Ayah 10:12:“ الٓم ” یہ حروف مقطعات میں سے ہے اس کی صحیح مراد صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔
3:“ تِلْکَ الخ ” یہ تمہید مع ترغیب ہے اس سورت میں مسئلہ توحید پر زیادہ تر دلائل عقلیہ ذکر کیے گئے ہیں۔ اس لیے ابتداء سورت میں بطو رتمہید “ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ” سے اس طرف اشارہ فرمایا۔ قرآن مجید کی جن سورتوں کی ابتداء میں کتاب کی صفت حکیم آئی ہے ان سورتوں میں زیادہ زور دلائل عقلیہ کے بیان پر دیا گیا ہے اور جن کی ابتداء کتاب کی صفت مبین وارد ہوئی ہے۔ ان سورتوں میں زیادہ تر دلائل نقلیہ مذکور ہیں۔ سورة لقمان کے شروع میں فرمایا “ الٓم تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ” سورة لقمان میں اگرچہ ایک دلیل نقلی بھی مذکور ہے مگر زیادہ زور دلائل عقلیہ پر دیا گیا ہے۔ اسی لیے کتاب کی صفت حکیم لائی گئی ہے۔ سورة زخرف کی ابتداء میں فرمایا “ حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ” یعنی کتاب کی صفت مبین فرمائی کیونکہ اس سورت میں زیادہ تر نقلی دلائل مذکور ہیں۔ سورة شعراء کے شروع میں بھی “ الکتاب ” کی صفت “ مبین ” وارد ہوئی ہے کیونکہ اس میں دلائل نقلیہ ہی مذکور ہیں صرف رکوع 1 میں دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں ترغیب کا پہلو یہ ہے کہ یہ آیتیں ایسی کتاب کی ہیں جو ہر چیز کی حقیقت ٹھیک ٹھیک بیان کرتی ہے اور جس کی تمام باتیں حکمت پر مبنی ہیں اس لیے انہیں توجہ سے سنو اور ان پر عمل کرو۔
Ayah 10:24:“ اَکَانَ لِلنَّاسِ الخ ” یہ زجر ہے اور ہمزہ استفہام انکاری کے لیے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا تو مشرکین عرب نے اس پر تعجب کیا کہ اللہ تعالیٰ تو بڑی بلند وبالا شان کا ملک ہے اس لیے اس کا رسول بشر کیونکر ہوسکتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ “ قَالوا اللہ اعظم من ان یکون رسوله بشرا فانزل اللہ تعالیٰ (اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا) استفہام انکار للتعجب ” (خازن و معالم ج 3 ص 173 و مظھری ج 5 ص 4) ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اس تعجب پر انکار فرمایا کیونکہ تمام انبیاء سابقین بھی بشر ہی تھے اس لیے آخری رسول کا بشر ہونا بھی کوئی انوکھی اور تعجب کی بات نہیں۔ “ وکل واحد من ھذه الامور لیس یعجب لان الرسل المبعوثین الی الامم لم یکونوا الا بشرا مثلھم ” (مدارک ج 2 ص 117) ۔
ٖف 5:“ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ ” یہ تخویف اخروی ہے اور “ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” بشارت اخروی ہے۔ “ اَنَّ لَھُمْ اي بان لھم ” حرف جار مقدر ہے “ قَدَمَ صِدْقٍ ” وہ اعمال صالحہ جو وہ پہلے بھیج چکے ہیں، یا اس سے مراد بہت اونچا مقام اور بلند رتبہ ہے جس پر وہ فائز ہوں گے۔ “ قال مجاھد الاعمال الصالحة التی قدموھا ” (ابن کثیر ج 2 ص 406 و خازن ج 3 ص 173) و قال عطاء اي مقام صدق لا زوال له ولا بؤس فیه یعنی منزلة رفیعة یسبقون الیھا و یقیمون فیھا ” (مظہری ج 5 ص 5) ۔
6:“ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ ” یہ شکویٰ ہے۔ “ ھٰذَا ” سے آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین مکہ نے جب حضور ﷺ سے کئی خارقِ عادت امور دیکھے اور آپ کی زبان مبارک سے کلام مجید سنا تو آپ کو جادوگر کہنا شروع کردیا حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضور ﷺ ہرگز جادوگر نہیں ہیں مگر اس کے باوجود وہ آپ پر یہ جھوٹا الزام لگاتے تھے۔ یہ ان کے عجز کی واضح دلیل ہے۔ جب ایک شخص اپنے مدّ مقابل کی باتوں کا کوئی معقول جواب دینے سے عاجز ہوجاتا ہے تو اپنی کفت مٹانے اور رسوائی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آتا ہے یہی حال مشرکین مکہ کا تھا کہ وہ قرآن کا مثل پیش کرنے سے تو عاجز ہوگئے مگرحضور ﷺ کو (عیاذًا باللہ) جادوگر کہنے لگے۔ “ و ھو دلیل عجزھم واعترافھم به وان کانوا کاذبین فی تسمیته سحرًا ” (مدارک ج 2 ص 117) یعنی یہ کلام تو جادو ہے اس لیے ہم اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔
Ayah 10:37:“ اِنَّ رَبَّکُمْ الخ ”۔ پیغمبر خدا ﷺ کے بشر رسول ہونے پر وہ اس قدر حیران اور متعجب ہیں آخر وہ کہتا کیا ہے اور اللہ کے پاس سے پیغام کیا لایا ہے اس کی بات تو غور سے سنو وہ جو کچھ کہتا ہے عقل و فطرت کے عین مطابق اور حکمت و دانائی پر مبنی ہے۔ یہ توحید (نفی شرک فی التصرف) پر پہلی دلیل عقلی ہے۔ یعنی تمہارا کارساز تو وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر سارے عالم کا نظام کار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ زمین و آسمان کی حکومت تنہا اسی کے قبضہ میں ہے اور وہی سارے عالم میں متصرف و مختار ہے۔ اس نے نظام عالم کا کوئی شعبہ کسی کے اختیار و تصرف میں نہیں دے رکھا۔
8:“ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ” زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنے کی تفصیل سورة حم سجدہ رکوع 2 میں مذکور ہے۔ “ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ ” دو دن میں زمین پیدا کی “ وَ جَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَ بٰرَکَ فِیْھَا وَ قَدَّرَ فِیْھَا اَقْوَاتَھَا فِیْ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ ” اور دو دن میں پہاڑ پیدا کیے اور زمین میں مختلف خاصیتیں اور قوتیں ودیعت فرمائیں۔ اس طرح زمین کی پیدائش ہر لحاظ سے چار دن میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ “ فَقَضٰهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ ” ساتوں آسمانوں اور پورے نظام شمسی کی تخلیق دو دن میں مکمل ہوئی اس طرح زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سارے عالم کو آنِ واحد میں بھی پیدا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سارے عالم کو آنِ واحد میں بھی پیدا کرسکتا تھا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ بالتدریج پیدا کیا تاکہ ہر ہر چیز کی تخلیق میں اس کی قدرت کاملہ اور صنعت بےمثال کا اظہار ہو۔
9:“ ثُمَّ اسْتَوٰي الخ ” حضرت شیخ قدس سرہٗ نے فرمایا کہ استواء علی العرش حکومت وسلطنت سے کنایہ ہے یعنی زمین و آسمان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور اس کی حکومت و سلطنت اور سارا نظام عالم اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس نے نظام عالم کا کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا۔ تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ 63 ص 366 ۔
10:“ مَا مِنْ شَفِیْعٍ الخ ” یہ دعائے سورت یعنی نفی شفاعت قہری کی بالاجمال صراحت ہے۔ جب زمین و آسمان کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے اور سب کچھ اسی کے اختیار و تصرف میں ہے تو پھر کون ہے جو اس کے سامنے دم مار سکے اور اس سے اپنی بات منوا سکے۔ یہاں دنیا اور آخرت میں شفاعت قہری کی نفی ہے اور آخرت میں شفاعت بالاذن کا ثبات ہے۔ مشرکین کا خیال تھا کہ وہ جن بزرگان خدا کو پکارتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے تمام کام کرادیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں اس شفاعت کی نفی فرما دی البتہ آخرت میں اللہ کے اذن سے شفاعت ہوگی اور وہ صرف ان گناہ گاروں کے لیے ہوگی جو دنیا سے ایمان لے کر رخصت ہوئے۔ مشرکوں کے حق میں کوئی شفاعت نہیں ہوگی۔ مسئلہ شفاعت کی مزید تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے حاشیہ 501 ص 125 ۔
11:“ ذٰلِکُمُ اللّٰهُ الخ ” یہ دلیل مذکور کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو مذکورہ بالا صفات سے متصف ہے وہی تمہارا کارساز ہے اس لیے صرف اسی کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اس کی پکار اور عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ “ ذلکم العظیم الموصوف بما وصف به (فَاعْبُدُوْہ) وحدوہ ولا تشرکوا به بعض خلقه من انسان او ملک فضلاً عن جماد لا یضر و لا ینفع ” (مدارک ج 2 ص 117) ۔
Ayah 10:412:“ اِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ الخ ” یہ ما بعد کے لیے تمہید ہے۔ مشرکین اگر مسئلہ توحید مان لیں تو ان کا فائدہ ہے کیونکہ ماننے والے اور نہ ماننے والے سب آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔ “ لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” لام برائے عاقبت ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ “ بِالْقِسْطِ ” یعنی انصاف کے ساتھ۔ حرف جار “ لِیَجْزِيَ ” سے متعلق ہے۔ “ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ ” نہ مانے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 10:513:“ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الخ ” یہ نفی شرک فی التصرف پر دوسری عقلی دلیل ہے، خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے مفید حصر ہے یعنی صلہ میں جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے ان سب کا فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، نظام شمسی، نظام عالم کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس لیے یہاں خصوصیت سے اس کا ذکر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور ان کو روشنی عطا فرمائی اور چاند کے دورے کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ اس کے دوسرے سے مہینوں اور سالوں کی تعداد معلوم ہوسکے۔ ماہِ رمضان، ذی الحجہ اور دیگر مہینوں اور دنوں کی تعیین ہوسکے جن سے اسلامی احکام متعلق ہیں نیز دنیوی کاروبار اور معاملات کے اوقات کا اندازہ ہوسکے۔ سورج کو ضیاء اور چاند کو نور فرمایا کیونکہ لفظ نور عام ہے اور ضیاء خاص ہے یعنی نور کا سب سے قوی فرد بالفاظ دیگر روشنی کی کامل اور تام کیفیت کا نام ضوء ہے بعض نے کہا ہے ذاتی روشنی کو ضوء اور مستعار روشنی کو نور کہا گیا۔ “ والنور اعم من الضوء فانه اقوی افراد النور وقیل ما بالذات ضوء وما بالعرض نور ” (مظہری ج 5 ص 9) “ فالنور اسم لاصل ھذه الکیفیة والضوء اسم لھذه الکیفیة اذا کانت کاملة تامة قویة فلھذا خص الشمس بالضیاء لانھا اقوي و اکمل من النور وخص القمر بالنور لانه اضعف من الضیاء الخ ” (خازن ج 3 ص 174)
14: لفظ “ الحق ” مختلف معنوں کیلئے آتا ہے (1) بمعنی سچائی اور صداقت، باطل کے مقابلہ میں جیسا کہ فرمایا “ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلَ ” (انبیاء رکوع 2) ۔ (2) کبھی لہو اور عبث کے مقابلے میں آتا ہے۔ “ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ مَا خَلَقْنٰھُمَا اِلَّا بِالْحَقِّ الایة ” (دخان رکوع 2) ۔ یہاں دونوں معنوں کا احتمال ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، شمس و قمر اور سارا نظام کائنات سب سے بڑی سچائی (توحید) کے ساتھ پیدا کیا ہے اور یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر شاہد عدل ہے۔ اگر باء بمعنی لام ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ سب کچھ حق وصداقت کے اظہار اور بیان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ “ اي لبیان الحق و الباطل ” (ابن عباس ص 131) ۔ دوسرے احتمال پر مطلب یہ ہوگا کہ یہ ساری کائنات محض عبث اور بےفائدہ پیدا نہیں کی گئی بلکہ اس کے پیدا کرنے میں بہت حکمتیں اور فائدے ہیں سب سے اہم و اعظم فائدہ اور حکمت یہ ہے کہ بندگانِ خدا اس کارخانہ عالم کی ہر چیز میں غور و فکر کریں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ پر استدلال کریں۔ “ یعنی للحق و اظھار قدرته و دلائل وحدانیته و لم یخلق ذلک باطلًا و لا عبثاً ” (خازن ج 3 ص 175) ۔
Ayah 10:615: یہ دلیل ثانی کا تتمہ ہے یعنی رات دن کی آمد و رفت اور زمین و آسمان کی ساری مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بہت بڑی دلیل ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو بنظر انصاف ان میں سوچ بچار کریں، ان کے دلوں میں انابت و اطاعت کا جذبہ ہو اور ضد وعناد سے دور ہوں “ (لَاٰیٰت) لعلا مات لوحدانیة الرب (لِقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ) یطیعون ” (ابن عباس ص 131) ۔
Ayahs 10:7–816: تخویف اخروی برائے منکرین قیامت و مسئلہ توحید، مسئلہ توحید اور قیامت کو دلائل واضحہ سے ثابت کرنے کے بعد نہ ماننے والوں کو عذاب آخرت کی تخویف فرمائی۔ “ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” بشارتِ اخروی برائے مومنین۔
Ayah 10:917: اس پر بظاہر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جب وہ ایمان بھی لے آئے اور نیک کام بھی کرنے لگے تو ہدایت یافتہ تو وہ ہوئے پھر “ یَھْدِیْھِمْ ” کا کیا مطلب ؟ اس لیے “ یَھْدِیْھِمْ ” سے ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رکھنا اور استقامت عطا کرنا مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے مخلصانہ ایمان کی بدولت ان کو صراط مستقیم اور ایمان پر ثابت قدم رکھیگا۔ “ اي یسددھم بسبب ایماھم للاستقامة علی سلوک الطریق السدید المؤدي الی الثواب ” (مدارک ج 2 ص 118) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان کی بدولت آخرت میں ان کو جنت کی راہ دکھائے گا اور وہ سیدھے جنت میں داخل ہوں گے۔ “ قال مجاھد یھدیھم علی الصراط الی الجنة یجعل لھم نورًا یمشون به ” (خازن ج 3 ص 176 و مظہری ج 5 ص 11) ۔
Ayah 10:1018: دعویٰ کے معنی قول اور کلام کے ہیں یعنی جنت میں اہل جنت کا کلام اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس ہی ہوگا “ اي قولھم و کلامھم ” (خازن ج 3 ص 176) یا دعویٰ بمعنی دعاء ہے۔ “ سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ ” یعنی اے اللہ تو پاک ہے اس سے کہ تیرے سامنے کوئی شفیع غالب ہو “ وَتَحِیَّتَھُمْ فِیْھَا سَلَامٌ ” جنت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور فرشتوں کی طرف سے سلام کا تحفہ ملیگا۔ مسئلہ توحید ماننے کی وجہ سے آج آخرت کے عذاب سے امن و سلامتی کی تمہیں خوشخبری دی جاتی ہے یا مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو امن و سلامتی کا تحیہ پیش کریں گے۔ “ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ” یعنی صفات کارسازی اور صفاتِ الوہیت اللہ تعالیٰ ہی سے مختص ہیں اور عبادت اور پکار کے لائق وہی ہے۔ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت شان ملاحظہ کریں گے اور جنت کی گوناگوں نعمتیں دیکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس اور تعظیم و تمجید بجا لائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے سلام کا تھفہ ملے گا۔ اس پر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کریں گے۔ (مظہری ملخصًا) “ اول کلامھم التسبیح واٰخرہ التمجید فیبتدؤون بتعظیم اللہ وتنزیھه و یختمون بالشکر والثناء علیه الخ ” (مدارک ج 2 ص 118) ۔
Ayah 10:1119: یہ زجر ہے “ اِسْتِعْجَالَھُمْ ” منصوب بنزع خافض ہے اس سے پہلے کاف تشبیہ مقدر ہے “ اي کا ستعجالھم ” بعض دفعہ مشرکین اللہ تعالیٰ سے عذاب کی دعائیں کرنے لگتے کہ اے اللہ اگر محمد ﷺ اور ان کا دین سچے ہیں تو ہمیں آسمان سے پتھر برسا کر یا کسی دوسرے عذاب سے ہلاک کردے۔ “ اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِائْتَنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ” (انفال رکوع 4) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح لوگ خیر اور بھلائی مانگنے میں عجلت کرتے ہیں اور انہیں بھلائی دی جاتی ہے، اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ ان کے شر اور عذاب کے مطالبے کو بھی پورا کردیتا تو کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور وہ ناگہانی عذاب سے تباہ و برباد کیے جا چکے ہوتے مگر اللہ تعالیٰ بطور استدراج ان کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکام سے سرکشی کرلیں اور آخر ان کو شدید ترین عذاب میں مبتلا کیا جائیگا۔ “ یَعْمَھُوْنَ اي یلعبون او یتحیرون ” یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔
Ayah 10:1220: یہ شکوی ہے۔ انسان کیا احسان فراموش ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے واضح نشان دیکھ کر اور اس کی بےحساب نعمتیں ملاحظہ کر کے پھر بھی عقل وفکر سے کام نہیں لیتا اور اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ حالانکہ جب کبھی اس پر کوئی بہت بڑی مصیبت آجاتی ہے تو اپنے تمام خود ساختہ معبودوں کو بھول کر ہر حالت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے۔ مشرکین عرب اپنی معمولی حاجات ومشکلات کے لیے تو اپنے معبودانِ باطلہ کو پکارتے تھے مگر جب کسی شدید ترین مصیبت میں مبتلا ہوجاتے تو سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف رب محمد ﷺ جل جلالہ کو پکارتے اور اس کی دہائی دیتے حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں وہ پیغمبر خدا ﷺ سے سنتے رہتے تھے کہ اگر مسئلہ توحید نہیں مانو گے تو اللہ تمہیں المناک عذاب سے ہلاک کردے گا اس لیے جب وہ دریاؤں اور سمندروں میں کشتیوں میں سفر کرتے اور تند و تیز ہواؤں سے خوف ناک موجیں کشتیوں کو ڈانواں ڈول کردیتیں تو فوراً پیغمبر ﷺ کی بات یاد آجاتی اور وہ سمجھنے لگتے کہ شاید جس عذاب سے پیغمبر ڈراتا تھا، وہ اب آپہنچا ہے اس لیے خالصۃً اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے۔ جیسا کہ سورة یونس ہی میں ہے۔ “ جَاءَتْھَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَاءَھُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّظَنُّوْا انَّھُمْ اُحِیْطَ بِھِمْ دَعَوُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ الخ ” (رکوع 3) اور سورة انعام رکوع 4 مٰن ارشاد ہے “ قُلْ اَرَاَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَاتَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ” اور سورة انعام ہی میں ہے۔ “ قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً ۔ لَئِنْ اَنْجٰنٰا مِنْ ھٰذِهٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ” (رکوع 8) ۔ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ سارے عالم کا نظام تدبیر امور عظام اور حوادثِ شدیدہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں “ و عقیدہ اثباتِ خدائی تعالیٰ وآن کہ خدا خالق آسمان و زمین است و مدبر حوادثِ عظام و قادر بر ارسال رسل و مجازاۃ عباد بر اعمال ایشاں و مقدر حوادث عظام است و قادر قبل از وقوع آن درمیانِ ایشاں (مشرکین) ثابت بود ” (الفوز الکبیر باب اول فصل اول) ۔
21: لیکن جب ہم نے اس سے مصیبت دور کردی تو وہ پھر سے اپنی پہلی راہ شرک پر گامزن ہوگیا اور اپنی تکلیف و مصیبت کو اس طرح بھول گیا کہ گویا اسے کوئی تکلیف آئی ہی نہ تھی جس کے لیے اس نے خدا کو پکارا تھا۔ “ اي مضی واستمر علی ماکان علیه قبل ونسی حالة الجهد والبلاء ” (روح ج 11 ص 80) “ والمعنی انه استمر علی حالته الاولی قبل ان یمسه الضر ونسی ماکان و فیه من الجهد والبلاء والضیق والفقر ” (خازن ج 3 ص 145) ۔
22:“ الْمُسْرِفِیْنَ ” یعنی مشرکین وہ جو مشرکانہ اعمال وافعال بجا لاتے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں ان کی اچھائی کا تصور بٹھا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت اور پکار سے اعراض کرنے مصیبت دور ہوجانے کے بعد پھر سے اپنے معبودان باطلہ کی پکار کو وہ بہت اچھا کام خیال کرتے ہیں۔ “ (مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) من الاعراض عن الذکر والدعاء والانھماک فی الشھوات ” (روح) ۔
Ayah 10:1323: تخویف دنیوی “ تخوف بذلک کفار مکة ” (خازن) ۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے۔ توحید کا انکار کرتے اور رسالت و قیامت کی تکذیب کرتے ہیں وہ دنیا کی زندگی اور یہاں کی عیش و طرب پر مطمئن نہ ہوں اور یہ خیال نہ کریں کہ ان کا کچھ بگڑ نہیں سکتا۔ ان سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود وغیرہ کا حشر ان کو اچھی طرح معلوم ہے ان کے پاس اللہ کے پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے اور واضح اور روشن دلائل سے مسئلہ توحید کو بیان کیا مگر انہوں نے اس کا انکار کیا اور ماننے پر تیار نہ ہوئے تو ہم نے ان کو شدید ترین عذابوں سے نیست و نابود کردیا۔ “ لَمَّا ظَلَمُوْا ” یعنی جب انہوں نے اللہ کی توحید کا انکار کر کے اور اس کے پیغمبروں کو جھٹلا کر شرک کرنا شروع کردیا۔ “ لَمَّا ظَلَمُوْا یعنی لما اشرکوا ” (خازن و مدارک ج 3 ص 119) اي کفروا وا شرکوا ” (قرطبی ج 8 ص 317) ۔ “ کَذٰ لِکَ نَجْزِيْ الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ” مجرموں سے ایسا سلوک کرنا ہماری سنت جاریہ ہے لہٰذا اگر مشرکین مکہ نے بھی عاد وثمود کی طرح تکذیب کی اور شرک وکفر پر اڑے رہے تو ان کا بھی وہی حشر ہوگا “ یعنی کما اھلکنا الامم الخالیة لما کذبوا رسلھم کذلک نھلککم ایھا المشرکون بتکذیبکم محمدًا صلی اللہ علیه وسلم ” (خازن ج 3 ص 146) ۔
24: اقوام گذشتہ کے بعد اب تمہاری باری ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اپنا آخری پیغمبر پیغامِ توحید دے کر بھیجا ہے تاکہ تمہاری بھی آزمائش ہوجائے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ تمہارے ساتھ بھی حسب سابق معاملہ ہوگا۔ ماننے والے جزائے خیر کے مستحق ہوں گے اور منکرین عذاب شدید کے سزا وار۔
Ayah 10:1425:“ قَالَ الَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ ”۔ یہ شکوٰی ہے یعنی جب مشرکین کو ہمارا پیغمبر ہماری آیات بینات پڑھ کر سناتا ہے جن میں دلائل توحید اور رد شرک کا بیان ہوتا ہے اور جن میں ان کے معبودانِ باطلہ کی بےبسی اور بیچارگی کا ذکر ہوتا ہے تو وہ بول اٹھتے ہیں یہ قرآن تو ہم ماننے سے رہے البتہ اگر اس قرآن کی جگہ کوئی دوسرا قرا ان لے آؤ یا اسی میں ترمیم کر ڈالو۔ الغرض قرآن میں ہمارے معبودوں کی توہین و تحقیر کا مضمون نہ ہو اور نہ اس میں حشر ونشر کا ذکر ہو تو ہم اسے بسر وچشم قبول کرنے کو تیار ہیں۔ “ (وَاِذَا تُتْلیٰ عَلیْھِمْ اٰیٰتُنَا) الدلاة علی حقیة التوحید وبطلان الشرک ای ائت بکاتب اخر نقرءہ لیس فیه ما نستبعده من البعث والحساب والجزاء وما نکرھه من ذم اٰلھتنا و معایبھا والوعید علی عبادتھا ” (ابو السعود ج 4 ص 800) ۔ “ اَوْ بَدِّلْهُ بان تجعل مکان اٰیة عذاب اٰیة رحمة و تسقط ذکر الالھة وذم عبادتھا ” (مدارک ج 2 ص 120) ۔
Ayah 10:1526: ضمیر کی جگہ موصول کو رکھ کر ان کے قول کی علت بیان کرنا مقصود ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اتنی بری بات اس لیے کہی کہ ان کے دلوں میں قیامت کے عذاب کا کوئی کھٹکا نہیں۔ “ وضع الموصول موضع الضمیر اشعارًا بعالیه فی حیز الصلة للعظیمة المحکیة عنھم وانھم انما اجترء وا علیھا لعدم خوفھم من عقابه تعالیٰ یوم اللقاء ” (ابو السعود ج 4 ص 799) ۔
27: یہ جواب شکویٰ ہے۔ کوئی دوسرا قرآن لانے یا اسی قرآن میں ترمیم کرنے کا مجھ سے مطالطہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ قرآن نازل کرنا میرے اختیار میں ہے یا میں اپنی مرضی سے قرآن لاسکتا ہوں حالانکہ مجھے ان باتوں کا اختیار نہیں میں تو صرف انہی احکام کی پیروی کرتا ہوں جو بذریعہ وحی میرے پاس اللہ کی طرف سے آتے ہیں میں اس معاملہ میں اللہ کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ اگر میں اس کے احکام کی خلاف ورزی کروں اور اس کی کتاب کے احکام میں رد و بدل کروں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے عذاب میں مبتلا کردے۔ “ انی اخشی من اللہ ان خالفت امره او غیرت احکام کتابه او بدلته فعصیته بذالک ان یعذبنی بعذاب عظیم فی توم تذھل کل مرضعة عما ارضعت ” (خازن ج 3 ص 179) ۔
Ayah 10:1628: یعنی سب کچھ اللہ کے اختیار ومرضی سے ہے۔ میں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مجھے نہ بھیجتا اور میں تم کو قرآن کی آیتیں پڑھ کر نہ سناتا اور میری وساطت سے اللہ تعالیٰ تمہیں قرآن کی خبر نہ دیتا۔ “ والمنعی ان الامر کله منوط بمشیته تعالیٰ ولیس لی منه شیئ قط ” (ابو السعود ج 4 ص 802) ۔ “ یعنی لو شاء اللہ لم ینزل علی ھذا القراٰن ولم یامرنی بقراء ته علیکم ” (خازن) ۔
29: یہ ماقبل کی دلیل ہے۔ نزول قرآن سے پہلے میں تم میں ایک طول عرصہ یعنی چالیس برس رہ چکا ہوں۔ میری امانت و دیانت کو تم بخوبی جانتے ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے کسی سے لکھنا پڑھنا بھی نہیں سیکھا تو معلوم ہوا کہ اب میں جو قرآن تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں یہ میرا خود ساختہ نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کے حکم سے پیش کرتا ہوں۔ “ اي من قبل القراٰن تعرفوننی بالصدق والامانة لا اقرا ولا اکتب ثم جئتکم بالمعجزات ” (قرطبی ج 8 ص 321) ۔ “ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ” تو کیا اب بھی تم نہیں سوچتے اور نہیں سمجھتے کہ یہ قرٓان اور اس میں مذکورہ مسئلہ توحید میری اختراع نہیں بلکہ یہ سب کچھ من جانب اللہ ہے۔
Ayah 10:1730: یہ زجر ہے۔ فاء تفریعیہ ہے یعنی جب دلائل عقلیہ قاہرہ سے شرک کی نفی اور ممانعت ثابت ہوگئی تو اس کے بعد بھی جو شخص شرک نہ چھوڑے اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترء کرتا ہے۔ یعنی ایک طرف تو شرک کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ اس کے فعل سے خوش ہے اور اللہ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو پکارنے کی اجازت دی ہے ایسا شخص یا وہ جو قرآن کے من جانب اللہ ہونے اور دلائل توحید کو جھٹلاتا ہے ان سے بڑھ کر دنیا میں کون ظالم ہوسکتا ہے۔ “ یعنی فزعم ان له شریکا و ولدا کذب بایاته یعن جحد بکون القراٰن من عندالله وانکر دلائل التوحید ” (معالم و خازن ج 3 ص 180) ۔ استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے بڑا ظالم کوئی نہیں “ استفھام بمعنی الجحد اي لا احد اظلم ممن افتري الخ ” (قرطبی) ۔
Ayah 10:1831: یہ زجر ہے بطور شکویٰ اور توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے۔ عقلِ سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ عبادت اور پکار صرف ایسی ذات کے لیے جائز ہے جس کے اختیار و تصرف میں مخلوق کا نفع ونقصان ہو اور ایسی ذات سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ مشرکین جن کو نافع وضار سمجھ کر پکارتے ہیں وہ بالکل عاجز و بےبس ہیں۔ نفع و ضرر ان کے اختیار میں نہیں۔ لہذا ان کی عبادت و پکار بھی جائز نہیں۔ یہاں دعوائے سورت بھی ضمنًا مذکور ہے یعنی مشرکین اپنے معبودانِ باطلہ کو عنداللہ شفیعِ غالب سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ اختیار نہیں دیا۔
32: یہ مشرکین کی طرف سے اپنے فعلِ شرک کے ارتکاب کے لیے معذرت ہے۔ یعنی ہم اللہ کے جن نیک اور برگزیدہ بندوں کو پکارتے ہیں انہیں مستقل بالذات نافع وضر یا متصرف ومختار نہیں سمجھتے بلکہ ان کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ چونکہ وہ اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں اور اللہ سے ہمارے کام کرا دیتے ہیں اس لیے ہم ان کو پکارتے ہیں “ اي تشفع لنا عند اللہ فی اصلاح معاشنا فی الدنیا ” (قرطبی ج 8 ص 322) ۔ یعنی دنیا میں خوشحالی اور معاشی فارغ البالی ہمیں انہی معبودوں کی سفارش کے صدقے حاصل ہوتی ہے۔ سفارش سے دنیوی سفارش مراد ہے کیونکہ مشرکین آخرت کے قائل ہی نہ تھے۔ بعض کے نزدیک آخرت میں شفاعت مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر بفرضِ محال قیامت آگئی تو ہمارے معبود ہمیں اللہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے جیسا کہ نضر بن حارث نے کہا تھا قیامت کے دن میرا معبود لات میری سفارش کرے گا۔ “ عن النضر بن الحارث اذا کان یوم القیامة یشفع لی اللات ” (ابو السعود ج 4 ص 806) ۔ مشرکین عرب اللہ کے جن برگزیدہ اور نیک بندوں کو پوجتے اور پکارتے تھے ان میں کچھ تو اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور کچھ اولیاء کرام۔ انہوں ان بزرگوں کے بت بنا کر عبادت خانوں میں نصب کر رکھے تھے اور بظاہر عبادت کا برتاؤ انہی بتوں سے کرتے تھے۔ انہی کے آگے سجدے کرتے۔ انہی کے سامنے نذریں نیازیں رکھتے۔ اور انہی کے روبرو کھڑے ہو کر اور گڑ گڑا کر حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے دعائیں کرتے مگر اس اس سے ان کا مقصد یہ تھا جب وہ ان انبیاء واولیاء (علیہم السلام) کے بتوں کی عبادت و تعظیم بجا لائیں تھے تو وہ اکابر ان سے خوش ہو کر خدا کے یہاں ان کی سفارش کرینگے۔ “ انھم وضعوا ھذه الاصنام علی صور انبیاء ھم واکابرھم وزعموا انھم متی اشتغلوا بعبادة ھذه التماثیل فان اولئک الاکابر یشفون لھم عند اللہ تعالیٰ ” (ابو السعود ج 4 ص 807) ۔ مشرکین کا بتوں سے برتاؤ بعینہ ایسا ہی تھا جیسا کہ آجکل کے قبر پرستوں کا قبروں سے ہے۔ آج کل بہت سے لوگ قبروں کی عبادت و تعظیم بجالاتے ہیں قبروں کو سجدے کرتے اور ان پر نذریں منتیں چڑھاتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصود قبروں کی عبادت و تعظیم نہیں ہوتا بلکہ مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس طرح قبروں والے ہم سے خوش ہو کر اللہ کے یہاں ہماری سفارش کرینگے۔ امام رازی نے مشرکین عرب اور اپنے زمانے (ساتویں صدی) کے مشرکین کے فعل کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔ “ انھم وضعوا ھذه الاصنام والاوثان علی صور انبیائھم واکابرھم و زعموا انھم متی اشتغلوا بعبادة ھذه التماثیل فان اولئک الاکابر تکون شفاء لھم ونظیرہ فی ھذا الزمان اشتغال کثیر من الخلق بتعظیم قبور الاکابر علی اعتقاد انهم اذا عظموا قبورھم فانھم یکونون شفعاء لھم عند اللہ ” (کبیر ج 4 ص 819) ۔ امام ابو السعود حنفی اور امام رازی شافعی کے اقوال سے معلوم ہوا کہ یہ آیت پتھر کے بےجان ٹھاکروں کے بارے میں نہیں بلکہ انبیاء واولیاء اور ملائکہ (علیہم السلام) کے بارے میں ہے۔
33: یہ مشرکین کے مذکورہ دعویٰ کا جواب ہے۔ یعنی زمین و آسمان میں اللہ کے یہاں کوئی شفیع غالب نہیں۔ اگر ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا اور کتب سابقہ میں اس بات کا ذکر ہوتا مگر تم (اے مشرکین عرب) اللہ تعالیٰ کو ایک ایسی بات بتانا چاہتے ہو جس کو وہ نہیں جانتا کیونکہ سرے سے اس کا وجود ہی نہیں۔ “ اَ تخبرون اللہ ان له شریکا فی ملکه او شفیعا بغیر اذنه والله لا یعلم لنفسه شفیعا فی السمٰوٰت والا فی الارض لانه لا شریک له فلذلک لا یعلمه ” (قرطبی ج 8 ص 322) ۔ “ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”۔ ان شرکاء اور شفعاء سے پاک ہے جن کو وہ اللہ کے شریک اور اس کے یہاں سفارشی ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 10:1934:“ فَاخْتَلَفُوْا ” کے بعد کا مضمون مقدر ہے۔ “ اي بعث اللہ النبیین الخ ” بقرینہ سورة بقرہ “ کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَ ةً فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیِّیْنَ الخ ” اور سورة بقرہ میں “ فَبَعثَ ” سے پہلے “ فَاخْتَلَفُوْا ” مقدر ہے بقرینہ آیت زیر تفسیر جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے (ص 101، حاشیہ نمبر 405) لوگوں کے امت واحدہ ہونے اور پھر مختلف گروہوں میں بٹ جانے کا مضمون قرآن مجید میں کئی جگہوں میں مذکور ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے توحید تھی اور تمام لوگ توحید پر متفق تھے کیونکہ توحید دین فطرت ہے۔ اس کے بعد بد عمل اور بےدین لوگوں نے توحید میں اختلاف کیا اور محض ضد کی وجہ سے مسئلہ توحید کی حقانیت کو جانتے ہوئے اس کا انکار کیا۔ اس اختلاف کو مٹانے اور مسئلہ توحید کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا۔ قرآن مجید کی اس موضوع پر متعدد آیتوں کو یکجا کرنے سے حسب ذیل امور واضح طور سے معلوم ہوتے ہیں (1) اختلاف کن لوگوں نے کیا ؟ غلط کار اور باغی عالموں نے۔ (2) اختلاف کب کیا گیا ؟ جب آیات بینات سے توحید کو واضح کردیا گیا اور اختلاف کرنیوالوں کو مسئلہ توحید کی سچائی کا پورا پورا علم ہوگیا۔ یعنی علماء سوء نے جان بوجھ کر عمداً اور قصداً توحید میں اختلاف ڈالا۔ (3) اختلاف کیوں پیدا کیا گیا ؟ علماء سوء نے محض ضد وعناد اور دنیوی ریاست کی وجہ سے مسئلہ توحید کے مقابلے میں شرک کا محاذ کھولا اور توحید سے اختلاف کیا۔ پہلی بات سورة بقرہ میں مذکور ہے۔ “ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْه اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَتْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیَاً بَیْنَھُمْ ” (بقرہ رکوع 26) ۔ یہاں اختلاف کو اہل علم کی جماعت میں منحصر کیا گیا۔ دوسری بات کو سورة آل عمران اور شوریٰ میں ذکر کیا گیا۔ “ وَ مَا خْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الکِتٰبَ اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ ” (اٰل عمران رکوع 2) “ وَ مَا تَفَرَّقُوْا اِلَّا مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ ”(شوری رکوع 2) ان دونوں آیتوں میں اہل کتاب کے اختلاف و تفرق کو مسئلہ توحید کا علم ہوجانے کے بعد کی حالت میں منحصر کر کے واضح کیا گیا ہے کہ اختلاف جہالت و نادانی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ دیدہ و دانستہ محض ضد وعناد اور راہ حق سے بغاوت کی بناء پر تھا۔ تیسری بات ان تینوں آیتوں میں لفظ “ بَغْیًا ”“ اِخْتَلَفَ ” اور “ تَفَرَّقُوْا ” کا مفعول لہٗ ہے جو ان کے اختلاف و تفرق کی علت بیان کر رہا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر سورة آل عمران ص 147 حاشیہ 28 ۔
Ayah 10:2035: یہ شکویٰ ہے۔ “ اٰیةً ” یعنی ان کا منہ مانگا معجزہ۔ مشرکین اگرچہ بڑے بڑے معجزے دیکھ چکے اور توحید کے واضح دلائل وبراہین سن چکے تھے مگر ضد وعناد اور انتہائی سرکشی کی بناء پر ان میں غور وفکر نہ کیا اور مزید معجزہ لانے کا مطالبہ کردیا۔ “ ارادو اٰیة من الایات التی اقترحوھا کانھم لفرط العتو والفساد ونھایة التمادی فی المکابرة والعناد لم یعدوا البینات النازلة علیه علیه السلام من جنس الایت واقترحوا غیرھا مع انه قد انزل علیه من الایت الباھرة و المعجزات المتکاثرة الخ ” (ابو السعود ج 4 ص 808) ۔ مشرکین کہتے مکہ کے پہاڑوں کو ہمارے لیے سونا بنا دو یا کم از کم تمہارا گھر ہی سونے کا ہو یا ہمارے فلاں فلاں باپ دادا کو زندہ کرو وغیرہ وغیرہ “ اي معجزة غیر ھذه المعجزة فیجعل لنا الجبال ذھباً ویکون له بیت من زخرف ویحیی لنا من مات من اٰبائنا ” (قرطبی ج 8 ص 232) ۔
36: یہ جواب شکویٰ ہے یعنی معجزہ لانا تو درکنار مجھے تو یہ بھی معلم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی اور معجزہ میرے ہاتھوں پر ظاہر کرنا منظور ہے تو وہ کب ظاہر ہوگا۔ یہ تو غیب کی بات ہے اور علم غیب ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ مجھے اس کا کوئی علم نہیں اور نہ وہ میرے بس کی بات ہے اور نہ معجزہ اپنے اختیار سے ظاہر کرنا جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ نبوت و رسالت کے لوازم میں سے ہے۔ “ والمعنی ان ما قترحتموہ وزعمتم انه من لوازم النبوة و علقتم ایمانکم بنزوله من الغیوب المختصة بالله تعالیٰ لا وقوف لی علیه ” (ابو السعود ج 4 ص 809) ۔ لہذا تم اپنے مطلوبہ معجزے کا انتظار کرتے رہو اور میں بھی منتظر ہوں کہ آیات بینات کے انکار و جحود اور بےجا مطالبے کی اللہ تعالیٰ تمہیں کیا سزا دیتا ہے۔
Ayah 10:2137: یہ زجر ہے انسان کی ناشکری اور احسان فراموشی کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ تکلیف و مصیبت دور کر کے اسے راحت و خوشحالی سے ہمکنار کردیتا ہے تو وہ شکر بجالانے کے بجائے اللہ کی آیتوں میں حیل و حجت کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو اللہ کا کلام ہی نہیں “ اي مکروا بایاتنا بدفعھا وانکارھا ” (مدارک ج 2 ص 121) ۔ “ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَکْرًا ” یعنی اللہ تعالیٰ ان کے جحود و انکار پر ان کو بہت جلد عذاب دے سکتا ہے۔ مشرکین نے اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اس کی آیات کے انکار کی تدبیر سوچی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کی سزا دینے کی ایک نہایت ہی لطیف تدبیر نکالی کہ کراماً کاتبین کو ان کے تمام بر بھلے اعمال کی ڈائری لکھنے پر مامور فرما دیا اور اس کے مطابق انہیں پوری پوری سزا دی جائے گی۔ اور اس طرح وہ سر محشر ذلیل ورسوا ہوں گے۔ “ ان رسل اللہ یکتبون مکرھم ویحفظونه و تعرض علیھم ما فی بواطنھم الخبیثة یوم القیمة ویکون ذلک سببا للفضیحة التامة والخزي والنکال نعوذ بالله تعالیٰ منه ” (کبیر ج 4 ص 824) ۔
Ayah 10:2238: یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے۔ “ جَرَیْنَ بِھِمْ ” یہاں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے۔ یعنی پہلے مشرکین کو ضمیر خطاب سے مخاطب فرمایا اس کے بعد ضمیر خطاب کی ضمیر غائب استعمال فرمائی۔ جب مشرکین سمندروں اور دریاؤں میں سفر کرتے اور ہوا کا رخ موافق ہوتا تو بہت خوش ہوتے لیکن اگر ان کی کشتیاں طوفانِ باد و باراں میں گھر جاتیں تو نہایت خلوص سے اللہ تعالیٰ کو پکارانا شروع کردیتے اور معبودان باطلہ کو بھول جاتے اور ساتھ ہی یہ بھی عہد کرتے کہ اے اللہ ! اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دیدی تو ہم تیرا شکر ادا کریں گے اور صرف تیری ہی عبادت کریں گے اور ہر کام میں تجھے ہی پکارا کریں گے۔ مگر جب اللہ تعالیٰ ان کی کشتیاں صحیح سلامت کنارے لگا دیتا تو وہ پھر شرک کرنے لگتے۔ “ دَعَوُوا اللّٰه مُخْلِصِیْنَ اي دعوہ وحدہ وترکوا ماکانو یعبدون ” (قرطبی ج 8 ص 325) ۔ مشرکین حضرت پیغمبر خدا ﷺ سے سنتے تھے کہ اگر مسئلہ توحید نہ مانو گے تو اللہ کا عذاب آئیگا جو تمہیں نیست و نابود کردے گا۔ جب وہ دریاؤ کی غضبناک موجوں میں گھر جاتے تو انہیں خیال آتا شاید جس عذاب سے پیغمبر ڈراتا تھا وہ عذاب آگیا اس لیے خالصۃً اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے۔
Ayahs 10:23–2439: یہ تنبیہ ہے اور اس سے دنیا کی تحقیر اور بےوقعتی کا بیان مقصود ہے “ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ ” منصوب بنزع خافض ہے “ اي فی متاع الحیوة الخ ” جس دنیا پر تم مغرور ہو کر حق کو نہیں مانے ہو وہ بہت حقیر اور بالکل ناپائیدار ہے۔ اس چند روزہ دنیا میں تم اللہ کی نافرمانی کر کے اپنی جانوں پر ظلم و زیادتی کرلو آخر قیامت کے دن میرے سامنے آؤ گے جہاں اپنے کیے کی سزا پاؤ گے۔
40: یہ دنیا کی حقارت اور اس کی ناپائیداری کی تمثیل ہے۔ “ اِخْتَلَطَ ” زیادہ اور گنجان ہوگئی۔ “ زُخْرُفَھَا ” زیور یعنی سرسبز و شاداب کھیتوں اور بوقلموں پھولوں کی وجہ سے زمین مانند عروس خوبصورت ہوگئی۔ “ وَازَّیَّنَتْ ” یہ ماقبل کی تفسیر ہے “ کَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ” گویا کہ کل گذشتہ اس کا نام و نشان تک نہ تھا۔ جس طرح بارش برسنے کے بعد زمین سرسبز و شاداب اور رنگا رنگ پھولوں سے مزین اور بارونق ہوجاتی ہے لیکن جونہی کوئی بیماری آفت آئی بس لہلہاتے کھیتوں اور باغوں کا ستیا ناس ہوگیا اور ایسے تباہ ہوئے کہ ان کا نام و نشان تک نہ رہا گویا کہ وہاں کچھ تھا ہی نہیں بالکل یہی حال اس کارگاہ عالم کا ہے اس کی چہل پہل، زینت و آرائش اور رونق وزیبائش بالکل ناپائیدار اور چند روزہ ہے۔ اس لیے دنیا کی عیش و عشرت میں منہمک ہو کر اللہ کی توحید اور آخرت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔
Ayahs 10:25–2641: بشارت اخروی ہے “ دَارُ السَّلَام ” سے مراد جنت ہے “ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا ” خبر مقدم “ اَلْحُسْنٰی وَزِیَادَةٌ ” معطوف علیہ مع معطوف مبتدا مؤخر “ زِیَادَةٌ ” سے دیدار الٰہی مراد ہے “ قَتَرٌ ” سیاہی اور بےرونقی یعنی جن لوگوں نے چند روزہ دنیا پر دین کو ترجیح دی اور پورے اخلاص کے ساتھ توحید و رسالت کو مانا اور شعائر اسلام کی پیروی کی ان کیلئے آخرت میں جنت کا حتمی وعدہ ہے، ان کو ان کے تمام اعمال کی جزا ملیگی اور سب سے بڑا انعام جو انہیں وہاں ملے گا وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ جیسا کہ بہت سے صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ “ (وَ زِیَادَةٌ) رؤیة الرب عز و جل کذا عن ابی بکر و حذیفة وابن عباس و ابی وسی الاشعري و عبادة ابن الصامت ؓ عنھم ” (مدارک ج 2 ص 123) ۔ قیامت کے دن بدکاروں کی طرح ان کے چہرے سیاہ اور بےرونق نہیں ہوں گے اور نہ ذلت ورسوائی ہی کا انہیں سامنا ہوگا۔ بلکہ وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے شاہانہ ٹھاٹھ اور خسروانہ آن بان سے۔
Ayah 10:2742: تخویف برائے مشرکین۔ جن لوگوں نے لذات دنیا میں منہمک ہو کر حق کو ٹھکرا دیا، بد اعمالیوں اور مشرکانہ افعال میں زندگیاں بسر کردیں آخرت میں ان کا بہت برا حال ہوگا۔ میدان حشر میں ذلیل ورسوا ہوں گے اور ان کے چہرے اس قدر سیاہ ہوں گے گویا کہ ان کے چہروں پر اندھیری رات کی تاریکی کی تہیں جمی ہوئی ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے اور ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ “ کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ الخ یعنی کانما البست وجوھھم سوادا من اللیل المظلم ” (خازن ج 3 ص 187) ۔
Ayahs 10:28–2943: تخویف اخروی مع بیان ثمرہ دلیل۔ “ مَکَانَکُمْ ” سے پہلے فعل ناصب محذوف ہے اي الزموا۔ مذکورہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ مشرکین جن معبودانِ باطلہ کی عبادت کرتے اور جن کو عنداللہ شفیعِ غالب خیال کرتے ہیں وہ محض عاجز و درماندہ ہیں اور ان کے اختیار میں کسی کا نفع و ضرر نہیں یہاں بطور نتیجہ اور ثمرہ آخرت کا منظر پیش کیا گیا کہ دیکھ لو جن کو تم متصرف و کارساز اور سفارشی سمجھتے ہو قیامت کے دن وہ تمہارے کام تو کیا آئیں گے یا تمہاری سفارز تو کیا کریں گے بلکہ وہ تو سرے سے تمہاری عبادت اور پکار ہی کا انکار کدیں گے اور میدانِ حشر میں علی رؤوس الشہاد خدا کی قسم کھا کر اعلان کریں گے کہ وہ تمہاری عبادت اور پکار سے بالکل بیخبر تھے اور انہیں اس بات کا قطعاً کوئی علم نہیں کہ کون ان کی قبر پر آیا، کس نے ان کی قبروں پر سجدے کئے، کون ان کے نام کی نذریں منتیں دیتا رہا اور کون انہیں حاجت روائی کے لیے پکارتا رہا۔ اس سے سماع موتی کی نفی مفہوم ہے۔ کَما لا یخفی علی من له ادنی فھم و تدبر۔
44:“ شُرَکَاء ” سے یہاں فرشتے، پیغمبر اور اولیاء اللہ (رح) مراد ہیں جن کے مجسمے بنا کر مشرکین ان کی عبادت کرتے ہیں یا جن مردانِ حق کی قبروں پہ جا کر ان کو پکارتے ہیں قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب طلبی ہوگی کہ کیا یہ لوگ دنیا میں تمہیں پکارتے تھے اور کیا تم نے انہیں اس بات کی تعلیم دی تھی یا ان مشرکانہ افعال کا ان کو حکم دیا تھا تو وہ صاف انکار کریں گے “ بارے خدایا ! ہم نے ان کو شرک کی تعلیم ہرگز نہیں دی، نہ اس پر راضی تھے بلکہ ہمیں تو ان مشرکانہ افعال کا علم بھی نہیں۔ قیل المراد بالشرکاء الملئکة والمسیح فانھم ما امروا بھا ولا رضوا بھا (مظہری ج 5 ص 24) والمراد بالشرکاء قیل الملئکة و عزیر والمسیح وغیرھم ممن عبدوہ من اولی العلم الخ (ابو السعود ج 4 ص 822) ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں اور کوئی جگہوں میں اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ سورة الفرقان رکوع 2 میں ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان نیک لوگوں سے فرمائے گا جن کی دنیا میں عبادت کی گئی۔ “ ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ ھٰؤلَاءِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوْا السَّبِیْلَ ” کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا تھا اور انہیں شرک کی تعلیم دی تھی یا وہ خود ہی گمراہ ہوئے تو نیک لوگ جواب دیں گے۔ “ سُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَا اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَاءَ ” اے اللہ تو ہر شرک سے پاک ہے ہم نے دنیا میں اپنی ذات کیلئے تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں بنایا تو اوروں کو ہم کیونکر شرک کی راہ پر ڈال سکتے تھے اسی طرح ایک جگہ فرشتوں کے بارے میں میں ارشاد ہے “ وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٓئِکَةِ اَھٰؤُلاءِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِھِمْ بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ اَکْثَرُھُمْ بِھِمْ مُّؤمِنُوْنَ ” (سبا، رکوع 5) ۔
Ayah 10:3045: یہ ظرف زمان ہے یا ظرف مکان۔ “ تَتْلُوْا ” پالے گا، جان لے گا یا چکھ لے گا۔ “ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” جن معبودان باطلہ کو انہوں نے کارساز اور سفارشی سمجھ رکھا تھا وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی بھی ان کے کام نہ آسکے گا۔ “ (مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) من ان اٰلھتھم تشفع لھم او ما کانوا یدعون انھا اٰلھة ” (ابو السعود ج 1، کبیر ج 44 ص 838) ۔
Ayah 10:3146: یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے لیکن علی سبیل الاعتراف من الخصم یعنی ایسے عقلی امور کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے جو فریق مخالف یعنی مشکرین کے نزدیک مسلم ہیں اور فریق مخالف ان کو مانتا ہے۔ یہ دلیل ایسے چھ امور پر مشتمل ہے جن کو مشرکین تسلیم کرتے تھے یہ دلیل سابقہ دلیلوں سے بطور ترقی ہے یعنی یہ ایسے امور ہیں کہ مخالف بھی ان کا اقرار کرتے ہیں “ کما قیل اصح الشھادات ما یشھد به الاعداء ” جب کافر ان باتوں کو مانے اور اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات کا اقرار کرتے ہیں تو پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی دیگر صفات کارسازی کو بھی مان لینا چاہئے کہ وہی مالک و مختار اور متصرف و کارساز ہے۔ اول زمین و آسمان سے تمام بنی آدم بلکہ تمام جاندار مخلوق کی روزی کا انتظام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ دوم سننے کی قوت بھی اللہ ہی نے سب کو عطا کی ہے۔ سوم اسی طرح دیکھنے کی طاقت بھی اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے اور وہ ان دونوں قوتوں کو سلب کرلینے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ چہارم : بےجان انڈے اور نطفہ سے جاندار بچہ پیدا کرنا اور۔ پنجم : جاندار یعنی انسان اور پرندے سے بےجان نطفہ اور انڈا پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ یا میت سے مراد کافر ہے کیونکہ وہ ایمان سے محروم ہونے کی وجہ سے مردہ ہے اور حَیٌّ سے مراد مؤمن جو دولت ایمان کی برکت سے زندہ جاوید ہے یا حی سے مراد کھیتی اور میت سے مراد زمین ہے۔ “ اي النبات من الارض والانسان من النطفة والسنبلة من الحبة والطیر من البیضة والمؤمن من الکافر ” (قرطبی ج 8 ص 335) ۔ حق بات یہ ہے کہ یہ جملہ اپنی جامعیت کے اعتبار سے ان تمام اشیاء کو شامل ہے۔ ششم : زمین و آسمان کا سارا کاروبار اور نظام عالم اسی کی تدبیر سے چل رہا ہے تدبیر عالم میں وہ یکتا ویگانہ ہے اور اس میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ “ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ” یعنی جب تم یہ ساری باتیں جانتے اور مانتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہو تو پھر شرک سے کیوں نہیں بچتے اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو کارساز اور متصرف علی الاطلاق کیوں نہیں مانتے ہو۔ “ افلا تتقون الشرک فی العبودیة اذا اعترفتم بالربوبیة ” (مدارک ج 2 ص 124) ۔ مشرکین مکہ کا عقیدہ تو یہ تھا کہ مذکورہ بالا امور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت میں ہیں اور ان کے مزعومہ معبودوں میں ان کاموں کی طاقت نہیں یعنی انھم یعترفون ان فاعل ھذہ الاشیاء ھو اللہ تعالیٰ (خازن ج 3 ص 188) یعنی لا یقدرون علی اسناد ھذه الامور الی ما یدعونه اٰلھة لظھور بطلانه (مظہری ج 5 ص 25) ۔ مگر آج کل کے مشرک ان سے بھی بازی لے گئے۔ مشرکین مکہ نے اعتراف کیا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی مدبر عالم نہیں مگر چودہویں صدی کے ایک مدعی اسلام نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کو برملا مدبر عالم کا خطاب دیا ہے۔
ذی تصرف بھی ہے ماذون بھی ہے مختار بھی ہے
کار عالم کا مدبر بھی ہے عبدالقادر (حدائق بخشش حصہ اول)
47: بھلا بتلاؤ تو سہی کہ رازق کون ہے اور مالک سمع و بصر کون ہے وہ جواب دیں گے کہ اللہ تو پھر اسی کو پکارو اوروں کو کیوں پکارتے ہو۔ “ اَمَّنْ ” میں ام منقطعہ ہے (رضی) اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلی بات غلط ہے اور اس سے اعراض کیا گیا ہے بلکہ ایک امر سے دوسرے امر کی طرف انتقال مراد ہے یعنی بتاؤ تمہیں روزی کون دیتا ہے اچھا اسے رہنے دو ایک اور بات بتاؤ کہ مالک سمع وبصر کون ہے۔
Ayahs 10:32–3348: یہ دلیل مذکور کا ثمرہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو صٖفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا کارساز ہے نہ وہ جنہیں تم نے بنا رکھا ہے۔ “ اي ھذا الذي یفعل ھذه الاشیاء ھو ربکم الحق لا ما اشرکتم معه ” (قرطبی ج 8 ص 335) ۔ “ فَانّٰی تُصْرَفُوْنَ ” یعنی مسئلہ واضح ہوجانے کے بعد پھر کس وجہ سے حق سے پھرے جا رہے ہو “ اَلَّذِیْنَ فَسَقُوْا ” فسق سے درجہ کاملہ یعنی کفر مراد ہے اور جملہ “ لَا یُؤْمِنوْنَ ۔ حَقَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ ” کا بیان ہے جو لوگ مسئلہ توحید کی اس قدر وضاحت کے بعد بھی نہ مانیں اور ضد وعناد سے کفر پر اڑے رہیں ایسے لوگوں کے بارے میں خداوند تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ مہر جباریت کی وجہ سے انہیں ایمان کی توفیق سے محروم کردیا جاتا ہے۔
Ayah 10:3449: اس سورت میں زجروں کے بیان پر خاص طور سے زور دیا گیا ہے یہاں سے خصوصی زجروں کا آغاز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں تو شمرکین نے صفات مذکورہ کا اعتراف کرلیا اب فرمایا ان سے پوچھو بھلا تمہارے مزعومہ معبودوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوق کو پیدا کرسکے اور پھر موت کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرسکے۔ “ قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَاءِکُمْ مَّنْ یَّھْدِيْ اِلَی الْحَقِّ الخ ” یا کوئی ایسا ہے کہ ہدایت الی الحق اس کے اختیار میں ہو “ ھل من شرکاء کم الذین جعلتم اندادا لِلّٰه احد یھدي الی الحق مثل ھدایة اللہ تعالیٰ ” (مدارک ج 2 ص 125) ۔ فرمایا ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود ہی اعلان کردیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نے سب کو پیدا کیا اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا اور ہدایت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ و اختیار میں ہے۔
Ayah 10:3550: اب تم ہی بتاؤ جو اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور ہدایت و ضلالت جس کے اختیار میں ہے اس کی پیروی اور عبادت بہتر ہے یا ان کی جو کسی کو ہدایت دینا تو درکنار خود بھی ہدایت نہیں پاسکتے۔ “ فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ” ان عاجز معبودوں کی عبادت و پکار سے تمہیں کیا ملتا ہے اور تم اپنے لیے کیسا باطل فیصلہ کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر رہے ہو۔
Ayah 10:3651: مشرکین میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو محض ظن وتخمین کی پیروی کرتے اور بطور رسم و رواج دوسروں کی دیکھا دیکھی غلط راستے پر چلتے ہیں۔