11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 11:41–42

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور بولا39 سوار ہوجاؤ اس میں اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا تحقیق میرا رب ہے بخشنے والا مہربان

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ لیے جا رہی تھی ان کو لہروں میں جیسے پہاڑ اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو اور وہ ہو رہا تھا کنارے اے بیٹے سوار ہوجا ساتھ ہمارے اور مت رہ ساتھ کافروں کے

39: بِسْمِ اللّٰہِ میں باء استعانت کے لیے ہے۔ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، یہ کشتی محض اللہ کی اعانت و توفیق سے اپنے سواروں کے ساتھ صحیح وسالم منزل مقصود پر پہنچ کر لنگر انداز ہوگی۔ وَھِیَ تَجْرِیْ الخ اس سے پہلے اندماج سے یعنی تمام مومنین اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے اہل بیت بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ کشی میں سوار ہوگئے، طوفان زوروں پر آگیا اور کشتی نوح پہاڑ ایسی بلند ومہیب موجوں میں سے اللہ کی حفاظت سے گذر رہی تھی کہ برے دور حضرت نوح (علیہ السلام) کی نظر اپنے بیٹے پر پڑگئی۔ یہ بیٹا کنعان مشرک تھا اور کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اسے آواز دی بیٹٓ اب بھی وقت ہے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ لقمہ طوفان نہ بنو۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کا مشرک ہونا معلوم تھا مگر انہوں نے سمجھا کہ اس ہولناک طوفان کو دیکھ کر شاید وہ ایمان لے آئے اس لیے اسے کشتی کی طرف بلایا۔ لیکن بہت سے محققین امام ماتریدی وغیرہ نے کہا ہے کہ وہ منافق تھا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس کا علم نہ تھا وہ اسے اپنے دین توحید پر سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے اس کو کشتی میں سوار ہوجانے کو کہا۔ قیل انما ناداہ لانہ کان ینافقہ فظن انہ مومن واختارہ کثیر من المحققین کالماتریدی وغیرہ وقیل کان یعلم انہ کافر الی ذلک اوقت لکنہ (علیہ السلام) ظن انہ عند مشاہدۃ تلک الاھوال و بلوغ اسیل الربی ینزجر عما کان علیہ (روح ج 12 ص 59) ۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

بولا40 جالگوں گا کسی پہاڑ کو جو بچالے گا مجھ کو پانی سے کہا کوئی بچانے والا نہیں آج اللہ کے حکم سے41 مگر جس پر وہی رحم کرے اور حائل ہوگئی دونوں میں موج پھر ہوگیا ڈوبنے والوں میں

40: کنعان نے کہا مجھے تمہاری کشتی کی ضرورت نہیں ابھی میں اس ساتھ والے پہاڑ پر چڑھ رہا ہوں وہ مجھے اس طوفان سے بچا لے گا۔ مشرک لوگ ہر آڑے وقت میں غیر اللہ سے آس لگائے رہتے ہیں اور خداوند تعالیی کو بھول جاتے ہیں۔ کنعان نے بھی اپنی عادت مستمرہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا بلکہ پہاڑ کی پناہ لینے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہوسکی۔ 41: حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا آج طوفان سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکے گا اس لیے پہاڑ وگیرہ کی پناہ بےسود ہے۔ مَنْ رَّحِمَ میں موصول سے ذات باری تعالیٰ مراد ہے گویا کہ یوں کہا گیا لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلَّاھُوَ سُبْحَانَہٗ وتعالیٰ اور ضمیر کی جگہ جملہ اظہار شان رحمت کے لیے لایا گیا۔ یا عاصم صیغہ نسبت ہے لابنٌ (دودھ والا) اور تامرٌ (کھجور والا) کی طرح۔ اور موصول سے مرحوم مراد ہے ای لاذاعصمۃ ای معصوم الا من (رح) تعالیٰ (روح ج 12 ص 60 ومظہری ج 5 ص 89) یا مستثنی منقطع ہے یعنی آج کوئی بچانے والا نہیں البتہ جس پر اللہ کی رحمت ہوگئی وہی بچے گا۔ (اِلَّا مَنْ رَّحِمَ ) استثناء منقطع والمعنی لکن من رحم اللہ معصوم (کبیر ج 17 ص 233) ۔ وَحَالَ بَیْنَھُمَا الْمَوْجُ الخ اتنے میں طوفان کی ایک لہر نے کنعان کو اپنی لپیٹ میں لے کر اس کا کام تمام کردیا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم آیا اے زمین42 نگل جا اپنا پانی اور اے آسمان تھم جا اور سکھا دیا گیا پانی اور ہوچکا کام اور کشتی ٹھہری جودی پہاڑ پر اور حکم ہوا کہ دور ہو قوم ظالم

42: جب تمام مشرکین غرقاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اب وہ پانی باہر نکالنے کے بجائے اپنے اندر اسے جذب کرلے اور آسمان کو بارش برسانے سے رک جانے کا حکم دیدیا ادھر کشتی نوح (علیہ السلام) جودی پہاڑ کے دامن میں جا رکی۔ یہ پہاڑ موصول یا شام کے علاقے میں ہے۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور پکارا نوح نے43 اپنے رب کو کہا اے رب میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے

43: حضرت نوح (علیہ السلام) کی یہ نداء طوفان تھم جانے کے بعد تھی یا جس وقت انہوں نے بیٹے کو غرق ہوتے دیکھا اسی وقت یہ نداء کی۔ یعنی اے اللہ ! میرا بیٹا تو میرے اہل بیت سے تھا جن کو طوفان سے بچانے کا تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا اور تیرا وعدہ بھی برحق ہے اس میں تخلف ناممکن ہے اور تو احکم الحاکمین اور مالک الملک ہے تیرے سامنے کسی کو دم مارنے کی کیا مجال ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو مومن سمجھتے تھے اسی لیے یہ سوال کیا ورنہ یہ ناممکن ہے وہ دوسرے کافروں کی ہلاکت چاہیں مگر اپنے کافر بیٹے کی سلامتی کے متمنی ہوں۔ لانہ کانہ عندہ مومنا فی ظنہ ولم یک نوح یقول لربہ (اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَھْلِیْ ) الا وذلک عندہ کذلک اذ محال ان یسال ھلاک الکفار ثم یسال فی انجاء بعضہم وکان ابنہ یسر الکفر ویظھر الایمان الخ (قرطبی ج 9 ص 45) ۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا اے نوح44 وہ نہیں تیرے گھر والوں میں اس کے کام ہیں خراب سو مت پوچھ مجھ سے جو تجھ کو معلوم نہیں میں نصیحت کرتا ہوں تجھ کو کہ نہ ہوجائے تو جاہلوں میں

44: فرمایا اے نوح ! یہ تیرے ان اہل بیت سے نہیں جن کو نجات دینے کا میں نے وعدہ کیا تھا کیونکہ اس کے اعمال نیک نہیں بلکہ وہ مشرک ہے اس لیے جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے مت سوال کرو۔ دلوں کے بھید تو اللہ جانتا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کے نفاق سے بیخبر تھے اس لیے اس بارے میں سوال کر بیٹھے۔ فاخبر اللہ تعالیٰ نوحا بما ھو منفرد بہ من علم الغیوب ای علمت من حال ابنک ما لم تعلمہ انت الخ (قرطبی) ۔ اس آیت سے شفاعت قہری اور غیر اللہ کے مختار و متصرف ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو نہ ہدایت پر لاسکے اور نہ عذاب الٰہی سے اسے بچا سکے۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

بولا اے رب میں پناہ لیتا ہوں45 تیری اس سے کہ پوچھوں تجھ سے جو معلوم نہ ہو مجھ کو اور اگر تو نہ بخشے مجھ کو اور رحم نہ کرے تو میں ہوں نقصان والوں می

45: اصل حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بےمحل سوال پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور رحمت کی درخواست کی۔ وَاِلَّا اصل میں و ان لا تھا نون کو لام میں ادغام کردیا گیا۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا اے نوح46 اتر سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتوں کے ساتھ تجھ پر اور ان فرقوں پر جو تیرے ساتھ ہیں اور دوسرے فرقے ہیں کہ فائدہ دیں گے ان کو پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب دردناک

46: حضرت نوح (علیہ السلام) کو سلامتی اور نزول برکات کی بشارت دی گئی تاکہ ان کو تسلی ہوجائے کہ ان کی استغفار اور طلب رحمت کی درخواست منظور ہوچکی ہے۔ فرمایا اب کشتی سے اترو، تم اور جو نیک اور صالح امتیں تمہاری پشت میں ہیں ہماری سلامتی اور برکات کی مورد ہوں گی اور تمہاری نسل سے جو امتیں توحید کی باغی ہوں گی دنیا میں تو ان کو عیش ملے گی مگر آخرت میں وہ دردناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں47 کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف نہ تجھ کو ان کی خبر تھی اور نہ تیری قوم کو اس سے پہلے سو تو صبر کر البتہ انجام بھلا ہے ڈرنے والوں کا

47: جملہ معترضہ ہے۔ آنحضرت ﷺ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں حاضر نہ تھے مگر اس کے باوجود آپ ان کے صحیح صحیح حالات بیان کر رہے ہیں یہ آپ کی صداقت کی زبردست دلیل ہے آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آپ کو انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے احوال وواقعات بتائے جاتے ہیں۔ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے حاضر و ناظر اور عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ فَاصْبِرْ الخ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو تبلیغ کی اور ان کی تکلیفیں اٹھائیں آخر کار ان کے دشمن تباہ ہوئے اسی طرح بہتر انجام آپ کا اور آپ کے متبعین کا ہوگا اور آپ کے دشمن ذلیل و خوار ہوں گے۔
Ayahs 11:50–51

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف48 ہم نے بھیجا ان کے بھائی ہود کو بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی تمہارا حاکم نہیں سوائے اس کے تم سب جھوٹ کہتے ہو

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے قوم میں تم سے نہیں مانگتا اس پر مزدوری میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر کیا تم نہیں سمجھتے

48: یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے کے متعلق ہے حضرت ہود (علیہ السلام) نے واضح الفاظ میں اپنی قوم کو یہ پیغام دیایٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ میری قوم صرف خدائے واحد کو پوجو اور صرف اسی کو پاکرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں یعنی وحدو اللہ ولا تشرکوا معہ شیئا فی العبادۃ (خازن ج 3 ص 237) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ تم اپنے معبودان باطلہ کو دعاء اور پکار میں اللہ کے شریک بنا کر اللہ پر افتراء کرتے ہو۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم گناہ بخشواؤ اپنے رب سے49 پھر رجوع کرو اسی کی طرف چھوڑے گا تم پر آسمان سے دھاریں اور زیادہ دے گا تم کو زور پر زور اور روگردانی نہ کرو گناہ گار ہو کر

49: شرک کو چھوڑ کر اللہ کی توحید پر ایمان لاؤ اور اپنے گذشتہ مشرکانہ اعمال وافعال کی اللہ سے معافی مانگو۔ اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ تمہیں خوشحال اور عیش و آرام کی زندگی سے ہمکنار کرے گا اور تمہاری جمعیت کو مضبوط بنائے گا۔ الی بمعنی مع ہے۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

بولے اے ہود50 تو ہمارے پاس کوئی سند لے کر نہیں آیا اور ہم نہیں چھوڑنے والے اپنے ٹھاکروں (معبودوں) کو تیرے کہنے سے اور ہم نہیں تجھ کو ماننے والے

50: قوم نے انتہائی ضد وعناد سے پیغام توحید کا انکار کیا اور الٹا حضرت ہود (علیہ السلام) پر طعن کرنے لگے۔ عَنْ قَوْلِکَ میں عن سببیہ ہے۔ قوم نے کہا اے ہود ! تم اپنے دعوے پر کوئی دلیل تو لائے نہیں اس لیے صرف تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ تم پر ہی ایمان لانے کو تیار ہیں۔ قوم نے فرط عناد و جہالت سے یہ جواب دیا تھا ورنہ توحید کے دلائل واضحہ اور اور آیات باہرہ ان کے سامنے پیش کی جاچکی تھیں۔ انما قالوہ لفرط عنادھم او لشدۃ عمائھم عن الحق و عدم نظرھم فی الایت الخ (روح ج 12 ص 81) ۔
Ayahs 11:54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہی کہتے ہیں51 کہ تجھ کو آسیب پہنچایا ہے کسی ہمارے ٹھاکروں (معبودوں) نے بری طرح بولا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو52 اور تم گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اس کے سوا، سو برائی کرو میرے حق میں تم سب مل کر پھر مجھ کو مہلت نہ دو

51: یہ مشرکین کا ایک نہایت ذلیل طعن تھا وہ چونکہ اپنے معبودان باطلہ کو متصرف و مختار مانتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے پجاریوں پر خوش ہو کر ان کو نفع پہنچاتے اور اپنے مخالفوں پر ناراض ہو کر ان کو تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہو اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ناراض ہو کر (عیاذاً باللہ) تمہیں دیوانہ بنادیا ہے اور تم پر ان کی مار پڑی ہے کہ مجنون کی طرح ہر وقت توحید توحید کی رٹ لگاتے رہتے ہو۔ اعتراک اصابک بعض اٰلھتنا بسوء بجنون وخبل (مدارک ج 2 ص 178) بسوء ای بجنون لسبک ایاھا عن ابن عباس وغیرہ (قرطبی ج 9 ص 51) ۔ انک شتمت الھتنا فجعلتک مجنونا وافسدت عقلک (کبیر ج 18 ص 13) ۔ 52: مشرکین کے مذکورہ طعن کے جواب میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور تم بھی میری بات سن لو اور گواہ رہنا کہ میں تمہارے معبودوں کو متصرف و مختار اور کارساز ماننے سے بری ہوں اور میں ان کو عاجز و بےبس سمجھتا ہوں اس لیے تم میرے خلاف جو چاہو منصوبہ بنا لو مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ اِنِّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیْ کیونکہ میرا بھروسہ اور اعتماد اللہ پر ہے جو میرا اور تم سب کا کارساز ہے اور ساری مخلوق اسی کے قبضہ و تصرف میں ہے اور وہی سب کا مالک ہے۔ ھُوَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا یہ قبضہ و تصرف سے کنایہ ہے۔ ای یصرفھا کیف یشاء و یمنعھا عما یشاء (قرطبی 9 ص 52)
Ayah 11:56

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے بھروسہ کیا اللہ پر جو رب ہے میرا اور تمہارا کوئی نہیں زمین پر پاؤں دھرنے والا مگر اللہ کے ہاتھ میں ہے چوٹی اس کی بیشک میرا رب ہے سیدھی راہ پر53

53: اس کی متعدد ترکیبیں ہیں۔ عَلٰی کا متعلق فعل محزوف ہے ای یدل اور صراط مستقیم سے توحید مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ دین توحید کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ یا صراط مستقیم سے مطلقاً حق مراد ہے یا عدل و انصاف اور عَلیٰ کا متعلق کائن وغیرہ محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق اور سچائی پر ہے وہ اس سے کبھی بھی عدول نہیں فرماتا۔ یا وہ اگرچہ قادر مطلق ہے لیکن پھر بھی مجرموں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزاء و سزا دیتا ہے۔ یا رَبِّیْ سے پہلے مضاف محذوف ہے ای دین ربی یعنی میرے رب کا دین صراط مستقیم ہے۔ ان ربی علی الحق لا یعدل عنہ او ان ربی یدل علی صراط مستقیم (مدارک ج 2 ص 148) یعنی ان ربی و انکان قادرا وانتم فی قبضتہ کالعبد الذلیل فانہ سبحانہ وتعالیٰ لایظلمکم ولا یعمل الا بالاحسان والانصاف والعدل۔ وقیل لمعناہ ان دین ربی ھو الصراط المستقیم (خازن و معالم ج 3 ص 238) ۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو میں پہنچا چکا تم کو جو میرے ہاتھ بھیجا تھا تمہاری طرف اور قائم مقام کرے گا میرا رب اور لوگ اور نہ بگاڑ سکو گے اللہ کا کچھ تحقیق میرا رب ہے54 ہر چیز پر نگہبان

54: اگر مشرکین ضد و انکار پر اڑے رہیں اور ماننے پر نہ آئیں تو آپ کہہ دیں میں نے تو اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور حجت خداوندی قائم کردی اب تمہاری تباہی کا وقت قریب ہے اللہ تمہیں عذاب سے ہلاک کر کے تمہاری جگہ اوروں کو لائے گا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے اور وہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اس لیے تمہیں ان کی پوری پوری سزا دے گا۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب پہنچا ہمارا حکم55 بچا دیا ہم نے ہود کو اور جو لوگ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بچا دیا ان کو ایک بھاری عذاب سے

55:۔ آخر قوم ہود پر اللہ کا عذاب آگیا ساری قوم ہلاک ہوئی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور جو لوگ ان پر ایمان لا چکے تھے اللہ نے ان کو ایمان کی بدولت اور اپنی رحمت سے بچا لیا اور عذاب سے محفوظ رکھا۔ وَتِلْکَ عَادٌ الخ : اس سے چونکہ مشرکین مکہ کو سمجھانا مقصود ہے اور قوم عاد کا واقعہ ان کے ذہنوں میں آچکا ہے اس لیے تِلکَ سے اس قصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اسم اشارہ ہمیشہ محسوس مبصر کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اکثر معہود فی الذہن کے لیے ہوتا ہے جیسا کہ یہاں کیونکہ آنحضرت ﷺ سے سینکڑوں برس پہلے قوم عاد تباہ و برباد ہوچکی تھی اور خارج میں ان کا کوئی وجود نہ تھا مگر اس کے باوجود تَلْکَ سے ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ علی ہذا قبر میں جب میت سے سوال ہوگا۔ ماتقول فی ھذا الرجل ؟ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس وقتحضور ﷺ قبر میں حاضر ہوں گے بلکہ یہاں بھی اشارہ معہود فی الذہن کی طرف ہے۔ وَعَصَوْا رُسُلَہٗ ایک رسول کی تکذیب اور نافرمانی تمام رسولوں کے عصیان کو مستلزم ہے اس لیے جمع کا صیغہ لایا گیا۔
Ayahs 11:59–60

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھے عاد کے منکر ہوئے اپنے رب کی باتوں سے اور نہ مانا اس کے رسولوں کو اور مانا حکم56 ان کا جو سرکش تھے مخالف

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور پیچھے سے آئی ان کو اس دنیا میں پھٹکار قیامت کے دن بھی سن لو عاد منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے عاد کو جو قوم تھی ہود کی

56:۔ انبیاء (علیہم السلام) کی پیروی کے بجائے انہوں نے اپنے سرکش اور معاند سرداروں کی پیروی کی جو انہیں شرک کی دعوت دیتے اور پیغمبروں کو جھٹلانے کی ترغیب دیتے تھے۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہدایت سے محروم رہے اور دنیا وآخرت میں ملعون و مقہور ہوئے۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف ان کا بھائی صالح57 اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو نہیں تمہارے لیے کوئی معبود اس کے سوا وہ اس نے پیدا کیا تمہیں زمین سے اور بسایا تمہیں اس نے اس میں سو اس سے بخشش مانگو پھر رجوع کرو اس کی طرف (توبہ کرو) بیشک میرا رب نزدیک قبول کرنے والا

57: یہ تیسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ سے پیغام توحید قوم کے سامنے پیش کیا۔ ھُوَ اَنشَاَ کُمْ مِّنَ الْاَرْضِ الخ اللہ ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور زمین میں تم کو آباد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے بنیادی انعامات کا ذکر کیا تاکہ قوم کے دلوں میں جذبہ تشکر و امتنان پیدا ہو اور وہ اللہ کی توحید کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ بولے اے صالح58 تو تھا ہم میں (ہمارے درمیان) مرکز امید اس سے قبل کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم پرستش کریں اسے جس کی پرستش کرتے تھے ہمارے باپ دادا اور بیشک ہم شک میں ہیں اس سے جو تو ہمیں بلاتا ہے اس کی طرف قوی شبہ میں

85: ہر قوم نے اپنے پیغمبر کو نئے سے نیا طعن دیا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے جب قوم کے سامنے مسئلہ توحید پیش کیا جو ان کے بگڑے ہوئے مزاج کے خلاف تھا تو وہ بول اٹھے کہ اے صالح ! ہم تو تمہیں بڑا اچھا اور لائق سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ تم اپنی لیاقت و قابلیت سے قوم کو بام عروج پر پہنچا دو گے اور ہم تو تمہارے ساتھ بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے مگر تم نے خلاف توقع اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا اور ہمیں بھی کہتا ہے کہ ہم بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیں۔ اَنْ نَّعْبُدَ ای عن ان نعبد۔ مَایَعْبُدُ موصولہ سے مراد معبودان باطلہ۔ مَاتَدْعُوْنَا موصولہ سے مسئلہ توحید مراد ہے۔ ماتدعونا الیہ من التوحید (مدارک ج 2 ص 149) یعنی کیا تو ہمیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ ہم اپنے ان معبودوں کی عبادت کریں جن کی ہمارے آباء و اجداد عبادت کیا کرتے تھے۔ صاف بات ہے مسئلہ توحید جس کی تو ہمیں دعوت دیتا ہے اس کے بارے میں ہمارے دلوں میں بہت شکوک و شبہات ہیں۔
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

بولا اے قوم59 کیا دیکھتے ہو تم اگر میں ہوں روشن دلیل پر اپنے رب سے اور اس نے مجھے دی اپنی طرف سے رحمت تو کون میری مدد کریگا (بچائے گا) اللہ سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو نہیں تم میرے لیے بڑھاتے سوائے نقصان

59:۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جواب دیا میری قوم ! اگر میرے پاس دعوائے توحید پر اپنے پروردگار کی طرف سے دلائل موجود ہوں اور اللہ کی جانب سے مجھ پر مسلسل وحی بھی نازل ہو رہی ہو (یعنی میں اللہ کا پیغمبر بھی ہوں) اور پھر میں تمہاری خواہشات کی پیروی کرنے لگوں اور اللہ کی توحید کا پیغام چھور کر اس کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاؤں تو تم ہی بتاؤ مجھے اللہ کی گرفت سے کون بچائے گا۔ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ تم تو مجھے اپنے پیچھے چلا کر سراسر خسارے میں ڈالنا چاہتے ہو۔
Ayahs 11:64–65

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم یہ اللہ کی 60 اونٹنی تمہارے لیے نشانی پس اس کو چھوڑ دو کھائے میں اللہ کی زمین اور اس کو نہ چھوؤ تم برائی سے پس تمہیں پکڑ لے گا عذاب قریب (بہت جلد)

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں اس نے کہا برت لو اپنے گھروں میں دین دن یہ وعدہ نہ جھوٹا ہونے والا

60:۔ قوم نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایک مخصوص پتھر سے ایک اونٹنی نکال دیں تو وہ انہیں سچا نبی مان لیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو اللہ کے حکم سے بطور معجزہ اسی وقت پتھر سے اونٹنی نکل آئی تب حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اونٹنی ایک معجزہ ہے اور تمہارے لیے میری سچائی کی بہت بڑی دلیل ہے، اس کی خوراک تمہارے ذمہ نہیں وہ اللہ کی زمین میں چل پھر کر اپنا پیٹ بھر لے گی تم اس سے تعرض مت کرنا ورنہ فوراً اللہ کے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ فَعَقَرُوْھَا مگر وہ باز نہ آئے اور ایک آدمی کو اس کے قتل کرنے پر مامور کیا اس نے موقع پا کر اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ کر اسے قتل کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب تین دن تک گھروں میں اپنی زندگی سے فائدہ اٹھا لو اس کے بعد تمہاری ہلاکت ہے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اس میں ذرہ بھر جھوٹ نہیں۔ غَیْرَ مَکْذُوْبٍ ای فیہ (روح) ۔
Ayahs 11:66–68

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب پہنچا 61 ہمارا حکم ہم بچالیا صالح اور وہ لوگ ایمان لائے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور رسوائی سے اس دن کی بیشک تمہارا رب وہ قوی غالب

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور آپکڑا وہ جو انہوں نے ظلم کیا (ظالم) چنگھاڑ پس انہوں نے صبح کی میں اپنے گھر اوندھے پڑے رہ گئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا نہ بسے تھے یہاں یاد رکھو بیشک ثمود منکر ہوئے اپنے رب کے یاد رکھو پھٹکار ثمود پر

61:۔ جب ہمارے عذاب کا معین وقت آپہنچا تو ہم نے صالح اور اس کے مومن ساتھیوں کو محض اپنی رحمت سے نجات دی اور اس دن کی ذلت ورسوائی سے ان کو بچا لیا۔ وَاَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا الخ اور ظالم (مشرک) لوگ ایک ہی آسمانی چیخ سے اپنے گھروں میں اس طرح ڈھیر ہوگئے گویا کہ وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ ہے اللہ کے پیغمبروں اور اللہ کی توحید کا انکار کرنے والوں کا انجام۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور البتہ آئے62 ہمارے فرشتے ابراہیم خوشخبری لے کر وہ بولے سلام اس نے کہا سلام پھر اس نے دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا لے آیا بھنا ہوا

62:۔ یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتے بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے وہ چونکہ انسانی شکلوں میں تھے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں نہ پہچان سکے اور یہی سمجھا کہ ان کے پاس کوئی آدم زاد مہمان آگئے ہیں اس لیے فورًا تشریف لے گئے اور بچھڑے کا گوشت تل بھون کرلے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت خلیل اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ بآن شان خلت غیب داں نہ تھے اگر غیب داں ہوتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ یہ فرشتے ہیں اور فرشتے کھانا نہیں کھاتے۔ نَکِرَھُمْ یعنی ان کو نہ پہچانا اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرشتوں کو نہ پہچان سکنے کی صراحت ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ فرشتے بھی عالم الغیب نہیں ورنہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کھانا تیار کرانے سے روک دیتے۔ فرشتوں کو بھی علم نہ ہوسکا کہ وہ گھر کس لیے جا رہے ہیں۔ قال الطیبی لو عرفھم بانھم ملائکۃ لم یحضر بین ایھدیم الطعام (روح ج 12 ص 96) ۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب اس نے دیکھے 63 ان کے ہاتھ نہیں پہنچتے اس کی طرف وہ ان سے ڈرا اور محسوس کیا ان سے خوف وہ بولے تم ڈرو مت بیشک ہم بھیجے گئے ہیں طرف قوم لوط

63: جب انہوں نے تلے ہوئے بچھڑے کا دستر خوان اپنے ” مہمانوں “ کے سامنے لا کر رکھا تو انہوں نے کھانے کے لیے دستر خوان کی طرف ہاتھ نہ بڑھائے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں خوف سا پیدا ہوا کہ کہیں یہ لوگ برے ارادے سے نہ آئے ہوں کیونکہ اس وقت کا دستور تھا کہ جس شخص سے کسی برائی کا ارادہ ہوتا اس کے گھر کا نمک نہیں کھاتے تھے وکانوا اذا ارادو الضیف لا یا کل ظنوا بہ شرًا (قرطبی ج 9 ص 65) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آثار خوف دیکھ کر فرشتے بول اٹھے کہ آپ ڈریں نہیں ہم تو فرشتے ہیں اور قوم لوط پر عذاب لے کر آئے ہیں۔ فرشتوں کی اس وضاحت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حقیقت حال کا علم ہوا۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی بیوی کھڑی ہوئی 64 تو وہ ہنس پڑی سو ہم نے اسے خوشخبری دی اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی

64: فَضَحِکَت فَبَشَّرْنٰھَا فاء دونوں میں تعقیب ذکری کے لیے ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر ہے اصل میں تھا فَبَشَّرْنٰھَا فَضَحِکَتْ یعنی ہم نے اس کو بیٹے کی خوشخبری دی تو وہ خوشی سے ہنس پڑی۔ ان ھذای علی اتقدیم والتاخیر والتقدیر وَامْرَاَتُہٗ قَائِمَۃً فَبَشَّرْنٰھَا بِاِسْحٰقَ فَضَحِکَتْ سرورا بسبب تلک البشارۃ فقدم الضحک و معناہ التاخیر (کبیر ج 8 ص 26) ۔ یہ واقعہ سورة ذاریات میں واقعی ترتیب سے مذکور ہے یہاں اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ذاریات میں سب سے پہلے فرشتوں کی آمد کا ذکر ہے۔ اس کے بعد بیٹے کی خوشخبری کا پھر اس کے بعد زوجہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اظہار تعجب کا ذکر ہے۔ قَالُوْا لَاتَخَفْ وَ بَشَّرُوْہُ بِغُلٰمٍ علِیْمٍ ۔ فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ فَصَکَّتْ وَجْھَھَا الایۃ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کی آمد کا مقصد پوچھا تو انہوں نے کہا وہ قوم لوط پر عذاب لے کر آئے ہیں۔ قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ ۔ قَالُوْا اِنَّا اُرْسِلْنَا اِلیٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ الایۃ (ذاریات رکوع 2) ۔
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

بولی 65 اے خرابی کیا میں بچہ جنوں گی، اور میں بڑھیا ہوں، اور یہ خاوند میرا ہے بوڑھا یہ تو ایک عجیب بات ہے

65:۔ حضرت سارہ ؓ نے بیٹے کی خوشخبری سن کر بہت حیرت و تعجب کا اظہار کیا کیونکہ ان کے خیال میں وہ سن یاس میں داخل ہوچکی تھیں اور اس عمر میں ان کے بیٹا پیدا ہونا خلاف توقع تھا پھر اس کے ساتھ ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر بھی اس کی متقاضی نہ تھی بقول حضرت مجاہد حضرت سارہ کی عمر ننانوے برس تھی اور بقول بعض نوے برس جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال یا بقول بعض ایک سو سال تھی (قرطبی) ۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ بولے کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے66 اللہ کی رحمت سے اور برکتیں تم پر اے گھر والو تحقیق اللہ ہے تعریف کیا گیا بڑائیوں والاف

66:۔ فرشتوں نے حضرت سارہ کا تعجب دیکھ کر کہا کیا آپ اللہ کی قدرت پر تعجب کرتی ہیں اور اس کی قضاء وقدرت پر حیران ہوتی ہیں ؟ اللہ کے لیے کوئی شمکل نہیں اے اہل بیت نبوت ! یہ تم پر اللہ کی رحمت و برکت ہے اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ وہ صفات جمالیہ و نعوت جلالیہ کا مالک ہے وہ رحمت و برکت بھی دیتا ہے اور سرکشوں کو سزا بھی دے سکتا ہے۔ یہ آیت وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ ذُوْ الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ کی مانند جامع صفات باری تعالیٰ ہے۔
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب جاتا رہا ابراہیم سے ڈر67 اور آئی اس کو خوشخبری، جھگڑنے لگا ہم سے قوم لوط کے حق میں

67:۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خوف جاتا رہا اور بیٹے کی خوشخبری مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کی آمد کا مقصد پوچھا جب انہوں نے بتایا کہ اِنَّا اُرْسِلْنَا اِلیٰ قَوْمِ لُوْطٍ ہم قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے لیے آئے ہیں تو یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ انہوں نے ہم سے قوم لوط کی سفارش کرنا شروع کردی کہ اللہ ! ان کو کچھ اور مہلت دی جائے شاید وہ سمجھ جائیں قصے کی واقعی ترتیب سورة ذاریات میں ہے کما مر اِنَّ اِبْرَاھِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ ابراہیم (علیہ السلام) بہت حوصلے والے، نرم دل اور اللہ کی طرف انابت ورجوع کرنیوالے تھے انہی اوصاف کی بنا پر قوم لوط کو مہلت دینے کی سفارش کرنے لگے۔
Ayahs 11:75–76

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

البتہ ابراہیم68 تحمل والا نرم دل ہے رجوع رہنے والا

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم چھوڑ یہ خیال وہ تو آچکا حکم تیرے رب کا اور ان پر آتا ہے عذاب جو لوٹایا نہیں جاتا

68:۔ اس سے پہلے قُلْنَا محذوف ہے جب کسی گذشتہ واقعہ میں صیغہ امر کا ذکر ہو تو اس سے پہلے قلنا محذوف ہوتا ہے۔ ہم نے ابراہیم سے کہا اس بات کو جانے دو اور ان کی سفارش نہ کرو کیونکہ ان کی ہلاکت کا وقت آچکا ہے اب وہ ہمارے عذاب سے لا محالہ تباہ وبرباد ہوں گے اب ان سے ہمارا عذاب ہرگز نہیں ٹل سکتا۔ یعنی ان العذاب الذی نزل بھم غیر مصروف عنہم ولا مدفوع عنہم (خازن ج 2 ص 243) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے یہاں کوئی شفیع غالب نہیں جو اس سے اپنی مرضی کے مطابق منوا سکے۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب پہنچے69 ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس غمگین ہوا ان کے آنے سے اور تنگ ہوا دل میں اور بولا آج دن بڑا سخت ہے

69:۔ یہ پانچواں واقعہ ہے اور دوسرے دعوے ہی سے متعلق ہے۔ جب فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ اپنی قوم کی عادت بد کے پیش نظر انہیں دیکھ کر بہت غمگین ہوئے اور اپنے کو کمزور اور بےبس محسوس کیا۔ یا دل میں ان کی آمد کو ناپسند کیا۔ ذرع کے معنی اصل میں فراخی کے ہیں یہاں سینے یا طاقت سے کنایہ۔ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا ای طاقۃ و جھدا (روح ج 12 ص 105) ۔ وَ ضَاقَ بِھِمْ ذَرْعًا ای ضاق صدرہ بمجیئہم وکرھہ (قرطبی ج 8 ص 74) اس واقعہ سے حضرت لوط (علیہ السلام) کے غیب داں ہوں نے کی نفی ہوتی ہے اگر انہیں معلوم ہوتا کہ یہ فرشتے ہیں تو انہیں غم کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ فرشتوں پر قوم کی دست درازی ناممکن تھی۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور آئی اس کے پاس قوم70 اس کی دوڑتی بےاختیار اور آگے سے کر رہے تھے برے کام بولا اے قوم یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں یہ پاک ہیں تم کو ان سے سو ڈرو تم اللہ سے اور مت رسوا کرو مجھ کو میرے مہمانوں میں کیا تم میں ایک مرد بھی نہیں نیک چلن

70: حضرت لوط (علیہ السلام) کا خدشہ درست نکلا جب قوم کے غنڈوں کو ان کے پاس خوبصورت نوجوانوں کی آمد کا علم ہوا تو بری نیت سے ان کی طرف بےاختیار لپکے کیونکہ وہ پہلے ہی سے خلاف فطرت فعل کے عادی تھے۔ قَالَ یٰقَوْمِ ھٰؤُلَاءِ بَنٰتِیْ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو معقول طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی اور فرمایا نادانو ! یہ عورتیں جو تمہارے پاس موجود ہیں تمہارے لیے حلال و طیب ہیں۔ اللہ سے ڈرو اور اس کی حدود کو نہ توڑو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی عقل وفہم والاآدمی موجود نہیں۔ جس طرح قوم کا بڑا آدمی اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہہ دیتا ہے اسی طرح حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ نیز ہر پیغمبر اپنی امت کا باپ ہوتا ہے۔ عن السدی ان المراد بناقہ (علیہ السلام) امتہ۔ لان کل نبی اب لامتہ وبہ قال مجاھد و سعید بن جبیر (روح، قرطبی) یا حضرت لوط (علیہ السلام) کی صلبی بیٹیاں مراد ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) نے بشرط اسلام اپنی بیٹیاں ان سے بیاہ دینے کی پیش کش کی تھی یہ امام زجاج اور حسن بن فضل کا قول ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اسلام کی شرط بھی نہیں تھی کیونکہ اس وقت کافر مرد کا مسلمان عورت سے نکاح جائز تھا۔ من الروح والقرطبی وغیرہما۔
Ayahs 11:79–80

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

بولے تو تو جانتا ہے71 ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ غرض نہیں اور تجھ کو تو معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

کہنے لگا کاش مجھ کو تمہارے مقابلہ میں زور ہوتا، یا جا بیٹھتا کسی مستحکم پناہ میں

71: وہ چونکہ خلاف فطرت فعل کے عادی ہوچکے تھے اس لیے انہوں نے جواب دیا کہ عورتوں کی طرف ہمیں کوئی رغبت نہیں تمہیں معلوم ہی ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ قَالَ لَوْ اَنَّ بِکُمْ قُوَّۃً حضرت لوط (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ معاملہ اختیار سے باہر ہو رہا ہے تو اپنی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کاش مجھ میں تمہارا مقابلہ کرنے کی طاقت ہو یا کوئی ایسی پناہ گاہ ہوتی جس میں اپنے مہمانوں سمیت محفوظ ہوجاتا۔