8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsجواھر القرآن

Ayah 8:1

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

تجھ سے پوچھتے ہیں حکم غنیمت کا2 تو کہہ دے کہ مال غنیمت اللہ کا ہے اور رسول کا سو ڈر اللہ سے3 اور صلح کرو آپس میں اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اگر ایمان رکھتے ہو

2: مضمون اول یا دعوی اولی (تقسیم انفال کا حق اللہ کو ہے مع علل) “ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ الخ ” میں پہلا دعوی بالاجمال مذکور ہے اور دوسرے حصے کے شروع میں “ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِيْ الْقُرْبٰی الخ ” سے اس کی تفصیل کی گئی ہے۔ “ اَنْفَال ” نفل کی جمع ہے مراد مال غنیمت ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ غنائم بدر کی تقسیم کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تو انہوں نے حضرت رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ انہیں کس طرح تقسیم کیا جائے اور تقسیم کا حق کس کو حاصل ہے۔ مہاجرین کو یا انصار کو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کو تقسیم کا حق اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ اللہ کا پیغمبر اللہ کے حکم کے مطابق ان کو تقسیم کرے گا اور کسی کی رائے کو اس میں دخل نہیں ہوگا۔ “ المرا به اختصاص امرھا و حکمھا بالله تعالیٰ ورسوله صلی اللہ علیه وسلم فیقسمھا النبي صلی اللہ علیه وسلم کما یامره اللہ تعالیٰ من غیر ان یدخل فیه راي احد ”(روح ج 9 ص 161) اس کے بعد اس دعوے کی سات علتیں ذکر کی گئی ہیں۔ جن کی ابتداء “ کَمَا اَخْرَجَکَ رَبُّکَ ” سے ہوئی ہے۔ 3:“ ذاتَ البیْن ” سے آپس کے احوال و معاملات مراد ہیں یعنی اللہ سے ڈرو اور آپس کے معاملات درست رکھو، آپس میں اختلاف نہ کرو، متحد رہو اور مال غنیمت کی تقسیم اوردیگر تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو یہی اصل ایمان کی علامتیں ہیں۔
Ayahs 8:2–4

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

ایمان والے وہی ہیں4 کہ جب نام آئے اللہ کا تو ڈر جائیں ان کے دل اور جب پڑھا جائے ان پر اس کا کلام تو زیادہ ہوجاتا ہے ان کا ایمان اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو کہ قائم رکھتے ہیں نماز کو اور ہم نے جو ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

وہی ہیں سچے ایمان والے ان کے لیے درجے ہیں اپنے رب کے پاس اور معافی اور روزی عزت کی

4: یہاں سے لے کر “ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ ” تک ان مؤمنین کاملین کے لیے بشارت اخروی ہے۔ جن میں صفات ذیل موجود ہوں۔ جو ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہیں، اللہ کی آیتیں سن کر ان کے ایمان میں پختگی پیدا ہو، وہ ہر کام میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوں نماز قائم کرتے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوں۔
Ayahs 8:5–6

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

جیسے نکالا تجھ کو5 تیرے رب نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے اور ایک جماعت6 اہل ایمان کی راضی نہ تھی

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ تجھ سے جھگڑتے تھے حق بات میں اس کے ظاہر ہو چکنے کے بعد گویا وہ ہانکے جاتے ہیں موت کی طرف آنکھوں دیکھتے

5: یہ دعوی اولی “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْل الخ ” کی پہلی علت ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ “ کَمَا ” میں کاف تعلیلیہ ہے جیسا کہ علامہ ابو حیات اندلسی نے لکھا ہے۔ “ و یظھر ان الکاف فی ھذا التخریج المنامی لیست لمحض التشبیه بل فیھا معنی التعلیل الخ ” (بحر ج 4 ص 463) اور “ اَلْحَق ” سے حکمت اور صواب مراد ہے۔ “ اخراجاً متلبساً با لحکمة والصواب ” (مدارک ج 2 ص 72، جامع البیان ص 152) ۔ سن 2 ھ کا واقعہ ہے کہ ابو سفیان کی سر کردگی میں مشرکین کا ایک تجارتی قافلہ شام سے واپس آرہا تھا جو قریش کے ساٹھ آدمیوں اور دیگر ملازمین پر مشتمل ہےحضور ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ آیا قافلہ کا تعاقب کیا جائے یا نہ کچھ صحابہ نے یہ خیال ظاہر کیا کہ چونکہ یہ ایک معمولی سی بات ہے کوئی باقاعدہ جنگ کی صورت تو ہے نہیں اس پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت سعد بن عبادہ نے پرجوش تقریریں کیں اور مسلمانوں کو تعاقب کرنے پر ابھارا چناچہحضور ﷺ تین سو تیرہ آدمیوں اور معمولی ساز و سامان کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے چونک ہجنگ ہوجانے کی کوئی توقع نہ تھی اس لیے فوری طور پر جتنے آدمی جمع ہوگئے اور جس قدر سرسری سامان فی الوقت ہاتھ لگا وہی لے کر چل دئیے۔ ادھر ابو سفیان کو بھی اپنے مخبر کے ذریعے حضور ﷺ کے پروگرام کا علم ہوگیا اس نے ابوجہل کی اطلاع کے لیے فوراً ایک آدمی مکہ روانہ کردیا۔ ابوجہل اطلاع پاتے ہی ایک ہزار جنگجو نوجوانوں کی معیت میں جو ہر قسم کے جنگی ہتھیاروں سے مسلح تھے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ جب آنحضرت ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے دوبارہ صحابہ سے مشورہ کیا کہ اب ہمارے سامنے دو جماعتیں ہیں ایک تجارتی قافلہ اور ایک مشرکین کا لشکر جرار ان دونوں میں سے کس سے نبرد آزمائی کرنا چاہئے۔ بعض مسلمانوں نے کہا کہ ہم چونکہ جنگ کے لیے تیار ہو کر نہیں آئے اور مشرکین کی فوج تعداد میں ہم سے زیادہ اور سامان جنگ میں ہم سے مضبوط ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا دشوار ہوگا اس لیے قافلہ ہی سے مقابلہ کرنا چاہئےحضور ﷺ کو یہ بات پسند نہ تھی آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان دونوں جماعتوں میں سے ایک کو ہمارے ہاتھوں مغلوب کرے گا۔ اس لیے ہمیں لشکر ہی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ تاکہ فیصلہ کن جنگ کے ذریعے مشرکین کی طاقت کا خاتمہ ہوجائے۔ حضرت ابوبکر، حضرت سعد اور حضرت مقداد ؓ نے بھی حضور ﷺ کی رائے کے حق میں زور دار تقریریں کیں آخر میدان بدر میں مشرکین کا لشکر جرار اور مسلمانوں کی مٹھی بھر فوج آپس میں بھڑ گئیں اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن مقابلہ ہوا مشرکین کے ستر سردار جن میں ابوجہل بھی تھا مارے گئے اور ستر قید ہوئے۔ اس طرح جزیرہ عرب میں کفر کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس فتح میں بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلاف مت کرو اور اپنی رائے کو اس میں دخیل مت بناؤ۔ اس کی تقسیم اللہ کے حکم سے اللہ کا پیغمبر فرمائے گا کیونکہ یہ فتح اور یہ اموال غنیمت تمہارے تو خواب و خیال میں بھی نہ تھے اور تم تو اس لشکر کے سامنے آنے ہی سے جی چراتے تھے یہ سب اللہ کی مہربانی اور اس کی توفیق سے ہوا کہ اس نے قافلے کے تعاقب کے بہانے تم کو مدینہ سے نکالا اور ایک بڑے لشکر سے بھڑا دیا اور اس میں اس کی حکمت مضمر تھی کہ اس نے بےسرو سامان مٹھی بھر مسلمانوں کو اچانک ہی ایک مضبوط فوج سے بھڑا کر حق و باطل کا فیصلہ کردیا۔ اور ڈھیروں مال غنیمت ان کے قبضے میں دیدیا۔ 6: یعنی مدینہ سے قافلے کے تعاقب میں نکلتے وقت بعض مسلمانوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ “ يُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ ” الحق یعنی بالکل ظاہ ر اور واضح بات۔ “ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ ” یہ کراہیت کی تمثیل ہے یعنی مدینے سنکلنے کو اس طرح ناپسند کر رہے تھے گویا کہ انہیں مو نظر آرہی تھی۔ بتقاضائے بشریت بعض مسلمانوں سے اس کا ظہور ہوا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو مومن ہی فرمایا ہے اور ان کی ناگواری بھی ابتداء ہی میں تھی جو بعد میں خوشی اور رضامندی میں تبدیل ہوگئی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں کراہیت بوقت خروج مراد نہیں بلکہ قافلہ چھوڑ کر لشکر سے مقابلہ کرنے پر کراہیت مراد ہے۔ “ ضمیر الرفع فی یجادلونک عائد علی فریق المومنین الکارھین وجدالھم قولھم ما کان خروجنا الا للعیر ولو عرفنا لاستعددنا للقتال ”(بحر ج 4 ص 463) لیکن سیاق سے پہلا مفہوم راجح معلوم ہوتا ہے۔
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور جس وقت تم سے وعدہ کیا تھا اللہ7 نے دو جماعتوں میں سے ایک کا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے سچ کو اپنے کلاموں سے اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچا کرے سچ کو اور جھوٹا کردے جھوٹ کو اور اگرچہ ناراض ہوں گناہ گار

7: یہ دوسری علت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ دونوں (لشکر اور تجارتی قافہ) میں سے ایک پر تم کو ضرور فتح دوں گا تم نے ب سروسامان قافلہ پر حملہ کرنا پسند کیا مگر اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ تمہیں اس قلت عدد اور بےسروسامانی کے ساتھ مشرکین کے مضبوط لشکر سے لڑا کر دین حق کو بلند اور باطل کو سرنگوں کرے اور مشرکین کی جڑ ہی کاٹ ڈالے۔
Ayah 8:9

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم کو لگے فریاد کرنے8 اپنے رب سے تو وہ پہنچا تمہاری فریاد کو9 کہ میں مدد کو بھیجوں گا تمہارے لیے ہزار فرشتے لگاتار آنے والے

8: یہ تیسری علت ہے جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ اب مشرک فوج سے مقابلہ ناگزیر ہوگیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر امداد و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے خود حضور ﷺ نے انتہائی تضرع اور زاری سے دعا کی۔ آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر عرض کی، بارے خدایا اپنا وعدہ فتح و نصرت پورا فرما۔ اللہ ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر تیری خالص عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا آپ نے اس قدر طویل دعا مانگی کہ آپ کی چادر کندھوں سے گر پڑی حضرت ابوبکر چادر آپ کے کندھوں پر ڈالتے اور کہتے یارسول اللہ دعا کافی ہوگئی اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ 9: یعنی اللہ نے تمہاری دعا قبول کرلی اور اسباب کے طور پر تمہاری مدد کے لیے فرشتوں کی فوج نازل کردی۔ “ اِنِّیْ ” سے پہلے حرف جار مقدر ہے “ اي بانی ” (روح) یا اس سے پہلے “ اخبرکم ” فعل محذوف ہے۔ یہاں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کا ذکر ہے چونکہ مشرکین کی تعداد ایک ہزار تھی اس لیے ایک ہزار فرشتوں کا آنا بھی حتمی طور پر بیان کیا گیا۔ اس کی مزید تحقیق سورة آل عمران کی تفسیر میں ص 177 پر حاشیہ 191، 192 میں ملاحظہ فرمائیں۔ “ مُرْدِفِیْن ” یعنی فرشتے جن کے پیچھے ایک دوسری جماعت آرہی ہو۔ فرشتگان کہ از پس خود جماعت دیگر آوردند (فتح الرحمن) ۔
Ayah 8:10

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور یہ تو دی اللہ نے 10 فقط خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمہارے دل اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے بیشک اللہ زور آور ہے حکمت والا

10: فرشتوں کا اتارنا محض فتح و ظفر کی خوشخبری اور ظاہری سبب سازی کے طور پر تھا تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن رہیں اور دشمن کی کثرت اور اس کے سامان جنگ کی وجہ سے ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے۔ باقی رہی فتح و نصرت تو وہ اللہ کے ہاتھ میں اور اسی کی طرف سے ہے۔ فرشتوں اور دیگر اسباب پر منحصر نہیں کامیاب وہی ہوتا ہے جس کی اللہ مدد کرے خواہ وہ ظاہری اسباب میں پست ہی کیوں نہ ہو۔ “ المعنی لا تحسبوا النصر من الملائکة علیھم السلام فان الناصر ھو اللہ تعالیٰ لکم والملائکة وعلیه فلا دخل للمالئکة فی النصر اصلاً ” (روح ج 9 ص 174) ۔
Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جس وقت کہ ڈال دی اس111 نے تم پر اونگھ اپنی طرف سے تسکین کے واسطے اور اتارا تم پر آسمان سے پانی کہ اس سے تم کو پاک کر دے اور دور کردے تم سے شیطان کی نجات اور مضبوط کردے تمہارے دلوں کو اور جمادے اس سے تمہارے قدم

11: یہ چوتھی علت ہے۔ “ اَمَنَةً ” مفعول ہے اور “ مِنْهُ ” کی ضمیر مجرور اللہ کی طرف راجع ہے میدان بدر میں کئی ایک ظاہری اسباب کی وجہ سے مسلمان کچھ پریشان سے تھے مشرکین تعداد میں زیادہ تھے اور ہر قسم کے ضروری سامان جنگ سے لیس تھے اور میدان میں صرف ایک ہی جگہ پانی تھا اس پر بھی دشمن ہی کا قبضہ تھا۔ جس جگہ دشمن نے پڑاؤ ڈالا تھا وہاں ریت نہیں تھی بلکہ مٹی تھی لیکن جہاں مسلمانوں کا لشکر ٹھہرا وہاں پانی کا نام و نشان نہ تھا اور ہر طرف ریت ہی ریت تھی جس کی وجہ سے ان کے لیے چلنا پھرنا دشوار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی مہربانی سے بارش برسا دی جس کی وجہ سے مشرکین کے پڑاؤ کی جگہ میں ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ ہوگیا۔ اور پھسلن کی وجہ سے ان کا چلنا پھرنا دشوار ہوگیا اور وہ ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہوگئے دوسری طرف مسلمانوں کے پڑاؤ میں ریت بیٹھ گئی گرد و غبار سے نجات ملی اور پینے اور وضو کے لیے پانی گڑھوں میں جمع ہوگیا اسی دوران میں اللہ نے مسلمانوں پر نیند کی سی حالت طاری فرما دی جب آنکھ کھلی تو سارا خوف و ہراس جاتا رہا اور دلوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب حکم بھیجا تیرے12 رب نے فرشتوں کو کہ میں ساتھ ہوں تمہارے سو تم دل ثابت رکھو مسلمانوں کے میں ڈال دوں گا دل میں کافروں کے دہشت سو مارو گردنوں پر اور کاٹو ان کی پور پور13

12: یہ پانچویں علت ہے۔ “ اِنِّیْ ” سے پہلے “ قُوْلُوْا ” محذوف ہے “ مَعَکُمْ ” میں “ کُمْ ” ضمیر سے مؤمنین مراد ہیں نہ کہ فرشتے تاکہ یہ اعتراض لازم نہ آئے کہ کیا فرشتے بھی ڈرتے تھے، ابلیس انسانی شکل میں نمودار ہو کر مشرکین کی حوصلہ افزائی اور مسلمانوں کی جو صلہ شکنی کر رہا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسانی شکلوں میں مسلمانوں کی تائید و حمایت کے لیے بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ جاؤ مسلمانوں کی تائید کرو اور ان سے کہو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہارا حامی و ناصر ہوں میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں۔ اور وہ خوف و رعب سے ہراساں ہو کر راہ فرار اختیار کریں گے یا “ مَعَکُمْ ” کی ضمیر سے فرشتے مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی تائید میں میں تمہارا مددگار اور ناصر ہوں اور یہ مطلب نہیں کہ میں تمہارا خوف دور کروں گا کیونکہ فرشتے کافروں سے ہرگز نہیں ڈرتے۔ “ اي معینکم علی تثبیت المومنین و لا یمن حمله علی ازالة الخوف لان الملائکة لا یخافون من الکفرة اصلاً ” (روح ج 9 ص 177) ۔ 13:“ کُلَّ بَنَانٍ ” بنان، بنانة کی جمع ہے۔ یعنی ہاتھوں کی انگلیاں، انگلیوں کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ ہتھیار انگلیوں ہی سے تھامے جاتے ہیں یا یہ تمام بدن سے کنایہ ہے۔ “ لاجل انھم بھا یقاتلون و یدافعون والظاھر انھا حْیْة فی ذلک و بعضهم یقول انھا مجاز فیه من تسمیة الکل باسم الجزء ” (روح ج 9 ص 17) ۔
Ayahs 8:13–14

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس اوسطے ہے کہ وہ14 مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے، اور جو کوئی مخالف ہو اللہ کا اور اس کے رسول کا تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ تو تم چکھ لو اور جان رکھو کہ کافروں کے لیے ہے عذاب دوزخ کا

14: مذکورہ امور کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مشرکین کو مارنے اور ان کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہوچکے تھے۔ “ ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ ” اس سے پہلے “ قُوْلُوْا ” محذوف ہے اور “ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ ” سے پہلے “ وَاعْلَمُوْا ” مقدر ہے۔ یعنی ہم نے کہا تھا کہ اب یہ عذاب چکھو اور یہ بھی جان لو کہ آخت میں تم جیسے کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب بھی تیار ہے۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے ایمان والو !15 جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں تو مت پھیرو ان سے پیٹھ

15: مضمون ثانی (قوانین جہاد): یہاں سے قوانین جہاد کا بیان شروع ہوا، یہ پہلا قانون جہاد ہے۔ “ زَحْفًا ” بمعنی اسم فاعل “ کَفَرُوْا ” کی ضمیر سے حال واقع ہے۔ یعنی جب میدان جنگ میں کافروں کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہوجائے اور وہ متحد ہو کر انبوہ در انبوہ مقابلہ میں آیا ہو تو پیٹھ پھیر کر مت بھاگو بلکہ جوانمردی اور ثابت قدمی سے اس کا مقابلہ کرو۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو کوئی ان سے16 پھیرے پیٹھ اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں سو وہ پھرا اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے

16: یہ میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جو شخص سخت جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگا اس نے اللہ کا غضب مول لیا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا پسپائی کی کئی صورتیں مستثنی فرما دیں یعنی اگر میدان جنگ سے پسپائی کسی جنگی مصلحت کی بنا پر ہو تو یہ جرم نہیں مثلاً پیچھے ہٹ کر کسی دوسری جانب سے دشمن پر حملہ کرنا زیادہ مفید ہو یا پیچھے ہٹ کر مجاہدین کی ایک دوسری جماعت سے مل کر دشمن پر ہلہ بولنے کا ارادہ ہو تو یہ اور اسی قسم کی دوسری صورتیں جن میں پسپائی جنگ سے جان بچا کر بھاگنے کی نیت سے نہیں بلکہ کسی جنگی تدبیر کے تحت ہو تو وہ اس وعید سے خارج ہیں۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

سو تم نے ان کو نہیں مارا17 لیکن اللہ نے ان کو مارا اور تو نے نہیں پھینکی مٹھی خاک18 کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی اور تاکہ کرے ایمان والوں پر19 اپنی طرف سے خوب احسان بیشک اللہ ہے سننے والا جاننے والا

17: یہ ثمرہ ہے جو گذشتہ پانچ علتوں پر متفرع ہے۔ یعنی دعویٰ کی مذکورہ پانچ علتوں سے معلوم ہوا کہ جنگ بدر میں مشرکین کے قتل اور ان کی ذلت آمیز شکست کا سامان اللہ تعالیٰ ہی نے غیب سے فرما دیا تھا۔ اس لیے کہ تم لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ یہ تمہارا کما ہے اور تم نے ان کو مارا ہے نہیں ! نہیں ! ! بلکہ اللہ نے ان کو مارا اور برباد کیا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ مشرکین کا قتل اگرچہ بظاہر مسلمانوں کے ہاتھوں واقع ہوا لیکن اس کے اسباب اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے اس نے مسلمانوں کو ان پر مسلط کی اور ان کے دلوں کو مسلمانوں کی ہیبت و شجاعت سے مرعوب کردیا۔ امام مجاہد فرماتے ہیں بدر کے دن فتح کے بعد مجاہدین میں سے کسی نے کہا فلاں کو میں نے قتل کیا اور کسی دوسرے نے کہا فلاں کافر کو میں نے مارا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری کیا ہستی تھی یہ فتح عظیم تو محض میری توفیق اور اعانت سے حاصل ہوئی ہے۔ “ یعنی ان ھذه الکسرة الکبیرة لم تحصل منکم وانما خصلت بمعونة اللہ ان قتل الکفار انما تیسر بمعونة اللہ ونصره و تائیده ” (کبیر ج 4 ص 527) ۔ 18: میدان بدر میں آنحضرت ﷺ نے حکم الٰہی سے مٹھی بھر کنکریاں مشرکین کے لشکر کی طرف پھینکیں اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت ہر مشرک کی آنکھوں میں مٹی کے ذرات پہنچا دئیے۔ اس سے مشرک فوج میں کھلبلی مچ گئی اور وہ شکست کھا کر بھاگ نکلی یہ ایک معجزہ تھا جو اللہ تعالیٰ نےحضور ﷺ کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے قبضہ اور اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے جسے وہ اپنے پیغمبروں کے ہاتھوں پر ظاہر فرماتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں فرمایا۔ “ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰی قُلْنَا لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلیٰ ” (طٰہٰ رکوع 3) اگر معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قبضہ و اختیار میں ہوتا تو انہیں ڈرنے کی کیا ضرورت تھی۔ 19: واؤ عاطفہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے۔ “ اي لیمحق الکٰفرین ولیبلی المومنین الخ ”۔ “ ابلاء ” یہاں بمعنی “ اعطاء ” ہے “ بلاء حسنا ” یعنی عطاء جمیل جو بلا مشقت حاصل ہوجائے۔ “ اي لیعطیھم سبحانه من عنده اعطاء جمیلا غیر مشوب بالشدائد و المکاره ” (روح ج 9 ص 187، ابو السعود ج 4 ص 528) ۔ یا “ بلاء حسنا ” سے انعامات جلیلہ و احسانات عظیمہ مراد ہیں۔ مثلاً مال غنیمت فتح و نصرت اور اجر وثواب “ اي ینعم علیهم نعمة عظیمة بالنصرة والغنیمة والاجر والثواب ”(کبیر ج 4 ص 528، خازن ج 2 ص 15) ۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ تو ہوچکا20 اور جان رکھو کہ اللہ سست کر دیگا تدبیر کافروں کی

20:“ ذٰلِکُمْ ” سے پہلے “ قُلْنَا ” اور اس کے بعد “ فَذُوْقُوْه ” مقدر ہے اور “ اَنَّ ” سے پہلے “ اعلموا بقرینة ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ الخ ” یعنی ہم نے کہا اب یہ عذاب چکھو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب کو بیکار کرنے والا ہے۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

اگر تم چاہتے ہو21 فیصلہ تو پہنچ چکا تمہارے پاس فیصلہ اور اگر باز آؤ تو تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر پھر یہی کروگے تو ہم بھی یہی کریں گے اور کچھ کام نہ آئے گا تمہارے تمہارا جتھا اگرچہ بہت ہوں اور جان لو کہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے

21: خطاب مشرکین سے ہے اور استفتاح کے معنی طلب فیصلہ کے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا “ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ ” (اعراف رکوع 11) ۔ مشرکین مکہ ہجرت سے پہلےحضور ﷺ سے کہا کرتے تھے۔ “ مَتیٰ ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن ” (سجدہ رکوع 3) ۔ یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان صادق و کاذب اور محق و مبطل کا فیصلہ کب ہوگا۔ فرمایا لو ہم نے فیصلہ کردیا جسے تم نے آنکھوں سے دیکھ لیا کہ ہم نے بےسرو سامان اور مٹھی بھر مسلمانوں کے ہاتھوں تمہارے سامان جنگ سے لیس عظیم لشکر کو کس طرح پٹوا دیا، ان کے ہاتھوں تمہیں ذلت آمیز شکست دی اور عرب سے تمہاری طاقت و قوت کا خاتمہ کردیا۔ اب اگر تم پیغمبر (علیہ السلام) کی مخالفت اور کفر و شرک کا سے باز آجاؤ تو اسی میں تمہاری دنیوی اور اخروی بہتری ہے۔ لیکن اگر تم باز نہ آئے اور پیغمبر (علیہ السلام) سے برسر پیکار ہوگئے تو ہم پھر تمہارا یہی حشر کریں گے اور تمہارا جتھا اور تمہاری فوج کثرت عدد اور سامان حرب کے باوجود تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی “ وَ اَنَّ اللّٰه مَعَ الْمُوْمِنِیْنَ ” واؤ کے بعد “ اِعْلَمُوْا ” مقدر ہے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ کی مدد اور نصرت تو ایمان والوں ہی کے ساتھ ہوگی۔ کیونکہ اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے۔ “ وان سنة اللہ تعالیٰ جاریة فی نصر المومنین و خذلان الکافرین ” (روح ج 9 ص 188) ۔
Ayahs 8:20–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو !22 حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اور اس سے مت پھرو سن کر

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان جیسے مت ہو جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں

22: دوسرا قانون جنگ برائے مومنین۔ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ان کے حکم سے سرتابی نہ کرو “ وَ لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ الخ ” یہ زجر ہے۔ یعنی ان کفار اور منافقین کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سن لیا مگر سے پر عمل نہ کیا اور اس طرح اللہ کے قہر و غضب کے مستحق ہوگئے۔ تم ان کا وطیرہ اختیار کر کے میرے قہر و غضب کے مستحق نہ بنو۔
Ayah 8:22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

بیشک سب جانداروں23 میں بدتر اللہ کے نزدیک وہی بہرے گونگے ہیں جو نہیں سمجھتے

23: مذکورہ بالا معاندین کے دلوں، کانوں اور زبانوں پر مہر جباریت تمثیل ہے۔ یعنی زمین پر چلنے والی مخلوق میں اللہ کے نزدیک سب سے بد تر وہ لوگ ہیں جو حق بات نہیں سنتے اور منہ سے حق بات نہیں نکالتے اور دل سے حق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایسے لوگ اللہ کی ساری مخلوق سے بد تر ہیں۔
Ayah 8:23

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر اللہ جانتا24 ان میں کچھ بھلائی تو ان کو سنا دیتا اور اگر ان کو اب سنادے تو ضرور بھاگیں منہ پھیر کر

24: کچھ بھلائی اور اللہ کی طرف قدرے انابت “ لَاَسْمَعھُمْ ” ان کو حق بات سنا دیتا اور انہیں قبول کرنے کی توفیق دے دیتا۔ یعنی اگر ان کے دلوں میں انابت اور طلب حق کا جذبہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو قبول حق کی وفیق دے دیتا۔ لیکن وہ انابت اور قبول حق کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس لیے اگر وہ حق بات سن کر اس کو مجھ بھی لیں تب بھی وہ اس سے اعراض کرکے چلتے بنیں گے۔ کیونکہ ان کی قوائے مدرکہ پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہے۔ “ لعنادھم و جحودھم الحق بعد ظھورھ ” (معالم و خازن ج 3 ص 17، ص 18) ۔
Ayah 8:24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

اے ایمان والو !25 حکم مانو اللہ کا اور رسول کا جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمہاری زندگی ہے اور جان لو اللہ روک26 لیتا ہے آدمی سے اس کے دل کو اور یہ کہ اسی کے پاس تم جمع ہو گے

25: تیسرا قانون جنگ “ لِمَا ” میں لام بمعنی “ اِلیٰ ” ہے اور یہ “ دعا کم ” کے متعلق ہے۔ “ مَا یُحْیِیْکُمْ ” سے جہاد مراد ہے کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت کی پاکیزہ اور پرسکون زندگی کا باعث ہے دنیا میں ترک جہاد سے مسلمان کافروں سے غلوب ہو کر مقتول ہوجائیں گے۔ لیکن جہاد کی صورت میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو غلبہ عطا کرے گا اور دنیا میں اپنی تہذیب و ثقافت اور شان و شوکت کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ “ لانهم رفضوھا (مجاھدة الکفار) لغلبوھم و قتلوھم کما فی قوله تعالیٰ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوة ” (ابو السعود ج 4 ص 532) ۔ یا لام اپنے اصل پر ہے اور “ اِسْتَجِیبُوْا ” کے متعلق ہے اور “ مَا يُحْيِیْکُمْ ” سے قرآن مجید کے تمام اوامرو نواہی مراد ہیں۔ کیونکہ ان پر عمل کرنا حیات ابدیہ اور انعامات سرمدیہ کا موجب ہے۔ “ و قال مجاھد والجمھور المعنی استجیبوا للطاعة وما تضمنه القران من اوامر ونواھی ففیه الحیوة الابدیة والنعمة السرمدیة ” (قرطبی ج 7 ص 389) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور ان کے احکام بجا لاؤ کیونکہ اس سے حیات ابدی و دائمی حاصل ہوگی۔ 26: اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنی زندگی کا شعار بنا لوگے تو اللہ تعالیٰ اپنی توفیق وتائید سے تمہارے ایمان کی حفاظت فرمائے گا اور تمہیں اس پر استقامات عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بندہ اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجانے سے یہی مراد ہے۔ “ وَاَنَّهٗ ” یہ “ اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ ” پر معطوف ہے اور “ اِعْلَمُوْا ” کے تحت داخل ہے۔
Ayah 8:25

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور بچتے رہو اس فساد سے27 کہ نہیں پڑے گا تم میں سے خاص ظالموں ہی پر اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے

27: زجر مع تخویف اور ایسے گناہ اور فتنہ سے بچو جس کے برے ارات نہ صرف اس کے بلا واسطہ مرتکب تک محدود رہیں بلکہ قوم کے دوسرے افراد بھی ان کی لپیٹ میں آجائیں مثلاً جہاد میں سستی اور کمزوری دکھانا اس کا خمیازہ نہ صرف مجاہدین کو بلکہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مداہنت جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بدعات و منکرات عام ہوجائیں اور پورا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ بےادب تنہا نہ خود را دشت بد بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد
Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جس وقت28 تم تھوڑے تھے مغلوب پڑے ہوئے ملک میں ڈرتے تھے کہ اچک لیں تم کو لوگ پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا اور قوت دی کہ تم کو اپنی مدد سے روزی دی تم کو ستھری چیزیں تاکہ تم شکر کرو

28: یہ تذکیر نعمت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو خطاب کر کے اپنے انعامات یاد دلائے ہیں۔ پہلے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا اور ان کی نافرمانی سے اجتناب کا حکم دیا گیا۔ اب یہاں انعامات یاد دلا کر اسی حکم کی تاکید کی گئی۔ “ اعلم انه تعالیٰ لما امرھم بطاعة اللہ و طاعة الرسول ثم امرھم باتقاء المعصیة اکدذ ذلک التکلیف بھذه الایة الخ ” (کبیر ج 4 ص 535) وہ وقت یاد کرو جب تم معدودے چند تھے اور ارض مکہ میں کو فروں کے ہاتھوں بےبس، کمزور اور ناتواں تھے تمہیں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا تھا کہ کہیں مشرکین تمہاری تکہ بوٹی نہ کر ڈالیں تو ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ میں تمہیں پناہ دی اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مدد کر کے ان کو تمہارے ہاتھوں مغلوب و مقہور کیا اور ڈھیروں مال غنیمت کے ذریعے تمہاری مالی ساکھ مضبوط کی تاکہ تم اس کے انعامات کا شکر ادا کرو۔
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو !29 خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کرو آپس میں اور امانتوں میں جان کر

29: چوتھا قانون جنگ۔ “ تَخُوْنُوْا اَمَانَاتِکُمْ ”، “ تَخُوْنُوْا اللّٰهَ ” پر معطوف ہے “ اَيْ وَلَا تَخُوْنُوْا اَمَانٰتِکُمُ ” اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اللہ کی خیانت یہ ہے کہ اس کے فرائض و احکام کو معطل کردیا جائے اور ان کی تعمیل نہ کی جائے اور رسول کی خیانت یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے طرق کا اتباع نہ کیا جائے۔ “ (لَا تَخُوْنُوْا اللّٰهَ ) بان تعطلوا فرائضه (والرسول) بان لا تستنوا به (وَ تَخُوْنُوْا اَمَا نٰتِکُمْ ) فیما بینکم بان لا تحفظوھا ” (مدارک ج 2 ص 77) ۔ “ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” اور تم خوب جانتے ہو کہ خیانت بہت بڑا گناہ ہے اور حفظ امانت بہت بڑا کا رخیر ہے۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان لو کہ بیشک30 تمہارے مال اور اولاد خرابی میں ڈالنے والے ہیں اور یہ کہ اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے

30: یعنی یہ انفال و غنائم جن میں تم نزاع واختلاف کر رہے ہو وہ تمہارے لیے فتنہ اور آزمائش ہیں۔ “ وَ اَنَّ اللّٰهَ الخ ” یہ “ اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ ” پر معطوف ہے۔
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو !31 اگر تم ڈرتے رہو گے اللہ سے تو کر دے گا تم میں فیصلہ اور دور کردے گا تم سے تمہارے گناہ اور تم کو بخش دے گا اور اللہ کا فضل بڑا ہے

31: پانچواں قانون جہاد :“ فُرْقَانًا ” سے فتح و نصرت مراد ہے۔ یعنی اگر تم اللہ سے ڈرو گے اور اس کے احکام کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح و نصرت عطا کرے گا تمہیں عزت دے کر اور مشرکین کو ذلیل و رسوا کر کے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کردے گے۔ اور تمہارے تمام گناہ معاف کر کے تمہیں اپنی بخشش و رحمت اور فضل سے نوازے گا۔ “ نصرًا بین المحق و المبطل باعزاز المٓومنین و اذلال الکٰفرین کما قال الفراء ” (روح ج 9 ص 196) ۔
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور جب فریب کرتے تھے32 کافر کہ تجھ کو قید کردیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں اور وہ بھی داؤ کرتے تھے، اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے

32 یہ “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ الخ ” کی چھٹی علت ہے۔ مشرکین مکہ کے منتخب سرداروں نے ایک دفعہحضور ﷺ کے بارے میں مل کر میٹنگ کی جس کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے اثر اور آپ کے دین کو کس طرح ختم کیا جائے۔ چناچہ اس مجلس میں کئی رائیں پیش ہوئیں کسی نے کہا آپ کو قید کردیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کو جلا وطن کردیا جائے آخر میں ابوجہل نے آپ کو شہید کردینے کا مشورہ دیا۔ ابلیس جو عرب کے ایک تجربہ کار اور دانا شیخ نجدی کے روپ میں اس مجلس میں موجود تھا اس نے اس رائے کی بہت تعریف کی اور آخر کار بحث و تمحیص اور سوچ بچار کے بعد سب نے ابوجہل کے مشورے کی توثیق کردی۔ اس آیت میں اسی وقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مشرکین تو آپ کے بارے میں یہ منصوبے بنا رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے مکر و فریب سے بچانے کی تدبیریں کر رہا تھا۔ چناچہ جو رات انہوں نے حضور ﷺ کو قتل کرنے کے لیے مقرر کی تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے پہلے ہی اس کی اطلاع دے دی، جب مشرکین نے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اس وقت آپ نے اپنی جگہ حضرت علی کو سوجانے کا حکم دیا اور فرمایا بےفکر رہنا تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گی اور خود باہر تشریف لائے اور اللہ کے حکم کے مطابق مشرکین پر مٹھی بھر مٹی پھینک دی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی آنکھیں بند کردیں اور آپ سب کے درمیان میں سے گذر گئے اور کسی نے بھی آپ کو نہ دیکھا۔ آپ وہاں سے نکلے اور حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لے کر مدینہ روانہ ہوگئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا منصوبہ ناکام کردیا۔ “ لِيُثْبِتُوْکَ اي لیحبسوک و يربطوک بالوثوق ” یعنی آپ کو زنجیر ڈال کر باندھ دیں۔
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب کوئی پڑھے 33 ان پر ہماری آیتیں تو کہیں ہم سن چکے اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ لیں ایسا یہ تو کچھ بھی نہیں مگر احوال ہیں اگلوں کے

33: یہ شکوی ہے اور اس میں ان معاندین کے مستحق عذاب ہونے کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ جب ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتیں تو ان میں سے بعض مثلاً نضر بن حارث جیسے لوگ بول اٹھتے، جی سن لی ہیں ہم یہ آیتیں۔ ان میں پہلے لوگوں کے قصے ہی تو مذکور ہیں اور ایسے قصے تو ہم بھی بیان کرسکتے ہیں۔ نضر بن حارث کی فارس اور حیرہ میں آمد و رفت تھی اور وہ وہاں کے لوگوں سے عجمیوں کے قصے کہانیاں سنتا رہتا تھا۔ قرآن مجید میں انبیاء (علیہم السلام) اوردیگر گذشتہ اقوام کے قصے عبرت اور موعظت کی غرض سے ذکر کیے گئے ہیں اس ظالم اور کم فہم نے قرآن مجید کو محض قصوں اور کہانیوں ہی کی کتاب سمجھ لیا۔
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب وہ کہنے لگے34 کہ یا اللہ اگر یہی دین حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر برسادے پتھر آسمان سے یا لا ہم پر کوئی عذاب دردناک

34: یہ ساتویں علت ہے۔ نضر بن حارث، ابوجہل اور دیگر صنادید قریش نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ اگر یہ اسلام اور قرآن جو محمد ﷺ لے کر آئے سچا ہے اور تیری طرف سے ہے۔ تو ہمیں آسمان سے پتھر برسا کر یا کسی دوسرے المناک عذاب سے ہلاک کردے۔ چناچہ مشرکین خود اپنے منہ سے عذاب کا مطالبہ کر کے مکہ سے نکلے تھے۔ اس لیے اللہ نے بدر میں ان پر منہ مانگا عذاب نازل کر ان کو مغلوب اور تم کو غالب کیا۔ اس لیے اب انفال کی تقسیم اللہ ہی کے حکم کے مطابق کرو۔ “ وَ مَا کَانَ اللّٰهُ الخ ” یہ مشرکین پر عذاب نازل نہ کرنے کی وجہ ہے یعنی اللہ کی سنت مستمرہ یہ ہے کہ جب تک پیغمبر اور مومنین شہر میں موجود ہوں اس وقت تک ان پر عذاب نازل نہیں فرماتا۔ اس لیے فرمایا یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ آپ ان میں موجود ہوں اور ان پر عذاب آجائے۔ کیونکہ اگر آپ کے ان میں موجود ہوتے ہوئے ان پر عذاب آجاتا تو وہ ظالم یہ نہ سمجھتے کہ عذاب ان کے شرک کی وجہ سے آیا ہے۔ بلکہ آپ کی ذات کو اس کا سبب قرار دے کر کہتے کہ یہ عذاب تیری وجہ سے آیا ہے۔ جیسا کہ قوم موسیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہا تھا۔ “ اطَّيَّرْنَا بِکَ وَ بِمَنْ مَّعَکَ ، قال ابن عباس لم یعذب اھل قرية حتی يخرج النبي صلی اللہ علیه منھا والمومنون و یلحقوا بحیث امروا ” (قرطبی 7 ص 299) ۔
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور اللہ ہرگز عذاب35 نہ کرتا ان پر جب تک توُ رہتا ان میں اور اللہ ہرگز نہ عذاب کرے گا ان پر جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے

35 یہ عذاب نہ آنے کی دوسری وجہ ہے۔ اور اس سے یا تو مشرکین کا استغفار مراد ہے۔ کیونکہ وہ طواف کرتے وقت اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے استغفار سے بھی عذاب الٰہی ٹل سکتا ہے (روح ج 9 ص 200) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ اس سے ان مؤمنین کا استغفار مراد ہے جو مکہ مکرمہ میں تھے۔ اس کی تائید سورة فتح کی اس آیت سے ہوتی ہے۔ “ لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ” امام رازی لکھتے ہیں۔ “ وَ مَا کَانَ اللّهُ مُعذب ھؤلاء الکفار و فیھم مؤمنون یستغفرون ” (کبیر ج 4 ص 541) ۔
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور ان میں کیا بات ہے36 کہ عذاب نہ کرے ان پر اللہ اور وہ تو روکتے ہیں مسجد حرام سے اور وہ اس کے اختیار والے نہیں اس کے اختیار والے تو وہی ہیں جو پرہیزگار ہیں لیکن ان میں اکثروں کو اس کی خبر نہیں

36: مکہ معظمہ میں مشرکین پر عذاب نہ بھیجنے کی وجوہ بیان کرنے کے بعد فرمایا مگر یہ لوگ اپنے انکار و جحود اور ضد وعناد کی وجہ سے عذاب کے مستحق ضرور ہیں۔ کیونکہ ان کے تمام اعمال و افعال خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہیں اور حد یہ ہے کہ وہ ایمان والوں، اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبرداروں کو مسجد حرام (بیت اللہ) سے روک رہے ہیں (جیسا کہ عام الحدیبیہ میں انہوں نے ایسا کیا) حالانکہ وہ بیت اللہ کے متولی نہیں تھے اور نہ وہ بیت اللہ کی تولیت کے لائق اور اس کے حقدار ہی ہیں۔ کیونکہ وہ مشرک ہیں۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق صرف انہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو اللہ کے اس گھر کو شرک کی نجاست سے پاک رکھیں اور وہ مسلمان ہی ہوسکتے ہیں۔ “ اي وماکانوا مستحقین ولایة المسجد الحرام مع شرکھم (اِنْ اَوْلِیَاءُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْن) من الشرک الذین الا یعبدون فیه غیر اللہ تعالیٰ والمراد بھم المسلمون ” (روح ج 9 ص 202) ۔
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان کی نماز نہیں37 تھی کعبہ کے پاس مگر سیٹیاں بجانی اور تالیاں سو چکھو عذاب بدلہ اپنے کفر کا

37: یہ کفار مکہ کو عذاب دینے کی دوسری وجہ۔ ہے۔ “ مُکَاءً ” سیٹی بجانا۔ “ تَصْدِيَة ” تالی بجانا۔ یعنی جو اصلی اور صحیح معنوں میں نمازی ہیں ان کو تو خدا کے گھر سے روکتے ہیں اور اپنا حال یہ ہے کہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور اللہ کے ذکر کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے ہیں۔ چونکہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے تھے اور مکہ معظمہ میں ان پر عذاب نازل کرنے میں موانع تھے۔ اس لیے ہم نے ان کو مکہ سے نکالا اور میدان بدر میں ان کو المناک اور ذلت آمیرز عذاب (قتل اور قید و بند) میں مبتلا کردیا اور فرمایا یہ تمہارے کفر و تمرد اور عناد کی سزا ہے۔ اب اسے چکھو “ اي عذاب القتل والاسر یوم بدر ” (روح) ۔
Ayahs 8:36–37

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک جو لوگ38 کافر ہیں وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں اللہ کی راہ سے سو ابھی اور خرچ کریں گے پھر آخر ہوگا وہ ان پر افسوس اور آخر مغلوب ہوں گے اور جو کافر ہیں39 وہ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ جدا کر دے اللہ ناپاک کو پاک سے اور رکھے ناپاک کو ایک کو ایک پر پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو دوزخ میں وہی لوگ ہیں نقصان میں

38: تخویف اخروی ہے۔ “ يُنْفِقُوْنَ ” ، “ اِنَّ ” کی خبر ہے۔ کافر اپنا مال و دولت مسلمانوں کے خلاف جنگ و قتال میں خرچ کر رہے ہیں تاکہ ان کو اللہ کے دین سے روک سکیں۔ وہ اب خرچ کر رہے ہیں جیسا کہ جنگ بدر میں خرچ کیا اور آئندہ بھی خرچ کریں گے۔ مثلاً جنگ احد وغیرہ میں۔ مگر ہر بار انہیں اپنی دولت خرچ کرنے کے بعد حسرت اور افسوس ہی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ ہر میدان میں وہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے۔ “ والمعنی ان الکفار یقصدون بنفقتھم الصد عن سبیل اللہ و غلبة المؤمنین فلا یقع الا عکس ما قصدوا وھو تندمھم و تحسرھم علی ذھاب اموالھم ثم غلبتھم والتمکن منھم اسرا و قتلاً و غنماً ” (بحر ج 4 ص 493) 39: دنیا میں مال و دولت بھی برباد ہوا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت و رسوائی بھی اٹھائی اور آخرت میں ان کو جہنم میں جھوک دیا جائے گا۔ “ لِيَمِیْزَ اللّٰه الخ ” یہ یا تو “ يُحْشَرُوْنَ ” کے متعلق ہے اور خبیث سے مراد کفار ہیں اور طیب سے مومنین یعنی قیامت کے دن کفار دوزخ میں گرتے جائیں گے یا یہ “ يُغْلَبُوْنَ ” سے متعلق ہے۔ اس صورت میں خبیث سے منافقین مراد ہوں گے۔ یعنی جہاد میں کفار مغلوب ہوں گے اور مؤمن اور منافق کے درمیان بھی امتیاز ہوجائے گا۔ لیکن “ وَ يَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ ” پہلے معنی کا مؤيد ہے۔ یعنی خبیثوں کو ملا کر سب کو جہنم میں ڈال دے۔
Ayah 8:38

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

تو کہہ دے40 کافروں کو کہ اگر وہ باز آجائیں تو معاف ہو ان کو جو کچھ ہوچکا اور اگر پھر بھی وہی کریں گے تو پڑچکی ہے راہ اگلوں کی

40: حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ابو سفیان اور اس کے ہمنواؤں سے فرما دیں کہ اگر وہ شرک چھوڑ دیں، اسلام قبول کرلیں اور عداوت پیغمبر سے باز آجائیں تو ان کے تمام گذشتہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔ اور اگر وہ باز نہ آئیں بلکہ دوبارہ پیغمبر (علیہ السلام) سے برسر پیکار ہوجائیں تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ اور اس کا دستور قدیم یہ ہے کہ وہ آخر کار ہمیشہ اپنے پیغمبروں اور ان کے متبعین کی مدد کرتا اور ان کے دشمنوں کو مقہور و مخذول کرتا ہے۔ “ اي عادة اللہ تعالیٰ الجارية فی الذین تخربوا علی الانبیاء علیھم السلام من نصر المومنین علیھم و خذلانھم و تدمیرھم ” (روح ج 9 ص 306) ۔
Ayahs 8:39–40

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور لڑتے رہو41 ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فساد اور ہوجائے حکم سب اللہ کا پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے کام کو دیکھتا ہے

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ تمہارا حمایتی ہے کیا خوب حمایتی ہے اور کیا خوب مددگار ہے

41: یہاں سورت کا دعوی اجمالا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل سورة توبہ رکوع 4 میں آئیگی۔ فرمایا اگر وہ باز نہیں آتے تو آپ ان سے جہاد کریں یہاں تک کہ انکا زور ختم ہوجائے اور مسلمان ان کے فتنے سے بچ جائیں۔ “ فَاِنِ انْتَھَوْاالخ ” اگر وہ کفر و شرک اور جنگ و قتال سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو اللہ تعالیٰ جو ان کے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو دیکھ رہا ہے ان کو اسلام پر ثبات و استقلال کی توفیق عطا فرمائے گا۔ “ وَ یَکُوْنَ الدِّيْنُ کُلُّهٗ لِلّٰهِ ” یعنی مشرکین عرب سے یہاں تک جہاد کرو کہ عرب سے شرک مٹ جائے اور صرف اللہ ہی کی عبادت اور پکار باقی رہ جائے اور مشرکین عجم سے یہاں تک جہاد کرو کہ اللہ کے دین کو غلبہ اور برتری حاصل ہوجائے مشرکین مارے جائیں یا جذبہ قبول کرلیں۔ “ وَ اِنْ تَوَلَّوْا ” لیکن اگر وہ ایمان لانے سے اعراض کریں اور جنگ وجدال سے باز نہ آئیں تو ان کی پرواہ نہ کریں۔ تم اللہ پر بھروسہ رکھو اور مطمئن رہو کہ اللہ تمہارا ناصر و مددگار اور کارساز ہے۔ “ (اَنَّ اللّٰهَ مَوْلَاکُمْ ) ناصرکم و معینکم فثقوا بولایته و نصرته ” (مدارک ج 2 ص 79) ۔ یہاں تک سورت کا پہلا حصہ ختم ہوا۔