11. Surah Hud
هودHud · 123 ayahsجواھر القرآن
وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader
اور کہہ دے ان کو101 جو ایمان نہیں لاتے کام کیے جاؤ اپنی جگہ پر ہم بھی کام کرتے ہیں
وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader
اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں
101:۔ زجر مع تخویف دنیوی، دلائل توحید، امم سابقہ کے عبرت آموز حالات اور ترغیب و ترہیب کے بعد فرمایا ان مشرکین سے کہہ دو اگر بیانات شافیہ سے بھی تہارے دل متاثر نہیں ہوئے تو تم اپنی ڈر پر چلتے رہو ہم بھی اپنے مسلک پر قائم و دائم ہیں تم اپنے انجام کا انتظار کرو ہم اپنے انجام کے منتظر ہیں۔
وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader
اور اللہ کے پاس چھپی ہے بات آسمانوں کی اور زمین کی102 اور اسی کی طرف رجوع ہے سب کام کا سو اسی کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ اور تیرا رب بیخبر نہیں جو کام تم کرتے ہو
102:۔ اس آخری آیت میں سورت کے تمام دعو وں کا بالاجمال اعادہ ہے وَلِلّٰہِ غیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ ۔ یہ دوسرے دعوے کا اعادہ ہے۔ عالم الغیب اور قادر و متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فَاعْبُدْہُ : اعادہ دعوی اولی جب عالم الغیب اور قادر و متصرف وہی ہے تو صرف اسی کی عبادت کرو اور انہیں صبر و استقامت سے برداشت کرو۔ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اعادہ دعوی رابعہ۔ اے مشرکین تم محض ضد وعناد کی وجہ سے نہیں مانتے ہو اور الٹا طعنے دیتے ہو یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور تمہیں ان کی پوری پوری سزا دے گا۔
سورة ہود میں آیت توحید اور اس کی خصوصیات۔
1 ۔ اَلّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللہَ ۔ تا۔ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ ۔ نفی شرک فی التصرف
2 ۔ اَلَا اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ ۔ تا۔ کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ نفی شرک فی العلم۔
3 ۔ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللہَ اِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ (رکوع 3) ۔ اعلان توحید از نوح علیہ السلام۔
4 ۔ وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ ۔ تا۔ وَ لَا اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ (رکوع 3) ۔ نفی شرک فی التصروالعلم۔
5 ۔ قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا۔ تا۔ وَمَا اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ نفی تصراز نوح (علیہ السلام) ۔
6 ۔ وَنَادٰی نُوْحٌ رَّبَّہٗ ۔ تا۔ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (رکوع 4) ۔ نفی اختیار و تصرف و نفی شفاعت قہری از حضرت نوح (علیہ السلام) ۔ یہ اس سورت کی خصوصیت ہے۔
7 ۔ تِلْکَ مِنْ اَنْبَا ءِ الْغَیْبِ ۔ تا۔ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ (رکوع 4) ۔ نفی علم غیب و حاضر و ناظر از نبی کریم ﷺ ۔
8 ۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اِلَّا اللہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (رکوع 5) اعلانِ توحید از حضرت ہود علیہ السلام۔
9 ۔ قَالُوْا یٰھُوْد مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ ۔ تا۔ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْءٍ (رکوع 5، 6) حضرت ہود (علیہ السلام) پر قوم کے مطاعن۔
10 ۔ وَلَمَّا جَاءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا ھُوْداً ۔ تا۔ مِنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ (رکوع 6) حضرت ہود (علیہ السلام) بھی بچنے میں اللہ کے محتاج ہیں۔
11 ۔ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (رکوع 6) ۔ اعلان تحید از حضرت صالح علیہ السلام۔
12 ۔ قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْکُنْتَ ۔ تا۔ اِلَیْہِ مُرِیْبٍ ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) پر قوم کا نیا طعن۔
13 ۔ نَکِرَھُمْ اَوجَسَ مِنْھُمْ (رکوع 7) ۔ نفی علم غیب از حضرت ابراہیم علیہ السلام۔
14 ۔ وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوْطاً ۔ تا۔ ھٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ۔ نفی علم غیب از حضرت لوط علیہ السلام۔
15:۔ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (رکوع 8) ۔ اعلان توحید از حضرت شعیب علیہ السلام۔
16 ۔ قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُکَ ۔ تا۔ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر بےجا طعن۔
17 ۔ ذٰلِکَ ِمِنْ اَنْبَاءِ الْقُرٰی نَقُصُّہٗ عَلَیْکَ مِنْھَا قَائِمٌ وَّ حَصِیْدٌ (رکوع 9) دلیل صداقت آنحضرت ﷺ
18 ۔ فَمَا اَغْنَتْ عَنْھُمْ اٰلِہَتُمْ ۔ تا۔ غَیْرَ تَتْبِیْب۔ نفی نصرف از معبودان باطلہ۔
19 ۔ فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ ۔ تا۔ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ (رکوع 9) ۔ معبودانِ باطلہ کی عبادت کا باطل ہونا ایک بدیہی امر ہے۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
20 ۔ وَلِلّٰہِ غَیْبُ السّٰمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ تا۔ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (رکوع 10) ۔ عالم الغیب اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔
سورة ہود ختم ہوئی J