7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsجواھر القرآن

Ayahs 7:40–41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے جھٹلایا44 ہماری آیتوں کو اور ان کے مقابلہ میں تکبر کیا نہ کھولے جائیں گے45 ان کیلئے دروازے آسمان کے اور نہ داخل ہوں گے جنت میں46 یہاں تک کہ گھس جائے اونٹ سوئی کے ناکے میں اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے واسطے دوزخ کا بچھونا ہے اور اوپر سے اوڑھنا اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو

44: یہ تخویف اخروی ہے۔ آیات سے توحید و رسالت اور معاد اور اصول دین کے دلائل مراد ہیں۔ الدالۃ علی اصول الدین و احکام الشرع کالادلۃ الدالۃ علی وجود الصانع و وحدتہ والدالۃ علی النبوۃ والمعاد و نحو ذلک (روح ج 8 ص 118) ۔ یعنی کذبوا بدلائل التوحید فلم یصدقوا بہا ولم یتبعوا رسلنا (خازن ج 2 ص 188) ۔ 45 حدیث میں وارد ہے کہ جب مومن کی وفات ہوتی ہے فرشتے اس کی روح کو لے کر آسمان کی طرف جاتے ہیں اور اس کی خاطر آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح مؤمن کے اعمال صالحہ کے لیے بھی آسمانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں لیکن کفار و مشرکین کی ارواح اور ان کے اعمال کے لیے ایسا نہیں ہوتا اس آیت میں اسی کا بیان ہے۔ 46“ اَلْجَمَل ” جوان اونٹ “ سَمِّ الْخِیَاطِ ” سوئی کا ناکا یعنی وہ سوراخ جس میں تاگا ڈالا جاتا ہے۔ یہ ایک محاورہ ہے جسے کسی کام کے ناممکن اور محال ہونے کو ظاہر کرنے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ دلائل توحید و رسالت کو جھٹلانے والے جنت میں کبھی داخل نہیں ہوں گے۔ ان کا جنت میں داخل ہونا اسی طرح ناممکن ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذرنا محال ہے۔ “ مِھَادٌ” بچھونا “ غَوَاش ” سائبان مطلب یہ ہے کہ جہنم کی آگ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوگی اور آگ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ الظلمین المشرکین الذین وضعوا العبادۃ فی غیر موضعھا (خازن ج 2 ص 189) ۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے47 اور کی نیکیاں ہم بوجھ نہیں رکھتے کسی پر مگر اس کی طاقت کے موافق وہی ہیں جنت میں رہنے والے وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

47: یہ بشارت اخروی ہے۔ “ لَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلّا وُسْعَھَا ” جملہ معترضہ ہے۔ “ وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِھِمْ الخ ” ایمان والوں کے دلوں میں دنیا میں ایک دوسرے کے بارے میں جو رنجشیں ہوں گی جنت میں ان کو دلوں سے محو کردیا جائے گا اور وہاں انہیں ہر قسم کا دلی سکوں حاصل ہوگا۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور نکالیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں اور وہ کہیں گے شکر اللہ کا48 جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ بیشک لائے تھے رسول ہمارے رب کے سچی بات اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے وارث ہوئے تم اس کے بدلے میں اپنے اعمال کے

48 جنت میں داخل ہونے کے بعد اہل جنت اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا کریں گے۔
Ayah 7:44

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور پکاریں گے جنت والے49 دوزخ والوں کو کہ ہم نے پایا جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہمارے رب نے سچا سو تم نے بھی پایا اپنے رب کے وعدہ کو سچا وہ کہیں گے کہ ہاں پھر پکارے گا ایک پکارنے والا ان کے بیچ میں کہ لعنت ہے اللہ کی ان ظالموں پر

49: اس سوال سے جہنمیوں کو مزید حزن و ملال میں مبتلا کرنا اور اس حقیقت کا اظہار مقصود ہوگا کہ اہل ایمان ابدی سعادت پا چکے ہیں۔ والغرض من ھذا السؤال اظھار انہ وصل الی السعادات الکاملۃ و ایقاع الحزن فی قلب العدو (کبیر ج 4 ص 309) ۔ “ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ” اعلان کرنے والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ وہ اسرافیل صاحب الصور یا جبریل (علیہما السلام) ہوں گے یا کوئی اور غیر معین فرشتہ (بحر، روح وغیرہ) ۔
Ayah 7:45

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو روکتے تھے50 اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے تھے اس میں کجی اور وہ آخرت سے منکر تھے

50 یہ لازم اور متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا یصدون بانفسہم عن دینہ سبحانہ یعنی وہ خود دین سے کنارہ کش رہتے تھے اور دوسری صورت میں یمنعون الناس عن دین اللہ تعالی۔ یعنی وہ لوگوں کو اللہ کے دین سے روکتے تھے۔ “ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ” اللہ کے دین اور توحید کے دلائل میں شبہات پیدا کر کے لوگوں کو بد ظن کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یمنعون الناس عن دین اللہ تعالیٰ بالنھی عنہ و ادخال الشبہ فی دلائلہ (روح ج 8 ص 123) ۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

اور دونوں کے بیچ میں ہوگی ایک دیوار51 اور اعراف کے اوپر مرد ہوں گے کہ پہچان لیں گے ہر ایک کو اس کی نشانی سے اور وہ پکاریں گے جنت والوں کو کہ سلامتی ہے تم پر وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور وہ امیدوار ہیں52

51 اہل جنت اور اہل نار کے درمیان ایک بہت بڑا پردہ حائل ہوگا جو جنت اور دوزخ کا اثر ایک دوسری طرف پہنچنے سے مانع ہوگا۔ “ وَ عَلَی الْاَ عْرَافِ ” اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان حجاب حاجز کے اوپر کا بلند حصہ ہے۔ الذی علیہ الالکثر ان المراد من الاعراف اعالی ذلک السور المضروب بین الجنۃ والنار وھذا قول ابن عباس (کبیر ج 4 ص 311) اس میں وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیں برابر ہوں گی جیسا کہ مرفوع حدیث میں ہے۔ قیل یارسول اللہ فمن استوت حسناتہ و سیئاتہ قال اولیائک اصحب الاعراف لم یدخلوھا وھم یطمعون وقالہ ابن مسعود و ابن عباس و حذیفۃ و ابوہریرہ (بحر ج 4 ص 301) اصحاب اعراف کے بارے میں محقق قول یہی ہے کہ وہ آخر کار جنت میں داخل ہوں گے۔ اگلی گفتگو ان کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہوگی۔ 52 یہ جملہ معترضہ ہے جس میں اصحاب اعراف کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اصحاب اعراف اپنی جگہ ہی سے اہل جنت اور اہل نار کو ان کی مخصوص علامتوں سے پہچان لیں گے۔ مثلاً اہل جنت کے چہرے روشن اور سفید ہوں گے اور اہل نار کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ اصحاب اعراف جنت والوں کو آواز دے کر سلام کہیں گے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب پھرے گی53 ان کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف تو کہیں گے اے رب ہمارے مت کر ہم کو گناہ گار لوگوں کے ساتھ

53 لیکن جب ان کی نگاہ دوزخیوں پر پڑے گی تو وہ ان سے اللہ کی پناہ مانگیں گے۔ “ اَلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ” یعنی مشرک لوگ یعنی “ اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ بِالشِّرْکِ ” (خازن ج 2 ص 193) ۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور پکاریں گے اعراف والے54 ان لوگوں کو کہ ان کو پہچانتے ہیں ان کی نشانی سے کہیں گے نہ کام آئی تمہارے جماعت تمہاری اور جو تم تکبر کیا کرتے تھے

54 اصحاب اعراف دوزخیوں میں سے کچھ لوگوں کو ان کی مخصوص نشانیوں سے پہچان لیں گے۔ اور بطور توبیخ ان سے کہیں گے آج وہ تمہاری جمعیتیں کہاں ہوئیں جن کے بل بوتے پر تم دنیا میں فخر و ناز کیا کرتے تھے اور جن پر مغرور ہو کر قبول حق سے روگردانی کیا کرتے تھے۔ سید محمود آلوسی فرماتے ہیں۔ “ وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ” میں مَا سے مراد معبودان باطلہ ہیں اور استکبار سے ان کی عظمت وکبریائی کا اعتقاد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تم جن معبودوں کی عظمت وکبریائی کے معتقد تھے آج انہوں نے بھی تمہیں کوئی نفع نہ پہنچایا۔ والمراد بھا حینئذ الاصنام و معنی استکبارھم ایاھا اعتقادھم عظمھا و کبرھا ای ما اغنی عنکم جمعکم و اصنامکم التی کنتم تعتقدون کبرھا و عظمھا (روح ج 8 ص 125) ۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

اب یہ وہی ہیں55 کہ تم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہ پہنچے گی ان کو اللہ کی رحمت چلے جاؤ جنت میں نہ ڈر ہے تم پر اور نہ تم غمگین ہو گے

55 یہ اصحاب اعراف کے قول ہی کا تتمہ ہے وہ ضعفاء مومنین کی طرف اشارہ کر کے دوزخ میں جلتے ہوئے کافروں سے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کو تم نہایت حقیر و ذلیل سمجھتے تھے اور جن کے بارے میں قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ یہ خدا کی رحمت کے ہرگز مستحق نہیں اور اللہ انہیں جنت میں ہرگز داخل نہیں کرے گا۔ “ اُدْخلُوْا الْجنَّةَ ” ای قیل لھم اب دیکھ لو انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم مل چکا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ جہاں تمہیں کوئی ڈر اور غم نہیں ہوگا اور وہ جنت میں داخل ہو بھی چکے ہیں۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور پکاریں گے دوزخ والے 56 جنت والوں کو کہ بہاؤ ہم پر تھوڑا سا پانی یا کچھ اس میں سے جو روزی تم کو دی اللہ نے کہیں گے اللہ نے ان دونوں کو روک دیا ہے کافروں سے

56: یہ مکالمہ جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان ہوگا۔ “ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰهُ ” ای القوا علینا مما رزقکم اللہ۔ یعنی یہاں القو فعل محذوف ہے۔ اور یہ علفتہا تبنا و ماء بارداً کے قبیل سے ہے یعنی ہم پر تھوڑٓ سا پانی ہی گرا دو یا اور جو نعمتیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان میں سے کچھ ہماری طرف پھینک دو ۔
Ayah 7:51

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے ٹھہرایا57 اپنا دین تماشا اور کھیل اور دھوکے میں ڈالا ان کو دنیا کی زندگی نے سو آج ہم ان کو بھلا دیں گے58 جیسا انہوں نے بھلا دیا اس دن کے ملنے کو اور جیسا کہ وہ59 ہماری آیتوں سے منکر تھے

57: جنہوں نے دین کو ایک کھیل سمجھ رکھا ہے جس چیز کو چاہا حلال کرلیا اور جس کو چاہا حرام کرلیا فحرموا واحلوا ما شاء وا (مدارک ج 2 ص 42) فحرموا ما شاء وا واستحلوا ماشاء وا (روح المعانی) یا اس سے وہ بےاصل اور لا یعنی امور مراد ہیں جن کو انہوں نے دین سمجھ رکھا تھا مثلاً بیت اللہ کے پاس تالیاں اور سیٹیاں بجانا۔ ھو ما زین لھم الشیطان من تحریم البحائر والسوائب والمکاء والتصدیۃ حول البیت وسائر الخصال الذمیمۃ التی کانوا یفعلونھا فی زمان الجاھلیۃ (خازن ج 2 ص 194) آج کل قوالی کے نام سے سارنگی ڈھولک اور دیگر مزامیر کا استمعال بھی لہو و لعب میں داخل ہے جسے آجکل کے دین و شریعت سے بےبہرہ اور روحانیت سے کورے صوفی عین عبادت سمجھتے ہیں۔ 58: نسیان چوکنہ باری تعالیٰ کے لیے محال ہے اس لیے یہاں مجازاً نسیان ترک اور تاخیر کے معنوں میں ہے اور کَمَا نَسُوْا میں کاف تعلیل کے لیے ہے (روح) یعنی چونکہ انہوں نے یوم آخرت کی تیاری کے لیے اعمال صالحہ ترک کردئیے تھے اس لیے آج ہم ان کو عذاب میں مبتلا چھوڑ دیں گے۔ ای نترکھم فی عذابھا کما ترکوا العمل للقاء یومھم ھذا وھذا قول الحسن و مجاھد والسدی والاکثرین (کبیر ج 4 ص 317، خازن ج 2 ص 194) 59 یہ “ مَا نَسُوْا ” پر معطوف ہے اور آیا سے دلائل توحید مراد ہیں۔ کانوا بدلائل وحدانیتا یذبون (خازن) یہ ان کو عذاب مہین میں چھوڑنے کی دوسری علت ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کی تکذیب کیا کرتے تھے۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان لوگوں کے پاس پہنچا دی ہے60 کتاب جس کو مفصل بیان کیا ہے ہم نے خبرداری سے راہ دکھانے والی اور رحمت ہے ایمان والوں کیلئے

60:“ کتاب ” سے جنس کتاب مراد ہے جو تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم نے دنیا میں کتابیں نازل کیں جن میں کامل علم اور حکمت کے ساتھ احکام شرائع کو تفصیل سے بیان کیا اور جو ایمان والوں کے لیے سراپا ہدایت و رحمت تھیں۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا اب اسی کے منتظر ہیں61 کہ اس کا مضمون ظاہر ہوجائے جس دن ظاہر ہوجائے گا اس کا مضمون کہنے لگیں گے وہ لوگ جو اس کو بھول رہے تھے پہلے سے بیشک لائے تھے ہمارے رب کے رسول سچی بات سو اب کوئی ہماری سفارش والے ہیں ٰتو ہماری سفارش کریں یا ہم لوٹا دیے جائیں تو ہم عمل کریں خلاف اس کے جو ہم کر رہے تھے بیشک تباہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو62 اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افترا کیا کرتے تھے

61: اب کفار ومشرکین اللہ کی کتاب پر ایمان کیوں نہیں لاتے کیا وہ اس کتاب میں مذکور وعد و وعید کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ؟ لیکن یہ چیز ان کے لیے مفید نہیں ہوگی جس دن (یعنی قیامت کے دن) مومنین سے کیے گئے انعام واکرام کے وعدے اور مشرکین اور کفار کو سنائی گئی عذاب جہنم کی وعیدیں پوری ہوجائیں گی وہ دن منکرین کے لیے انتہائی حسرت و یاس اور تاسف کا دن ہوگا اس دن وہ نہایت افسوس سے کہیں گے کہ اللہ کے پیغمبر تو بلا شبہ پیغام حق لے کر ہمارے پاس آئے مگر وائے بد قسمتی کہ ہم نے ان کی ایک نہ سنی۔ کیا آج کوئی ایسی ہستی ہے جو ہماری سفارش کر کے آج ہمیں عذاب سے چھڑا لے یا کوئی ایسی صورت ممکن ہے کہ ہمیں واپس دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ ہم نیک اعمال بجا لائیں “ شُفَعَاء ” سے یہاں وہ اللہ کے نیک بندے مراد ہیں جن کو مشرکین متصرف و کارساز اور خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے۔ 62: وہ اپنی عمریں شرک و معاصی میں صرف کر کے خسارے میں رہے اور جن معبودوں کو انہوں نے سفارشی اور کارساز سمجھ رکھا تھا ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آیا۔ “ مَا ” موصولہ سے معبودان باطلہ مراد ہیں۔ “ قَدْ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ ” بصرف اعمارھم التیھی راس مالھم الی الشرک و المعاصی “ وَ ضَلَّ عَنْھُمْ ” غاب و فقد “ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” ای الذی کانوا یفترونہ من الاصنام شرکاء للہ سبحانہ و شفعاءھم یوم القیمۃ والمراد انہ ظھر بطلانہ ولم یفدھم شیئا (روح ج 8 ص 128) ۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب63 اللہ ہے جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قرار پکڑا عرش پر اڑھاتا ہے رات پر دن کہ وہ اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا اور پیدا کئے سورج اور چاند64 اور تارے تابعدار اپنے حکم کے سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا بڑی برکت والا ہے اللہ جو رب ہے سارے جہان کا

63 تیسرا دعوی : یہ تیسرا دعوی ہے یعنی کارساز اور غیب دان صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس نے اپنا کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کیا لہذا غائبانہ حاجات میں اسی ہی کو پکارو “ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ ” یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اس نے کسی کے حوالے کچھ نہیں کیا۔ صفت خالقیت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ساری کائنات کا مالک اور اس میں متصرف بھی وہی ہے اور اس نے اپنے اختیارات و تصرفات میں کسی کو شریک نہیں کیا۔ قرآن مجید میں استواء علی العرش کا جہاں بھی ذکر آیا ہے اس کے ساتھ زمین و آسمان اور نظام شمسی کی تخلیق کا ذکر بھی ضرور کیا گیا ہے اور یہ کہ سارا نظام عالم اور نظالم عالم کی تدبیر کار اللہ کے اپنے اختیار میں ہے۔ مثلاً سورة یونس رکوع 1 میں ہے۔ (1) “ اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مَا مِنْ شَفِیيْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِهٖ ، ذٰلِکُمُ اللّٰهُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۔ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ”۔ (2) سورة طٰہٰ رکوع 1 میں ہے “ تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی۔ الرَّحْمٰنُ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوٰي۔ لَهٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِیْ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰي ”۔ (3) سورة سجدہ رکوع 1 میں ہے۔ “ اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ مَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْن۔ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهٗ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ۔ ذٰلِکَ عٰلِمِ الْغَیْبِ والشَّھَادةِ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْم ” ان تمام مقامات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ استواء علی العرش سے مراد یہی ہے کہ تخت شاہی پر وہی متمک ہے سارا نظام عالم اسی کی تدبیر سے چل رہا ہے وہی مختار و متصرف ہے اور اس نے اپنا کوئی اختیار کسی کے حوالے نہیں کر رکھا ہے۔ محاورات عرب میں لفظ عرش سلطنت، عظمت اور غلبہ کے مفہوم میں مستعمل ہے۔ ویکنی بہ عن العز والسلطان والملک فیقال۔۔۔ عرشہ ای ذھب عزہ و ملکہ (روح ج 8 ص 134، قرطبی ج 7 ص 220) اسی طرح علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ وقد یؤول العرش فی الایۃ بمعنی الملک ای استوی الملک الالہ عز وجل (قرطبی ج 7 ص 221) ۔ 64 یہ تینوں السَّمٰوٰت پر معطوف ہیں اور “ مُسَخَّرٰتٍ ” ان سے حال ہے۔ “ اَلَا لَهٗ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ” یہ ما قبل کی تکمیل وتذلیل ہے یعنی سارے عالم کا خالق بھی وہی ہے اور مدبر و متصرف بھی وہی ہے۔ کالتذییل للکلام السابق ای انہ تعالیٰ ھو الذی خلق الاشیاء وھو الذی دبرھا و صرفھا علی حسب ارادہ الخ (روح ج 8 ص 138) ۔
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

پکارو اپنے رب کو65 گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے اس کو خوش نہیں آتے حد سے بڑھنے والے

65: چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور وہی متصرف و مختار ہے لہذا غائبانہ حاجات میں اسی کو پکارو “ المعتدین ” غیر اللہ کو پکارنے والے “ وَلَا تُفْسِدُوْا فِیْ الْاَرْضِ ” ای بالشرک بعد التوحید (مدارک ج 2 ص 43) ۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور مت خرابی ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور پکارو اس کو ڈر اور توقع سے66 بیشک اللہ کی رحمت نزدیک ہے نیک کام کرنے والوں سے

66 اللہ کے عذاب کا ڈر اور اس کی رحمت کی امید دل میں رکھو صرف اسی ہی کو پکارو اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہ کرو۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں67 خوشخبری لانے والی مینہ سے پہلے یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بھاری بادلوں کو تو ہانک دیتے ہیں ہم اس بادل کو ایک شہر مردہ کی طرف پھر ہم اتارتے ہیں اس بادل سے پانی پھر اس سے نکالتے ہیں سب طرح کے پھل اسی طرح ہم نکالیں گے مردوں کو68 تاکہ تم غور کرو

67: یہ “ اَلَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ ” پر معطوف ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ بارانِ رحمت سے پہلے ہوا بھیجتا ہے جو پر آب بادلوں کو بنجر زمین کی طرف اٹھا لے جاتے ہیں۔ بارش سے مردہ زمین میں اللہ تعالیٰ جان ڈال دیتا ہے اور وہ ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا کرتی ہے۔ 68: یہ جملہ معترضہ ہے۔ یعنی جس طرح ہم بنجر زمین کو بارش سے زندہ کر کے قابل روئیدگی بنا دیتے ہیں اسی طرح ہم مردوں کو قبروں سے زندہ کر کے نکال لیں گے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو شہر پاکیزہ ہے69 اس کا سبزہ نکلتا ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر ناقص یوں پھیر پھیر کر بتلاتے ہیں ہم آیتیں حق ماننے والے لوگوں کو

69:“ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ ” اچھی زمین “ اَلَّذِيْ خَبُثَ ” ناقص اور شور زمین “ نَکَدًا ” بیکار، یہ مؤمن و کافر کی صلاحیتوں اور ان کے اعمال کی تمثیل ہے۔ بلد طیب یعنی اچھی زمین مومن کے دل سے عبارت ہے جس میں آیات الٰہی سے زندگی پیدا ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ اعمال صالحہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور “ اَلَّذِيْ خَبُثَ ” یعنی ناقص زمین کافر معاند کا دل ہے جس پر آیات الٰہی کی بارش کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اس کے جوارح سے کفر و شرک اور طغیان و عصیان ہی سے ظاہر ہوتا ہے۔ قال ابن عباس ؓ ھذا مثل ضربہ اللہ تعالیٰ للمؤمن یقول ھو طیب و عملہ طیب کما ان البلد الطیب ثمرہ طیب ثم ضرب مثل الکافر کالبلدۃ السبخۃ المالحۃ التی خرجت منھا البرکۃ فالکافر حیث و عملہ خبیث (خازن ج 2 ص 201) ۔ یہاں تک تینوں دعوے مذکور ہوئے اب اس کے بعد گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے چھ قصے مذکورہ ہوں گے جو ان تینوں دعو وں سے متعلق ہوں گے۔ پہلے تین قصے تیسرے دعوے سے، چوتھا قصہ دوسرے سے، پانچواں قصہ دوسرے سے اور تیسرے سے اور چھٹا قصہ پہلے دعوے سے متعلق ہے۔
Ayah 7:59

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

بیشک بھیجا ہم نے نوح کو70 اس کی قوم کی طرف پس اس نے کہا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا میں خوف کرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے

70 یہ پہلا قصہ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا ہے جو تیسرے دعوے سے متعلق ہے۔ کیونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا سب سے پہلا اعلان ہی یہی ہے۔ “ اُعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہ ” صرف اللہ کی عبادت کرو اور حاجات میں صرف اسی کو پکارو اس کے سوا کوئی تمہارا کارساز نہیں۔
Ayah 7:60

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

بولے سردار اس کی قوم کے71 ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح بہکا ہوا

71: حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے بڑوں نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگے اے نوح ہم تجھے کھلی گمراہی میں سمجھتے ہیں کیونکہ تو ہم کو صرف ایک خدا کو ماننے کی دعوت دے رہا ہے جو ہمارے باپ دادا کے دین کے صریح خلاف ہے۔ ای انا لنراک فی دعائنا الی الہ واحد فی ضلال مبین (قرطبی ج 7 ص 234) ۔
Ayahs 7:61–62

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

بولا اے میری قوم میں ہرگز بہکا نہیں72 و لیکن میں بھیجا ہوا ہوں جہان کے پروردگار کا

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور نصیحت کرتا ہوں تم کو اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جو تم نہیں جانتے

72: قوم نے چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف گمراہی کی نسبت کرنے میں مبالغہ کیا تھا اس لیے انہوں نے بھی نہایت بلیغ انداز میں اپنی ذات سے گمراہی کی نفی کی۔ “ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٍ ”“ ضَلٰلَةٍ ” کی تنوین تنکیر کے لیے اور پھر نفی کے تحت داخل ہے۔ یعنی کھلی گمراہی میں ہونا تو درکنار مجھ میں تو گمراہی کا ادنی شائبہ تک نہیں اور ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے میں تو خداوند عالم کا رسول ہوں اور میرا فریضہ یہ ہے کہ اللہ کے پیغامات تم کو پہنچاؤں اور ہر طرح تمہاری خیر خواہی کروں اور یہ بھی یاد رکھو اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف میں جانتا ہوں تم کو انکا علم نہیں اس لیے میری طرف گمراہی کی نسبت کرنا عقل و نقل کے خلاف ہے۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم کو تعجب ہوا73 کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم میں سے ہے تاکہ وہ تم ہی کو ڈرائے اور تاکہ تم بچو اور تاکہ تم پر رحم ہو

73: یہ مشرکین کی غلطی کے اصل منشا کا رد ہے یعنی تم صرف اس بات پر حیران و متعجب ہو کہ تمہاری ہدایت کے لیے تمہاری جنس ہی کے ایک بشر پر اللہ کی طرف سے وحی آگئی۔ “ فَکَذَّبُوْہُ الخ ” ماضی استمرار کیلئے ہے یعنی وہ ہمیشہ ان کی تکذیب کرتے رہے اور مسلسل شرک پر ڈٹے رہے۔ ای استمروا علی تکذیبہ واصروا بعد ان قال لھم ما قال و دعاھم الی اللہ تعالیٰ لیلاً و نہاراً (روح ج 8 ص 153) ۔
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا74 پھر ہم نے بچا لیا اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور غرق کردیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو بیشک وہ لوگ تھے اندھے

74 یہ دوسرا قصہ ہے اور تیسرے دعوی ہی سے متعلق ہے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اعلان کیا تھا۔ “ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ الخ ” اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور قوم عاد کی طرف بھیجا ان کے بھائی ہود کو75 بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا کیا تم ڈرتے نہیں

75 حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم نے کم عقلی کا طعنہ دیا اس لیے کہ انہوں نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ ای متمکنا فی خفۃ عقل و راسخا فیھا حیث فارقت دین اٰباءک (روح ج 8 ص 155) ۔
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں ہم تو دیکھتے ہیں تجھ کو عقل نہیں76 اور ہم تو تجھ کو جھوٹا گمان کرتے ہیں

76:“ سَفَاھَةٍ ” کی تنوین اور اس کا نفی کے تحت واقع ہونا مفید مبالغہ ہے۔ یہاں سے “ اَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ” تک میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم کے الزام کی نہایت بلیغ اسلوب سے تردید فرمائی یعنی اے میری قوم میں تو ادنیٰ ترین سفاہت اور کم عقلی سے بھی بالا تر ہوں کیونکہ میں خداوند جہاں کا رسول ہوں اور تمہیں اس کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور پہلے سے تمہارے درمیان خیر خواہ اور امین مشہور ہوں یا مطلب یہ ہے کہ میں تم کو اللہ کی توحیدبتا کر اور شرک سے تم کو روک کر تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور اللہ کی وحی اور اس کی تبلیغ پر امین ہوں۔ والمعنی انی عرفت فیکم بالنصح فلا یحق لکم ان تتھمونی و بالامانۃ فیما اقول فلا ینغبی ان اکذب (بحر ج 4 ص 324) (ناصح) فیما اٰمرکم بہ من عبادۃ اللہ عز وجل و ترک عبادۃ ما سواہ (امین) یعنی علی تبلیغ الرسالۃ و اداء النصح (خازن ج 2 ص 204) ۔
Ayahs 7:67–68

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

بولا اے میری قوم میں کچھ بےعقل نہیں77 لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیرخواہ ہوں اطمینان کے لائق

77: اس میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلائے۔
Ayahs 7:69–70

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک مرد کی زبانی جو تم ہی میں سے ہے تاکہ تم کو ڈرائے اور یاد کرو جب تم کو سردار کردیا پیچھے78 قوم نوح کے اور زیادہ کردیا تمہارے بدن کا پھیلاؤ سو یاد کرو اللہ کے احسان تاکہ تمہارا بھلا ہو

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

بولے کیا تو اس واسطے ہمارے پاس آیا کہ ہم بندگی کریں اللہ اکیلے کی اور چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے پس تو لے آ ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے اگر تو سچا ہے

78: قوت یا پھیلاؤ :۔ قوم نے جواب میں کہا کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور صرف اسی کو پکاریں اور جن معبودوں کو ہمارے باپ دادا پکارتے چلے آئے ہیں ان کو ہم چھوڑ دیں تو سن لو کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ باقی جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تمہارے بیان میں کچھ سچائی ہے تو وہ عذاب لے آؤ۔
Ayah 7:71

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

کہا تم پر واقع ہوچکا ہے79 تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصّہ کیوں جھگڑتے ہو مجھ سے ان ناموں پر کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں

79: حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ کا غضب اور اس کا عذاب تم پر مقدر ہوچکا ہے وہ اپنے وقت پر آ کر رہیگا۔ مگر تمہاری کم عقلی کی انتہا ہے کہ تم میرے ساتھ ایسے جھوٹے معبودوں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کے معبود ہونے پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے بچا لیا اس کو80 اور جو اس کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے اور جڑ کاٹی ان کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتوں کو اور نہیں مانتے تھے

80 آخر مقررہ اجل پر اللہ کا عذاب آگیا اور پوری قوم کا نام و نشان ہی مٹا دیا گیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانیوالوں کے سوا کوئی عذاب سے نہ بچ سکا۔
Ayahs 7:73–74

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف بھیجا ان کے بھائی صالح کو81 بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا تم کو پہنچ چکی ہے دلیل تمہارے رب کی طرف سے یہ اونٹنی اللہ کی ہے تمہارے لیے نشانی سو اس کو چھوڑ دو کہ کھائے اللہ کی زمین میں اور اس کو ہاتھ نہ لگاؤ بری طرح پھر تم کو پکڑے گا عذاب دردناک

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ تم کو سردار کردیا عاد کے پیچھے اور ٹھکانا دیا تم کو زمین میں کہ بناتے ہو نرم زمین میں محل اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر سو یاد کرو احسان اللہ کے اور مت مچاتے پھرو زمین میں فساد

81: یہ تیسرا قصہ ہے اور یہ بھی تیسرے دعوی سے متعلق ہے جیسا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے اس اعلان سے ظاہر ہے۔ “ یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰهَ مَ الَکُمْ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُہٗ ” اے یری قوم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو۔ اور صرف اسی کو پکارو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں اس کے بعد معجزہ ناقہ کا ذکر فرمایا کہ یہ انوٹنی اللہ کی طرف سے ایک معجزہ ہے اس کو تکلیف مت پہنچانا ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا۔ پھر ان کو اللہ کے انعامات یاد دلائے۔ “ سُھُوْلِھَا ” سھول، سھل کی جمع ہے یعنی ہموار زمین۔
Ayah 7:75

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

کہنے لگے سردار جو82 متکبر تھے اس کی قوم میں غریب لوگوں کو کہ جو ان میں ایمان لا چکے تھے کیا تم کو یقین ہے کہ صالح کو بھیجا ہے اس کے رب نے بولے ہم کو تو جو وہ لے کر آیا اس پر یقین ہے

82:“ لِمَنْ اٰمَنَ ” یہ “ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا ” سے باعادہ جار بدل ہے۔ قوم صالح (علیہ السلام) کے بڑے اور مغرور لوگوں نے ایمان والوں سے جو بظاہر قوت اور دولت کے اعتبار سے کمزور تھے بطور استہزاء و تمسخر کہا کیا تم صالح کو اللہ کا نبی مانتے ہو ؟ اس کے جواب میں انہوں نے پوری جرات سے کہا ” یقیناً ہم حضرت صالح (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی مانتے ہیں۔ اور جو مسئلہ توحید لے کر وہ آیا ہے ہمارا اس پر بھی ایمان ہے۔ “ بِمَا اُرْسِلَ ” میں “ مَا ” سے مسئلہ توحید مراد ہے۔
Ayahs 7:76–77

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

کہنے لگے وہ لوگ جو متکبر تھے83 جس پر تم کو یقین ہے ہم ان کو نہیں مانتے

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

پھر انہوں نے کاٹ ڈالا اونٹنی کو اور پھرگئے اپنے رب کے حکم سے اور بولے اے صالح لے آ ہم پر جس سے تو ہم کو ڈراتا تھا اگر تو رسول ہے

83 قوم کے وہی سرکش سردار بولے۔ ہم تو اسے اور اس کی تعلیم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ “ فَعَقَرُوْا النَّاقةَ ” چناچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے سرکشی کرتے ہوئے اونٹنی کو قتل کردیا اور ازراہ تعنت وعناد حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہنے لگے اگر واقعی تو اللہ کا نبی ہے تو جس عذاب سے ہمیں ڈراتا تھا اب لے آ۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

پس آپکڑا ان کو زلزلہ نے84 پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے

84:“ الرَّجْفةُ ” یعنی شدید زلزلہ، ایسا زلزلہ آیا کہ ان کو اپنے گھروں سے نکلنے کی فرصت بھی نہ ملی اور وہ جہاں کہیں تھے وہیں ڈھیر ہوگئے۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح الٹا پھرا ان سے85 اور بولا اے میری قوم میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کا اور خیرخواہی کی تمہاری لیکن تم کو محبت نہیں خیرخواہوں سے

85: جب قوم ہلاک ہوگئی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نہایت حسرت و یاس کے ساتھ اپنی قوم سے یوں فرماتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوئے اے میری قوم ! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم کو پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا مگر افسوس کہ تم خیر خواہی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ یہاں حرف نداء اور ضمائر خطاب سے تباہ و برباد شدہ قوم سے خطاب کرنا اور ان کو سنانا مقصود نہیں بلکہ یہ نداء و خطاب محض قوم کی بد قسمتی پر اظہارِ افسوس اور تحسر کے لیے ہے۔ فتولیٰ عنھم بعد ان جریٰ علیھم ما جریٰ علی ما ھو الظاھر مغتماً متحسراً علی ما فاتھم من الایمان متحزناً علیھم (روح ج 8 ص 165) اس سے معلوم ہوا کہ حروف نداء اور ضمائر خطاب سے ہمیشہ کسی کو مخاطب کرنا اور اسے کچھ سنانا مقصود نہیں ہوتا۔ اس لیے التحیات میں السلام علیکم ایھا النبی سے آنحضرت ﷺ کے حاظر وناظر ہونے پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ وہ محض دعاء ہے اس سے خطاب کرنا اور سنان مقصود ہی نہیں۔