11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsجواھر القرآن

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

مہمان بولے اے لوط72 ہم بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے ہرگز نہ پہنچ سکیں گے تجھ تک سو لے نکل اپنے لوگوں کو کچھ رات سے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں کوئی مگر عورت تیری کہ اس کو پہنچ کر رہے گا جو ان کو پہنچے گا ان کے وعدہ کا وقت ہے صبح کیا صبح نہیں ہے نزدیک

72:۔ جب فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کا کرب و اضطراب دیکھا تو بول اٹھے اے لوط ! ان کو آنے دو ہم تو اللہ کے فرشتے ہیں اور انہیں عذاب الٰہی سے ہلاک کرنے آئے ہیں۔ آپ راتوں رات اپنے اہل و عیال کو لے کر بستی سے باہر چلے جائیں اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اِلَّا امْرَاَتَکَ یہ اَسْرِ بِاَھْلَکَ سے استثناء ہے یعنی اپنی بیوی کو ساتھ مت لے جانا کیونکہ وہ بھی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک کی جائے گی اور ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر ہوچکا ہے۔ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ یہ گویا سوال مقدرہ کا جواب ہے۔ ایبقون الی الصبح کیا وہ صبح تک زندہ رہیں گے یعنی ابھی ہلاک کیوں نہیں کیے جاتے ؟ فرمایا کیا صبح قریب نہیں ؟ یعنی صبح بھی دور نہیں بےفکر رہو وہ صبح کو ضرور ہلاک ہوجائیں گے۔
Ayahs 11:82–83

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب پہنچا73 حکم ہمارا کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر نیچے اور برسائے ہم نے اس پر پتھر کنکر کے تہہ بہ تہہ

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس اور نہیں ہے وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور

73:۔ جب عذاب کا مقررہ وقت آپہنچا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے قوم لوط کی بستیوں کی زمین کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب لے جا کر زمین پردے مارا اور اوپر سے سخت مٹی کے پتھروں کی بارش کی گئی۔ سِجِّیْلٍ جو مٹی جم کر سخت پتھر کی مانند ہوجائے۔ مَنْضُوْدٍ تہ بتہ۔ مُسَوَّمَۃٍ ان پتھروں پر خاص نشان لگے تھے تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہ آسمان سے آئے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ ہر پتھر پر اس آدمی کا نام کندہ تھا جس کی اس سے ہلاکت مقدر تھی۔
Ayahs 11:84–85

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو74 بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا اور نہ گھٹاؤ ناپ اور تول کو میں دیکھتا ہوں تم کو آسودہ حال اور ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیر لینے والے دن کے

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے اور نہ گھٹادو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت مچاؤ زمین میں فساد

74:۔ یہ چھٹا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ پہلا دعویٰ چونکہ مقصودی ہے اس لیے اس پر شاہد کا اعادہ کیا گیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنی قوم کو یہ پیغام دیا۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللہ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرهٗ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اس کے بعد ان کی دوسری کوتاہیوں سے ان کو منع کیا۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

جو بچ رہے اللہ کا دیا وہ بہتر ہے تم کو اگر ہو تم ایمان والے75 اور میں نہیں ہوں تم پر نگہبان

75:۔ یہ لوگ ناپ تول میں کمی بیشی کر کے لوگوں کا حق مار لیتے تھے اس لیے فرمایا تجارت سے جو نفع ہو اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے سے بچ رہے وہ اس طرح کی بد دیانتی کی کمائی سے بہتر ہے اور زیادہ بابرکت ہے بشرطیکہ تم ایمان لے آؤ کیونکہ ایمان کے بغیر کسی چیز میں خیر و برکت نہیں۔ ای مابقیہ اللہ لکم بعد ایفاء الحقوق بالقسط اکثر برکة واحمد عاقبة مما تبقونه انتم لانفسکم من فضل التطفیف بالتجبر والظلم (قرطبی ج 9 ص 88) ای بشرط ان تؤمنوا اذ مع الکفر لا خیر فی شیء اصلاً (روح ج 12 ص 116) ۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

بولے اے شعیب76 کیا تیرے نماز پڑھنے نے تجھ کو یہ سکھایا کہ ہم چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے، یا چھوڑ دیں کرنا جو کچھ کہ کرتے ہیں اپنے مالوں میں تو ہی بڑا باوقار ہے نیک چلن

76: مَایَعْبُدُ معبودانِ باطلہ اَنْ نَفْعَلَ فِیْ اَمْوَالِنَا یہ مَایَعْبُدُ پر معطوف ہے یا اس کا عطف اَنْ نَّتْرُکَ پر ہے اس صورت میں حرف نفی مقدر ہوگا۔ ای اَصَلٰوتُکَ تَامُرُکَ ان لا نفعل الخ اِنَّکَ لَانْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ بطور استہزاء کہا یا حقیقت میں بھی وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حلیم ورشید و (بردبار یا دانا اور سوجھ بوجھ والا) سمجھتے تھے یعنی تو تو بڑا دانا اور سوجھ بوجھ ولاا ہے اور پھر ہمیں آبائی دین سے روکتا ہے اور اپنے اموال میں اپنی مرضی سے تصرف کرنے سے منع کرتا ہے۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

بولا اے قوم دیکھو تو77 اگر مجھ کو سمجھ آگئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے روزی دی مجھ کو نیک روزی اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد کو خود کروں وہ کام جو تم سے چھڑاؤں میں تو چاہتا ہوں سنوارنا جہاں تک ہو سکے اور بن آنا ہے اللہ کی مدد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے

77:۔ رِزْقًا حَسَنًا نبوت و حکمت مراد ہے (مدارک و روح) میں تمہیں شرک اور بد دیانتی سے اپنی مرضی سے نہیں روکتا ہوں بلکہ میں اللہ کا نبی ہوں اور اس کے حکم سے ایسا کرتا ہوں۔ اور میرے پاس توحید کے حق میں اور شرک و بد دیانتی کے رد میں واضح دلائل بھی موجود ہیں۔ میں کوئی بات بےدلیل نہیں کہتا۔ اور جن کاموں سے تمہیں منع کر رہا ہوں اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ تمہیں تو ان سے منع کروں لیکن خود ان کاموں کا ارتکاب کرلوں۔ مفسرین کرام نے عام طور پر یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ لیکن اس صورت میں اس کا تعلق مسئلہ توحید سے نہیں رہے گا کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا دوسروں کو شرک سے منع کرنا اور عیاذًا باللہ خود اس کا ارتکاب کرنا امر محال ہے جس کا ان کے بارے میں وہم بھی نہیں ہوسکتا البتہ ناپ تول سے دوسروں کی حق تلفی سے اس کا تعلق ہوگا یعنی میرا ارادہ یہ نہیں کہ میں تم کو تو دوسروں کی حق تلفی اور بددیانتی سے دولت کمانے سے منع کروں لیکن خود اس کام میں لگ جاؤں۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں اِلٰی مَا اَنْھَاکُمْ حال ہے ای حال کونی داعیا الی مَا اَنْھَاکُمْ یعنی مسئلہ توحید بیان کرنے، شرک اور بد دیانتی سے تمہیں روکنے سے میرا مقصد تمہاری مخالفت نہیں بلکہ میں تو حتی الوسع تمہاری اصلاح اور خیر خواہی چاہتا ہوں۔ مگر میری اس خواہش کے پورا ہونے کی توفیق اللہ کے اختیار میں ہے اور یہ مقصد محض اللہ کی تائید اور اس کے ارادے ہی سے پورا ہوسکتا ہے۔ تمام معاملات میں میرا بھروسہ اسی پر ہے اور تمام مہمات میں میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اس طرح حضرت شیخ (رح) کی تفسیر پر یہ آیت دونوں مذکورہ مسئلوں سے متعلق ہوجائے گی۔
Ayahs 11:89–90

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم78 نہ کمائیو میری ضد کر کے یہ کہ پڑے تم پر جیسا کچھ کہ پڑچکا قوم نوح پر یا قوم ہود پر یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور ہی نہیں

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور گناہ بخشواؤ اپنے رب سے اور رجوع کرو اس کی طرف البتہ میرا رب ہے مہربان محبت والا

78:۔ میری قوم تم میری مخالفت میں اس قدر سرگرمی نہ دکھاؤ۔ میری مخالفت تمہیں قوم نوح، قوم ہود، قوم صالح اور قوم لوط کی طرح اللہ کے عذاب اور اس کے قہر و غضب کا مستحق نہ بنا ڈالے۔ وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُممْ الخ شرکشی نہ کرو اپنے سابقہ گناہوں کی اللہ سے معافی مانگو اور اللہ کی توحید کو قبول کرلو وہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے گا کیونکہ وہ بڑا مہربان اور توبہ کرنے والوں سے محبت کرنے والا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

بولے اے شعیب79 ہم نہیں سمجھتے بہت باتیں جو تو کہتا ہے اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے اور اگر نہ ہوتے تیرے بھائی بند تو تجھ کو ہم سنگسار کر ڈالتے اور ہماری نگاہ میں تیری کچھ عزت نہیں

79:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس حکیمانہ اور ناصحانہ تبلیغ کا قوم پر کوئی اثر نہ ہوا اور ازراہ عناد کہنے لگے اے شعیب تیری باتیں بالکل بےمعنی ہیں ہم انہیں سمجھنے سے قاصر ہیں اور یاد رکھو تم ہم میں کمزور ہو اور تنہا ہمارے مقابلے کی تاب نہیں لاسکتے ہو اگر ہمیں تمہارے قبیلے کا پاس ولحاط نہ ہوتا تو ہم تمہیں کبھی کا قتل کرچکے ہوتے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ مشرکین کے ہم مسلک تھے اس لیے ان کا لحاظ کیا۔ وَکَانَ رَھْطُہٗ مِن اھل املتھم فلذلک اظھروا المیل الیھم والاکرام لھم (مدارک ج 2 ص 100) ۔
Ayahs 11:92–93

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

بولا اے قوم80 کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر زیادہ ہے اللہ سے اور اس کو ڈال رکھا تم نے پیٹھ پیچھے بھلا کر تحقیق میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ کرتے ہو

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم کام کیے جاؤ اپنی جگہ میں بھی کام کرتا ہوں آگے معلوم کرلو گے کس پر آتا ہے عذاب رسوا کرنے والا اور کون ہے جھوٹا اور تاکتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ تاک رہا ہوں

80:۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کے جواب میں فرمایا میری قوم ! یہ کس قدر نادانی کی بات ہے کہ میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ معزز و محترم ہے۔ تم میرے قبیلے کا لحاظ کرتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کا لحاظ نہیں کرتے ہو جس کا میں پیغمبر ہوں اور تم نے اللہ کے احکام کو کمال بےاعتنائی سے پس پشت ڈال دیا ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ: مگر یاد رکھو تمہارا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں اس لیے وہ تمہیں ہر ہر فعل کی پوری پوری سزا دے گا۔ وَیٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ : اچھا تم اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا نتیجہ دیکھ لو میں بھی اپنے موقف پر قائم رہ کر اس کا نتیجہ دیکھ لو میں بھی اپنے موقف پر قائم ہوں۔ عنقریب دیکھ لو گے کہ کون جھوٹا ہے اور کون رسوا کن عذاب سے ہلاک ہوتا ہے۔
Ayahs 11:94–95

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب پہنچا81 ہمارا حکم بچا دیا ہم نے شعیب کو اور جو ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی مہربانی سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے سن لو پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو

81:۔ آخر وقت موعود پر اللہ کا عذاب آگیا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے مؤمن ساتھیوں کو اللہ نے بچا لیا اور تمام مشرک ایک آسمانی گرجدار آواز سے ہلاک کردئیے گئے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل ایسے مردہ پڑے تھے گویا کہ وہ کبھی ان گھروں میں آباد ہی نہ ہوئے تھے۔
Ayahs 11:96–97

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور البتہ بھیج چکے ہیں ہم موسیٰ کو82 اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی

82:۔ یہ ساتواں قصہ ہے اور تیسرے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید پیش کرنے پر مشرکین و کفار کی طرف سے تکلیفیں آئیں گی انہیں صبر و استقلال سے برداشت کرنا جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کی ایذائیں برداشت کیں۔ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اور فرعون کا واقعہ سورة اعراف رکوع 12 تا 20 میں تفصیل سے گذر چکا ہے۔
Ayahs 11:98–99

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

آگے ہوگا اپنی قوم کے قیامت کے دن83 پھر پہنچائے گا ان کو آگ پر اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور پیچھے سے ملتی رہی اس جہان میں لعنت اور دن قیامت کے بھی برا انعام ہے جو ان کو ملا

83: تخویف اخروی ہے قیامت کے دن فرعون جہنم کی طرف اپنی قوم کی قیادت کرے گا۔ جس جگہ میں وہ داخل ہوں گے وہ کس قدر بری ہے یعنی نار جہنم۔ وَ اُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا یہ دنیوی اور اخروی تخویف ہے۔ دنیا میں بھی ان پر سب کی پھٹکار ہے اور آخرت میں بھی وہ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ یہ تحفہ جو دیا گیا کس قدر برا ہے۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ تھوڑے سے حالات ہیں84 بستیوں کے کہ ہم سناتے ہیں تجھ کو بعض ان میں سے اب تک قائم ہیں اور بعض کی جڑ کٹ گئی

84:۔ یہ تمام مذکورہ قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ہم نے ان تمام مشرک قوموں کو ہلاک کردیا مگر ان کے مزعومہ معبودوں اور خود ساختہ کارسازوں نے ان کی کوئی مدد نہ کی اور آڑے وقت میں ان کے کام نہ آئے جیسا کہ سورة احقاف میں ہے۔ فَلَوْلَانَصَرَھُمُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللهِ قُرْبَانًا اٰلِھَةً نیز یہ جملہ معترضہ ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ کی صداقت کی دلیل ہے۔
Ayahs 11:101–103

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن ظلم کر گئے وہی اپنی جان پر پھر کچھ کام نہ آئے ان کے ٹھاکر (معبود) جن کو پکارتے تھے سوائے اللہ کے کسی چیز میں جس وقت پہنچا حکم تیرے رب کا اور نہیں بڑھایا انکے حق میں سوائے ہلاک کرنے کے85

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتا ہے بستیوں کو اور وہ ظلم کرتے ہوتے ہیں بیشک اس کی پکڑ دردناک ہے شدت (زور) کی

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

اس بات میں نشانی ہے اس کو جو ڈرتا ہے آخرت کے عذاب سے وہ ایک دن ہے جس میں جمع ہوں گے سب لوگ اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا

85:۔ ان قوموں کو ہلاک کر کے ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے شرک کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور پھر جب ہمارا عذاب آپہنچا تو جنہیں وہ اپنا کارساز سمجھ کر پکارا کرتے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّّکَ الخ یہ تخویف دنیوی ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَةً الخ اقوام گذشتہ کی تباہی میں آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے عبرت ہے اس دن سب لوگ حساب کتاب کے لیے جمع ہوں گے اور سب موجود ہوں گے کوئی بھی غیر حاضر نہیں ہوگا۔
Ayahs 11:104–106

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور اس کو ہم دیر جو کرتے ہیں سو ایک وعدہ کے لیے جو مقرر ہے86

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس دن وہ آئے گا بات نہ کرسکے گا کوئی جاندار مگر اس کے حکم سے، سو ان میں بعض بدبخت ہیں اور بعضے نیک بخت

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو لوگ بدبخت ہیں وہ تو آگ میں ہیں ان کو وہاں چیخنا ہے اور دھاڑنا

86:۔ قیامت کا ایک دن مقرر ہے اس سے پہلے نہیں آئے گی۔ یَوْمَ یَاتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ الخ اور جب اپنے وقت پر قیامت آجائے گی اس دن کوئی شخص اللہ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر دم نہیں مار سکے گا۔ فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا تخویف اخروی ہے۔ زَفِیْرٌ : گدھے کی ابتدائی اور پست آواز۔ شَھِیْقٌ: گدھے کی بلند آواز۔ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ : یہ دوام اور عدم انقطاع عذاب سے کنایہ ہے کیونکہ یہ زمین و آسمان تو وہاں موجود ہی نہ ہوں گے۔ واجری ذلک علی عادۃ العرب فی الاخبار عن دوام الشیء وتابیدہ (قرطبی ج 9 ص 99) ۔
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے آسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب87 بیشک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہے

87:۔ اَلَا بمعنی سِوٰی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے لک علی الفان الا الالف التی کانت یعنی سواھا۔ یہ قول امام زجاج، فراء اور سجاوندی سے منقول ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ سزا اس کے علاوہ ہے جو اس سے بھی زیادہ اللہ کے یہاں ان کے لیے مقرر ہے والمعنی سوی ماشاء ربک من الزیادۃ التی لا اخر لھا (روح ج 12 ص 144) اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص محض عمر قید کی سزا بھگت رہا ہو اور دوسرا عمر قید با مشقت۔
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ نیک بخت ہیں88 سو جنت میں ہیں ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے اسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بخشش ہے بےانتہا

88:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اور اِلَّا مَاشَاءَ رَبُّکَ کی تفسیر مذکورہ بالا بیان کے مطابق ہے۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

سو تو نہ رہ89 دھو کے میں ان چیزوں سے جن کو پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر ویسا ہی جیسا کہ پوجتے تھے ان کے باپ دادے اس سے پہلے اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ یعنی عذاب سے بلا نقصان

89:۔ یہ چوتھے دعوے سے متعلق ہے۔ مسئلہ توحید عقلی اور نقلی دلائل سے واضح ہوچکا ہے اور اس میں شک و شبہہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اس لیے توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے میں کسی کو شک نہیں کرنا چاہئے۔ مَایَعْبُدُوْنَ الخ : ان مشرکین کے پاس کوئی دلیل نہیں وہ محض اپنے باپ دادا کی اندھا دھند پیروی کر رہے ہیں جس طرح وہ بلا دلیل وحجت معبودانِ باطلہ کو کارساز سمجھ کر پکارتے اور ان کی عبادت بجا لاتے تھے اسی طرحیہ کرتے ہیں۔ دلیل نہ ان کے پاس تھی نہ ان کے پاس ہے۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے دی تھی موسیٰ کو کتاب90 پھر اس میں پھوٹ پڑگئی اور اگر نہ ہوتا ایک لفظ کہ پہلے فرما چکا تھا تیرا رب91 تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور ان کو اس میں شبہ ہے کہ مطمئن نہیں ہونے دیتا

90:۔ یہ گویا سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ کہ اگر قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے تو اس میں اختلاف کیوں کیا گیا سب نے کیوں نہیں مان لیا۔ جواب دیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات کو تو واقعی اللہ کا کلام مانتے ہو حالانکہ اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا بعض نے اس کو مانا بعض نے نہ مانا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ بھی ہے اٰمن بہ قوم و کفر بہ قوم کما اختلف فی القران وھو تسلیة لرسول اللہ ﷺ (مدارک ج 2 ص 158) ۔ 91:۔ یہ سوال مقدرہ کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا اگر ہم نہیں مانتے تو ہمارا مواخذہ کیوں نہیں ہوتا۔ جواب دیا گیا مواخذہ اور عذاب کے لیے اجل مقرر ہے وہ اپنے وقت پر آئے گا اگر اس کے لیے وقت مقرر نہ ہوتا تو کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور وہ کبھی کے نیست و نابود کیے جا چکے ہوتے۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور جتنے لوگ ہیں92 جب وقت آیا پورا دے گا رب تیرا ان کو ان کے اعمال اس کو سب خبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں

92: یہ تخویف اخروی ہے۔ اس کی دو ترکیبیں ہیں۔ (1) کَلَّا اسم اِنّ اور لما کی شرط محذوف ہے ای یبعثھم اور لَیُوَفِّیَنَّھُمْ جزا ہے اور شرط و جزا مجموعہ اِنَّ کی خبر ہے اور مطلب یہ ہے کہ بیشک جب ہر ایک کو اللہ اٹھائے گا تو ان کو پوری پوری جزا دے گا۔ (2) لَیُوَفِّیَنَّھُمْ شرط اور اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ اس کی جزا ہے اور مجموعہ شرط و جزا اِنَّ کی خبر ہے یعنی بیشک ہر ایک کو جب اللہ جزا دے گا تو وہ ان کے اعمال سے خبردار ہوگا۔
Ayahs 11:112–113

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو تو سیدھا چلا جا جیسا تجھ کو حکم ہوا93 اور جس نے توبہ کی تیرے ساتھ اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے

93:۔ سورت میں ابتداء سے یہاں تک چاروں دعوے ذکر کرنے اور ان سے متعلق سات قصے بیان کرنے کے بعد مذکورہ بالا تمام مضامین پر پانچ امور مرتب فرمائے (1) فَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ : جس طرح آپ کو اور ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے اس پر آپ اور آپ کے ساتھی استقامت سے عمل پیرا رہیں۔ (2) وَلَا تَطْغَوْا : اور اللہ کی حدود سے سر مو انحراف نہ ہونے پائے۔ (3) ۔ وَلَاتَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوْا : اللہ کی حدود کو توڑنے والوں اور اللہ کی توحید کے باغیوں کی طرف تمہارے دلوں میں ادنی سا میلان بھی نہ پایا جائے ورنہ تم بھی ان کے ساتھ شریک عذاب ہوجاؤ گے۔ وَمَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہ مِنْ اَوْلِیَاءِ جملہ فَتَمَسَّکُمْ کی ضمیر منصوب سے حال ہے۔ والواو للحال من مفعول فَتمَسَّکُمُ النّارُ (مظہری ج 5 ص 123) ۔ ظالموں کی طرف ادنی میلان کی وجہ سے تم بھی عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے حالانکہ اس وقت اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا۔
Ayahs 11:114–115

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور قائم کر نماز کو94 دونوں طرف دن کے اور کچھ ٹکڑوں میں رات کے البتہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو یہ یادگاری ہے یاد رکھنے والوں کو

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کر البتہ اللہ ضائع نہیں کرتا ثواب نیکی کرنے والوں کا

94:۔ یہ امر چہارم ہے یعنی نماز پنجگانہ کی پابندی کرنا امام مجاہد فرماتے ہیں۔ طَرَفَیِ النَّھَارِ سے صبح، ظہر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں اور زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ سے مغرب اور عشاء کی (مظہری و روح) ۔ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَات۔ الحسنات اعمال حسنہ نمازیں وغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیان جو صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں وہ نماز سے معاف ہوجاتے ہیں۔ فی الحدیث ان الصلوات تکفر ما بینھا ای فی یومھا اذا اجتنبت الکبائر فی ذلک الیوم (روح ج 12 ص 157) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں سیئات سے سختیاں اور مصیبتیں مراد ہیں اس طرح سیئات میں صغیرہ گناہوں کی تاویل کرنے کی ضرورت نہ پڑے گی۔ سیئات سے گناہ مراد لینے کی صورت میں اسے صغیرہ گناہوں سے مختص کرنا پڑے گا کیونکہ کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ (5) وَاصْبِرْ الخ اور صبر وہمت سے کام لو اور محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے اخلاص کے ساتھ تبلیغ کیے جاؤ اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

سو کیوں نہ ہوئے95 ان جماعتوں میں جو تم سے پہلے تھیں ایسے لوگ جن میں اثر خیر رہا ہو کہ منع کرتے رہتے بگاڑ کرنے سے ملک میں مگر تھوڑے کہ جن کو ہم نے بچا لیا ان میں سے اور چلے وہ لوگ96 جو ظالم تھے وہی راہ جس میں عیش سے رہے تھے اور تھے گناہ گار

95:۔ لَولَا بمعنی ھلا برائے تحضیض ہے یعنی تم سے پہلے قرون میں جو لوتگ عقل و رائے والے اور دین کے راہنما تھے انہوں نے دوسرے لوگوں کو شرک و کفر سے کیوں نہ روکا جو زمین میں اصل شر و فساد کی جڑ ہے۔ بقیۃ ای اصحاب طاعۃ ودین وعقل وبصر (قرطبی ج 9 ص 113) ۔ اِلّا قَلِیْلاً استثناء منقطع ہے یعنی البتہ بہت تھوڑے لوگ ایسے ضرور تھے جن کو ہم نے عذاب سے بچا لیا جبکہ باقی سرکش قوم کو ہلاک کردیا۔ 96:۔ مشرکین دنیوی مال ومتاع میں مصروف اور نفسانی لذات وشہوات میں منہمک تھے اس لیے انہوں نے ان معدودے چند مصلحین کی ایک نہ سنی۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تیرا رب97 ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے اور لوگ وہاں کے نیک ہوں

97:۔ تخویف دنیوی ہے دنیا میں جن قوموں کو عذاب سے تباہ کیا گیا ہے ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کیا کہ لوگ تو دنیا میں نیک کام کر رہے ہوں اور اصلاح کے درپے ہوں اور پھر بھی ان کو ہلاک کردیا ہو بلکہ جب بھی ان پر عذاب آیا ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے آیا۔
Ayahs 11:118–119

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر چاہتا تیرا رب کر ڈالتا لوگوں کو98 ایک راستہ پر اور ہمیشہ رہتے ہیں اختلاف میں99

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر رحم کیا تیرے رب نے اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا ہے اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ البتہ بھر دوں گا دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے

ف 98:۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کے بعد وَلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ محذوف ہے بقرینہ آیت سورة مائدہ رکوع 7 وَلَوْ شَاءَ اللہ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحَدَۃً وَّلٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ الایۃ۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی دن (توحید) پر متفق کردیتا لیکن اس صورت میں ابتلاء و امتحان کی حکمت فوت ہوجاتی اور اس طرح سب کا ایمان جبری ہوتا حالانکہ جبری ایمان مطلوب نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کو واضح کرنے کے بعد سمجھ بوجھ کیساتھ دونوں مییں سے ایک کو قبول کرنے کا اختیار دیا۔ اسی اختیار پر جزا وسزا مبنی ہے۔ 99:۔ لوگوں کو چونکہ ایک دین کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا اس لیے وہ ہمیشہ آپس میں مختلف رہیں گے کوئی حق پر ہوگا کوئی باطل پر مگر جن پر اللہ کی رحمت اور اللہ کی توفیق جن کے شامل حال ہوئی ان میں عقائد اور اصول دین کا کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ وَلِذٰلِکَ خَلَقَہُمْ ای للاختلاف او الابتلاء اور اللہ نے اختلاف یا امتحان ہی کے لیے تو لوگوں کو پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے جو راستہ چاہیں اختیار کریں توحید کا یا شرک کا پھر اسی کے مطابق جزا و سزا ہوگی۔ وَ تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ الخ : قضاء و قدر میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ جہنم کو مشرک جنوں اور انسانوں سے بھرا جائے گا اس لیے لوگوں کا دین واحد پر متفق ہونا ممکن نہیں اور ان کے درمیان اختلاف کا پایا جانا ناگزیر ہے۔
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور سب چیزیں بیان کرتے ہیں100 ہم تیرے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے تسلی دیں تیرے دل کو اور آئی تیرے پاس اس سورت میں تحقیق بات اور نصیحت اور یادداشت ایمان والوں کو

100:۔ یہ تمام سابقہ قصوں سے متعلق ہے۔ کلا مبدل منہ، مَانُثَبِّتُ بِہٖ بدل اور مِنْ اَنْبَاء الرُّسُلِ مَانُثَبِّتُ کا بیان ہے۔ یہ قصے ہم نے اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ آپ کے دل میں اثبات و استقلال زیادہ پیدا ہو اور آپ تبلیغ توحید کی راہ میں ہر کٹھن سے کٹھن وقت کا صبر و ثبات سے مقابلہ کرسکیں اور مشرکین کے مسلسل رد و انکار کی وجہ سے مایوس نہ ہوجائیں۔ اور اس سورت میں ہم نے تین امور بیان کردئیے ہیں۔ اَلْحَقُّ توحید و رسالت کے دلائل، مَوْعِظَۃً اقوام سابقہ کے انجام بد سے عبرت آموزی۔ ذِکْرٰی اعمال صالحہ اور آخرت کی ترغیب۔ (درازی، قرطبی) ۔