب نے میں نے چھوڑا دین اس قوم کا کہ ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت سے وہ لوگ منکر ہیں

34:۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور خیال آیا کہ خوابوں کی تعبیر بیان کرنے سے پہلے ان کو مسئلہ توحید سمجھا دیں تاکہ تبلیغ کا حق بھی ادا ہوجائے اور ان کی صحبت کا حق بھی۔ چناچہ دونوں سے فرمایا فکر مت کرو میں قبل اس کے کہ تمہارا کھانا تمہارے پاس پہنچے تمہارے خوابوں کی تعبیر تمہیں بتا دوں گا۔ ” ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ “ یہ تعبیر کا علم ان علوم و معارف میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائے ہیں۔” اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ الخ “ یہ ما قبل کے لیے بمنزلہ علت ہے ان اللہ خصہ بھذا العلم لانہ ترک ملۃ قوم لا یؤمنون باللہ الخ (قرطبی ج 9 ص 191) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ علوم و معارف مجھے اس لیے عطا فرمائے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کا دین و ملت ابتداء ہی سے قبول نہیں کیا جو خدائے واحد پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور پکڑا میں نے دین اپنے باپ دادوں کا35 ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ہمارا کام نہیں کہ شریک کریں اللہ کا کسی چیز کو یہ فضل ہے اللہ کا ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن بہت لوگ احسان نہیں مانتے

35:۔ اور میں اپنے آباء کرام حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت حنیفیہ کا پیرو اور متبع ہوں جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے جو دنیا میں اللہ کی توحید پھیلانے اور دنیا سے شرک کو مٹانے آئے تھے اس لیے ہمارے تو یہ شایانِ شان ہی نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ ” ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللہِ الخ “ یہ توحید ہم پر اور دوسرے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے مگر اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور شرک سے باز نہیں آتے یعنی ان اکثرھم لا یشکرون اللہ علی ھذہ النعم التی انعم بھا علیھم لانھم ترکوا عبادتہ و عبدوا غیرہ (خازن ج 3 ص 284) ۔
Ayahs 12:39–40

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے رفیقو36 قید خانہ کے بھلا کئی معبود جدا جدا بہتر یا اللہ اکیلا زبردست

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے، اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو یہی ہے راستہ سیدھا پر بہت لوگ نہیں جانتے

36:۔ اب جیل کے دونوں ساتھیوں کو حکیمانہ انداز میں اسلام کی دعوت دی اور فرمایا تم خود ہی اپنی خداداد عقل سے سوچو کہ بہت سے خدا اچھے ہیں جن کے سامنے زانوئے عبودیت تہ کرے اور جن کے سامنے سر نیاز مندی جھکائے اور جن سے اپنی حاجتیں مانگے یا صرف ایک خدا اچھا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے اور ساری کائنات پر قاہر ہے۔ بالفاظ دیگر بہت سے بیچارے اور عاجز معبودوں کی محتاجی بھلی یا ایک قادر و توانا خدا کی ؟۔” مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الخ “ اللہ کے سوا جن معبودوں کو تم کارساز اور متصرف و مختار سمجھ کر پکارتے ہو یہ سب تمہارے اور تمہارے آباء و اجداد کے خود ساختہ ہیں۔ تم لوگوں نے ان کو بلا دلیل و حجت معبود بنا رکھا ہے ان کے معبود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ ای سمیتم ما لا یستحق الالہیۃ اٰلھۃ ثم طفقتم تعبدونھا (مدارک ج 2 ص 171) ۔ ” اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ “ اور دین کے معاملے میں اور اس بارے میں کہ کون عبادت اور پکار کا مستحق ہے فیصلہ دینے کا حق صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ای ما الحکم فی شان العبادۃ المتفرعۃ علی تلک التسمیۃ وفی صحتھا الا للہ (روح ج 12 ص 245) ۔ جب یہ فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے تو ” اَمَرَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ “ اس نے حکم دیدیا اور فیصلہ فرما دیا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور حاجات میں کسی اور کو نہ پکارا جائے کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت اور پکارے جانے کے لائق نہیں۔ ” ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ “ یہی یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عابدت اور پکار ہی دین قیم اور مضبوط و محکم ملت ہے جو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ سے ثابت ہے۔ الثابت الذی دلت علیہ البراھین العقلیۃ والنقلیۃ (روح ج 12 ص 245) ۔