9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

ف 1 صاف جواب2 ہے اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی، ان مشرکوں کو جن سے تمہارا عہد ہوا تھا

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے اور جان لو کہ تم نہ تھکا سکو گے اللہ کو اور یہ کہ اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو

1: سورة توبہ۔ ربط : سورة انفال میں مشرکین سے جہاد کرنے کا اجمالاً حکم دیا گیا اور قوانین جہاد کی تعلیم دی گئی۔ نیز حکم صادر کیا گیا کہ اگر جہاد میں مسلمانوں کی فتح ہوجائے تو جو مال غنیمت ہاتھ آئے اس کی تقسیم اللہ کے حکم کے مطابق کریں۔ اور اس میں نزاع واختلاف نہ کریں۔ مال غنیمت کے مصارف کی بھی تفصیل کی گئی۔ سورة توبہ میں اعلان جہاد کا اعادہ کیا گیا۔ اور تفصیل سے بتایا کہ کن کن لوگوں سے جہاد کرنا ہے۔ یعنی جو لوگ ڑی اللہ کی نذریں دیتے اور غیر اللہ کے لیے تحری میں کرتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام، بزرگانِ دین کو متصرف و کارساز سمجھتے ہیں۔ اور اللہ کی تحریمات کو باقی نہیں رکھتے۔ ان کے ساتھ اعلانِ جنگ کردو۔ سورة انفال میں بھی اگرچہ قتال کا حکم بالاجمال موجود ہے مگر وہاں مقصود قوانین جنگ اور مصارفِ غنیمت کا بیان ہے۔ اور سورة توبہ میں مقصود اعلانِ جنگ کا حکم ہے۔ اس لیے اس مضنو یعنی قتال دی سبیل اللہ کو اس میں تفصیل سے ذکر کیا گیا۔ یہ تو سورة توبہ کا ماقبل سے معنوی ربط ہے۔ اسمی ربط یہ ہے کہ مشرکین سے اعلان جنگ کردو اور فتح کے بعد حاصل ہونے والے انفال کو اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم کرو لیکن “ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوْا الصَّلٰوةَ ”(رکوع 2) اگر وہ شرک سے توبہ کرلیں۔ اسلام لے آئیں اور اسلام کے احکام پر عمل کرنے لگیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ پھر ان سے جہاد مت کرو۔ خلاصہ :۔ سورة توبہ کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ ابتداء سے لے کر رکوع نمبر 5 کے آخر تک “ لَا يَھْدِ 5ْ الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ” تک ہے اور دوسرا حصہ رکوع 6 کی ابتداء “ يَا اَيُّھَا الَّذيْنَ اٰمَنُوْا مَالَکُمْ اِذَا قِیْلَ لَکُمُ انْفِرُوْا الخ ” سے لے کر “ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ ” (رکوع 15) تک ہے۔ اور “ يَا اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوْا الَّذيْنَ يَلُوْنَکُمْ ” سے آخر سورت تک مضامین سورت کا اعادہ ہے۔ پہلے حصے میں بد عہدی کرنیوالے مشرکین سے اعلان براءت، مشرکین کے ساتھ اعلان جنگ، مشرکین سے جنگ کرنے کے بارے میں شبہات کا جواب جو ان کے ساتھ قتال کرنے کے موانع تھے اور مشرکین سے قتال کرنے کے اسباب ووجوہ مذکور ہیں۔ اور دوسرے حصے میں منافقین پر زجریں، اور مومنین کے لیے ترغیب الی القتال ہے۔ دوسرے حصے کے آخر میں “ مَا کَانَ للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ ” سے فرمایا مشرکین سے جہاد جاری رکھو۔ اور تمہارے جو متعلقین حالت کفر میں مرچکے ہیں یا جن کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کرو اگرچہ وہ نہایت قریبی رشتہ دار ہوں۔ پہلا حصہ : پہلے حصے کی ابتداء میں “ بَرَآءَ ةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ الخ ” میں بد عہدی کرنے والے مشرکین سے اعلانِ براءت ہے۔ یعنی جن مشرکین سے تمہارا معاہدہ تھا مگر انہوں نے معاہدہ توڑ دیا تم بھی معاہدے سے اعلان براءت کردو اور سارے ملک میں اس اعلان کی چار ماہ تک خوب اشاعت کرو اور پھر حج کے موقع پر بھی اس اعلان کو دہراؤ۔ “ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰھَدْتُّمْ الخ ” سے ان مشرکین کو مستثنی کردیا گیا جنہوں نے اپنا عہد نہیں توڑا اور تمہارے خلاف دشمن کی مدد نہیں کی ان سے اپنا عہد قائم رکھو اور میعاد معاہدہ کے اختتام تک ان سے تعرض مت کرو۔ جب اشہر حرم گذر جائیں تو عہد توڑنے والے مشرکین جہاں کہیں بھی مل جائیں انہیں قتل کر ڈالو۔ “ وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ ” سے پناہ مانگنے والے مشرکین کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ “ کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ الخ ”(رکوع 2) یہ مانع اول کا جواب ہے۔ مانع یہ تھا کہ ان مشرکین سے تو معاہدہ کیا گیا ہے ان سے جہاد کیونکر جائز ہے۔ جواب دیا گیا کہ جب انہوں نے عہد توڑ دیا تو اب مانع باقی نہ رہا۔ اب ان سے جہاد کرو۔ “ مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا الخ ”(رکوع 3) یہ مانع دوم کا جواب ہے۔ مانع دوم یہ تھا کہ مشرکین تو بڑے نیک کام کر رہے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں اور حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں فرمایا کفر وشرک کی حالت میں اعمال صالحہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ اعمال رائیگاں ہیں۔ اعمال کی قبولیت کا مدار ایمان پر ہے اور وہ ایمان سے خالی ہیں۔ اس کے بعد “ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا الخ ” میں مہاجرین اور مجاہدین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ “ یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْا الخ ”(رکوع 3) یہ تیسرے مانع کا جواب ہے یعنی مشرکین سے تو قریبی رشتہ داریاں ہیں ان سے جنگ کرنے سے قطع رحمی ہوگی۔ فرمایا اگر اللہ اور اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں تمہیں رشتہ داریاں اور مالی منافع زیادہ عزیز ہیں تو پھر تم بھی اللہ کے عذاب کا انتظار کرو۔ اس کے بعد “ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰهُ الخ ” (رکوع 4) بشارت دنیوی ہے۔ “ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً الخ ” یہ چوتھے مانع کا جواب ہے۔ یعنی اگر مشرکین سے جہاد کی صورت میں کاروبار تباہ ہونے اور مالی پریشانیوں کا اندیشہ ہو تو اس کی پرواہ نہ کرو۔ اللہ تمہیں فراخی سے دولت عطا فرمائے گا۔ “ قَاتِلُوْا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ الخ ” یہاں سورة انفال کے دعوے کو تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کن لوگوں کے ساتھ قتال کرنا ہے اور ان لوگوں سے قتال کے اسباب وو جوہ کیا ہیں۔ یعنی جو لوگ اللہ کی توحید اور پیغمبر خدا ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں لاتے اور غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھ کر ان کے لیے تحری میں کرتے اور نذریں دیتے ہیں اور اللہ کی تحریمات کو باقی نہیں رکھتے ان سے جہاد کرو وہ خواہ مشرکین عرب ہوں یا یہود اور نصاریٰ “ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِر ” یہ قتال کی پہلی وجہ ہے۔ یعنی اللہ پر، اللہ کے سول پر اور قیامت پر ان کا ایمان نہیں۔ دوسری وجہ “ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٗهُ وَرَسُوْلُهٗ ” وہ محرمات الٰہیہ مثلاً غیر اللہ کی نذر ونیاز کو حرام نہیں سمجھتے۔ تیسری وجہ “ وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ عُزَیْرُ نِ ابْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصَارٰي الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰه ”(رکوع 5) ۔ یہود حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور نائب متصرف سمجھتے ہیں۔ چوتھی وجہ “ اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا الخ ” انہوں نے اپنے مولویوں، پیروں، گدی نشینوں اور حضرت مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا ہے۔ پانچویں وجہ قتال “ يَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ والرُّھْبَانِ الخ ” یہود و نصاریٰ کے بہت سے علماء اور پیر و فقیر لوگوں کو اللہ کی راہ (راہ توحید) سے روکنے اور ناجائز ہتھکنڈوں سے لوگوں کا مال بٹورتے ہیں۔ چھٹی وجہ قتال “ اِنَّ عِدَّ ةَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا الخ ” اللہ تعالیٰ نے روز اول سے مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی اور ان میں سے چار مہینوں کو قابل احترام ٹھہرایا مگر ان مشرکین نے ان میں اپنی طرف سے رد و بدل کردیا وہ عزت والے مہینوں میں جنگ و قتال کر کے ان کی جگہ دوسرے مہینوں کو عزت والے قرار دے کر ان میں جنگ نہ کرتے۔ جن مشرکین نے اشہر حرم کا احترام باقی نہیں رکھا ان سے بھی قتال کرو۔ دوسرا حصہ :“ يَا اَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَالَکُمْ الخ ” (رکوع 6) بیان دعویٰ کے بعد مومنوں کے لیے ترغیب الی القتال، منافقین اور ان مومنوں کے لیے جو جہاد میں شریک نہیں ہوئے زجر وتوبیخ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں سے “ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” تک ترغیب الی القتال ہے۔ دوسرے حصے میں صحابہ کرام کی تین اور منافقین کی چار جماعتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ کی تین جماعتیں (1) وہ مہاجرین وانصار جو جان و دل سے جنگ تبوک میں شریک ہوئے اور جہاد کیا۔ آیات ذیل میں ان کے فضائل اور ان کے لیے بشارتیں مذکور ہیں۔ “ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤِمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ” تا “ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” (رکوع 9) ، “ لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَه ” تا “ ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ” (رکوع 11) ، “ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤمِنُ بِاللّٰهِ ” (رکوع 12) تا “ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” (رکوع 13) ، “ اِنَّ اللّٰه اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ ” تا “ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ” (رکوع 14) ، “ لَقَدْ تَابَ اللّٰهُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنصَارِ ” تا “ اِنَّهٗ بِھِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ” (2) وہ پانچ صحابہ کرام جو مخلص مؤمن تھے مگر جہاد میں شریک نہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے کو ستونوں سے باندھ لیا اور گڑ گڑا کر توبہ کی۔ اللہ نے ان کو توبہ قبول فرما لی۔ “ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ ” تا “ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ” (رکوع 13) میں ان کا ذکر ہے۔ (3) ۔ وہ تین صحابہ جو قدیم الایمان اور نہایت مخلص تھے اور سستی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوئے اورحضور ﷺ کی واپسی پر کوئی عذر نہیں تراشا۔ بلکہ اپنا قصور صاف صاف بیان کردیا ان کو بطور تادیب پچاس دن کی ڈھیل دی اور اس کے بعد ان کی توبہ قبول فرمائی۔ ان کا ذکر ان دو آیتوں میں ہے۔ “ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبَھُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ” (رکوع 13) اور “ وَ عَلَی الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ” تا “ اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ” (رکوع 14) منافقین کی حسب ذیل چار جماعتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ (1) ۔ وہ منافقین جو جہاد میں شریک نہ ہوئے اورحضور ﷺ کی جہاد سے واپسی پر جھوٹے بہانے تراشنا شروع کیے۔ حسب ذیل مقامات میں ان کے احوال وقبائح مذکور ہیں۔ “ لَوْ کَانَ عَرَضاً قَرِیْباً ” (رکوع 6) تا “ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ” (رکوع 8) ۔ “ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ”(رکوع 11) تا “ فَھُمْ لَایَفْقَھُوْنَ ” (رکوع 11) ، “ وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ ” (رکوع 13) تا “ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ” رکوع 12 ۔ (2) ۔ وہ منافقین جو جہاد میں شریک نہ ہوئے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے مسجد ضرار تعمیر کی۔ ان کا ذکر “ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَاراً ” (رکوع 13) تا “ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ” (رکوع 13) میں ہے۔ (3) ۔ وہ منافقین جو ازراہِ نفاق جہاد میں شریک ہوئے مگر راستہ میں مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرتے رہے۔ ان کا ذکر “ وَ لَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ ” تا “ کَانُوْا مُجْرِمِیْن ” (رکوع 8) میں ہے۔ (4) ۔ وہ منافقین جنہوں نےحضور ﷺ کی جنگ تبوک سے واپسی پر آپ کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو ان کی ناپاک سازش کی اطلاع دے دی۔ ان کا ذکر “ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا ” تا “ مِنْ وَّ لِيٍّ وَّ لَا نَصِیْرٌ ” (رکوع 10) میں کیا گیا ہے۔ اس حصے میں ثعلبہ منافق کا واقعہ بھی مذکور ہے جس نےحضور ﷺ سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عہد کیا تھا مگر عہد پر قائم نہ رہا۔ اس کا واقعہ “ وَ مِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللّٰهَ الخ ” رکوع 10 میں مذکور ہے۔ سورت کے آخری رکوع میں سورت کے تمام مضامین کا بالاجمال اعادہ کیا گیا ہے۔ “ يَا اَيُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوْا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ الخ ” میں حکم قتال کا اعادہ ہے۔ “ لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ الخ ” میں ترغیب اتباع رسول کا اعادہ ہے اور “ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ” میں مسئلہ توحید کا بیان ہے جس کی خاطر جہاد کا حکم دیا گیا۔ 2: حصہ اول : سورة براءت کا پہلا حصہ جو ابتداء سے لے کر رکوع 5 کے آخر یعنی “ وَ اللّٰهُ لَایَھْدِيْ الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ” تک ہے۔ اس میں تین امور مذکور ہیں۔ (1) اعلان براءت از مشرکین۔ (2) جہاد کے چار موانع کا جواب اور (3) مشرکین سے جہاد کرنے کے وجوہ۔ سورة براءت سے پہلے بسم اللہ نہیں لکھی گئی اس کی مختلف وجوہ ذکر کی گئی ہیں، اقرب الی الصواب یہ ہے کہ اس سورت سے پہلے بسم اللہ نازل ہی نہیں ہوئی تھی کیونکہ بسم اللہ امان ہے اور سورة توبہ قتال کا حکم لے کر نازل ہوئی جیسا کہ حضرت علی، محمد بن حنفیہ اور سفیان بن عیینہ سے منقول ہے۔ “ عن علی کرم اللہ تعالیٰ وجھه من ان البسملة امان و براءة نزلت بالسیف و مثله عن محمد بن الحنفیة وسفیان بن عیینة و مرجع ذلک الی انھا لم تنزل فی ھذه السورة کا خوا تھا لما ذکر ” (روح ج 10 ص 41) ۔ مسلمانوں کا مشرکین سے معاہدہ تھا مگر مشرکین اپنے عہد پر قائم نہ رہے اور انہوں نے عہد توڑ ڈالا البتہ بنی ضمرہ اور بنی کنانہ اپنے عہد پر قائم رہے۔ قریش اور ان کے حلیف قبیلہ بنی بکر نے مسلمانوں کے حلیف بنی خزاعہ پر ظالمانہ حملہ کر کے ان کو نقصان پہنچایا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ عہد شکن مشرکین سے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کردیں اور ان کو چار ماہ کی مہت دیدیں تاکہ اس دوران میں وہ یا تو وطن سے نکل جائیں یا اسلام قبول کرلیں یا پھر جنگ کیلئے تیار ہوجائیں۔ یہ حکم شوال سن 9 ھجری میں نازل ہوا تھا۔ اور چار مہینوں سے شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم مراد ہیں۔ اعلان براءت کے بارے میں فرمایا کہ سارے ملک میں براءت کا عام اعلان کردو اور براءت نامے لکھ کر ملک میں پھیلا دو تاکہ سب کو براءت کا علم ہوجائے۔ “ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِيْ الْکٰفِرِیْنَ ”، “ اَنَّکُمْ ” کی ضمیر منصوب پر معطوف ہے۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور سنا دینا ہے اللہ3 کی طرف سے اور اس کے رسول کی لوگوں کو دن بڑے حج کے کہ اللہ الگ ہے مشرکوں سے اور اس کا رسول سو اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر نہ مانو تو جان لو کہ تم ہرگز نہ تھکا سکو گے اللہ کو اور خوشخبری سنا دے کافروں کو عذاب دردناک کی

3: یعنی حج کے دن بھی براءت کا اعلان کردو کیونکہ حج کے موقع پر دور دراز کے لوگ آتے ہیں تاکہ جسے پہلے علم نہیں ہوسکا اسے بھی علم ہوجائے مگر موسم حج میں اعلان براءت کے ساتھ چار ماہ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ چار ماہ کا شمار تو ابتدائے نزول آیت سے ہوگا اور موسم حج تک دو ماہ گذر چکے ہوں گے۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر جن4 مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا پھر انہوں نے کچھ قصور نہ کیا تمہارے ساتھ اور مدد نہ کی تمہارے مقابلہ میں کسی کی سو ان سے پورا کر دو ان کا عہد ان کے وعدہ تک بیشک اللہ کو پسند ہیں احتیاط والے

4: اس سے وہ مشرکین مراد ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کی مدد نہیں کی یعنی بنی ضمرہ اور بنی کنانہ (روح) فرمایا ان کو مدت عہد گذرنے تک کچھ نہ کہو۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب گزر جائیں5 مہینے پناہ کے تو مارو مشرکوں کو جہاں پاؤ اور پکڑو اور گھیرو اور بیٹھو ہر جگہ ان کی تاک میں پھر اگر وہ توبہ کریں اور قائم رکھیں نماز اور دیا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا راستہ بیشک اللہ ہے بخشنے والا مہربان

5: یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم گذر جائیں تو مشرکین جہاں کہیں ملیں ان کو قتل کر ڈالو یا انہیں پکڑ کر محصور کرلو اور انہیں پکڑنے کے ہر مناسب کمین گاہ میں چھپ کر بیٹھ جاؤ۔ “ فَاِنْ تَابُوْا الخ ” مشرکین اگر گرفتار یا محصور ہونے کے بعد کفر و شرک سے توبہ کرلیں اور ایمان لا کر احکام اسلام کی بجا آوری کا عہد کرلیں تو انہیں رہا کردو۔ “ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ” جو شخص شرک و کفر توبہ کر کے سچے دل سے اسلام قبول کرلے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کے گذشتہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یعنی “ لمن تاب و رجع من الشرک الی الایمان ومن المعصیة الی الطاعة ” (خازن ج 3 ص 51) “ یغفر لھم ما قد سلف و یثیبھم بایمانھم و طاعتھم ” (روح ج 10 ص 52) ۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک6 تجھ سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے دے یہاں تک کہ وہ سن لے کلام اللہ کا پھر پہنچا دے اس کو اس کی امن کی جگہ، یہ اس واسطے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے

6: اشہر حرم یا مدت عہد گذر جانے کے بعد اگر کوئی مشرک آپ سے آمن کا طالب ہو اور آپ کے قرب و جوار میں رہنے کا متنمنی ہو تو آپ اسے امان دے دیں اور اپنے پاس رہنے دیں تاکہ اسے براہ راست آپ کی زبان سے اللہ کا کلام سننے کا موقع مل جائے اور وہ آپ کی دعوت کو سمجھ سکے۔ اس کے بعد اسے اس کے گھر یا کسی ایسی جگہ پہنچا دیں جہاں اسے کسی قسم کا ڈر اور خطرہ نہ ہو۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

کیونکر ہوے مشرکوں کے7 لیے عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس سو جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم ان سے سیدھے رہو بیشک اللہ کو پسند ہیں احتیاط والے

7: یہاں سے موانع قتال کے جواب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یعنی ایسے چار شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو مشرکین سے جہاد کرنے کی راہ میں حائل ہوسکتے تھے۔ یہ پہلے مانع کا جواب ہے۔ مانع یہ تھا کہ مشرکین سے تو مسلمانوں معاہدہ کر رکھا ہے پھر ان سے قتال کیوں کر جائز ہوسکتا ہے تو فرمایا کہ جن مشرکین نے اپنا عہد توڑ دیا اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کو مدد دی اللہ اور رسول کے نزدیک ان کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ان کے نقض عہد کی وجہ سے معاہدہ ختم ہوگیا اس لیے نبذ عہد کا اعلان کر کے اور چار ماہ کی مہلت دے کر ان سے ڈٹ کر قتال کرو۔ “ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ الخ ” البتہ وہ مشرکین جو اپنے عہد پر قائم ہیں جب تک وہ عہد پر قائم رہیں ان سے اپنا عہد باقی رکھو اور ان سے کسی قسم کا تعرض مت کرو۔ اس سے مراد وہی بنی کنانہ اور بنی ضمرہ ہیں۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کیونکر رہے صلح اور اگر وہ تم پر8 قابو پائیں تو نہ لحاظ کریں تمہاری قرابت کا اور نہ عہد کا تم کو راضی کردیتے ہیں اپنے منہ کی بات سے اور ان کے دل نہیں مانتے اور اکثر ان میں بدعہد ہیں

8:“ کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ ” کی علت ہے یہاں مشرکین کے خبث باطن اور فساد نیت کو ظاہر فرمایا کہ ان سے وفاء عہد کیونکر ہوسکتا ہے اگر انہیں کبھی تم پر غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ نہ تمہاری رشتہ داری کا پاس ولحاظ کریں گے اور نہ اپنے عہد و پیمان کا ان کی چکنی چپڑی باتوں پر مت اعتماد کرو۔ ان کا باطن خبیث اور ناپاک ہے۔
Ayah 9:9

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

بیچ ڈالے انہوں نے9 اللہ کے حکم تھوڑی قیمت پر پھر روکا اس کے راستہ سے برے کام ہیں جو وہ لوگ کر رہے ہیں

9:“ ثَمَنًا قَلِیْلاً ” سے شہوات و اہواء نفسانیہ مراد ہیں اور “ اشتراء ”“ استبدال ” سے کنایہ ہے۔ یعنی وہ اللہ کی آیتوں کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی بجائے خواہشات نفسانیہ اور شہوات حیونیہ کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ “ یعنی انھم اعتاضوا عن اتباع آیات اللہ بما التھوا به من امور الدنیا الخسیصة ” (ابن کثیر ج 2 ص 339) “ وھو اھواءھم و شھواتھم التی اتبعوھا ” (روح ج 10 ص 56) ۔
Ayahs 9:10–11

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

نہیں لحاظ کرتے10 کسی مسلمان کے حق میں قرابت کا اور نہ عہد کا اور وہی ہیں زیادتی پر

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

سو اگر توبہ کریں اور قائم کریں نماز اور دیتے رہیں زکوٰۃ تو تمہارے بھائی ہیں حکم شریعت میں اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں حکموں کو جاننے والے لوگوں کے واسطے

10: خواہشات و شہوات کے اتباع میں ایسے اندھے ہیں کہ کسی مؤمن سے تعلق قرابت اور عہد کا پاس نہیں کرتے “ فَاِنْ تَابوُا الخ ” ہاں اگر وہ صدق دل سے اسلام قبول کرلیں اور اسلامی احکام کے پابند ہوجائیں تو پھر وہ تمہارے بھائی بند ہیں اور ان کے حقوق تمہارے برابر ہیں۔ اب ان کا مال و جان محفوظ ہے۔ ان سے کسی قسم کا تعرض مت کرو۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ توڑ دیں11 اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگائیں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں تاکہ وہ باز آئیں

11:“ نَکَثُوْا ” کی ضمیر سے اگر بنو کنانہ اور بنو ضمرہ مراد ہوں جو عہد پر قائم تھے تو “ اِنْ ” اپنے معنی موضوع لہ پر ہوگا اور اگر اس سے عہد توڑنے والے مشرکین مراد ہوں تو “ اِن ” بمعنی “ اِذَا ” ہوگا کیونکہ اس صورت میں نقض عہد مشکوک نہیں تھا بلکہ یقیناً واقع ہوچکا تھا۔ “ اَ لَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْا الخ ” دوسری توجیہ کا مؤید ہے۔ “ اَئِمَّةَ الْکُفْرِ ” اس سے مراد رؤساء کفر اور پیشوایان شرک ہیں جو اطراف مکہ کے باشندے تھے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے نکالنے میں مشرکین مکہ کو مدد دی تھی یعنی قبل از فتح مکہ اس سے مدینہ کے یہود مراد لینا صحیح نہیں۔ “ لَا اَیْمَانَ لَھُمْ اي لا عھد لھم ” یعنی ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں ان سے وفا و عہد کی توقع بےسود ہے۔
Ayah 9:13

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا نہیں لڑتے ایسے12 لوگوں سے جو توڑیں اپنی قسمیں اور فکر میں رہیں کہ رسول کو نکال دیں اور انہوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے کیا ان سے ڈرتے ہو سو اللہ کا ڈر چاہیے تم کو زیادہ اگر تم ایمان رکھتے ہو

12 یہ ترغیب الی القتال ہے اور استفہام انکاری ہے اور ساتھ تین وجوہ کا ذکر کردیا گیا جو ان سے قتال کی موجب ہیں۔ اول “ نَکَثُوْا اَیْمَانَھُمْ ” کہ انہوں نے عہد شکنی کی ہے۔ دوم “ ھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ ” انہوں نے نبی کریم ﷺ کو مکہ مکرمہ سے نکالنے کی کوشش کی۔ سوم “ وَ ھُمْ بَدَءُوْکُمْ ” اور انہوں نے تمہارے ساتھ جنگ کی ابتداء کی لہذا ان سے ضرور قتال کرو۔ کیا تمہیں یہ ڈر ہے کہ جنگ کی صورت میں تمہیں مشرکین کے ہاتھوں نقصان پہنچے گا ؟ اس کی پرواہ مت کرو بلکہ اللہ سے ڈرو اور اس کے حکم کی خلاف ورزی مت کرو۔ خالص اور پختہ ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو نافع و ضار نہ سمجھو۔ “ فان مقتضی ایمان المؤمن الذي یتحقق انه لا ضار و لا نافع الا اللہ تعالیٰ ولا یقدر احد علی مضرة و لا نفع الا بمشیته ان لا یخاف الا من اللہ تعالیٰ ” (روح ج 10 ص 61) ۔
Ayahs 9:14–15

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

لڑو ان سے13 تا عذاب دے اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں اور رسوا کرے اور تم کو ان پر غالب کرے اور ٹھنڈے کرے دل مسلمان لوگوں کے

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور نکالے ان کے دل کی جلن اور اللہ توبہ نصیب کرے گا جس کو چاہے گا اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

13 مذکورہ بالا تین وجوہ قتال مٰن سے ایک بھی ان سے قتال کا باعث بننے کے لیے کافی ہے چہ جائیکہ تینوں وجوہ موجود ہوں لہذا ان مشرکین سے قتال کرو اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے ان کو رسوا کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ اس طرح جن مومنوں کو ان کے ہاتھوں تکلیفیں پہنچیں تھیں وہ خوش ہوں گے اور ان کے دلوں کی جلن دور ہوجائے گی۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم یہ گمان کرتے ہو14 کہ چھوٹ جاؤ گے اور حالانکہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے اور نہیں پکڑا انہوں نے سوائے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور مسلمانوں کے کسی کو بھیدی اور اللہ کو خبر ہے جو تم کر رہے ہو

14: یہ زجر ہے۔ خطاب مومنین سے ہے یا منافقوں سے جنہیں قتال کا حکم ناگوار محسوس ہوا۔۔ “ وَلِیْجَةً ” راز دار دوست۔
Ayahs 9:17–18

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کا کام نہیں15 کہ آباد کریں اللہ کی مسجدیں اور تسلیم کر رہے ہوں اپنے اوپر کفر کو وہ لوگ خراب گئے ان کے عمل اور آگ میں رہیں گے وہ ہمیشہ

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

وہی آباد کرتا ہے مسجدیں اللہ کی جو یقین لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو اور دیتا رہا زکوٰۃ اور نہ ڈرا سوائے اللہ کے کسی سے، سو امیدوار ہیں وہ لوگ کہ ہو ویں ہدایت والوں میں

15: یہ قتال کے مانع ثانی کا جواب ہے۔ مانع یہ تھا کہ مشرکین بیت اللہ کی تعمیر اور اس قسم کے دوسرے نیک اعمال بجا لاتے ہیں لہذا ان سے قتال کیونکر روا ہے۔ فرمایا مشرکین کا کوئی عمل قبول نہیں۔ کفر و شرک کی حالت میں ان کے تمام نیک اعمال ضائع اور رائیگاں ہیں۔ لہذا ان کے دوسرے شر انگیز اعمال کی وجہ سے ان سے جہاد لازم ہے۔ “ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ الخ ” بیت اللہ کی تعمیر اور دوسرے اعمال صالحہ صرف انہی لوگوں سے قبول کیے جاتے ہیں جو شرک سے توبہ کریں۔ خدائے واحد پر اور آخر پر ایمان لائیں اور تمام اعمال شریعت کے مطابق بجا لائیں۔ “ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ ” اور صرف اللہ سے ڈرے اور معبودان باطلہ سے نہ ڈرے جس طرح مشرکین ڈرتے ہیں۔ “ کانوا یخشون الاصنام و یرجونھا فارید نفی تلک الخشیة عنھم ” (مدارک ج 12 ص 92) ۔
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے کردیا16 حاجیوں کا پانی پلانا اور مسجد الحرام کا بسانا برابر اس کے جو یقین لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور لڑا اللہ کی راہ میں یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ راستہ نہیں دیتا ظالم لوگوں کو

16: خطاب مشرکین سے ہے یعنی ایک وہ شخص ہے جو دل و جان سے ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کی اور ایک وہ ہے جو بحالت شرک حاجیوں کو پانی پلاتا اور بیت اللہ کی تعمیر کرتا ہے یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ مومن کے تمام اعمال عنداللہ مقبول ہیں اور مشرک کے تمام اعمال مردود اور رائیگاں ہیں۔
Ayahs 9:20–22

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو ایمان لائے17 اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

خوشخبری دیتا ہے ان کو پروردگار ان کا اپنی طرف سے مہربانی کی اور رضامندی کی اور باغوں کی کہ جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

رہا کریں ان میں مدام بیشک اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے

17: یہ ان صحابہ کرام کے لیے بشارت اخروی ہے جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں تن من دھن سے جہاد کیا ان کے حسب ذیل فضائل بیان کیے گئے۔ (1) وہ غیر مہاجرین اور غیر مجاہدین مومنوں سے افضل ہیں۔ (2) وہ آخرت میں کامیاب اور بامراد رہیں گے۔ (3) اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنات نعیم کا فیصلہ فرمادیا ہے جن کی ہر نعمت دائمی اور لازوال ہوگی اور وہ بھی ابد الآباد ان میں رہیں گے۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والوف 18 مت پکڑو اپنے باپوں کو اور بھائیوں کو رفیق اگر وہ عزیز رکھیں کفر کو ایمان سے اور جو تم میں ان کی رفاقت کرے سو وہی لوگ ہیں گناہ گار

18: یہ مانع ثالث کا جواب ہے۔ یعنی مشرکین سے جہاد کرنے میں یہ خیال ہر حائل نہ ہونا چاہئے کہ ان میں تمہارے قریبی اور عزیز ترین رشتہ دار موجود ہیں۔ یاد رکھو اگر تمہارے ماں باپ اور تمہارے بھائی اور دیگر اعزہ ایمان کے مقابلے میں کفر و شرک کو ترجیح دیتے اور پسند کرتے ہیں تو تم ان سے ہرگز دوستی نہ رکھو۔ ان سے محبت و شفقت کا رشتہ توڑ لو اور اللہ کے دین کو سربلند کرنے کیلئے ان سے جہاد کرو۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

تو کہہ دے 19 اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو

19: یہ زجر ہے یعنی اگر ماں باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں اور دیگر رشتہ دار، مال و دولت، کاروبار اور مکانات تمہیں اللہ اور اس کے سول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کیلئے تیار ہوجاؤ۔ یہ پہلے حکم “ لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَاء کُمْ وَ اِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَاءَ اِنِ اسْتَحَبُّوْ الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمَانِ ” کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تہدید و تخویف ہے۔ “ فَتَرَبَّصُوْا، و ھٰذا امر تھدید و تخویف ” (خازن ج 3 ص 58) “ (حَتّٰی یَاتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ) الحسن بعقوبة اٰجلة او عاجلة ” (قرطبی ج 8 ص 96) ۔
Ayahs 9:25–26

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

مدد کرچکا ہے اللہ تمہاری20 بہت میدانوں میں اور حنین کے دن جب خوش ہوئے تم اپنی کثرت پر پھر وہ کچھ کام نہ آئی تمہارے اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے پھر ہٹ گئے تم پیٹھ دے کر

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اتاری اللہ نے اپنی طرف سے تسکین اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اور اتاریں فوجیں کہ جن کو تم نے نہیں دیکھا اور عذاب دیا کافروں کو اور یہی سزا ہے منکروں کی

20: خطاب ایمان والوں سے ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مومنین پر اپنے اعنامِ نصرت کا اظہار فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بہت سے مواقع پر دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کی اور تمہیں فتح عطا فرمائی اس لیے تم کسی وقت بھی مشرکین سے قتال کرنے سے ہمت مت ہارو اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے۔ “ خطاب للمومنین خاصة وامتنان علیھم بالنصرة علی الاعدء التی یترک لھا الیغیور احب الاشیاء الیه ” (روح ج 10 ص 72) ۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر واقع ایک وادی کا نام ہے۔ یہاں فتح مکہ کے بعد ہوازن، ثقیف وغیرہ قبائل مشرکین سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تھی۔ مشرکین چار ہزار تھے اور مسلمان بارہ ہزار۔ بعض مسلمانوں نے اپنی کثرت تعداد سے خوش ہو کر کہہ دیا کہ آج ہم قلت عدد کی وجہ سے تو مغلوب نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ ایک مسلمان کثرت عدد پر ناز کرے اور ایک لمحہ کے لیے بھی اللہ پر اعتماد و توکل کی گرفت اس کے دل و دماغ پر سے ڈھیلی ہوجائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے محض تنبیہہ کے طور پر مسلمانوں کی فتح کو شکست سے بدل دیا۔ حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ پہلے کفار کو شکست ہوئی اور بہت سا مال اور ساز و سامان چھوڑ کر پسپا ہوگئے۔ یہ دیکھ کر مسلمان سپاہی اموال غنیمت جمع کرنے لگ گئے۔ اس موقع پر ہوازن کا تیز انداز دستہ جو پہاڑیوں میں گھات لگائے بیٹھا تھا یکایک وہاں سے نکلا اور مسلمانوں پر دھاوا بول دیا اور چاروں طرف سے اس قدر تیر برسائے کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ حضور ﷺ مع چند رفقاء دشمن کے مقابلہ میں باقی رہ گئے۔ حضرت ابو بکر، عمر، علی عباس، ابو سفیان بن حارث عبداللہ بن مسعود، جعفر بن ابی سفیان، ربیعہ بن حارث، فضل ابن عباس، اسامہ بن زید، ایمن بن عبید ؓ تقریبا سو یا اسی نفر ثابت قدم رہے جو پہاڑوں سے زیادہ مضبوط اور مستحکم نظر آتے تھے۔ مولانا عثمانی فرماتے ہیں “ یہ خاص موقع تھا جبکہ دنیا نے پیغمبرانہ صداقت و توکل اور معجزانہ شجاعت کا ایک محیر العقول نظارہ ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا۔ آپ ﷺ سفید خچر پر سوار تھے۔ حضرت عباس ایک رکاب اور ابوسفیان ابن الحارث دوسری رکاب تھامے ہوئے ہیں۔ چار ہزار کا مسلح لشکر پورے جوش انتقام میں ٹوٹا پڑتا ہے۔ ہر چہار طرف سے تیروں کا مینہ برس رہا ہے۔ ساتھی منتشر ہوچکے ہیں مگر رفیق اعلیٰ آپ کے ساتھ ہے۔ ربانی تائید اور آسمانی سکینہ کی غیر مرئی بارش آپ پر اور آپ کے گنے چنے رفیقوں پر ہو رہی ہے جس کا اثر آخر کار بھاگنے والوں تک پہنچتا ہے۔ جدھر سے ہوازن اور ثقیف کا سیلاب بڑھ رہا ہے آپ کی سواری کا منہ اس وقت بھی اسی طرف ہے اور ادھر ہی آگے بڑھنے کے لیے خچر کو مہمیز کر رہے ہیں۔ دل سے خدا کی طرف لو لگی ہے اور زبان پر نہایت استغناء و اطمینان کے ساتھ “ انا النبی لا کذب۔ انا ابن عبد المطب ” جاری ہے۔ یعنی بیشک میں سچا نبی ہوں اور عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔ اسی حالت میں آپ نے صحابہ کو آواز دی “ اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ الیّ انا رسول اللہ ” خدا کے بندوں ادھر آؤ۔ یہاں آؤ کہ میں خدا کا رسول ہوں (تفسیر عثمانی) اس کے بعدحضور ﷺ کی ہدایت پر حضرت عباس ؓ نے صحابہ کو آواز دی جسے اللہ نے ہر ایک کے کان تک پہنچا دیا پھر کیا تھا تمام صحابہ فوراً میدان کی طرف واپس لوٹ پڑے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی کمک نازل فرما دی اور مسلمانوں کے دلوں خوف وہراس کو محو کر کے انہیں سکون و اطمینان عطا فرمایا ان کی تقویت اور ہمت افزائی فرمائی اور مسلمانوں نے پلٹ کر مشرکین کے لشکر پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ آن واحد میں وہ مغلوب و مقہور ہوگئے۔ کچھ مقتول ہوئے کچھ اسیر ہوئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی امداد فرمائی۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر توبہ نصیب کرے گا21 اللہ اس کے بعد جس کو چاہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

21: چناچہ مشرکین کی فوج کے جو سپاہی قید ہوئے یا قتل سے بچ گئے تھے ان میں سے اکثریت کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مسلمان ہو کر دین اسلام کے سچے اور مخلص خادم بن گئے “ یعنی فبھدیه الی الاسلام کما فعل بمن بقی من ھوازن حیث اسلموا وقدموا علی رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم تائبین فمن علیھم واطلق سبیھم ” (خازن ج 3 ص 63) ۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو مشرک22 جو ہیں سو پلید ہیں سو نزدیک نہ آنے پائیں مسجد الحرام کے اس برس کے بعد اور اگر تم ڈرتے ہو23 فقر سے تو آئندہ غنی کر دے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

22: جب کفر کی قوت ٹوٹ گئی اور سارا عرب اسلام کے زیر نگیں آگیا تو مکہ مکرمہ کو اسلامی حکومت کا مرکز قرار دیدیا گیا اور اعلان کردیا گیا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہ ہونے پائے اور انہیں حج کرنے کا بھی موقع نہ دیا جائے۔ “ اَلْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ” سے مسمجد حرام اور مایتعلق بہ یعنی حدود حرم مراد ہیں۔ جیسا کہ “ سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰ بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ” میں ہے کیونکہ معراج حضرت ام ہانی کے گھر سے ہوا تھا۔ “ فلا یحجوا ولا یعتمروا کما کانوا یعمرون فی الجاھلیة ” (مدارک ج 2 ص 93) “ وقال عطاء المراد بالمسجد الحرام الحرم وان علی المسلمین ان لایمکنوھم من دخوله ” (بحر ج 5 ص 38) اصل مقصد مشرکین کو حج وعمرہ کرنے سے روکنا ہے اور حج کے بہت سے احکام مسجد حرام سے باہر ادا ہوتے ہیں مثلاً سعی بین الصفا والمروہ اور وقوف عرفات وغیرہ۔ اس لیے مسجد حرام سے حدود حرم مراد ہیں۔ 23 یہ مانع رابع کا جواب ہے۔ نبذ عہد اور امر قتال کے بعد یہ حکم بھی آگیا کہ آئندہ کے لیے کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکیگا۔ موسم حج میں مشرکین اموال تجارت لاتے تھے جس سے مسلمانوں کو بھی نفع پہنچتا تھا۔ غلہ اور دیگر سامان ضرورت ان کو اسی ذریعہ سے حاصل ہوتا تھا۔ ان تمام امور کی وجہ سے مسلمانوں کو تشویش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس بات کی پرواہ نہ کور تمہاری یہ ساری ضرورتیں میں دیگر ذرائع سے مہیا کردوں گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ بارش برسا کر مدینہ منورہ کی زمینوں کو پہلے سے زیادہ زرخیز بنا دیا۔ اہل نجد، قبالہ اور جرش کو اسلام کی توفیق دی۔ اور وہ غلہ اور دیگر ضرورت کی اشیاء مختلف علاقوں اور ملکوں سے در آمد کرنے لگے۔ اور فتوحات سے اموالِ غنیمت کی صورت میں دولت و ثروت کے دروازے ان پر کھول دئیے۔ “ و قد انجز اللہ تعالیٰ وعدہ بان ارسل السماء علیھم مدرارا ووفق اھل نجد و قبالة وجرش فاسلموا و حملوا الیھم الطعام و ما یحتاجون الیه فی معاشھم ثم فتح علیھم البالد والغنائم و توجه الیھم الناس من کل فج عمیق ” (روح ج 10 ص 77) ۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

لڑو ان لوگوں سے24 جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ حرام جانتے ہیں اس کو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا ان لوگوں میں سے جو کہ اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر

24: سورة انفال و توبہ کا دعوی علی سبیل التفصیل یہاں قتال کرنے کا حکم فرمایا اور تفصیل سے یہ بھی بتا دیا کہ کن لوگوں سے جہاد کرنا ہے اور ان سے جہاد و قتال کی وجوہ کیا ہیں۔ وجوہ قتال : وجہ اول :“ لَا یُؤمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ” وہ اللہ کی توحید پر ایمان نہیں لاتے اور غیر اللہ کو متصرف و کارساز سمجھتے ہیں۔ ان کی خاطر خود ساختہ تحری میں کرتے اور ان کی خوشنودی کے لیے نذریں نیازیں دیتے ہیں۔ وجہ ثانی :“ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ” اللہ تعالیٰ کے محرمات کو حرام نہیں سمجھتے اور اس کی تحریمات کو قائم نہیں رکھتے۔ مثلاً غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے ہیں۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود نے کہا25 کہ عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں کہتے ہیں اپنے منہ سے ریس کرنے لگے اگلے کافروں کی بات کی ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں سے پھرے جاتے ہیں

25: قتال کی وجہ ثالث : ابن اللہ سے یہاں نسبی اور جسمانی بیٹا مراد نہیں بلکہ مراد نائب متصرف ہے۔ “ قال ابن عطیة ویقال ان بعضھم یعتقھا بنوة حنو و رحمة ” (قرطبی ج 8 ص 117) یعنی وہ اللہ کو اس قدر پیارے ہیں کہ اس نے ان کو اختیار دے رکھیں ہیں۔ یہودی حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا نائب متصرف اور کارساز سمجھتے ہیں۔ “ يُضَاھِئُونَ ای یُشَابِھُونَ ۔ الَّذينَ کَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ” سے ان کے آباء و اجداد مراد ہیں جن سے ان کو یہ کفریہ عقیدہ اور قول ورثہ میں ملا۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

ٹھہرا لیا اپنے26 عالموں اور درویشوں کو خدا اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی اور ان کو حکم27 یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک معبود کی کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، وہ پاک ہے ان کے شریک بتلانے سے

26: قتال کی وجہ رابع :“ احبار ” علماء اہل کتاب۔ “ رُھْبَان ” تارک الدنیا، صوفی۔ مراد روحانی پیشوا اور سجادہ نشین۔ یہود و نصٓریٰ اپنے علماء اور پیروں فقیروں کو متصرف و کارساز سمجھ کر ان کو پکارتے اور ان کے آگے سجدے کرتے تھے۔ اور ان کو تحلیل وتحریم کے مختار مانتے تھے۔ “ کانوا یسجدون لھم کما یسجدون لله والسجود لا یکون الا لله فاطلق علیھم ذلک مجازا (بحرج 5 ص 32) حیث اطاعوھم فی تحلیل ما حرم اللہ و تحریم ما احل اللہ کما یطاع الارباب فی اوامرھم ونواھیھم ” (مدارک ج 2 ص 94) ۔ 27:“ اُمِرُوْا ” کی ضمیر سے وہی یہود و نصاریٰ مراد ہیں جو “ اِتَّخَذُوْا ” کے فاعل ہیں یعنی انہوں نے اپنے عالموں اور پیروں کو رب بنا لیا اور اللہ کے سوا ان کی عبادت کرنے لگے حالانکہ تورات اور انجیل میں ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک الٰہ کی عبادت کریں اور اللہ کے سوا کوئی متصرف و کارساز نہیں اور اس کے سوا کوئی اور پکار کے لائق نہیں۔
Ayahs 9:32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

چاہتے ہیں28 کہ بجھا دیں روشنی اللہ کی اپنے منہ سے اور اللہ نہ رہے گا بدون پورا کیے اپنی روشنی کے اور پڑے برا مانیں کافر

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

اسی نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر تاکہ اس کو غلبہ دے ہر دین پر اور پڑے برا مانیں مشرک

28: یہ ایک تمثیل ہے۔ “ نُوْرُ اللّٰهِ ” سے اللہ کی توحید یا اللہ کا دین مراد ہے۔ “ اي دلالته وحججه علی توحیده ” (قرطبی ص 121 ج 8) وہ شرک و کفر کے دبیز پردوں سے نور توحید کو چھپانا اور اس کے دلائل کی تذیب و انکار سے شمع توحید کو بجھانے کی کوشش کر رہے مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اللہ کا دین توحید اپنی پوری شان کے ساتھ درجہ کمال وتمام کو پہنچ کر رہے گا۔ “ ھُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ الخ ” اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری رسول بھیجا ہے اس لیے ہے تاکہ تمام ادیان باطلہ پر دین حق اور فوقیت ثابت کردے۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے29 ایمان والو بہت سے عالم اور درویش اہل کتاب کے کھاتے ہیں مال لوگوں کے ناحق اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور جو لوگ گاڑھ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو ان کو خوشخبری سنا دے عذاب دردناک کی

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن کہ آگ دہکائیں گے اس مال پر دوزخ کی پھر داغیں گے اس سے ان کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں (کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے گاڑھ کر رکھا تھا اپنے واسطے اب مزہ چکھو اپنے گاڑھنے کا

29: یہ قتال کی پانچویں وجہ ہے یعنی یہود و نصاریٰ کے علماء اور پیر فقیر غلط اور ناجائز طریقوں سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں۔ مثلاً کتمان حق پر رشوتیں لینا اور عوام سے غیر اللہ کے نام کی نذریں نیازیں وصول کرنا وغیرہ اور عوام کو حق بات نہیں بتاتے اور مسئلہ توحید نہیں بیان کرتے بلکہ اس کے برعکس لوگوں کو شرک و بدعت کی تعلیم دے کر ان کو اللہ کی راہ اور اس کے سچے دین توحید سے رکتے ہیں۔ “ عَلَیْھَا ” جار مجرور مل کر “ یُحْمیٰ ” کا مفعول ما لم یسم فاعلہ ہے۔ یہ جھوٹے عالموں اور مشرک پیروں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے دولت مندوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کے حکم میں جس دن اس نے پیدا کیے تھے آسمان اور زمین ان میں چار مہینے30 ہیں ادب کے یہی ہے سیدھا دین سو ان میں ظلم مت کرو اپنے اوپر اور لڑو سب مشرکوں سے ہر حال میں جیسے وہ لڑتے ہیں تم سب سے ہر حال میں اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے ڈرنے والوں کے

30: یہ قتال کی چھٹی وجہ ہے۔ یعنی یہ مشرکین اللہ کی تحریمات کو قائم نہیں رکھتے۔ محرم کی حرمت کو صفر پر ڈال دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے آسمانوں کی حرکت اور شمس و قمر کے دورے اس انداز سے مقرر فرمائے ہیں کہ ایک سال کے بارہ مہینے بنتے ہیں۔ ان میں سے چار ماہ عزت و حرمت والے ہیں جن میں جنگ و قتال کرنا ممنوع ہے۔ یعنی رجب، ذی القعدہ ذی الحجہ اور محرم۔ “ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ ” یعنی ان چاروں مہینوں کی حرمت کو قائم رکھنا یہ دین قیم ہے۔ حضرت ابراہیم اور اسمعیل کا دین ہے۔ (روح) مگر مشرکین سال میں اشہر حرم کی تعداد تو پوری کرتے تھے مگر ان کی تعیین کو برقرار نہیں رکھتے تھے۔ جب دشمن کی لڑائی کا زور ہوا اور ادھر اشہر حرم آگئے تو اعلان کردیتے کہ اس مہینے میں جنگ کرلو اور اس کی جگہ کسی دوسرے مہینے کی تعظیم کرلینا۔ چناچہ حج کے موقع پر مشرکین کا سردار نعیم بن ثعلبہ اور بقول جنادہ بن عوف اونٹ پر کھڑا ہو کر اعلان کرتا کہ لوگو ! امسال محرم میں لڑائی ہوگی اور اس کی جگہ صفر حرام ہوگا۔ یعنی وہ محرم کی حرمت کو صفر پر ڈال دیتے تھے۔ اور دوسرے سال اعلان ہوتا کہ امسال محرم کی حرمت قائم ہے۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

یہ جو مہینہ ہٹا دینا ہے31 سو بڑھائی ہوئی بات ہے کفر کے عہد میں گمراہی میں پڑتے ہیں اس سے کافر حلال کرلیتے ہیں اس مہینہ کو ایک برس اور حرام رکھتے ہیں دوسرے برس تاکہ پوری کرلیں گنتی ان مہینوں کی جو اللہ نے ادب کے لیے32 رکھے ہیں، پھر حلال کرلیتے ہیں جو مہینہ اللہ نے حرام کیا بھلے کردیے گئے ان کی نظر میں ان کے برے کام، اور اللہ راستہ نہیں دیتا کافر لوگوں کو

31: النسیئ مصدر ہے بمعنی تاخیر یعنی ایک ماہ کو اس کی مقررہ جگہ سے پیچھے شمار کرنا اور اللہ کی تحریم کو باطل کردینا کفر و ضلالت میں اضافہ ہے اور اس طرح ان کا کفر دوہرا ہوجاتا ہے۔ ایک توحید و رسالت کے انکار کا کفر اور دوسرا اللہ کی تحریمات کو باطل کرنے کا کفر “ لِیُوَاطِئُوْا الخ ” ایک سال محرم کو حلال کرتے ہیں اور ایک سال حرام تاکہ سال میں اشہر حرم کی تعداد چار ہوجائے لیکن مہینوں کی خصوصیت کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ “ ان العرب کانوا اذا جاء شھر حرام وھم محاربون احلوه وحرموا مکانه شھراً اٰخر فیسرحلون المحرم ویحرمون صفراً الخ ” (روح ج 10 ص 93) ۔ 32: یعنی اشہر حرم کی تعداد پوری کرنے کے لیے کسی حلال مہینے کو حرام قرار دے لیتے اور حرام مہینے کو حلال کرلیتے۔ خصوصیت ماہ کی پرواہ نہ کرتے۔ “ و الحاصل انه کان الواجب علیھم العدة والتخصیص فحیث ترکوا التخصیص فقد استحلوا ما حرم اللہ تعالیٰ ” (روح) یہاں سورت کا پہلا حصہ ختم ہوا۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

اے ایمان والو33 تم کو کیا ہوا جب تم سے کہا جاتا ہے کہ کوچ کرو اللہ کی راہ میں تو گرے جاتے ہو زمین پر کیا خوش ہوگئے دنیا کی زندگی پر آخرت کو چھوڑ کر سو کچھ نہیں نفع اٹھانا دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلہ میں مگر بہت تھوڑا

33: حصہ دوم : یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ بیان دعویٰ کے بعد اب یہاں سے منافقین پر زجر اور مومنوں کیلئے ترغیب الی القتال کا ذکر ہے۔ “ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الْاَرْضِ ” یعنی جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو تم زمین پر گرے پڑتے ہو۔ کیا تم آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہو لیکن یاد رکھو دنیا کا سارا مال و متاع آخرت کے انعامات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں “ فی الاخرة بدل الاخرة ”۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے34 تو دے گا تم کو عذاب دردناک اور بدلے میں لائے گا اور لوگ تمہارے سوا اور کچھ نہ بگاڑ سکو گے تم اس کا اور اللہ سب چیز پر قادر ہے

34: اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں ہلاک کر کے تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم اپنے دین کی نصرت و تائید کے لیے کھڑی کردے گا۔ اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکو گے۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم نہ مدد کرو گے35 رسول کی تو اس کی مدد کی ہے اللہ نے جس وقت اس کو نکالا تھا کافروں نے کہ وہ دوسرا تھا36 دو میں کا جب وہ دونوں تھے غار میں جب وہ کہہ رہا تھا اپنے رفیق سے تو غم نہ کھا37 بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین37 اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں39 اور نیچے ڈالی بات کافروں کی اور اللہ کی بات ہمیشہ اوپر ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا

35: اس کی جزاء محذوف ہے “ اي فسینصرہ اللہ ” اور “ فَقَدْ نَصَرَہُ اللـٰهُ ” اس کی علت ہے جو اس کے قائم مقام ہے۔ یعنی اگر تم اس کی یعنی پیغمبر خدا ﷺ کی جہاد سے نہیں کرو گے تو اللہ اس کی مدد کرے گا۔ کیونکہ اس سے پہلے جب مشرکین نے آپ کو مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا تھا اور سارا عرب آپ کا دشمن تھا۔ اس وقت بھی اللہ ہی نے آپ کی مدد کی تھی۔ “ الجواب محذوف اقیم سببه مقامه وھو مستقبل اي ان لم تنصروه فسینصره اللہ تعالیٰ الذي قد نصره فی وقت ضرورة اشد من ھذه المرة ” (روح ج 10 ص 96) ۔ 36: ثانی ضمیر منصوب سے حال ہے۔ “ اِذْ ھُمَا۔ اِذْ اَخْرَجَهٗ ” سے بدل البعض ہے اور غار سے غارثور مراد ہے جس میں آنحضرت ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ نے ہجرت کے وقت تعاقب کرنے والے مشرکین سے چھپ کر تین دن بسر کیے تھے۔ “ اِذْ یَقُوْلُ ” یہ “ اِذْ اَخْرَجَهٗ ” سے بدل ثانی ہے۔ “ لِصَاحِبِهٖ ” صاحب سے یہاں ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں۔ اس پر امت کا اجماع ہے اس لیے علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص حضرت ابوبکر ؓ کی صحابیت سے منکر ہے وہ کافر ہے۔ “ من ان کر ان یکون ابوبکر ؓ عنه صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم فھو کافر لانه ان کر نص القراٰن ” (قرطبی ج 8 ص 146) ۔ 37: حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ مجھ سے حضرت صدیق اکبر ؓ نے ذکر فرمایا کہ جب میں حضرت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غار ثور میں تھا اور مشرکین ادھر ادھر سے ہمیں تلاش کر رہے تھے تو ان کے پاؤں مجھے نظر آرہے تھے۔ میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی نیچے نگاہ کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔ تو اس پر آپ نے فرمایا اے ابوبکر غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اے ابوبکر ! ان دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ جن کا نگہبان، حامی اور ناصر اللہ ہو۔ “ یا ابا بکر ما ظنک باثنین اللہ تعالیٰ ثالثھما ” (روح ج 10 ص 97) ۔ جب دونوں حضرات غار کے اندر داخل ہوگئے تو حکم خداوندی سے مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تن دیا اور کبوتری نے وہاں انڈے دیدئیے۔ جب مشرکین آپ کے تعاقب میں وہاں پہنچے تو جالا اور انڈے دیکھ کر واپس ہوگئے اور غار کے اندر جھانک کر بھی نہ دیکھا۔ 38:“ سَکِیْنَتَهٗ ” میں ضمیر مجرور صاحب کی طرف راجع ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ تو پہلے ہی مطمئن تھے لیکن حضرت ابوبکر کو ڈر محسوس ہوا کہ کہیں مشرکین کے ہاتھوںحضور ﷺ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے توحضور ﷺ کے خطاب “ لَاتَحْزَنْ الخ ” سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کے دل پر سکون و طمانینت نازل فرما دی۔ “ علی ابی بکر، ابن العربی۔ قال علماءنا و ھو الاقوي لانه خاف علی النبی صلی اللہ علیه وسلم من القوم فانزل اللہ سکینته علیه بتامین النبی صلی اللہ علیه وسلم فسکن جاشه و ذھب روعه وحصل الامن ”(قرطبی ج 8 ص 148) ۔ 39: جنود سے فرشتوں کے لشکر مراد ہیں جنہوں نے مشرکین کی تعاقب کرنے والی پارٹیون کے رخ اور ان کی نظریں پھیر دیں تاکہ وہ حضور ﷺ اور ابوبکر ؓ کو دیکھ نہ سکیں۔ یا اس سے جنگ بدر، احزاب اور حنین میں فرشتوں کا نازل کرنا مراد ہے۔ “ ھم الملائکة صرفوا وجوه الکفار وابصارھم عن ان یروه او ایدہ بالملائکة یوم بدر والاحزاب وحنین ”(مدارک ج 2 ص 97) ۔