11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsجواھر القرآن

Ayah 11:1

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ Open ayah 11:1 in the Quran reader

ا لر یہ کتاب ہے2 کہ جانچ لیا ہے اس کی باتوں کو پھر کھولی گئی ہیں3 ایک حکمت والے4 خبردار کے پاس سے

2: پہلا دعویٰ ۔ صرف اللہ ہی کو پکارو۔ یہ اصل مضمون کے لیے بمنزلہ تمہید ہے۔ کِتَابٌ مبتدا محذوف کی خبر ہے اي ھذا کتاب اور کتاب کی تنوین تعظیم کیلئے یہ عظیم الشان اور جلیل القدر کتاب ہے والتنوین فیه للتعظیم اي کتاب عظیم الشان جلیل القدر (روح ج 11 ص 203) ۔ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُهٗ ، کِتَابٌ کی پہلی صفت ہے۔ آیتوں کے محکم اور مضبوط ہونے سے مراد یہ ہے وہ باہمی تناقض سے محفوظ ہیں، حکمت اور نفس الامر کے خلاف ان میں کوئی بات نہیں اور فصاحت و بلاغ کے اعتبار سے وہ تمام لفظی اور معنوی خوبیوں سے آراستہ ہے (روح) ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تورات و انجیل کی طرح اس کے بعد کوئی ناسخ کتاب نہیں آئیگی۔ قال ابن عباس ای لم ینسخھا کتاب بخلاف التورۃ والانجیل (قرطبی ج 9 ص 2) ۔ 3: ثُمَّ تعقیب ذکری کیلئے ہے تراخی کے لیے نہیں۔ فُصِّلَتْ جدا جدا بیان کی گئی ہیں جس طرح جواہرات کے ہار میں خاص قسم کے آبدار موتی پرو کر اس کے حصے جدا جدا کیے جاتے ہیں اسی طرح قرآن مجید میں دلائل توحید، احکام، نصائح اور واقعات کو ذکر کیا گیا ہے کا لعقد المفصل بالفرائد التی تجعل بین اللآلی و وجہ جعلھا کذلک اشتمالھا علی دلائل التوحید و الاحکام والمواعظ والقصص (روح ج 11 ص 204) ۔ امام زجاج، ابن جریر، فراء اور کسائی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس میں مسئلہ توحید اور نفی شرک کی تفصیل کی گئی ہے اور اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰهَ ، فُصِّلَتْ سے متعلق ہے۔ حوالے آگے آرہے ہیں۔ 4: یہ بھی کِتَابٌ کی صفت ہے یعنی یہ عظیم شان کتاب جو محکم اور مفصل ہے حکیم وخبیر کی طرف سے آئی ہے کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ کتاب کی یہ دونوں صفتیں اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفتوں کا پرتو ہیں المعنی احکمھا حکیم وفصلھا ای بینھا وشرحھا خبیر عالم بکیفیات الامور ففی الایۃ اللف والنشر المرتب (روح ج 11 ص 205 وکذا فی الکبیر) ۔
Ayah 11:2

اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنَّنِیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌۙ Open ayah 11:2 in the Quran reader

کہ عبادت نہ کرو5 مگر اللہ کی میں تم کو اسی کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں

5: یہ پہلا دعوی ہے یعنی یہ سورت جس مسئلہ کی تفصیل کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور غیر اللہ کو مت پکارو۔ اَنْ سے پہلے حرف جار محذوف ہے امام ابن جریر، کسائی اور فراء کے نزدیک اصل میں بِاَلَّا تھا اور جار مجرور فُصِّلَتْ کے متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب مسئلہ توحید اور نفی شرک کی تفصیل ہے ثم فصلت بالا تعبدوا الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وتخلعوا الالھۃ والانداد (ابن جریر ج 11 ص 180) قال الکسائی والفراء ای بالا۔ ای احکمت ثم فصلت بالا تعبدوا الا اللہ اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ الخ (قرطبی ج 9 ص 3) ۔ امام زجاج فرماتے ہیں اَنْ سے پہلے لام تعلیلیہ مقدر ہے ای احکمت ثم فصلت لِئَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّہَ (قرطبی) یعنی قرآن کو محکم اور مفصل اس لیے کیا گیا تاکہ تم غیر اللہ کی عبادت اور پکار چھوڑ دو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کا اصل مقصود بالذات مضمون مسئلہ توحید اور نفی شرک ہے۔ والتقدیر کتاب احکمت ایاتہ ثم فصلت لاجل الا تعبدوا الا اللہ، واقول ھذا التاویل یدل علی انہ لا مقصود من ھذا الکتاب الشریف الا ھذا الحرف الواحد فکل من صرف عمرہ الی سائر المطالب فقد خاب و خسر (کبیر ج 17 ص 180) اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ الخ ای قل یا محمد للناس (ابن جریر)
Ayahs 11:3–4

وَّ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یُؤْتِ كُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ١ؕ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ كَبِیْرٍ Open ayah 11:3 in the Quran reader

اور یہ کہ گناہ بخشواؤ6 اپنے رب سے پھر رجوع کرو اس کی طرف کہ فائدہ پہنچائے تم کو اچھا فائدہ ایک وقت مقرر تک اور دیوے ہر زیادتی والے کو زیادتی اپنی اور اگر تم پھر جاؤ گے تو میں ڈرتا ہوں7 تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے

اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 11:4 in the Quran reader

اللہ کی طرف ہے تم کو لوٹ کر جانا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

6: یہ اور ثُمَّ تُوْبُوْا دونوں اَلَّا تَعْبُدُوْا پر معطوف ہیں۔ اپنے سابقہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگو اور آئندہ کیلئے ان گناہوں (غیر اللہ کی عبادت اور پکار وغیرہ) کے نزدیک نہ جانے کا سچے دل سے عزم کرو۔ یُمَتِّعُکُمْ مَّتَاعًا الخ امر کا جواب ہے یعنی اگر تم شرک سے بچو گے اور اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگتے رہو گے تو تا زندگی اللہ کے عذاب سے محفوط رہو گے۔ قال الزجاج یبقیکم ولا یستاملکم بالعذاب کما استاصل اھل القری الذین کفروا (روح ج 11 ص 208) ۔ وَیُؤْتِ الخ یہ یُمَتِّعُکُمْ پر معطوف ہے اور صالح اور زیادہ نیک اعمال بجالانے والے کو اس کے اعمال صالحہ کی جزاء دنیا وآخرت میں عطا فرمائے گا۔ 7: یہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع کا صیغہ ہے اور ایک تاء تخففًا ساقط ہے اصل میں اِنْ تَتَوَلَّوْا تھا (مدارک ج 2 ص 138 وروح) یا یہ ماضی کا صیغہ ہے مگر اس صورت میں فاء جزائیہ کے بعد لفظ قُلْ محذوف ہوگا ای فقل یا محمد اِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ الخ (خازن ج 3 ص 217) ۔ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ الخ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 11:5

اَلَاۤ اِنَّهُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَهُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْهُ١ؕ اَلَا حِیْنَ یَسْتَغْشُوْنَ ثِیَابَهُمْ١ۙ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ۚ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 11:5 in the Quran reader

سنتا ہے وہ8 دوہرے کرتے ہیں اپنے سینے تاکہ چھپائیں اس سے سنتا ہے جس وقت اوڑھتے ہیں اپنے کپڑے جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ تو جاننے والا ہے دلوں کی بات

8: دوسرا دعویٰ :۔ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ یہ سورت کا دسرا دعوی ہے جو پہلے دعوے کے لیے بمنزلہ علت ہے یعنی چونکہ سب کچھ جاننے والا اور ساری کائنات کا خالق ومالک اور سب کا رازق صر اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لیے حاجات و مشکلات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ مشرکین جب آیات قرآنیہ اور دلائل توحید سنتے تو ان پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا اور ان کے سینوں میں وہی کفر و شرک کی نجاست باقی رہتی ان میں سے کچھ بطور نفاق ایمان کو ظاہر کردیتے اور ان کے دل کفر و شرک اور عداوت اسلام سے لبریز ہوتے اور ان کا خیال تھا کہ عداوت تو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے بھلا اسے کون معلوم کرسکتا ہے، نیز ان کا گمان تھا کہ جب وہ دروازے بند کر کے اور پردے لٹکا کر اور اپنے سینوں کو کپڑوں سے چھپا کر پوشیدہ طور پر اسلام کے خلاف عداوت رکھیں اور منصوبے بنائیں گے تو اس کا علم کسی کو نہیں ہوگا۔ روی ان طائفۃ من المشرکین قالوا اذا اغلقنا ابوابنا وارسلنا ستورنا واستغشینا ثیابنا وثنینا صدورنا علی عداوۃ محمد فکیف یعلم بنا (کبیر ج 17 ص 185) ۔ وہ اپنے سینوں کو دہرا کر کے اور خود کو کپڑوں میں لپیٹ کر اپنے دل کا کفر اور عداوت چھپانا چاہتے ہیں مگر ان تدبیروں کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس طرح ان کے علانیہ اور ظاہری اعمال کو جانتا ہے اسی طرح وہ ان کے پوشیدہ اور خفیہ اعمال سے بھی باخبر ہے یہاں تک کہ ان کے دلوں کے چھپے بھید بھی اسے معلوم ہیں۔ لیکن صحیح ترین بات وہی ہے جو حضرت ابن عباس نے فرمائی ہے کہ یہ آیت بعض مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جن پر حیاء کا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ استنجاء، جماع اور دیگر ضروریات بشری کے وقت بدن کو ننگا کرنے سے شرماتے تھے کہ آسمان والا ہم کو دیکھتا ہے اس پر اللہ نے فرمایا کہ بدن کھولتے وقت وہ خدا سے شرم کی وجہ سے جھک جاتے ہیں تو کیا جب وہ کپڑے پہنے ہوتے ہیں اس وقت اللہ ان کو نہیں دیکھتا ؟ (صحیح بخاری)
Ayah 11:6

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 11:6 in the Quran reader

اور کوئی نہیں9 چلنے والا زمین پر مگر اللہ پر ہے اس کی روزی اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں

9: اور زمین پر رہنے والی ہر ذی روح مخلوق کی روزی بھی اللہ ہی کے زمہ ہے اور وہی سب کا رازق ہے اللہ تعالیٰ نے محض تفضلاً سب کی روزی اپنے ذمہ لی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں۔ وَیَعْلَمُ مُستَقَرَّھَا وَ مُسْتَوْدَعَھَا اور ہر ایک کے مستقر و مستودع کو بھی جانتا ہے۔ ان دونوں لفظوں کی تفسیر میں مکتلف اقوال منقول ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مستقر سے زندگی میں دن یا رات کو رہنے کی جگہ اور مستودع سے مرنے کے بعد فن ہونے کی جگہ مراد ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے مستقر سے ماں کا رحم اور مستودع سے جائے دفن مراد ہے (خازن) کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ : ہر چیز کتاب مبین میں موجود ہے کتاب مبین سے لوح محفوظ یا علم الہی مراد ہے۔ قال الزجاج المعنی ان ذٰلک ثابت فی علم اللہ تعالیٰ ومنھم من قال فی اللوح المحفوظ (کبیر ج 17 ص 1786) ۔
Ayah 11:7

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَئِنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 11:7 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین کچھ دن میں10 اور تھا اس کا تخت پانی پر تاکہ آزمائے تم کو کہ کون تم میں اچھا کرتا ہے کام اور اگر تو کہے11 کہ تم اٹھو گے مرنے کے بعد تو البتہ کافر کہنے لگیں یہ کچھ نہیں مگر جادو ہے کھلا ہوا

10: زمین و آسمان کو اللہ نے صرف چھ دن میں پیدا کیا جو اس کے کمال قدرت کی دلیل ہے۔ وَ کَانَ عَرْشُهٗ عَلَی الْمَاءِ : ماضی بمعنی حال ہے اور عرش کا پانی کے اوپر ہونا حقیقی معنوں پر محمول ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے فیه دلالة علی کمال القدرة من وجوہ الاول ان العرش مع کو نه اعظم من السموات والارض کان علی الماء فلولا انه تعالیٰ قادر علی امساک الثقیل بغیر عمد لما صح ذلک (کبیر ج 7 ص 187) ۔ 11: یہ شکوی ہے ان مشرکین کی ضد کا بھی کوئی کنارہ نہیں یہ مانتے ہوئے کہ ساری کائنات کا خالق واملک اللہ ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے پھر بھی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا صاف انکار کرتے ہیں اور اس حقیقت کو باطل اور کذب قرار دیتے ہیں۔ سَحْرٌ مُّبِیْنٍ : یہاں سحر کا متبادر معنی جادو مراد نہیں بلکہ یہاں وہ بمعنی باطل اور کذب ہے ای غرور باطل لبطلان السحر عندھم (قرطبی ج 9 ص 9) ای باطل مبین (کبیر ج 17 ص 188) ۔
Ayah 11:8

وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 11:8 in the Quran reader

اور اگر12 ہم روکے رکھیں ان سے عذاب کو ایک مدت معلوم تک تو کہنے لگیں کس چیز نے روک دیا عذاب کو، سنتا ہے جس دن آئے گا ان پر نہ پھیرا جائے گا ان سے اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس پر ٹھٹھے کیا کرتے تھے

12:۔ یہ بھی شکوی ہے منکرین معاندین پر عاب آنے کا وقت مقرر ہے لیکن وہ کہتے ہیں ہم انکار پہ انکار کر رہے ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتاکس چیز نے اس کو روک رکھا ہے۔ اَلَا یَوْمَ یَاتِیْھِمْ الخ : جواب شکوی ہے ان معاندین پر عذاب تو ضورر آئے گا اللہ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا لیکن اپنے وقت پر آئے گا اور جب آگیا انہیں چھوڑے گا نہیں اور وہ اپنی بد اعمالیوں اور دین اسلام، پیغمبر خدا ﷺ اور مسلمانوں سے استہزاء و تمسخر کا خوب مزہ چکھ لیں گے۔
Ayahs 11:9–10

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم چکھا دیں13 آدمی کو اپنی طرف سے رحمت پھر وہ چھین لیں اس سے تو وہ ناامید ناشکر ہوتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم چکھاویں اس کو آرام بعد تکلیف کے جو پہنچی تھی اس کو تو بول اٹھے دور ہوئیں برائیاں مجھ سے وہ تو اترانے والا شیخی خورا ہے

13:۔ یہ زجر ہے اور الانسان سے مشرک انسان مراد ہے فرمایا جب ہم مشرکوں کو انسان مراد ہے فرمایا جب ہم مشرکوں کو رحمت سے نوازتے ہیں اور دنیوی آرام و راحت اور فراخی عیش کا ان پر دروازہ کھول دیتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کے خود ساختہ معبودوں کی مہربانی ہے۔ پھر جب ہم نے کے آرام و عیش کو تکلیف اور تنگدستی سے بدل دیتے ہیں تو وہ اپنے معبودوں سے مایوس ہوجاتے ہیں اور ان کا عقیدہ ڈانواں ڈول ہوجاتا ہے اور وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ ہمارے معبود تو کچھ نہیں کرسکتے اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگ جاتے ہیں۔ وَلَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَاءَ الخ : لیکن جب پھر ہم اس کی تکلیف، تنگدستی اور مصیبت وگیرہ دور کر کے اسے دوبارہ راحت و عیش سے ہمکنار کردیتے ہیں تو وہ ہماری ناشکر کر کے اس انعام واکرام کو اپنے معبودوں کی طرف منسوب کر کے کہتا ہے کہ ان کی مہربانی سے مصیبتیں ٹل گئی ہیں جیسا کہ سورة زمر میں فرمایا وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِزَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُوْا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا (زمر رکوع 1) ۔ اسی طرح سورة حم السجدہ رکوع 6 میں فرمایا ل۔ لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَاءِ الْخَیْرِ وَاِنْ مَسَّهٗ الشَّرُّ فَیَئُوسٌ قَنُوْطٌ وَ لَئِنْ اَذَقْنٰہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ھٰذَا لِیْ الایۃ۔ یعنی مشرک انسان اپنے معبودان باطلہ سے حاجات مانگتا ہو اتھکتا نہیں اور اگر اسی دوران میں اس پر کوئی مصیبت آجائے تو اپنے معبودوں سے نامید ہوجاتا ہے اس کے بعد اگر ہم اس کی مصیبتیں دور کر کے اسے راحت کی زندگے سے بہرہ ور کردیں تو ہمارا شکر ادا کرنے کے بجائے کہتا ہے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں ان معبودوں کی نیازیں دوں گا تو میری مشکلیں آسان ہوجائیں گی اور مجھ پر بھلے دن آجائیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Ayah 11:11

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر جو لوگ14 صابر ہیں اور کرتے ہیں نیکیاں ان کے واسطے بخشش ہے اور ثواب بڑا

14:۔ یہ مؤمنین کے لی بشارت اخروی ہے۔ الا بمعنی لکن ہے یعنی وہ ایمان والے جو اللہ ہی کو کارساز اور متصرف و مختار سمجھ کر مصائب و شدائد میں پکارتے اور ہر حال میں صبر کرتے اور اللہ کی عبادت و پکار میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی المومنین مدحھم بالصرب علی الشدائد۔۔۔ ای لکن الذین صبروا وعملوا الصلحت فی حالتی النعمۃ والمحنۃ (قرطبی ج 9 ص 11) (اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا) فی المحنۃ والبلاء (وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ ) وشکروا فی النعمۃ والرخاء (مدارک ج 2 ص 139) ۔
Ayah 11:12

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

سو کہیں تو15 چھوڑ بیٹھے گا کچھ چیز اس میں سے جو وحی آئی تیری طرف اور تنگ ہوگا اس سے تیرا جی اس بات پر کہ16 وہ کہتے ہیں کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ تو تو ڈرانے والا ہے اور اللہ ہے ہر چیز کا ذمہ دار

15: تیسرا دعوی : مایوحی کی تبلیغ میں کوتاہی نہ ہونے پائے۔ یہ تیسرے دعوے کا بیان ہے اگر مسئلہ توحید بیان کرنے پر مشرکین طرح طرح کے طعن اور اعتراض کریں تکلیفیں اور اذیتیں پہنچانے کی کوشش کریں مثلًا وہ کہیں کہ اگر یہ پیغمبر خدا ہے تو اس کے پاس دولت دنیا کے خزانے کیوں نہیں یا اس کے ساتھ فرشتہ کیوں نہیں آیا جو لوگوں میں اس کی صداقت کا اعلان کرتا پھرے۔ ایسا نہ ہو خہ ان کی باتوں سے آپ تنگدل اور آزردہ خاطر ہو کر مَا یُوْحیٰ اِلَیْکَ (مسئلہ توحید) کے بعض پہلوؤں کو بیان ہی نہ کریں۔ آپ ان کے مطاعن و اعتراضات کی پرواہ نہ کریں اور مسئلہ کھول کر بیان کریں۔ اِنَّمَا انْتَ نَذِیْرٌ : آپ کی ذمہ داری اور ڈیوٹی صرف تبلیغ و انذار ہے اگر وہ نہیں مانتے تو ان کو سزا دینا اللہ کا کام ہے۔ وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ: کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے یعنی لیس علیک الانذار بما یوحی الیک ولا علیک شیء ان ردوا وافترحوا او قالوا ائت بقران غیر ھذا فما بالک تترک بقولھم (وَکِیْل) یحفظ ما یقولون فیجازیھم (مظہری ج 5 ص 72) ۔ 16: اَنْ مصدریہ ہے اور اس سے پہلے حرف جار مقدر ہے اور وہ ضَآئِقٌ کے متعلق ہے ای من ان یقولوا او لان یقولوا یا اس سے پہلے مضاف محذوف ہے اَیْ کَرَاھِیِّۃ اَنْ یَّقُوْلُوْا (قرطبی ج 9 ص 12) اس صورت میں وہ ضائق کا مفعول لہ ہوگا۔
Ayah 11:13

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ بنا لایا ہے تو قرآن کو17 کہہ دے تم بھی لے آؤ ایک دس سورتیں ایسی بنا کر اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر ہو تم سچے

17: یہ شکویٰ ہے۔ مشرکین آنحضرت ﷺ کا پیش کردہ دعویٰ (کہ اللہ کے یہاں کوئی شفیع غالب نہیں) تو مانتے نہ تھے اور الٹا اکثر یہ الزام دہرایا کرتے تھے کہ محمد ﷺ یہ قرٓان اپنے پاس سے بنا کر خدا کی طرف منسوب کردیتا ہے اور یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ قُلْ فَاتُوْا الخ : یہ جواب شکوی ہے فرمایا آپ جواب میں کہہ دیں اگر میں ایسا قرآن بنا سکتا ہوں تو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا کرلے آؤ کیونکہ تم بھی اہل لسان ہو اور دنیا تمہاری فصاحات وبلاگت کو لوہا مانتی ہے اور پھر اس کام میں اپنی مدد کے لیے اللہ کے ماسوی جس جس سے کام لے سکتے ہو اس کو بلالو اور اپنی اجتماعی طاقت سے اس کام کو انجام دینے کی کوشش کرلو۔
Ayah 11:14

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پھر اگر نہ پورا کریں18 تمہارا کہنا تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کی وحی سے اور یہ کہ کوئی حاکم نہیں اس کے سوا پھر اب تم حکم مانتے ہو

18:۔ یہ بھی جواب شکوی سے متعلق ہے۔ لَکُمْ کی ضمیر مومنین کے لیے اور فَاعْلَمُوْا کی مشرکین کے لیے اور قُلْ مقدر ہے ای فقل اعلموا یعنی اگر مشرکین یہ معارضہ اور چیلنج قبول نہ کریں اور قرآن کا مثل پیش نہ کرسکیں تو آپ ان سے فرما دیں کہ اب تو یقین کرلو کہ یہ قرآن میرا ساختہ پر داکتہ نہیں بلکہ اللہ نے اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے لہذا اس مسئلہ توحید کو مان لو وہ اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔ کیا اب بھی نہیں مانوگے ؟۔ وَاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ : انما انزل پر معطوف ہے یا لَکُمْ کی ضمیر بھی مشرکین کے لیے ہے یعنی اے مشرکین اگر تمہارے مزعومہ مددگار اور شرکاء تمہاری مدد کے لیے نہ آئیں تو یقین کرلو کہ یہ قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے۔ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ ایھا الکفار و لم یعینوکم فاعلموا اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللہ وانہ لیس مفتری علی اللہ بل ھو انزلہ علی رسولہ ﷺ (خازن ج 3 ص 222) ۔
Ayahs 11:15–16

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو کوئی چاہے دنیا کی زندگانی19 اور اس کی زینت بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا میں اور ان کو اس میں کچھ نقصان نہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی ہیں جن کے واسطے کچھ نہیں آخرت میں آگ کے سوا اور برباد ہوا جو کچھ کیا تھا یہاں اور خراب گیا جو کمایا تھا

19: زجر مع تخویف اکروی یعنی دنیا میں ان کی روزی میں کمی نہیں کی جاتی جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 2 میں وارد ہے مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ الایۃ مگر آخرت میں ان کے لیے جہنم کے سوا کچھ نہیں کیونکہ انہوں نے ثواب آخر کے لیے کیا ہی کچھ نہیں۔ مَاصَنَعُوْا میں ما سے مشرکانہ اعمال بےکار اور رائیگاں ثابت ہوں گے وہ فی نفسہ باطل ہیں کیونکہ ان کی بنیاد عقیدہ باطلہ پر ہے یا ما سے مراد اعمال صالحہ ہیں جو اغراض دنیویہ کی خاطر کیے گئے چونکہ مقصود غیر اللہ ہے اس لیے ایسے اعمال باطل اور بےنتیجہ ہوں گے یعنی وبطل ما عملوا فی الدنیا من اعمال البر (وَبَاطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) لانہ لغیر اللہ (خازن ج 3 ص 223) ۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا ایک شخص جو ہے20 صاف راستہ پر اپنے رب کے اور اس کے ساتھ ساتھ ہے ایک گواہ اللہ کی طرف سے اور اس سے پہلے گواہ تھی موسیٰ کی کتاب راستہ بتلاتی اور بخشواتی (اوروں کی برابر ہے) یہی لوگ مانتے ہیں قرآن کو اور جو کوئی منکر ہو اس سے21 سب فرقوں میں سے سو دوزخ ہے ٹھکانا اس کا سو تو مت رہ شبہ میں اس سے بیشک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور پر بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے

20: یہ چوتھا دعویٰ ہے۔ بَیِّنَۃٌ سے عقل سلیم رماد ہے یعنی جو شخص عقل سلیم رکھتا ہو اور دین اسلام اور توحید کی سچائی دلائل عقلیہ سے اس پر واضح اور روشن ہو ای علی برھان من اللہ وبیان ان دین الاسلام حق وھو دلیل العقل (مدارک ج 2 ص 140) ۔ وَیَتْلُوْہُ ای و یلحقہ ویتبعہ اور شَاھِدٌ سے مراد قرا ان ہے اور مِنْہُ کی ضمری لفظ جلالت سے کنایہ ہے ای من اللہ یعنی عقل سلیم کے ساتھ پھر قرا ان بھی مسئلہ توحید کی حقانیت پر شاہد ہے (مدارک) وَمِنْ قبَلِہٖ اور پھر اس قرآن سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) موجود ہے جو بنی اسرائیل کے لیے دین کی راہنما اور اپنے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت تھی وہ بھی اس مسئلہ میں قرآن سے متفق ہے۔ یہاں من کا جواب محذوف ہے ای ایبقی لہ موضع شبھۃ یعنی جس شکس کے پاس عقل سلیم بھی ہو اور قرٓان و تورات کی شہادت بھی تو کیا اس کے لیے مسئلہ توحید میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہے گی۔ اُولٓئِکَ سے مَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَۃٍ کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ جس کو اللہ نے عقل سلیم دی ہے وہ عقل سے اس کی صداقت کو سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ عقل کے عین مطابق ہے اور پھر قرآن اور تورات بھی اس مسئلہ کے حق میں شاہد ہیں اس لیے شک وریب کی کوئی گنجائش نہیں لیکن جو لوگ اس کے باوجود اس کو نہ مانیں اور اس کی صداقت میں شک کریں ان کا انکار محض ضد وعناد پر مبنی ہے۔ 21: یہ معاندین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ اس میں خطاب آنحضرت ﷺ ہے مگر تعلیم و تفہیم دوسری کی مقصود ہے کیونکہ آپ سے شک و ریب کا صدور محال ہے۔ یعنی جب دلائل عقل ونقل سے ثابت ہوگیا کہ دین اسلام اور مسئلہ توحید حق ہے اس میں شک وریب کی کوئی گنجائش نہیں تو تمہارے دلوں میں اس کے بارے میں شک کا گذر نہ ہونے پائے اگرچہ معاندین ضد و انکار پر اڑے رہیں۔
Ayahs 11:18–19

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون22 جو باندھے اللہ پر جھوٹ وہ لوگ رو برو آئیں گے23 اپنے رب کے اور کہیں گے گواہی دینے والے یہی ہیں جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر سن لو پھٹکار ہے اللہ کی ناانصاف لوگوں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

جو کہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں آخرت سے منکر

22: زجر مع تخویف اخروی تا ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جو بلا دلیل عقل ونقل اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے جن سے اس کی ذات گرامی پاک اور منزہ ہے مثلاً اپنے کود ساختہ معبودوں کو عنداللہ شفیع غالب کہنا وغیرہ۔ بان نسب الیہ ما لا یلیق بہ کقولھم الملائکۃ بنات اللہ تعالیٰ اللہ عن ذلک علوا کبیرا و قولھم لالھتھم ھؤلاء شفعاءنا عند اللہ (روح ج 12 ص 30) ۔ 23: یہ کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔ الاشھاد سے فرشتے (مطلقا یا حفظہ یا کراما کاتبین) انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین مراد ہیں۔ وہ خدا کے سامنے ان افتراڑ کرنے والوں کے بارے میں شہادت دیں گے کہ یہ دنیا میں اللہ پر افتراء کیا کرتے تھے۔ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ الخ یہ ادخال الٰہی ہے اور اشہاد (گواہوں) کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جانب سے ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ ان مشرکین پر خدا کی لعنت ہے اور وہ رحمت الٰہی سے دور ہیں جو دوسرے لوگوں کو بھی راہ توحید سے بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا اور ان کے دلوں میں شبہات پیدا کر کے ان کو ایمان و توحید اور اطاعت و عبادت سے روک کر شرک و معاصی کی ترغیب دیتے ہیں۔ یعنی انھم کما ظلموا انفسہم بالتزام الکفروالضلال فقد اضافوا الیہ المنع من الدین الحق والقاء الشبھات و تعویج الدلائل المستقیمۃ (کبیر ج 7 ص 204) ای یعدلون بالناس عنھا الی الشرک (قرطبی ج 9 س 19) ۔
Ayah 11:20

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

وہ لوگ نہیں تھکانے والے24 زمین میں بھاگ کر اور نہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی دونا ہے ان کے لیے عذاب نہ طاقت رکھتے تھے سننے کی اور نہ دیکھتے تھے

24: دنیا میں انہیں فوراً اس لیے نہیں پکڑا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر تھے یا اللہ سے ورے ان کا کوئی کارساز اور نگہبان تھا بلکہ یہ تاخیر اللہ کی حکمت بالغہ پر مبنی تھی۔ یُضٰعَف لَھُمُ الْعَذَابُ اب آخرت میں انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا دنیا میں وہ حق بات کو سننے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے واضح نشانات میں غور وفکر کرتے تھے۔ مَاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ جن معبودان باطلہ کو انہوں نے خدا کے یہاں سفارشی سمجھ رکھا تھا قیامت کے دن وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی ان کے کام نہیں آئے گا۔ (وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) من الالھۃ و شفاع تھا (روح ج 12 ص 33) ۔
Ayahs 11:21–22

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

وہی ہیں جو کھو بیٹھے اپنی جان اور گم ہوگیا ان سے جو جھوٹ باندھا تھا25

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں یہی ہیں سب سے زیادہ نقصان میں

25: دنیا میں کوئی نیک عمل نہ کیا اور خوش فہمیوں میں مبتلا رہے اور جن مزعومہ معبودوں پر بھروسہ تھا وہ بھی کام نہ آئے اس لیے لا محالہ آخرت میں وہ سب سے بڑے نقصان و خسران میں رہیں گے۔
Ayah 11:23

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے نیک26 اور عاجزی کی اپنے رب کے سامنے وہ ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں رہا کریں گے

26: یہ ماننے والوں اور اعمال صالحہ بجالانے والے اور عاجزی کرنے والے مخلصین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Ayah 11:24

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

مثال27 ان دونوں فرقوں کی جیسے ایک تو اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا کیا برابر ہے دونوں کا حال پھر کیا تم غور نہیں کرتے

27: یہ دونوں فریقوں یعنی مشرکوں اور مومنوں کی تمثیل ہے۔ مشرک کی مثال ایک اندھے اور بہرے شخص کی سی ہے جس طرح اندھا اور بہرا شخص اشارت اور عبادت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال مشرکین کا ہے جو اللہ کی آیتوں سے اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں وہ نہ آیات الٰہی کو سننا چاہتے ہیں نہ دلائل آفاق وانفس کو بنظر غائر دیکھ کر عبرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس مومن کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دیکھتا اور سنتا ہے اور عبارت اور اشارت دونوں سے متمتع ہوتا ہے اسی طرح مومن کانوں سے آیتیں سن کر اور آنکھوں سے دلائل قدرت کو ملاحظہ کر کے ایمان وعمل میں اور زیادہ مضبوط اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد سات قصے مذکور ہیں جو پہلے تین دعو وں سے بطریق لف ونشر مرتب متعلق ہیں۔
Ayahs 11:25–27

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ١٘ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 11:25 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا28 نوح کو اس کی قوم کی طرف کہ میں تم کو ڈر کی بات سناتا ہوں کھول کر

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ Open ayah 11:26 in the Quran reader

کہ نہ پرستش کرو اللہ کے سوا میں ڈرتا ہوں تم پر دردناک دن کے عذاب سے

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَ مَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِیْنَ هُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ١ۚ وَ مَا نَرٰى لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍۭ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 11:27 in the Quran reader

پھر بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم کے ہم کو تو تو نظر نہیں آتا مگر ایک آدمی ہم جیسا اور دیکھتے نہیں کوئی تابع ہوا ہو تیرا، مگر جو ہم میں نیچ قوم ہیں بلا تأمل اور ہم نہیں دیکھتے تم کو اوپر اپنے کچھ بڑائی بلکہ ہم کو تو خیال ہے کہ تم سب جھوٹے ہو

28: پہلا قصہ۔ یہ پہلا قصہ ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے بدیں الفاط اپنی قوم کے سامنے دعوت الٰہی پیش کی۔ اِنِّیْ لَکُمْ نَذیْرٌ مُّبِیْنٌ اَنْ لّ ۔ ا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰہَ میں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں ظاہر اور میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا میں ان مفسرہ ہے اور اَرْسَلْنَا یا نَذِیْرٌ کے متعلق ہے یا ان مصدریہ ہے اور حرف جار مقدر ہے ای بان لا تعبدوا (روح) ۔ اس کے جواب میں قوم نے چار باتیں طنز و اعتراض کے طور پر کہیں اول مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا تم ہماری مانند بشر اور انسان ہو اس لیے ہم اپنے جیسے کا اتباع کیوں کریں۔ دوم وَ مَا تَرٰکَ اتَّبَعَکَ اور پھر جو لوگ لوگ تمہارے پیچھے لگے ہیں وہ معاشرہ میں گھٹیا پوزیشن والے اور کمین لوگ ہیں ارادو اتبعک اخساؤنا وسقطنا و سفلتنا (قرطبی ج 9 ص 23) ۔ ہم ایسے شرفاء نے تم کو نہیں مانا اور جن معمولی لوگوں نے تمہیں قبول کیا ہے انہوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے اور بلا تدبر و تفکر محض اوپرے دل ہی سے مانا ہے اس لیے ان کا ایمان بھی بےحقیقت اور نا پائیدار ہے ای ات بعد فی بادی الرای ای بلا فکر او فی الظاھر لا فی الحقیقۃ قالہ الشیخ (رح) تعالی۔ سوم وَمَا نَرٰی لَکُمْ عَلَیْنَا الخ اور تمہارے اندر ہمیں کوئی ایسی فضیلت بھی نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے ہم تمہیں اپنا پیشوا اور رہنما تسلیم کریں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر تھے اور ان کے متبعین کے سینے نور توحید سے منور تھے اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوسکتی تھی مگر ان کور باطنوں کو یہ فضیلت نظر نہ ٓئی۔ چہارم بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبیْنَ بلکہ تم تو سب کو جھوٹے سمجھتے ہیں۔ اے نوح تجھ کو دعوائے نبوت میں اور تیرے پیرو وں کو تیری تصدیق میں۔
Ayah 11:28

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْكُمْ١ؕ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَ اَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ Open ayah 11:28 in the Quran reader

بولا اے قوم29 دیکھو تو اگر میں ہوں صاف راستہ پر اپنے رب کے اور اس نے بھیجی مجھ پر رحمت اپنے پاس سے، پھر اس کو تمہاری آنکھ سے مخفی رکھا، تو کیا ہم تم کو مجبور کرسکتے ہیں اس پر اور تم اس سے بیزار ہو30

29: حضرت نوح (علیہ السلام) نے مشرکین کی کٹ حجتی کا نہایت معقول اور متین جواب دیا اے میری قوم ! اگر میرے پاس اللہ کی جانب سے اپنے دعوے کی سچائی پر واضح دلائل موجود ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے مجھے نبوت بھی عطا فرما دی ہو اور میں اللہ کے حکم اور اس کی وحی کے مطابق تمہیں توحید کی دعوت دوں مگر بد قسمتی سے ان دلائل وبراہین میں تم غور وفکر نہ کرو اور میرے دعوے کی صداقت نہ سمجھ پاؤ تو اب تم خود ہی بتاؤ اس میں قصور کس کا ہے۔ 30: ھَا ضمیر کلمہ توحید یا البینۃ یا رحمۃ کی طرف راجع ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وقیل الھا ترجع الی الرحمۃ وقیل الی البینۃ ای نلزمکم قبوھا الخ (قرطبی ج 9 ص 25) یعنی یہ تو ناممکن ہے کہ تمہارے دل کلمہ توحید اور دلائل توحید کو ماننے پر تیار نہ ہوں بلکہ اس سے متنفر ہوں اور ہم جبراً تم سے منوالیں یہ بات ہماری طاقت و استطاعت سے باہر ہے۔ استفہام انکاری ہے یعنی ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ ھذا استفھام معناہ الانکار ای لا اقدر علی ذلک والذی اقدر علیہ ان ادعوکم الی اللہ ولیس لی ان اضطرکم الی ذلک قال قتادۃ واللہ لو استطاع نبی اللہ لالزمھا قومہ ولکنہ لم یملک ذلک (خازن ج 3 ص 228) اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت اللہ کے اختیار میں ہے انبیاء (علیہم السلام) کے اختیار میں نہیں اور نہ وہ متصرف و مختار ہیں اگر حضرت نوح (علیہ السلام) مختار و متصرف ہوتے تو اپنی ساری قوم کو رشد و ہدایت سے بہرہ ور کردیتے۔
Ayahs 11:29–30

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 11:29 in the Quran reader

اور اے میری قوم نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ مال31 میری مزدوری نہیں مگر اللہ پر اور میں نہیں ہانکنے والا ایمان والوں کو ان کو ملنا ہے اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ جاہل ہو

وَ یٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 11:30 in the Quran reader

اور اے قوم کون چھڑائے مجھ کو اللہ سے اگر ان کو ہانک دوں کیا تم دھیان نہیں کرتے

31: میری قوم ! اس تبلیغ دعوت پر میں تم سے تنخواہ یا معاوضہ طلب نہیں کر رہا تاکہ تم پر اس کا بوجھ ہو اس کا معاوضہ مجھے اللہ کی طرف سے ملے گا جس کی میں ڈیوٹی دے رہا ہوں۔ باقی رہی یہ بات کہ تمہاری خاطر میں ان غرباء کو اپنے پاس سے ہٹا دوں جو ایمان لاچے ہیں تو بھی نہیں ہوسکتا۔ اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں اگر میں ایسا کروں تو وہ خدا کے یہاں میری شکایت کریں گے فیشکوننی الیہ ان طردتھم (مدارک ج 2 س 142) یا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مقربین بارگاہِ الہی ہیں اس لیے میں ان کو اپنی مجلس سے کیونکر اٹھا دو لا اطردھم ولا ابعدھم عن مجلسی لانھم من اھل الزلفی المقربون الفائزون عنداللہ تعالیٰ (روح ج 12 ص 41) مگر تم لوگ ہو کہ ایسی جاہلانہ اور سفیہانہ باتیں کرتے چلے جا رہے ہو۔ وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصرُنِیْ نیز یہ بتاؤ اگر میں تمہاری خواہش پر ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دوں اور اس کی وجہ سے اللہ مجھ سے ناراض ہوجائے تو اس کی ناراضی سے مجھے کون بچائے گا یعنی کوئی نہیں بچا سکے گا۔ استفہام انکاری ہے۔ یہ تمہارے معبود تم پجاریوں کے کام نہیں آسکتے تو میرے کس کام آئیں گے اَفَلَاتَذَکَّرُوْنَ کچھ تو عقل سے کام لو اور نصیحت و عبرت حاصل کرو۔
Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں نہیں کہتا تم کو کہ میرے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں خبر رکھوں غیب کی اور نہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں32 اور نہ کہوں گا کہ جو لوگ تمہاری آنکھ میں حقیر ہیں نہ دے گا ان کو اللہ بھلائی اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے جی میں ہے یہ کہوں تو میں بےانصاف ہوں

32: یہ تین سوالات مقدرہ کے جوابات ہیں۔ مشرکین کہتے اگر نوح (علیہ السلام) سچا پیغمبر ہے تو اس کے پاس دولت کے خزانے کیوں نہیں اور وہ غیب کی خبریں اور پوشیدہ امور ہمیں کیوں نہ بتاتا نیز وہ بشر ہے اور کھاتا پیتا ہے۔ جواب دیا بیشک اللہ کے خزانوں کا میں مالک نہیں ہوں میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں اور میرا کام تبلیغ وانذار ہے اور نہ میں عالم الغیب ہوں کہ جو بات چاہوں اور جب چاہوں جان لو اور نہ میں فرشتہ اور مافوق البشر ہونے کا مدعی ہوں۔ بلکہ میں بشر اور انسان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے کمال انسانیت کے بلند ترین مقام (نبوت) پر سرفراز فرمایا ہے۔ یا یہ جمہ معترضہ ہے اور سوالات آنحضرت ﷺ سے متعلق ہے۔
Ayahs 11:32–33

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

بولے اے نوح33 تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑ چکا اب لے آ جو تو وعدہ کرتا ہے ہم سے اگر تو سچا ہے

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

کہا کہ لائے گا تو اس کو اللہ ہی اگر چاہے گا اور تم نہ تھکا سکو گے بھاگ کر

33: حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں اور معقول دلیلوں سے لاجواب ہو کر قوم کے لوگ بول اٹھے کہ اے نوح ! تم نے تو ہمارے ساتھ جھگڑا ہی شروع کردیا ہے اچھا جاؤ ہم نہیں مانتے اور اگر تمہارے دعوے میں کچھ صداقت ہے تو جس عذاب کی دھمکیاں دیتے ہو وہ بھی لے آؤ پھر دیکھا جائے گا۔ قَالَ اِنَّمَا یَاتِیْکُمْ الخ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا عذاب لانا تو میرے اختیار میں نہیں وہ اللہ کے اختیار میں ہے اور اپنے وقت پر ضرور آئے گا اور جب آئے گا تم اس سے ہرگز بچ نہیں سکو گے۔
Ayahs 11:34–35

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور نہ کارگر ہوگی تم کو میری نصیحت34 جو چاہوں کہ تم کو نصیحت کروں اگر اللہ چاہتا ہوگا کہ تم کو گمراہ کرے وہی ہے رب تمہارا اور اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ بنا لایا قرآن کو کہہ دے اگر میں بنا لایا ہوں تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میرا ذمہ نہیں جو تم گناہ کرتے ہو

34: میں تو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں لیکن اگر تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پر مہر جباریت لگا دے اور تمہیں توفیق ہدایت سے محرم کردے تو میری خیر خواہی سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ شکوی ہے۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ جواب شکوی ہے اگر میں نے اللہ پر افتراء کیا ہے تو اس کی سزا مجھے ملے گی مگر یہ میرا افتراء کرنا تو غلط ہے اس لیے میری طرف افتراء علی اللہ کی نسبت کرنے کا جرم تم پر ثابت ہے جس کی تم ضرور سزا پاؤ گے۔ (اِنِ افْتَرَیْتہُہٗ ) ای اختلقتہ وافتلتہ یعنی الوحی والرسالۃ (فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ ) ای عقاب اجرامی و ان کنت محقا فیما اقولہ فعلیکم عقاب تکذیبی (قرطبی ج 9 ص 29) ۔
Ayah 11:36

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور حکم ہوا35 طرف نوح کی کہ اب ایمان نہ لائے گا تیری قوم میں مگر جو ایمان لا چکا سو غمگین نہ رہ ان کاموں پر جو کر رہے ہیں

35: یہ قوم نوح (علیہ السلام) کی تباہی کی تمہید ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا کہ جن کی قسمت میں ایمان مقدر تھا وہ ایمان لاچکے اور باقیوں میں سے اب کوئی ایمان نہیں لائے گا اس لیے آپ ان کے استہزاء و تمسخر اور تکذیب و ایذاء پر غمگین نہ ہوں اب ان کی ہلاکت کا وقت قریب آگیا ہے۔ مبتدعین حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے علم غیب ثابت کرنے کے لیے کہا کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کی آئندہ نسلوں کے انجام کا علم تھا کہ ان میں اب کوئی بھی ایسا شخص نہیں پیدا ہوگا جو راہ راست پر ہو اور توحید کو قبول کرلے کیونکہ انہوں نے عذاب کی دعا مانگتے وقت کہا تھا۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَ لَا یَلِدُوْا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا (نوح) اے اللہ اگر تو اس قوم کو اب ہلاک نہیں کرے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کرنے ہی کی کوشش کریں گے اور ان کی نسلوں میں کفار و فجار کے سوا کوئی پیدا نہیں ہوگا مگر یہ استدلال سراسر غلط اور قرآن سے بےاعتنائی اور بیخبر ی کا نتیجہ ہے حضرت نوح (علیہ السلام) عالم الغیب ہونے کی وجہ سے یہ بات نہیں جانتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی انہیں اس کی اطلاع دی تھی جیسا کہ آیت زیر تفسیر میں اس کی صراحت موجود ہے۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور بنا36 کشتی روبرو ہمارے اور ہمارے حکم سے اور نہ بات کر مجھ سے ظالموں کے حق میں یہ بیشک غرق ہوں گے

36: بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا : یعنی ہماری حفاظت میں اور ہماری ہدایات کے مطابق کشتی تیار کرو اور ان مشرکین کے بارے میں اب دفع عذاب یا مہلت دینے کی ہرگز سفارش نہ کرنا کیونکہ انہیں غرق کرنے کا فیصلہ حتمی اور قضاء مبرم ہے۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ کشتی بناتا تھا37 اور جب گزرتے اس پر سردار اس کی قوم کے ہنسی کرتے اس سے بولا اگر تم ہنستے ہو ہم سے تو ہم ہنستے ہیں تم سے جیسے تم ہنستے ہو

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

اب جلد جان لو گے کہ کس پر آتا ہے عذاب کہ رسوا کرے اس کو اور اترتا ہے اس پر عذاب دائمی

37: یَصْنَعُ ، کَانَ محذوف کی خبر ہے۔ حذف کان مع بقاء خبر کلام عرب میں جائز ہے لَوْ اور اِنْ کے بعد کَانَ کا حذف مشہور و معروف ہے یحذفونہا و یبقون الخبر بعد لو وان کثیرًا اشتھر (الفیہ ابن مالک) مشرکین حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بناتے دیکھ کر ان سے استہزاء کرتے کہ یہ کشتی خشک زمین پر کیسے چلاؤ گے یہاں تو کوئی سمندر یا دریا نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا استہزاء کرلو ہمارا وقت بھی آجائے گا جب ہم دیکھیں گے کہ تم ذلیل ورسوا کرنے والے عذاب میں مبتلا ہو اور ہم محض اللہ کی مہربانی سے اس کشتی میں اس سے محفوظ ہیں۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب پہنچا حکم ہمارا38 اور جوش مارا تنور نے کہا ہم نے چڑھا لے کشتی میں ہر قسم سے جوڑا دو عدد اور اپنے گھر کے لوگ مگر جس پر پہلے ہوچکا ہے حکم اور سب ایمان والوں کو اور ایمان نہ لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے

38: تنور سے یا اس کا حقیقی معنی مراد ہے یعنی روٹیاں پکانے کا تنور جیسا کہ جمہور کی رائے ہے والمراد من التنور تنور الخبز عندالجمھور (روح ج 12 ص 52) تنور سے پانی کا نکلنا طوفان کی علامت تھی۔ یا یہ غضب الٰہی کے جوش میں آنے سے کنایہ ہے۔ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ الخ۔ مستچنی کو مجمل رکھا اور اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کی صراحت نہ کی تاکہ ان کا دل آزردہ نہ ہو۔