7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsجواھر القرآن

Ayah 7:1

الٓمّٓصٓۚ Open ayah 7:1 in the Quran reader

ف 2 آل مّ ص

2:“ ا لمص ” یہ حروف مقطعات میں سے ہیں ان کی مراد اللہ ہی جانتا ہے۔ حروف مقطعات کی تفصیلی بحث سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ (ص 81، حاشیہ 2) جیسا کہ خلاصہ میں گذر چکا ہے سورة اعراف میں تین دعوے ذکر کیے گئے ہیں۔ 1 ۔ مسئلہ توحید کی جراءت و استقلال سے تبلیغ کرو اور اس سلسلہ میں جو تکلیفیں آئیں انہیں برداشت کرو اور دل میں تنگی نہ لاؤ۔ 2 ۔ نفی شرک فعلی یعنی اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو اور شیاطین کی اتباع میں اپنی طرف سے تحریمات اختراع نہ کرو۔ 3 ۔ نفی شرک اعتقادی یعنی غیب دان اور متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ اس نے کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو۔
Ayah 7:2

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ کتاب3 اتری ہے تجھ پر سو چاہیے کہ تیرا جی تنگ نہ ہو اس کے پہنچانے سے تاکہ تو ڈرائے اس سے اور نصیحت ہو ایمان والوں کو

3: پہلا دعوی۔ یہ دعوی اولی ہے۔ یعنی بہادر بن کر مسئلہ توحید پہنچاؤ اور دل میں کسی قسم کی تنگی نہ لاؤ اور مشرکین کی تکذیب کی پرواہ مت کرو۔ حرج منہ بتبلیغہ لانہ کان یخاف قومہ و تکذیبھم لہ و اعراضھم عنہ (مدارک ج 2 ص 34) کتاب خبر اور ھذا اس کا مبتدا محذوف ہے۔ “ لِتُنْذِرَ بِهٖ الخ ” یہ “ اَنْزَلَ ” کے متعلق اور “ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ” اسی پر متفرع ہے۔
Ayah 7:3

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

چلو اسی پر4 جو اترا تم پر تمہارے رب کی طرف سے اور نہ چلو اس کے سوا اور رفیقوں کے پیچھے تم بہت کم دھیان کرتے ہو

4: دوسرا دعوی۔ یہاں سے دوسرے دعوی کے ابتداء ہوتی ہے اس آیت میں دوسرا دعوی بالاجمال مذکور ہے۔ یعنی اللہ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو اور شیاطین کی پیروی نہ کرو۔ رکوع 3 اور 4 میں یعنی از “ يٰبَنِیْ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا ” تا “ فَذُوْقُوْا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُونَ ” یہ دعویٰ تفصیل سے مذکور ہے اس سے پہلے رکوع 2 یعنی “ وَ لَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ” تا “ وَ مِنْھَا تُخْرَجُوْنَ ” میں اس کی تمہید کا ذکر ہے۔ “ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖ اَوْلِیَاءَ ” اولیاء سے یہاں شیاطین الانس والجن مراد ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے، ان سے شرک کراتے اور ان کو خود ساختہ تحریمات پر آمادہ کرتے ہیں۔ اراد بالاولیاء الشیاطین شیاطین الانس والجن وانھم الذین یحملون علی عبادۃ الاوثان والاھواء والبدع و یضلون عن دین اللہ تعالیٰ (بحر ج 4 ص 297 و کذا فی الکبیر ج 4 ص 262) جیسا کہ اسی سورت کے تیسرے رکوع میں ارشاد ہے۔ “ اِنّا جَعَلْنَا الشَّیٰاطِیْنَ اَوْلِیَاء لِلَّذِینَ لَا یُوْمِنُوْنَ ”۔
Ayahs 7:4–5

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں5 ہم نے ہلاک کردیں کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پھر یہی تھی ان کی پکار جس وقت کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب کہ کہنے لگے بیشک ہمیں تھے گناہ گار

5: یہ تخویف دنیوی ہے۔ “ اَھْلَکْنٰھَا اَي اھلھا ”۔ یعنی بہت سی بستیوں کے باسیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ “ بَیَاتًا ” مصدر بمعنی اسم فاعل “ اَھْلَکْنَا ” کے مفعول سے حال واقع ہے۔ مصدر واقع موقع الحال بمعنی بائتین۔ (مدارک ج 2 ص 24) ۔ “ قَائِلُوْنَ ” قیلولۃ سے ہے جس کے معنی دوپہر کے وقت نیند کرنے کے ہیں۔ “ فَمَا کَانَ دَعْوٰ ھُمْ الخ ” عذاب آنے سے پہلے تو وہ ضد وعناد کی وجہ سے مانتے نہ تھے لیکن جب ان کی بد اعمالیوں اور مسلسل جحود و انکار کے سبب اللہ کا عذاب آجاتا ہے تو اپنے قصور کا اعتراف کرلیتے مگر اس وقت پچھتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوتا۔
Ayahs 7:6–7

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

سو ہم کو ضرور پوچھنا ہے6 ان سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے تھے اور ہم کو ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم ان کو احوال سنائیں گے اپنے علم سے اور ہم کہیں غائب نہ تھے

ف 6: یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayahs 7:8–9

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

اور تول7 اس دن ٹھیک ہوگی پھر جس کی تولیں بھاری ہوئیں8 سو وہی ہیں نجات پانے والے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جس کی تولیں ہلکی ہوئیں سو وہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان کیا اس واسطے کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے

7: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ قیامت کے دن جو میزان (ترازو) نصب کیا جائے گا۔ اس میں کیا تولا جائے گا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ اعمالنامے تولے جائیں گے جن میں حسنات و سیئات لکھے جاتے ہیں اور بعض کا قول ہے کہ قیامت کے دن اعمال حسنہ کو اچھی صورت میں اور اعمال سیئہ کو قبیح صورت میں مصور و مجسم کیا جائے گا اور پھر ان کو ترازو کے پلڑوں میں ڈال کر تولا جائے گا۔ قال بعضہم توزن صحائف الاعمال المکتوبۃ فیھا الحنات والسیئات۔ و قال ابن عباس یوتی بالاعمال الحسنۃ علی صورۃ حسنۃ و بالاعمال السیئۃ علی صورۃ قبیحۃ فتوضع فی المیزان (خازن ج 2 ص 174) ۔ 8 یہ بشارت اخروی ہے۔ “ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِینُهٗ ” یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 7:10

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں9 اور مقرر کریں اس میں تمہارے لئے روزیاں تم بہت کم شکر کرتے ہو

9 یہ حضرت پیغمبر خدا ﷺ کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ “ مَعَايِشَ ”، معیشۃ کی جمع ہے مراد ذریعہ معاش ہے۔ یعنی ہم نے زمین میں تم کو تمکین دی اور اس میں تمہاری روزی کے لیے کئی اسباب و ذرائع مہیّا کیے اللہ کے ان انعامات کے شکرانے میں تمہیں اس کے احکام کا اتباع کرنا چاہئے اور اس کے رسول کی دعوت کو دل و جان سے قبول کرنا چاہئے۔
Ayahs 7:11–15

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور ہم نے تم کو پیدا10 کیا پھر صورتیں بنائیں تمہاری پھر حکم کیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو پس سجدہ کیا سب نے مگر11 ابلیس نہ تھا سجدہ والوں میں

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

کہا تجھ کو کیا مانع تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے حکم دیا بولا میں اس سے بہتر ہوں مجھ کو تو نے بنایا آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

کہا تو اتر یہاں سے تو اس لائق نہیں کہ تکبر کرے یہاں پس باہر نکل تو ذلیل ہے

قَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 7:14 in the Quran reader

بولا کہ مجھے مہلت دے اس دن تک کہ لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ Open ayah 7:15 in the Quran reader

فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی

10: یہ دوسرے دعوے کی تمہید ہے جو اس پورے رکوع میں ذکر کی گئی ہے۔ اس میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم، ابلیس کی نافرمانی اس کے ملعون و مطرود ہونے اور آدم و حواعلیہما السلام سے اس کی عداوت اور اس کی وجہ سے جنت میں ان کے برہنہ ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ “ ثُمَّ قُلْنَا الخ ”“ ثُمَّ ” یہاں تعقیب ذکری کے لیے ہے ورنہ ماقبل سے مرتبط نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم اولاد آدم کی پیدائش سے پہلے ہوا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی اس کے بعد بیان کرو۔ لہذا اس سے یہ مطلب نکالنا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے بھی دنیا میں انسان موجود تھے۔ سراسر باطل ہے اور کج فہمی پر مبنی ہے۔ بعض مفسرین نے “ خَلَقْنٰکُمْ ” اور “ صَوَّرْنٰکُمْ ” میں مضاف مقدر مانا ہے۔ خلقنا اباکم ادم (علیہ السلام) طینا غیر مصور ثم صورناہ الخ (روح ج 8 ص 86) ۔ لیکن ثم کو تعقیب ذکری پر محمول کرنے کی صورت میں اس تقدیر کی ضرورت نہیں رہتی۔ 11: ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا لیکن سجدہ کرنے کا حکم اسے بھی ہوا تھا مطلب یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم دیا تو وہ مان گئے اور ابلیس کو بھی حکم ہوا مگر وہ نہیں مانا۔ عرف عام میں ایسے موقعوں پر حذف سے کام لیا جاتا ہے مثلاً کہا جاتا ہے فلاں شہر والوں کو وعظ کیا وہ مان گئے لیکن فلاں شہر والوں نے نہیں مانا یعنی ان کو بھی وعظ کیا تھا لیکن وہ نہیں مانے۔
Ayah 7:16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ Open ayah 7:16 in the Quran reader

بولا تو جیسا12 تو نے مجھے گمراہ کیا ہے میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر

12“ مَا ” مصدریہ اور باء سببیہ ہے۔ اَغْوَیْتَنِیْ ای بما اضللتنی وھو المروی عن ابن عباس ؓ (روح ج 8 ص 94) ۔ یعنی مجھ کو تیرے گمراہ اور بدراہ کردینے کی وجہ سے میں آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا اور مختلف حیلوں سے ان کو صراط مستقیم سے بھٹکانے کی کوشش کروں گا۔
Ayah 7:17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ Open ayah 7:17 in the Quran reader

پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے13 اور دائیں سے اور بائیں سے5 اور نہ پائے گا تو اکثروں کو ان میں شکر گزار14

13:“ مِنْ بَیْنِ اَيْدِيْھِمْ ” سے آخرت پر ایمان لانے سے روکنا مراد ہے۔ “ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ ” دنیا میں مشغول و منہمک کردینا “ وَ عَنْ اَيْمَانِھِمْ ” نیکیوں سے روکنا۔ “ وَ عَنْ شَمَائِلِھِمْ ” سے برائیوں کی ترغیب دینا مراد ہے۔ یا یہ چاروں ہر طریقہ سے گمراہ کرنے سے کنایہ ہے اور یہی معنی سیاق قرآن کے مطابق ہے۔ الظاھر ان اتیانہ من ھذہ الجھات الاربع کنایۃ عن وسوستہ واغوائہ لہ والجد فی اضلالہ من کل وجہ یمکن (بحر ج 4 ص 276) ۔ 14 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں شاکر بمعنی موحد ہے۔ قال ابن عباس معناہ ولا تجد اکثرھم موحدین (خازن ج 2 ص 178) ۔
Ayahs 7:18–19

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:18 in the Quran reader

کہا نکل یہاں سے15 برے حال سے مردود ہو کر جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں ضرور بھر دوں گا دوزخ کو تم سب سے

وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:19 in the Quran reader

اور اے آدم رہ تو اور تیری عورت جنت میں پھر کھاؤ جہاں سے چاہو اور پاس نہ جاؤ اس درخت کے پھر تم ہوجاؤ گے گناہ گار

15:“ مِنْھَا ” کی ضمیر سے جنت یا زمرہ ملائکہ یا آسمان مراد ہے۔ “ مَذْءُوْمًا ” ای مذموماً (برا) “ مَدْحُوْراً ” ای مطروداً (راندہ درگاہ خدا) “ لِمَنْ تَبِعَکَ ” لاخ جواب قسم ہے۔
Ayah 7:20

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ Open ayah 7:20 in the Quran reader

پھر بہکایا ان کو شیطان نے تاکہ کھول دے16 ان پر وہ چیز کہ ان کی نظر سے پوشیدہ تھی ان کی شرمگاہوں سے اور وہ بولا کہ تم کو نہیں روکا تمہارے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کبھی تم ہوجاؤ فرشتے یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والے

16:“ لِیُبْدِيئَ ” لام “ وَسْوَسَ ” کے متعلق ہے اور عاقبت کے لیے ہے کیونکہ ابلیس کا مقصد خاص یہ ذلت پہنچانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد تو ان سے خدا کی نافرمانی صادر کرانا تھا لیکن آخر الامر یہ بات بھی ہوگئی۔ واللام فی قولہ “ لِیُبْدِيَ لَھُمَا ” لام العاقبۃ و ذلک لان ابلیس لم یقصد بالوسوسۃ ظھور عوراتھما وانما کان حملھما علی لمعصیۃ فقط فکان عاقبۃ امرھما ان بدت عوراتھما (خازن ج 2 ص 179) “ مِنْ سَوْ اٰتھِمَا ” یہ “ مَا وُوْرِيَ ” کا بیان ہے۔
Ayah 7:21

وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ Open ayah 7:21 in the Quran reader

اور ان کے آگے قسم کھائی کہ میں البتہ تمہارا دوست ہوں17

17 ابلیس نے ان کو قسم دی کہ وہ ان کی خیر خواہی کر رہا ہے یہاں مزید بمعنی مجرد ہے کیونکہ قسم صرف ابلیس نے کھائی تھی لیکن آدم و حواء (علیہما السلام) نے چونکہ اس کی قسم کو مان لیا تھا تو گویا ان کی طرف سے بھی قسم ہوگئی اس لیے باب مفاعلہ استعمال کیا گیا۔ واخرج قسم ابلیس علی زنۃ المفاعلۃ لانہ لما کان منہ القسم و منھما التصدیق فکانہما من اثنین (مدارک ج 2 ص 30) ۔
Ayah 7:22

فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:22 in the Quran reader

پھر مائل کرلیا ان کو فریب سے18 پھر جب چکھا ان دونوں نے درخت کو تو کھل گئیں ان پر شرمگاہیں ان کی اور لگے جوڑنے اپنے اوپر بہشت کے پتے اور پکارا ان کے رب نے کیا میں نے منع نہ کیا تھا تم کو اس درخت سے19 اور نہ کہہ دیا تھا تم کو کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے

18 آخر ابلیس نے دھوکہ اور فریب سے ان کو شجرہ ممنوعہ کھانے پر آمادہ کرلیا اور ان کو ان کے رتبہ اطاعت سے نیچے گرادیا۔ ای حطہما عن درجتہما و انزلھما عن رتبۃ الطاعۃ الی رتبۃ المعصیۃ (روح ج 8 ص 100) ۔ 19 یہ اصل “ تَيْ ” تھا اسم اشارہ برائے تانیث واحد اس کے بعد لام بعد لگایا گیا التقاء ساکنین کی وجہ سے یاء گر گئی اور ک، کما، کم وغیرہ ضمائر خطاب تنبیہ کے لیے آتی ہیں اور مخاطب کی مناسبت سے استعمال ہوتی ہیں۔ یہاں مخاطب چونکہ دو تھے یعنی آدم و حواء (علیہما السلام) اس لیے ضمیر کُمَا استعمال کی گئی۔
Ayah 7:23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:23 in the Quran reader

بولے وہ دونوں اے رب ہمارے ظلم کیا ہم نے اپنی جان پر20 اور اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور ہوجائیں گے تباہ

20: شجرہ ممنوعہ کھالینے کی لغزش پر نادم ہو کر حضرت آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے یہی دعائیہ کلمات ان کے دل میں ڈال دئیے چناچہ دونوں نے انہی کلمات سے گڑ گڑا کر اللہ سے معافی مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی لغزش معاف فرمادی جیسا کہ سورة بقرہ رکوع 4 میں ارشاد ہے۔ “ فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ ” تمام محققین اہل تفسیر کی رائے یہی ہے کہ اس آیت میں “ کَلِمَاتٍ ” سے یہی دعاء مراد ہے۔ ای استقبلہما بالاخذ والقبول والعمل بھا وھن قولہ تعالیٰ ربنا ظلمنا انفسنا الخ (مدارک ج 1 ص 35) ۔
Ayah 7:24

قَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 7:24 in the Quran reader

فرمایا تم اترو21 تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے واسطے زمین میں ٹھکانا اور نفع اٹھانا ہے ایک وقت تک

21: اِھْبِطُوْا بصیغہ جمع میں خطاب حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) اور ابلیس سے ہے۔ امام فراء کہتے ہیں۔ خطاب حضرت آدم اور حواء سے ہے جیسا کہ دوسری جگہ وارد ہے :“ قَالَ اھْبِطَا مِنْھَا جَمِیْعًا ”(طٰہٰ رکوع 7) چونکہ وہ دونوں نوع بشر کی اصل ہیں اس لحاظ سے گویا کہ وہی جمیع بشر ہیں۔ وضمیر الجمع لکونھما اصل البشر فکانہم ھم (روح ج 8 ص 102) ۔
Ayah 7:25

قَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 7:25 in the Quran reader

فرمایا اسی میں تم زندہ رہو گے22 اور اسی میں تم مرو گے اور اسی سے تم نکالے جاؤ گے

22 حیات سے حیات متعارفہ مراد ہے اس لیے یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا کہ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی زمین پر ہی زندگی بسر کرتے۔ زمین حیات متعارفہ کا مرکز ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آسمان میں زندگی یہاں کی متعارف زندگی نہیں ہے۔ یعنی وہ زندگی جس کے ساتھ خوردو نوش اور دیگر لوازم وابستہ ہوں۔ یہاں تک تمہید ختم ہوئی۔
Ayah 7:26

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی23 ہم نے اتاری تم پر پوشاک جو ڈھانکے تمہاری شرمگاہیں اور اتارے آرایش کے کپڑے اور لباس پرہیزگاری24 کا وہ سب سے بہتر ہے یہ نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی تاکہ وہ لوگ غور کریں

23: تمہید کے بعد یہاں سے اصل مقصد یعنی دوسرا دعویٰ شروع ہوتا ہے جسے رکوع 3، 4 میں چار دفعہ “ يٰبَنِیْ آدَمَ ” کے عام خطاب سے بیان کیا گیا ہے۔ “ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا ” یعنی ہم نے لباس اس لیے بنایا ہے تاکہ تم اپنے قابل ستر اعضاء کو ڈھانپ سکو اور لباس سے زینت و آرائش کا کام بھی لو۔ “ رِيْشًا ” ای زینۃ۔ 24:“ لِبَاسُ التَّقْويٰ ” سے ایمان، عمل صالح اور دلی حیاء مراد ہے مطلب یہ کہ ظاہری لباس کے ساتھ یہ تقوی کا لباس بھی پہننا چاہئے جو پہلے سے کہیں زیادہ ضرور اور اہم ہے۔
Ayah 7:27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی نہ بہکائے تم25 کو شیطان جیسا کہ اس نے نکال دیا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے اتروائے ان سے ان کے کپڑے تاکہ دکھلائے ان کو شرمگاہیں ان کی وہ دیکھتا ہے تم کو26 اور اس کی قوم جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھتے ہم نے کردیا شیطانوں کو رفیق ان لوگوں کا جو ایمان نہیں لاتے

25: یہاں اولاد آدم کو شیطان کے فریب سے خبردار کیا گیا کہ یہ وہی تمہارا پرانا دشمن ہے جس نے تمہارے ماں باپ (حواء و آدم) کو فریب دے کر جنت سے نکالا تھا تم اس کے فریب میں نہ آجانا۔ خطاب بلا واسطہ مشرکین عرب سے ہے جو برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے اور اس فعل شنیع کو عبادت سمجھتے تھے یہ سب شیطان کے اغواء سے تھا۔ حاصل یہ کہ یہ بےحیائی تم سے شیطان کرا رہا ہے۔ شیطان کے اغواء سے تم نے بحالط طواف لباس پہننا حرام کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ جیسا کہ سورة کہف رکوع 7 میں ہے۔ “ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّيَّتَهٗ اَوْلِیَاءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ ھُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ” مشرکین کی عورتیں بھی برہنہ ہو کر طواف کرتیں اور یہ شعر گائیں۔ الیوم یبدو بعضه او کله فما بدا منه فلا احله احلال کے معنی ہیں لائق عذاب دانستن (صراح) ۔ یعنی آج شرمگاہ کا ننگا ہوجانا موجب عذاب نہیں۔ مولانا عارف رومی نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا جو خلاف شریعت افعال کو عبادت اور قرب الٰہی کا ذریعہ جانتے ہیں۔ باں نگیری ابلہاں را تو ولی شرمنہ گو سالہ را چوں سامری “ لِیُرِيَھُمَا ” میں لام عاقبت کا ہے۔ 26“ وَ قَبِیْلَهٗ ” ای ذریتہ او جنودہ من الشیاطین (مدارک ج 2 ص 38) ۔ یعنی ابلیس اور اس کی ذریت انسان کو دیکھ سکتی ہے مگر انسان ان کو نہیں دیکھ سکتا اس لیے وہ محفوظ گھات سے انسان کو گمراہ کرنے کے لیے حملہ کرتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ گمراہ کرنے والا صرف ایک ابلیس ہی نہیں بلکہ اس کی بیشمار ذریت اس کام میں مصروف ہے۔ “ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ اَوْلِیَاءَ لِلَّذِيْنَ لَايُؤْمِنُوْنَ ” یہ اس بات پر قرینہ ہے کہ سورة اعراف کے شروع میں “ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖ اَوْلِیَاءَ ” میں “ اَوْلِیَاءَ ” سے شیاطین مراد ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ اس سے اہل بدعت کا یہ استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک شیطان (ابلیس) ہر جگہ حاضر و ناظر ہو کر لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے تو کیا آنحضرت ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوسکتے۔ (معاذ اللہ من ہذا التشبیہ قال الزجاج سلطنا ھم علیھم یزیدون فی عیھم فیتابعونھم علی ذلک فصاروا اولیاءھم (بحر ج 4 ص 285) ۔
Ayah 7:28

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کرتے ہیں کوئی برا کام27 تو کہتے ہیں کہ ہم نے دیکھا اسی طرح کرتے اپنے باپ دادوں کو اور اللہ نے بھی ہم کو یہ حکم کیا ہے تو کہہ دے کہ اللہ28 حکم نہیں کرتا برے کام کا کیوں لگاتے ہو اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں

27: یہ شکوی ہے اور “ فَاحِشَةً ” سے یہاں برہنہ طواف اور دیگر مشرکانہ افعال مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس زہری، مجاہد زید بن اسم، ابن عطیہ اور سدی سے منقول ہے وھو طوافھم بالبیت عراۃ وشرکھم (مدارک) قال ابن عطیۃ والفاحشۃ وان کان عاماھی کشف العورۃ فی الطواف فقد روی عن الزھری انہ قال فی ذلک نزلت ھذہ الایت وقالہ ابن عباس و مجاھد انتھی و بہ قال زید بن اسلم والسدی۔ مشرکین کو جب اپنے افعال قبیحہ سے روکا جاتا تو کہتے کہ ہمارے باپ دادا یہ کام کرتے چلے آئے ہیں اور اللہ نے ہمیں ان کاموں کا حکم دیا ہے۔ 28: یہ جواب شکوی ہے۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ پر سراسر افتراء ہے کہ اس نے ان کو ان کاموں کا حکم دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند اور ارفع ہے کہ وہ ایسے فواحش کا حکم دے۔
Ayah 7:29

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ میرے رب نے حکم کردیا انصاف کا29 اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت اور پکارو اس کو خالص اس کے فرمانبردار ہو کر جیسا تم کو پہلے پیدا کیا دوسری بار بھی پیدا ہو گے

29:“ القسط ” سے اللہ تعالیٰ توحید مراد ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں۔ قال ابن عباس ؓ بلا الہ الا اللہ (خازن ج 2 ص 183) ۔ واقیموا وجوھکم ای قال واقیموا، اقیموا سے پہلے قال مقدر ہے تاکہ امر کا خبر پر عطف لازم نہ آئے کیونکہ وہ جائز نہیں۔ یعنی اپنی توجہات صرف اللہ کی جانب رکھو اور اس کے ساتھ شریک نہ کرو اور خالصۃً صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو۔
Ayah 7:30

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فرقہ کو ہدایت کی اور ایک فرقہ پر مقرر ہوچکی گمراہی انہوں نے بنایا شیطانوں کو30 رفیق اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں

30 شیطان کے اغواء اور وسوسہ میں آکر شرک اور فواحش میں مبتلا ہوگئے اور اللہ کے احکام کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی شروع کردی اور بدقسمتی سے اسی کو راہ ہدایت سمجھ بیٹھے۔
Ayah 7:31

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی لے لو31 اپنی آرائش ہر نماز کے وقت اور کھاؤ اور پیو اور بیجا خرچ نہ کرو اس کو خوش نہیں آتے بیجا خرچ کرنے والے

31:“ زینة ” سے لباس مراد ہے۔ “ مسجد ” سے مراد وقت سجدہ ہے یعنی ہر نماز کے وقت لباس ساتر عورت پہنو یا “ مسجد ” سے جائے سجدہ مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہر مسجد میں ہر قسم کی عبادت طواف، نماز وغیرہ کے وقت لباس زیب تن کرو اور اپنی طرف سے تحری میں نہ کرو کیونکہ یہ شرک ہے ایسی خود ساختہ تحریمات کو ختم کردو۔ “ وَلَا تُسْرِفُوْا اي لا تشرکوا ”۔
Ayah 7:32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

تو کہہ کس نے حرام کیا32 اللہ کی زینت کو جو اس نے پیدا کی اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی تو کہہ یہ نعمتیں33 اصل میں ایمان والوں کے واسطے ہیں دنیا کی زندگی میں خالص انہی کے واسطے ہیں قیامت کے دن اسی طرح مفصل بیان کرتے ہیں ہم آیتیں ان کے لیے جو سمجھتے ہیں

32: یہ تحریمات غیر اللہ کا بیان ہے یعنی زینت و آرائش کا جو سامان اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور رزق کے لیے اس نے جو پاکیزہ چیزیں پیدا فرمائی ہیں یہ کس نے حرام کی ہیں۔ ظاہر ہے اللہ نے تو ان کو حرام نہیں ٹھہرایا کیونکہ اس نے یہ چیزیں بندوں کے استعمال کے لیے پیدا کی ہیں لہذا اپنی طرف سے ان حلال چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ۔ 33: یعنی یہ سامان آرائش وزینت اور طیبات رزق دنیا میں بھی مؤمنین کے فائدہ اٹھانے میں کفار و مشرکین بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ “ خَالِصَةً يَّوْمَ الْقِیٰمَة ” لیکن قیامت کے دن یہ اشیاء مومنین کے ساتھ مختص ہونگی اور کفار ان سے محروم ہونگے۔ کذالک نفصل الایت ای نمیز الحلال من الحرام لقوم یعلمون انہ لا شریک لہ (مدارک ج 2 ص 39) ۔
Ayah 7:33

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

تو کہہ دے34 میرے رب نے حرام کیا ہے صرف بےحیائی کی باتوں کو جو ان میں کھلی ہوئی ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو اور اس بات کو کہ شریک کرو اللہ کا ایسی چیز کو کہ جس کی اس نے سند نہیں اتاری اور اس بات کو کہ لگاؤ اللہ کے ذمہ وہ باتیں جو تم کو معلوم نہیں

34: یہ تحریمات الٰہیہ کا بیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام نہیں کیا جو تم نے از خود حرام کرلی ہیں اور جو چیزیں اللہ نے حرام کی ہیں ان کو تم حرام نہیں سمجھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمام فواحش ظاہرہ اور خفیہ کو حرام کیا ہے، ہر قسم کے گناہ، ظلم ناحق، تمام انواع شرک اور اپنی ذات پر افتراء کو حرام ٹھہرایا ہے مگر ان محرمات سے تم باز نہیں آتے ہو۔ “ مَا لَمْ يُنَزِّلْ ” میں “ مَا ” سے معبودان باطلہ مراد ہیں اور بہ ای بمعبودیتہ یعنی ان معبودان باطلہ کو خدا کا شریک بنانا بھی حرام ہے جن کے معبود ہونے پر اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔
Ayah 7:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر فرقے کے واسطے ایک وعدہ ہے35 پھر جب آپہنچے گا ان کا وعدہ نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے

35: تمام ہلاک شدہ امتوں کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔ ولکل امۃ من الامم المھلکۃ اجل ای وقت معین مضروب لاستئصالھم کما قال الحسن الخ (روح ج 8 ص 112) ۔ جب ان کی ہلاکت کا وقت آپہنچا انہیں فوراً مبتلائے عذاب کردیا گیا اور ان کی ہلاکت میں مقررہ اجل سے ایک ساعت کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوئ۔ “ فَاِذَا جَاءَ اَجَلُھُمْ ” کے بعد “ اِذَا ” کی جزاء محذوف ہے۔ “ اَيْ عُذِّبُوْا لَا یَسْتَاخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا يَسْتَقْدِمُوْنَ ” ما قبل کی توضیح اور تاکید ہے۔ یا “ وَ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ” کا عطف “ فَاِذَا جَاءَ ” پر ہے اور “ وَلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ”“ فَاِذَا ” کی جزا نہیں بلکہ “ جَاءَ اَجَلُھُمْ ” کے مقابل دسری شق ہے۔
Ayahs 7:35–36

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم کی اگر آئیں تمہارے پاس رسول36 تم میں کے37 کہ سنائیں تم کو آیتیں میری تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے وہی ہیں دوزخ میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

36: اس سے قبل “ قُلْنَا ” محذوف ہے یہ قاعدہ ہے کہ جب بھی کسی گذشتہ واقعہ کو لفظ مضارع سے تعبیر کیا جائے تو وہاں “ قلنا ” محذوف ہوتا ہے تاکہ خلاف مراد کا وہم نہ ہو۔ اس طرح یہ آیت “ قَالَ اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ ” کے ساتھ متعلق ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ قصہ آدم کے بعد ہم نے اسی وقت اولاد آدم کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ تمہارے پاس میرے رسول آئیں گے چناچہ اللہ کے رسول آئے یہاں تک کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ان کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ اس لیے اس خطاب کو موجودہ بنی آدم پر چسپاں کر کے حضور ﷺ کے بعد سلسلہ رسالت کے جریان پر استدلال کرنا قطعاً غلط اور قرآن کی تحریف کے مرادف ہے سورة بقرہ ع 4 کی آیت اس پر شاہد عدل ہے جس میں ہبوط کے حکم کے متصل بعد فرمایا کہ تمہارے پاس میری ہدایت کا پیغام لے کر میرے انبیاء آئیں گے۔ چناچہ ارشاد ہے۔ “ قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا، فَاِمَّا یَاتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًي الخ ”۔ 37:“ رُسُلٌ مِّنْکُمْ ای من جنسکم و مثلکم من بنی اٰدم ”(خازن ج 2 ص 186) یعنی رسول تمہاری جنس (بنی آدم) ہی سے آئیں گے کسی دوسری جنس سے نہیں آئیں گے۔ “ فَمَنِ اتَّقیٰ الشرک ومخالفۃ رسلی ”(خازن) یہ بشارت اخروی ہے۔ “ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا الخ ” یہ تخویف اخروی ہے۔
Ayah 7:37

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پھر اس سے زیادہ ظالم کون سے38 جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا یا جھٹلائے اس کے حکموں کو وہ لوگ ہیں کہ ملے گا ان کو جو ان کا حصہ لکھا ہوا ہے کتاب میں یہاں تک کہ جب پہنچیں ان کے پاس 39 ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کو تو کہیں کیا ہوئے وہ جن کو تم پکارا کرتے تھے سوا اللہ کے بولیں گے وہ ہم سے کھوئے گئے اور اقرار کرلیں گے اپنے اوپر کہ بیشک کافر تھے

38: یہ زجر ہے۔ “ اِفْتَرٰي عَلَیْ اللّٰهِ کذبًا ” اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق میں سے اس کا شریک بنانا اور کسی کو اس کا ولد یا نائب ٹھہرانا یعنی “ فمن اعظم ظلما ممن یقول علی اللہ ما لم یقله او یجعل له شریکا من خلقه وھو منزه عن الشریک والولد ”(خازن) ۔ “ یَنَالُھُمْ نَصِیْبُھُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ ” یعنی لوح محفوظ اور علم الہی میں ان کے لیے جو سزا مقدر ہے وہ ضرور ان کو مل کر رہے گی۔ 39 یہ تخویف اخروی ہے۔ “ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَھُمْ ” اس سے معلوم ہوا کہ جان قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں بلکہ زیادہ ہیں جن کی تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ لہذا اس سے بھی اہل بدعت کا استدلال باطل ہوگیا کہ اگر ایک فرشتہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہو کر مختلف علاقوں میں ایک ہی وقت میں کئی انسانوں کی جان قبض کرسکتا ہے تو حضور ﷺ کیوں حاضر و ناظر نہیں ہوسکتے۔ یہاں ایک شبہ ہوسکتا ہے وہ یہ کہ سورة سجد ع 1 میں ہے “ قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُکِّلَ بِکُمْ ” اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ جان قبض کرنے والا فرشتہ ایک ہی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں “ مَلَکُ الْمَوْت ” اسم جنس ہے اور اس سے جان قبض کرنے والے فرشتوں کی جنس مراد ہے۔ یا اس سے اس جنس کا رئیس مراد ہے جس کے حکم سے ماتحت فرشتے جان قبض کرتے ہیں اور ماتحتوں کا فعل عام طور پر سردار کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ بادشاہ نے قلعہ فتح کرلیا حالانکہ قلعہ اس کی فوج نے فتح کیا ہوتا ہے۔ “ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ ”۔ مَا سے وہ معبود مراد ہیں جن کو مشرکین دنیا میں مصائب و مشکلات کے وقت پکارتے اور ان سے مدد مانگتے تھے۔ ای این الالہۃ التی کنتم تعبدونہا فی الدنیا و تستعینون بھا فی المہمات (روح ج 8 ص 115) ۔ “ ضَلُّوْا عَنَّا ” مشرکین جواب میں کہیں گے وہ تو آج غائب ہوگئے ہیں اور آج جبکہ ہمیں ان کی سخت ضرور تھی انہوں نے ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچایا۔ غابوا فلا نراھم ولا ننتفع بہم (جامع البیان ص 134) ۔
Ayah 7:38

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

فرمائے گا داخل ہوجاؤ40 ہمراہ اور امتوں کے جو تم سے پہلے ہوچکی ہیں جن اور آدمیوں میں سے دوزخ کے اندر جب داخل ہوگی ایک امت تو لعنت کرے گی دوسری امت کو41 یہاں تک کہ جب گر چکیں گے اس میں سارے تو کہیں گے ان کے پچھلے42 پہلوں کو اے رب ہمارے ہم کو انہی نے گمراہ کیا سو تو ان کو دے دونا عذاب آگ کا فرمائے گا کہ دونوں کو دوگنا ہے لیکن تم نہیں جانتے

40:“ فِیْ اُمَمٍ ” فِیْ بمعنی مع ہے ای مع اُمَمٍ فِیْ النَّارِ ، یہ اُدْخُلُوْا سے متلعق ہے۔ (مدارک، روح) ۔ 41 ۔ “ اُخْتٌ” سے ہم مسلک جماعت مراد ہے۔ جب مشرکین کی وہ جماعت جہنم میں داخل ہوگی جو دوسروں کی پیروی کرتی تھی تو وہ اپنے پیشواؤں پر لعنت بھیجے گی جنہوں نے ان کو گمراہ کیا اور جب پیشوایان مشرکین دوزخ میں داخل ہوں گے تو وہ اپنے متبعین کو کو سیں گے جنہوں نے ان کا اتباع کر کے ان کی ہمت افزائی کی اور ان کی گمراہی میں اضافہ کیا۔ ای دعت علی نظیرھا فی الدین تلعن التابعۃ المتبوعۃ التی اضلتہا و تلعن المتبوعۃ التابعۃ التی زادت فی ضلالھا (روح ج 8 ص 166) ۔ 42:“ اُخْرٰھُمْ ” مشرک مریدوں کی جماعت “ اُوْلٰھُمْ ” مشرک پیروں اور راہنماؤں کی جماعت۔ جب سب کو جہنم میں داخل ہونے کا حکم ہوگا تب مریدین اور تابعین اپنے مشرک پیروں اور پیشواؤں کے بارے میں عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا اس لیے ان کو دوگنا عذاب دے۔ “ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ” ارشاد ہوگا سب کو دوگنا عذاب ہوگا تابعین کو بھی اور متبوعین کو بھی متبوعین کو اس لیے کہ وہ خود گمراہ تھے اور دوسروں کو گمراہ کرتے تھے اور تم تابعین کو اس لیے کہ تم خود بھی گمراہ تھے اور اپنے مشرک پیشواؤں کی ہر بات پر آمنا کہہ کر ان کی گمراہی اور سرکشی میں اضافہ کا باعث بنتے تھے۔
Ayah 7:39

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور کہیں گے ان کے پہلے43 پچھلوں کو پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے

43 اللہ تعالیٰ کا مذکورہ ارشاد سن کر متبوعین تابعین سے کہیں گے کہ سزا وار عذاب ہونے میں ہم اور تم برابر ہیں اور تخفیف عذاب کا تمہیں کوئی استحقاق نہیں لہذا اب اپنے کیے کی سزا بھگتو۔